Urdu in Translation
搜索

第 7 章,共 8 章

Hyderabad, Durbars and the Last Meeting

حیدر آباد، دربار اور آخری ملاقات

Mirza Farhatullah Baig

文字
字号

اس وقت تو یہ باتیں ہنسی میں ہوئیں، مگر اب افسوس ہوتا ہے۔ گون اگر میرے پاس رہ جاتی تو، مولوی صاحب کی یاد گار ہوتی۔ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی اللہ کا بندہ گون میرے پاس بھیج دے کیونکہ اس میں میرا بھی حق ہے۔ یہ ضرور ہے کہ وہ گون مولوی صاحب نے مجھ کو دی تو نہ تھی لیکن وہ سمجھ چکے تھے کہ یہ میرے ہاتھ سے گئی۔ میری غلطی تھی کہ جو اس کو لے جا کر واپس کیا۔ اگر مل گئی توکبھی ایسی غلطی نہ کروں گا۔

جس طرح مسٹر مشرف نے یہ گونیں مولوی صاحب کے گلے منڈھی تھیں، اسی طرح نواب محسن الملک نے حیدر آباد میں فرنیچر ان کے سر چیپک دیا تھا۔ اس زمانے میں حیدر آباد میں نواب محسن الملک کا طوطی بول رہا تھا۔ ان کی تجویز اور سر سید کی تحریک پر مولوی صاحب حیدر آباد آئے۔ پہلے نواب محسن الملک ہی کے ہاں قیام کیا۔ اس کے بعد علاحدہ کوٹھی میں جا رہے۔ ہندوستانی وضع کا سامان، تخت، چوکیاں وغیرہ خرید لیں۔ بھلا محسن الملک یہ کیوں کر دیکھ سکتے تھے کہ ان کا دوست پرانی وضع کے لوگوں کی طرح زندگی بسر کرے، ایک روز سکندر آباد جا، ایلن اینڈ کمپنی کوکئی ہزار کے فرنیچر کا آر ڈر دے دیا اور کہہ دیا کہ مولوی صاحب کے ہاں پہنچا دو اور بل بنا کر بھیج دو۔

ایک روز جو مولوی صاحب اٹھتے ہیں تو کیا دیکھتے ہیں کہ چھکڑے پر چھکڑا فرنیچر کا لدا کوٹھی کے باہر کھڑا ہے۔ بہت چکرائے، لینے سے انکار کیا مگر وہ نواب محسن الملک کا پڑھایا ہوا شیطان تھا۔ وہ کب ماننے والا تھا۔ آخر لاچار گھر چھوڑ باہر آ بیٹھے اور دن بھر میں مولوی صاحب کا مکان صاحب بہادر کی کوٹھی ہو گیا۔ مگر یہ بھی نذیر احمد تھے کچھ ایسی چال چلے کہ جب ان کا تقرر پٹنچرو کی صدر تعلقے داری پر ہوا تو وہ سب کا سب سامان بہت تھوڑی کمی پر ایلن ہی کے سر مارا اور پٹنچرو، وہی اپنے پرانے تخت وغیرہ لے گئے۔ نواب محسن الملک کو کانوں کان خبر بھی نہیں ہوئی۔

