
Chapter 8 of 13
How Urdu Poetry Can Progress in Step with the Times
زمانہ کی رفتار کے موافق اردو شاعری میں ترقی کیونکر ہو سکتی ہے
زمانہ کی رفتار کے موافق اردو شاعری میں ترقی کیونکر ہو سکتی ہے
یہاں تک شعر و شاعری کی حقیقت اور وہ شرطیں جن پر شعر کی خوبی اور شاعر کا کمال منحصر ہے، کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کی گئیں۔ اب ہم اپنے ہموطنوں کو جو زمانہ کی رفتار کے موافق شاعری میں ترقی کرنے کا خیال رکھتے ہیں، اپنی سمجھ اور رائے کے موافق چند مشورے دیتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ جن ذریعوں سے ایشیا کی شاعری ہمیشہ ترقی پاتی رہی ہے، وہ اردو کی شاعری کے لیے فی زماننا مفقود ہیں، اور ہرگز امید نہیں ہے کہ کبھی زمانۂ آئندہ میں ایسے ذریعے مہیا ہو سکیں، بقول شخصے "وہ منڈھی ہی جاتی رہی جہاں اپیت رہتے تھے"۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ قدرتی سرچشمہ جو ہمیشہ ہر قوم کی ترقی کا منبع رہا ہے، یعنی سلف ہلپ اور اپنی ذات پر بھروسا کرنا، اس کی سوتیں بھی ہماری قوم میں مدت سے بند ہیں۔ پس ایسی حالت میں اردو شاعری کی ترقی کا خیال پکانا گویا زمانۂ ناسازگار سے مقابلہ کرنا ہے؛ خصوصاً ایسے زمانہ میں جبکہ اردو سے نہایت اعلیٰ اور اشرف زبانوں کی شاعری بھی معرض زوال میں ہو، سائنس اس کی جڑ کاٹ رہا ہو، اور سویلزیشن اس کا طلسم توڑ رہی ہو، اور اس کے جادو کو حرف غلط کی طرح مٹا رہی ہو۔ لیکن چونکہ یاس اور امید دونو حالتوں میں اخیر وقت تک ہاتھ پاؤں مارنا جاندار کا طبیعی اقتضا ہے، مذبوح کی حرکت اور مدقوق کی امید دم واپسیں تک باقی رہتی ہے، اس لیے جو کچھ ہم لکھنا چاہتے ہیں اس سے یہ جتانا مقصود نہیں ہے کہ کچھ ہوگا، بلکہ یہ ظاہر کرنا ہے کہ کاش ایسا ہوتا۔
شاعری کے لیے سبقی استعداد ضروری
سب سے پہلے ہم اس بات کی صلاح دیتے ہیں کہ شاعری کے کوچہ میں اسی شخص کو قدم رکھنا چاہیے جس کی فطرت میں یہ ملکہ ودیعت کیا گیا ہو، ورنہ تمام کاوش اور تمام کوشش رائگاں جائے گی۔ یوں تو ہر فن اور ہر پیشہ میں کمال حاصل کرنے کے لیے مناسبت فطری کی ضرورت ہے، لیکن شاعری میں، جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے، اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ جب تک شاعر کی فکر میں اتنی بھی اپج نہ ہو جتنی کہ ایک بئے میں گھونسلا بنانے کی اور مکڑی میں جالا پورنے کی ہوتی ہے، اس کو ہرگز مناسب نہیں کہ اس خیال خام میں اپنا وقت ضائع کرے، بلکہ خدا کا شکر کرنا چاہیے کہ اس کے دماغ میں یہ خلل نہیں ہے۔
شاعری کی ابتدا بعینہ ایسی ہوتی ہے جیسی شطرنج کی ابتدا ہوتی ہے۔ جس کی طبیعت کو شطرنج سے لگاؤ ہوتا ہے اس کو دو ہی چار دن میں باریک اور گہری چالیں سوجھنے لگتی ہیں، اور شطرنج میں اس کو ایسا مزا آنے لگتا ہے کہ کھانا پینا اور سونا سب بھول جاتا ہے، اور روز بروز اس کی چال بڑھتی جاتی ہے؛ مگر جن کی طبیعت کو اس سے لگاؤ نہیں ہوتا ان کا حال اس کے برعکس ہوتا ہے۔ وہ اگر تمام عمر شطرنج کھیلیں، ان کی چال اس درجہ سے کبھی آگے نہیں بڑھتی جو ابتدائی چند روزہ مشق سے ان کو حاصل ہوا تھا۔ یہی حال شاعری کا ہے۔ جن لوگوں کی فطرت میں اس کا ملکہ ہوتا ہے، ان کی طبیعت ابتدا ہی سے راہ دینے لگتی ہے۔ اگر وہ کسی وجہ سے اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو طبیعت کا اقتضا ان کو جبراً اس کی طرف کھینچ کر لاتا ہے؛ وہ جب اس کی طرف توجہ کرتے ہیں تو ان کو کچھ نہ کچھ کامیابی ضرور ہوتی ہے، اور اس لیے ان کا دل روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ ان کو اپنی قوت ممیزہ پر پورا بھروسا ہوتا ہے۔ وہ اپنے کلام کی برائی اور بھلائی کا بغیر اس کے کہ کسی سے مشورہ یا اصلاح لیں آپ اندازہ کر سکتے ہیں۔ ان کی طبیعت میں ہر حالت اور ہر واقعہ سے، خواہ وہ حالت اور واقعہ خود ان پر گذرے یا زید و عمرو پر یا ایک چیونٹی پر، متاثر ہونے کی قابلیت ہوتی ہے، اور اس قابلیت سے اگر وہ چاہیں تو بہت کچھ فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ ان کو خارج سے اپنی شاعری کا مصالح فراہم کرنے کی صرف اسی قدر ضرورت ہوتی ہے جس قدر کہ بئے کو اپنے گھونسلے کے لیے پھونس اور تنکوں کے باہر سے لانے کی ضرورت ہوتی ہے؛ ورنہ وہ سلیقہ جو الفاظ و خیالات کی ترتیب و انتخاب کے لیے درکار ہے، وہ اپنی ذات میں اسی طرح پاتے ہیں جس طرح کہ بیا گھونسلا بنانے کا ہنر اور سلیقہ اپنی ذات میں پاتا ہے۔ وہ اساتذہ کے کلام سے صرف یہی فائدہ نہیں اٹھاتے کہ جو کچھ انھوں نے لکھا یا باندھا ہے اس سے مطلع ہو جاتے ہیں، بلکہ ان کے ایک ایک مصرع اور ایک ایک لفظ سے بعض اوقات ان کو وہ سبق حاصل ہوتا ہے جو ایک ناشاعر مہینوں میں کسی استاد سے حاصل نہیں کر سکتا۔
پس ہمارے ملک میں جو شاعری کے لیے ایک استاد قرار دینے کا دستور اور اصلاح کے لیے ہمیشہ اس کو اپنا کلام دکھانے کا قاعدہ قدیم سے چلا آتا ہے، اس سے شاگردوں کے حق میں کوئی معتدبہ فائدہ مترتب ہونے کی امید نہیں ہے۔ استاد شاگرد کے کلام میں اس سے زیادہ اور کیا کر سکتا ہے کہ کوئی گرامر کی غلطی بنا دے یا کسی عروضی یا لغوی غلطی کی اصلاح کر دے؛ لیکن اس سے نفس شعر میں کچھ ترقی نہیں ہو سکتی۔ رہی یہ بات کہ استاد شاگرد کے پست کلام کو بلند کر دے یا شاگرد کو اپنا ہمسر بنا دے، سو یہ امر خود استاد کی طاقت اور اختیار سے باہر ہے۔ اگر استادوں میں شاگردوں کو اپنا ہمسر بنانے کی طاقت ہوتی تو ملا نظامی صاحبزادہ کو یہ نصیحت نہ کرتے: "در شعر مپیچ و بلند نامی / کایں ختم شدست بر نظامی"۔ اور اگر کمال شاعری کے لیے کسی کا تلمذ اختیار کرنا ضروری ہوتا تو سنائی، نظامی، سعدی، خسرو اور حافظ کے ضرور ایسے استاد نکلتے جن کی شہرت شاگردوں سے زیادہ نہیں تو ان کے برابر یا ان سے کمتر تو ہوتی۔
شاعر بننے کے لیے سب سے اول سبقی استعداد، اور پھر نیچر کا مطالعہ، اور اس کے بعد کثرت سے اساتذہ کا کلام دیکھنا اور ان کے برگزیدہ کلام کا اتباع کرنا، اور اگر میسر آئے تو ان لوگوں کی صحبت سے مستفید ہونا جو شعر کا صحیح مذاق رکھتے ہوں (عام اس سے کہ شاعر ہوں یا نہ ہوں)، صرف اسی قدر کافی ہے اور بس۔ البتہ ان لوگوں کو جو مستند زبان پر کافی عبور نہیں رکھتے، ممکن ہے کہ محاورات کے استعمال میں شبہات واقع ہوں؛ لیکن ان شبہات کا رفع ہونا کسی مشاق و ماہر استاد پر موقوف نہیں ہے، بلکہ وہ ہر صاحب زبان سے، یہاں تک کہ ایک دایہ، ایک ماماں، ایک کنجڑن بلکہ ایک حلال خوری سے بھی رفع ہو سکتے ہیں۔
