
第 3 章,共 29 章
谈《道德修养》杂志
A Word on the Journal
ذکر پرچہ تہذیب الاخلاق
اختتامِ سال ۱۲۸۹ھ و شروعِ سال ۱۲۹۰ھ
گزشتہ سال میں بسبب خاص ضرورتوں کے حالات مدرسۃ العلوم مسلمانان زیادہ تر اس پرچہ میں چھاپے گئے اس پر بھی بہت سے وہ مضامین جن کے لیے یہ پرچہ موضوع ہے مندرج ہوئے۔
ہم نے اپنی قوم کی موجودہ برائی اور ان کی آئندہ کی بھلائی جہاں تک کہ ہو سکی ان کو دکھائی۔ مذہبی نقائص جو انہوں نے یہود و نصاریٰ کی روایتوں سے اور ہندوؤں کے میل جول سے اختیار کیے ہیں، بد رسم و رواج جو ان میں شامتِ اعمال سے پڑ گئے ہیں، اخلاق کی برائیاں جو ان میں خرابیِ تربیت سے آ گئی ہیں، ان کی کتبِ مروجہ تعلیم کی خرابیاں جس سے وہ کتابیں بے سود ہو گئی ہیں، سب کچھ ان کو بتلایا ہے۔
علمِ ادب اور علمِ انشاء سے بھی ہم نے غفلت نہیں کی کیوں کہ ہم نے اپنے آرٹیکلوں کو اس طرزِ جدید صاف و سادہ پر لکھا ہے جو دل میں سے نکلنے والی اور دل میں بیٹھنے والی ہے۔ اس طرز پر لکھنے سے اپنی قوم کو موجودہ علمِ انشاء کی برائی کا بتلانا اور اس میں تبدیل کی ضرورت کا ہونا سمجھایا ہے اور اگر ہمارا خیال غلط نہ ہو تو ہم نے اپنی قوم میں اس کا کچھ اثر بھی پایا ہے۔
ہم نے نامی یورپ کے عالموں اڈیسن اور اسٹیل کے مضامین کو بھی اپنی طرز اور اپنی زبان میں لکھا ہے جہاں کہ ہم نے اپنے نام کے ساتھ اے۔ ڈی اور ایس۔ ڈی کا اشارہ کیا ہے اور اپنی قوم کو دکھایا ہے کہ مضمون لکھنے کا کیا طرز ہے اور ہماری اردو زبان میں ان خیالات کے ادا کرنے کی کیا کچھ طاقت ہے اور اگر ہماری قوم اس پر متوجہ ہو تو کس قدر اور زیادہ خوبی اور صفائی اور سادگی اس میں پیدا کر سکتی ہے۔
یہ تو ہم نے سنا کہ بعض لوگوں نے ہمارے پرچہ کا نام ''تخریب الاخلاق'' اور ''تخریب الآفاق'' رکھا ہے جس طرح کہ ایک پرانی قوم نے قولوا حطۃ نغفر لکم خطایاکم و سنزید المحسنین کی جگہ حنطۃ پڑھا تھا۔ مگر ہم نے کوئی تحریر بطور ریویو کے اس پر نہیں دیکھی جس میں بطور ایک عادل حاکم کے اس کی بھلائی یا برائی پر مفصل رائے دی ہو۔
بعض دوستوں نے ہمارے پاس خط بھیجے ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہماری تحریر کو اور سادگیِ عبارت کو پسند کرتے ہیں اور ہمارے مضمونوں کو بھی عمدہ سمجھتے ہیں۔ ہمارے ایک انگریز دوست نے ہم کو لکھا کہ ''تہذیب الاخلاق'' نے یہ ثابت کر دیا کہ اردو زبان میں بھی ہر قسم کے مضامین اور خیالات عمدگی اور سادگی سے ادا ہو سکتے ہیں اور یہ بھی ثابت کیا کہ مذہبِ اسلام ایسا تنگ و تاریک رستہ نہیں ہے جیسا کہ اب تک سمجھا جاتا تھا۔
ہم کو اس بات کے معلوم ہونے سے بھی بڑی خوشی ہے کہ ہمارے مخالف ہمارے دوستوں سے بھی زیادہ اس پرچہ کے مشتاق رہتے ہیں اور اس سے بھی زیادہ خوشی یہ ہے کہ لوگ اس کے مضامین پر بحث کرتے ہیں اور رد و قدح پر متوجہ ہیں۔ بعض اخبار نویسوں نے ہمارے مضامین کے رد کرنے کا پیشہ اختیار کیا ہے اور بعض جگہ ہمارے مضامین پر بہ منظرِ تردید بحث کرنے کو مجلسیں مقرر ہوئی ہیں۔ بعض صاحب اس بات پر متوجہ ہیں کہ اپنی پرانی ہی کملی کو ہر مجلس کے لائق ثابت کریں۔ کانپور و گورکھپور و مراد آباد سے ان مضامین کی تردید میں رسالے نکلے ہیں اور نکلنے والے ہیں۔ یہ تمام واقعات ہمارے لیے نہایت مبارک آثار ہیں کیونکہ اگر یہ سب باتیں معرضِ بحث میں نہ آتیں تو ہم کو اپنی تحریروں کے مؤثر ہونے کا کچھ بھی یقین نہ ہوتا۔ جو عمارت بغیر گہرا کھودے بنتی ہے وہ جلد ڈھے جاتی ہے۔ وہی مسائل انجام کو ہر دلعزیز ہوتے ہیں جو بعد مباحثہ قائم رہتے ہیں۔ سونا اگر آگ میں نہ تایا جاوے تو کبھی گل رخوں کے گلے کا ہار نہ ہو۔ ہمارا قول ہے کہ ''سچ میں بھی کوئی ایسی کرامات نہیں ہے کہ وہ از خود لوگوں کے دلوں میں بیٹھ جاوے۔ اس میں جو کچھ کرامات ہے وہ یہی ہے کہ مباحثہ کا اسے خوف نہیں۔''
ہم کو اس بات سے بھی خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے پرچے کا ایک مضمون ہمارے ملک کے نامی عربی اخبار ''النفع العظیم لاہل ہذا الاقلیم'' مطبوعہ ۱۴ ذیقعدہ میں بہ زبانِ عربی ترجمہ ہو کر چھپا ہے اور مسٹر اڈیسن کا ایک مضمون امید پر جو ہم نے اپنی زبان، اپنی طرز پر چھاپا تھا وہ دوسری طرح پر بطور ترجمہ پٹیالہ اخبار مطبوعہ ۲۰ جنوری ۱۸۷۲ء میں چھپا ہے اور اس سے ہم کو امید ہوتی ہے کہ جو راہ ہم اپنے بھائیوں کو دکھانی چاہتے ہیں وہ اس کو پسند بھی کرتے ہیں۔
در دلش تسلیم و بر لب حرفِ انکارِ وصالگوش گوید بشنود چوں دل ز اندازش خوش است
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。