اب آگے کی داستان بڑی دلچسپ ہے۔ نوام محسن الملک دورے پر نکلے، پٹنچرو قیام کیا۔ مولوی صاحب خود کہیں دورے پر گئے ہوئے تھے۔ نواب صاحب نے گھر میں کہلا بھیجا کہ میں آیا ہوں، میرے قیام کا انتظام کر دو۔ ایک کمرا جس میں دو تین کرسیاں اور ایک دو میزیں تھیں، کھول دیا گیا۔ وہ ایلن والے فرنیچر کی تلاش میں تھے، سمجھے مولوی صاحب نے اپنے کمر ے میں سجا رکھا ہوگا، اندر کہلا بھجوایا کہ میں مولوی صاحب کے کمرے میں ٹھہروں گا۔ پہلے تو جواب ملا کہ وہاں آپ کو تکلیف ہوگی، مگر جب ادھر سے اصرار ہوا تو وہ کمرا بھی کھول دیا گیا۔ اندر جا کر کیا دیکھتے ہیں کہ وہاں صفا چٹ میدان ہے۔ نہ دری ہے نہ چادر۔ نہ چاندنی ہے، نہ میز ہے نہ کرسی۔ کمرے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا تخت ہے، اس پر ایک کمبل پڑا ہوا ہے۔ بازو میں ایک چوکی پر رحل اور جانماز رکھی ہے، کھونٹی پرکلام مجید لٹک رہا ہے۔ یہ بہت چکرائے، لوگوں سے پوچھا، وہ فرنیچر کہاں گیا۔ معلوم ہوا کہ آتے آتے مولوی صاحب اس کے کوڑے کر آئے۔ بچارے ایک رات ٹھہرے اور صبح ہی کوچ بول دیا۔

کچھ عرصے تک تو نواب محسن الملک اور ان کی بنی رہی، بعد میں اتنی کھنچی کہ ٹوٹ گئی۔ مولوی صاحب کو یہ شکایت تھی کہ محسن املک مجھ پر دباؤ ڈال کر کام نکالنا چاہتے ہیں۔ محسن ا لملک کو یہ شکایت تھی کہ مولوی صاحب میرے مخالف ہو کر میرے اکھاڑنے کی فکر میں ہیں۔ غرض جب عماد السلطنت بہادر کا زمانہ آیا اور محسن الملک بہادر کی کمان چڑھی تو مولوی صاحب کو میدان سے ہٹ جانا ہی مناسب معلوم ہوا۔ دوسرے حیدر آباد میں صحبت کا جو رنگ تھا وہ ایسا نہ تھا جس میں مولوی صاحب کا رنگ جم سکتا۔ اس زمانے کے جو حالات مولوی صاحب بیان کیا کرتے تھے ان کا زبان قلم پر نہ آنا ہی زیادہ مناسب ہے۔

بعد میں دونوں بہ ظاہر ملتے جلتے تھے، لیکن موقع پڑا تو ایک دوسرے کو پردے ہی پردے میں سنائے بغیر نہ رہتے تھے۔ ایک واقعہ تو خود میری آنکھوں کے سامنے گزرا ہے۔ 1903 کے دربار کے موقع پر کانفرنس کا اجلاس دہلی میں اجمیری دروازے کے باہر ہوا۔ اس زمانے میں نواب محسن الملک، علی گڑھ کالج کے سکریٹری تھے۔ کانفرنس کے صدر ہزہائی نس سر آغا خاں تھے۔ آدمیوں کی یہ کثرت تھی کہ بیٹھنے کو پنڈال میں جگہ نہ ملتی تھی۔ ہر جلسے میں کئی کئی رئیس آ جاتے تھے۔ ایک پورا دن خاص مولوی صاحب کے لکچر کے لیے مقرر ہوا۔ مدت ہوئی تھی کہ مولوی صاحب نے پبلک میں لکچر دینا چھوڑ دیا تھا۔ اس روز جو معلوم ہوا کہ مولوی صاحب لکچر دیں گے، خلقت ٹوٹ پڑی۔

لکچر شروع ہی ہوا تھا کہ لارڈ کچنر نے کہلا بھیجا کہ آ ج میں بھی آؤں گا۔ نواب محسن الملک نے ایسے با وقعت و ذی جاہ مہمان کے استقبال کی تیاریاں شروع کیں، مولوی صاحب لکچر میں اس گڑ بڑ سے کھنڈت پڑ تی تھی۔ پنڈال کے باہر ذرا گڑ بڑ ہوئی اور نواب محسن الملک سمجھے کہ لارڈ کچنر آ ئے، اٹھ کر باہر گئے اور پھر آ کر بیٹھے۔ اس طرح وہ کوئی دس پندرہ دفعہ باہر گئے اور اند آئے۔ مولوی صاحب بہت جز بز ہوئے، خفا بھی ہوئے مگر ان کی کون سنتا تھا۔

