Urdu in Translation
Search

Chapter 9 of 13

The Ghazal

غزل

Altaf Husain Hali

Script
Size

غزل

غزل میں، جیسا کہ معلوم ہے، کوئی خاص مضمون مسلسل بیان نہیں کیا جاتا، الا ماشاء اللہ، بلکہ جدا جدا خیالات الگ الگ بیتوں میں ادا کیے جاتے ہیں۔ اس صنف کا زیادہ تر رواج موجودہ حیثیت کے ساتھ اول ایران میں اور کوئی ڈیڑھ سو برس سے ہندوستان میں ہوا ہے۔ اگرچہ غزل کی اصل وضع، جیسا کہ لفظ "غزل" [1] سے پایا جاتا ہے، محض عشقیہ مضامین کے لیے ہوئی تھی، مگر ایک مدت کے بعد وہ اپنی اصلیت پر قائم نہیں رہی۔ ایران میں اکثر اور ہندوستان میں چند شاعر ایسے بھی ہوئے ہیں جنھوں نے غزل میں عشقیہ مضامین کے ساتھ تصوف اور اخلاق و مواعظ کو بھی شامل کر لیا ہے۔

اگرچہ اس لحاظ سے کہ غزل کی حالت فی زماننا نہایت ابتر ہے، وہ محض ایک بے سود اور دور از کار صنف معلوم ہوتی ہے؛ لیکن چونکہ شاعر کو مبسوط اور طولانی مسلسل نظمیں لکھنے کا ہمیشہ موقع نہیں مل سکتا، اور اس کی قوت متخیلہ بیکار بھی نہیں رہ سکتی، اس لیے بسیط خیالات جو وقتاً بعد وقت شاعر کے ذہن میں فی الواقع گذرتے ہیں، یا تازہ کیفیات جن سے اس کا دل روزمرہ کسی واقعہ کو سن کر یا کسی حالت کو دیکھ کر سچ مچ متکیف ہوتا ہے، ان کے اظہار کا کوئی آلہ غزل یا رباعی یا قطعہ سے بہتر نہیں ہو سکتا۔ بعض خیالات جو دو مصرعوں میں بالکل یا زیادہ خوبی کے ساتھ ادا نہیں ہو سکتے، ان کو قطعہ یا رباعی کے لباس میں ظاہر کیا جا سکتا ہے؛ اور چند بسیط خیالات جو ایک دوسرے سے کچھ تعلق نہیں رکھتے، وہ غزل کے سلسلہ میں، بشرطیکہ ردیف اور قافیہ کی ناقابل برداشت قیدیں کسی قدر ہلکی کر دی جائیں، منسلک ہو سکتے ہیں۔ ردیف و قافیہ کی بابت اگر وقت نے مساعدت کی تو ہم پھر کسی موقع پر اپنی رائے ظاہر کریں گے؛ یہاں نفس غزل کے متعلق چند باتیں بیان کرتے ہیں۔

غزل کی اصلاح تمام اصناف سخن میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری ہے۔ قوم کے لکھے پڑھے اور ان پڑھ سب غزل سے مانوس ہیں۔ بچے، جوان اور بوڑھے سب تھوڑا بہت اس کا چٹخارا رکھتے ہیں۔ وہ بیاہ شادی کی محفلوں میں، وجد و سماع کی مجلسوں میں، لہو و لعب کی صحبتوں میں، تکیوں میں اور رنڈیوں میں برابر گائی جاتی ہے۔ اس کے اشعار ہر موقع اور ہر محل پر بطور سند یا تائید کلام کے پڑھے جاتے ہیں۔ جو لوگ کتاب کے مطالعہ سے گھبراتے ہیں اور نثر یا نظم میں لمبے چوڑے مضمون پڑھنے کا دماغ نہیں رکھتے، وہ بھی غزلوں کے دیوان شوق سے پڑھتے ہیں۔ جس آسانی سے غزل کے اشعار ہر شخص کو یاد ہو سکتے ہیں، کوئی کلام یاد نہیں ہو سکتا، کیونکہ اس میں ہر مضمون دو مصرعوں پر ختم اور سلسلۂ بیان منقطع ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ جو صنف قوم میں اس قدر دائر و سائر اور مرغوب خاص و عام ہو، اس کا اثر قومی مذاق اور قومی اخلاق پر جس قدر ہو تھوڑا ہے۔ اسی لیے ہمارے نزدیک شعرا کو سب سے پہلے غزل کی اصلاح کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ لیکن غزل کی اصلاح جس قدر ضروری ہے اسی قدر دشوار بھی ہے۔ غزل میں جو عام دلفریبی ہے، اصلاح کے بعد اس کا قائم رہنا نہایت مشکل ہے۔ جو کان ٹھپے ٹھمری سے مانوس ہو جاتے ہیں وہ دھرپت اور خیال سے لذت نہیں اٹھا سکتے۔ داستان سننے والوں کی پیاس تاریخی واقعات سے ہرگز نہیں بجھ سکتی۔ بوالہوسی اور کامجوئی کی باتوں میں جو مزا ہے، وہ خالص عشق و محبت میں ہر شخص کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ اوباش و الواط کی بولی ٹھولیوں میں جو چٹخارا ہے، وہ سنجیدہ باتوں میں کسی بے حس ہی کو محسوس ہو سکتا ہے۔ جن مذاقوں پر ہزل و مطائبہ کا رنگ چڑھ جاتا ہے، ان پر حکمت اور اخلاق کا منتر کارگر نہیں ہوتا۔ جو لوگ سرمہ، کاجل، کنگھی، چوٹی پر فریفتہ ہیں، وہ حسن ذاتی کی حقیقت تک کیونکر پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن زمانہ باآواز بلند کہہ رہا ہے کہ یا عمارت کی ترمیم ہوگی یا عمارت خود نہ ہوگی۔

غزل کو جن لوگوں نے چمکایا اور مقبول خاص و عام بنایا ہے، یہ وہ لوگ تھے جو آج تک اہل اللہ اور صاحب باطن یا کم سے کم عشق الٰہی کا راگ گانے والے سمجھے جاتے ہیں، جیسے سعدی، رومی، خسرو، حافظ، عراقی، مغربی، احمد جام اور جامی وغیرہم۔ ان بزرگوں سے پہلے غزل کی طرف زیادہ اعتنا نہیں پایا جاتا۔ ہم نے حیات سعدی میں کسی موقع پر بیان کیا ہے کہ ان کی غزل کا موضوع، جیسا کہ ظاہر الفاظ سے مفہوم ہوتا ہے، عشق مجازی نہ تھا، بلکہ وہ حقیقت کو مجاز کے پردہ میں ظاہر کرتے، یا یوں کہو کہ چھپاتے تھے۔ ان کے ایک ایک لفظ سے پایا جاتا ہے کہ وہ عشق و محبت کے رنگ میں شور بور تھے۔ ان کے کلام میں ضرور کوئی ایسی چیز ہے جس کو روحانیت کے ساتھ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ ان کی غزل سن کر دنیا کی بے ثباتی اور بے اعتباری کا سماں دل پر چھا جاتا ہے۔ وہ خال و خط کا ذکر اس طرح کرتے ہیں جس سے شاہد پرستی کی ترغیب نہیں بلکہ دنیا پرستی سے نفرت ہوتی ہے۔ وہ شراب کی بدمستی کو دنیا دار مکاروں کی ہوشیاری سے بہتر بتاتے ہیں۔ وہ رندی و بدنامی و رسوائی کو صوفیوں کی دلق ملمع اور زاہدوں کی زہد ریائی پر ترجیح دیتے ہیں۔ وہ کوئی گناہ مکر و ریا سے، کوئی حماقت غرور مال و جاہ سے، کوئی شرک خود پرستی و نفس پرستی سے، اور کوئی دھوکا دنیا سے بڑھ کر نہیں بتاتے۔ ان کا کوئی کلام اثر سے خالی نہیں، اور اس سے ظاہر ہے کہ انھوں نے جو کچھ کہا ہے وہ ان کے دل سے نکلا ہے۔

