Urdu in Translation
Recherche
Signet

Chapitre 6 sur 29

习俗与惯例

Custom and Convention

رسم و رواج

赛义德·艾哈迈德·汗爵士

Écriture
Taille

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لیے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے، کیونکہ جن باتوں کی چھٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں، لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اس کے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے، بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے۔ جس چیز کا رواج ہو گیا، عادت پڑ گئی، وہی اچھی ہے اور جس چیز کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

مگر یہ بات صحیح نہیں، بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے۔ رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اس کے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا، کیونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں، مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسا کر لینا نہ چاہیے، بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیے، تاکہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسبب رسم و رواج کے ہم کو اس کی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

البتہ یہ کہنا درست ہو گا کہ ہرگاہ معیوب اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدمِ رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے۔ بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے، مگر جب کہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لیے کوئی نہ کوئی طریقہ ہو گا۔ پس ہم کو اس طریقے کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کی بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیے۔

سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لیے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔

یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیے، تاکہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اس کے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اس کے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

جب کہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسومات و عادات کے ان کا مبداء اور منشاء متحد معلوم ہوتا ہے۔

کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں ان کا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورتِ تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہیں یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبداء و منشاء معلوم ہوتے ہیں۔

جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں ان کے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں، کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے ان کو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں، مگر ان کے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لنڈن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے۔ پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے، مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لیے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندسی قواعد سے آتشخانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جاوے۔

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لیے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جاوے اور اگر ہم اپنی ان پچھلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلاشبہ بمقابل ان قوموں کے جنھوں نے ترقی کی ہے، ہم ذلیل اور خوار ہوں گے اور مثل جانوروں کے خیال کیے جاویں گے۔ پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں۔ انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور نا تربیت یافتہ قوموں کو ذلیل و حقیر مثل جانوروں کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شائستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانوروں کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے، ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیے۔

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے، مگر جب وہ رسمیں اندھے پنے سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں، دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں، اس لیے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اس کی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا، بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں، بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربے کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونے کا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادے کے اور ان کی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنے کے بغیر داخل ہو گئی ہیں، جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی، بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے، مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجے کی تہذیب پر پہنچاویں، تاکہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظرِ تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

جو رسومات کہ بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لیے ہیں، خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو، خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں، مگر اتنا فرق بے شک ہے کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو درحقیقت نفس الامر میں بری ہوں کم ہیں اور بعضی میں زیادہ اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے اور بعضی ایسی بھی قومیں ہیں جنھوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجے تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چھپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھارے پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں ہیں جو اب دنیا میں سویلیزڈ، یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور درحقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سی رسمیں جو درحقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں سے ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی برخلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شائستگی کے بھی برعکس ہیں اور اس لیے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے، اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں، گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

اس تحریر سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونہ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود ان امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا، بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جن کی اصلاح دلی مقصود ہے، بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہوں گے، سب سے اول ان کا چیلا اور ان کی پیروی کرنے والا میں ہوں گا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجے کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا، اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر ان کی اس رائے میں قصور ہے اور ان کی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو ان کے خیالات ہیں ان کی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں، مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طرح علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا، کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالت تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہو گی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیب اور ذلت عائد ہو گی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی، بلکہ ان کے مذہب پر منحصر ہوتی ہے۔ کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان، یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں درحقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسنِ معاشرت اور خوبیِ تمدن اور تہذیبِ اخلاق اور تربیت و شائستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بہت بڑھ کر اس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.