قصہ مختصر آخر لارڈ کچنر آ ہی گئے۔ نواب محسن الملک نے سب کا تعارف کرایا۔ مولوی صاحب نے خود اپنا تعارف کر لیا۔ لارڈ کچنر کہنے لگے، مولوی صاحب ہم نے کورس میں آپ کی کتابیں پڑھی ہیں، آج آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی۔ مولوی صاحب نے کہا، لاٹ صاحب مجھے بھی آپ سے مل کر بڑی خوشی ہوئی، اور سب سے بڑی یہ خوشی ہوئی کہ آپ کی وجہ سے ایک معمہ حل ہو گیا۔ لارڈ کچنر نے کہا، وہ کیا معمہ تھا؟

مولوی صاحب نے کہا کہ ہمارے ہاں قیامت کی نشانیوں میں لکھا ہے کہ اس وقت ایسا تہلکہ ہوگا کہ حاملہ عورتوں کے حمل گر جائیں گے۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ وہ ایسی کیا مصیبت ہوگی کہ حمل گرا دے گی مگر آج یقین آ گیا جو کچھ لکھا ہے صحیح لکھا ہے۔ جب آپ کی آمد نے بڑے بڑے پیٹ والے بڈھوں کے حمل گرا دیے تو کیا تعجب ہے کہ قیامت کی آمد عورتوں کے حمل گرا دے۔ تمام پنڈال میں سناٹا ہو گیا مگر مولوی صاحب کو جو کہنا تھا کہہ گئے اور اس طرح اپنے دل کا بخار نکال لیا۔ بات یہ ہے کہ مولوی صاحب کو وقت پر ایسی سوجھتی ھی کہ باید و شاید، چنانچہ امیر حبیب اللہ خاں ہی کے دربار کا واقعہ دیکھ لو۔

امیر حبیب اللہ خاں بقر عید کے دن دہلی میں تھے، اس روز جمعہ تھا۔ صبح بقر عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھی اور جمعہ کی نماز جامع مسجد میں، شام کو سرکٹ ہاؤس میں دربار کیا۔ اس دربار میں آٹھ یا نو دہلی کے ہندو امیر اور اسی قدر مسلمان مشاہیر بلائے گئے، ان میں ایک مولوی صاحب بھی تھے۔ سر ہنری میک موہن نے ان لوگوں کا تعارف امیر صاحب سے کرایا۔ جب مولوی صاحب کی باری آئی اور ان کی تعریف سر ہنری نے کی، تو امیر صاحب نے کہا، آ پ کو ان کی تعریف کرنے کی ضرورت نہیں ہے میں خود ان کی تصانیف بڑے شوق سے پڑھتا ہوں اور تقریباً سب کا ترجمہ بھی کرا چکا ہوں۔ دیکھنے کا اشتیاق تھا، وہ آج پورا ہو گیا۔

اس کے بعد باتوں ہی باتوں میں پوچھا، آپ شعر بھی کہتے ہیں؟ مولوی صاحب نے کہا، جی ہاں کہتا ہوں لیکن آج آپ کی تعریف میں اپنا نہیں دوسروں کا شعر سناؤں گا۔ یہ کہہ کر متنبی کا یہ شعر پڑھا۔

عید و عید و عید جاء مجتمعاوجہ الحبیب و یوم العید والجمعا

موقع کے لحاظ سے یہ شعر ایسا بر محل ہو گیا کہ متنبی کو نصیب بھی نہ ہوا ہوگا۔ واقعات اور خاص کر ’’حبیب‘‘ کے لفظ نے شعر میں جان ڈال دی۔ تمام دربار چمک اٹھا۔ امیر حبیب اللہ خاں نے اٹھ کر مولوی صاحب کو گلے سے لگا لیا اور اتنے بوسے دیے کہ مولوی صاحب گھبرا گئے۔