جھوٹ اور مبالغہ سے بچنا چاہیے
دوسری نہایت ضروری بات یہ ہے کہ شعر میں جہاں تک ممکن ہو حقیقت اور راستی کا سررشتہ ہاتھ سے دینا نہیں چاہیے۔ اگرچہ ہم نے جو اصلیت کی شرح اوپر بیان کی ہے، اس میں دائرۂ بیان کو زیادہ وسیع کر دیا ہے اور اصلیت کے لیے بہت سے پہلو نکالے ہیں؛ لیکن زمانہ کا اقتضا یہ ہے کہ جھوٹ، مبالغہ، بہتان، افترا، صریح خوشامد، ادعائے بے معنی، تعلی بیجا، الزام لایعنی، شکوۂ بے محل، اور اور اسی قسم کی باتیں جو صدق و راستی کی منافی ہیں اور جو ہماری شاعری کے قوام میں داخل ہو گئی ہیں، ان سے جہاں تک ممکن ہو قاطبتاً احتراز کیا جائے۔ یہ سچ ہے کہ ہماری شاعری میں خلفائے عباسیہ کے زمانہ سے لے کر آج تک جھوٹ اور مبالغہ برابر ترقی کرتا چلا آیا ہے، اور شاعر کے لیے جھوٹ بولنا صرف جائز ہی نہیں رکھا گیا بلکہ اس کی شاعری کا زیور سمجھا گیا ہے؛ لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ جب سے ہماری شاعری میں جھوٹ اور مبالغہ داخل ہوا، اسی وقت سے اس کا تنزل شروع ہوا۔ عرب عربا اور صدر اول کے شعرا جھوٹ سے نہایت نفرت کرتے تھے اور اس کو عیوب شاعری میں سے سمجھتے تھے۔ زہیر ابن ابی سلمیٰ، جو صدر اول کا شاعر ہے، اس کا قول ہے کہ "احسن القول ما صدقہ الفعل"، یعنی سب سے بہتر کلام وہ ہے جس پر کام گواہی دیں؛ اور اسی شاعر کا یہ مشہور شعر ہے:
"وان اشعر بیت انت قائلہ / بیت یقال اذا انشدتہ صدقا"
اسی زہیر کی نسبت حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کہا کرتے تھے: "انہ اشعر الشعراء لانہ لا یمدح الا مستحقا" (یعنی وہ افضل ترین شعرا ہے، کیونکہ وہ اسی کی مدح کرتا ہے جو مستحق مدح ہو)۔ ایک بار بنی تمیم نے سلامہ بن جندل سے، جو ایک جاہلی شاعر ہے، درخواست کی کہ "مجدنا بشعرک" (یعنی تو اپنے شعر سے ہماری عزت بڑھا)۔ اس نے کہا: "افعلوا حتی اقول" (یعنی تم کچھ کر کے دکھاؤ تاکہ میں اس کو بیان کروں)۔
صاحب عقد الفرید لکھتے ہیں کہ "شعرائے عرب اپنی مدح سے ممدوحوں کی عزت بڑھا دیتے تھے اور ہجو سے لوگوں کو ذلیل و رسوا کر دیتے تھے"۔ اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ وہ ان کی واقعی خوبیاں یا واقعی برائیاں بیان کرتے تھے؛ ورنہ جھوٹی مدح اور جھوٹی ہجو سے کوئی شخص عزیز یا ذلیل نہیں ہو سکتا۔
معاویہ بن ابی سفیان کہتے ہیں کہ "شعر وہ چیز ہے جس کے پڑھنے سے بخیل فیاض، نامرد بہادر، اور نااہل بیٹا اہل و فرمانبردار ہو جاتا ہے"۔ ظاہر ہے کہ اس تعریف کا مصداق اگر کوئی شعر ہو سکتا ہے تو وہی ہو سکتا ہے جو جھوٹ اور مبالغہ سے پاک ہو۔ ابو نواس نے خلیفہ کی مدح میں یہ شعر کہہ دیا تھا: "واخفت اہل الشرک حتی انہ / لتخافک النطف التی لم تخلق" (یعنی تو نے اہل شرک کو ایسا ڈرایا ہے کہ جو نطفے ہنوز قرار نہیں پائے، وہ صلب پدر ہی میں تجھ سے خوف کھاتے ہیں)۔ اس پر لوگوں نے یہ اعتراض کیا کہ جو نطفے ہنوز قرار نہیں پائے وہ کیونکر خوف کھا سکتے ہیں؛ اور ابو نواس کی طرف سے سوا اس کے کہ بعضوں نے تاویل سے اس کو صحیح قرار دیا، اور کوئی کچھ جواب نہ دے سکا۔
سچا شعر کہنے کی صلاح کچھ اس لیے نہیں دی جاتی کہ جھوٹ بولنا گناہ ہے، نہیں، بلکہ اس لیے دی جاتی ہے کہ تاثیر، جو شعر کی علت غائی ہے، وہ جھوٹ میں بالکل باقی نہیں رہتی۔ اس کے سوا علوم و معارف کی ترقی جو آج کل دنیا میں ہو رہی ہے، وہ جھوٹی شاعری کی برباد کرنے والی ہے۔ جن ڈھکوسلوں پر پرانے مذاق کے لوگ ابھی تک سر دھنتے ہیں، کوئی دن جاتا ہے کہ وہ دیوانوں کی بڑ سمجھے جائیں گے۔
نیچرل شاعری
اس مقام پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ آج کل جو نیچرل شاعری کا لفظ اکثر لوگوں کی زبان پر جاری ہے، اس کی کسی قدر شرح کی جائے۔ بعض حضرات تو نیچرل شاعری اس شاعری کو سمجھتے ہیں جو نیچریوں سے منسوب ہو، یا جس میں نیچریوں کے مذہبی خیالات کا بیان ہو۔ بعضے یہ خیال کرتے ہیں کہ نیچرل شاعری وہ ہے جس میں خاص مسلمانوں کی، یا مطلقاً کسی قوم کی ترقی یا تنزل کا ذکر کیا جائے۔ مگر نیچرل شاعری سے یہ دونو معنی کچھ علاقہ نہیں رکھتے۔ نیچرل شاعری سے وہ شاعری مراد ہے جو لفظاً و معنیً دونو حیثیتوں سے نیچر یعنی فطرت یا عادت کے موافق ہو۔
لفظاً نیچرل کے موافق ہونے سے یہ غرض ہے کہ شعر کے الفاظ اور ان کی ترکیب و بندش تابمقدور اس زبان کی معمولی بول چال کے موافق ہو جس میں وہ شعر کہا گیا ہے؛ کیونکہ ہر زبان کی معمولی بول چال اور روزمرہ اس ملک والوں کے حق میں، جہاں وہ زبان بولی جاتی ہے، نیچر یا سکنڈ نیچر کا حکم رکھتے ہیں۔ پس شعر کا بیان جس قدر کہ بے ضرورت معمولی بول چال اور روزمرہ سے بعید ہوگا، اسی قدر ان نیچرل سمجھا جائے گا۔ معنیً نیچر کے موافق ہونے سے یہ مطلب ہے کہ شعر میں ایسی باتیں بیان کی جائیں جیسی کہ ہمیشہ دنیا میں ہوا کرتی ہیں یا ہونی چاہییں۔ پس جس شعر کا مضمون اس کے خلاف ہوگا وہ ان نیچرل سمجھا جائے گا۔ مثلاً:
"کوئی رکھ کے زیر زنخداں چھڑی / رہی نرگس آسا کھڑی کی کھڑی"
"رہی کوئی انگلی کو دانتوں میں داب / کسی نے کہا گھر ہوا یہ خراب"
ان دونو شعروں کو نیچرل کہا جائے گا، کیونکہ بیان بھی بول چال کے موافق ہے اور مضمون بھی ایسا ہے کہ جس موقع پر وہ لایا گیا ہے وہاں ہمیشہ ایسا ہی واقع ہوا کرتا ہے۔ یا مثلاً:
"رہتا ہے اپنا عشق میں یوں دل سے مشورہ / جس طرح آشنا سے کرے آشنا صلاح"
اس شعر کو بھی نیچرل کہا جائے گا، کیونکہ عشق میں اور ہر ایک مشکل کے وقت انسان اپنے دل سے اسی طرح مشورہ کیا کرتا ہے۔ یا مثلاً:
ترے رخسار و گیسو سے بتا تشبیہ دوں کیونکر / نہ ہے لالہ میں رنگ ایسا، نہ ہے سنبل میں بو ایسی
اس شعر کو بھی نیچرل کہا جائے گا، کیونکہ عاشق کو فی الواقع کوئی رنگ اور کوئی بو معشوق کے رنگ و بو سے بہتر یا اس کے برابر نہیں معلوم ہوتی۔ یا مثلاً:
"تم مرے پاس ہوتے ہو گویا / جب کوئی دوسرا نہیں ہوتا"
یہ بھی نیچرل شعر سمجھا جائے گا، کیونکہ جس سے تعلق خاطر بڑھ جاتا ہے، اس کا تصور تنہائی میں ہمیشہ پیش نظر رہتا ہے۔ یا مثلاً:
"طبیعت کوئی دن میں بھر جائے گی / چڑھی ہے یہ آندھی اتر جائے گی"