ان لوگوں کی غزل گو بعض حیثیتوں سے قوم کی موجودہ حالت کے مناسب نہ ہو، لیکن وہ اس حالت کے بالکل مناسب تھی جب کہ قوم نے دنیا کو یا دنیا نے قوم کو شکار کر رکھا تھا۔ ان کے اشعار ان لوگوں کے حق میں تازیانہ کا حکم رکھتے تھے جو حب دنیا اور حب جاہ میں منہمک، خدا سے غافل، اور بادۂ نخوت میں مدہوش تھے۔ ان سے ظالم، طماع، حریص اور بخیل عبرت حاصل کرتے تھے۔ وہ ریاکار زاہدوں، واعظوں اور صوفیوں کی قلعی کھولتے تھے۔ وہ سادہ لوح امیروں کو عیار فقیروں کے دام تزویر سے بچاتے تھے۔ وہ اہل اللہ اور ارباب صدق و صفا کو نفس امارہ کی چوریوں اور خیانتوں سے آگاہ اور متنبہ کرتے تھے۔

اردو میں عام طور پر یہ رنگ تو ایک آدھ کے سوا کسی کی غزل میں کبھی پیدا نہیں ہوا، لیکن عاشقانہ خیالات نیچرل اور سادہ طور پر ادا کرنے والے اردو غزل گویوں کے طبقہ میں کم و بیش ہوتے رہے ہیں؛ مگر افسوس ہے کہ اب یہ رنگ بھی روز بروز مٹتا جاتا ہے۔ الفاظ میں صنعت اور خیالات میں رکاکت و سخافت یوماً فیوماً بڑھتی جاتی ہے۔ ہم بجائے اس کے کہ غزل گوئی کے موجودہ طریقہ پر نکتہ چینی کریں، یہ زیادہ مناسب سمجھتے ہیں کہ عام طور پر اس کی اصلاح کے متعلق اہل وطن کی خدمت میں چند مشورے پیش کریں۔

(۱) غزل کے لیے یہ ایک ضروری سی بات قرار پا گئی ہے کہ اس کی بنا عشقیہ مضامین پر رکھی جائے۔ اور حق یہ ہے کہ اگر غزل میں عشق و محبت کی چاشنی نہ دی جائے تو حالت موجودہ میں اس کا سرسبز اور مقبول ہونا ایسا ہی مشکل ہے جیسا شراب میں سرکہ بن جانے کے بعد سرور قائم رہنا۔ لیکن اصل اور نقل میں آسمان و زمین کا فرق ہے۔ جو کیفیت عشق میں ہے، وہ تعشق میں ہرگز پیدا نہیں ہو سکتی۔ جو غزلیں محض تقلیداً عاشقانہ لکھی جاتی ہیں، ان میں اتنا ہی اثر ہو سکتا ہے جتنا کہ ایک بھانڈ کی نقل میں، جو مجنوں یا فرہاد بن کر مجلس میں آئے۔ اثر قائل اور سامعین کی حالت کا تابع ہے۔ اگر قائل اور سامع میں، یا کم سے کم صرف قائل کے دل میں فی الواقع کوئی کیفیت موجود ہے، تو اس کیفیت کا بیان ضرور موثر ہوگا۔ جو شخص فی الواقع مظلوم یا مصیبت زدہ ہے، جب وہ اپنی سرگذشت بیان کرے گا ضرور اس کے بیان سے لوگوں کے دل پر چوٹ لگے گی؛ لیکن اگر یہی بیان کسی ایسے شخص کی زبان سے سرزد ہوگا جس کی حالت خود اس کی تکذیب کرتی ہے، تو اس سے سوائے اس کے کہ لوگوں کو ہنسی آئے، اور کوئی اثر مترتب نہیں ہو سکتا۔ پس ایک پارسا نوجوان جس کو ہوا و ہوس کی کبھی ہوا تک نہیں لگی، یا ایک ستر برس کا پیر مرد جس میں بوالہوسی کی قابلیت نہیں رہی، ان کو ہرگز زیبا نہیں معلوم ہوتا کہ غزل میں شاہد بازی اور ہوا پرستی کے مضمون باندھ کر بیہودہ ایک اپنے اوپر بہتان باندھے اور دوسرا اپنے تئیں رسوا اور بدنام کرے۔

محبت کچھ ہوا و ہوس اور شاہد بازی و کامجوئی پر موقوف نہیں ہے۔ بندہ کو خدا کے ساتھ، اولاد کو ماں باپ کے ساتھ، ماں باپ کو اولاد کے ساتھ، بھائی بہن کو بھائی بہن کے ساتھ، خاوند کو بی بی کے ساتھ، بی بی کو خاوند کے ساتھ، نوکر کو آقا کے ساتھ، رعیت کو بادشاہ کے ساتھ، دوستوں کو دوستوں کے ساتھ، آدمی کو جانور کے ساتھ، مکین کو مکان کے ساتھ، وطن کے ساتھ، ملک کے ساتھ، قوم کے ساتھ، خاندان کے ساتھ، غرضکہ ہر چیز کے ساتھ لگاؤ اور دلبستگی ہو سکتی ہے۔ پس جب کہ عشق و محبت میں اس قدر احاطہ اور جامعیت ہے، اور جبکہ عشق کا اعلان کم ظرفی اور معشوق کا پتا بتانا بے غیرتی ہے، تو کیا ضرور ہے کہ عشق کو محض ہوائے نفسانی اور خواہش حیوانی میں محدود کر دیا جائے اور ایسے سر مکتوم کو فاش کر کے اپنی تنک ظرفی اور بے حوصلگی ظاہر کی جائے۔

اسی لیے ہماری یہ رائے ہے کہ غزل میں جو عشقیہ مضامین باندھے جائیں وہ ایسے جامع الفاظ میں ادا کیے جائیں جو دوستی اور محبت کی تمام انواع و اقسام اور تمام جسمانی اور روحانی تعلقات پر حاوی ہوں، اور جہاں تک ہو سکے کوئی لفظ ایسا نہ آنے پائے جس سے کھلم کھلا مطلوب کا مرد یا عورت ہونا پایا جائے، مثلاً کلاہ، چیرہ، دستار، جامہ، قبا، سبزۂ خط، مسیں بھیگنا، زرگر پسر، مطرب پسر، مغبچہ، ترسابچہ وغیرہ وغیرہ؛ یا محرم، کرتی، مہندی، چوڑیاں، چوٹی، موباف، آرسی، جھومر وغیرہ۔

اگرچہ (جیسا کہ حیات سعدی کے خاتمہ میں ہم نے مفصل بیان کیا ہے) مرد کا مطلوب مرد کو قرار دینا، جو ایران اور ہندوستان کی شاعری میں مروج ہے، محض ایک غلط فہمی اور قومی حمیت کے خیال پر مبنی ہے، نہ کہ حقائق و واقعات پر؛ لیکن پھر بھی یہ ایک ایسا قبیح اور نالائق دستور ہے جو قومی اخلاق کو داغ لگاتا ہے؛ لہٰذا اس کو جہاں تک جلد ممکن ہو ترک کرنا چاہیے۔ اور اس بات کا خیال بالکل چھوڑ دینا چاہیے کہ ایران اور ہندوستان کے تمام شعرائے نامور اسی طریقہ پر غزل کہتے چلے آئے ہیں۔ ہر زمانہ کا اقتضا الگ ہوتا ہے۔ جو فحش اور بے حیائی کی باتیں ایران اور ہندوستان کے بڑے بڑے پرانتوں کے کلام میں موجود ہیں، اگر ہم آج ویسی باتوں میں ان کی تقلید کریں تو قانوناً مجرم ٹھیرتے ہیں۔ پس جہاں ہم نے ان کی بہت سی خرافات مواخذۂ عدالت کے خوف سے چھوڑی ہیں، ان کی ایک آدھ خرافت محض عقل اور اخلاق کے حکم سے بھی چھوڑنی چاہیے۔

اسی طرح غزل میں ایسے الفاظ استعمال کرنے جو عورتوں کے لوازمات اور خصوصیات پر دلالت کریں، اس قوم کی حالت کے بالکل نامناسب ہیں جو پردہ کے قاعدہ کی پابند ہو؛ کیونکہ اگر معشوقہ کوئی منکوحہ یا مخطوبہ ہے تو اس کے حسن و جمال کی تعریف کرنی اور اس کے کرشمہ و ناز و انداز کی تصویر کھینچنی گویا اپنے ننگ و ناموس کو اپنوں اور پرایوں سے انٹروڈیوس کرانا ہے؛ اور اگر کوئی بازاری بیسوا ہے تو اپنی نالائقی یا بدنیتی کا ڈھنڈورا پیٹنا ہے۔ اسی بنا پر ایران میں جتنے ممتاز اور برگزیدہ اور اعلیٰ درجہ کے غزل گو گذرے ہیں، ان کی غزل میں عورتوں کی خصوصیات اس قدر کم پائی جاتی ہیں کہ گویا بالکل نہیں ہیں؛ اور اتنی بات اب تک ہندوستان میں بھی موجود ہے کہ گو غزل میں مطلوب کبھی مرد کو اور کبھی عورت کو قرار دیتے ہیں، اور کبھی مرد کی اور کبھی عورت کی خصوصیات بھی ذکر کرتے ہیں، لیکن کبھی مطلوب کے لیے افعال یا صفات مونث نہیں لاتے بلکہ ہمیشہ مذکر لاتے ہیں۔ مثلاً یوں کبھی نہیں کہتے کہ وہ روزن دیوار سے جھانکتی تھی، یا وہ پری ہمارا دل لے گئی، یا وہ آرسی میں منہ دیکھتی تھی، یا وہ بال بنا رہی تھی، یا وہ اپنی صورت کی متوالی ہے، یا وہ عاشق کا دل جلانے والی ہے؛ بلکہ ایسی حالتوں میں بھی افعال و صفات ہمیشہ مذکر ہی لاتے ہیں، حالانکہ مقام تانیث کا مقتضی ہوتا ہے۔ مثلاً ذوق کہتے ہیں:

"جھانکتے تھے وہ ہمیں جس روزن دیوار سے / وائے قسمت ہو اسی روزن میں گھر زنبور کا"

یا امانت لکھنوی کہتے ہیں:

"شانوں میں وہ پری زلف کو وا کیا کرتا / مو شگافوں کو گرفتار بلا کیا کرتا"

غرضکہ کسی اردو غزل گو نے معشوق کے لیے، جہاں تک کہ ہم کو معلوم ہے، فعل یا صفت مذکر استعمال نہیں کی۔

اگر معشوق کو اطلاق کی حالت پر چھوڑ دیا جائے اور کوئی خصوصیت رجال یا نسا کی غزل میں ذکر نہ کی جائے، تو اس صورت میں افعال و صفات کا مذکر لانا بالکل قاعدہ کے موافق ہوگا۔ تمام دنیا کی زبانوں میں یہ قاعدہ عام معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی حکم مطلق انسان کی نسبت لگایا جاتا ہے اور مرد یا عورت کی تخصیص مقصود نہیں ہوتی، تو گو نوع انسان میں ذکور و اناث دونو داخل ہیں، مگر اس حکم کا موضوع ہمیشہ فرد کامل یعنی مذکر قرار دیا جاتا ہے نہ مونث۔ مذہب میں، فلسفہ میں، طب میں، اخلاق میں اور تمام علوم و فنون میں یہی قاعدہ عموماً جاری ہے۔ لیکن معشوق کو کبھی چیرہ یا قبا یا سبزۂ خط کے ساتھ اور کبھی چوٹی، موباف، آرسی اور چوڑیوں کے ساتھ ذکر کرنا، اور باوجود اس کے اس کے افعال و صفات کو ہمیشہ مذکر لانا، اس کے یہ معنی ہوں گے کہ معشوق نہ مرد ہے اور نہ عورت، بلکہ زنانہ ہے یا ہیجڑا۔

ایسے اشعار جن میں عشق کا بیان ایسے لفظوں میں کیا گیا ہو جو محبت کے عام مفہوم پر حاوی ہوں، یا محض عشق روحانی یا عشق الٰہی پر محمول ہو سکیں، اور جن سے مطلوب کا مرد یا عورت ہونا مطلقاً نہ پایا جائے، کیا فارسی اور کیا اردو، دونو زبانوں کی غزل میں بکثرت موجود ہیں؛ خصوصاً شعرائے متصوفین کے کلام میں زیادہ تر اسی قبیل کے اشعار پائے جاتے ہیں۔ پس غزل میں ہمیشہ کے لیے ایسا التزام کرنے کی خواہش کرنی کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کو تکلیف مالا یطاق سمجھا جائے۔

(۲) جس طرح عشقیہ مضامین غزل کے نیچر میں داخل ہیں، اسی طرح خمریات، یعنی شراب اور اس کے لوازمات کا ذکر، اور نیز فقہا و زہاد اور تمام اہل ظاہر پر طعن و تعریض کرنی، اپنی میخواری و توبہ شکنی و خرابات نشینی پر فخر کرنا، اور اہل شرع اور اہل تقویٰ کے اعمال و اقوال میں عیب نکالنے، اور اسی قسم کی اور باتیں جو عقل و شرع کے خلاف ہوں، یہ مضامین بھی غزل کے اجزائے غیر منفک قرار پا گئے ہیں۔ سب سے پہلے غزل میں یہ طریقہ شعرائے متصوفین نے، جو اہل اللہ اور صاحب باطن سمجھے جاتے ہیں، اختیار کیا تھا، جیسے سعدی و رومی و حافظ و خسرو وغیرہم۔ چونکہ ان لوگوں کی غزل نے ایران اور ہندوستان میں زیادہ رواج اور حسن قبول پایا، اور خاص کر خواجہ حافظ کی غزل، جس میں ان مضامین کی بہتات سب سے بڑھ کر ہے، حد سے زیادہ مشہور و مقبول ہوئی، اس لیے متاخرین نے بھی ان کی تقلید سے یہی شیوہ اختیار کر لیا۔ مگر ہم کو دیکھنا چاہیے کہ ان بزرگوں نے جو ایسے مضامین باندھنے میں اس قدر غلو کیا ہے، اس کا منشا کیا تھا۔

فقہا اور اہل ظاہر ہمیشہ دو فرقوں کے سخت مخالف رہے ہیں: ایک اہل باطن کے، دوسرے اہل رائے کے۔ فقہا کے فتووں سے ان دونو گروہوں کو ہمیشہ سخت نقصان پہنچتے رہے ہیں؛ قتل کیے گئے ہیں، دار پر چڑھائے گئے ہیں، مشکیں بندھی ہیں، کوڑے کھائے ہیں، قیدیں بھگتی ہیں، جلاوطن کیے گئے ہیں، کتابیں جلائی گئی ہیں، اور اور کیا کیا کچھ ہوا ہے۔ جبکہ فقہا کی مخالفت کا ان لوگوں کے ساتھ یہ حال تھا، تو یہ بھی اپنی تصنیفات میں، نثر ہو یا نظم، خوب دل کے بخارات نکالتے تھے، بقول شخصے "کسی کا ہاتھ چلے، کسی کی زبان"۔ فقہا و واعظین ان کے اقوال و افعال پر گرفت کرتے تھے؛ انھوں نے ان کے اخلاق کی قلعی کھولنی شروع کی۔ وہ کہتے تھے کہ یہ لوگ خلاف شرع کام کرتے ہیں؛ انھوں نے کہا شرابخوری و قماربازی، جو اکبر الکبائر ہیں، وہ بھی جو فروشی و گندم نمائی سے بہتر ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ یہ لوگ خلاف شرع باتیں کہتے ہیں؛ انھوں نے کہا علانیہ کفر بکنا اس سے بہتر ہے کہ دل میں کفر ہو اور زبان پر اسلام۔ وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے تھے؛ انھوں نے کہا کہ اوروں کو ہدایت کرنے اور آپ گمراہ رہنے سے بڑھ کر کوئی گناہ نہیں۔ وہ کہتے تھے کہ تم لوگ حقوق الٰہی ادا نہیں کرتے؛ انھوں نے کہا تم حقوق عباد میں خیانت کرتے ہو۔ الغرض شعرائے متصوفین نے جو اہل ظاہر پر خردہ گیریاں کی ہیں، وہ اسی قسم کی تعریضات اور مطارحات ہیں۔

اس کے سوا ان لوگوں کی غزل میں اکثر شراب و ساقی و جام و صراحی اور ان کے لوازمات اور خلاف شرع الفاظ مجاز اور استعارہ کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ یہ لوگ یا تو اس خیال سے کہ دوست کا راز اغیار پر ظاہر نہ ہو، یا اس نظر سے کہ لوگوں کا حسن ظن جو رہزن طریقت ہے اس سے محفوظ رہیں، یا اس لیے کہ عشق و محبت کی بھڑاس آزادانہ اور رندانہ گفتگو میں بہ نسبت سنجیدہ اور مودب گفتگو کے خوب نکلتی ہے، اور یا اس غرض سے کہ حریفوں کو چھیڑ چھیڑ کر اور زیادہ بھڑکائیں اور ان کی زجر و ملامت، جو بے گناہ ملزموں کو تحسین و آفرین سے زیادہ خوشگوار ہوتی ہے، مزے لے لے کر سنیں، روحانی کیفیات کو شراب و شاہد کے پیرایہ میں بیان کرتے تھے۔ سب سے اخیر درجہ کا ثبوت مولانا روم کی اس رباعی سے ہوتا ہے:

دی بر سر کوئی زلہ غارت کردم / مر پاکاں را جانب یارت کردمشکرانہ آنکہ روزہ خوردم رمضاں / در عید نماز بے طہارت کردم

شاہ ولی اللہ صاحب نے اس رباعی کی شرح لکھی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ رمضان میں روزے کھانے کے یہ معنی ہیں کہ جب مجاہدہ سے مشاہدہ تک نوبت پہنچ گئی تو ریاضت ترک کر دی گئی؛ اور نماز بے طہارت سے یہ مراد ہے کہ جب وصل کی عید میسر آ گئی اور جدائی کا الم جاتا رہا، اب حضوری بے کیف، جو کہ حقیقت صلوٰۃ ہے، ہر وقت رہنے لگی، یہاں تک کہ ظاہری طہارت اور عدم طہارت، اور جاگتے اور سوتے، غرضکہ ہر حالت میں دولت حضوری موجود ہے۔ خواجہ حافظ کا یہ شعر بھی اسی قبیل کا ہے:

پیر ما گفت خطا بر قلم صنع نہ رفت / آفریں بر نظر پاک خطا پوشش باد

دوسرے مصرع میں "خطا پوش" کے لفظ سے قلم صنع کی خطا پوشی کا خیال ذہن میں گذرتا ہے، مگر فی الحقیقت یہ مطلب نہیں ہے بلکہ انسان کی عیب پوشی مقصود ہے۔

کیونکہ قلم صنع میں کبھی خطا نہ ہونے کے یہ معنی ہیں کہ جو کچھ اس نے لکھ دیا ہے وہ اٹل ہے، اور اس سے انسان کا مجبور ہونا اور اس لیے اس کا بے خطا ہونا ثابت ہوتا ہے۔

مذکورۂ بالا اشعار سے صاف پایا جاتا ہے کہ یہ بزرگوار قصداً ایسے الفاظ برتتے تھے جن سے اہل ظاہر کو نکتہ گیری کرنے کا موقع ملے۔ اسی لیے مولانا روم فرماتے ہیں:

"خوشتر آں باشد کہ سر دلبراں / گفتہ آید در حدیث دیگراں"

ان بزرگوں کے سوا بعضے شعرا ایسے بھی گذرے ہیں جو فی الواقع شراب پینے کے عادی تھے، اور نشہ یا خمار کی حالت میں جو کیفیت ان کے دل پر گذرتی تھی، یا جو اثر ان کی طبیعت یا اخلاق پر ہوتا تھا، اس کو شعر میں بیان کرتے تھے۔ چونکہ شاعری کا جزو اعظم (جیسا کہ اوپر بیان ہو چکا ہے) یہ ہے کہ اس میں جو خیال باندھا جائے اس کی بنیاد اصلیت پر ہونی چاہیے، اس لیے اصول شاعری کے موافق شراب و کباب کے مضمون باندھنا صرف ان لوگوں کا حق ہونا چاہیے جو یا تو خود اس میدان کے مرد ہوں، اور یا اپنے اصلی خیالات خمریات کے پیرایہ میں بطور مجاز و استعارہ کے ادا کر سکتے ہوں؛ ورنہ وہ قدما کے ایسے ہی مقلد سمجھے جائیں گے جیسا بندر انسان کا ہوتا ہے۔ نیز واعظ و زاہد وغیرہ کو لتاڑنا اور ان پر نکتہ چینی کرنی انھیں لوگوں کو زیبا ہے جن کو فی الواقع ان کے ساتھ کوئی وجہ مخالفت کی ہو۔ ہاں، باوجود نہ ہونے کسی قسم کی مخالفت کے، صرف ایک صورت سے واجبی طور پر ایسے مضامین باندھے جا سکتے ہیں، یعنی نکتہ چینی ایسے طریقہ سے کی جائے جس سے معلوم ہو کہ محض ریا و مکر و سالوس کی برائی بیان کرنی مقصود ہے، نہ کہ زہاد اور واعظین کی ذات پر حملہ کرنا؛ کیونکہ رذائل کی برائی اور فضائل کی خوبی بغیر اس کے دلنشین نہیں کی جا سکتی کہ کسی شخص یا گروہ کو ان کا موضوع فرض کر لیا جائے اور معقولات کو محسوسات کے پیرایہ میں ظاہر کیا جائے۔ ظلم اور عدل کا بیان واضح طور پر اسی طرح ہو سکتا ہے کہ ظالم یا منصف بادشاہ کی مذمت یا تعریف کی جائے؛ اور نامردی یا بہادری کی تصویر یونہیں دکھائی جا سکتی ہے کہ ان کو کسی بزدل یا بہادر کے قالب میں ڈھالا جائے۔ لیکن اس صورت میں ضرور ہے کہ واعظ و زاہد وغیرہ کی کسی ایسی صفت کی طرف جو عقلاً یا شرعاً قابل الزام ہو کچھ اشارہ کیا جائے، ورنہ کہا جائے گا کہ نیکوں پر، نہ اس لیے کہ وہ قابل الزام ہیں بلکہ اس لیے کہ وہ نیک ہیں، حملہ کیا جاتا ہے۔ یہاں بطور مثال کے ہم شیخ ابراہیم ذوق کے دو شعر لکھتے ہیں:

رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو / تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو

اس شعر میں کسی قدر اس خصلت کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے جو اکثر زاہدوں اور عابدوں میں ہوتی ہے، کہ اوروں کو ذرا ذرا سے قصور پر ملامت کرتے ہیں اور اپنے ظاہری احکام کی پابندی پر مغرور ہو کر باطن کی اصلاح سے غافل رہتے ہیں۔ لہٰذا اس طرز بیان پر کوئی اعتراض نہیں ہو سکتا۔ مگر دوسری جگہ وہ اس طرح فرماتے ہیں:

زیبا ہے جو ہو ریش سفید شیخ پر / وسمہ آب بنگ سے مہندی مے گلرنگ سے

اس شعر میں شیخ کا کوئی گناہ یا قصور سوا اس کے کہ شیخ شیخ ہے، نہیں جتلایا گیا؛ اور شعر میں اس کے سوا اور کوئی خوبی نہیں رکھی گئی کہ ایک مقدس آدمی پر دو پھبتیاں کہہ کر بھنگڑوں اور شرابیوں کی ضیافت طبع کی جائے۔ ایسے اشعار ہمارے شعرا کے کلام میں بکثرت پائے جاتے ہیں، اور ایسے شعروں کو اگر ہم اپنے شعرا کا حد سے زیادہ ادب کریں تو سعدی اور سوزنی کی ہزلیات سے زیادہ وقعت نہیں دے سکتے۔

(۳) مذکورۂ بالا مضامین کے سوا اور جس بات کا سچا جوش اور ولولہ دل میں اٹھے، خواہ اس کا منشا خوشی ہو یا غم، یا حسرت، یا ندامت، یا شکر، یا شکایت، یا صبر، یا رضا، یا قناعت، یا توکل، یا رغبت، یا نفرت، یا رحم، یا انصاف، یا غصہ، یا تعجب، یا امید، یا ناامیدی، یا شوق، یا انتظار، یا حب وطن، یا قومی ہمدردی، یا رجوع الی اللہ، یا حمایت دین و مذہب، یا دنیا کی بے ثباتی اور موت کا خیال، یا اور کوئی جذبہ جذبات انسانی میں سے، اس کو بھی غزل میں بیان کر سکتے ہیں۔

