Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 29

La revue regarde en arrière

The Journal Looks Back

پرچۂ تہذیب الاخلاق: کارکردگی کا جائزہ

Sir Syed Ahmad Khan

Script
Size

اختتامِ سال ۱۲۹۱ھ و شروعِ سال ۱۲۹۲ھ

سوا چار برس بخیریت گزر گئے۔ اب پھر نیا سال شروع ہوا۔ گزشتہ برسوں میں جو کچھ ہنگامے ہوئے تھے ہو لیے۔ اب دم باقی رہ گئی ہے۔ چاند کی بڑھیا کی کہانی ہے کہ ہاتھی نکل گیا پر دم باقی ہے۔ آج اگر ہم اپنی قسمت پر فخر کریں تو بھی بجا ہے اور اگر ہم اپنی قوم کے اقبال کی فصلِ بہار کی آمد آمد کی خوشیاں منائیں تو بھی زیبا ہے۔ جو کچھ کہ اس سوا چار برس میں ہوا کیا ایسے قلیل زمانے میں اس کے ہونے کی ہم کو توقع تھی؟ توبہ، توبہ، کیا ہم کو ایسا جلد ان ناچیز پرچوں سے اپنی قوم کے جگانے اور اٹھانے کی جو مدتِ دراز سے غفلت کے تاریک گڑھے میں پڑی ہوئی بے خبر سو رہی تھی توقع تھی، استغفر اللہ۔

وہ عید کا مبارک دن، یعنی یکم شوال ۱۲۸۰ نبوی اور ۱۲۸۷ھ جب کہ ہمارا پہلا پرچہ نکلا، امید ہے کہ ہماری قوم کی تاریخ میں کبھی بھولا نہ جاوے گا۔ ہماری قوم کی جو کچھ بداقبالی تھی وہ یہی تھی کہ کچھ نہ تھے اور جانتے تھے کہ ہم سب کچھ ہیں۔ اس غفلت کے داروئے بے ہوشی نے ان کے کانوں کو بہرا کر دیا تھا، ان کی آنکھوں کو پتھرا دیا تھا، دل پتھر ہو گئے تھے، دماغ قابو میں نہیں رہا تھا، ہاتھ پاؤں سست ہو گئے تھے، زندہ تھے پر مردوں سے بدتر تھے۔ اٹھتے، بیٹھتے، چلتے پھرتے تھے، پر کچھ نہ کرتے تھے۔ اسی تھوڑے عرصے میں وہ حالت بہت کچھ بدل گئی۔ کچھ لوگ بخوبی ہوشیار ہو گئے۔ وہ سمجھے کہ ہماری کیا حالت ہے اور ہم پر کیا مصیبت ہے۔ لبوں پر جان ہے، پھر اگر جان نہیں تو جہان نہیں۔ کچھ لوگ ہوشیار ہوئے، پر ابھی آنکھیں ملتے ہیں۔

