
Chapter 20 of 29
El discernimiento
Discernment
سمجھ
یعنی تمیز جس سے بھلائی برائی میں امتیاز کیا جاتا ہے
میرا یہ خیال ہے کہ اگر انسانوں کے دلوں کو چیر کر ان کا حال دیکھا جاوے تو دانا اور نادان دونوں کے دلوں میں کچھ تھوڑا ہی سا فرق نکلے گا۔ دونوں کے دلوں میں ہمیشہ بہت سے لغو اور بے ہودہ خیال آتے ہیں، بے شمار وسوسے دونوں کے دلوں میں اٹھتے ہیں، مگر ان دونوں میں یہی فرق ہوتا ہے کہ دانا آدمی ان میں سے انتخاب کرتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کون سے خیالات ایسے ہیں جن کو گفتگو میں لانا چاہیے اور کون سے ایسے ہیں جن کو چھوڑ دینا چاہیے۔ نادان آدمی ایسا نہیں کرتا اور جو خیال اس کے دل میں آتا ہے بے سوچے سمجھے منہ سے بکتا جاتا ہے۔ دانشمند آدمی بھی دوستوں کے ساتھ بات چیت کرنے میں نادان کی مانند ہوتا ہے، جو اس کے دل میں آتا ہے بے تردد دوست سے کہتا ہے، گویا اس کو خیالات ہی ایک بلند آواز میں آتے ہیں۔
پسٹلی صاحب کا یہ قول ہے کہ انسان کو دشمن کے ساتھ بھی ایسا برتاؤ رکھنا چاہیے کہ اس کو دوست بنا لینے کا موقع رہے اور دوست سے اس طرح برتاؤ کرنا چاہیے کہ اگر کبھی وہ دشمن ہو جاوے تو اس کے ضرر سے بچنے کی جگہ رہے۔ اس قول کی پہلی بات جو دشمن کے ساتھ برتاؤ کی ہے وہ تو نہایت عمدہ ہے، مگر پچھلی بات جو دوست کے ساتھ برتاؤ کی ہے وہ کچھ اچھی نہیں۔ اس میں سمجھ کی کچھ بھی بات نہیں ہے، بلکہ نری مکاری ہے۔ ایسے برتاؤ سے انسان زندگی کی بہت بڑی خوشی سے محروم رہتا ہے۔ اپنے دلی دوستوں سے بھی دل کی بات نہیں کہہ سکتا۔ یہ سچ ہے کہ بعضی دفعہ دوست دشمن ہو جاتے ہیں اور دوست کے بھید کو کھول دیتے ہیں، مگر دنیا انہی کو دغا باز اور برا کہتی ہے اور دوست پر بھروسا کرنے والے کو ناسمجھ نہیں کہتی۔ ہاں البتہ دوستوں کے منتخب کرنے میں بڑی سمجھ چاہیے۔
سمجھ صرف باتوں ہی میں منحصر نہیں ہے، بلکہ ہر قسم کے کاموں سے بھی متعلق ہے اور گویا ہماری زندگی میں ہمارے تمام کاموں کی رہنما اور ہمارے لیے ہمارے قادرِ مطلق خدا کی نائب ہے۔ انسان میں بہت سی بڑی عمدہ عمدہ صفتیں ہیں، مگر سمجھ سب سے زیادہ مفید ہے۔ سمجھ ہی کے سبب سے اور تمام صفتوں کی قدر ہوتی ہے۔ سمجھ ہی کے سبب سے وہ تمام صفتیں اپنے اپنے موقع پر کام آتی ہیں۔ سمجھ ہی کے سبب سے وہ شخص جس میں وہ صفتیں ہیں ان صفتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے۔ سمجھ بغیر علم اور عقل دونوں ناچیز ہیں، بھلائی برائی دکھائی دیتی ہے۔ باوجودیکہ انسان میں نہایت عمدہ عمدہ خصلتیں ہوتی ہیں، مگر سمجھ بغیر ان کے برتاؤ میں غلطیاں کرتا ہے اور نقصان پر نقصان اٹھاتا ہے۔ سمجھ ہونے سے صرف انہی خوبیوں کا جو اس میں ہیں مالک نہیں ہوتا، بلکہ دوسروں میں جو خوبیاں ہیں ان کا بھی مالک بن جاتا ہے۔ سمجھ دار آدمی جس سے گفتگو کرتا ہے اس کی لیاقت کو بھی جان لیتا ہے اور اسی کی لیاقت کے موافق گفتگو کرتا ہے۔ اگر ہم انسانوں کے مختلف فرقوں اور گروہوں اور جماعتوں کی مجلسوں کے حالات پر غور کریں تو ہم کو صاف معلوم ہو گا کہ ہر ایک مجلس میں نہ کسی عقلمند کی گفتگو کو غلبہ ہوتا ہے اور نہ کسی بہادر اور دلیر کی گفتگو کو، بلکہ اسی شخص کی گفتگو سب پر غالب رہتی ہے جس کو سمجھ ہے اور جو اہلِ مجلس کی لیاقتوں کو اور جو بات کہنی ہے اور جو نہ کہنی ہے اس میں تمیز کر سکتا ہے۔ جس شخص کو بڑی سی بڑی لیاقت حاصل ہو پر سمجھ نہ ہو وہ ایک نہایت قوی اور زبردست پر اندھے آدمی کی مانند ہے جو بسبب اپنے اندھے پن کے اپنے زور و قوت سے کچھ کام نہیں لے سکتا ہے۔ گو ایسے شخص کو دنیا میں اور سب طرح کے کمال حاصل ہوں، مگر سمجھ نہ ہو تو وہ دنیا میں کسی کام کا نہیں۔ برخلاف اس کے اگر اس کی سمجھ پوری ہو اور صرف اسی ایک صفت میں اس کو کمال ہو اور باقی اوصاف متوسط درجے کے رکھتا ہو تو وہ اپنی زندگی میں جو کچھ چاہے کر سکتا ہے۔
سمجھ جس طرح کہ انسان کے لیے ایک بہت بڑا کمال ہے، اسی طرح مکر اس کے حق میں بہت بڑا وبال ہے۔ نیک دل کی منتہائے خوبی سمجھ ہے اور بد دل کی منتہائے بدی مکر، یا یوں کہو کہ وہ نیک دل کے لیے معراج ہے اور یہ بد دل کے لیے کمال۔ سمجھ نہایت عمدہ اور نیک مقصد پیدا کرتی ہے اور ان کے حاصل ہونے کو نہایت عمدہ عمدہ اور تعریف کے قابل ذریعے قائم کرتی ہے، مگر مکر میں صرف خود غرضی ہوتی ہے۔ سمجھ مثل ایک روشن آنکھ کے ہے جس میں بے انتہا وسعت ہے اور تمام دنیا کو اور دور دور کی چیزوں کو، آسمانوں کو اور آسمانوں کے ستاروں کو بخوبی دیکھ سکتی ہے، مگر مکر مثل ایک کوتاہ نظر آنکھ کے ہے جو پاس پاس کی ناچیز چیزوں کو دیکھ سکتی ہے اور دور کی چیزیں گو وہ کیسی ہی عمدہ اور روشن ہوں اسے نظر نہیں آتیں۔ سمجھ جس قدر ظاہر ہوتی جاتی ہے اسی قدر انسان کا اختیار اور اعتبار بڑھتا جاتا ہے، مگر مکر کاٹھ کی ہنڈیا کی مانند ہے کہ جب ایک دفعہ کھل گیا تو پھر اس کی قوت اور عزت بالکل جاتی رہتی ہے، پھر انسان کسی کام کا نہیں رہتا۔ جو کام کہ وہ ایسی حالت میں کر سکتا جب کہ لوگ اس کو ایک سیدھا سادھا بھولا بھالا آدمی سمجھتے، اب وہ کام بھی وہ نہیں کر سکتا۔ سمجھ عقل کے لیے کمال ہے اور ہمارے کاموں کے لیے رہنما، مگر مکر ایک قوت ہے جو صرف حال ہی کے فائدوں کو دیکھتی ہے۔ سمجھ نہایت عقلمند اور نیک آدمیوں میں پائی جاتی ہے۔ مگر اکثر جانوروں میں اور ان لوگوں میں جو جانوروں کی مانند یا ان سے کچھ بہتر ہوتے ہیں، پایا جاتا ہے۔ سمجھ نفس الامر میں ایک نہایت خوبصورت دلکش چیز ہے اور مکر گویا اس کی بگاڑی ہوئی نقل ہے۔ سمجھ والے آدمی کی طبیعت ہمیشہ زمانہ حال اور استقبال دونوں پر لگی رہتی ہے۔ جو باتیں کہ زمانہ دراز کے بعد ہونے والی ہیں اور جو اب ہو رہی ہیں دونوں کو دیکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ رنج و خوشی جو دوسری زندگی، یعنی قیامت میں ہونے والی ہے وہ بے شک ہو گی، گو اس کا زمانہ ابھی بہت دور ہے۔ وہ اس کے دور ہونے کے سبب سے اس لیے اس کو حقیر نہیں سمجھتا کہ دوسری زندگی، یعنی قیامت کی تکلیف و راحت لمحہ لمحہ پاس آتی جاتی ہے اور اسی طرح سے رنج و خوشی دیویں گی جیسے کہ زمانہ حال میں رنج و خوشی ہوتی ہے، اس لیے وہ نہایت غور و فکر سے ان خوشیوں کے ہاتھ آنے کے لیے کوشش کرتا ہے جو قدرت نے اس کے لیے بنائی ہیں اور جن کے لیے وہ پیدا کیا گیا ہے۔ وہ اپنے خیال کو ہر کام کے انجام تک دوڑاتا ہے اور اس کے حال و مآل کے نتیجوں پر غور کرتا ہے اور اس فانی دنیا کے تھوڑے سے نفع اور فائدے کو اگر درحقیقت وہ نفع اور فائدہ اس کی سچی عاقبت کے خیال کے مخالف ہو، چھوڑ دیتا ہے۔ غرضیکہ اس کی تمام تدبیریں عمدہ ہوتی ہیں اس کا رویہ ایسے شخص کی مانند ہوتا ہے جو اپنا فائدہ بھی سمجھتا ہے اور اس کے حاصل کرنے کا مناسب طریقہ بھی جانتا ہے۔ سمجھ جس کو میں نے اس مضمون میں بطور ایک نیکی اور کمال کے بیان کیا ہے، وہ صرف دنیا ہی کے کاموں کے لیے مفید نہیں ہے، بلکہ ہماری ہمیشہ رہنے والی زندگی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ وہ صرف اس فانی انسان کے لیے ہی رہنما نہیں ہے، بلکہ اس اصلی نافانی انسان کے لیے بھی جو ہم میں بولتا ہے، رہنما ہے۔ بعض مصنف اسی کو عقل کہتے ہیں اور بعض سمجھ، یعنی تمیز جس سے اچھی و بری باتوں اور بھلائی و برائی میں امتیاز کیا جاتا ہے۔ حقیقت میں یہی چیز سب سے بڑی ہے۔ اس کے فائدے بے انتہا ہیں اور پھر اس کا ہاتھ آنا نہایت ہی آسان ہے۔
ایک مصنف کا قول ہے کہ سمجھ ہی ایسی رونق کی چیز ہے جس کو کبھی زوال نہیں۔ جو اس کو چاہتے ہیں آنکھوں کے سامنے دیکھتے ہیں، جو اس کو ڈھونڈتے ہیں وہ آسانی سے پاتے ہیں۔ اس کی تلاش میں ان کو بہت دور جانا نہیں پڑتا، کیونکہ وہ اس کو اپنے ہی دروازے پر پاتے ہیں۔ اس کا خیال رکھنا ہی اس میں کمال حاصل کرنا ہے۔ جو کوئی اس پر خیال رکھتا ہے اسی دم جستجو سے چھوٹ جاتا ہے، کیونکہ وہ خود ایسے لوگوں کی تلاش میں رہتی ہے اور جو اس کے لائق ہیں ان کو راستے ہی میں ملتی ہے اور پھر کبھی ان کا ساتھ نہیں چھوڑتی۔
افسوس کہ ہماری قوم میں سب کچھ ہے پر یہی نہیں۔
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.