Urdu in Translation
Search

Chapter 5 of 5

أعياد كلّ الأديان: ديوالي، الراكهي، العيد، ليلة البراءة، گورو نانك

Festivals of Every Faith: Diwali, Rakhi, Eid, Shab-e-Barat, Guru Nanak

دیوالی، راکھی، عید، شب برات، گرو نانک شاہ

Nazeer Akbarabadi

Script
Size

دیوالی

ہر اک مکاں میں جلا پھر دیا دوالی کا
ہر اک طرف کو اجالا ہوا دوالی کا
سبھی کے دل میں سماں بھا گیا دوالی کا
کسی کے دل کو مزا خوش لگا دیوالی کا
عجب بہار کا ہے دن بنا دوالی کا

جہاں میں یارو عجب طرح کا ہے یہ تیوہار
کسی نے نقد لیا اور کوئی کرے ہے ادھار
کھلونے کھیلوں بتاشوں کا گرم ہے بازار
ہر اک دکاں میں چراغوں کی ہو رہی ہے بہار
سبھوں کو فکر ہے اب جا بجا دوالی کا

مٹھائیوں کی دکانیں لگا کے حلوائی
پکارتے ہیں کہ "لا لا! دوالی ہے آئی"
بتاشے لے کوئی برفی کسی نے تلوائی
کھلونے والوں کی ان سے زیادہ بن آئی
گویا انہوں کے واں راج آ گیا دوالی کا

صرف حرام کی کوڑی کا جن کا ہے بیوپار
انہوں نے کھایا ہے اس دن کے واسطے ہے ادھار
کہے ہے ہنس کے قرض خواہ سے ہر اک اک بار
دوالی آئی ہے سب دے دلائیں گے اے یار
خدا کے فضل سے ہے آسرا دوالی کا

مکان لیپ کے ٹھلیا جو کوری رکھوائی
جلا چراغ کو کوڑی وہ جلد جھنکائی
اصل جواری تھے ان میں تو جان سی آئی
خوشی سے کود اچھل کر پکارے او بھائی
شگون پہلے کرو تم ذرا دوالی کا

شگن کی بازی لگی پہلے یار گنڈے کی
پھر اس سے بڑھ کے لگی تین چار گنڈے کی
پھری جو ایسی طرح بار بار گنڈے کی
تو آگے لگنے لگی پھر ہزار گنڈے کی
کمال نرخ ہے پھر تو لگا دوالی کا

کسی نے گھر کی حویلی گرو رکھا ہاری
جو کچھ تھی جنس میسر بنا بنا ہاری
کسی نے چیز کسی کسی کی چرا چھپا ہاری
کسی نے گٹھری پڑوسن کی اپنی لا ہاری
یہ ہار جیت کا چرچا پڑا دوالی کا

کسی کو داؤ پہ لانکی موٹھ نے مارا
کسی کے گھر پہ دھرا سوختہ نے انگارا
کسی کو نرد نے چوپڑ کے کر دیا زارا
لنگوٹی باندھ کے بیٹھا ازار تک ہارا
یہ شور آ کے مچا جا بجا دوالی کا

جہاں میں یہ جو دیوالی کی سیر ہوتی ہے
تو زر سے ہوتی ہے اور زر بغیر ہوتی ہے
جو ہارے ان پہ خرابی کی فیر ہوتی ہے
اور ان میں آن کے جن جن کی خیر ہوتی ہے
تو آڑے آتا ہے ان کے دیا دوالی کا

یہ باتیں سچ ہیں نہ جھوٹ ان کو جانیو یارو!
نصیحتیں ہیں انہیں دل سے مانیو یارو!
جہاں کو جاؤ یہ قصہ بکھانیو یارو!
جو جواری ہو نہ برا اس کا مانیو یارو
نظیرؔ آپ بھی ہے جواریا دیوالی کا