بہت سونے اور اندھیرے میں پڑے رہنے سے آنکھوں میں چیپڑ جما ہوا ہے۔ کچھ کھلتی ہیں مگر روشنی سے چوندھیا جاتی ہیں۔ کچھ لوگ ابھی تک نیند کے خمار میں ہیں۔ کچھ حرکت تو ان میں آئی ہے مگر ابھی انگڑائی لے کر اور کروٹ بدل کر پھر غافل ہو جاتے ہیں۔ جب پھر جھنجھوڑو تو ہاں، اچھا کہہ کر دوسری کروٹ لیتے ہیں اور پھر غافل ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ ایسے ہیں کہ ابھی بدستور غافل پڑے سوتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں کہ ہوشیار ہوئے ہیں مگر بدمزاجی اور تند خوئی سے ضد میں آ کر کمبل تانے پڑے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہاں ہم نہیں اٹھنے کے۔ تمہارا کیا چارہ ہے۔ ہم یوں ہی پڑے رہیں گے۔ بعضے ان میں سے اپنے پاس والوں کو کہتے ہیں کہ تم بھی پڑے رہو، مت اٹھو۔ سید احمد کون ہے جو جگاتا پھرتا ہے۔ ہم اسی بات کو سن کر خوش ہوتے ہیں اور دور ہی سے کھڑے کہتے ہیں کہ وہ اٹھے، وہ کلبلائے، خدا نے چاہا تو اب سمجھ دار بھی ہو جاویں گے۔ یہی رست و خیز ہماری قوم کے اقبال کی نشانی ہے۔ پتھر پسیجا تو سہی۔ اب کسی نہ کسی طرف بہہ نکلے گا۔ لوہا پگلا تو سہی، اب کچھ نہ کچھ ڈھل رہے گا۔ بند پانی سے بجز سڑ جانے کے اور کچھ نہیں ہوتا۔ پانی کو بہنا چاہیے، پھر کوئی نہ کوئی اپنا رستہ بنا لے گا۔ اس وقت ہماری ساری قوم میں اس بات کا غلغلہ ہے کہ ہماری حالت اچھی نہیں ہے۔ قوم کے لیے کچھ کرنا چاہیے۔ کیا یہ صدا ان لوگوں کے دلوں میں جو قومی بھلائی چاہنے والے ہیں جان نہیں ڈال دیتی ہے؟ سولزیشن جس کے نام سے لوگوں کو نفرت تھی کیا اب اس کا چرچا ہر گلی کوچہ میں نہیں ہے۔ کیا نیچر کا قافیہ کیچڑ کہتے ہوئے اب لوگوں کو شرم نہیں آتی ہے (معاف کیجیے ان ضدی سونے والوں کا ذکر نہیں ہے) کیا قومی ہمدردی کی کسی نہ کسی قدر تحریک اب ہر ایک دل میں نہیں ہے۔ کیا چار دانگ ہندوستان کے اخباروں میں تہذیب، تہذیب، سولزیشن، سولزیشن، قومی ہمدردی، قومی ہمدردی، پیٹریاٹزم، پیٹریاٹزم کا غلغلہ نہیں ہے۔ کوئی اخبار اٹھاؤ اس میں ان میں سے کسی نہ کسی پر کوئی نہ کوئی چھوٹا موٹا آرٹیکل دیکھ لو۔ جس گلی کوچہ میں جاؤ سید احمد کے ''تہذیب الاخلاق'' کا جھگڑا سن لو۔ مکہ میں جاؤ تو سید احمد کو پاؤ، مدینہ میں جاؤ تو سید احمد کو پاؤ، برا کہو خواہ بھلا کہو مگر ہم دعا گوؤں کو مت بھولو:

قطع کیجیے نہ تعلق ہم سےکچھ نہیں ہے تو عداوت ہی سہی

یہ ولولہ اور غلغلہ اور ہر ایک بات کا چرچا دراصل ہماری قوم کی بھلائی کی نشانی ہے۔ اس پر ہم کو ذرا بھی خیال نہیں ہے کہ کسی کی کیا رائے ہے اور کسی کی کیا۔ کیونکہ جو بات ٹھیک نہیں ہے وہ آج نہیں کل، کل نہیں پرسوں سب کو معلوم ہو جاوے گی اور سب اسی پر یقین کریں گے اور اسی پر متفق ہوں گے۔ ضرور ایک دن وہ آوے گا جو قوم کہے گی کہ ہاں سید بھی کوئی دیوانہ تھا پر بات ٹھکانے کی کہتا تھا۔ اگر ہمارا یہ خیال صحیح ہو اور درحقیقت ہماری قوم میں ایسی تحریک آ گئی ہو تو ہمارے اس ناچیز پرچے نے اپنا کام پورا کر لیا اور اس کی مراد پوری ہو گئی۔ والحمد للہ علیٰ ذالک۔

