
الفصل 8 من 29
Notre façon de vivre
The Way We Live
طریقۂ زندگی
[مترجم کا نوٹ: اس مضمون میں مصنف نے اپنے زمانے کے عام خیالات کے مطابق بعض پسماندہ برادریوں کا ذکر حقارت آمیز انداز میں کیا ہے۔ تاریخی متن کو بلا تبدیل پیش کیا جا رہا ہے۔]
قوموں کی عزت یا ذلت ان کی رسم و رواج اور ان کے طریقۂ زندگی اور کبھی کبھی ان کے مذہب سے بھی علاقہ رکھتی ہے۔ تمام قوموں میں بہت سی رسمیں وحشیانہ اور نا تربیت یافتہ زمانے کی اب تک چلی آتی ہیں، مگر تربیت یافتہ قوموں نے ان رسموں کو تراش تراش کر ایسا کر لیا ہے کہ ان میں وحشیانہ پن مطلق نہیں رہا، بلکہ نہایت فرحت بخش اور دلکش ہو گئی ہیں اور نا تربیت یافتہ قومیں اب تک بدستور وحشیانہ طور سے ان کو برتتی آتی ہیں اور اسی لیے پہلی قومیں پچھلی کو ذلت اور حقارت کی نظر سے دیکھتی ہیں۔
اکثر قوموں نے قدیم زمانے میں طریقۂ زندگی بمقتضائے آب و ہوا ہر ایک ملک کے اختیار کیا تھا جو اکثر نہایت سادہ و حقارت آمیز تھا، مگر تربیت یافتہ قوموں نے اس میں اصلاح کرتے کرتے اعلیٰ درجے کی ترقی اور شائستگی پر پہنچا دیا اور نا تربیت یافتہ قومیں اسی جہالت میں پڑی رہیں اور اس لیے پہلی قوموں کی آنکھ میں ذلیل و خوار ہیں۔
یہ امر بھی بہت واقع ہوا ہے کہ بسبب نہ ہونے فن و ہنر کے ہر ایک قوم نے جو طریقۂ زندگی بسر کرنے کا اختیار کیا تھا وہ اس زمانے میں حقیر نہ تھا، مگر حال کے زمانے میں ذلیل ہو گیا ہے۔ چنانچہ جس قدر فن و ہنر و صنعت کاری نکلتی آئی اسی قدر تربیت یافتہ قوموں نے ساز و سامان سے اپنے طریقۂ زندگی کو آراستہ کر لیا اور جنھوں نے ایسا نہ کیا وہ ویسے ہی حقیر و ذلیل نا تربیت یافتہ رہیں۔
طریقۂ زندگی سے قوموں کی ذلت اور عزت کا ہونا ایک ایسا امر ہے جس سے کوئی انکار نہیں کر سکتا، مگر ہم چند مثالوں سے اس کو اور زیادہ واضح کرتے ہیں۔ ہندوستان میں کنجروں کی قوم کو دیکھو جو ایک لنگوٹی باندھے رہتی ہے اور نہایت میلا بدن اور نجس ہاتھ پاؤں رکھتی ہے اور نہایت میلے بدبودار برتن استعمال میں لاتی ہے۔ غذا بھی ان کی نہایت کثیف ہے اور طرزِ کھانے کا بھی ایسا برا ہے جسے دیکھ کر گھن آتی ہے۔ پس وہ قوم صرف اپنے طریقۂ زندگی کے ذلیل ہونے کے سبب ہماری آنکھ میں کیسی ذلیل و خوار معلوم ہوتی ہے۔
اب ان قوموں کو دیکھو جو ان سے درجہ بدرجہ زندگی کی اصلاح میں ترقی کرتی گئی ہیں، مثلاً چمار جن کا لباس اور طریقِ زندگی کنجروں سے بدرجہا اچھا ہے، وہ ہماری آنکھ میں ویسے ذلیل نہیں ہیں۔ چماروں کی بہ نسبت عام غریب گنواروں کا لباس اور طریقۂ زندگی بدرجہا نہایت عمدہ اور اچھا ہے، وہ ہماری آنکھ میں چنداں ذلیل نہیں۔ ہم کبھی ان کے گھر بھی جاتے ہیں۔ ان کے ہاں کا پانی بھی پیتے ہیں۔ ان کے گھر کی روٹی بھی پکی ہوئی کھاتے ہیں اور کچھ نفرت نہیں کرتے۔
