Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 9 sur 29

论自以为完美

On Thinking Oneself Perfect

تکمیل

赛义德·艾哈迈德·汗爵士

Écriture
Taille

ایک فارسی مشہور مثل ہے کہ ''ہر کمالے را زوالے'' مگر اس کے معنی اور اس کی وجہ بخوبی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔ ایک اور بڑے حکیم نے اسی مطلب کو نہایت عمدگی اور وضاحت سے بیان کیا ہے۔ اس کا یہ قول ہے کہ ''ہم کو اپنے تئیں درجۂ کمال پر پہنچا ہوا سمجھنا ہی زوال کی نشانی ہے'' اور بلاشبہ ایسا ہی ہوتا ہے، اس لیے کہ جب کوئی شخص یا قوم کسی بات میں اپنے تئیں کامل سمجھ لیتی ہے تو اس میں سعی اور کوشش اور زیادہ تحقیقات اور نئی نئی باتوں کے ایجاد سے باز رہتی ہے اور رفتہ رفتہ اس چیز میں جس کو کامل سمجھا تھا زوال آ جاتا ہے۔

کاملِ مطلق بجز ذاتِ باری کے اور کوئی نہیں ہے، پس جو کچھ کہ خدا نے کیا یا کہا وہ تو اپنی قسم میں کامل ہے اور اس کے سوا اور کوئی چیز جو انسان نے کی ہو یا کہی ہو کامل نہیں ہے، کیونکہ قابلِ سہو و خطا ہونا انسان کی شان سے ہے۔ اگر یہ بات اس طرح پر نہ ہوتی تو انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام پر وحی نازل ہونے کی ضرورت نہ رہتی۔ پس ان تمام چیزوں کو جو انسان سے ایجاد ہوئی ہیں یا نتائجِ عقلِ انسانی ہیں ان کو کامل سمجھ لینا ہماری ٹھیٹ غلطی اور ہمارے تنزل و ادبار کی ٹھیک نشانی ہے۔

کسی شخص یا کسی قوم کو کسی چیز میں کامل سمجھ لینا بہت سی خرابیوں اور نقصانوں کا باعث ہوتا ہے۔

جو چیز کہ حقیقت میں کامل نہیں ہے ہم اس کو غلطی سے کامل سمجھ لیتے ہیں۔

ہم میں ایک استغنا پیدا ہوتا ہے جس سے سوائے اس کے اور کسی بات یا تحقیقات کو حقارت سے دیکھتے ہیں اور اس بات کے فائدے سے محروم رہتے ہیں۔

لوگوں کے اعتراضوں کے سننے کو گوارا نہیں کرتے اور اس سبب سے اپنی غلطیوں پر متنبہ نہیں ہوتے اور جہلِ مرکب میں پھنسے رہتے ہیں۔ کوشش سے جو ایک ترقی کا فائدہ ہے اس کو ہاتھ سے کھو بیٹھتے ہیں۔

خدا نے جو ہم کو عقل دی ہے اور جس کا یہ فائدہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے ہم اس کو کام میں لاویں، اوروں پر بھروسہ کر کر اس کو بے کار کر دیتے ہیں۔

ایسا کرنے میں ہم صرف اپنا ہی نقصان نہیں کرتے، بلکہ آئندہ نسلوں کو بھی بہت بڑا نقصان پہنچاتے ہیں، کیونکہ ہماری اور ہماری آئندہ نسلوں کی عقل اور جودتِ طبع اور تیزیِ ذہن اور طاقتِ انتقالِ ذہنی اور قوتِ ایجاد سب مٹ جاتی ہے اور صرف اوروں کی ٹنکاری پر ہماری چال رہ جاتی ہے اور ہم ٹھیک اس مثل کے مصداق ہو جاتے ہیں ''چارپائے برو کتابے چند''۔

ہم مسلمانوں نے اپنے میں اس نقص کو نہایت درجہ پر پہنچا دیا ہے اور جو نقصان دینی اور دنیوی اس سے ہم نے اٹھائے ہیں ان کی کچھ انتہا نہیں۔ بھلا دینی باتوں کو اس وقت رہنے دو اور صرف اس بات پر غور کرو کہ دنیوی علوم اور دنیوی کاروبار اور دنیا کی باہمی معاشرت اور مجالست اور رسوم و عادات اور طریقۂ تعلیم و تربیت اور ترقیِ علمِ مجلس میں کیوں ہم نہ کوشش کریں اور جس طرح اور قوموں نے ان باتوں میں ترقی کی ہے ہم بھی اسی طرح کیوں نہ ترقی کریں۔

