
Глава 19 из 19
向先知的陈情(Arz-e-Hal)
Petition to the Prophet (Arz-e-Hal)
عرضِ حال، بجنابِ سرورِ کائنات
عرضِ حال، بجنابِ سرورِ کائنات علیہ افضل الصلوات و اکمل التحیات
اے خاصۂ خاصانِ رسل وقتِ دعا ہےامت پہ تری آ کے عجب وقت پڑا ہے
جو دین بڑی شان سے نکلا تھا وطن سےپردیس میں وہ آج غریب الغربا ہے
جس دین کے مہماں تھے کبھی قیصر و کسریٰخود آج وہ مہمان سرائے فقرا ہے
وہ دین ہوئی بزمِ جہاں جس سے چراغاںاب اس کی مجالس میں نہ بتی نہ دیا ہے
جو دین کہ تھا شرک سے عالم کا نگہباںاب اس کا نگہبان اگر ہے تو خدا ہے
جو تفرقے اقوام کے آیا تھا مٹانےاس دین میں خود تفرقہ اب آ کے پڑا ہے
جس دین نے غیروں کے تھے دل آ کے ملائےاس دین میں خود بھائی سے اب بھائی جدا ہے
جو دین کہ ہمدردِ بنی نوعِ بشر تھااب جنگ و جدل چار طرف اس میں بپا ہے
جس دین کا تھا فقر بھی اکسیرِ غنا بھیاس دین میں اب فقر ہے باقی نہ غنا ہے
جو دین کہ گودوں میں پلا تھا حکما کیوہ عرضۂ تیغِ جہلا و سفہا ہے
جس دین کی حجت سے سب ادیان تھے مغلوباب معترض اس پہ ہر ہرزہ سرا ہے
ہے دین ترا آب بھی وہی چشمۂ صافیدینداروں میں پر آب ہے باقی نہ صفا ہے
عالم ہے جو بے عقل ہے جاہل ہے جو ہشیارمنعم ہے جو مغرور ہے مفلس ہے جو گدا ہے
یاں راگ ہے دن رات تو واں رنگ شب و روزیہ مجلسِ اعیاں ہے وہ بزمِ شرفا ہے
چھوٹوں میں اطاعت ہے نہ شفقت ہے بڑوں میںپیاروں میں محبت نہ یاروں میں وفا ہے
دولت ہے نہ عزت نہ فضیلت نہ ہنر ہےاک دین ہے باقی سو وہ بے برگ و نوا ہے
ہے دین کی دولت سے بہا علم سے رونقبے دولت و علم اس میں نہ رونق نہ بہا ہے
شاہد ہے اگر دین تو علم اس کا ہے زیورزیور ہے اگر علم تو مال اس کی جلا ہے
جس قوم میں اور دین میں ہو علم نہ دولتاس قوم کی اور دین کی پانی پہ بنا ہے
گو قوم میں تیری نہیں اب کوئی بڑائیپر نام تری قوم کا یاں اب بھی بڑا ہے
ڈر ہے کہیں یہ نام بھی مٹ جائے نہ آخرمدت سے اسے دورِ زماں میٹ رہا ہے
جس قصر کا تھا سرِ فلک گنبدِ اقبالادبار کی اب گونج رہی اس میں صدا ہے
بیڑا تھا جو بادِ مخالف سے خبردارجو چلتی ہے اب چلتی خلاف اس کے ہوا ہے
وہ روشنیٔ بام و درِ کشورِ اسلامیاد آج تلک جس کی زمانے کو ضیا ہے
روشن نظر آتا نہیں واں کوئی چراغ آجبجھنے کو ہے گر کوئی بجھنے کو بچا ہے
عشرت کدے آباد تھے جس قوم کے ہر سواس قوم کا ایک ایک گھر اب بزمِ عزا ہے
چاؤش تھے للکارتے جن رہگزروں میںدن رات بلند ان میں فقیروں کی صدا ہے
وہ قوم کہ آفاق میں جو سر بفلک تھیوہ یاد میں اسلاف کی اب رو بقضا ہے
جو قوم کہ مالک تھی علوم اور حکم کیاب علم کا واں نام نہ حکمت کا پتا ہے
کھوج ان کے کمالات کا لگتا ہے اب اتناگم دشت میں اک قافلہ بے طبل و درا ہے
بگڑی ہے کچھ ایسی کہ بنائے نہیں بنتیہے اس پہ یہ ظاہر کہ یہی حکمِ قضا ہے