دیوالی کی بہار

دوستو کیا کیا دوالی میں نشاط و عیش ہےسب مہیا ہے جو اس ہنگام کے شایان ہے

اس طرح ہیں کوچہ و بازار پر نقش و نگارہو عیاں حسن نگارستاں کی جن سے خوب رے

گرم جوشی اپنی با جام چراغاں لطف سےکیا ہی روشن کر رہی ہے ہر طرف روغن کی مے

مائل سیر چراغاں نخل ہر جا دم بدمحاصل نظارہ حسن شمع رویاں پے بہ پے

کہتے ہیں اہل قمار آپ میں گرم اختلاطہم تو ڈب میں سو رپے رکھتے ہیں تم رکھتے ہو کے

جیت کا پڑتا ہے جس کا دانوں وہ کہتا ہے یوںسوئے دست راست ہے میرے کوئی فرخندہ پے

ہے دسہرے میں بھی یوں گو فرحت و زینت نظیرؔپر دیوالی بھی عجب پاکیزہ تر تیوہار ہے

راکھی

چلی آتی ہے اب تو ہر کہیں بازار کی راکھی
سنہری سبز ریشم زرد اور گلنار کی راکھی
بنی ہے گو کہ نادر خوب ہر سردار کی راکھی
سلونوں میں عجب رنگیں ہے اس دل دار کی راکھی
نہ پہنچے ایک گل کو یار جس گل زار کی راکھی

عیاں ہے اب تو راکھی بھی چمن بھی گل بھی شبنم بھی
جھمک جاتا ہے موتی اور جھلک جاتا ہے ریشم بھی
تماشا ہے اہا ہا ہا غنیمت ہے یہ عالم بھی
اٹھانا ہاتھ پیارے واہ وا ٹک دیکھ لیں ہم بھی
تمہاری موتیوں کی اور زری کے تار کی راکھی

مچی ہے ہر طرف کیا کیا سلونوں کی بہار اب تو
ہر اک گل رو پھرے ہے راکھی باندھے ہاتھ میں خوش ہو
ہوس جو دل میں گزرے ہے کہوں کیا آہ میں تم کو
یہی آتا ہے جی میں بن کے بامھن، آج تو یارو
میں اپنے ہاتھ سے پیارے کے باندھوں پیار کی راکھی

ہوئی ہے زیب و زینت اور خوباں کو تو راکھی سے
ولیکن تم سے اے جاں اور کچھ راکھی کے گل پھولے
دوانی بلبلیں ہوں دیکھ گل چننے لگیں تنکے
تمہارے ہاتھ نے مہندی نے انگشتوں نے ناخن نے
گلستاں کی چمن کی باغ کی گل زار کی راکھی

ادا سے ہاتھ اٹھتے ہیں گل راکھی جو ہلتے ہیں
کلیجے دیکھنے والوں کے کیا کیا آہ چھلتے ہیں
کہاں نازک یہ پہنچے اور کہاں یہ رنگ ملتے ہیں
چمن میں شاخ پر کب اس طرح کے پھول کھلتے ہیں
جو کچھ خوبی میں ہے اس شوخ گل رخسار کی راکھی

پھریں ہیں راکھیاں باندھے جو ہر دم حسن کے تارے
تو ان کی راکھیوں کو دیکھ اے جاں چاؤ کے مارے
پہن زنار اور قشقہ لگا ماتھے اپر بارے
نظیرؔ آیا ہے بامھن بن کے راکھی باندھنے پیارے
بندھا لو اس سے تم ہنس کر اب اس تیوہار کی راکھی

عید

یوں لب سے اپنے نکلے ہے اب بار بار آہ
کرتا ہے جس طرح کہ دل بے قرار آہ
ہم عید کے بھی دن رہے امیدوار آہ

ہو جی میں اپنے عید کی فرحت سے شاد کام
خوباں سے اپنے اپنے لیے سب نے دل کے کام
دل کھول کھول سب ملے آپس میں خاص و عام
آغوش خلق گل بدنوں سے بھرے تمام
خالی رہا پر ایک ہمارا کنار آہ

