Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 7 sur 10

Act Two, Scenes Five and Six

دوسرا ایکٹ، پانچواں اور چھٹا سین

Agha Hashr Kashmiri

Écriture
Taille

دوسرا ایکٹ – پانچواں سین

(قلعۂ سفید کا دروازہ)

(ہومان، بارمان اور سردارانِ فوج مع لشکر موجود ہیں)

ہومان: دنیا کے حربوں میں سب سے زیادہ خوفناک حربہ عورت کا حُسن ہے۔

بارمان: اور حُسن ہی کا دوسرا نام عورت کی فتح ہے۔

ہومان: یہاں بھی حسن و عشق کا معرکہ کارزار شروع ہو گیا ہے۔

بارمان: پہلی جنگ میں گُرد آفرید کو شکست ہوئی تھی۔ اس جنگ میں سہراب کی شکست ہوگی۔

(از خود رفتہ حالت میں سہراب کا داخلہ)

سہراب: محبت! محبت!! تو زندگی کی حلاوت ہے، دل کی جنت ہے، روح کا نشہ ہے، دنیا کا حسن ہے، عروسِ آفرینش کا سنگھار ہے، دوشیزۂ فطرت کے رنگینیٔ شباب کی فردوس آفرینی ہے۔
زندہ ہے تجھ سے روح طرب کائنات میں
تو نغمہ ازل ہے، ربابِ حیات میں
آسودگیٔ روح، نشاطِ نظر نہیں
دنیا میں کچھ نہیں ہے، محبت اگر نہیں

ہومان: اے ضیغمِ توران! ـــــ آپ معبد عشق میں حسنِ نسوانی کے بت رعنا کے روبرو اظہار عبودیت کے لیے ایران نہیں آئے ہیں۔ـــ اپنا عہد و ارادہ یاد کیجیے ـــــ میدان مبارزت میں محبت کی فتح یابی، تورانیوں کی فتح نہیں ہے۔

بارمان: میری بھی یہی گزارش ہے کہ اس ارضِ دار و گیر، اس ہستی و عدم کی درمیانی زمین پر آپ کے ولولۂ حرب و ضرب کو صنم پرستی میں مشغول دیکھ کر تمام تورانی لشکر چشم حیرت بن گیا ہے۔ معاف کیجیے گا ـــــ محبت ناکاروں کا مشغلۂ بیکاری اور محبت کے لفظ کی تکرار بیمار عقل کا ہذیان ہے۔

سہراب: تم پتھر ہو، سرد ہو، بے کیف ہو۔ زندگی کی بہترین لذت سے محروم ہو۔ تمھارے دل میں محبت کی حِس ہوتی تو تم بھی اقرار کرتے کہ دنیا کا نور عورت کا حسن ہے اور حُسن کا حُسن گُرد آفرید ہے۔

ہومان: افسوس!

سہراب: افسوس ان کے لیے ہے جو محبت کے آب حیات کو زہر سمجھتے ہیں (قلعے کے پھاٹک کے قریب جا کر) تعجب! ابھی تک دروازہ بند ہے!!

بارمان: اور دنیا کے خاتمے تک بند ہی رہے گا۔

سہراب: کیوں؟

ہومان: تاکہ دنیا پر ثابت ہو جائے کہ آپ نے گُرد آفرید کی نمائشی، مصنوعی، پُر فریب محبت پر یقین کر کے، ناقابلِ تلافی غلطی کی ہے۔

سہراب: خبردار! ـــــ تم میرے یقین کو دیوانگی کہہ سکتے ہو، میری آنکھوں کو الزام دے سکتے ہو۔ میرے دل کو اپنی زبان سے مجروح کر سکتے ہو۔ لیکن گُرد آفرید کی محبت کو، جھوٹی محبت کہنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ تم نے ان پھول کی پنکھڑیوں سے شہد ٹپکتے نہیں دیکھا۔ ایسے خوبصورت ہونٹ، کبھی جھوٹ نہیں بولتے۔