"رہیں گی دم مرگ تک خواہشیں / یہ نیت کوئی آج بھر جائے گی"
ان دونو شعروں کا مضمون گو ایک دوسرے کی ضد معلوم ہوتا ہے، مگر دونو اپنی اپنی جگہ نیچر کے مطابق ہیں۔ فی الواقع ہوا و ہوس کا بھوت بڑے زور و شور کے ساتھ سر پر چڑھتا ہے مگر بہت جلد اتر جاتا ہے، اور فی الواقع دنیا کی خواہشوں سے کبھی نیت سیر نہیں ہوتی۔ یا مثلاً:
"رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج / مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں"
یہ شعر بھی نیچرل ہے، اور فطرت انسانی کی کسی قدر گہری اور پوشیدہ خاصیت کا پتا دیتا ہے، جس کے بیان کرنے کے بعد کوئی شخص اس سے انکار نہیں کر سکتا۔
اوپر کے تمام اشعار، جیسا کہ ظاہر ہے، ایسے ہیں جن کو لفظاً اور معنیً دونو حیثیتوں سے نیچرل کہنا چاہیے۔ اب ہم چند مثالیں ایسی دیتے ہیں جن کو لفظاً یا معنیً یا دونو حیثیتوں سے نیچرل نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً:
"کبھی ہے دھیان عارض کا کبھی یاد مژہ دل کو / کبھی ہیں خار پہلو میں کبھی گلزار پہلو میں"
اس شعر کو صرف لفظاً نیچرل کہا جا سکتا ہے، لیکن معنیً نہیں کہا جا سکتا۔ معشوق کے تصور سے بے شبہ عاشق کو فرحت بھی ہو سکتی ہے اور رنج بھی؛ لیکن جب فرحت ہو تو عارض اور مژگان دونوں کے تصور سے فرحت ہونی چاہیے، اور جب رنج ہو تو دونو کے تصور سے رنج ہونا چاہیے۔ یہ نہیں ہو سکتا کہ پلکیں جو خار سے مشابہ ہیں ان کے تصور سے پہلو میں خار ہوں، اور عارض جو گل سے مشابہ ہے اس کے تصور سے پہلو میں گلزار ہو۔ یا مثلاً:
عرض کیجے جوہر اندیشہ کی گرمی کہاں / کچھ خیال آیا تھا وحشت کا کہ صحرا جل گیا
جوہر اندیشہ میں کیسی ہی گرمی ہو، یہ کسی طرح ممکن نہیں کہ اس میں صحرانوردی کا خیال آنے سے خود صحرا جل اٹھے۔ یا مثلاً:
کیا نزاکت ہے جو توڑا شاخ گل سے کوئی پھول / آتش گل سے پڑے چھالے تمہارے ہاتھ میں
نزاکت کسی درجہ کی کیوں نہ ہو، یہ ممکن نہیں کہ آتش گل یعنی خود گل کے چھونے سے ہاتھ میں چھالے پڑ جائیں۔ یا مثلاً:
دفن ہے جس جا پہ کشتہ سرد مہری کا تری / بیشتر ہوتا ہے پیدا واں شجر کافور کا
سرد مہری میں اتنی ہی ٹھنڈک ہو سکتی ہے جتنی کہ لفظ "سرد" میں؛ پھر اس کے کشتہ کی خاک میں اتنا اثر ہونا کہ اس سے شجر کافور پیدا ہو، محض الفاظ ہی الفاظ ہیں جن میں معنی کا بالکل نام و نشان نہیں۔
ہر زبان میں نیچرل شاعری ہمیشہ قدما کے حصہ میں رہی ہے۔ مگر قدما کے اول طبقہ میں شاعری کو قبولیت کا درجہ حاصل نہیں ہوتا۔ انھیں کا دوسرا طبقہ اس کو سڈول بناتا ہے، اور سانچے میں ڈھال کر اس کو خوشنما اور دلربا صورت میں ظاہر کرتا ہے، مگر اس کی نیچرل حالت کو اس خوشنمائی اور دلربائی میں بھی بدستور قائم رکھتا ہے۔ ان کے بعد متاخرین کا دورہ شروع ہوتا ہے۔ اگر یہ لوگ قدما کی تقلید سے قدم باہر نہیں رکھتے اور خیالات کے اسی دائرہ میں محدود رہتے ہیں جو قدما نے ظاہر کیے تھے، اور نیچر کے اس منظر سے جو قدما کے پیش نظر تھا آنکھ اٹھا کر دوسری طرف نہیں دیکھتے، تو ان کی شاعری رفتہ رفتہ نیچرل حالت سے تنزل کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ نیچر کی راہ راست سے بہت دور جا پڑتے ہیں۔ اس کی مثال ایسی سمجھنی چاہیے کہ ایک باورچی نے ایسے مقام پر، جہاں لوگ سالم، کچے اور الونے ماش یا مونگ پانی میں بھیگے ہوئے کھاتے تھے، انھیں پانی میں ابال کر اور نمک ڈال کر لوگوں کو کھلایا۔ انھوں نے اپنی معمولی غذا سے اس کو بہت غنیمت سمجھا۔ دوسرے باورچی نے ماش یا مونگ دلوا کر اور دال کو دھو کر اور مناسب مصالح اور گھی ڈال کر کھانا تیار کیا۔ اب تیسرے باورچی کو اگر وہ دال ہی کے پکانے میں اپنی استادی ظاہر کرنی چاہتا ہے، اس کے سوا اور کوئی موقع تنوع پیدا کرنے کا باقی نہیں رہا کہ وہ مقدار مناسب سے زیادہ مرچیں اور کھٹائی اور گھی ڈال کر لوگوں کو اپنی چٹ پٹی ہانڈی پر فریفتہ کرے۔
اسی مطلب کو ہم دوسری طرح پر دلنشین کرنے میں کوشش کرتے ہیں۔ فرض کرو کہ فارسی زبان میں، جس پر اردو شاعری کی بنیاد رکھی گئی ہے، جن لوگوں نے اول غزل لکھی ہوگی، ضرور ہے کہ انھوں نے عشق و محبت کے اسباب اور دواعی محض نیچرل اور سیدھے سادے طور پر معشوق کی صورت، حسن و جمال، نگاہ اور ناز و انداز وغیرہ کو قرار دیا ہوگا۔ ان کے بعد لوگوں نے انھیں باتوں کو مجاز اور استعارہ کے پیرایہ میں بیان کیا، مثلاً نگاہ و ابرو یا غمزۂ و ناز و ادا کو مجازاً تیغ و شمشیر کے ساتھ تعبیر کیا، اور اس جدت و تازگی سے وہ مضمون زیادہ لطیف و بامزہ ہو گیا۔
متاخرین جب اسی مضمون پر پل پڑے اور ان کو قدما کے استعارہ سے بہتر کوئی اور استعارہ ہاتھ نہ آیا، اور جدت پیدا کرنے کا خیال دامنگیر ہوا، انھوں نے تیغ و شمشیر کے مجازی معنوں سے قطع نظر کی اور اس سے خاص سروہی یا اصیل تلوار مراد لینے لگے، جو قبضہ، باڑ، پیپلا، آب اور ناب اور ڈاب سب کچھ رکھتی ہے؛ میان میں رہتی ہے؛ گلے میں حمائل کی جاتی ہے؛ زخمی کرتی ہے؛ ٹکڑے اڑاتی ہے؛ سر اتارتی ہے؛ خون بہاتی ہے؛ پورنگ کاٹتی ہے؛ اس کی دھار تیز بھی ہو سکتی ہے اور کند بھی؛ قاتل کا ہاتھ اس کے مارنے سے تھک سکتا ہے؛ وہ قاتل کے ہاتھ سے چھوٹ کر گر سکتی ہے؛ اس کے مقتول کا مقدمہ عدالت میں دائر ہو سکتا ہے؛ اس کا قصاص لیا جا سکتا ہے؛ اس کے وارثوں کو خون بہا دیا جا سکتا ہے۔ غرضکہ جو خواص ایک لوہے کی اصلی تلوار میں ہو سکتے ہیں، وہ سب اس کے لیے ثابت کرنے لگے۔
یا مثلاً اگلوں نے کسی پر عاشق ہو جانے کو مجازاً دل دادن یا دل باختن یا دل فروختن سے تعبیر کیا تھا۔ رفتہ رفتہ متاخرین نے دل کو ایک ایسی چیز قرار دے لیا جو کہ مثل ایک جواہر یا ایک پھل کے ہاتھ سے چھینا جا سکتا ہے؛ واپس لیا جا سکتا ہے؛ کھویا اور پایا جا سکتا ہے؛ کبھی اس کی قیمت پر تکرار ہوتی ہے؛ سودا ان بنتا ہے تو دیا جاتا ہے ورنہ نہیں دیا جاتا؛ کبھی اس کو معشوق عاشق سے لے کر کسی طاق میں ڈال کر بھول جاتا ہے؛ اتفاقاً وہ عاشق کے ہاتھ لگ جاتا ہے اور وہ آنکھ بچا کر وہاں سے اڑا لاتا ہے؛ پھر معشوق کے ہاں اس کی ڈھنڈیا پڑتی ہے اور عاشق اس کی رسید نہیں دیتا؛ کبھی وہ یاروں کے جلسہ میں آنکھوں ہی آنکھوں میں غائب ہو جاتا ہے، سارا گھر چھان مارتے ہیں، کہیں پتا نہیں لگتا؛ اتفاقاً معشوق جو بالوں میں کنگھی کرتا ہے تو وہ جوں کی طرح جھڑ پڑتا ہے؛ کبھی وہ ایسا تلپٹ ہو جاتا ہے کہ زلف یار کی ایک ایک شکن اور ایک ایک لٹ میں اس کی تلاش کی جاتی ہے مگر کہیں کچھ سراغ نہیں ملتا؛ کبھی وہ بیع بالخیار کے قاعدے سے یار کے ہاتھ اس شرط پر فروخت کیا جاتا ہے کہ پسند آئے تو رکھنا ورنہ پھیر دینا؛ اور کبھی اس کا نیلام بولا جاتا ہے کہ جو زیادہ دام لگائے وہی لے جائے۔
