
Capítulo 6 de 19
六行诗:穆斯林的学术与他们的遗迹(78—105)
Musaddas: The Sciences of the Muslims and Their Monuments (78–105)
مسدس: مسلمانوں کے علوم و فنون اور ان کے آثار (بند ۷۸ تا ۱۰۵)
مسدس: مسلمانوں کے علوم و فنون اور ان کے آثار (بند ۷۸ تا ۱۱۰)
سدا ان کو مرغوب سیر و سفر تھا
ہر اک برِ اعظم میں ان کا گزر تھا
تمام ان کا چھانا ہوا بحر و بر تھا
جو لنکا میں ڈیرا تو بربر میں گھر تھا
وہ گنتے تھے یکساں وطن اور سفر کو
گھر اپنا سمجھتے تھے ہر دشت و در کو
جہاں کو ہے یاد ان کی رفتار اب تک
کہ نقشِ قدم ہیں نمودار اب تک
ملایا میں ہیں ان کے آثار اب تک
انہیں رو رہا ہے ملیبار اب تک
ہمالہ کو ہیں واقعات ان کے ازبر
نشاں ان کے باقی ہیں جبرالٹر پر
نہیں اس طبق پر کوئی برِ اعظم
نہ ہوں جس میں ان کی عمارات محکم
عرب، ہند، مصر، اندلس و شام و دیلم
بناؤں سے ہیں ان کی معمور عالم
سرِ کوہِ آدم سے تا کوہِ بیضا
جہاں جاؤ گے کھوج پاؤ گے ان کا
وہ سنگیں محل اور وہ ان کی صفائی
جمی جن کے کھنڈروں پہ ہے آج کائی
وہ مرقد کہ گنبد تھے جن کے طلائی
وہ معبد جہاں جلوہ گر تھی خدائی
زمانہ نے گو ان کی برکت اٹھائی
نہیں کوئی ویرانہ پر ان سے خالی
ہوا اندلس ان سے گلزارِ یکسر
جہاں ان کے آثار باقی ہیں اکثر
جو چاہے کوئی دیکھ لے آج جا کر
یہ ہے بیتِ حمرا کی گویا زباں پر
کہ تھے آلِ عدنان سے میرے بانی
عرب کی ہوں میں اس زمیں پر نشانی
ہویدا ہے غرناطہ سے شوکت ان کی
عیاں ہے بلنسیہ سے قدرت ان کی
بطلیوس کو یاد ہے عظمت ان کی
ٹپکتی ہے قادس میں سرِ حسرت ان کی
نصیب ان کا اشبیلیہ میں ہے سوتا
شب و روز ہے قرطبہ ان کو روتا
کوئی قرطبہ کے کھنڈر جا کے دیکھے
مساجد کے محراب و در جا کے دیکھے
حجازی امیروں کے گھر جا کے دیکھے
خلافت کو زیر و زبر جا کے دیکھے
جلال ان کا کھنڈروں میں ہے یوں چمکتا
کہ ہو خاک میں جیسے کندن دمکتا
وہ بلدہ کہ فخرِ بلادِ جہاں تھا
ترو خشک پر جس کا سکہ رواں تھا
گڑا جس میں عباسیوں کا نشاں تھا
عراقِ عرب جس سے رشکِ جناں تھا
اڑا لے گئی بادِ پندار جس کو
بہا لے گئی سیلِ تاتار جس کو
سنے گوشِ عبرت سے گر جا کے انساں
تو واں ذرہ ذرہ یہ کرتا ہے اعلاں
کہ تھا جن دنوں مہرِ اسلام تاباں
ہوا یاں کی تھی زندگی بخشِ دوراں
پڑی خاکِ ایتھنز میں جاں یہیں سے
ہوا زندہ پھر نامِ یوناں یہیں سے
وہ لقمان و بقراط کے درِ مکنوں
وہ اسرارِ سقراط و درسِ فلاطوں
ارسطو کی تعلیم سولن کے قانوں
پڑے تھے کسی قبرِ کہنہ میں مدفوں
یہیں آ کے مہرِ سکوت ان کی ٹوٹی
اسی باغِ رعنا سے بو ان کی پھوٹی
یہ تھا علم پر واں توجہ کا عالم
کہ ہو جیسے مجروح جویائے مرہم
کسی طرح پیاس ان کی ہوتی نہ تھی کم
بجھاتا تھا آگ ان کی باراں نہ شبنم
حریمِ خلافت میں اونٹوں پہ لد کر
چلے آتے تھے مصر و یوناں کے دفتر
وہ تارے جو تھے شرق میں لمعہ افگن
پہ تھا ان کی کرنوں سے تا غرب روشن
نوشتوں سے ہیں جن کے اب تک مزین
کتب خانۂ پیرس و روم و لندن
پڑا غلغلہ جن کا تھا کشوروں میں
وہ سوتے ہیں بغداد کے مقبروں میں
وہ سنجار کا اور کوفہ کا میداں
فراہم ہوئے جس میں مسّاحِ دوراں
کرہ کی مساحت کے پھیلائے ساماں
ہوئی جزو سے قدرِ کل کی نمایاں
زمانہ وہاں آج تک نوحہ گر ہے
کہ عباسیوں کی سپاہ وہ کدھر ہے
سمرقند سے اندلس تک سراسر
انہیں کی رصد گاہیں تھیں جلوہ گستر