دوسرے روز جو انہوں نے اس واقعے کا ذکر ہم سے کیا، اس کو انہی کے الفاظ میں دہرانا اچھا معلوم ہوتا ہے۔ کہنے لگے، بھئی میں تو شعر پڑھ کر مصیبت میں پھنس گیا۔ شعر پڑھنا تھا کہ یہ معلوم ہوا کہ کسی شیر نے آ کر مجھے دبوچ لیا۔ اس میرے شیر کا کوئی سوا گز چوڑا سینہ، میں ٹھہرا چھوٹے قد کا آدمی، اس نے جو پکڑ کر بھینچا، تو ادھر تو ہڈیاں پلپلی ہو گئیں، ادھر دم گھٹنے لگا۔ اس کی گرفت سے نکلنے کی ہزار کوشش کرتا ہوں، جنبش تک نہیں ہوتی۔ قسم خدا کی اس وقت تک ہڈیوں میں درد ہو رہا ہے۔ بارے خدا خدا کر کے گرفت ڈھیلی ہوئی تو میں ذرا علاحدہ ہوا۔ ابھی پوری طرح سانس بھی نہ لینے پایا تھا کہ اس نے میری گلے میں بانہیں ڈال، بوسے پر بوسہ لینا شروع کیا۔ بھلا مجھ بڈھے کو دیکھو اور امیر صاحب کی اس حرکت کو دیکھو! کچھ تعریف کا یہ طریقہ افغانستان ہی میں اچھا معلوم ہوتا ہوگا۔ مجھے تو مارے شرم کے پیسنے چھوٹ گئے۔

وہ اللہ کا بندہ ذرا دم لیتا اور سبحان اللہ کہہ کر پھر لپٹ جاتا۔ لپٹتا اور لپٹتے ہی بوسے پر بوسہ لینا شروع کر دیتا۔ بچارے دوسرے بھلے آدمی بیٹھے ہوئے کیا کہتے ہوں گے۔ جب میں نے اس مصیبت سے رہائی پائی، تو میری ناک سے پسینا اس طرح بہہ رہا تھا جس طرح کسی ٹوٹی صراحی میں سے پانی بہتا ہے۔ نا بھائی نا! ایسے دربار کو میرا دور ہی سے سلام ہے۔ کون شعر پڑھ کر اپنی ہڈیاں تڑوائے۔ مولوی صاحب اپنی ہڈیاں سہلاتے جاتے اور یہ قصہ بیان کرتے جاتے تھے۔ مگر ان کے چہرے سے معلوم ہوتا تھا کہ خوشی کے مارے دل کھلا جا رہا ہے اور سمجھ رہے ہیں کہ شعر کی داد اس طرح اور اس رنگ میں آج تک نہ کسی شاعر کو ملی ہے اور نہ ملے گی۔

اس تیزی طبع کے ساتھ صاف گوئی بھی بلا کی تھی۔ جو کہنا ہوتا وہ کہے بغیر نہ رہتے تھے۔ اس میں کسی لفٹننٹ گورنر پر ہی حملہ کیوں نہ ہو جائے۔ 1904 میں لارڈ کرزن کا ایک لکچر ہوا، اور اس میں انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جب تک ہندوستانی یورپ والوں کی طرح سچ بولنے کی عادت نہ ڈالیں گے اس وقت تک ہندوستان ترقی نہیں کر سکتا۔ اخباروں میں لکچر پڑھ کر مولوی صاحب کو بہت غصہ آیا۔ خدا کی قدرت دیکھو کہ اس کے چند ہی روز بعد ہمارے کالج میں سالانہ جلسہ ہوا، اور لارڈ لیفر اے، جو ہندوستان کے لاٹ پادری تھے، تشریف لائے۔ شامت اعمال سے انہوں نے بھی اپنے لکچر کا موضوع یہی قرار دیا۔ کالج کی کی طرف سے لاٹ صاحب کا شکریہ ادا کرنے کے لیے مولوی صاحب تجویز کیے گئے۔ اب کیا تھا، اللہ دے اور بندہ لے۔ جو کچھ دل میں بخار بھرا تھا، خوب اچھی طرح نکال لیا۔ کالج والے حیران تھے کہ یا الہی یہ کیا ماجرا ہے! مولوی صاحب شکریہ ادا کر رہے ہیں یا لاٹ صاحب پر اعتراضات مگر انہوں نے جب تک اپنے دل کی بھڑاس نہ نکال لی، خاموش نہیں ہوئے۔

