
Chapter 7 of 29
Предубеждение
Prejudice
تعصب
انسان کی بدترین خصلتوں میں سے تعصب بھی ایک بدترین خصلت ہے۔ یہ ایسی بد خصلت ہے کہ انسان کی تمام نیکیوں اور اس کی تمام خوبیوں کو غارت اور برباد کر دیتی ہے۔ متعصب گو اپنی زبان سے نہ کہے، مگر اس کا طریقہ یہ بات جتلاتا ہے کہ عدل و انصاف کی خصلت جو عمدہ ترین خصائلِ انسانی سے ہے اس میں نہیں ہے۔ متعصب اگر کسی غلطی میں پڑتا ہے تو اپنے تعصب کے سبب اس غلطی سے نکل نہیں سکتا، کیونکہ اس کا تعصب اس کے برخلاف بات کے سننے اور سمجھنے اور اس پر غور کرنے کی اجازت نہیں دیتا اور اگر وہ کسی غلطی میں نہیں ہے، بلکہ سچی اور سیدھی راہ پر ہے تو اس کے فائدے اور اس کی نیکی کو پھیلنے اور عام ہونے نہیں دیتا، کیونکہ اس کے مخالفوں کو اپنی غلطی پر متنبہ ہونے کا موقع نہیں ملتا۔
تعصب انسان کو ہزار طرح کی نیکیوں کے حاصل کرنے سے باز رکھتا ہے۔ اکثر دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی کام کو نہایت عمدہ اور مفید سمجھتا ہے، مگر صرف تعصب سے اس کو اختیار نہیں کرتا اور دیدہ و دانستہ برائی میں گرفتار اور بھلائی سے بیزار رہتا ہے۔
مذہبی تعصبات کی نسبت بھی ہم کچھ تھوڑا سا بیان کریں گے، مگر اول امورِ تمدن و معاشرت میں جو نقصان تعصب سے پیدا ہوتے ہیں ان کا ذکر کرتے ہیں۔
انسان قواعدِ قدرت کے مطابق مدنی الطبع پیدا ہوا ہے، وہ تنہا اپنی حوائجِ ضروری کو مہیا نہیں کر سکتا۔ اس کو ہمیشہ مددگاروں اور معاونوں کی جو دوستی اور محبت سے ہاتھ آتے ہیں ضرورت ہوتی ہے، مگر متعصب بسبب اپنے تعصب کے تمام لوگوں سے منحرف اور بیزار رہتا ہے اور کسی کی دوستی اور محبت کی طرف بجز ان چند لوگوں کے جو اس کے ہم رائے ہیں مائل نہیں ہوتا۔
عقل اور قواعدِ قدرت کا مقتضا یہ معلوم ہوتا ہے کہ امور متعلقِ تمدن و معاشرت میں جو باتیں زیادہ منفعت اور زیادہ آرام اور زیادہ لیاقت اور زیادہ عزت کی ہیں ان کو انسان اختیار کرے، مگر متعصب ان سب نعمتوں سے محروم رہتا ہے۔
ہنر اور فن اور علم ایسی عمدہ چیزیں ہیں کہ ان میں سے ہر ایک چیز کو نہایت اعلیٰ درجے تک حاصل کرنا چاہیے، مگر متعصب اپنی بد خصلت سے ہر ایک ہنر اور فن اور علم کے اعلیٰ درجے تک پہنچنے سے محروم رہتا ہے۔
وہ ان تمام دلچسپ اور مفید باتوں سے جو نئی تحقیقات سے اور نئے علوم اور فنون سے حاصل ہوتی ہیں محض جاہل اور ناواقف رہتا ہے۔ اس کی عقل اور اس کے دماغ کی قوت محض بیکار ہو جاتی ہے اور جو کچھ اس میں سمائی ہوئی ہے اس کے سوا اور کسی بات کے سمجھنے کی اس میں طاقت اور قوت نہیں رہتی۔ وہ ایک ایسے جانور کی مانند ہو جاتا ہے کہ اس کو جو کچھ بالطبع آتا ہے اس کے سوا اور کسی چیز کی تعلیم و تربیت کے قابل نہیں ہوتا۔
بہت سی قومیں ہیں جو اپنے تعصب کے باعث سے تمام باتوں میں، کیا اخلاق میں اور کیا علم و ہنر میں اور کیا فضل و دانش میں اور کیا تہذیب و شائستگی میں اور کیا جاہ و حشمت اور مال و دولت میں، اعلیٰ درجے سے نہایت پست درجۂ مذلت اور خواری کو پہنچ گئی ہیں اور بہت سی قومیں ہیں جنھوں نے اپنی بے تعصبی سے ہر جگہ اور ہر قوم سے اچھی اچھی باتیں اخذ کیں اور ادنیٰ درجے سے ترقی کر کے اعلیٰ سے اعلیٰ درجے پر پہنچ گئیں۔