بارمان: اے دام فریب کے خوش اعتقاد اسیر، اب بھی اپنی غلطی کا اعتراف کیجیے۔ دشمن کے جنگی قلعے کا دروازہ عورت کے وعدوں سے نہیں، زور بازو سے کھلتا ہے۔

(فصیلِ قلعہ پر گُرد آفرید دکھائی دیتی ہے)

سہراب: (ہومان و بارمان سے) وہ دیکھو۔ اُدھر دیکھو، اور اپنے قیاس کی ناتواں بینی پر نادم ہو۔
کہتے تھے تم کہ مرہم زخم نظر نہیں
دنیائے انتظار میں شب ہے، سحر نہیں
ہر ذرہ چشم شوق ہے، ارمانِ دید میں
پھیلا ہوا ہے نور فضائے اُمید میں
(بیتابانہ دیوار قلعہ کے نزدیک جا کر) پیاری آفرید۔ روح سے قریب ہو کر اب اس قدر دور کیوں ہو؟ فصیل قلعہ سے جلووں کی بارش ہو رہی ہے، لیکن اس سے تشنہ تمناؤں کی تسکین نہیں ہو سکتی۔
(ہومان اور بارمان کی طرف اشارہ کر کے)
بجلی گرا دے ان کے خیال اور یقین پر
آ۔ میرے دل کے چاند، اتر آ زمین پر

گُردآفرید: زمین کی لعنت! دنیا ظلم فروشی کا بازار، غلام سازی کا کارخانہ، وقار انسانیت کی قتل گاہ، عزت نفس کا مذبح نہیں ہے۔ ہوا، پانی روشنی کی طرح خدا کی عطا کردہ بے شمار نعمتوں میں سے آزادی بھی ایک نعمت ہے۔ ہر خطۂ دنیا اسے قدرتی ورثہ اور ہر انسان اسے اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے۔ ایرانی قوم نے تیرے ملک کی آزادی، دولت، صنعت، حرفت، تجارت، دنیا کی برکتوں میں سے کون سی برکت اور زندگی کی مسرتوں میں سے کون سی مسرت چھین لی تھی۔ جو تو بلا اشتعال، بلا سبب، بلا جرم اس کا تمدنی و معاشرتی نظام غارت کرنے اور اس کے دل کا اطمینان اور ملک کی متاع نشاط لوٹنے آیا ہے؟ ـــــ تو بہادر نہیں رہزن ہے۔ جا۔ واپس جا۔ بہشت کے آستانے پر اہرمن کے کارندے کا اور قلعہ سفید کے دروازے پر ایک ننگِ انسانیت ڈاکو کا خیر مقدم نہیں ہو سکتا۔

سہراب: پیاری آفرید۔ یہ اہلِ وفا کی زبان اور محبت کا لہجہ نہیں ہے۔ تم اس طرح غیر شناسا بن کر گفتگو کر رہی ہو۔ گویا ہماری ملاقات اس دنیا کے بدلے خواب و خیال کی دنیا میں ہوئی تھی۔ کیا اتنی دور سے پہچان نہیں سکتیں؟ غور سے دیکھو۔ میں سہراب ہوں۔ وہی سہراب، جس کے احساس و تخیل میں تم نے انقلاب پیدا کر دیا ہے۔ وہی سہراب، جو حُسن کی پرستش کو عشق کا مذہب اور تمھارے تصور رنگیں کو اپنی روح کی بہشت سمجھتا ہے۔

گُردآفرید: خبردار۔ ان سامعہ خراش لفظوں سے میرے تقدیس حُسن کی توہین نہ کر ـــــ مغرور۔ اپنی اتفاقی کامیابیوں کو وقت کی سفلہ نوازی اور قسمت کی غلط بخشی سمجھنے کے بدلے، یہ سمجھ رہا ہے کہ تو جہاں پر جابرانہ حکومت کرنے کے لیے، اور یہ جہاں مجبور بیل کی طرح اپنے زخمی کندھوں پر اطاعت کا جوا رکھ کر تیرے دائرۂ حکم میں گردش کرنے کے لیے پیدا ہوا ہے ـــــ لیکن ارضِ ایران کی وسعت، قلعہ سفید کی چار دیواری میں محدود نہیں ہے۔ ہماری موت کے بعد بھی ایران اپنی قوت و شوکت کے ساتھ زندہ رہے گا۔ اور ثابت کر دے گا کہ سہراب وقت کے کھیلنے کا کھلونا اور اتفاقات کی ہوا میں قسمت کی لہروں پر ناچتے ہوئے بلبلے کا تماشا ہے۔