سب سے پہلے انہوں نے ہندوستان کے مغربی اثر کو نہایت پر مذاق پہلو سے بیان کیا۔ فرمانے لگے، حضرات! پائجامہ اچھا ہے یا پتلون؟ ہم پرانے آدمی تو موسم کے لحاظ سے اٹھنے بیٹھنے کی سہولت و آرام کے لحاظ سے پائجامے ہی کو اچھا کہیں گے، مگر آج کل کے ہندوستانی صاحب پتلون کا ساتھ دیں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہم اچکن یا انگرکھے کو اچھا کہیں گے، اس سے ستر ڈھکتا ہے، آدمی بھاری بھر کم معلوم ہوتا ہے۔ ہمارے یورپ کے دل دادہ بھائی کوٹ کو پسندکریں گے۔ یہ کیوں؟ اس لیے کہ یہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہم بڈھے سلیم شاہی جوتی پر جان دیں گے کیوں کہ اس میں پیر کو آرام ملتا ہے، نرم اور سبک ہوتی ہے۔ ہمارے فیشن کے عاشق فل بوٹ کا انتخاب کریں گے۔ یہ کیوں؟ اس لئے کہ یہ انگریزوں کا پہناوا ہے۔ ہمارے پاس اپنی پرانی ہر چیز کےاچھے ہونے کا ثبوت موجود ہے۔ ان کے پاس صرف ایک جواب ہے کہ یورپ والے ایسا پہنتے ہیں۔ اور بھئی! ہے بھی یہی بات۔ قسمت نے ہم کو انگریزوں کے ماتحت کر دیا ہے، ان کی ہر چیز ہمارے لیے قابل تقلید ہے اور ان کا فعل ہمارے لیے چراغ ہدایت۔

اب افعال سے گزر کر اقوال پر نوبت آ گئی ہے۔ پادری کرزن، تھوڑے ہی دن ہوئے، فرما چکے ہیں کہ ہندوستانی سچ چھوڑو اور انگریزی سچ بولا کرو۔ آج ہمارے پادری لیفراے بھی ان کے ہم نوا ہوئے ہیں۔ یا تو انہوں نے یہ سمجھا ہے کہ یہاں کے سچ اور یورپ کے سچ میں فرق ہے اور وقت آگیا ہے کہ پائجامے کی طرح ہندوستانی سچ کو اتار پھینک دیا جائے اور پتلون کی طرح ولایتی سچ پہن لیا جائے۔ یا ان کا یہ خیال ہے کہ ہندوستان کے کسی مذہب نے سچ کی تلقین ہی نہیں کی ہے اور یہ نیا مال دساور ہو کر ولایت سے آیا ہے۔ بہر حال کچھ بھی ہو، اب تمہارے پرانے سچ کی قدر نہیں رہی ہے۔