یا مثلاً اگلوں نے معشوق کو اس لیے کہ وہ گویا لوگوں کے دل شکار کرتا ہے، مجازاً صیاد باندھا تھا۔ پچھلوں نے رفتہ رفتہ اس پر تمام احکام حقیقی صیاد کے مترتب کر دیے۔ اب وہ کہیں جال لگا کر چڑیاں پکڑتا ہے؛ کہیں ان کو تیر مار کر گراتا ہے؛ کہیں ان کو زندہ پنجرے میں بند کرتا ہے؛ کہیں ان کے پر نوچتا ہے؛ کہیں ان کو ذبح کر کے زمین پر تڑپاتا ہے؛ جب کبھی وہ تیر کمان لگا کر جنگل کی طرف جا نکلتا ہے، تمام جنگل کے پنچھی اور پکھیرو اس سے پناہ مانگتے ہیں؛ سیکڑوں پرندوں کے کباب لگا کر کھا گیا؛ بیسیوں پنجرے قمریوں اور کبوتروں اور لووں اور بٹیروں کے اس کے دروازہ پر ٹنگے رہتے ہیں؛ سارے چڑی مار اس کے آگے کان پکڑتے ہیں۔
یا مثلاً اگلوں نے عشق الٰہی یا محبت روحانی کو، جو ایک انسان کو دوسرے انسان کے ساتھ ہو سکتی ہے، مجازاً شراب کے نشہ سے تعبیر کیا تھا، اور اس مناسبت سے جام و صراحی، خم و پیمانہ، اور ساقی و میفروش وغیرہ کے الفاظ بطور استعارہ کے استعمال کیے تھے؛ یا بعض شعرائے متصوفین نے شراب کو اس وجہ سے کہ وہ اس دار الغرور کے تعلقات سے تھوڑی دیر کو فارغ البال کرنے والی ہے، بطور تفاول کے موصل الی المطلوب قرار دیا تھا۔ رفتہ رفتہ وہ اور اس کے تمام لوازمات اپنے حقیقی معنوں میں استعمال ہونے لگے، یہاں تک کہ مشاعرہ بلا مبالغہ کلال کی دکان بن گئی۔ ایک کہتا ہے لا، دوسرا کہتا ہے اور لا، تیسرا کہتا ہے پیالہ نہیں تو اوک ہی سے پلا۔ کچھ بہک رہے ہیں اور کچھ بکار رہے ہیں؛ کوئی واعظ پر پھبتی کہتا ہے، کوئی زاہد کی ڈاڑھی پر ہاتھ لپکاتا ہے، کوئی شیخ کی پگڑی اچھالتا ہے۔ جوان اور بوڑھے، جاہل اور عالم، رند اور پارسا، سب ایک رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ جو ہے سو نشہ کے خمار میں انگڑائیاں لے رہا ہے؛ جدھر دیکھو العطش العطش کی پکار ہے۔
یا مثلاً قدما نے لاغری بدن کو اندوہ عشق یا صدمۂ جدائی کا ایک لازمی نتیجہ سمجھ کر اس کو کسی موثر طریقہ سے بیان کیا تھا۔ متاخرین نے رفتہ رفتہ اس کی نوبت یہاں تک پہنچا دی کہ فراش جھاڑو دیتا ہے تو خس و خاشاک کے ساتھ عاشق زار کو بھی سمیٹ لے جاتا ہے؛ معشوق جب صبح کو اٹھتا ہے تو عاشق کو لاغری کے سبب بستر پر نہیں پاتا، لاچار بچھونا جھاڑ کر دیکھتا ہے تاکہ زمین پر کچھ گرتا ہوا معلوم ہو؛ عاشق کو موت ڈھونڈھتی پھرتی ہے مگر لاغری کے سبب وہ اس کو کہیں نظر نہیں آتا؛ میدان قیامت میں فرشتے چاروں طرف ڈھونڈھتے پھرتے ہیں اور قاضی یوم الحساب منتظر بیٹھا ہے، مگر عاشق کا لاغری کے سبب کہیں پتا نہیں ملتا۔
اسی طرح متاخرین نے ہر مضمون کو جو قدما نیچرل طور پر باندھ گئے تھے، نیچر کی سرحد سے ایک دوسرے عالم میں پہنچا دیا۔ معشوق کے دہانہ کو تنگ کرتے کرتے صفحۂ روزگار سے یکقلم مٹا دیا۔ کمر کو پتلی کرتے کرتے بالکل معدوم کر دیا۔ زلف کو دراز کرتے کرتے عمر خضر سے بھی بڑھا دیا۔ رشک کو بڑھاتے بڑھاتے خدا سے بھی بدگمان بن گئے۔ جدائی کی رات کو طول دیتے دیتے ابد سے جا بھڑایا۔ الغرض جب پچھلے انھیں مضامین کو جو اگلے باندھ گئے ہیں اوڑھنا اور بچھونا بنا لیتے ہیں تو ان کو مجبوراً نیچرل شاعری سے دست بردار ہونا اور میل کا بیل بنانا پڑتا ہے۔
اس بات کے زیادہ ذہن نشین کرنے کے لیے (کہ شاعری کا آغاز کس حالت میں ہوتا ہے، اور پھر قدما کا دوسرا طبقہ اس کو کس طرح اسی نیچرل حالت میں درست کرتا ہے، اور ان کے بعد متاخرین اس کو کیا چیز بنا دیتے ہیں) اردو شعرا کے ہر طبقہ کے کلام میں سے کچھ کچھ مثالیں نقل کرنی مناسب معلوم ہوتی ہیں۔
پہلی مثال: شاہ آبرو، جو اردو شعرا کے سب سے پہلے طبقہ میں شمار ہوتے ہیں، وہ اس کیفیت کو جو معشوق کے دیکھنے سے عاشق کے دل میں پیدا ہوتی ہے، اس طرح بیان کرتے ہیں:
نین سیں نین جب ملائے گیا / دل کے اندر مرے سمائے گیانگہ گرم سیں مرے دل میں / خوش نین آگ سی لگائے گیا
مرزا رفیع سودا، جن کو دوسرے طبقہ میں شمار کرنا چاہیے، وہ اسی کیفیت کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
سودا جو ترا حال ہے اتنا تو نہیں وہ / کیا جانیے تو نے اسے کس آن میں دیکھا
میر تقی، جو مرزا رفیع کے معاصر ہیں، وہ اسی کیفیت کو یوں ادا کرتے ہیں:
نہیں ہے چاہ بھلی اتنی بھی دعا کر میر / کہ اب جو دیکھوں اسے میں بہت نہ پیار آوے
خواجہ حیدر علی آتش، جن کو چوتھے یا پانچویں طبقہ میں سمجھا گیا ہے، وہ اسی کیفیت کو یوں بیان فرماتے ہیں:
تختۂ نرد عشق دل کھیلا جو حسن یار سے / چھٹ گئے ایسے مرے چھکے کہ ششدر ہو گیا
دوسری مثال: شاہ آبرو اس طول مدت کو جو مفارقت کے زمانہ میں عاشق کو محسوس ہوتا ہے، اس طرح بیان کرتے ہیں:
جدائی کے زمانہ کی سجن کیا زیادتی کہیے / کہ اس ظالم کی جو ہم پر گھڑی گذری سو جگ بیتا
اسی مضمون کو میر نے یوں ادا کیا ہے:
ہر آن ہم کو تجھ بن ایک اک برس ہوئی ہے / کیا آ گیا زمانہ اے یار رفتہ رفتہ
ناسخ، جو پانچویں طبقہ میں ہیں، وہ اس مضمون کو یوں باندھتے ہیں:
جائے کافور سحر چاہیے کافور حنوط / یہ شب ہجر ہے یار و شب دیجور نہیں
یعنی شب ہجر جب تک ہماری جان نہ لے گی ٹلنے والی نہیں ہے؛ پس کافور سحر کی توقع رکھنی عبث ہے، بلکہ اس کی جگہ کافور حنوط غسل میت کے لیے درکار ہے۔ اگرچہ مضمون کے لحاظ سے تینوں شعروں کو نیچرل کہا جا سکتا ہے، کیونکہ شوق و انتظار کی حالت میں ممکن ہے کہ عاشق کو ایک ایک گھڑی جگ اور ایک ایک آن برس کے برابر معلوم ہو، اور ممکن ہے کہ عاشق طول شب فراق سے تنگ آ کر جینے سے مایوس ہو جائے؛ مگر ناسخ کی طرز بیان اردو کی معمولی بول چال سے اس قدر بعید ہے کہ اس کو کسی طرح نیچرل بیان نہیں کہا جا سکتا۔
تیسری مثال: شاہ حاتم، جو پہلے طبقہ میں شمار کیے گئے ہیں، وہ دوست کے ملنے کی آرزو اور اس کے دیکھنے کے شوق کو اس طرح بیان کرتے ہیں:
زندگی دردسر ہوئی حاتم / کب ملے گا مجھے پیا میرا
اسی مضمون کو میر نے یوں باندھا ہے:
وصل اس کا خدا نصیب کرے / میر دل چاہتا ہے کیا کیا کچھ
سودا یوں کہتے ہیں:
دل کو یہ آرزو ہے صبا کوئے یار میں / ہمراہ تیرے پہنچیے مل کر غبار میں
منشی امیر احمد صاحب امیر، جو موجودہ طبقہ کے مشہور شاعر ہیں، وہ اسی مضمون کو یوں ادا کرتے ہیں:
وا کردہ چشم دل صفت نقش پا ہوں میں / ہر رہگذر میں راہ تری دیکھتا ہوں میں
اس مثال میں بھی تینوں شعروں کو اگرچہ خیال کے لحاظ سے نیچرل کہا جا سکتا ہے، مگر اخیر شعر کے بیان میں بمقابلہ حاتم اور میر و مرزا کے صاف تصنع اور ساختگی پائی جاتی ہے، اور بیان نیچرل نہیں رہا۔ اگر زیادہ تفحص کیا جائے تو اس سے بہت زیادہ صریح اور صاف مثالیں کثرت سے مل سکتی ہیں۔
اوپر کے بیان سے یہ ہرگز سمجھنا نہیں چاہیے کہ متاخرین کی شاعری ہمیشہ ان نیچرل ہوتی ہے۔ نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ متاخرین میں کچھ ایسے لوگ بھی ہوں جو قدما کی جولانگاہ کے علاوہ ایک دوسرے میدان میں طبع آزمائی کریں، یا اسی جولانگاہ کو کسی قدر وسعت دیں، یا زبان میں بہ نسبت متقدمین کے زیادہ گھلاوٹ اور لوچ اور وسعت اور صفائی پیدا کر سکیں۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ لکھنؤ میں میر انیس نے مرثیہ کو بے انتہا ترقی دی ہے، اور نواب مرزا شوق نے مثنوی کو زبان اور بیان کے لحاظ سے بہت صاف کیا ہے؛ اسی طرح دلی میں ذوق، ظفر اور خاص کر داغ نے غزل کی زبان میں نہایت وسعت اور صفائی اور بانکپن پیدا کر دیا ہے، جیسا کہ ہم آگے چل کر کسی قدر تفصیل کے ساتھ بیان کریں گے۔
زبان کو درستی کے ساتھ استعمال کرنا
تیسری بات زبان اردو کو درستی اور صفائی کے ساتھ استعمال کرنا ہے۔ اگرچہ اردو کم و بیش تمام اطراف ہندوستان میں متداول ہے، لیکن ممکن ہے کہ بعض ممالک کے باشندے اپنی خاص زبان میں بہ نسبت اردو زبان کے زیادہ آسانی سے شعر سرانجام کر سکیں۔
پس اگر ہمارے ہموطنوں میں کوئی شخص اپنی خاص زبان میں شعر کہنا چاہے تو اس سے بہتر کوئی بات نہیں ہے، کیونکہ مادری زبان سے بہتر اور سہل تر کوئی آلہ اظہار خیالات کا نہیں ہو سکتا۔ لارڈ مکالے کا قول ہے کہ "کوئی عمدہ کلام جو خیالات کا مجموعہ ہو، کبھی کسی شخص نے سرانجام نہیں کیا، مگر ایسی زبان میں جس کی نسبت اس کو مطلق یاد نہ ہو کہ کب سیکھی اور کیونکر سیکھی، اور جس کی گرامر جاننے سے پہلے وہ ایک مدت تک اس میں گفتگو کرتا رہا"۔ وہ لکھتے ہیں کہ "روما کے بڑے بڑے لائق آدمیوں نے فرانسیسی زبان میں اشعار لکھے مگر ان میں سے کوئی شعر صفحۂ روزگار پر یادگار نہ رہا۔ انگلستان کے بہت سے خوش فکر اور طباع آدمیوں نے لاطینی میں دیوان مرتب کیے، مگر ان میں سے ایک دیوان بھی، یہاں تک کہ ملٹن کا دیوان بھی، شاعری کے لحاظ سے اول درجہ کا شمار نہیں کیا جا سکتا، بلکہ دوسرے درجہ میں بھی کچھ امتیاز نہیں رکھتا"۔ پس جبکہ ملکۂ شاعری ایک فطری اور جبلی چیز ہے، اسی طرح اس کو کام میں لانے کے لیے ایسے آلہ کا استعمال زیادہ مناسب ہوگا جو بمنزلۂ فطری اور جبلی چیز کے ہو، اور وہ مادری زبان کے سوا اور کوئی زبان نہیں ہو سکتی۔
لیکن چونکہ اردو زبان ہندوستان کی اور تمام زندہ زبانوں کی نسبت بالاتفاق زیادہ وسیع اور خیالات ادا کرنے کے زیادہ لائق ہے، تمام اطراف ہندوستان میں عموماً بولی اور سمجھی جا سکتی ہے، اور اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اسی کو ہندوستان کی قومی زبان بنایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو اسی کو ترقی دی جائے؛ نیز اس کا حاصل کرنا اور اس میں کافی مہارت بہم پہنچانی ہندوستان کے باشندوں کو اتنی دشوار نہیں ہے جتنی کہ اور غیر مادری زبانوں میں دشوار ہوتی ہے۔
اس کے سوا ہندوستان کی تمام زندہ زبانوں میں بالفعل کوئی زبان ایسی نہیں معلوم ہوتی جس میں اردو کے برابر شعر کا ذخیرہ موجود ہو؛ اس لیے یہ زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے ہموطنوں میں جو شخص شعر کہنا اختیار کرے وہ اردو ہی کو اپنے خیالات ظاہر کرنے کا آلہ قرار دے۔
ہندوستان میں، جیسا کہ عموماً تسلیم کیا جاتا ہے، صرف دو شہر ہیں جہاں کی اردو معتبر سمجھی جاتی ہے: دلی اور لکھنؤ۔ دلی کی زبان اس لیے ٹکسالی زبان سمجھی جاتی ہے کہ اردو کا حدوث اور نشو و نما اسی خطہ میں ہوا ہے۔ لکھنؤ کی زبان کو اس واسطے مستند مانا جاتا ہے کہ سلطنت مغلیہ کے زوال کی ابتدا سے شرفائے دہلی کے بے شمار خاندان ایک مدت دراز تک لکھنؤ میں جا جا کر آباد ہوتے رہے اور ہمیشہ کے لیے وہیں رہ پڑے۔ پس ہندوستان کے کسی شہر کو اہل دہلی سے اس قدر میل جول کا موقع نہیں ملا جس قدر کہ لکھنؤ کو ملا ہے، یہاں تک کہ دونو شہروں کی زبان میں ایک خاص مماثلت پیدا ہو گئی ہے، اور خاص خاص الفاظ و محاورات کے سوا دونو جگہ کی بول چال اور لب و لہجہ میں کوئی معتدبہ فرق نہیں معلوم ہوتا۔
کوئی زبان تمام ملک میں یکساں طور پر اس وقت تک شائع نہیں ہو سکتی جب تک کہ مندرجۂ ذیل ذریعے ملک میں مہیا نہ ہوں: (۱) اس زبان کی معتبر اور جامع ڈکشنری کا تیار ہونا؛ (۲) اس کی جامع گرامر کا مرتب ہونا؛ (۳) اس میں کثرت سے نظم و نثر کی کتابوں کا تصنیف و تالیف ہو کر شائع ہونا؛ (۴) اس زبان کے اخبارات و رسائل کا تمام اطراف و جوانب ملک میں اشاعت پانا۔ ظاہر ہے کہ نہ آج تک اردو کی کوئی جامع اور مستند ڈکشنری تیار ہوئی ہے، اور نہ اس کی کوئی ایسی گرامر لکھی گئی ہے جس سے زبان کے سیکھنے میں کافی مدد ملنے کی امید ہو۔ اردو میں تصنیف و تالیف کا رواج اور اخبارات وغیرہ کی اشاعت زیادہ تر بیس پچیس برس سے ہوئی ہے، اور اس قدر قلیل مدت زبان کی ترویج کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔
اگرچہ یہ نہایت خوشی کی بات ہے کہ اردو لٹریچر کی جس قدر اشاعت ملک میں زیادہ ہوتی جاتی ہے، اسی قدر اردو زبان کی تحریر اور نظم و نثر لکھنے کا سلیقہ اطراف ہندوستان میں عموماً بڑھتا جاتا ہے؛ لیکن شاعرانہ خیالات اور خاص کر نیچرل شاعری کے فرائض ٹکسالی زبان میں ادا کرنے کے لیے ایسے محدود ذریعے شاید کافی نہ ہوں۔ اگرچہ ایک جامع اور مستند ڈکشنری بھی، اگر کوئی ہو، اس مقصد کے پورا کرنے میں بہت کچھ مدد پہنچا سکتی ہے، مگر اس باب میں سب سے زیادہ مفید اہل زبان کی صحبت اور ان کی سوسائٹی میں اتنی مدت تک بسر کرنا ہے کہ ان کے الفاظ و محاورات بقدر معتدبہ نامعلوم طور پر زبان پر چڑھ جائیں۔ لیکن چونکہ ایسا موقع ہر شخص کو ملنا دشوار ہے، اس لیے ضرور ہے کہ شعرائے اہل زبان کا کلام جس قدر زیادہ ممکن ہو غور اور توجہ سے بار بار دیکھا جائے، نہ اس ارادہ سے کہ خیالات اور مضامین میں ان کی تقلید کی جائے، بلکہ اس نظر سے کہ وہ الفاظ و محاورات کو کس طرح استعمال کرتے ہیں اور خیالات کو کن اسلوبوں اور کن پیرایوں میں ادا کرتے ہیں۔