اگرچہ اصل وضع کے لحاظ سے غزل کا موضوع عشق و محبت کے سوا کوئی اور چیز نہیں ہے، لیکن ہمارے شعرا نے اس کو ہر مضمون کے لیے عام کر دیا ہے، اور اب اس صنف کو محض مجازاً غزل کہا جاتا ہے۔ پس ہر قسم کے خیالات جو شاعر کے دل میں وقتاً فوقتاً پیدا ہوں، وہ غزل یا رباعی یا قطعہ میں بیان ہو سکتے ہیں۔ مگر یہ صحیح نہیں ہے کہ جو خیالات اگلوں نے زمانہ کے اقتضا سے یا اپنے جذبات کے جوش میں ظاہر کیے ہیں، ہم بھی وہی راگ گاتے رہیں اور انھیں کے خیالات کا اعادہ کرتے رہیں۔ نہیں، بلکہ ہم کو چاہیے کہ اپنی غزل کو خود اپنے خیالات اور اپنے جذبات کا ارگن بنائیں۔ ممکن ہے کہ اگلوں میں سے کسی نے دنیا کے لیے ہاتھ پاؤں مارنے اور کوشش کرنے کو عبث اور فضول بتلایا ہو، لیکن ہمارے دل میں اس خیال کی حقارت ہو؛ یا انھوں نے اس کے برعکس پاؤں توڑ کر بیٹھنے کو نامردی اور بے غیرتی کی بات سمجھا ہو، لیکن ہم میں سے کسی کے دل پر اس کے برخلاف حالت طاری ہو۔ دونو صورتوں میں ہمارے منہ سے وہی صدا نکلنی چاہیے جو ہمارے دل سے اٹھی ہو۔ یہ بھی ممکن ہے کہ خود ہمیں پر ایک وقت ایسا گذرے کہ مثلاً کوشش و تدبیر ہم کو محض بے سود و لاحاصل معلوم ہو، اور دوسرے وقت ہمارے ہی دل میں ایسا جوش پیدا ہو کہ پہاڑ کو جگہ سے ہٹا دینے کا ارادہ کریں۔ ہم کو دونو حالتوں کی تصویر اپنے اپنے موقع پر بے کم و کاست کھینچنی چاہیے۔ اس سے نہ صرف فطرت انسانی کے دقائق و غوامض اور جو انقلاب کہ اس کی طبیعت میں آناً فاناً پیدا ہوتے ہیں، وہی منکشف ہوں گے، بلکہ قومی اخلاق پر بھی عمدہ اثر ہوگا؛ کیونکہ جب تک ہر چیز کا اچھا اور برا دونو پہلو نہ دکھائے جائیں، تب تک اعتدال کی خوبی جلوہ گر نہیں ہوتی۔ مثلاً صائب ایک جگہ کہتے ہیں:

قناعت کن بہ نان خشک تا بے آبرو گردی / کہ خواہش ہائے الوان ست نعمت ہائے الواں را

دوسری جگہ یہی صائب کہتے ہیں:

صرف بیکاری مگرداں روزگار خویش را / پردۂ روی توکل ساز کار خویش را

ظاہر ہے کہ جب تک دونو مختلف خیال ملحوظ نہ رکھے جائیں، تب تک قناعت کا وہ درجہ جو آسائش اور حرص کے بیچوں بیچ واقع ہے، حاصل نہیں ہو سکتا۔

شاید کسی کو یہ خیال ہو کہ اخلاقی مضامین سے غزل میں وہ گرمی پیدا نہیں ہو سکتی جو عشقیہ مضامین میں ہوتی ہے؛ جو اثر شوق و آرزو اور درد جدائی اور کاہش انتظار اور رشک اغیار کے بیان میں ہے، وہ واعظانہ پند و نصیحت میں ہرگز نہیں ہو سکتا۔ بے شک اخلاقی مضامین کو موثر پیرایہ میں بیان کرنا نہایت مشکل کام ہے، اور بلاشبہ غزل جس میں سوز و گداز نہ ہو اور بجز چلبلا پن اور چونچال نہ ہو، دونو میں کچھ کشش اور گیرائی نہیں ہوتی؛ لیکن ہمارے معاصرین کے لیے سوز و گداز کا اس قدر مصالحہ موجود ہے جو صدیوں تک نبڑ نہیں سکتا۔ دنیا میں ایک انقلاب عظیم ہو رہا ہے اور ہوتا چلا جاتا ہے۔ آج کل دنیا کا حال صاف اس درخت کا سا نظر آتا ہے جس میں برابر نئی کونپلیں پھوٹ رہی ہیں اور پرانی ٹہنیاں جھڑتی چلی جاتی ہیں؛ تناور درخت زمین کی تمام طاقت چوس رہے ہیں اور چھوٹے چھوٹے تمام پودے جو ان کے گرد و پیش ہیں سوکھتے چلے جاتے ہیں؛ پرانی قومیں جگہ خالی کرتی جاتی ہیں اور نئی قومیں ان کی جگہ لیتی جاتی ہیں۔ اور یہ کوئی گنگا جمنا کی طغیانی نہیں ہے جو آس پاس کے دیہات کو دریابرد کر کے رہ جائے گی، بلکہ یہ سمندر کی طغیانی ہے جس سے تمام کرۂ زمین پر پانی پھرتا نظر آتا ہے۔ اگر کوئی دیکھے اور سمجھے تو صدہا تماشے صبح سے شام تک ایسے عبرت خیز نظر آتے ہیں کہ شاعر کی تمام عمر اس کی جزئیات کے بیان کرنے کے لیے کافی نہیں ہو سکتی۔ کسی واقعہ کو دیکھ کر تعجب ہوتا ہے کہ یہ کیا ہوا! کسی کو دیکھ کر افسوس ہوتا ہے کہ یہ کیوں ہوا؟ کبھی خوف معلوم ہوتا ہے کہ کیا ہوگا، اور کبھی یاس دل پر چھا جاتی ہے کہ بس اب کچھ نہیں۔ اس سے زیادہ دلچسپ میٹیریل غزل کے لیے اور کیا ہو سکتا ہے۔ ہر بات کا ایک محل اور ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے۔ عشق و عاشقی کی ترنگیں اقبالمندی کے زمانہ میں زیبا تھیں؛ اب وہ وقت گیا؛ عیش و عشرت کی رات گذر گئی اور صبح نمودار ہوئی؛ اب کالنگڑے اور بہاگ کا وقت نہیں رہا، اب جوگیے کی الاپ کا وقت ہے۔

اس کے سوا بڑے بڑے استادوں نے اکثر مسلسل غزلیں بھی لکھی ہیں جن میں ایک شعر کا مضمون دوسرے شعر سے الگ نہیں ہے، بلکہ ساری ساری غزل کا مضمون اول سے آخر تک ایک ہی ہے۔ ایسی غزلیں اگر کوئی لکھنی چاہے تو ان میں کسی قدر طولانی مضمون بھی بندھ سکتے ہیں، مثلاً ہر ایک موسم کی کیفیت، صبح اور شام کا سماں، چاندنی رات کا لطف، جنگل یا باغ کی بہار، میلے تماشوں کی چہل پہل، قبرستان کا سناٹا، سفر کی روداد، وطن کی دلبستگی، اور اسی قسم کی اور بہت سی باتیں مسلسل غزلوں میں بہت خوبی سے بیان ہو سکتی ہیں۔

الغرض غزل کو باعتبار مضامین اور خیالات کے جہاں تک ممکن ہو وسعت دینی چاہیے۔ شعر کی لوگوں کو ایسی ضرورت نہیں ہے جیسی کہ بھوک میں کھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ انسان کو اگر ہمیشہ طرح بہ طرح کے کھانے میسر نہ آئیں تو وہ تمام عمر ایک ہی کھانے پر قناعت کر سکتا ہے؛ لیکن شعر یا راگ میں جب تک تلون اور تنوع نہ ہو، اس سے جی اکتا جاتا ہے۔ جو گویا صبح شام، رات اور دن بھیرویں ہی الاپے جائے، اس کا گانا اجیرن ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شعر میں ہمیشہ ایک ہی قسم کے مضامین سنتے سنتے شعر سے نفرت ہو جاتی ہے۔

"مکرر گرچہ سحر آمیز باشد / طبیعت را ملال انگیز باشد"

اگرچہ اس میں شک نہیں کہ جس طرح شعر میں جدت پیدا کرنی اور ہمیشہ نئے اور اچھوتے مضامین پر طبع آزمائی کرنی شاعر کا کمال ہے، اسی طرح ایک ایک مضمون کو مختلف پیرایوں اور متعدد اسلوبوں میں بیان کرنا بھی کمال شاعری میں داخل ہے؛ لیکن جب ایک ہی مضمون ہمیشہ نئی صورت میں دکھایا جاتا ہے تو اس میں تازگی باقی نہیں رہتی۔ ہر مضمون کے چند محدود پہلو ہوتے ہیں؛ جب وہ تمام پہلو ہو چکتے ہیں تو اس مضمون میں تنوع کی گنجائش نہیں رہتی۔ اب بھی اگر اسی کو چھیڑے چلے جائیں گے تو بجائے تنوع کے تکرار اور اعادہ ہونے لگے گا۔ بہروپیا دو چار روپ بھر کر لوگوں کو شبہہ میں ڈال سکتا ہے، مگر پھر اس کی قلعی کھل جاتی ہے؛ ہر کوئی اس کو دور ہی سے دیکھ کر پہچان لیتا ہے کہ بہروپیا ہے۔ ہم لوگ جب غزل لکھ کر مشاعرہ میں جاتے ہیں تو اپنے دل میں سمجھتے ہیں کہ ہم سب سے الگ اور اچھوتے مضمون باندھ کر لے چلے ہیں؛ مگر غزل کو دیکھیے تو وہی انگریزی مٹھائی کا سا حال ہے کہ مٹھائیوں کی شکلیں مختلف ہیں لیکن مزا سب کا ایک ہے۔ فرض کرو کہ مختلف شکلوں کے متعدد سانچے تیار ہیں: کوئی مدور ہے، کوئی مستطیل، کوئی مثلث، کوئی مربع، کوئی مسدس اور کوئی مثمن۔ اب ہر ایک سانچے میں موم کو پگھلا کر ڈالو، ظاہر ہے کہ ہر سانچے سے موم نئی شکل پر ڈھل کر نکلے گا۔ بعینہ ایسا ہی حال غزل کا ہے: مضمون وہی معمولی ہیں، مگر بحر اور ردیف و قافیہ کے اختلاف سے مختلف شکلیں پیدا کر لیتے ہیں۔