تھی آس تو تھا خوف بھی ہمراہ رجا کےاب خوف ہے مدت سے دلوں میں نہ رجا ہے
جو کچھ ہیں وہ سب اپنے ہی ہاتھوں کے ہیں کرتوتشکوہ ہے زمانے کا نہ قسمت کا گلا ہے
دیکھیں ہیں یہ دن اپنی ہی غفلت کی بدولتسچ ہے کہ برے کام کا انجام برا ہے
کی زیبِ بدن سب نے ہی پوشاک کتاں کیاور برف میں ڈوبی ہوئی کشور کی ہوا ہے
درکار ہیں یاں معرکے میں جوشن و خفتاںاور دوش پہ یاروں کے وہی کہنہ ردا ہے
دریائے پر آشوب ہے اک راہ میں حائلاور مٹکے کے گھوڑناؤ پہ یاں قصدِ شنا ہے
ملتی نہیں اک بوند بھی پانی کی جہاں مفتواں قافلہ سب گھر سے تہی دست چلا ہے
یاں نکلے ہیں سودے کو درم لے کے پرانےاور سکہ رواں شہر میں مدت سے نیا ہے
فریاد ہے اے کشتیٔ امت کے نگہباںبیڑا یہ تباہی کے قریب آن لگا ہے
اے چشمۂ رحمت ”بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي“دنیا پہ ترا لطف سدا عام رہا ہے
جس قوم نے گھر اور وطن تجھ سے چھڑایاجب تو نے کیا نیک سلوک ان سے کیا ہے
صدمہ درِ دنداں کو ترے جس نے کہ پہنچایاکی ان کے لیے تو نے بھلائی کی دعا ہے
کی تو نے خطا عفو ہے ان کینہ کشوں کیکھانے میں جنہوں نے کہ تجھے زہر دیا ہے
سو بار ترا دیکھ کے عفو اور ترحمہر باغی و سرکش کا سر آخر کو جھکا ہے
جو بے ادبی کرتے تھے اشعار میں تیریمنقول انہی سے تری پھر مدح و ثنا ہے
برتاؤ تھے جب کہ یہ اعدا سے ہیں اپنےامداد سے غلاموں کو کچھ امید سوا ہے
کر حق سے دعا امتِ مرحوم کے حق میںخطروں میں بہت جس کا جہاز آ کے گھرا ہے
امت میں تری نیک بھی ہیں بد بھی ہیں لیکندلدادہ ترا ایک سے ایک ان میں سوا ہے
ایماں جسے کہتے ہیں عقیدہ میں ہمارےوہ تیری محبت تری عترت کی ولا ہے
ہر چند کہ ہے دہرِ مخالف پہ ترا نامہتھیار جوانوں کا ہے پیروں کا عصا ہے
جو خاک ترے در پہ ہے جاروب سے اڑتیوہ خاک ہمارے لیے داروئے شفا ہے
جو شہر ہوا تیری ولادت سے مشرفاب تک وہی قبلہ تری امت کا رہا ہے
جس ملک نے پائی تری ہجرت سے سعادتکعبے کی کشش اس کی ہر اک دل میں سوا ہے
کل دیکھیے پیش آئے غلاموں کو ترے کیااب تک تو ترے نام پہ اک ایک فدا ہے
ہم نیک ہیں یا بد ہیں پھر آخر ہیں تمہارےنسبت بہت اچھی ہے اگر حال برا ہے
گر دیں تو حق اپنا ہے کچھ تجھ پہ زیادہاخبار میں ”اَلطَّالِحُ لِی“ ہم نے سنا ہے
تدبیر سنبھلنے کی ہمارے نہیں کوئیہاں ایک دعا تیری کہ مقبولِ خدا ہے
خود جاہ کے طالب ہیں نہ عزت کے ہیں خواہاںپر فکر ترے دین کی عزت کی سدا ہے
گر دین کو جوکھوں نہیں ذلت سے ہماریامت تری ہر حال میں راضی برضا ہے
عزت کی بہت دیکھ لیں دنیا میں بہاریںاب دیکھ لیں یہ بھی کہ جو ذلت میں مزا ہے
ہاں حالی گستاخ نہ بڑھ حدِ ادب سےباتوں سے ٹپکتا تری اب صاف گلا ہے
ہے پھر بھی خبر تجھ کو کہ ہے کون مخاطبیاں جنبشِ لب خارج از آہنگ خطا ہے
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.