ابن خلدون کہتے ہیں کہ "ایک عجمی فصحائے عرب کے کلام کی ممارست سے اہل زبان میں شمار کرنے کے لائق ہو سکتا ہے"۔ پس ہندوستان کے باشندے اس بات کے زیادہ مستحق ہیں کہ وہ اہل زبان کے کلام کی مزاولت سے مثل اہل زبان کے سمجھے جائیں۔
اگرچہ دلی کے بہت سے عمدہ شاعروں کا کلام ابھی تک شائع نہیں ہوا، جیسے خواجہ میر اثر، شاہ نصیر، میر ممنون، معروف، عارف وغیرہ، حالانکہ ان بزرگواروں کے مبسوط اور ضخیم دیوان موجود ہیں؛ لکھنؤ میں بھی کچھ عجب نہیں کہ وہاں کے بعض مستند لوگوں کا کلام شائع نہ ہوا ہو؛ لیکن جن لوگوں کے دیوان اور کلیات شائع ہو چکے ہیں ان کی تعداد بھی کچھ کم نہیں ہے، اور انھیں میں سے خاص کر میر، سودا، درد، جرأت، انشا، مصحفی، میر حسن، ناسخ، آتش، وزیر، غالب، ذوق، ظفر، شیفتہ، داغ، سالک، شوق [1]، رند، اسیر، برق، امیر وغیرہم کا ہر قسم کا کلام، خواہ غزل ہو خواہ مثنوی، خواہ قصیدہ خواہ قطعہ و رباعی، خواہ واسوخت، سب دیکھنا چاہیے؛ اور سب سے زیادہ اہم اور ضروری خلیق، ضمیر، انیس، دبیر اور مونس وغیرہم کے مرثیوں کا مطالعہ ہے۔ اگرچہ بعضے دیوان اور مثنویاں جن کا اوپر ذکر کیا گیا سراسر لغو خیالات اور بیہودہ مضامین سے بھری ہوئی ہیں، لیکن جو لوگ محض زبان سے غرض رکھتے ہیں ان کو خیالات کی لغویت اور مضامین کی بیہودگی سے چشم پوشی اور اغماض کرنا چاہیے، اور نہایت صبر و تحمل کے ساتھ الفاظ و محاورات اور طرز ادا اور انداز بیان پر ہمت مقصور رکھنی اور "خذ ما صفا ودع ما کدر" پر عمل کرنا چاہیے۔ نظم کے علاوہ اردو لٹریچر میں جس قدر علمی، تاریخی، مذہبی اور اخلاقی مضامین پر مستند اہل زبان نے کتابیں لکھی ہیں، ان سے بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔
جو لوگ اپنے تئیں اردو زبان کا مالک سمجھتے ہیں، یعنی اہل دہلی یا اہل لکھنؤ، ان کو اس بات پر فخر کرنا نہیں چاہیے کہ ہماری زبان کا لوگ اتباع کرتے ہیں اور ہمارے روزمرہ کی پیروی کی جاتی ہے۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر وہ اپنی زبان کی خبر نہ لیں گے، اس کے محفوظ رکھنے کے وسائل بہم نہ پہنچائیں گے، اس کے الفاظ و محاورات کو نہایت احتیاط کے ساتھ فراہم اور مرتب نہ کریں گے، اور اس کی نظم و نثر کو زمانہ کے مذاق کے موافق ترقی نہ دیں گے، تو ان کی زبان کا وہ حصہ جس پر ان کو فخر ہے، اور جو ان کی اور تمام ہندوستان کی اردو میں مابہ الامتیاز ہے، وہ حرف غلط کی طرح صفحۂ روزگار سے محو ہو جائے گا؛ اور یہی بری بھلی اردو، جو عام اخبارات اور جدید تصنیفات کے ذریعے سے ملک میں پھیل رہی ہے اور جس کو وہ اب تک حقارت کی نظر سے دیکھتے رہے ہیں، زیادہ سے زیادہ نصف صدی میں ملک کی ٹکسالی اور فصیح زبان قرار پا جائے گی۔ کیا ان کو معلوم نہیں ہے کہ عرب میں جب سے شعر و انشا کی سرد بازاری ہوئی اور عربی نظم و نثر کے مالک غیر ملکوں کے باشندے ہو گئے، رفتہ رفتہ وہ کلیسکل عربی جس پر عربوں کو ناز تھا، لٹریری دنیا سے رخصت ہو گئی؛ اور وہی بھیبڑی زبان جس کو عرب عربا حقارت کی نظر سے دیکھتے تھے، تمام عربی لٹریچر پر چھا گئی، اور شام و روم و مصر و بربر و سوڈان وغیرہ میں عموماً پھیل گئی، یہاں تک کہ آج وہی زبان ٹکسالی اور فصیح عربی سمجھی جاتی ہے۔ ایسا ہی انجام دلی اور لکھنؤ کی زبان کا، اگر اس کی جلد خبر نہ لی گئی، ہوتا نظر آتا ہے۔ دلی، جس کو اردوئے معلیٰ کا مسقط الراس اور جنم بھوم کہنا چاہیے، وہاں مصنف اور ناظم و ناثر پیدا ہونے موقوف ہو گئے ہیں۔ پرانے لوگوں میں سے چند نفوس، جن کو چراغ سحری سمجھنا چاہیے، باقی رہ گئے ہیں؛ ان کے بعد بالکل سناٹا نظر آتا ہے۔ لکھنؤ کا حال اگرچہ بظاہر ایسا نہیں معلوم ہوتا؛ وہاں شاعری کا چرچا دلی سے بہت زیادہ سننے میں آتا ہے؛ وہاں سے نوول اور ڈراما برابر ملک میں شائع ہوتے رہتے ہیں؛ مگر افسوس ہے کہ ان کا قدم زمانہ کی رفتار کے متوازی نہیں اٹھتا؛ وہ جس قدر آگے بڑھتے جاتے ہیں، اسی قدر ترقی کے رستے سے دور ہوتے جاتے ہیں۔
اردو پر قدرت حاصل کرنے کے لیے صرف دلی یا لکھنؤ کی زبان کا تتبع ہی کافی نہیں ہے، بلکہ یہ بھی ضرور ہے کہ عربی اور فارسی میں کم سے کم متوسط درجہ کی لیاقت، اور نیز ہندی بھاشا میں فی الجملہ دستگاہ بہم پہنچائی جائے۔ اردو زبان کی بنیاد، جیسا کہ معلوم ہے، ہندی بھاشا پر رکھی گئی ہے؛ اس کے تمام افعال اور تمام حروف اور غالب حصہ اسما کا ہندی سے ماخوذ ہے؛ اور اردو شاعری کی بنا فارسی شاعری پر، جو عربی شاعری سے مستفاد ہے، قائم ہوئی ہے؛ نیز اردو زبان میں بہت بڑا حصہ اسما کا عربی اور فارسی سے ماخوذ ہے۔ پس اردو زبان کا شاعر جو ہندی بھاشا کو مطلق نہیں جانتا اور محض عربی و فارسی کے تان گاڑی چلاتا ہے، وہ گویا اپنی گاڑی بغیر پہیوں کے منزل مقصود تک پہنچانی چاہتا ہے؛ اور جو عربی و فارسی سے نابلد ہے اور صرف ہندی بھاشا یا محض مادری زبان کے بھروسے پر اس بوجھ کا متحمل ہوتا ہے، وہ ایک ایسی گاڑی ٹھیلتا ہے جس میں بیل نہیں جوتے گئے۔
زبان کے متعلق ایک اور بات لحاظ کے قابل ہے۔ نیچرل شاعری کے لیے، جیسا کہ ظاہر ہے، ہماری موجودہ زبان کافی نہیں ہے، اس لیے ضرور ہے کہ اس میں وسعت پیدا کی جائے۔ پس اہل لکھنؤ جو زبان کے دائرہ کو روز بروز زیادہ تنگ کرتے جاتے ہیں، یہ امر مقتضائے وقت کے بالکل خلاف ہے۔ لکھنؤ میں ایک صاحب نے سنہ ۱۸۶۹ء میں ایک رسالہ شعر و سخن کے متعلق لکھا ہے، اس میں کچھ اوپر پچاس لفظ ایسے لکھے ہیں جن کو خود صاحب رسالہ یا اور اہل لکھنؤ واجب الترک خیال کرتے ہیں۔ بعضے ان میں سے خاص لکھنؤ کے ساتھ مختص ہیں؛ اہل دہلی کبھی اس طرح نہیں بولتے، جیسے "اندھیارا"، "اندھیرے" کی جگہ؛ "اجیالا"، "اجالے" کی جگہ؛ "کیونکر سے"، "کیونکر" کی جگہ۔ ایسے الفاظ کا ترک کرنا ہم بھی نہایت مناسب سمجھتے ہیں، کیونکہ اس سے لکھنؤ اور دلی کی زبان میں مطابقت پیدا ہوتی ہے۔ اگر اہل لکھنؤ ایسے الفاظ ترک کرنے پر آمادہ ہوں تو ہم اور بہت سے الفاظ حاضر کر سکتے ہیں۔ ایسے الفاظ ترک کرنے سے زبان کی وسعت میں بھی کچھ ایسا فرق نہیں آتا۔