سوادِ مراغہ میں اور قاسیون پر
زمیں سے صدا آ رہی ہے برابر
کہ جن کی رصد کے یہ باقی نشاں ہیں
وہ اسلامیوں کے منجم کہاں ہیں
مورخ جو ہیں آج تحقیق والے
تفحص کے ہیں جن کے آئیں نرالے
جنہوں نے ہیں عالم کے دفتر کھنگالے
زمیں کے طبق سر بسر چھان ڈالے
عرب ہی نے دل ان کے جا کر ابھارے
عرب ہی سے وہ بھرنے سیکھے ترارے
اندھیرا تواریخ پر چھا رہا تھا
ستارہ روایت کا گہنا رہا تھا
درایت کے سورج پہ ابر آ رہا تھا
شہادت کا میدان دھندلا رہا تھا
سرِ رہ چراغ اک عرب نے جلایا
ہر اک قافلہ کا نشاں جس سے پایا
گروہ ایک جویا تھا علمِ نبی کا
لگایا پتا جس نے ہر مفتری کا
نہ چھوڑا کوئی رخنہ کذبِ خفی کا
کیا قافیہ تنگ ہر مدعی کا
کیے جرح و تعدیل کے وضع قانوں
نہ چلنے دیا کوئی باطل کا افسوں
اسی دھن میں آساں کیا ہر سفر کو
اسی شوق میں طے کیا بحر و بر کو
سنا خازنِ علمِ دیں جس بشر کو
لیا اس سے جا کر خبر اور اثر کو
پھر آپ اس کو پرکھا کسوٹی پہ رکھ کر
دیا اور کو خود مزا اس کا چکھ کر
کیا فاش راوی میں جو عیب پایا
مناقب کو چھانا مثالب کو تایا
مشائخ میں جو قبح نکلا جتایا
ائمہ میں جو داغ دیکھا بتایا
طلسمِ ورع ہر مقدس کا توڑا
نہ ملا کو چھوڑا نہ صوفی کو چھوڑا
رجال اور اسانید کے جو ہیں دفتر
گواہ ان کی آزادگی کے ہیں یکسر
نہ تھا ان کا احسان یہ اک اہلِ دیں پر
وہ تھے اس میں ہر قوم و ملت کے رہبر
لبرٹی میں جو آج فائق ہیں سب سے
بتائیں کہ لبرل بنے ہیں وہ کب سے
فصاحت کے دفتر تھے سب گاؤ خوردہ
بلاغت کے رستے تھے سب ناسپردہ
ادھر روم کی شمعِ انشا تھی مردہ
ادھر آتشِ پارسی تھی فسردہ
کہ یکایک جو برق آ کے چمکی عرب کی
کھلی کی کھلی رہ گئی آنکھ سب کی
عرب کی جو دیکھی وہ آتش زبانی
سنی بر محل ان کی شیوا بیانی
وہ اشعار کی دل میں ریشہ دوانی
وہ خطبوں کی مانندِ دریا روانی
وہ جادو کے جملے وہ فقرے فنوں کے
تو سمجھے کہ گویا ہم اب تک تھے گونگے
سلیقہ کسی کو نہ تھا مدح و ذم کا
نہ ڈھب یاد تھا شرحِ شادی و غم کا
نہ اندازِ تلقین و وعظ و حکم کا
خزانہ تھا مدفوں زباں اور قلم کا
نوا سنجیاں ان سے سیکھیں یہ سب نے
زباں کھول دی سب کی نطقِ عرب نے
زمانہ میں پھیلی طب ان کی بدولت
ہوئی بہرہ ور جس سے ہر قوم و ملت
نہ صرف ایک مشرق میں تھی ان کی شہرت
مسلم تھی مغرب تک ان کی حذاقت
سلرنو میں جو ایک نامی مطب تھا
وہ مغرب میں عطارِ مشکِ عرب تھا
ابوبکر رازی علی ابنِ عیسیٰ
حکیم گرامی حسین ابنِ سینا
حنین ابنِ اسحق قسطا دانا
ضیا ابنِ بیطار راس الاطبا
انہیں کے ہیں مشرق میں سب نام لیوا
انہیں سے ہوا پار مغرب کا کھیوا
غرض فن ہیں جو مایۂ دین و دولت
طبیعی، الٰہی، ریاضی و حکمت
طب اور کیمیا، ہندسہ اور ہیئت
سیاست تجارت، عمارت، فلاحت
لگاؤ گے کھوج ان کا جا کر جہاں تم
نشاں ان کے قدموں کے پاؤ گے واں تم
ہوا گو کہ پامال بستاں عرب کا
مگر اک جہاں ہے غزلخواں عرب کا
ہر اک گل کو سیراب باراں عرب کا
سپید و سیہ پر ہے احساں عرب کا
وہ قومیں جو ہیں آج سر تاجِ سب کی
کنونڈی رہیں گی ہمیشہ عرب کی
رہے جب تک ارکانِ اسلام برپا
چلن اہلِ دیں کا رہا سیدھا سادا
رہا میل سے شہدِ صافی مصفا
رہی کھوٹ سے سیمِ خالص مبرا
نہ تھا کوئی اسلام کا مردِ میداں
عَلَم ایک تھا کہ شش جہت میں درافشاں
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.