Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 9 sur 10

Act Three, Scenes One to Three

تیسرا ایکٹ، پہلا تا تیسرا سین

Agha Hashr Kashmiri

Écriture
Taille

تیسرا ایکٹ – پہلا سین

سہراب کے لشکر کی چھاونی

(ہومان، بارمان، تورانی سردار اور سپاہی اپنی کامیابیوں کا جشن منا رہے ہیں)

ہومان: بادل کے محل میں سنہری پشواز پہن کر بجلی ناچ رہی ہے۔

بارمان: کل تلوار کی تان پر موت کا ناچ بھی شروع ہوجائے گا۔

سردار ۱: صرف ناچ؟

ہومان: گانا بھی۔

سردار ۲: کون گائے گا؟

ہومان: زندگی۔

سردار ۲: کیا گائے گی؟

ہومان: فنا کا گیت۔

سردار ۱: زندگی تو غم اور خوشی کے سروں سے بنا ہوا خود ایک دلچسپ گیت ہے۔

سردار ۲: ٹھیک کہا۔ اور یہ گیت مزا اس وقت دیتا ہے جب اسے شراب کا پیالہ ہاتھ میں لے کر گایا جائے۔

سردار ۳: (پیالہ بڑھا کر) لیجیے۔ ہونٹوں کی مضراب سے روح کے ستار میں زندگی کی راگنی بجائیے۔

سردار ۱: اہا ہا۔ ـــ شراب ناب کے جلووں سے ساغر میں اُجالا ہےہزاروں چودھویں کے چاند ہیں اور ایک ہالا ہے

سردار ۲:
یہ وہ شے ہے گرے تو خاک سے اکسیر پیدا ہو
ہر اک قطرہ سے اک اک حُسن کی تصویر پیدا ہو

تیسرا ایکٹ – دوسرا سین

کیکاؤس کا دربار

(کیکاؤس تخت پر بیٹھا ہے۔ غصے سے چہرہ خوفناک اور آنکھیں لال ہورہی ہیں)

کیکاؤس: جس کیکاؤس کے ابرو پرشکن دیکھ کر دنیا گنہگار غلام کی طرح کانپ کر سجدے میں گرجاتی ہے۔ جس کے قہر کے حضور میں طوفان سے زیادہ طاقت ور اور زلزلے سے زیادہ خوفناک انسان دو زانو ہو کر رحم کی بھیک طلب کرتے ہیں۔ اس کے غضب سے یہ بے پراوئی!۔ اُس کے حکم سے یہ سرتابی!!۔ کوئی وہ فرماں بردار نہیں فرماں روا ہے۔ ایران کا خادم نہیں ایران کا آقا ہے ـــ رستم۔ مغرور رستم، تیری روح میں بغاوت کا مرض پیدا ہوگیا ہے۔ میرا شاہی مرتبہ یہ جرأت اور گستاخی کبھی برداشت نہیں کرسکتا۔

گودرز: جہاں پناہ۔ خانہ زاد کی جاں بخشی ہو۔ آپ غصے میں غلط رائے قائم کر رہے ہیں ـــ رستم سے اس وقت تک کوئی ایسا قصور سرزد نہیں ہوا کہ اس کی بے داغ جاں نثاری پر شبہ کیا جائے۔ دنیا میں دو چیزیں ہمیشہ اپنی روشنی سے چمکتی رہیں گی۔ آسمان پر آفتاب اور زمین پر رستم کی وفاداری۔

کیکاؤس: دھوکا نہ کھاؤ۔ تم اوپر کا ملمع دیکھ کر پیتل کو سونا سمجھ رہے ہو۔

گودرز: غلام کی یہ گذارش ہے کہ تورانی لشکر ہمارے قلعوں، شہروں، صوبوں کو فتح کرتا اور حریف طاقتوں کو روندتا ہوا شاہی پایۂ تخت کے سامنے پہنچ کر بھوکے شیروں کے جھنڈ کی طرح گرج رہا ہے۔ سہراب جیسے خوفناک دشمن کے مقابلے میں اس وقت ایران کو رستم کے مشورے، مدد اور تلوار کی سخت ضرورت ہے۔ اس لیے اسے ناراض کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگر وہ آنے کے بعد رنج و غصہ سے واپس چلا گیا تو ایران اپنے سب سے بڑے خیرخواہ اور سب سے بڑے سپاہی کی خدمت سے محروم ہوجائے گا۔