ایک مشہور شاعر کا دیوان غزلیات اس وقت ہمارے سامنے موجود ہے۔ اس میں چاک گریباں کا مضمون مفصلۂ ذیل صورتوں میں بندھا ہوا ہے:

(۱) اے جنوں گریبان تو چاک کر چکے، اب کیا کریں، کوئی اور شغل بتا۔

(۲) لوگ پھر جامہ دری کرنے لگے، اور ہمارا ہاتھ پھر گریبان تک جانے لگا۔

(۳) بہار کے دن قریب آ گئے، جو گریبان خود بخود پھٹا جاتا ہے۔

(۴) اگر بہار میں میری پوشاک نہ چھین لی جاتی تو بدن پر نہ دامن نظر آتا نہ گریبان۔

(۵) اگر عقل کی پابندی نہ ہوتی تو ہم دامن اور گریبان سب پھاڑ ڈالتے۔

(۶) وہ ہاتھ چھوڑا کر چلا گیا، میں بھی اب گریبان کو پھاڑ کر چھوڑوں گا۔

(۷) اے جنوں ہم جدائی میں گریبان پھاڑتے ہیں، تو ساری رات اس کے تار گنتا رہ۔

(۸) اس کی تحریر سے میں ایسا دیوانہ ہوا کہ پیراہن چاک کر ڈالا۔

(۹) اس کی چست قبا کا دامن دیکھ کر گریبان پھٹتے ہیں۔

(۱۰) اے جنوں، دامن کی طرح گریبان کے بھی لتے لے۔

(۱۱) دیکھیے ہم کب تک کپڑے پھاڑتے ہیں اور کب تک ہم کو جنوں سوزن کی طرح عریاں رکھتا ہے۔

(۱۲) اے جنوں، اب جامہ دری مت کر؛ ہم دامن کو پھاڑ کر کب تک گریبان میں رفو کرتے رہیں۔

(۱۳) بہار میں ہاتھ کیسے بیکار ہیں، آؤ گریبان ہی چاک کریں۔

(۱۴) اے جنوں، گریبان مجھ کو پھانسی سے بھی زیادہ تنگ کرتا ہے، اس کی دھجیاں اڑا دے۔

(۱۵) اے جنوں، اب کے سال بہار میں گریبان کو ایسا چاک کر کہ کسی سے رفو نہ ہو سکے۔

(۱۶) تم تو ہاتھ سے دامن چھڑا کے نکل گئے، ہم اپنا گریبان چاک کر کے نکل گئے۔

(۱۷) جنوں جو حد سے بڑھا تو گریبان چاک ہو کے دامن سے نکل گئے۔

(۱۸) مجھے چاک گریبانوں پر حسرت آتی ہے کہ کیسے دامن صحرا کی طرف دوڑے جاتے ہیں۔

(۱۹) ہمارے ہاتھ جنون کی بدولت زوروں پر ہیں کہ نئے نئے گریبان چاک ہوتے ہیں۔

(۲۰) اے جنوں، تیرے ہاتھوں سے کتنا تنگ ہوں، روز نئے گریبان کہاں سے لاؤں۔

(۲۱) اس کے عاشق ہمیشہ گریبان چاک رکھتے ہیں؛ گل کے گریبان میں کہیں بھی رفو ہے؟

(۲۲) بہار آئی اور جنوں پھر کپڑے پھاڑنے لگا، کتنے ہی گریبان چیتھڑے ہو ہو کر اڑ گئے۔

(۲۳) اے جنوں، تجھ کو سودائے زلف کی قسم ہے جو گریبان کا ایک تار بھی بیکار جانے دے۔

جس دیوان سے ہم نے یہ ایک مضمون کے ۲۳ اسلوب بیان نقل کیے ہیں، یہ کچھ اوپر دو سو صفحہ کا دیوان ہے۔ جب ایک مختصر دیوان کا یہ حال ہے تو اردو کے تمام دیوانوں میں دیکھنا چاہیے کہ یہی ایک مضمون کتنی شکلوں میں باندھا گیا ہوگا؛ اور اگر فارسی کے دواوین کو بھی انھیں شامل کر لیا جائے تو میں خیال کرتا ہوں کہ اسی ایک مضمون کے اشعار سے کئی ضخیم جلدیں تیار ہو سکتی ہیں۔ حالانکہ مضمون ایسا تنگ ہے کہ اس میں ایک دو اسلوب سے زیادہ گنجائش نہیں معلوم ہوتی۔ اسی سے قیاس ہو سکتا ہے کہ غزل کے وہ معمولی مضامین جن میں اس مضمون کی نسبت زیادہ پہلو نکل سکتے ہیں، ان کی کہاں تک نوبت پہنچی ہوگی، جیسے جفائے یار، رشک اغیار، شوق وصل، رنج فراق، زلف پریشاں، چشم فتاں، بت پرستی، توبہ شکنی، رندی و بادہ خواری وغیرہ وغیرہ۔ اس میں بالکل مبالغہ نہیں معلوم ہوتا کہ اگر تمام فارسی اور اردو کی غزلیات کا خلاصہ کیا جائے، اور مکررات کو چھوڑ کر محض اصلی مضامین چھانٹے جائیں، تو سو سوا سو صفحہ سے زیادہ کل مضامین کی مقدار نہ نکلے گی؛ اور اگر یہ التزام کیا جائے کہ ہر ایک مضمون جتنے عمدہ پہلوؤں سے باندھا گیا ہو ان سب کو انتخاب کر لیا جائے، تو بیشک اس سے کسی قدر مقدار بڑھ جائے گی، مگر اکثر عمدہ پہلو قدما کے کلام میں نکلیں گے اور ان کے فضلات متاخرین کے کلام میں۔ یہی چاک گریباں کا مضمون، جو متاخرین میں سے ایک نے ۲۳ طرح پر باندھا ہے، میر تقی کے ہاں اس طرح بندھا ہوا ہے:

"اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے / دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں"

مجھ کو ہرگز امید نہیں کہ متاخرین میں سے کسی نے اس سے بہتر چاک گریباں کا مضمون باندھا ہو۔

مذکورۂ بالا تقریر سے ہمارا یہ مطلب نہیں ہے کہ متاخرین قدما کے کلام سے کوئی بات اخذ نہ کریں، اور جو مضمون وہ باندھ گئے ہیں اب اس کو کسی پہلو سے نہ باندھیں، یا ان کے باندھے ہوئے مضامین کا پھر اعادہ نہ کریں؛ کیونکہ بغیر اس کے نہ صرف شعر میں بلکہ ہر فن اور ہر صناعت میں کسی طرح کام نہیں چل سکتا۔ کعب ابن زہیر، جو ایک مخضرمی شاعر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مداح ہے، وہ کہتا ہے:

"ما ارانا نقول الا معارا / او معادا من قولنا مکرورا"

(یعنی ہم جو کچھ کہتے ہیں یا تو اوروں کے کلام سے مستعار لے کر کہتے ہیں، یا اپنے ہی کلام کو بار بار دوہراتے ہیں)۔ پس جب کہ آج سے ساڑھے تیرہ سو برس پہلے شعرا کا ایسا خیال تھا، تو ہم کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ قدما کی خوشہ چینی سے ہم کو استغنا حاصل ہے، یا ہم کو یہ قدرت ہے کہ کوئی مضمون ایک دفعہ باندھ کر پھر اس کا اعادہ نہ کریں۔