خدا کے لیے اپنا بھلا چاہتے ہو تو ان لاٹ صاحبوں کا حکم مانو۔ یہ بڑے لوگ ہیں۔ مولوی نذیر حسین یا پنڈت بانکے لال نہیں ہیں کہ انہوں نے ہندوستانی سچ بولنے کی ہدایت کی اور تم ہنس کر ٹال گئے۔ لاٹ صاحبوں کی بات نہ مانو گے اور ولایتی سچ نہ بولو گے اور یہ تازہ مال استعمال نہ کر وگے تو یاد رکھو نوکری ملنی مشکل ہو جائے گی اور نوکری نہ ملی تو روٹیوں کی محتاج ہو جائے گے، کیونکہ دونوں لاٹ صاحبوں نے یہ ہدایت نہیں کی ہے کہ نوکری کا خبط چھوڑو اور تجارت یا صنعت و حرفت اختیار کرو۔ اسی سے تمہارے دلدر دور ہوں گے۔

آخر میں مولوی صاحب نے تھوڑا بہت لارڈ لیفر اے کا شکریہ بھی ادا کر دیا۔ لاٹ صاحب اردو بہت اچھی جانتے تھے۔ مولوی صاحب کی اس پر مذاق تقریر پر مسکراتے رہے مگر دل کا خدا ہی مالک تھا۔ کالج کے منتظمین کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ مگر یہاں ’’تیر از کمان جستہ‘‘ کی صورت تھی۔ کیا کر سکتے تھے البتہ دل میں انہوں نے ٹھان لی ہوگی کہ آئندہ مولوی صاحب کو شکریہ ادا کرنے کی تکلیف نہ دینا ہی مناسب ہوگا۔

اس واقعے کے کچھ ہی دنوں بعد میں حیدر آباد چلا گیا۔ پھر دو دفعہ دہلی میں میرا مولوی صاحب سے ملنا ہوا۔ پہلی دفعہ جو ملا تو یہ وہ زمانہ تھا کہ ’’امہا ت الامہ‘‘ کی وجہ سے مولوی صاحب پر بڑی لے دے ہو رہی تھی۔ میں نے اس کا ذکر چھیڑا۔ کہنے لگے، بھئی مجھے تو اس کتاب میں کوئی ایسی چیز نظر نہیں آتی جس کی وجہ سے لوگ اس طرح بر انگیختہ ہو جائیں۔ تم نے بھی یہ کتاب دیکھی ہوگی۔ آخر تم ہی بتاؤ اس میں میں نے کون سی ایسی نئی بات لکھی ہے؟ میں نے خود ’امہات الامہ‘ نہیں دیکھی تھی مگر میں مولوی صاحب کے طرز تحریر سے واقف تھا۔ اس لیے میں نے یہی کہا کہ مولوی صاحب آپ کا طرز تحریر مذاق کا پہلو لیے ہوتا ہے۔ وہ کچھ قصے کہانیوں ہی میں مزا دیتا ہے۔ تاریخ کی کتابوں اور خاص کر مذہبی معاملات میں وہ کسی طرح کھپ نہیں سکتا۔ اگر لوگوں کو اعتراض ہوگا تو آپ کے طرز تحریر ہی کے متعلق ہوگا۔

مولوی صاحب نے کہا، میرے کلام مجید کے ترجمے کے متعلق یہ اودھم کیوں نہیں مچا؟ میں نے کہا، اس پر بھی لوگوں کو اعتراض ہیں مگر اس میں آپ کا معاملہ اللہ میاں سے ہے اور یہاں انسانوں سے۔ مشہور مقولہ ہے کہ ’’با خدا دیوانہ باش وبا محمد ہوشیار۔‘‘ کچھ سوچتے رہے پھر کہنے لگے، کہتے تو سچ ہو۔ اس قسم کی تالیفات میرے دائرہ تحریر سے باہر ہیں۔ انشاء اللہ دوسرے ایڈیشن میں نقص کو رفع کر دوں گا۔