طوس: جلالت مآب۔ رستم کا نعرۂ جنگ سنتے ہی مردہ ہمتیں زندہ ہوجاتی ہیں۔ ـــ
ڈر نہیں کچھ بھی اگر ہو سارا عالم اک طرف
لاکھ لشکر اک طرف ہوں اور رستم اک طرف
سلطنت کی آبرو ہے، ملک کا اقبال ہے
وہ ہمارے بازوؤں کا زور سر کی ڈھال ہے

کیکاؤس: جنگ میں شرکت ہی کے لیے میں نے خط لکھ کر اسے طلب کیا تھا۔ لیکن اس کا زابل سے ایران نہ آنا، کیا ثابت کر رہا ہے؟ ـــ یہی کہ تمھاری خوشامد اور تعریفوں نے اسے مغرور بنا دیا ہے۔ وہ تم سب کی ہستیوں کو، میری مہربانیوں کو اور اپنی حقیقت کو فراموش کرچکا ہے۔ ـــ
سمجھتا ہے کہ بجھ سکتا نہیں ہرگز چراغ اس کا
اسی سے بڑھتا جاتا ہے غرور اس کا دماغ اس کا

(رستم کا داخلہ)

رستم:
اے تاج بخش، باج ستاں، شاہ کامگار
اے ملک گیر، قلعہ شکن، شیر کارزار
تو حسن کائنات ہے، تو فخر روزگار
قسمت ہو زیر حکم، ظفر زیر اختیار
جب تک فلک پر جلوۂ شمس و قمر رہے
اس تاج کی ضیا سے جہاں میں سحر رہے

(کیکاؤس غصے سے دوسری طرف منھ پھیر لیتا ہے)

کیکاؤس: (اپنے آپ میں) جھوٹا ـــ ریا کار۔

رستم: خاقان عالم، غلام حاضر ہے۔ ـــ
جب تک خدا کے نور سے روشن ہیں صبح و شام
برتر ہو آسمان سے اس تخت کا مقام
ایران کی اطاعت و خدمت کے واسطے
حاضر ہے دست بستہ شہنشاہ کا غلام

کیکاؤس: تو صرف ہونٹوں سے اپنے کو غلام کہہ کر میرے غصے اور میرے اختیار کا منھ چڑھاتا ہے۔ طلبی کا خط ملنے کے بعد بھی فوراً حاضر ہونے کے بدلے میرے حکم سے بے پروائی برتنا، کیا یہی فرض شناس غلاموں کا طریقہ ہے؟ یہ غلامی نہیں نمک حرامی ہے۔

رستم: رستم اور نمک حرام!۔ خداوند نعمت، میرے کانوں نے آج تک ایسے ذلیل لفظ نہیں سنے۔ جو رستم ایران کی اطاعت کو اپنا فرض، ایران کی خدمت کو اپنا مذہب اور ایران کی محبت کو اپنا ایمان سمجھتا ہے۔ اُسے نمک حرام کہہ کر آپ اپنی مردم شناسی اور قدر دانی کا ثبوت دے رہے ہیں؟ ـــ
صلہ اچھا ملا مجھ کو مری خدمت گزاری کا
یہی انعام ہے کیا عمر بھر کی جاں نثاری کا

کیکاؤس: اب تک میری آنکھوں پر تیری بناوٹی وفاداریوں نے پردہ ڈال رکھا تھا۔ آج وہ پردہ ہٹ گیا۔ اب میں تجھے تیری اصل شکل میں دیکھ رہا ہوں۔ ـــ
عیاں ہر حرف ہے مجھ پر ترے دل کے نوشتے کا
مجھے دھوکا نہ دے تو روپ بھر کر اک فرشتے کا

رستم: بس۔ جہاں پناہ۔ بس۔ کیا حضور نے سر بازار مجھے ذلیل کرنے کے لیے زابل سے ایران میں طلب کیا ہے؟ ادب اور برداشت کی بھی حد ہوتی ہے۔ ـــ میں بھی اپنے سینے میں رکھتا ہوں دل انسان کا
دھیان رکھیے اپنے رتبے اور اپنی شان کا
کیا کہوں۔ دیتا ابھی پتھر سے پتھر کا جواب
شرم آتی ہے کہ کھایا ہے نمک ایران کا

کیکاؤس: تیری بے خوفی اور سرکشی دیکھ کر یہ معلوم ہوتا ہے کہ گویا ایران میں دو بادشاہ حکومت کر رہے ہیں۔ آج تیرے غرور کی تجھے سزا دے کر ثابت کروں گا کہ ایران کا بادشاہ رستم نہیں، کیکاؤس ہے۔