سہراب: پیاری آفرید ۔ عورت دنیا کی سب سے زیادہ حسین و محبوب شے ہے۔ جذبات اس کا نام سنتے ہی ناچ اٹھتے، روح اس کے تصور سے روشن ہو جاتی، اور عشق اپنی تمام نیاز مندیوں کے ساتھ اس کے قدموں پر سجدے میں گر پڑتا ہے۔ تمھاری اس محبت آزار گفتگو سے اس کی رفعت و محبوبیت کو شدید نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہے۔ عورت کی تغیر پذیر فطرت کے بارے میں کتابوں کے ورق اور انسان کے تجربوں نے جو رائے دی ہے کیا تم اس غلط رائے کو آج صحیح ثابت کرنا چاہتی ہو؟
کیوں کیا مخمور و بے خود بادۂ سر جوش سے
کیوں دیا پیغام الفت نرگس مے نوش سے ایک فتنہ اور بالائے زمیں پیدا کیا
کیوں میرے دل میں محبت کا یقیں پیدا کیا

گُردآفرید: محبت کا یقین دلائے بغیر تیری قید سے رہا ہونا ناممکن تھا۔ بے وقوف سُن۔ اپنے اہل وطن کی روح میں نامردانہ زندگی کی حقارت اور شجاعانہ موت کا احترام پیدا کرنے اور پیداشدہ جذبے کو آخری سانس تک قائم و شعلہ فشاں رکھنے کے لیے مجھے زندہ رہنے کی ضرورت تھی۔ شکر ہے کہ میں زندہ ہوں۔ لیکن سہراب کے لیے نہیں، اپنے ملک کے لیے۔ محبت کے لیے نہیں وطن کی خدمت کے لیے۔ تو مسمار گھروں اور بے کفن لاشوں پر قبضہ کر سکتا ہے۔ لیکن ہماری زندگی میں ہمارے قلعے اور ہماری آزادی پر قبضہ نہیں کر سکتا۔

سہراب: (انتہائی حیرت سے) گُرد آفرید! گُرد آفرید!!

گُردآفرید: رعونت کے پتلے! یہ ایران و توران کی کشاکش نہیں، مصافِ حیات میں خودغرضی و ظلم سے ایثار و قربانی کی آویزش ہے۔ یہ جنگ جابروں کے لیے، سرمایہ لعنت اور ستم رسیدوں کے لیے تلقین خودداری و درسِ حریت ہے۔ اگر قسمت کی شرکت و اعانت سے تو کامیاب بھی ہوا، تو تیری فتح شکست سے زیادہ ذلیل اور وقت کی نامساعدت سے ہم سپر انداز بھی ہوئے، تو ہماری شکست فتح سے زیادہ شان دار ہوگی ـــــ تاریک سائے میں ڈوبتے ہوئے شام کے آفتاب کی طرح دنیا نظروں سے غائب ہو جاتی ہے۔ اب صرف دو چیزیں دھوئیں کے کاغذ پر لکھے ہوئے آگ کے حرفوں کی طرح دکھائی دے رہی ہیں۔ معزز زندگی یا معزز موت۔

(گُرد آفرید چلی جاتی ہے)

سہراب: حسین جسم میں دغا باز روح! صندل میں سوزش!! چاندنی میں دوپہر کی دھوپ کی تپش!!! (ہومان۔ بارمان سے) تم سچ کہتے تھے۔ حسن نے کبھی وفادار دل کی قدر نہیں کی۔ حملہ کرو۔ حملہ کرو۔ اس قلعۂ سفید، اس حصار سنگین کی ہستی، عورت کے وعدے سے بھی زیادہ کمزور ہے۔ اُف۔ کتنا فریب۔ عورت!۔ عورت!! تو صرف ایک خوبصورت دھوکا ہے!!!۔