عربی میں دو متناقض مثلیں مشہور ہیں۔ ایک یہ ہے کہ "کم ترک الاول للآخر" (یعنی اگلے بہت کچھ پچھلوں کے لیے چھوڑ گئے ہیں)، اور دوسری یہ مثل ہے کہ "ما ترک الاول للآخر شیئاً" (یعنی اگلوں نے پچھلوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑا)۔ ان دونو مثلوں میں تطبیق یوں ہو سکتی ہے کہ اگلے بہت سی ادھوری باتیں چھوڑ گئے ہیں تاکہ پچھلے ان کو پورا کریں، لیکن انھوں نے پچھلوں کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں چھوڑی جس کا نمونہ موجود نہ ہو۔

اس بات پر تمام قوم کا اتفاق ہے کہ پچھلا شاعر جو کسی پہلے شاعر کے کلام سے کوئی مضمون اخذ کر کے اس میں کوئی ایسا لطیف اضافہ یا تبدیلی کرے جس سے اس کی خوبی یا متانت یا وضاحت زیادہ ہو جائے، وہ درحقیقت اس مضمون کو پہلے شاعر سے چھین لیتا ہے۔ مثلاً سعدی شیرازی کہتے ہیں:

"از ورطۂ ما خبر ندارد / آسودہ کہ بر کنار دریاست"

اسی مضمون کو خواجہ حافظ نے اس طرح ادا کیا ہے:

"شب تاریک و بیم موج و گردابے چنیں ہائل / کجا دانند حال ما سبکساران ساحلہا"

ظاہر ہے کہ حافظ نے اس مضمون میں گویا اس کمی کو پورا کر دیا ہے جو شیخ کے بیان میں رہ گئی تھی؛ پس کہا جا سکتا ہے کہ حافظ نے شیخ سے یہ مضمون چھین لیا۔ اسی مطلب کو نظیری نے یوں تعبیر کیا ہے:

"بزیر شاخ گل افعی گزیدہ بلبل را / نواگران نخوردہ گزند را چہ خبر"

اگرچہ نظیری نے اصل مضمون پر کوئی ایسا اضافہ نہیں کیا جس کے لحاظ سے کہا جائے کہ خواجہ حافظ سے مضمون چھین لیا، لیکن اس نے مضمون کو ایسے بدیع اسلوب میں ادا کیا ہے کہ بالکل ایک نیا مضمون معلوم ہوتا ہے۔

ایک روز خواجہ حافظ کا یہی شعر ایک موقع پر پڑھا گیا۔ ایک صاحب جو شعر کا صحیح مذاق رکھتے تھے، یہ شعر سن کر بولے: "کاش دوسرے مصرع میں بھی اسی قسم کی مشکلات اور سختیوں کا بیان ہوتا جیسی کہ پہلے مصرع میں بیان کی گئی ہیں، اور اسباب کا کچھ اظہار نہ کیا جاتا، تاکہ بیدردوں کو ہمارے حال کی کیا خبر ہے، تاکہ اپنے حال میں مبتلا ہونے اور غیر کے تصور سے ذہول ہونے کا زیادہ ثبوت ہوتا۔" میں نے غالب مرحوم کا یہ شعر پڑھا:

"ہوا مخالف و شب تار و بحر طوفاں خیز / گسستہ لنگر کشتی و ناخدا خفتست"

وہ یہ شعر سن کر پھڑک گئے اور کہا کہ ہاں، بس میرا یہی مطلب تھا۔ ان مثالوں سے یہ بات بخوبی ظاہر ہے کہ قدما کے کلام میں بعض اوقات کوئی کمی رہ جاتی ہے جس کو پچھلے پورا کر دیتے ہیں؛ کبھی قدما ایک مضمون کو کسی خاص اسلوب میں محدود سمجھ لیتے ہیں، متاخرین اس کے لیے ایک نرالا اسلوب پیدا کر دیتے ہیں؛ اور کبھی متاخرین قدما کے اسلوب میں سے ایک خوبی کم کر کے ایک دوسری خوبی بڑھا دیتے ہیں، اور اس سے شاعری کو بے انتہا ترقی ہوتی ہے۔ پس کیونکر ہو سکتا ہے کہ شاعر اپنے محدود فکر اور تخیل پر بھروسا کر کے قدما کی خوشہ چینی سے دست بردار ہو جائے۔

شفائی صفاہانی یا متاخرین شعرائے ایران میں سے کوئی اور شخص غزل میں کہتا ہے:

"مشاطہ را بگو کہ بر اسباب حسن دوست / چیزے فزوں کند کہ تماشا بما رسید"

قائل کا یہ مطلب معلوم ہوتا ہے کہ ہماری پسند کے لیے معشوق کے معمولی بناؤ سنگار کافی نہیں ہیں؛ پس مشاطہ کو چاہیے کہ ان میں کچھ اور اضافہ کرے، کیونکہ اب اس کے دیکھنے کی نوبت ہم تک پہنچی ہے۔ شاعر نے مضمون میں جدت تو پیدا کی، مگر پھسپھنڈی۔ اول تو اس نے جس کو دوست قرار دیا ہے، معلوم ہوتا ہے کہ ابھی اس کی محبت کا نقش اس کے دل میں نہیں بیٹھا، پھر اس کو دوست کہنا کیونکر صحیح ہو سکتا ہے۔ دوسرے، اس کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ معشوق کے حسن ذاتی سے کچھ دلبستگی نہیں رکھتا بلکہ عارضی بناؤ سنگار پر فریفتہ ہے۔ تیسرے، عشق جو ہمیشہ بے قصد و بے ارادہ پیدا ہوتا ہے، اس کو قصد اور ارادہ سے پیدا کرنا چاہتا ہے۔

مرزا غالب مدح میں کہتے ہیں:

زمانہ عہد میں ہے اس کے محو آرائش / بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے

ظاہراً یہ خیال اسی فارسی شعر سے قصداً یا بلاقصد پیدا ہوا ہے، مگر مرزا نے اس مضمون کو اصل خیال کے باندھنے والے سے بالکل چھین لیا ہے۔ جو خلل تغزل کی حالت میں اس میں موجود تھے، وہ مدح کی حالت میں بالکل نہیں رہے۔ مرزا نے ممدوح کو ایک ایسے کمال کے ساتھ موصوف کیا ہے جو تمام کمالات کی جڑ ہے، یعنی وہ ہر چیز کو کامل تر اور افضل تر حالت میں دیکھنا چاہتا ہے؛ اس لیے ہر شے اپنے تئیں کامل تر حالت میں اس کو دکھانا چاہتی ہے؛ اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگر یہی حال ہے تو شاید آسمان کی زیب و زینت کے لیے اور ستارے پیدا کیے جائیں۔ اس پر سوا اس کے کہ کوئی منطقی اعتراض کیا جائے، اور کسی طرح کی گرفت نہیں ہو سکتی؛ بخلاف فارسی شعر کے کہ اس کی بنا خود اصول شاعری اور آداب عشق و محبت کے برخلاف ہے۔

عرفی شیرازی کہتا ہے:

"ہر کس نہ شناسندۂ راز ست وگرنہ / ایں ہا ہمہ راز ست کہ معلوم عوام ست"

غالب مرحوم نے اسی مضمون کو دوسرے لباس میں اس طرح جلوہ گر کیا ہے:

"محرم نہیں ہے تو ہی نواہائے راز کا / یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا"

اگرچہ گمان غالب یہ ہے کہ عرفی کی رہبری اس خیال کی طرف قرآن مجید کی اس آیت سے ہوئی ہوگی: "وان من شیء الا یسبح بحمدہ ولکن لا تفقہون تسبیحہم"؛ لیکن ہر حالت میں عرفی کا یہ شعر آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، اور جس اسلوب میں کہ یہ خیال اس سے ادا ہو گیا ہے، اب اس سے بہتر اسلوب ہاتھ آنا دشوار ہے۔ باایں ہمہ مرزا کی جدت اور تلاش بھی کچھ کم تحسین کے قابل نہیں ہے کہ جس مضمون میں مطلق اضافہ کی گنجائش نہ تھی، اس میں ایسا لطیف اضافہ کیا ہے جو باوجود الفاظ کی دلفریبی کے لطف معنی سے بھی خالی نہیں ہے۔ عرفی کا یہ مطلب ہے کہ جو باتیں عوام کو معلوم ہیں یہی درحقیقت اسرار ہیں؛ مرزا یہ کہتے ہیں کہ جو چیزیں مانع کشف راز معلوم ہوتی ہیں یہی درحقیقت کاشف راز ہیں۔

