Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 8 sur 10

Act Two, Scene Seven

دوسرا ایکٹ، ساتواں سین

Agha Hashr Kashmiri

Écriture
Taille

دوسرا ایکٹ – ساتواں سین

(اندرون قلعہ کا دوسرا حصہ)

(دور کشت و خون کا ہنگامہ بہ گیر و بہ زن کا شور۔ آگ اور دھوئیں سے محصور گھروں کا نظارہ۔ـــ گُرد آفرید تکان سے نڈھال، زخموں سے چور، لہو میں شرابور، لڑکھڑاتی ہوئی داخل ہوتی ہے)

گُردآفرید: آزادی کا آفتاب تلواروں کی فضا میں خون سے رنگین افق پر آخری بار چمک کر غروب ہو گیا۔ دغا و خیانت نے قلعہ سفید کی قسمت کو غدار بہرام کا تیار کردہ سیاہ کفن پہنا دیا۔ (تلوار کو مخاطب کر کے) تلوار! پیاری تلوار!! میں غارت شدہ حیات قومی کا بقیہ، آتشِ افسردہ کا دھواں، کاروانِ رفتہ کا پس ماندہ غبار، ہنگامۂ تباہی کی آخری گونج ہوں۔ اس جسم سے روح کی علٰحدگی کا وقت بھی قریب آپہنچا ہے۔ جب تک موت ان دونوں کو جدا نہ کر دے، میری جوانی کا سنگھار، میرے ہاتھوں کا زیور، میری زندگی کی وفادار سہیلی، تو مجھ سے جدا نہ ہونا ـــــ ایک بار سہراب کے خون میں.... (جذبۂ محبت سے مغلوب ہو کر) آہ کیسا خوب صورت نام۔ کتنا شیریں نام!!۔ اس نام کو سنتے ہی یہ معلوم ہوتا ہے کہ دل کی دنیا میں محبت کے زمزموں کی بارش ہو رہی ہے۔ (خیال میں تبدیلی) محبت! کس کی محبت!! سہراب کی محبت؟ ـــــ خبردار۔ دل۔ خبردار۔ اگر تو نے تصور کے آئینے میں ملک و قوم کے دشمن کی محبت کا عکس بھی پڑنے دیا۔ تو میں تجھے سینے سے نکال کر پیروں سے مل کر، ذلت کی ٹھوکر مار کر بھوکے کتوں کے آگے پھینک دوں گی ـــــ آہ کیا تھا اور کیا ہو گیا!! انسانی اُمید اور انسانی زندگی کتنی بے حقیقت چیزیں ہیں۔ وقت کی گردش نے ثابت کر دیا کہ اُمید، تاریک فضا میں آسمان سے ٹوٹتے ہوئے ستاروں کی عارضی روشنی اور زندگی ہوائی لہروں میں بہتے ہوئے پرندے کے متحرک پروں کا زمین پر بھاگتا ہوا سایہ ہے۔

(تورانی سپاہیوں کے ساتھ بہرام کا داخلہ)

بہرام: تلاش کامیاب ہوئی۔ گرفتار کر لو۔ گُرد آفرید۔ میرے مشورے پر ہنسنے اور میری اہانت پر اظہار پسندیدگی کرنے والوں کی قسمت کا انقلاب دیکھا؟ ـــــ کہاں ہیں آزادی ملت کے فدائی؟ کہاں ہے تیرا قومی غرور؟ کہاں ہیں تیرے گرجتے ہوئے دعوے؟
دیکھ آئینے میں چہرہ زخم بھی ہے، خاک بھی
خون میں ڈوبا ہے دل بھی، جسم بھی، پوشاک بھی
گر رہے ہیں آنکھ سے آنسو تنِ صد پاش پر
رو رہی ہے کیوں کھڑی ہو کر وطن کی لاش پر