مگر ہمارے بعض محبِ وطن جو دل سے اپنی قوم کی بھلائی اور قومی ترقی چاہتے ہیں کبھی غلطی میں پڑ جاتے ہیں۔ جب کبھی ان کو کسی سولزڈ یعنی مہذب و تربیت یافتہ شائستہ قوم میں سے کسی کی کوئی وحشیانہ حرکت معلوم ہوتی ہے تو اس کو بہت طمطراق سے بیان کرتے اور لکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جب اس قوم میں بھی ایسی وحشیانہ حرکتیں ہوتی ہیں تو ہماری قوم کو کیوں برا کہا جاتا ہے۔ مگر ان کو سمجھنا چاہیے کہ اگر ہم کسی دوسرے کی آنکھ کی پھلی کو ٹوکیں تو اس سے ہماری آنکھ کا ٹینٹ نہیں چھپتا۔ ہم کو اپنی آنکھ کے ٹینٹ کا علاج کرنا چاہیے۔ دوسرے کی آنکھ میں پھلی ہو یا نہ ہو۔ با ایں ہمہ وہ لوگ اس بات میں ذرا انصافانہ بھی نظر نہیں کرتے۔ قوم کی محبت انصاف کو چھپا دیتی ہے۔ جس قوم کے کسی شخص کی وحشیانہ حرکت کی ہم گرفت کرتے ہیں اس وقت اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ اس قوم میں خوبیاں کتنی ہیں۔ ہماری قوم میں وہ عیب تو ہیں اور وہ خوبیاں کسی میں نہیں ہیں۔ اصلی محبت اور سچی خیر خواہیِ قوم کی یہی ہے کہ اس کے نقصانوں کو دیکھے اور ان کے مٹانے کی فکر کرے۔ جو لوگ نہایت ہمدردی اور قومی محبت سے اپنی قوم کے عیبوں اور نقصانوں سے مطلع کرتے ہیں ان کا دل اپنی قوم کی حالت پر بہ نسبت ان کے جو قوم کی طرف داری کرتے ہیں اور اس کے عیبوں کو چھپاتے ہیں بہت زیادہ جلتا ہے اور حقیقت میں وہی لوگ محبِ وطن و محبِ قوم ہیں۔ و ذالک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔

ترقیِ علمِ انشاء

جہاں تک ہم سے ہو سکا ہم نے اردو زبان کے علمِ ادب کی ترقی میں اپنے ان ناچیز پرچوں کے ذریعے سے کوشش کی۔ مضمون کے ادا کا ایک سیدھا اور صاف طریقہ اختیار کیا۔ جہاں تک ہماری کج مج زبان نے یاری دی الفاظ کی درستی، بول چال کی صفائی پر کوشش کی۔ رنگینیِ عبارت سے جو تشبیہات اور استعارات خیالی سے بھری ہوتی ہے اور جس کی شوکت صرف لفظوں ہی میں رہتی ہے اور دل پر اس کا کچھ اثر نہیں ہوتا، پرہیز کیا۔ تک بندی سے جو اس زمانہ میں مقفیٰ عبارت کہلاتی تھی ہاتھ اٹھایا، جہاں تک ہو سکا سادگیِ عبارت پر توجہ کی۔ اس میں کوشش کی کہ جو کچھ لطف ہو وہ صرف مضمون کے ادا میں ہو۔ جو اپنے دل میں ہو وہی دوسرے کے دل میں پڑے تاکہ دل سے نکلے اور دل میں بیٹھے۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے کہ ہماری یہ کوشش کہاں تک کارگر ہوئی اور ہمارے ہم وطنوں نے اس کو کس قدر پسند کیا۔ مگر اتنی بات ضرور دیکھتے ہیں کہ لوگوں کے خیالات میں ضرور تبدیلی آ گئی ہے اور اس کی طرف لوگ متوجہ بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اخباروں کی عبارتیں نہایت عمدہ اور صاف ہوتی جاتی ہیں۔ وہ پہلا ناپسند طریقہ ادائے مضمون کا بالکل چھوٹتا جاتا ہے۔ بھاری بھاری لفظوں اور موٹے موٹے لغتوں سے اردو زبان کا خون نہیں کیا جاتا۔ صفائی اور سادگی روز بروز عبارتوں میں بڑھتی جاتی ہے۔ خیالات بھی بالکل بدلے ہوئے ہیں۔ بہت کم اخبار ایسے ہوں گے جن میں ہر ہفتہ کوئی نہ کوئی آرٹیکل عمدہ و سلیس عبارت میں کسی نہ کسی مضمون پر نہ لکھا جاتا ہو۔ صرف اس بات کی کمی ہے کہ وہ سامان ہمارے پاس موجود نہیں ہے جس سے ہمارے معلومات زیادہ ہوں اور ہمارے خیالات کو وسعت ہو۔ جو مضمون ہم لکھنا چاہیں ان کے مآخذ اور ان کے حالات اور جو بحثیں کہ ان پر ہو چکی ہیں اور جو امور ان کی نسبت متحقق ہو چکے ہیں ان سے آگاہی ہو اور یہی سبب ہے کہ بعضی دفعہ ہماری قوم کے آرٹیکلوں میں غلطی ہو جاتی ہے اور جن امور کا تصفیہ ہو چکا ہے انہی کو پھر کہے جاتے ہیں۔ یہ نقص اسی وقت رفع ہو گا جب کہ انواع اقسام علوم و فنون کی کتابیں ہماری زبان میں موجود ہو جاویں گی اور ہماری قوم کو عموماً ان پر دسترس ہو گی۔ سائنٹفک سوسائٹی علی گڑھ نے اس کام کے پورا کرنے کا ارادہ کیا تھا۔ مگر افسوس ہے کہ قوم کو اس طرف توجہ نہیں ہے اور اسی سبب سے اس کا کام ادھورا پڑا ہے۔