(تورانی لشکر حملہ کرتا ہے۔ فصیل قلعہ سے کھولتے ہوئے تیل، گراں وزن پتھروں اور تیروں کی خونیں بارش ہوتی ہے۔ طویل و مہیب جنگ کے بعد سہراب کے گرز سے قلعے کا دروازہ ٹوٹ کر گر پڑتا ہے۔ اور حملہ آور فوج قلعے میں فاتحانہ جوش کے ساتھ داخل ہو جاتی ہے۔)

دوسرا ایکٹ – چھٹا سین

(قلعۂ سفید کا اندرونی حصہ)

(حملہ آوروں کا شور۔ زخمیوں کی چیخیں۔ ہتھیاروں کی جھنکار۔ مارو۔ بھاگو کا غل بہرام منتقمانہ جذبات و شریرانہ مسرت کے ساتھ داخل ہوتا ہے)

بہرام: گناہ اور سزا دونوں اعتقاد کے فریب ہیں۔ نیکی و بدی کی تخئیل بلند پرواز عقل کی ترقی معکوس ہے ـــــ آج سے پیشتر اپنی شمشیر و تدبیر سے ملک کے دشمنوں کی امداد کرنا میں ایک شرمناک گمراہی، ایک ہیبت ناک گناہ، ایک پروردۂ لعنت جرم سمجھتا تھا۔ مگر اب؟۔ اب نہیں۔ موت، آگ، بربادی نے شہر کے ہر حصے کو گھیر لیا ہے۔ کٹے ہوئے سر، خون کی لہروں پر بلبلوں کی طرح تیر رہے ہیں۔ ایک دریدہ دہن، محروم فراست چھوکری کو 'عقل کل' اور اس کی احمقانہ رائے کو دنیا کی دانش مندی کا خلاصہ سمجھنے والوں کی یہی سزا ہے۔ میری تردید و توہین کا یہی انعام ہے ـــــ ایران کی تاریخ میں میرا نام، قاتلانِ قوم میں لکھا جائے گا ـــــ لکھا جائے ـــــ دنیا مجھے دشمنِ وطن کہے گی۔ کہنے دو ـــــ عاقبت خراب ہوگی ـــــ ہونے دو ـــــ مجھے قوم، وطن، عاقبت کچھ نہیں چاہیے ـــــ انتقام، صرف انتقام چاہیے ـــــ بہرام چل۔ دست بدست جنگ میں دوبارہ سہراب کی رہنمائی کر۔ سہراب کی فتح ہی تیرے انتقام کی فتح ہے۔

(بہرام کی روانگی۔ خوں چکاں تلوار لیے ہوئے گُرد آفرید کا داخلہ)