گُردآفرید: کیا تیری روح اہرمن کے دل کی تاریکی سے پیدا ہوئی ہے؟ کیا تیری پرورش ایرانی ماں کے دودھ کے عوض درندے کے خون سے کی گئی ہے؟ موذی، جلاد۔ اگر تیرے ایمان کی طرح، تیری بصارت و سماعت بھی غارت نہیں ہو چکی، تو دشمن کی ٹھوکروں کی ضرب سے زخمی ملک کی دردناک حالت دیکھ، اور ڈوب مر بندگی اور بے چارگی کی زنجیروں میں جکڑی ہوئی مادر وطن کی شرر بار فریاد سُن، اور شرم کر ـــــ اس خانماں ویرانی کا باعث، اس سیلاب ذلت کا منبع، اس طوفانِ ہلاکت کا مخرج، اس ناقابل عفو و ناقابل کفارہ جرم عظیم کا مجرم کون ہے؟ ـــــ تو ـــــ یہ جگر شگاف ماتمی آوازیں کسے ازلی و ابدی ملعون کہہ رہی ہیں؟ ـــــ تجھے ـــــ جن بہادروں نے حفاظت ملت کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ تک قربان کر دیا، کیا وہ تیرے قومی بھائی نہ تھے؟ جن شریف عورتوں نے فرض کی قربان گاہ میں اپنے شوہروں، بھائیوں، بچوں کی جانیں نثار کر دیں، کیا وہ ملکی بہنیں نہ تھیں؟ ـــــ اپنے بھائیوں کی زندگیاں، اپنی بہنوں کا سکون و آرام، اپنے مرزبوم کی سطوت و قہرمانیت لٹوا کر ندامت کے زخم سے مر جانے کے بدلے خوش ہو رہا ہے؟ ٹوٹے ہوئے دلوں، ذبح کی ہوئی اُمیدوں، خونِ جگر سے بھیگی ہوئی آہوں، سوختہ قسمت قلعہ سفید کی خاکسترِ برباد پر آنسو بہانے کے عوض دوزخ کے موکل کی طرح بے رحمی سے ہنس رہا ہے۔

بہرام: عداوت کے بازار کا سودا اتنے ہی گراں داموں پر بکتا ہے۔ تو نے مجھ سے میری نفرت مول لی تھی۔ یہ برگشتہ بختی اسی خرید کردہ نفرت کی قیمت ہے۔ یہ زبوں حالی میری جنسِ انتقام کا معاوضہ ہے۔

گُردآفرید: اگر تیرا دل مجھ سے انتقام لینے کے لیے بے قرار تھا، تو شریف دشمن کی طرح تلوار لے کر میرا مقابلہ کرتا۔ مقابلے کی جرأت نہ تھی تو کھانے میں زہر ملا دیتا۔ یہ بھی ممکن نہ تھا تو سوتے میں چھری بھونک دیتا۔ لیکن غریب ملک نے تیرا کیا قصور کیا تھا، جس قصور کی پاداش میں تو نے اس کے ہر گھر کو انسانوں کا مذبح اور ہر ذرے کو عظمت و عزت کا ماتم کدہ بنا دیا۔ تو سہراب کی نوازش کے سائے میں تباہ شدہ وطن کی خاک اور قوم کے زخمی دل کے خون سے اپنی دنیاوی جنت بنانا چاہتا ہے۔ لیکن اس جنت کا ہر پھول تیرے مجرم ضمیر کو سانپ بن کر ڈستا، اور یہ معصیت آباد ہمیشہ نفرت و لعنت کے زلزلوں سے کانپتا رہے گا۔ یاد رکھ، جرم کی زندگی اطمینان قلب کی موت اور گناہ کی بہار، روح کی خزاں ہے۔
راحت عصیاں سے بڑھ کر رنج عالم میں نہیں
وہ جلن اس آگ میں ہے، جو جہنم میں نہیں

بہرام: (ہمراہیوں سے) کیا دیکھتے ہو؟ ـــــ گرفتار کرو ـــــ یا قتل کر دو۔

(سپاہی چاروں طرف سے یورش کرتے ہیں۔ گُرد آفرید شکاریوں کی برچھیوں کے حلقے میں محصور شیرنی کی طرح ہر ایک کے حملے کا جواب دیتی ہے)