رستم: تب میں بھی یہ کہنے کے لیے مجبور ہوں کہ کیکاؤس کی سلطنت اور کیکاؤس کا تاج رستم ہی کی تلوار اور بازو کی مدد سے ابھی تک اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اگر اس دل میں بادشاہ بننے کی خواہش ہوتی، تو آج ایران کا تاج کیکاؤس کے سر پر نہیں، رستم کے سر پر دکھائی دیتا۔ لیکن میرا کام بادشاہ بننا نہیں بادشاہ بنانا ہے۔ میں تاج پہنتا نہیں، تاج بخشتا ہوں۔ ـــ
تکا کرتے ہیں میری مہربانی کی نگاہوں کو
میں وہ ہوں، بھیک میں دیتا ہوں تاج و تخت شاہوں کو

کیکاؤس: یہ سلطنت کا مجرم ہے ـــ گرفتار کر لو ـــ خاموش کھڑے ہو! ـــ کیا میرا حکم نہیں سنا؟ ـــ قید کرو۔

رستم: ناعاقبت اندیش کیکاؤس، اپنی عقل کی تاریکی سے کیانی تاج کی چمک کم نہ کرو۔ آج مجھے معلوم ہوگیا کہ جس تخت پر کیومرث، ہوشنگ، طہمورث، جمشید، فریدون، منوچہر، نوذر، کیقباد جیسے دانا و بینا بادشاہ بیٹھ کر دنیا میں ایران کا نام روشن کرچکے ہیں، تم اس مسند عزت، اس شاہی تخت پر ہرگز بیٹھنے کے لائق نہیں ہو۔ ـــ
سلطنت ایران کی پائی، سمجھ پائی نہیں
ایک بچے کے برابر تم میں دانائی نہیں
راستہ کوئی دکھا سکتا نہیں بدبخت کو
لو چلا میں۔ اب بچاؤ، اپنے تاج و تخت کو

(رستم غصے میں چلا جاتا ہے)

گودرز: اعلیٰ حضرت۔ تباہی سہراب کی شکل میں دروازے پر موجود ہے۔ تہمتن کو واپس بلائیے۔

کیکاؤس: کبھی نہیں۔ رستم ایران سے چلا گیا، تو کیا ایران کی زمین غلہ نہ اگائے گی۔ ایران کا آسمان پانی کے بدلے زہر برسائے گا۔ ایران میں آفتاب و ماہتاب طلوع نہ ہوں گے۔ ایرانی تاج کے تابناک الماس، چمکتے ہوئے ہیرے کنکر، سنگ ریزے، پتھر بن جائیں گے۔ میں رستم کو کوئی چیز نہیں سمجھتا۔ رستم کی عزت ایران سے ہے۔ ایران کی عزت رستم سے نہیں ہے۔

طوس: ایک بار پھر غور کیجیے۔

کیکاؤس: ضرور نہیں۔

طوس: افسوس۔ آپ نے آدھی دنیا فتح کر لی۔ لیکن اپنے غصے کو فتح نہ کر سکے۔

کیکاؤس: بس ـ خاموش۔

(غصے میں خنجر لے کر تخت سے اتر آتا ہے۔ طوس سر جھکا دیتا ہے۔ گودرز کیکاؤس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے۔ درباری حیرت سے دیکھتے رہ جاتے ہیں)

تیسرا ایکٹ – تیسرا سین

چھاونی

(رات کا وقت۔ دور ایرانی اور تورانی لشکروں کے خیمے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہومان، بارمان اور ہجیر کے ساتھ سہراب کا داخلہ)

سہراب: ہجیر۔ تم میری قید سے رہائی چاہتے ہو؟

ہجیر: چاہتا ہوں۔ لیکن ایک شرط سے۔ ایران میرا وطن ہے، میں آپ کا شریک ہو کر ایران کے خلاف تلوار نہیں اٹھاؤں گا۔

سہراب: قوم کی جاں نثار گرد آفرید کی طرح جس ایرانی کے دل میں وطن کی محبت نہیں ہے، میں خود اسے دنیا کی سب سے ذلیل ہستی سمجھتا ہوں ـــ اچھا تو میں تمھیں رہائی دوں گا۔ عزت، دولت، عہدہ اور جاگیر بخشوں گا ـــ اور آج سے اپنا عزیز ترین بھائی سمجھوں گا۔ صرف اتنا بتادو..... (ہجیر کو سوچ میں ڈوبے دیکھ کر) سنتے ہو؟

ہجیر: (چونک کر) سن رہا ہوں۔

سہراب: کیا واقعی رستم اس لشکر میں نہیں ہے؟

ہجیر: میں نے ایرانی لشکر کا ایک ایک کونہ، ایک ایک خیمہ، ایک ایک سردار کا چہرہ آپ کو دکھا دیا اور ان سرداروں کے نام، رتبے اور عہدے سے بھی واقف کر دیا۔ تعجب ہے کہ پھر بھی آپ میری سچائی پر شک کر رہے ہیں۔