جب میں چلنے لگا تو فرمایا، کہو بیٹا! پھر ملوگے؟ ابھی تو تمہارے جانے میں بہت دن ہیں۔ میں نے کہا، انشاء اللہ ضرور آؤں گا۔ ہنس کرکہنے لگے، انشا ء اللہ کہنے کے بعد تم ضرور آؤگے! مسلمانوں کو جب کوئی کام کرنا ہوتا ہے تو ہزاروں قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ یہ کام میں ضرور کروں گا۔ مگر جب کام کرنے کو جی نہی چاہتا تو ہمیشہ یہی کہا کرتے ہیں کہ انشاء اللہ ضرور کروں گا۔ ہم تو اس کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ اس کام کے کرنے کا تو ارادہ نہیں ہے۔ ہاں اگر خدا نے چاہا اور زبردستی یہ کام کرا دیا، تو مجبوراً کر لیں گے۔ میں نے کہا، مولوی صاحب آپ کو انشاء اللہ کے یہ معنی پہنانے مناسب نہیں۔ آپ مذاقیہ پہلو مذہبی معاملات میں بھی نہیں چھوڑتے۔ کہنے لگے، میاں! پہلے انشا ء اللہ کے معنی دوسرے تھے۔ آج کل مسلمان وہی معانی لیتے ہیں جو میں نے بیان کئے۔

خدا کی قدت دیکھو کہ اسی ر ات کو عین میرے پلنگ کے نیچے طاعون کا چوہا مرا اور صبح ہی کے میل سے میں ایسا دہلی سے بھاگا کہ حیدر آباد آ کر دم لیا۔

دوسری دفعہ جو میں ملا تو مولوی صاحب کی صحت جواب دے چکی تھی۔ چھت پر جو چھوٹا کمرا تھا اس میں آ رہے تھے۔ رعشے میں اضافہ ہو گیا تھا۔ آنکھوں سے بھی کم دکھائی دیتا تھا۔ پلنگ پر بیٹھے رہا کرتے تھے۔ میں نے کمرے کے دروازے میں قدم رکھتے ہی بڑے زور سے سلام کیا۔ کہنے لگے، ہیں یہ کون صاحب ہیں؟ میں نے کہا، میں ہوں۔ پھر پوچھا، آخر ’’میں‘‘ کون صاحب ہوئے؟ نام کیوں نہیں بتاتے۔ ارے بھائی! اب مجھے صاف دکھائی نہیں دیتا، ذرا قریب آؤ۔ میں نے کہا، واہ مولوی صاحب واہ! اگر آواز سے نہیں پہچانا، تو خوب پہچانا، دور سے پہچانیئے تو بات ہے۔ ایک دفعہ ہی ہنس پڑے اور کہنے لگے، اوہو، میاں فرحت ہیں! بھلا اور کون یہ بے تکی باتیں کرے گا۔ آؤ بیٹا آؤ۔ اب کے تو کئی برس کے بعد آئے۔

میں پاس گیا، گلے لگایا، حالات پوچھتے رہے۔ باتیں کرتے کرتے کہا، ذرا دیکھنا بھی گھڑی میں کیا بجا ہے؟ میں نے گھڑی دیکھ کر کہا کہ ساڑھے نو میں پانچ منٹ ہیں۔ کہنے لگے، او ہو دیر ہو گئی! ذرا میرا جوتا اور جرابیں تو لے آؤ۔ میں نے لاکر جرابیں پہنائیں۔ جوتا سوکھ کر لکڑی ہو گیا تھا وہ زبر دستی پاؤں میں ٹھونسا۔ جوتا پہن کر کھڑے ہوگئے۔ میں نے کھونٹی پر سے اتار کر شیروانی اور ٹوپی دی۔ وہ پہن کر کہنے لگے، چلو بھئی چلو وقت تنگ ہو گیا ہے۔ میں نے کہا، مولوی صاحب آخر کہاں جانا ہے؟ کہنے لگے، بیٹا! آج ایک مقدمے کی پیشی ہے، وہاں جا رہا ہوں۔ ذرا مجھ کو کشمیری دروازے تک تو لے چل۔