اسی رسالہ میں بعضے ایسے الفاظ کو واجب الترک قرار دیا ہے جو اصل زبان کی گرامر یا قیاس لغوی کے خلاف برتے اور بولے جاتے ہیں، جیسے "موسم" بفتح سین، یا "منت" بفتح یا، یا "انشا" بروزن زنا، و "فاکہ" عربی گرامر یا لغت کے موافق "موسم" بروزن "مسجد"، اور "منت" بکسرہ یا، اور "نشاۃ" بروزن "وحدت" ہیں۔ لیکن فی الحقیقت یہ ایک غلطی ہے جو اکثر ہمارے عربی دانوں کو علم اللسان کی ناواقفیت سے پیش آتی ہے۔ ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ ایک زبان کے الفاظ دوسری زبان میں منتقل ہو کر کبھی اپنی اصلی صورت پر قائم نہیں رہ سکتے، الا ماشاء اللہ۔ دور کیوں جاؤ، ہماری اردو ہی میں ہزاروں لفظ سنسکرت، پراکرت اور بھاشا کے داخل ہیں؛ باوجود اس کے شاذ و نادر ہی ایسے الفاظ نکلیں گے جو اپنی اصلی صورت پر قائم ہوں۔ مثلاً گھر، گھڑا، اجلا، آدھا، اندھیرا، آسرا، آنکھ، آگے، انگلی، یہ تمام الفاظ سنسکرت کے مفصلۂ ذیل الفاظ سے بگڑے ہوئے ہیں، یعنی گرہ، گھٹ، اجول، اردھ، اندھکار، آشرے، اکھی، اگر، انگرو۔ اسی طرح پراکرت اور بھاشا کے صدہا لفظ اپنی اصل کے خلاف ہماری زبان میں مستعمل ہیں، مگر چونکہ ان کی اصلیت سے واقف نہیں ہیں، اس لیے ان کو صحیح سمجھ کر بے تکلف بولتے اور برتتے ہیں؛ لیکن عربی یا فارسی، جس سے کہ ان کو فی الجملہ واقفیت ہے، جہاں اس کا کوئی لفظ اصل زبان کے خلاف کسی کی اردو نظم یا نثر میں دیکھا اور فوراً ناک چڑھائی۔ حالانکہ خود عربی کے بہت سے الفاظ اصل وضع کے خلاف استعمال کرتے ہیں، مثلاً "غش" بجائے "غشی"، "مسلمان" بجائے "مسلم"، "محافہ" بجائے "محفہ"، "غلطی" بجائے "غلط"، "زیادتی" بجائے "زیادت"، "سلامتی" بجائے "سلامت"، "ہدیہ" بجائے "ہدیّہ"، "مغیلاں" بجائے "ام غیلاں"، "محابا" و "مدارا" وغیرہ بجائے "محابات" و "مدارات" وغیرہ۔ علیٰ ہذا القیاس فارسی کے الفاظ بھی اکثر اردو میں غلط بولے جاتے ہیں۔ اہل ایران عربی کے صدہا لفظ غلط تلفظ کے ساتھ یا غلط معنوں میں استعمال کرتے ہیں، مثلاً "صم" و "بکم" بجائے "اصم" و "ابکم"، "حور" بجائے "حوراء"، "ابدال" بجائے "بدیل"، "فضولی" بجائے "فضول"، "حضوری" بجائے "حضور"، "قران" بجائے "قرآن"، "مشاطہ" بجائے "ماشطہ"، "مواسا" و "مفاجا" وغیرہ بجائے "مواسات" و "مفاجات" وغیرہ۔
انگریزی میں تمام دنیا کی زبانوں سے الفاظ لیے گئے ہیں، مگر کسی لفظ کو اس کی اصلی صورت پر قائم نہیں رکھا؛ مثلاً خلیفہ، ترجمان، مخزن، نواب، تعریف، قطن، امیر البحر، عثمان، فردوس، منارہ، سپاہی، شغال، کارواں، شکر، قرمزی کی جگہ، جو کہ عربی و فارسی زبان کے الفاظ ہیں، کیلف، ڈریگومین، میگزین، نیباب، ٹیرف، کاٹن، ایڈمرل، اوٹومن، پیریڈائز، منرٹ، سیپوے، جیکول، کیرون، شگر، کرمسن بولتے اور استعمال کرتے ہیں۔
اسی طرح جہاں تک استقرا کیا جاتا ہے، کسی زبان کے الفاظ دوسری زبان میں جا کر اپنی اصلی وضع پر قائم نہیں رہتے۔ پس جبکہ "موسم" یا "منت" یا "انشا" وغیرہ الفاظ ہمارے خاص و عام سب کی زبان پر جاری ہیں، تو اردو نظم و نثر میں ان کو کیوں نہ استعمال کیا جائے۔ بات یہ ہے کہ ایسے لفظوں کو جو عربی یا فارسی یا انگریزی سے اردو میں لیے گئے ہیں اور اصل وضع کے خلاف عموماً مستعمل ہوتے ہیں، یہ سمجھنا ہی غلطی ہے کہ وہ موجودہ صورت میں عربی یا فارسی یا انگریزی کے الفاظ ہیں؛ نہیں، بلکہ ان کو اردو کے الفاظ سمجھنا چاہیے جو اصل کے لحاظ سے عربی یا فارسی یا انگریزی سے ماخوذ ہیں۔ ایسے لفظوں کو غلط سمجھ کر ترک کرنا اور ان کو اصل کے موافق استعمال کرنے پر مجبور کرنا بعینہ ایسی بات ہے کہ "لالٹین" کے بولنے سے لوگوں کو منع کیا جائے اور "لینٹرن" بولنے پر مجبور کیا جائے؛ یا "گھڑا" بولنے سے روکا جائے اور "گھٹ" بولنے کی تاکید کی جائے۔
غلط العام اور غلط العوام میں بہت بڑا فرق ہے۔ جو غلط الفاظ خاص و عام دونو کی زبان پر جاری ہو جائیں وہ غلط العام میں داخل ہیں۔ ایسے الفاظ کا بولنا صرف جائز ہی نہیں، بلکہ صحیح بولنے سے بہتر ہے۔ ہاں، جو غلط الفاظ صرف عوام اور جہلا کی زبان پر جاری ہوں، نہ کہ خواص اور پڑھے لکھوں کی زبان پر، البتہ ایسے الفاظ کو ترک کرنا واجب ہے، جیسے مزاج کو مجاز کہنا، منکر کو منکر، خالص کو نخالص، ناحق کو بے ناحق، دروازہ کو دروزہ، نسخہ کو نخسہ وغیرہ وغیرہ۔
ان کے سوا بہت سے ایسے الفاظ واجب الترک بتائے ہیں جو شعرائے متقدمین نے عموماً استعمال کیے ہیں، اور دہلی کے بعض شعرا اب بھی استعمال کرتے ہیں؛ اور اگر روزمرہ کی بول چال کے لحاظ سے دیکھا جائے تو آج تک دلی کے خاص و عام برابر بولتے رہتے ہیں، جیسے تئیں، کبھو، کسو، آنکھے، آخرش، پہنانا (پنھانے کی جگہ)، بتلانا، دکھلانا وغیرہ؛ سدا (بمعنی ہمیشہ)؛ تلک؛ سیتی؛ مت بجائے حرف نفی؛ بن (بمعنی بے یا بغیر)؛ پہ (پر کی جگہ)؛ کیجے، دیجے، لیجے، بجائے کیجیے، دیجیے، لیجیے؛ مرا، ترا، میرا اور تیرا کی جگہ؛ پر بمعنی مگر؛ اک بجائے ایک؛ زور بمعنی عجیب یا نہایت۔
یہ الفاظ شاید لکھنؤ میں ترک ہو گئے ہوں، یا ہو جائیں، لیکن دہلی اور مضافات دہلی میں وہ کم و بیش برابر بولے جاتے ہیں؛ اور زمانہ کا اقتضا یہ ہے کہ وہ ہمیشہ بولے جائیں گے، اور اگر بولے نہ جائیں گے تو تحریروں میں ضرور مستعمل رہیں گے۔ شاید نثر میں بعض الفاظ کی ضرورت نہ پڑے، لیکن شعر میں ان کی ضرورت ہمیشہ رہے گی (اگرچہ اسی میں کلام ہے کہ شعر کی بھی ضرورت رہے گی یا نہیں)۔
جو صاحب ایسے الفاظ ترک کرنے کی عام ہدایت کرتے ہیں، ان کی مثال ان لوگوں کی سی ہے جو آپ تو ملتان میں مقیم ہیں اور کشمیر جانے والوں کو اجازت نہیں دیتے کہ جڑاول کا بوجھ اپنے ساتھ باندھ کر لے جائیں۔
اس مضمون کے متعلق زیادہ بحث کرنی فضول معلوم ہوتی ہے، کیونکہ جس ضرورت کے لحاظ سے ہم زبان کے دائرہ کو تنگ کرنا مناسب نہیں سمجھتے، اگر فی الواقع وہ ضرورت پیش آنے والی ہے تو یہ قیدیں خود بخود اٹھتی چلی جائیں گی، اور لوگوں کو بجائے اس کے کہ اپنی زبان کو تنگ اور محدود کریں، مجبوراً دوسری زبانوں سے دریوزہ گری کرنی پڑے گی؛ اور اگر اردو لٹریچر کی ترقی کا خیال ایسا ہی دور از کار خیال ہے جیسا مسلمانوں کی علمی، تمدنی اور اخلاقی ترقیات کا، تو یہ بحث پیش از وقت نہیں بلکہ ناوقت ہوگی۔
فکر شعر کی طرف کس حالت میں متوجہ ہونا چاہیے