کیا پوچھتے ہو شوخ سے ملنے کی اب خبر
کتنا ہی جستجو میں پھرے ہم ادھر ادھر
لیکن ملا نہ ہم سے وہ عیار فتنہ گر
ملنا تو اک طرف ہے عزیزو کہ بھر نظر
پوشاک کی بھی ہم نے نہ دیکھی بہار آہ

رکھتے تھے ہم امید یہ دل میں کہ عید کو
کیا کیا گلے لگاویں گے دل بر کو شاد ہو
سو تو وہ آج بھی نہ ملا شوخ حیلہ جو
تھی آس عید کی سو گئی وہ بھی دوستو
اب دیکھیں کیا کرے دل امیدوار آہ

اس سنگ دل کی ہم نے غرض جب سے چاہ کی
دیکھا نہ اپنے دل کو کبھی ایک دم خوشی
کچھ اب ہی اس کی جورو و تعدی نہیں نئی
ہر عید میں ہمیں تو سدا یاس ہی رہی
کافر کبھی نہ ہم سے ہوا ہمکنار آہ

اقرار ہم سے تھا کئی دن آگے عید سے
یعنی کہ عید گاہ کو جاویں گے تم کو لے
آخر کو ہم کو چھوڑ گئے ساتھ اور کے
ہم ہاتھ ملتے رہ گئے اور راہ دیکھتے
کیا کیا غرض سہا ستم انتظار آہ

کیوں کر لگیں نہ دل میں مرے حسرتوں کے تیر
دن عید کے بھی مجھ سے ہوا وہ کنارہ گیر
اس درد کو وہ سمجھے جو ہو عشق کا اسیر
جس عید میں کہ یار سے ملنا نہ ہو نظیرؔ
اس کے اپر تو حیف ہے اور صد ہزار آہ

شب برات

کیونکر کرے نہ اپنی نموداری شب برات
چلپک چپاتی حلوے سے ہے بھاری شب برات
زندوں کی ہے زباں کی مزیداری شب برات
مردوں کی روح کی ہے مددگاری شب برات
لگتی ہے سب کے دل کو غرض پیاری شب برات

شکر کا جن کے حلوہ ہوا وہ تو پورے ہیں
گڑ کا ہوا ہے جن کے وہ ان سے ادھورے ہیں
شکر نہ گڑ کا جن کے وہ پرکٹ لنڈورے ہیں
اوروں کے میٹھے حلوے چپاتی کو گھورے ہیں
ان کی نہ آدھی پاؤ نہ کچھ ساری شب برات

دنیا کی دولتوں میں جو زردار ہیں بڑے
قندوں کے حلوے روغنی نانیں لیے کھڑے
پہنچائے خوان پھرتے ہیں نوکر کئی پڑے
زندے بھی راہ تکتے ہیں مردے بھی ہیں کھڑے
ان خوبیوں کو رکھتی ہے تیاری شب برات

ٹھلیاں چپاتی حلوے کی تو سب میں چال ہے
ادنیٰ غریب کے تئیں یہ بھی محال ہے
کالے سے گڑ کی لپٹی کڑھی کی مثال ہے
پانی سے ہانڈی گیہوں کی روٹی بھی لال ہے
کرتی ہے ایسی دکھیا پنساری شب برات

اور مفلسوں کی ہے یہ تمنا کی فاتحہ
دریا پہ جا کے دیتے ہیں بابا کی فاتحہ
بھٹیاری کے تنور پہ نانا کی فاتحہ
حلوائی کی دکان پہ دادا کی فاتحہ
یاں تک تو ان پہ لاتی ہے ناچاری شب برات

وارث ہیں جن کے جیتے وہ مردے بھی آن کر
حلوے چپاتی خوب ہی چکھتے ہیں پیٹ بھر
جن کا کوئی نہیں ہے وہ پھرتے ہیں در بدر
اوروں کے لگتے پھرتے ہیں کونوں سے گھر بہ گھر
ان کی ہے کھاری نون سے بھی کھاری شب برات