نئی اردو نے درحقیقت ہماری ملکی زبان میں جان ڈال دی ہے۔ میر و درد و ظفر نے اردو اشعار میں جو کچھ سحر بیانی کی ہو، کی ہو، میر مومن دہلوی نے کوئی کہانی شستہ بول چال میں کہہ دی ہو، کہہ دی ہو، جو اس سے زیادہ فصیح و دلچسپ و بامحاورہ نہ ہو گی جو ایک پوپلی بڑھیا بچوں کے سلاتے وقت ان کو کہانی سناتی ہے۔ مضمون نگاری دوسری چیز ہے جو آج تک اردو زبان میں نہ تھی۔ یہ اسی زمانہ میں پیدا ہوئی اور ابھی نہایت بچپن کی حالت میں ہے۔ اگر ہماری قوم اس پر متوجہ رہے گی اور ایشیائی خیالات کو نہ ملائے گی، جو اب حد سے زیادہ اجیرن ہو گئے ہیں تو چند روز میں ہماری ملکی تحریریں بھی میکالی و اڈیسن کی سی ہو جاویں گی۔

بعض لوگوں کو شکایت ہے کہ جو لوگ اس زمانے میں اردو لکھتے ہیں وہ انگریزی لفظ اپنی تحریروں میں ملاتے ہیں مگر ان کو غور کرنا چاہیے کہ زندہ زبان میں ہمیشہ نئے نئے لفظ ملتے اور بنتے ہیں اور جب کوئی زبان محدود ہو جاتی ہے، مردہ کہلاتی ہے۔ غیر زبان کے الفاظ کو اپنا کر لینا اہلِ زبان کا کام ہے مگر ان کا ملا لینا آسان کام نہیں۔ اہلِ زبان غیر زبان کے لفظ کو ایسی عمدگی سے ملا لیتے ہیں جیسے تاج گنج کے روضہ میں سنگِ مرمر پر عقیق و یاقوت و زمرد کی پچی کاری ہے۔ بے شک وہ دوسرا پتھر ہے۔ مگر ایسا وصل ہوا ہے کہ غور سے دیکھنے پر بھی اوپر سے جڑا ہوا نہیں معلوم ہوتا۔ اسی میں سے پیدا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ یہ بات اہلِ زبان کے سوا دوسرے سے نہیں ہو سکتی اور نہ سب اہلِ زبان سے۔ بلکہ صرف اس سے جسے خدا نے ایسا ملکہ دیا ہو۔

یہ بات بھی غور کرنی چاہیے کہ اہلِ زبان کو دوسری زبان کے لفظوں کے لے لینے کی کیوں ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے متعدد اسباب ہوتے ہیں۔ ایک مؤرخ جو کسی ملک کی تاریخ لکھتا ہے اس کو ضرور ہوتا ہے کہ اس ملک کے تاریخی الفاظ یعنی جو تاریخ سے متعلق ہیں اور ملکوں کی تقسیم اور مناصب اسی ملک کی زبان میں قائم رکھے۔ کیونکہ اگر ان کے لیے اپنی زبان کے الفاظ اور اصطلاح بدل دے تو وہ تاریخ نہایت نکمی اور غیر مفید ہو جاوے گی۔ ٹونس میں جو تاریخیں غیر ملکوں کی عربی زبان میں ترجمہ نہیں تصنیف ہوئی ہیں، ان کو دیکھو کہ کس قدر غیر زبان کے الفاظ معرب و غیر معرب ان میں شامل ہیں۔ عربی اخبار ''الجوائب'' کو دیکھو اس کا کیا حال ہے۔ قرآن مجید کو پڑھو اور دیکھو اس میں کس قدر الفاظ دوسری زبانوں کے داخل ہیں۔ اگر عربی زبان کے علمِ ادب اور علوم و فنون میں الفاظِ جدیدہ شامل ہونے بند ہو جاتے تو وہ زبان بھی مثل عربی (؟) و سنسکرت و ژند کے مردہ زبان ہو جاتی۔