بہرام: میرے گرسنہ انتقام کا آخری نوالہ۔

(پیچھے سے گُرد آفرید کی پیٹھ میں خنجر بھونک دیتا ہے)

گُردآفرید: آہ ـــــ دغاباز ـــــ مار آستین۔ (گرتے گرتے پلٹ کر دونوں ہاتھوں سے بہرام کا گلا پکڑ لیتی ہے) اتنے گناہ کر چکا تھا۔ یہ آخری گناہ نہ کرتا تو کیا دوزخ کے دروازے تیرے لیے بند ہو جاتے؟ کتے، تجھے زندہ رکھنا کمینہ پن کی عمر میں اضافہ کرنا ہے۔ تیرا ایمان مر چکا۔ انسانیت مر چکی۔ تو بھی مر..... (غصے میں جان لینے کے ارادے سے گلا دباتی۔ پھر رک جاتی ہے) مگر نہیں ـــــ تو بدفطرت ہے۔ نمک حرام ہے۔ سنگ دل ہے۔ قاتل ہے۔ دنیا کی بدترین مخلوق ہے۔ سب کچھ ہے، پھر بھی میرا ہم وطن ہے ـــــ (گلا چھوڑ دیتی ہے) جا ـــــ قوم پرستوں کے مذہب میں بدی کا بدلہ بدی نہیں ہے۔ میں اپنے وطن کی عزت کے صدقے میں تجھے اپنا خون معاف کرتی ہوں۔

(گُرد آفرید زمین پر گرتی ہے۔ سہراب کا داخلہ)

سہراب: یا خدا ـــــ میں کیا نظارہ دیکھ رہا ہوں! قفس خاکی کی رنگیں نوا فاختہ، پیکر شجاعت کی حسین روح، شعلہ حُسن کی تجلی، خون میں ڈوبی ہوئی ہے!!۔ افسانہ عزت کا عنوان، صحیفہ حریت کا سرنامہ، جرأت نسوانی کی تاریخ کا ورق زریں خاک پر پڑا ہوا ہے!!! (گُرد آفرید کا سر زانو پر رکھ کر) آفرید ـــــ پیاری آفرید ـــــ آنکھیں کھولو ـــــ میں تمھیں بے وفائی کا الزام دینے کے لیے نہیں اپنی وفاداری کا یقین دلانے آیا ہوں۔ تمھارا تبسم ناز میری پرستش کا صلہ ہے۔ کیا ناکام محبت کو اپنے لب نازک سے تسکین نہ دوگی؟ ـــــ کیا اپنی مسکراہٹ سے میرے دل کی تاریکیوں میں امید کی صبح پیدا نہ کروگی؟

گُردآفرید: (آنکھیں بند کیے ہوئے نیم بیہوشی کے عالم میں) کس کی آواز! ـــــ ستاروں کا گایا ہوا نغمہ آسمانی ـــــ زمین پر ـــــ کون گا رہا ہے؟

سہراب: تمھارا شیدائی، تمھارا پرستار سہراب۔

گُردآفرید: (آنکھیں کھول کر) تم ـــــ تم ـــــ اوہ ـــــ مرنا بھی مشکل ہو گیا ـــــ (جوش محبت سے اٹھنے کی کوشش کرتی ہے اور گر پڑتی ہے) آؤ ـــــ پیارے سہراب، آؤ ـــــ تمھیں دیکھ کر دل میں زندہ رہنے کی تمنا پیدا ہو گئی۔ لیکن اب تمنا کا وقت نہیں رہا۔ عدم کے مسافر کا سامان بندھ چکا ہے ـــــ زندگی کے نظارے اسے ہمیشہ کے لیے رخصت کر رہے ہیں ـــــ میرے دل کے مالک ـــــ میرے فرض نے مجھے بے مروت بننے کے لیے مجبور کر دیا تھا ـــــ حق وطن کا مرتبہ عشق سے بلند تر ہے ـــــ اس لیے مجھے معاف کرو ـــــ اور جو ہوا ـــــ اُسے بھول جاؤ ـــــ موت کے دروازے پر دنیا کی دوستی و دشمنی ختم ہو جاتی ہے۔