علاوہ ان کے تین قومیں اور ہندوستان میں ہیں جو اپنے تئیں مؤدب و مہذب، تربیت یافتہ و شائستہ سمجھتی ہیں۔
ہندو، مسلمان، انگریز، ان تینوں قوموں کا جو طریقِ لباس اور طرزِ زندگی اور کھانے پینے کی رسم اور اٹھنے بیٹھنے کی عادت ہے اس سے تمام لوگ ہندوستان کے بخوبی واقف ہیں، مگر اس میں کچھ شک نہیں کہ ان تینوں قوموں میں سے جس قوم کا طریقہ اعلیٰ ہے وہ قوم باقی دو قوموں کو ایسا ہی ذلیل اور نا تربیت یافتہ اور قابلِ نفرت کے سمجھتی ہے جیسے کہ ہم اپنے سے ادنیٰ قوموں کو سمجھتے ہیں۔
مسلمان اپنی دانست میں اپنے لباس اور اپنی مجلس میں نہایت آراستگی اور شان و شوکت کرتے ہیں اور اپنے دسترخوانوں کو انواع انواع طرح کے لذیذ کھانوں سے اور خوب صورت خوب سونے اور چاندی اور چینی اور بلوریں برتنوں سے آراستہ کرتے ہیں، مگر جو قوم کہ ان سے بھی زیادہ لباس میں اور کھانے پینے کے طریق میں زیادہ صفائی رکھتی ہے وہ ان کو اسی حقارت اور ذلت سے دیکھتی ہے۔
جو لوگ کہ چمچے اور کانٹوں سے کھاتے ہیں اور ہر دفعہ رکابیاں اور چھری کانٹے چمچے بدلتے جاتے ہیں جب وہ ہم مسلمانوں کو ہاتھ سے کھاتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کو نہایت نفرت اور کراہت آتی ہے۔
ترکوں نے اگرچہ اپنا طریقہ بدل دیا ہے، مگر مصر میں عورتیں اب تک نیچی میز پر کھانا رکھ کر ہاتھ سے کھاتی ہیں۔ تھوڑے دن ہوئے کہ پرنس آف ویلز، یعنی ولی عہد سلطنتِ انگلستان مع پرنسس آف ویلز، یعنی ولی عہد بیگم کے مصر میں سیر کو تشریف لے گئے تھے۔ اسماعیل پاشا خدیو مصر کی ماں نے پرنسس آف ویلز یعنی ولی عہد بیگم کی محل سرائے زنانہ میں دعوت کی اور اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ پرنسس آف ویلز کے ساتھ آنریبل مسس ولیم گرے صاحبہ بھی بطور مصاحب کے تھیں اور دعوت میں بھی شریک تھیں۔ انہوں نے وہاں سے واپس آ کر سفر کا حال لکھا ہے۔ چنانچہ جو کچھ انہوں نے طریقِ کھانا کھانے کی نسبت لکھا ہے اس کا انتخاب ہم اس مقام پر لکھتے ہیں، تاکہ یہ بات معلوم ہو کہ دوسری قوم جو ہم سے زیادہ صفائی سے کھاتی ہے ہمارے کھانا کھانے کے طریق کو کیسا خیال کرتی ہے۔
مسس صاحبہ ممدوحہ اس طرح پر لکھتی ہیں کہ ''کھانے کے کمرے کے اندر چاندی کی ایک گول میز بچھی ہوئی تھی، فرش سے ایک فٹ اونچی اور ایک بڑا خوان معلوم ہوتی تھی۔ اس کے گرد گبھے بچھے ہوئے تھے۔ ہم سب آلتی پالتی مار کر میز کے گرد گبھوں پر ہو بیٹھے۔ خدیو مصر کی ماں کی دائیں طرف پرنسس آف ویلز بیٹھیں اور پھر سب بیگمات درجہ بدرجہ بیٹھیں۔