علوم و فنون پر کتابیں لکھنے والا بعضی دفعہ مجبور ہوتا ہے کہ جس زبان سے اس علم کو لیا ہے اسی زبان کے بعض الفاظ اور مصطلحات بدستور قائم رکھے۔ دیکھو یونانی زبان سے جو علمِ طب عربی میں ترجمہ ہوا کس قدر یونانی الفاظ اس میں شامل ہیں۔ اگر کسی کو لیٹرغش (؟) نہ ہو تو ضرور اس کو تسلیم کرے گا۔ عربی زبان سے کمسٹری انگریزی میں گئی۔ آج تک بہت سے عربی لفظ انگریزی زبان کی کمسٹری میں شامل ہیں۔

پوچھو کہ اس مقام پر میں نے کیوں لفظ کمسٹری بولا۔ اور کیمیا کا لفظ جس سے خود انگریزوں نے لفظ کمسٹری بنایا ہے کیوں نہ بولا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہم لوگوں میں کیمیا کے لفظ کے ساتھ چاندی، سونا بنانے کا خیال پیدا ہوتا ہے جو ایک محض غلط خیال ہے۔ اب وہ شخص جو اپنی قوم کی ہمدردی رکھتا ہے اور ان غلط خیالات کو مٹانا چاہتا ہے کسی جگہ کمسٹری اور کسی جگہ کیمیا کا لفظ بول جاتا ہے تاکہ کمسٹری کا لفظ اس غلط خیال کو نہ آنے دے اور کیمیا کا لفظ کمسٹری اور کیمیا کے ایک ہونے کا خیال پیدا کرے۔

لٹریچر یعنی علمِ ادب اہلِ زبان کے لیے نہایت وسیع جولان گاہ ہے۔ اس میں وہ اپنی طبیعت کا زور دکھلاتا ہے۔ اسی کے ذریعے سے وہ اپنے دل کی بات دوسرے کے دل میں ڈالتا ہے، اپنی شستہ تقریر اور مناسب مناسب الفاظ سے لوگوں کے دلوں کو جس بات پر چاہتا ہے ابھارتا ہے۔ انہی لفظوں سے کبھی ہنسا دیتا ہے اور کبھی رلا دیتا ہے۔ پرانے دقیانوسی خیالوں کو مٹاتا ہے اور نئے نئے خیالات دلوں میں ڈالتا ہے۔ کبھی واحد کے بدلے جمع اور جمع کے بدلے واحد کے صیغے بولتا ہے۔ کبھی حاضر کو غائب اور غائب کو حاضر کہہ دیتا ہے۔ کبھی ترکیبِ جملہ کی دوسری زبان کی ترکیب پر گھڑ دیتا ہے اور اس سب میں ایک لطف اور ایک قسم کا مزا رکھتا جاتا ہے۔ اگر وہی چال وہ چلے جو اہلِ زبان نہیں ہے تو سینکڑوں ٹھوکریں کھاتا ہے۔ یہ مطلب نہیں ہے کہ اہلِ زبان جو کہے سو صحیح ہے اور غیر اہلِ زبان وہ چال چلے تو غلط ہے۔ نہیں درحقیقت اس کا کہنا صحیح اور اس کا بولنا غلط ہوتا ہے اور اہلِ زبان ہی اس میں تمیز کر سکتا ہے۔