مجھ کو اپنے ملک کے بھائیوں پر اس بات کی بدگمانی ہے کہ وہ بھی تعصب کی بد خصلت میں گرفتار ہیں اور اس سبب سے ہزاروں قسم کی بھلائیوں کے حاصل کرنے سے اور دنیا میں اپنے تئیں ایک معزز قوم کو دکھانے سے محروم اور ذلت اور خواری اور بے علمی اور بے ہنری کی مصیبت میں گرفتار ہیں اور اسی لیے میری خواہش ہے کہ وہ اس بد خصلت سے نکلیں اور علم و فضل اور ہنر و کمال کے اعلیٰ درجے کی عزت تک پہنچیں۔
ہم مسلمانوں میں ایک غلطی یہ پڑی ہے کہ بعضی دفعہ ایک غلط نما نیکی کے جذبے سے تعصب کو اچھا سمجھتے ہیں اور جو شخص اپنے مذہب میں بڑا متعصب ہو اور تمام شخصوں کو جو اس مذہب کے نہیں ہیں اور تمام ان علوم و فنون کو جو اس مذہب کے لوگوں میں نہیں ہیں نہایت حقارت سے دیکھے اور برا سمجھے اس شخص کو نہایت قابلِ تعریف اور توصیف کے اور بڑا پختہ اور پکا اپنے مذہب میں سمجھتے ہیں، مگر ایسا سمجھنا سب سے بڑی غلطی ہے جس نے حقیقت میں مسلمانوں کو برباد کر دیا ہے۔
ہمارا مذہب اور مذہبی علوم اور دنیا اور دنیاوی علوم بالکل علیحدہ علیحدہ چیزیں ہیں، پس بڑی نادانی ہے جو دنیاوی علوم اور فنون کے سیکھنے میں کسی قسم کے تعصبِ مذہبی کو کام میں لاویں۔
اگر یہ خیال ہو کہ ان دنیاوی علوم کے سیکھنے سے ہمارے عقائدِ مذہبی میں سستی آتی ہے، کیونکہ مذہبی مسائل ان دنیاوی علوم کے پڑھنے سے مشتبہ یا غلط معلوم ہوتے ہیں تو نہایت ہی افسوس کا مقام ہے کہ مسلمان اپنے ایسے روشن اور مستحکم سچے مذہب کو ایسا ضعیف اور کمزور سمجھتے ہیں کہ دنیاوی علوم کی ترقی سے اس کی برہمی کا خیال کرتے ہیں، نعوذ باللہ منہا۔ مذہبِ اسلام ایسا مستحکم اور سچا مذہب ہے کہ جس قدر دینی اور دنیاوی علوم کی ترقی ہوتی جاوے گی اسی قدر اس کی سچائی زیادہ تر ثابت ہو گی۔
اب ہم یہ بات بتاتے ہیں کہ اپنے مذہب میں پختہ ہونا جدا بات ہے اور یہ ایک نہایت عمدہ صفت ہے جو کسی اہلِ مذہب کے لیے ہو سکتی ہے اور تعصب، گو کہ وہ مذہبی باتوں میں کیوں نہ ہو نہایت برا اور خود مذہب کو نہایت نقصان پہنچانے والا ہے۔
غیر متعصب، مگر اپنے مذہب میں پختہ ہمیشہ سچا دانا دوست اپنے مذہب کا ہوتا ہے۔ اس کی خوبیوں اور نیکیوں کو پھیلاتا ہے، اس کے اصول کو دلائل و براہین سے ثابت کرتا ہے۔ مخالفوں اور معترضوں اور برا کہنے والوں کی باتوں کو ٹھنڈے دل سے سنتا ہے اور خود بھی اس کے دفعیے پر مستعد ہوتا ہے اور اور لوگوں کو بھی اس کے دفعیے کا موقع دیتا ہے۔
برخلاف اس کے متعصب، نادان دوست اپنے مذہب کا ہوتا ہے۔ وہ سراسر اپنی نادانی سے اپنے مذہب کو نقصان پہنچاتا ہے۔ پہلی بسم اللہ ایسی بد خصلت اختیار کرنے سے جو ہر عقل مند کے نزدیک نفرت کے قابل ہے اپنے مذہب کے حسن و اخلاق اور اس کے نتیجوں کی خوبی پر داغ لگاتا ہے۔ اپنے مذہب کی خوبیوں کے پھیلنے اور لوگوں کو اس کی طرف راغب کرنے کے بدلے الٹا اس کا ہارجِ قوی ہوتا ہے۔ اپنے تعصب کے سبب بد اخلاق اور مغرور اور متقشف سخت دل ہو جاتا ہے اور ٹھیک اس آیتِ کریمہ ''لو کنت فظاً غلیظ القلب لانفضوا من حولک'' سے مخالفتِ صریح کرتا ہے۔