ارسطو کچھ ہمارا مذہبی پیشوا نہ تھا جو ہم اس کے علوم اور اس کے فلسفے اور اس کے الٰہیات کو ناقابلِ غلطی کے سمجھیں۔ بو علی کچھ صاحبِ وحی نہ تھا کہ اس کی طب کے سوا اور کسی کو نہ مانیں۔ جو علومِ دنیوی ہم مدتِ دراز سے پڑھتے آتے تھے اور جو اپنے زمانے میں ایسے تھے کہ اپنا نظیر نہیں رکھتے تھے، انہی پر پابند رہنے کے لیے ہم پر کوئی خدا کا حکم نہیں آیا تھا۔ پھر کیوں ہم اپنی آنکھ نہ کھولیں اور نئے نئے علوم اور نئی نئی چیزیں جو خدا تعالیٰ کی عجائبِ قدرت کے نمونے ہیں اور جو روز بروز انسان پر ظاہر ہوتی جاتی ہیں ان کو کیوں نہ دیکھیں۔

یہ جو کچھ ہم نے کہا یہ صرف خیالی ہی باتیں نہیں ہیں، بلکہ اس وقت دنیا میں ہمارے سامنے اس کی مثالیں بھی موجود ہیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں دو قسم کی قومیں ہیں جن میں سے ایک نے اپنے باپ دادا کو بدرجۂ کمال پر پہنچا ہوا اور ناقابلِ سہو و خطا سمجھ کر ان کے علوم و فنون اور طریقِ معاشرت کو کامل سمجھا اور اسی کی پیروی پر جمے رہے اور اس کی ترقی اور بہتری پر اور نئی چیزوں کے اخذ ایجاد پر کچھ کوشش نہیں کی اور دوسری نے کسی کو کامل نہیں سمجھا اور ہمیشہ ترقی میں اور نئے نئے علوم و فنون و طریقۂ معاشرت کے ایجاد میں کوشش کرتی رہیں۔ اب دیکھ لو کہ ان دونوں میں کیا فرق ہے اور کون تنزل اور کون ترقی کی حالت میں ہے۔

ہندو اور مسلمان دو قومیں ہیں جو پچھلی لکیر کو کامل سمجھ کر اسی کو پیٹتے آتے ہیں۔ انگریز، فرنچ اور جرمن ایسی قومیں ہیں جو ہمیشہ ترقی کی کوشش میں ہیں۔ ایک زمانہ تھا کہ وہ پہلی قومیں علم و ہنر و تربیت و شائستگی میں اپنے دور میں اپنی ہم عصر قوموں سے مقدم اور اعلیٰ تھیں اور شاید مسلمانوں کو یہ بھی عزت تھی کہ وہ یورپ کی بعض قوموں کے لیے بمنزلہ استاد کے گنے جاتے تھے، مگر اسی عیب نے جو ان قوموں میں تھا اور اب بھی ہے اور اسی خوبی نے جو پچھلی قوموں میں تھی اور اب بھی ہے، ٹھیک ٹھیک معاملہ بالعکس کر دیا ہے۔ اب یورپ کی قومیں ایشیا کی قوموں سے علم و ہنر، تربیت و شائستگی میں اعلیٰ ہیں۔ پس میرا مطلب صرف یہی ہے کہ ہماری قوم کو بھی چاہیے کہ اپنے دماغ کو ان بیہودہ اور لغو خیالات سے جنھوں نے ان کی عقل اور سمجھ کو بالکل خراب کر رکھا ہے اور ان کی تمام خوبیوں کو خیالاتِ فاسد کے کیچڑ میں لتھڑ پتھڑ کر دیا ہے، خالی کریں اور علوم و فنون اور تہذیب و شائستگی میں ترقی کرنے کی کوشش کریں اور انصاف سے دیکھیں کہ ان کی تہذیب اور شائستگی میں نقصان ہونے کے سبب سے ان کی قوم کی کیسی بدنامی ہے اور ان عمدہ اخلاق اور قواعد کو جو خدا تعالیٰ نے مذہبِ اسلام کی بدولت ان کو دیے تھے، بری طرح سے استعمال میں لانے اور ان کو بدصورت کر دینے سے غیر قومیں اسلام کو ہماری نالائقی کی بدولت کیسی حقارت اور نفرت سے دیکھتی ہیں۔ کیسے خندہ زن اشارات اور کنایات اس پر کرتی ہیں اور ہماری شامتِ اعمال کو نتیجہ مذہبِ اسلام ٹھہراتی ہیں۔ ان کا ایسا کہنا اور خیال کرنا کچھ بے جا نہیں ہے۔ اسلام کوئی مٹی کا پتلا نہیں ہے جس کو کوئی دیکھ سکے۔ مسلمانوں کی حالت اور ان کے چال چلن سے اسلام کی صورت دکھائی دیتی ہے۔ سو انہوں نے اس کو ایسا بدصورت بنایا ہے کہ جو کوئی نفرت کرے کچھ تعجب نہیں۔ پس اب میری یہ خواہش ہے کہ مسلمان اپنے اخلاق اور تہذیب و شائستگی کی درستی میں کوشش کر کر اور اپنے حال اور چال چلن کو درست اور عمدہ کر کر اسلام کی جو اصلی صورت ہے وہ دنیا کو دکھا دیں۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.