سب سے پہلے ایک رقاب میں مرغ کا شوربہ اور چانول، یعنی خشکہ آیا اور سیپی کے چمچے ملے، مگر نہ چھری تھی نہ کانٹا تھا۔ اس کے بعد بڑا مٹن آیا اور دفعہ دفعہ بیس قسم کے کھانے آئے جو ہاتھوں سے اور انگلیوں سے توڑ توڑ کر کھائے جاتے تھے۔
جس قدر مجھ کو اس سے نفرت ہوئی اور پھر یری آ آ کر قے ہونے کی نوبت ہوئی ایسی کبھی نہیں ہوئی۔ کھانے میں انگلیوں کا ڈبویا جانا دیکھ کر اور انگلیوں سے توڑ کر کھانے سے ایسی نفرت اور گھن آتی تھی کہ میں نے ایک آدھ دفعہ تو کھانے سے انکار کر دیا، مگر جو بیگم کہ میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں انہوں نے جانا کہ میں شرماتی ہوں تو ہر دفعہ کھانا اپنے ہاتھ سے لے کر میری رکابی میں رکھ دیتی تھیں اور ایک دفعہ شوروے میں سے پیاز نکال کر میرے آگے رکھ دی اور میرا جی متلاتا جاتا تھا۔ کھانے پر شراب مطلق نہ تھی۔'' انتہیٰ ملخصاً۔
مسس گرے صاحبہ کا جو یہ حال ہوا بلاشبہ زیادہ اس کا سبب یہ تھا کہ اس طرح پر کھانے کی ان کو عادت نہ تھی، مگر انصاف سے ہم کو اس بات کا بھی اقرار کرنا چاہیے کہ چھری اور چمچے سے کھانا اور ہر قسم کے کھانے کے لیے جدا برتنوں کا ہونا بہ نسبت ہاتھ سے کھانا کھانے کے زیادہ عمدگی و صفائی اور نفاست رکھتا ہے۔
یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہاتھ سے کھانا مسنون ہے اور اس کو حقیر سمجھنا کفر تک نوبت پہنچا دیتا ہے۔ ہم اس رائے کی صحت و سقم کی بحث سے قطعِ نظر کر کر اس کو تسلیم کرتے ہیں اور جو یہ کہتے ہیں کہ ان بزرگوں کی آدھی پیروی کرنا باعثِ ذلت ہے۔ اگر مسلمان یہ بھی گوارا کریں کہ مرغن کھانے جس سے ہاتھ اور منہ بھر جاتا ہے اور یہی امر باعثِ نفرت اور گھن آنے کا ہوتا ہے، چھوڑ دیں اور جو کے بن چھنے آٹے کی سوکھی روٹی ککڑی یا کھجور سے کھا لیا کریں تو ان بزرگوں کی پوری پوری پیروی ہو گی اور اس وقت میں کوئی بھی ہاتھ سے کھانے پر نفرت نہ کرے گا، مگر یہ نہیں ہو سکتا کہ کھانے تو ہوویں فرعونی، طریقِ کھانے کا ہو مسنونی۔
ہم کو خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اس نے ہم کو اپنی نعمتیں عطا کی ہیں۔ ہم ان کو استعمال کریں اور عملی طور پر اس کا شکر بجا لاویں اور جب کہ ہم یہ خیال کریں کہ ان شان کی چیزوں کا ہم بہ نظرِ تکبر و غرور استعمال نہیں کرتے، بلکہ بطور ادائے شکرِ ولی النعم استعمال کرتے ہیں اور مسلمانوں کی قوم کو غیر قوموں کی نگاہ میں جو ذلت ہے اس سے نکالتے ہیں، جس میں اسلام کی بھی عزت ہے تو اس وقت تو ہم چمچے اور چھری کانٹے سے کھانا مندوبات اور مستحبات سے کم نہیں سمجھتے۔ کما قال علیہ الصلوٰۃ والسلام انما الاعمال بالنیات۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.