گُردآفرید: موت ایک تغیر ہیئت۔ ایک تبدیلیٔ لباس، ایک نقل مکانی، ایک جدید آغاز عمل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ سفر حیات میں مسافر کا پیکر خاکی و مقصد سفر بدل جاتا ہے، لیکن منزل نہیں بدلتی۔ موجودہ زندگی کی انتہا، نئی زندگی کی ابتدا ہے۔ یعنی ہم موت کے دروازے سے معلوم دنیا سے نامعلوم دنیا میں داخل ہوتے ہیں، یہی زندگی کا راز ہے۔ اور یہ راز صرف شہیدان حق و حریت کو معلوم ہے ـــــ شاباش۔ ایران کے فدائیو، شمع ملت کے پروانو۔ شاباش۔ تمھارے خون کا ہر قطرہ صبح عزت کا نو طلوع آفتاب اور تمھاری جنگِ آزادی کا ہر لمحہ سعادتِ جاودانی کا سرمایہ دار ہے۔ سرفروشانہ موت کے بعد بھی تم مستقبل کے غیر فانی حافظے اور بقائے دوام کی لازوال دنیا میں زندہ رہوگے۔ تمھاری حیرت آفریں قربانیوں نے مغرور سہراب..... (سہراب کا نام زباں پر آتے ہی دل میں محبت کا خوابیدہ جذبہ بیدار ہو جاتا ہے) آہ، کتنا شجاع! کیسا شریف!! اس کے تجلی بار چہرے کی طرف دیکھنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ اسی چہرے کے نور سے آفتاب و ماہتاب کی آفرینش ہوئی ہے۔ سہراب میری روح کو محبت کی روشنی سے منور کرنے والے سہراب، تم توران میں کیوں پیدا ہوئے؟ اگر تم مادرِ ایران کے فرزند ہوتے تو میں کنیز بن کر تمھاری خدمت کو کامرانی نشاط اور تمھاری پرستش کو وسیلہ نجات سمجھتی۔ اور..... (خیال بدلتا ہے) بے وقوف عورت۔ کیا عشق کی بجلیوں کی چمک کو جذبۂ جنگ کی تڑپ بتا کر ملک و قوم کے اعتبار کو دھوکا دے رہی ہے۔ کیا تو دل سے نہیں صرف زبان و تلوار سے سہراب کی مزاحمت کر رہی ہے؟ ہشیار ہو جا۔ تیرا گنہ گار خیال تجھے جرم کی مہیب دنیا میں کھینچے لیے جا رہا ہے ـــــ اُسی دنیا میں، جہاں لعنت ہے رحمت نہیں۔ سزا ہے، کفارہ نہیں۔ نفرت کر، سہراب سے نفرت کر۔ دل سے بھی اور روح سے بھی.... (شعلہ محبت پھر بھڑکتا ہے) لیکن میں نفرت نہیں کرتی۔ اور نہیں کر سکتی۔ تو باعث تعجب کیوں ہے؟ دنیا میں کون عورت ہے جو اپنے شجاعت پیکر، وفاکردار، شریف رحیم، جمیل کو اپنا دل اور اپنا مقدر سپرد نہ کر دے گی! اسے دیکھنے کے بعد اس حسن و جاذبیت سے معمور دنیا کی کسی شے کی طرف دیکھنے کی تمنا باقی نہیں رہتی۔ وہ صانع فطرت کی نظر افروز صنعت اور مصور قدرت کا حسین ترین شاہکار ہے.... (خیال کی رو پھر بدلتی ہے) دور ہو۔ اے عورت کی فطری کمزوری دور ہو۔ محبت کی باغیانہ شورش، فرض کی آواز اور ضمیر کی پکار کو مغلوب نہیں کر سکتی۔ جس قدر کمینہ شرافت سے غدار اپنے ملک سے، بزدل عزت کی موت سے نفرت کرتا ہے، میں بھی، ہاں میں بھی، اسی قدر سہراب سے نفرت کروں گی۔ اس کے چہرے کی نظر فریبی، صرف ایک حسین لعنت ہے ـــــ وطن کا دشمن۔ ارض وطن کی طرح خوبصورت، نعرۂ آزادی کی طرح پُر جلال، محبت قومی کی طرح قابل پرستش ہو۔ تب بھی وہ دنیا کی بدترین ہستی ہے۔

(خوف و اضطراب کی حالت میں گستہم کا داخلہ)

گستہم: اوہ۔ وہم بھی نہ تھا کہ انسان، جس کو چمن کائنات کا گل سرسبز، قدرت کا نقش آخر، آفرینش کا خلاصہ، کتاب تخلیق کا تکملہ کہا جاتا ہے، وہ بھیڑیے سے زیادہ خونخوار اور کتے سے زیادہ رذیل ثابت ہوگا۔ ـــــ اے خدا۔ تو نے اس بد نہاد شخص، اس متحرک لعنت کے ڈھیر کو کیوں پیدا کیا! کیا اس ننگِ ہستی کے بغیر تیرے بے عیب و مکمل نظام عالم کی تکمیل نہیں ہو سکتی تھی؟