سہراب: پیاری آفرید، تم نے دنیائے فرض کی ایک جدید حقیقت اور عورت کے دل کی عظمت کا ایک عظیم الشان راز ظاہر کر کے وہ بوجھ دور کر دیا جس سے میری روح پاش پاش ہوئی جا رہی تھی ـــــ میرا خیال تھا کہ تم مجھے اپنی محبت کا مستحق نہیں سمجھتیں، اس لیے اس قدر جوش مخالفت کے ساتھ جنگ کر رہی ہو۔

گُردآفرید: آہ تمھیں کیا معلوم کہ عشق و فرض کی کشمکش میں میری روح نے کتنے عذاب برداشت کیے ہیں ـــــ کتنے طوفان، کتنے زلزلوں سے تنہا وقف پیکار رہی ہے۔ صدمہ نہ کرو ـــــ دوست اور دشمن ہم نام ہیں۔ اس لیے ہمیں دھوکا ہوا ـــــ میں نے اپنے پیارے سہراب سے نہیں، اپنے ملک کے مخالف سے جنگ کی ہے۔

سہراب: آہ۔ ان لفظوں میں کتنا ترنم اور کتنی امید نوازی ہے ـــــ قسمت کی ستم ظریفی دیکھو۔ تسکین کے پیاسے کو راحت کا آب حیات بھی پلا رہی ہے اور جدائی کا زہر بھی۔

(یکایک جوش غضب میں اُٹھ کھڑا ہوتا ہے)

سہراب: (سپاہیوں سے) کیا میری زبان کے واضح الفاظ معنی و مفہوم سے تہی دست تھے ـــــ میرے حکم سے بے پروا ہو کر دنیا کی یہ سب سے زیادہ قیمتی زندگی کس نے برباد کی؟

بہرام: (فخریہ لہجے میں) میں نے ـــــ

سہراب: تو نے! ـــــ ایک ایرانی نے!! ـــــ گُرد آفرید کے ہم قوم و ہم وطن نے!!! کس لیے؟

بہرام: اس لیے کہ یہ میرا خیر خواہانہ فرض تھا۔ اس لیے کہ وہ تورانیوں کی دشمن تھی اور میں توران کا دوست ہوں۔

سہراب: تو کتنا بے حیا، کتنا بداصل، کتنا قابلِ نفرت ہے ـــــ مرقع شجاعت کی جس تصویر فدائیت نے ملک و قوم کی آبرو پر اپنی محبت، راحت، اُمید، زندگی کی ہر بیش بہا شے قربان کر دی۔ اس کے سینے میں ـــــ اس سینے میں ـــــ جو عشق وطن سے معمور ہو رہا تھا، خنجر بھونکتے وقت تیرے دل نے تجھ پر لعنت نہ کی؟ تیرا ہاتھ قبضے تک پہنچنے سے پیشتر مفلوج نہ ہو گیا؟ ـــــ سگِ دنیا! تیرے جسم کے ہر ذرے نے جس ایران کے نمک سے پرورش پائی ہے، جب تو نے اس محسن ایران سے وفاداری نہ کی۔ تو تو توران کا کب دوست ہو سکتا ہے ـــــ جس منھ سے اپنے کو تورانیوں کا دوست کہتا ہے ـــــ میں اُس ذلیل منھ پر تھوکتا ہوں ـــــ تیرے رہنے کی جگہ ـــــ دنیا نہیں ـــــ دوزخ ہے ـــــ

(بہرام کے سینے میں خنجر بھونک دیتا ہے)

بہرام: دنیا کے لیے عاقبت خراب کی تھی۔ لیکن گناہ نے فریب دے کر عاقبت بھی تباہ کی اور دنیا بھی۔ (مر جاتا ہے)