دوسری زبان کے لفظوں کو اپنی زبان میں بولنا کبھی عبارت کا لطف بڑھانے کے لیے ہوتا ہے، کبھی اپنی زبان کو وسعت دینا اور نئے لفظوں کو اس میں داخل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ کبھی سامعین کو مطلب کی طرف زیادہ متوجہ کرنے کے لیے بولا جاتا ہے۔ کبھی اس مطلب کی عظمت جتانے کو کہا جاتا ہے جو عظمت اس مرادف لفظ سے جو اس زبان میں مستعمل ہے دل میں نہیں بیٹھتی۔ مثلاً بعضے اہلِ زبان اپنی تحریر و تقریر میں مناسب موقع پر جس کی مناسبت کو اہلِ زبان ہی جان سکتے ہیں جنٹلمین کا لفظ بولتے ہیں۔ اگر وہ اس کی جگہ شریف یا شریفوں کا لفظ بولیں تو اس لفظ یا مطلب کی عظمت خاک میں مل جاتی ہے۔ اس لیے کہ ہماری زبان اور عام استعمال میں لفظ شریف کا ذلیل ہو گیا ہے۔ اس سے بجز اس خیال کے کہ اس کی حسب و نسب میں کچھ نقصان نہیں ہے شیخ، سید، مغل، پٹھان ہے اور کوئی خیال پیدا نہیں ہوتا مگر اس لفظ کے بولنے والا اس خیال سے زیادہ تر وسیع اور اعلیٰ خیال دل میں بٹھانا چاہتا ہے۔ وہ اس لفظ سے ایسا شخص بتانا چاہتا ہے جو رذیل آدمیوں کی بہ نسبت خاندان میں، تعلیم میں، حیثیت میں، اطوار میں افضل ہو۔ اس کی تعلیم و تربیت، اس کا چال چلن اچھا ہو، نیک اور خوش اخلاق ہو، وہ ہر بات میں جو اس سے متعلق ہو حلیم ہو، چال چلن میں، حوصلہ و مزاج میں، خواہش اور ارادہ میں سلیم ہو، ایسا ہونا تعلیم سے شروع ہوتا ہے اور پڑھے کو گنا اور نیک صحبت میں بیٹھنا اس کو پورا کرتا ہے۔ اگرچہ شریف کے بھی یہی معنی ہونے چاہئیں مگر جو کہ اس کا استعمال ایک خاص بات پر ہو گیا ہے تو یہ پورا پورا خیال اس لفظ سے دل میں نہیں آتا۔ پس ایک محبِ قوم اہلِ زبان ان خیالوں کو دل میں ڈالنے کے لیے اپنی زبان کو وسعت دیتا ہے اور دوسری زبان کا نیا لفظ اپنی زبان میں ملاتا ہے تاکہ نئے لفظ کے ساتھ نیا خیال دل میں پیدا ہو۔ یہی حال اس قسم کے اور لفظوں کا ہے۔ اگر ہم ان سب کی تفصیل لکھیں تو ہمارا یہ آرٹیکل لغت یا اصطلاحات کی ایک کتاب ہو جاوے۔ اسی نمونہ سے ہمارے ہم وطن خیال کر سکیں گے کہ ہماری قوم کو اپنی زبان کی نسبت بھی کیا کیا کرنا ہے اور ان لغو خیالات کو چھوڑیں گے کہ وہ شخص تو انگریزیت پر مرتا ہے، انگریزی ہی لفظ بولتا ہے، اپنی واقف کاری انگریزوں کی جتاتا ہے، کیونکہ کسی جنٹلمین کو ایسے ذلیل خیالات کسی جنٹلمین کی نسبت کرنے زیبا نہیں۔

اردو نظم

ہم نے جو نیچر کی بہت ہائے پکار کی تو اب اس کا قافیہ کیچڑ تو نہیں رہا بلکہ شاعروں نے اس کی طرف توجہ کی۔ ہماری زبان کے علمِ ادب میں بہت بڑا نقصان یہ تھا کہ نظم پوری نہ تھی۔ شاعروں نے اپنی ہمت عاشقانہ غزلوں اور واسوختوں اور مدحیہ قصیدوں اور ہجر کے قطعوں اور قصہ و کہانی کی مثنویوں میں صرف کی تھی۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ ان مضامین کو چھونا نہیں چاہیے تھا۔ نہیں وہ بھی نہایت عمدہ مضامین ہیں اور جودتِ طبع اور تلاشِ مضمون کے لیے نہایت مفید ہیں۔ مگر نقصان یہ تھا کہ ہماری زبان میں صرف یہی تھی۔ دوسرے دوسرے قسم کے مضامین جو درحقیقت وہی اصلی مضامین ہیں اور نیچر سے علاقہ رکھتے ہیں نہ تھے، نظم کے اوزان بھی وہی معمولی تھے۔ ردیف و قافیہ کی پابندی گویا ذاتِ شعر میں داخل تھی۔ رجز اور بے قافیہ شعر گوئی کا رواج ہی نہیں تھا اور اب بھی شروع نہیں ہوا۔ ان باتوں کے نہ ہونے سے حقیقت میں ہماری نظم صرف ناقص ہی نہ تھی بلکہ غیر مفید بھی تھی۔ مگر نہایت خوشی کا مقام ہے کہ زمانے نے اس کو بھی رفارم کیا اور اہلِ پنجاب اس نقص کے رفع کرنے پر متوجہ ہوئے۔ اردو زبان کے علمِ ادب کی تاریخ میں ۱۸۷۴ء کا وہ دن جب لاہور میں نیچرل پوئیٹری کا مشاعرہ قائم ہوا ہمیشہ یاد رہے گا۔