چوتھی بات یہ ہے کہ فکر شعر کی طرف کس حالت میں متوجہ ہونا چاہیے۔ بعضوں کی یہ رائے ہے کہ رات کو سونے سے پہلے اور دن کو طعام چاشت سے پہلے شعر میں طبیعت زیادہ راہ دیتی ہے۔ کسی حکیم کا قول ہے کہ "وحشی مضامین کی رام کرنے والی کوئی چیز ایسی نہیں ہے جیسا آب رواں اور تنہائی اور بلند نشیمن"۔ لیکن ہمارے نزدیک فکر شعر کے لیے کوئی موقع اور محل اس سے بہتر نہیں کہ کسی مضمون کا جوش شاعر کے دل میں خود بخود پیدا ہو؛ پھر اس کے لیے باغ اور جنگل، آبادی اور ویرانی، سبزہ زار اور چٹیل میدان، آب رواں اور ٹپر زمین، سب برابر ہے۔ ابو نواس جب تک کہ پھولوں کے گلدستے اس کے سامنے نہ رکھے جاتے تھے، شعر کی فکر نہیں کرتا تھا۔ ابو العتاہیہ نے ایک روز اس سے پوچھا کہ کیا آپ کو بغیر اس کے مضمون نہیں سوجھتا؟ میں تو بیت الخلا میں شعر کہا کرتا ہوں۔ ابو نواس نے کہا: اسی لیے تو اس میں سے بدبو آتی ہے۔ لیکن ہمارے نزدیک فکر شعر کے لیے نہ گلدستوں کی ضرورت ہے اور نہ بیت الخلا میں بیٹھنے کی، بلکہ صرف جوش اور ولولہ کی ضرورت ہے جو کسی قید اور شرط کا محتاج نہیں ہے۔ کثیر [2] سے لوگوں نے پوچھا کہ تو نے شعر کہنا کیوں چھوڑ دیا؟ کہا: "جوانی جس سے امنگ دل میں پیدا ہوتی تھی گذر گئی؛ عزہ جو دل کو گرماتی تھی مر گئی؛ اور عبد العزیز جس سے صلہ کی توقع تھی وہ بھی نہ رہا؛ اب کونسی چیز باقی ہے جو شعر کہلوائے"۔ گویا اس نے اس بات کا اشارہ کیا ہے کہ جب تک دل میں کسی قسم کا جوش اور ولولہ نہ ہو، اس وقت تک شعر سرانجام نہیں ہو سکتا۔ فرزدق کہا کرتا تھا کہ "میں یاس و نومیدی کی حالت میں اشعر الناس ہوں، لیکن بعض اوقات میرا یہ حال ہوتا ہے کہ دانت کو سوتڑے سے اکھیڑنا مجھ کو زیادہ آسان معلوم ہوتا ہے بہ نسبت شعر کہنے کے"، یعنی بغیر اقتضائے طبیعی اور دلی جوش کے شعر سرانجام نہیں ہو سکتا۔ خرمی شاعر سے پوچھا گیا کہ کیا سبب ہے تیرے مدحیہ قصیدے جو محمد بن منصور کی شان میں اس کی زندگی میں تو نے لکھے تھے، بہ نسبت مرثیوں کے جو اب تو اس کی نسبت لکھتا ہے زیادہ عمدہ ہیں؟ اس نے تسلیم کیا اور نہایت ایمانداری سے جواب دیا کہ "ہماری امیدیں اور خواہشیں زیادہ قوی اور پرزور ہیں بہ نسبت ہماری وفاداری اور حق گذاری کے؛ قصیدے ہم سے امید لکھواتی تھی اور مرثیے وفاداری لکھواتی ہے، اس لیے دونو میں فرق بین نظر آتا ہے"۔ غرضکہ جب تک دل میں کسی بات کی چیٹک نہ ہو، قوت متخیلہ مضامین کے القا کرنے میں فیاضی نہیں کرتی۔ مگر جوش شاعر کے کلام میں جبھی تک باقی رہ سکتا ہے کہ کوئی شے اس کی آزادی کی مزاحم نہ ہو، یا اس کی آزاد طبیعت کسی خوف اور روک ٹوک کی کچھ پروا نہ کرے؛ ورنہ ممکن ہے کہ جس مضمون کا جوش فی الواقع اس کی طبیعت میں موجود ہے، اس کو وہ عمدگی اور خوبی کے ساتھ ادا نہ کر سکے۔
آزادی کی مزاحمت کئی طرح سے ہوتی ہے۔ کبھی شاعر کو کسی کا خوف اپنے خیالات آزادانہ ظاہر کرنے سے مانع ہوتا ہے، چنانچہ کثیر عزہ اور کمیت بن زید، جو نہایت پکے شیعی تھے، ان کی نسبت کہا گیا ہے کہ جو کچھ انھوں نے بنی ہاشم کی مدح میں کہا ہے، وہ شاعری کے لحاظ سے اس درجہ کا نہیں ہے جیسے بنی امیہ کی مدح کے قصیدے۔ لیکن ایسی مزاحمت آزاد طبع شاعر کے جوش کو بعض اوقات اور زیادہ ابھار دیتی ہے۔ جعفر برمکی کے مرثیے لکھنے پر لوگ قتل تک کیے گئے، باایں ہمہ بعضوں نے اس کے مرثیے ایسے جوش و خروش کے ساتھ لکھے ہیں کہ آج تک یادگار ہیں۔
کبھی سوسائٹی کا دباؤ، یا لالچ اور طمع، یا اور کوئی ترغیب اس کی طبیعت کے بہاؤ کا رخ سیدھے رستے سے دوسری طرف پھیر دیتی ہے۔ یہ افتاد ہمارے اکثر شاعروں پر پڑی ہے، اور اس نے بہت سے ہونہار اور روشن طبع شاعروں کو ہزال و فحاش و مسخرہ تک بنا دیا ہے۔
کبھی شاعر کے پیچھے ایک کڑ ایسی لگ جاتی ہے جس کی وجہ سے اس کو مجبوراً کچھ نہ کچھ لکھنا پڑتا ہے، مثلاً ہر تقریب یا تہوار پر تہنیت کا قصیدہ لکھنا، یا ہر ہفتہ یا عشرہ میں مشاعرہ کی طرح پر غزل سرانجام کرنی۔ گو بظاہر اس میں آزادی کی کچھ مزاحمت نہیں معلوم ہوتی، لیکن انسان کی نیچر پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی ایسی کڑیں اس کی چلتی گاڑی میں روڑا اٹکا دیتی ہیں۔ وہ جس طرح ممنوعات پر بالطبع حریص ہے، اسی طرح تکلیفات [3] سے بالطبع ابا کرنے والا ہے۔ انشاء اللہ خاں جب تک مطلق العنان رہے، سعادت علی خاں کے دربار میں نت نئے شگوفے اور چٹکلے چھوڑتے اور بات بات پر لطیفے انشا کرتے تھے؛ لیکن جب سعادت علی خاں نے یہ کڑ لگا دی کہ ہر روز دو ایسی نئی باتیں بیان کر دیا کرو جو کبھی نہ سنی ہوں، پھر وہی انشاء اللہ خاں تھے کہ پاگلوں کی طرح گلی کوچوں میں لڑکوں سے پوچھتے پھرا کرتے تھے کہ بھئی کوئی نئی بات بتاؤ؛ آخر اسی جستجو میں قطعی پاگل ہو گئے۔ یورپ کے ایک زبردست شاعر کا حال سنا ہے کہ جب اس نے اپنی آیندہ تصنیفات کا کاپی رائٹ کسی پبلشر کے ہاتھ فروخت کر دیا تو وہ کہا کرتا تھا کہ اس معاہدہ سے میری طبیعت بند ہو گئی ہے؛ جب کچھ لکھنے بیٹھتا ہوں، ساتھ ہی یہ خیال گذرتا ہے کہ اب ہم جو کچھ لکھتے ہیں اپنے دل کی اپج سے نہیں بلکہ اپنا معاہدہ پورا کرنے کو لکھتے ہیں؛ اس خیال سے طبیعت خود بخود بیٹھی جاتی ہے۔
بہرحال جہاں تک ممکن ہو کسی مضمون کے لکھنے پر اس وقت تک قلم اٹھانی نہیں چاہیے جب تک اس کی چیٹک دل کو نہ لگی ہو۔ کسی کی ریس سے، کسی کی فرمائش سے، کسی کے دباؤ سے، یا کسی اور مجبوری کے سبب، بغیر اقتضائے طبیعی اور ولولۂ باطنی کے جو شعر کہا جائے گا یا جو نظم سرانجام کی جائے گی، اس میں اثر اور زور پیدا کرنا نہایت دشوار ہے۔
غزل، قصیدہ اور مثنوی
پانچویں: اصناف سخن میں سے تین ضروری صنفیں جن کا ہماری شاعری میں زیادہ رواج ہے، یعنی غزل، قصیدہ اور مثنوی، ان کے متعلق چند مشورے دیے جاتے ہیں۔ سب سے اول ہم غزل کا ذکر کرتے ہیں، اور ایک خاص مناسبت کی وجہ سے رباعی اور قطعہ کو غزل کی ذیل میں داخل کرتے ہیں۔
حواشی
[1] شوق سے مراد نواب مرزا لکھنوی ہے، جس کی بہار عشق و زہر عشق وغیرہ مثنویاں مشہور ہیں۔
[2] کثیر ایک مشہور عرب کا شاعر ہے جس کی معشوقہ کا نام عزہ تھا، اور عبد العزیز بن مروان اس کا ممدوح تھا۔ جہاں کثیر عزہ لکھتے ہیں، وہاں اسی سے مراد ہوتی ہے۔
[3] تکلیف کڑ لگانے کو کہتے ہیں ... [illegible]
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.