میرا ہاتھ پکڑ کر نیچے اترے۔ باہر دیکھوں تو کوئی سواری نہیں۔ میں نے کہا مولوی صاحب! خدا کے لیے اب اس عمر میں تو اس طرح پیدل نہ پھرا کیجئے! خدا نے سب کچھ دے رکھا ہے، آخر یہ کس دن کے لیے ہے؟ روپیہ اسی لیے ہوتا ہے کہ خرچ کیا جائے۔ بال بچوں کی طرف سے بھی بے فکری ہے۔ کیوں اس بڑھاپے میں آپ اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔ ذرا اپنی حالت کو دیکھئے اور کشمیری دروازے کو دیکھئے! یہ دو میل آنا جانا آپ کو مضمحل کر دے گا، ذرا ٹھہر جائیے۔ میں گاڑی لے آتا ہوں۔ بہت بگڑے اور کہنے لگے، تجھ کو میرے معاملے میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے! اب چلتا ہے تو چل نہیں میں کسی اور کو بلاتا ہوں، ابھی میرے ہاتھ پاؤں نے ایسا جواب نہیں دیا ہے کہ کشمیری دروازے تک نہ جا سکوں۔

میں نے کہا، مولوی صاحب! خدا کے لیے اب تو گاڑی رکھ لیجئے۔ اگر آپ خرچ نہیں اٹھاتے میں اٹھاؤں گا۔ ہنس کر کہنے لگے، کیوں نہ ہو، روپیہ اچھلنے لگا ہے۔ کیا میرے پاس اتنا روپیہ نہیں ہے کہ گاڑی نہ رکھ سکوں۔ بیٹا! بات یہ ہے کہ پہلے تو میں اس لیے گاڑی گھوڑ ا نہیں رکھا کہ سائیسوں سے ڈر لگتا تھا۔ ایک تو دانہ گھاس چراتے ہیں، دوسرے گھوڑے کی مالش نہیں کرتے، تیسرے گاڑی کا آج یہ توڑا، کل وہ توڑا، کون بیٹھے بٹھائے اپنی بھلی چنگی جان کو یہ عذاب لگائے اور دن رات کا فکر مول لے۔ رفتہ رفتہ پیدل پھرنے کی عادت ہو گئی۔ اب آخری عمر میں گاڑی کی ضرورت ہوئی تو گاڑی رکھتے ہوئے شرم آتی ہے کہ لوگ کیا کہیں گے کہ تمام عمر تو مولوی صاحب جوتیاں چٹخاتے پھرے، اب بڑھاپے میں گاڑی پر سوار ہو کر پھرتے ہیں۔

نا بھئی نا! اب گاڑی رکھنا وضع داری کے خلاف ہے۔ میں نے کہا، تو کمیشن ہی جاری کرا لیا ہوتا۔ کہنے لگے، وہ بھی میری وضع داری کے خلاف ہے۔ بہر حال یہی حجتیں کرتے کرتے کچہری پہنچ گئے۔ ڈپٹی صاحب کو اطلاع ہوئی۔ انہوں نے مولوی صاحب کو اپنے کمرے میں بٹھایا اور سب سے پہلے ان کا مقدمہ لے کر ان کی شہادت قلم بند کی اور یہ جس طرح گئے تھے اسی طرح ہانپتے کانپتے میرا ہاتھ پکڑ کر گھر آ گئے۔

حیدر آباد آنے کے تھوڑے ہی دنوں بعد معلوم ہوا کہ اس چہکتے ہوئے بلبل نے گلشن دنیا سے کوچ کیا۔ جب کبھی دہلی جاتا ہوں تو مولوی صاحب کے مکان پر ضرور جاتا ہوں۔ اندر قدم نہیں رکھتا مگر باہر ہی بڑی دیر تک دیوار سے لگ کر دروازے دیکھا کرتا ہوں۔ اور رہ رہ کر ذوق کا یہ شعر زبان پر آتا ہے،

یہ چمن یوں ہی رہے گا، اور سارے جانوراپنی اپنی بولیاں سب بول کر اڑ جائیں گے

اللہ بس، باقی ہوس

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。