ملا جو دینے فاتحہ گھر گھر میں جاتے ہیں
حلوہ کہیں کہیں وہ چپاتی اڑاتے ہیں
مفلس کوئی بلاوے تو منہ کو چھپاتے ہیں
شکر کا حلوہ سنتے ہی بس دوڑے جاتے ہیں
کہتے ہوئے یہ دل میں اہا ہا ری شب برات

چھوڑے ہے لٹو تونبڑی ہر دم بنا کے جو
حاکم کا پیادہ کہتا ہے یوں اس سے تلخ ہو
کپڑے بدن بچا کے جو چاہو سو چھوڑ دو
چھپر جلاؤ گے تو دلاوے گی صبح کو
تم سے چبوترے میں گنہ گاری شب برات

گھن چکر اپنے دم میں کہیں چرخ کھاتے ہیں
ٹونٹے ہوائی سینک کہیں قہقہہاتے ہیں
زینپٹ زپٹ پٹاخے کہیں غل مچاتے ہیں
لڑکوں کے باندھ غول کہیں لڑنے جاتے ہیں
کرتی ہے پھر تو ایسی دھواندھاری شب برات

آ کر کسی کے سر پہ چھچھوندر لگی کڑی
اوپر سے اور ہوائی کی آ کر پڑی چھڑی
ہو گئی گلے کا ہار پٹاخے کی ہر لڑی
پاؤں سے لپٹی شور مچا کر قلم تڑی
کرتی ہے پھر تو ایسی ستم گاری شب برات

چہرہ کسی کا جل گیا آنکھیں جھلس گئیں
چھاتی کسی کی جل گئی باہیں جھلس گئیں
ٹانگیں بچیں کسی کی تو رانیں جھلس گئیں
مونچھیں کسی کی پھک گئیں پلکیں جھلس گئیں
رکھے کسی کی داڑھی پہ چنگاری شب برات

کوئی دوستوں کو دل میں سمجھتا ہے اپنے غیر
کوئی دشمنوں سے دل کا نکالے ہے اپنا بیر
کہتا ہے واں نظیرؔ بھی آتش کی دیکھ سیر
یا رب تو سب کی کیجیو برسا برس کی خیر
بے طرح کر رہی ہے نموداری شب برات

گرو نانک شاہ

ہیں کہتے نانک شاہ جنہیں وہ پورے ہیں آگاہ گرو
وہ کامل رہبر جگ میں ہیں یوں روشن جیسے ناہ گرو
مقصود مراد امید سبھی بر لاتے ہیں دل خواہ گرو
نت لطف و کرم سے کرتے ہیں ہم لوگوں کا نرباہ گرو
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

ہر آن دلوں وچ یاں اپنے جو دھیان گرو کا دھرتے ہیں
اور سیوک ہو کر ان کے ہی ہر صورت بیچ کہاتے ہیں
گرد اپنی لطف و عنایت سے سکھ چین انہیں دکھلاتے ہیں
خوش رکھتے ہیں ہر حال انہیں سب من کا کاج بناتے ہیں
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

دن رات جنہوں نے یاں دل وچ ہے یاد گرو سے کام لیا
سب من کے مقصد بھر پائے خوش وقتی کا ہنگام لیا
دکھ درد میں اپنے دھیان لگا جس وقت گرو کا نام لیا
پل بیچ گرو نے آن انہیں خوش حال کیا اور تھام لیا
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

الطاف جنہوں پر ہیں ان کے سو خوبی حاصل ہے ان کو
ہر آن نظیرؔ اب یاں تم بھی تو بابا نانک شاہ کہو
اس بخشش کے اس عظمت کے ہیں بابا نانک شاہ گرو
سب سیس نوا ارداس کرو اور ہر دم بولو واہ گرو

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.