سہراب: بے شک میں نے بھیس بدل کر رات کی تاریکی میں تمھارے ساتھ ایرانی فوج کا پوری طرح جائزہ لیا۔ لیکن میرا دل گواہی دے رہا ہے کہ وہ ضرور موجود ہے۔ ہجیر۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ رستم کو پہچاننے میں تمھاری آنکھوں نے غلطی کی ہو؟

ہجیر: میں رستم کو ایک بار نہیں سینکڑوں بار دیکھ چکا ہوں ـــ میری نظر ابھی اتنی کمزور نہیں ہے کہ دیکھی ہوئی صورت کو بھی نہ پہچان سکوں۔

سہراب: تو پھر تسلیم کرلوں کہ وہ زابل سے ایران کی مدد کے لیے نہیں آیا؟

ہومان: مجھے جاسوس سے اطلاع ملی ہے کہ رستم اس جنگ میں کیکاؤس کی مدد کے لیے آیا تھا۔ لیکن کیکاؤس نے سر دربار اس کی بے عزتی کی اور وہ بے انتہا ناراضی اور غصے کے ساتھ اپنے ملک کو واپس چلا گیا۔

سہراب: ایک طرف اِن کی آواز اور ایک طرف دل کی آواز۔ کس آواز کو سچائی کی آواز سمجھوں!!

ہجیر: (اپنے آپ سے) اگر سہراب نے رستم کی جان کو نقصان پہنچایا تو میرے ایران کی کون حفاظت کرے گا؟ ـــ نہیں۔ سچائی کو اندھیرے سے روشنی میں نہ آنے دوں گا۔

سہراب: دیکھ ہجیر۔ جس طرح رات کے وقت شکار کی تاک میں بیٹھے ہوئے بھیڑیے کی آنکھیں اندھیرے میں چمکتی ہیں۔ اسی طرح مجھے تیری نگاہوں میں بھی ایک عجیب و خوفناک چمک دکھائی دیتی ہے۔ ''رستم نہیں ہے'' یہ کہتے وقت ہوا سے ہلتے ہوئے تنکے کی طرح تیرے ہونٹ کانپ اٹھتے ہیں اور پیلے پتے کی طرح تیرا چہرہ زرد ہو جاتا ہے۔ (گریبان پکڑ کر) خبردار مجھے دھوکا نہ دینا۔ ورنہ قسم ہے تلوار کی کہ تیرے خون کو موری میں بہتے ہوئے پانی سے بھی زیادہ حقیر سمجھوں گا۔ آگے بڑھ ـــ اب دنیا میں تیرے لیے دو ہی چیزیں رہ گئی ہیں، سچا ثابت ہوگیا تو رہائی ـــ اور جھوٹا ثابت ہوا تو موت۔

(ہجیر کا ہاتھ پکڑ کر کھینچ لے جاتا ہے)

بارمان: جب سہراب رستم کے خیمے کے پاس پہنچ کر نہایت غور سے اس کے چہرے کو دیکھنے لگا، اس وقت مجھے اندیشہ ہوا کہ ضرور خون کا جوش خون کو پہچان لے گا۔ لیکن شاباش ہے ہجیر کو۔ کہ اُس کے ایک جھوٹ نے باپ بیٹے کے بیچ میں سینکڑوں پردے حائل کر دیے۔

ہومان: لیکن مجھے یہ نہ معلوم ہوسکا کہ کیکاؤس کے دربار سے خفا ہو کر چلے آنے کے بعد، رستم دوبارہ کیکاؤس کی اعانت کے لیے کس طرح رضامند ہوگیا

بارمان: کیکاؤس نہایت غصہ ور اور جلد باز بادشاہ ہے۔ جوش کم ہونے کے بعد اسے اپنی غلطی معلوم ہوئی۔ آخر اس کے اظہار ندامت اور طوس و گودرز کے سمجھانے سے رستم اپنا ارادہ بدل دینے کے لیے مجبور ہوگیا۔

ہومان: اپنے بادشاہ افراسیاب کی آرزو پوری کرنے کے لیے کوشش کرو کہ اس جنگ کے آخر تک باپ بیٹے ایک دوسرے کو نہ پہچان سکیں۔ توران کی سلامتی کے لیے رستم اور سہراب دونوں کو ـــ اور دونوں نہیں تو ایک کو مرنا ہی چاہیے۔ ورنہ یہ مل کر ساری دنیا کو ایران اور کیکاؤس کا غلام بنا دیں گے۔

(دونوں چلے جاتے ہیں)

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.