گُردآفرید: تمھارا ہر لفظ خطرے کا اعلان کر رہا ہے۔ کیا ہوا؟

گستہم: دغا۔ شرم ناک دغا۔

گُردآفرید: دغا دی۔ کس نے؟ غیرت نے؟ ہمت نے؟ قسمت نے؟

گستہم: ایرانی ماں کے دودھ سے پلے ہوئے سانپ نے۔ قوم کش، خائنِ ملت بہرام نے۔

گُردآفرید: ملعون۔ دوزخی۔

گستہم: اس نے سہراب کے پاس اپنا ایمان اور دوزخ کے پاس اپنی روح فروخت کر دی۔ اُس کی جفاکشی و بے حمیتی دیکھ کر مجھے تعجب ہو رہا ہے۔

گُردآفرید: تعجب کیوں کرتے ہو؟ ہمیشہ ملک کے نمک حراموں ہی نے غیروں کی غلامی کے طوق سے اپنے ملک کی گردن کی زینت افزائی کی ہے ـــــ غداری کی تاریخ پڑھو۔ بہرام کی وطن دشمنی، دنیا کا پہلا عجیب واقعہ نہیں ہے۔

گستہم: اس کی امداد و رہنمائی سے سہراب کی فوج نے قلعہ کے محفوظ مقامات اور سامان جنگ کے ذخیروں پر قبضہ کر لیا۔ عنقریب قسمت جنگ کی کمان سے اپنے ترکش کا آخری تیر چلانا چاہتی ہے۔ اب ہمارے لیے کوئی امید باقی نہیں رہی۔

گُردآفرید: (تڑپ کر) کیوں باقی نہیں رہی؟ جب تک غلامی سے نفرت باقی ہے۔ غیرت باقی ہے۔ جسم میں ایک بھی سانس اور قلعے میں ایک بھی جانباز باقی ہے، اُمید بھی باقی رہے گی۔ ہم فانی دنیا میں لازوال زندگی لے کر نہیں آئے ہیں۔ جب مدت حیات محدود، فنا لازمی، اجل یقینی ہے، تو عزت و شرافت کے ساتھ مرو۔ بہادروں کی طرح مرو۔ بوڑھے، اپاہج ناکارہ ہو کر بیماری کے بستر پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کے بدلے، قوم پر قربان ہو کر، مادر وطن کی آغوشِ محبت میں مرو ـــــ نااُمیدی سامنے سے دور ہو ـــــ آؤ ـــــ بس فتح یا ـــــ موت۔

(گُرد آفرید تصویر غضب بنی گستہم کے ساتھ جاتی ہے۔ سہراب کا بہرام اور سپاہیوں کے ساتھ داخلہ)

سہراب: گُرد آفرید۔ میری روح کی تمنا اور میرے خواب تمنا کی تعبیر ہے۔ اسے زندہ گرفتار کرو۔ خبردار، اس کے سر کے ایک بال اور پاؤں کے ایک ناخن کو بھی صدمہ نہ پہنچے۔

بہرام: لیکن گُرد آفرید ہی نے ایرانیوں کی مردہ ہمتوں میں دوبارہ حرکت حیات، قوت عمل پیدا کی تھی۔

سہراب: اس لیے؟

بہرام: وہ رحم کی مستحق نہیں ہے۔

سہراب: عشق کی اتنی مجال نہیں کہ حُسن کو اس کے جرم کی سزا دے سکے ـــــ جاؤ۔
(بہرام کا سپاہیوں کے ساتھ جانا)
ناز سراپا غرور اور نیاز ہمہ تن شکر ہوتا ہے۔ میں اس بے دید، بے مہر سے صرف یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ خوبصورتی اور بے وفائی کا آپس میں کون سا رشتہ ہے؟ چہرہ حسین، دل بہادر، آنکھیں بے مروت، میں نے دنیا میں ایسی عجیب خوبصورتی اور ایسی عجیب عورت نہیں دیکھی۔

(گُرد آفرید کی تلاش میں جاتا ہے)

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.