ہز آنر لفٹنٹ گورنر بہادر پنجاب اور مسٹر ہالرائڈ ڈائریکٹر پبلک انسٹرکشن پنجاب نے اس مشاعرہ کے قائم ہونے پر بڑی توجہ کی ہے، جس کی شکرگزاری ہماری قوم پر واجب ہے۔ ہماری قوم کے لائق و فائق لوگوں نے بھی اس پر بخوبی توجہ کی ہے۔ مولوی محمد حسین صاحب آزاد پروفیسر عربی گورنمنٹ کالج لاہور نے اس مشاعرہ کے بقاء اور قیام میں سب سے زیادہ ہمت مصروف کی ہے۔ ان کی طبیعت کے زور اور پاکیزگیِ مضامین اور شوکتِ الفاظ اور طرزِ ادا سے ہم لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان کی مثنوی خوابِ امن جو آفتابِ پنجاب میں چھپی، ہمارے دلوں کو خوابِ غفلت سے جگاتی ہے۔ مولوی خواجہ الطاف حسین حالی اسسٹنٹ ٹرانسلیٹر محکمہ ڈائریکٹر پنجاب کی مثنویوں نے تو ہمارے دلوں کے حال کو بدل دیا ہے۔ ان کی مثنوی حب الوطن اور مثنوی مناظرہ رحم و انصاف جو پنجابی اخبار میں چھپی ہیں درحقیقت ہمارے زمانے کے علمِ ادب میں ایک کارنامہ ہیں۔ ان کی سادگیِ الفاظ، صفائیِ بیان، عمدگیِ خیال ہمارے دلوں کو بے اختیار کھینچتی ہے۔ وہ مثنویاں آبِ زلال سے زیادہ خوشگوار ہیں، بیان میں، زبان میں، آمد میں، الفاظ کی ترکیب میں، سادگی و صفائی میں کیسی عمدہ ہیں کہ دل میں بیٹھی جاتی ہیں۔ ہاں یہ بات سچ ہے کہ ہمارے ان باعثِ افتخار شاعروں کو ابھی نیچر کے میدان میں پہنچنے کے لیے آگے قدم اٹھانا ہے اور اپنے اشعار کو نیچرل پوئیٹری کے ہم سر کرنے میں بہت کچھ کرنا ہے۔ مگر ان مثنویوں کے دیکھنے سے اتنا خیال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ خیالات میں کچھ تبدیلی ہوئی ہے اور اس کا بھی تصور ہو سکتا ہے کہ اگر ہماری قوم اس عمدہ مضمون نیچر کی طرف متوجہ رہے اور ملٹن اور شکسپیئر کے خیالات کی طرف توجہ فرمائے اور مضامینِ عشقیہ اور مضامینِ خیالیہ اور مضامینِ بیانِ واقع اور مضامینِ نیچر میں جو تفرقہ ہے اس کو دل میں بٹھا لے تو ان بزرگوں کے سبب ہماری قوم کی لٹریچر کیسی عمدہ ہو جاوے گی اور ضرور وہ دن آوے گا کہ ہم بھی اپنی قوم کے کسی نہ کسی پر ایسا ہی فخر کریں گے جیسے کہ یورپ کے لوگ ملٹن اور شکسپیئر پر ناز کرتے ہیں۔ مضامینِ بیانِ واقع اور مضامینِ نیچر ایسے پاس پاس ہیں کہ ان میں دھوکا پڑ جاتا ہے۔ مگر درحقیقت پہلا دوسرے سے بالکل علیحدہ ہے۔ پہلا تو ایک بیرونی حالت ہے اور دوسرا اندرونی۔ اسی پچھلے میں وہ طاقت ہے جو دل میں اثر کرتی ہے۔ ابھی تک ہماری قوم کا کلام بیرونی حالت سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ مگر ہم کو امید ہے کہ بہت جلد وہ اندرونی حالت تک بھی پہنچ جاوے گا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.