مذہب میں متعصب شخص دوسروں کے اعتراضوں کو جو اس کے مذہب پر ہیں سننا یا مشہور ہونا پسند نہیں کرتا اور اس سبب سے ضمناً وہ اس بات کا باعث ہوتا ہے کہ مخالفوں کے اعتراض بلا تحقیقات کیے اور بلا جواب دیے باقی رہ جاویں۔ وہ اپنی نادانی سے تمام دنیا پر گویا یہ بات ظاہر کرتا ہے کہ اس کے مذہب کو مخالفوں کے اعتراضوں سے نہایت اندیشہ اور اس کے برہم ہو جانے کا خوف ہے۔ پس یہ تمام باتیں مذہب کی دوستی کی نہیں ہیں، بلکہ مخالفوں کی فتح یابی اور میدان جیت لینے کی ہیں۔
غرضیکہ تعصب خواہ دینی باتوں میں ہو یا دنیاوی باتوں میں، نہایت برا اور بہت سی خرابیوں کا پیدا کرنے والا ہے۔
مغرور و متکبر ہو جانا اور اپنے ہم جنسوں کو سوائے چند کے نہایت حقیر و ذلیل سمجھنا متعصب کا خاصہ ہوتا ہے۔
اس کے اصول کا مقتضا یہ ہوتا ہے کہ تمام دنیا کے لوگوں سے سوائے چند کے کنارہ گزیں ہو، مگر ایسا کر نہیں سکتا اور بمجبوری ہر ایک سے ملتا ہے اور اوپر کے دل سے ان کا ادب اور اپنی جھوٹی نیاز مندی بھی ظاہر کرتا ہے اور ایسا کرنے سے ایک اور بد خصلت نفاق اور کذب اور دغا بازی اور فریب و مکاری کی اپنے میں پیدا کرتا ہے۔
دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں ہے جس نے خود ہی تمام کمالات اور تمام خوبیاں اور خوشیاں حاصل کی ہوں، بلکہ ہمیشہ ایک قوم نے دوسری قوم سے فائدہ اٹھایا ہے، مگر متعصب شخص ان نعمتوں سے بد نصیب رہتا ہے۔
علم میں اس کو ترقی نہیں ہوتی، ہنر و فن میں اس کو دست گاہ نہیں ہوتی، دنیا کے حالات سے وہ ناواقف رہتا ہے، عجائباتِ قدرت کے دیکھنے سے محروم ہوتا ہے، حصولِ معاش اور دنیاوی عزت اور تمول، مثل تجارت وغیرہ کے وسیلے جاتے رہتے ہیں اور رفتہ رفتہ تمام دنیا کے انسانوں میں روز بروز ذلیل اور خوار اور حقیر و ناچیز ہوتا جاتا ہے۔ اس کی مثال ایک ایسے جانور کی ہوتی ہے جو اپنے ریوڑ میں ملا رہتا ہے اور نہیں جانتا کہ اس کے اور ہم جنس کیا کر رہے ہیں۔ بلبل کیا چہچہاتی ہے اور قمری کیا غل مچاتی ہے، بیا کیا بن رہا ہے اور مکھی کیا چن رہی ہے۔ وہ بجز کوڑے پر کی گھانس چرنے کے اور کچھ نہیں جانتا کہ باغ کیوں بنا ہے اور پھول کیوں کھلا ہے، نرگس کیا دیکھتی ہے اور انگور کی تاک کیا تاکتی ہے۔
تعصب میں سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ جب تک وہ نہیں جاتا کوئی ہنر و کمال اس میں نہیں آتا۔ تربیت و شائستگی، تہذیب و انسانیت کا مطلق نشان نہیں پایا جاتا اور جبکہ وہ مذہبی غلط نما نیکی کے پردے میں ظہور کرتا ہے تو اور بھی سمِ قاتل ہوتا ہے، کیونکہ مذہب سے اور تعصب سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ انسان کے خراب و برباد کرنے کے لیے شیطان کا سب سے بڑا داؤں تعصب کو مذہبی رنگت سے دل میں ڈالنا اور اس تاریکی کے فرشتے کو روشنی کا فرشتہ کر کر دکھلانا ہے۔
پس میری التجا اپنے بھائیوں سے یہ ہے کہ ہمارا خدا نہایت مہربان اور بہت بڑا منصف ہے اور سچا سچائی کا پسند کرنے والا ہے، وہ ہمارے دلوں کے بھید جانتا ہے، وہ ہماری نیتوں کو پہچانتا ہے۔ پس ہم کو اپنے مذہب میں نہایت سچائی سے پختہ رہنا، مگر تعصب کو جو ایک بری خصلت ہے، چھوڑنا چاہیے۔ تمام بنی نوعِ انسان ہمارے بھائی ہیں، ہم کو سب سے محبت اور سچا معاملہ رکھنا اور سب سے سچی دوستی اور سب کی سچی خیر خواہی کرنا ہمارا قدرتی فرض ہے، پس اس کی ہم کو پیروی چاہیے۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.