گُردآفرید: فرشتے روشنی کی چادر میں لپٹے۔ پھول اور نغمے بکھیرتے ہوئے آہستہ آہستہ زمین پر اتر رہے ہیں ـــــ دنیا عالم نور سے بدل رہی ہے ـــــ مرکز اصلی کی طرف مائل پرواز روح کے لیے ـــــ آسمان کا دروازہ کھل گیا ہے ـــــ کس نے پکارا؟ ـــــ زندگی کے دروازے پر کون دستک دے رہا ہے؟ ـــــ موت ـــــ تو ہے؟ میں نہیں سمجھتی تھی کہ تو اتنی خوبصورت ہوگی ـــــ الوداع پیارے وطن ـــــ الوداع پیارے سہراب۔ الوداع۔
نہیں معلوم راز مرگ دنیا کے طبیبوں کو
اگر فرصت ملے تو یاد کرنا بدنصیبوں کو

(آخری ہچکی لے کر دنیا سے رخصت ہو جاتی ہے)

سہراب: ٹھہر ـــــ اے حسین مسافر، ٹھہر ـــــ تو کارگاہ تمنا کو خرابۂ یاس۔ ایوان نشاط کو ماتم سرا، جلوہ زار ہستی کو مسکنِ ظلمت بنا کر کہاں جا رہی ہے؟ واپس آ ـــــ اے نامعلوم منزل کی رہرو، واپس آ۔ تیرے جانے کے بعد دنیا میں حرف فریاد اور آنسوؤں کی آبادی رہ جائے گی۔ آفتاب و مہتاب، آسمان کے دل کے داغ، تارے رات کے جگر کے آبلے اور رنگین پھول زمین کے جسم کے زخم معلوم ہوں گے۔ (دیوانہ وار پکارتا ہے) آفرید ـــــ آفرید ـــــ آفرید ـــــ اے جمال ناطق۔ اے حسن گویا۔ تو کیوں خاموش ہو گیا۔ تو کیوں بے کسی کی پکار کا جواب نہیں دیتا۔ کیا میرے لیے اب تیرے پاس محبت کی ایک مسکراہٹ، تسکین کا ایک حرف بھی نہیں ہے؟ ـــــ ہائے کون جواب دے؟ پھول ہے، خوشبو نہیں۔ مکان ہے، مکیں نہیں۔ سلطنت ہے ملکہ نہیں ـــــ (گُرد آفرید کی لاش سے مخاطب ہو کر) قدرت نے کائنات سے اپنا عطیۂ عظمت واپس لے لیا۔ دنیا کا حُسن بہشت کے اضافۂ جمال کے لیے بلا لیا گیا۔ زمین کے چہرۂ فخر کا جلال، تاریکی عدم کو مطلع نور بنانے کے لیے چلا گیا ـــــ اے ملکۂ جمال تو نے فرض پر عشق کو اور ملک پر زندگی کو قربان کر کے حیاتِ ابدی حاصل کر لی۔ ایران کی آئندہ نسلیں تیرے ثبات و استقلال کے حیرت آفریں کارناموں پر فخر کریں گی ـــــ ایران کی لڑکیاں تیری بہادری کے گیتوں سے اپنی زندگیوں کو مبارک بنائیں گی ـــــ ایران کی تاریخ ایثار کے حرف تیرے پُر جبروت نام کی تجلی سے صفحۂ دنیا پر آفتاب ماہتاب بن کر چمکتے رہیں گے ـــ اے پژمردہ بہارِ آفرینش، اے افسردہ شعلۂ وطن پرستی، اے خوابیدہ طوفانِ شجاعت، میں تیرے قدموں کو الوداعی بوسہ دیتا ہوں ـــ یہی اولین ـــ اور یہی آخری بوسہ محبت ہے۔

(روتا ہوا گرد آفرید کے پیروں پر گر پڑتا ہے)

(پردہ)

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.