
Глава 15 из 29
Дикая добродетель
Savage Virtue
وحشیانہ نیکی
انسان وحشیانہ طور پر ایک نیک کام کرتا ہے اور جو کہ وہ اصل میں نیک ہوتا ہے لوگوں کے دل میں بیٹھ جاتا ہے اور اس وحشیانہ پنے کی برائی جس وحشیانہ پن سے وہ کام ہوا آنکھوں سے چھپ جاتی ہے، مگر عمدہ تعلیم میں یہ اثر ہے کہ ان وحشیانہ حرکتوں کو چھڑا دیتی ہے اور صرف نیکی ہی نیکی رہ جاتی ہے۔
نقل ہے کہ ایک شخص کے پاس دو حبشی لڑکے تھے، جوان، نو عمر اور اپنی قسم کے لوگوں میں نہایت حسین اور خوبصورت اور آپس میں دونوں کے جانی دوستی اور دلی محبت تھی۔ اسی شخص کے پاس ایک حبشن نو عمر لڑکی بھی تھی جو اس قوم میں نہایت ہی خوبصورت سمجھی جاتی تھی۔ اتفاقاً وہ دونوں جوان لڑکے اس پر عاشق ہو گئے اور دونوں نے اس کو شادی کا پیغام دیا۔ جو کہ وہ دونوں نہایت خوبصورت بھی تھے اور دونوں کا مزاج بھی اچھا تھا اور ہم عمر بھی تھے، وہ لڑکی دونوں میں سے جس کے ساتھ شادی ہو راضی تھی، مگر اس نے یہ کہا کہ تم دونوں دوست آپس میں اس بات کا تصفیہ کر لو کہ دونوں میں سے کس کے ساتھ شادی ہو۔ دونوں لڑکے دل و جان سے اس پر عاشق تھے، عشق اس بات کی اجازت نہیں دیتا تھا کہ ایک تو اس سے شادی کر لے اور دوسرا محروم رہے اور دوستی بھی ان میں ایسی سچی تھی کہ ایک کو دوسرے کا رنج اور بغیر آپس کی صلاح اور بغیر آپس کی خوشی کے دونوں میں سے کسی کو شادی کر لینا پسند نہ تھا۔ آخرکار عشق اور دوستی میں جھگڑا ہوا۔ وہ چاہتا تھا کہ میں غالب آؤں اور وہ چاہتی تھی کہ میں فتح پاؤں، مگر کوئی جیت نہ سکا، دونوں برابر رہے۔ تب وہ دونوں لڑکے اپنی معشوقہ کو ایک دن جنگل میں لے گئے اور دونوں نے اس کو چھری مار کر مار ڈالا اور جب اس کا خون بہنے لگا تو دونوں اسے چاٹنے لگے۔ دونوں نے مردہ لاش کو خوب گلے لگایا اور دلی محبت سے اس کے دلفریب گالوں کا بے گنا بوسہ لیا اور پھر اس کی لاش کے گرد بیٹھ کر رونے اور پیٹنے لگے۔ خوب ماتم کیا، خوب چھاتی پیٹی اور پھر دونوں نے اپنے تئیں بھی مار ڈالا۔
اس عجیب واقعے سے انسان کے دل کے جوشوں کی جو تعلیم و تربیت سے شائستہ نہیں ہوئے عجیب و غریب حالتیں معلوم ہوتی ہیں۔ جو واقعہ کہ میں نے ابھی بیان کیا وہ حیرت اور گناہ سے بالکل بھرا ہوا ہے تو بھی ایسے نیک دل اور دلی ایمانداری سے سرزد ہوا ہے کہ اگر اس کی عمدہ طور سے تعلیم و تربیت ہوتی تو اس سے نہایت عمدہ عمدہ نتیجے حاصل ہوتے۔
انسان کا ایسے ملک میں پیدا ہونا یا وہاں جا کر رہنا اور تربیت پانا جہاں تعلیم و تربیت کا چرچا ہو اور علم و شائستگی پھیلی ہوئی ہو نہایت خوش قسمتی کی بات ہے۔ گو ان ملکوں میں ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جو ان حبشی لڑکوں سے کچھ بہتر نہیں ہوتے، مگر ایسے بھی ضرور ہوتے ہیں جن کو تعلیم و تربیت کے بے شمار فائدے حاصل ہوتے ہیں اور مختلف درجے کا اس میں کمال رکھتے ہیں۔
شائستہ ملک کی مثال مورت بنانے والے سنگ تراش کے کارخانے کی سی ہے کہ جب آدمی وہاں جاتا ہے تو دیکھتا ہے کہ ابھی تو کوئی پتھر اسی طرح ڈھونے کا ڈھوا ہی رکھا ہوا ہے اور کسی میں صرف ابھی ٹانگیں ہی بنی ہیں اور کسی میں ہاتھ پاؤں منہ سب کٹ چکا، مگر ابھی ان گھڑ ہے اور کسی میں انسان کے تمام اعضا درستی سے بن چکے ہیں، مگر صاف ہونے اور جلا ہونے باقی ہیں اور کوئی مورت نہایت خوبصورت اور دلربا بالکل بن کر تیار ہو چکی ہے۔ اس وقت انسان کے دل میں ضرور یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ وہ پتھر کا ڈھوا کہاں تک ترقی پا سکتا ہے اور ہر ایک ان گھڑ صورت سوائے شاذ و نادر کے آذر سے بت تراش کے ہاتھ سے نہایت خوبصورت یا قریب قریب خوبصورت کے ہو سکتی ہے۔
نامہذب ملک کی مثال منڈے پہاڑوں کی سی ہے جہاں بجز پتھر کے ڈھوؤں کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔ کوئی مثال ایسی نظر نہیں آتی جس سے انسان کو یہ خیال ہو کہ وہ کہاں تک ترقی کر سکتا ہے اور اس میں کیا چیز نہیں ہے جو وہ اب تک ان گھڑ پتھر کی مانند ہے۔ جو نیکیاں خود اس میں ہیں ان سے بھی وہ ناواقف ہے، کیونکہ وہ نیکیاں مثل پتھر کے ڈھوئے کے اس کے جگر میں چھپی ہوئی ہیں اور بے تعلیم و تربیت کے وہ ظاہر نہیں ہو سکتیں۔
یہی خیالات مجھ کو اس بات پر برانگیختہ کرتے ہیں کہ میں اپنی قوم کو مہذب قوم سے ملنے اور شائستہ ملک میں جانے کی ترغیب کرتا ہوں اور اس خیال سے ہمیشہ رنج میں رہتا ہوں کہ ہماری قوم میں جس قدر نیکیاں ہیں وہ بھی نامہذب ہیں۔ دنیاوی برتاؤ، آپس کا ملاپ، دوستوں کی دوستی، دینداروں کی دینداری، امیروں کی امیری نہایت ناشائستہ اور نامہذب طور سے واقع ہوئی ہے، اگر وہ عمدہ تعلیم و تربیت سے آراستہ ہو جاوے تو انسان کے لیے اس زندگی میں اور آنے والی زندگی میں دونوں میں نہایت ہی مفید ہو۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.