بہرحال اس قسم کے اقتباسات ہمیشہ متاخرین قدما کے کلام سے کرتے رہے ہیں، اور چراغ سے چراغ جلتا چلا آیا ہے۔ شعرائے عرب جب کوئی اچھوتا مضمون باندھتے تھے اور لوگ متعجب ہو کر ان سے پوچھتے تھے کہ کس تقریب سے یہاں تک ذہن پہنچا، تو وہ صاف صاف اپنے خیال کا ماخذ بتا دیتے تھے۔ ابو نواس نے فضل بن ربیع کی شان میں یہ شعر کہا تھا:

"ولیس للہ بمستنکر / ان یجمع العالم فی واحد"

(یعنی خدا سے یہ بات بعید نہیں ہے کہ تمام عالم کو ایک شخص کی ذات میں جمع کر دے)۔ اس پر کسی نے اس سے پوچھا کہ یہ مضمون کیونکر سوجھا؟ ابو نواس نے صاف کہہ دیا کہ یہ خیال جریر کے اس شعر سے پیدا ہوا جو اس نے بنی تمیم کی تعریف میں کہا ہے:

"اذا غضبت علیک بنو تمیم / حسبت الناس کلہم غضابا"

(یعنی جب بنی تمیم تجھ سے ناراض ہو جائیں تو سمجھنا چاہیے کہ تمام بنی آدم تجھ سے ناراض ہیں)۔

شعر ہی پر کچھ موقوف نہیں، بلکہ تمام علوم و فنون میں انسان نے اسی طرح ترقی کی ہے کہ اگلے جو ادھورے نمونے چھوڑتے گئے، پچھلے انھیں کچھ کچھ تصرف کرتے رہے، یہاں تک کہ ہر ایک علم اور ہر ایک فن کمال کے درجہ کو پہنچ گیا۔ شعر کی ترقی بھی اسی طرح متصور ہے کہ قدما کے خیالات میں کچھ کچھ معقول تصرفات ہوتے رہیں۔ لیکن اس قسم کے تصرفات کرنے کے لیے شاعر کی پوری لیاقت ہونی چاہیے؛ ورنہ جیسے ایجادات ہمارے ملک کے اکثر شعرا کرتے ہیں، ان سے بجائے ترقی کے روز بروز شاعری نہایت ذلیل و پست و حقیر ہوتی جاتی ہے۔

فارسی میں کم، اور عربی میں زیادہ، اور انگریزی میں بہت زیادہ، نہ صرف نظم میں بلکہ نثر میں نظم سے بھی زیادہ، ہر قسم کے بلند، لطیف اور پاکیزہ خیالات کا ذخیرہ موجود ہے۔ پس ہمارے ہموطنوں میں جو لوگ ایسے دماغ رکھتے ہیں کہ غیر زبانوں سے نئے خیالات اخذ کر کے ان میں عمدہ تصرفات کر سکتے ہیں، وہ اپنے مبلغ فکر کے موافق تصرف کر کے، اور جن کی قوت متخیلہ اس سے کم درجہ کی ہے وہ انھیں خیالات کو بعینہ اپنی زبان میں صفائی اور سادگی کے ساتھ ترجمہ کر کے، اردو شاعری کو سرمایہ دار بنائیں۔ سنسکرت اور بھاشا میں خیالات کا ایک دوسرا عالم ہے، اور اردو زبان بہ نسبت اور زبانوں کے سنسکرت اور بھاشا کے خیالات سے زیادہ مناسبت رکھتی ہے؛ اس لیے ان زبانوں سے بھی خیالات کے اخذ کرنے میں کمی نہ کریں، اور جہاں تک کہ اپنی زبان میں ان کے ادا کرنے کی طاقت ہو، ان کو شعر کے لباس میں ظاہر کریں۔ اور اسی طرح اردو شاعری میں ترقی کی روح پھونکیں۔

ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے شعرا نے جو کہیں کہیں فارسی اشعار کا ترجمہ اردو اشعار میں کر دیا ہے، اس پر لوگوں نے اعتراض کیے ہیں؛ لیکن ہمارے نزدیک یہ کوئی اعتراض کا محل نہیں ہے۔ ایک زبان کے شعر کا عمدہ ترجمہ دوسری زبان کے شعر میں کرنا کوئی آسان بات نہیں ہے۔ ایک بزرگ نے سارا سکندرنامہ بحری اردو میں ترجمہ کر ڈالا ہے، اور ہم نے سنا ہے کہ وہ شاعر بھی تھے اور مولوی بھی۔ ان کے چند شعر ملاحظہ ہوں:

کرے میوہ زیبا جو شاخ کو / کہ دیوے فرامش کرے خاک کو
ہوا جبکہ آراستہ باغ خوش / بہر میوہ شیریں و ہم ترش
بہ شادی لب پستہ خنداں ہوا / رطب اس پہ بھی تیز دنداں ہوا
ہوا چہرۂ نار افروختہ / کہ ہوں تاج پر لعل جوں دوختہ
برغبت بہ ہر شاخ انجیر دار / لٹکنے لگے مرغ انجیر خوار
اٹھایا لب خم نے جوش نفیر / ہم از بوئے شیرہ ہم از بوئے شیر

شاید اس مترجم کی نسبت تو یہ کہا جا سکے کہ وہ مشاق شاعر نہ تھا، اس لیے عمدہ ترجمہ نہ کر سکا؛ لیکن ہم مشاق شاعروں سے کہتے ہیں کہ ازراہ عنایت زیادہ نہیں تو انھیں چھ شعروں کو فصیح اردو نظم میں تو ذرا لکھ دیں۔ جو شخص دوسری زبان کے شعر کو اپنی زبان کے شعر میں عمدگی کے ساتھ ترجمہ کرتا ہے، گو اس سے اس کی قوت متخیلہ کا کمال ثابت نہیں ہوتا، مگر وہ ایک دوسری لیاقت کا ثبوت دیتا ہے جو ہر ایک شاعر میں نہیں ہو سکتی۔

ہمارے بعض شعرا نے بعضے ایسے خیالات کو جو فارسی اشعار میں تھے، اردو میں ایسی خوبی سے ادا کیا ہے کہ من وجہ اصل شعر سے بڑھ گئے ہیں۔ نظیری کا شعر ہے:

"بوی یار من ازیں سست وفا می آید / گلم از دست بگیرید کہ از کار شدم"

سودا کہتے ہیں:

"کیفیت چشم اس کی مجھے یاد ہے سودا / ساغر کو مرے ہاتھ سے لینا کہ چلا میں"

اس میں شک نہیں کہ سودا نے اپنے شعر کی بنیاد نظیری کے مضمون پر رکھی ہے، بلکہ کہا جا سکتا ہے کہ تھوڑے سے تغیر کے ساتھ اس کا ترجمہ کر دیا ہے؛ لیکن بلاغت کے لحاظ سے سودا کا شعر نظیری سے بہت بڑھ گیا ہے۔ دوست کے یاد آنے سے بھی ممکن ہے کہ عاشق ازخود رفتہ ہو جائے، لیکن ساغر شراب کو دیکھ کر معشوق کی نشیلی آنکھ کے تصور سے بیخود ہو جانا زیادہ قرین قیاس ہے۔ اس کے سوا "از کار شدم" میں وہ تعمیم نہیں ہے جو اس میں ہے کہ "چلا میں"؛ نہیں معلوم کہ آپے سے چلا، یا دین و دنیا سے چلا، یا جگہ سے چلا، یا کہاں سے چلا۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ "چلا میں" ہمیشہ ایسے موقع پر بولا جاتا ہے جب آدمی مدہوش و بدحواس ہو کر گرنے کو ہوتا ہے؛ اور "از کار شدم" میں یہ بات نہیں ہے؛ معطل ہونے، معزول ہونے، اپاہج اور نکمے ہونے کو بھی "از کار شدن" سے تعبیر کرتے ہیں۔

لا اعلم:

در محفل خود راہ مدہ ہمچو منی را / افسردہ دل افسردہ کند انجمنی را

خواجہ میر درد:

نہ کہیں عیش تمھارا بھی منغص ہو جائے / دوستو درد کو محفل میں نہ تم یاد کرو

ممکن ہے کہ خواجہ میر درد نے فارسی شعر سے یہ مضمون اخذ کیا ہو، لیکن یقیناً ان کا شعر فارسی شعر سے بہت بڑھ گیا ہے۔ اول تو فارسی مطلع کے مضمون کو اپنے مقطع میں لانا، جس میں خود "درد" کا لفظ ہی شاعر کے دعوے پر دلیل کا حکم رکھتا ہے۔ پھر "راہ مدہ" کی جگہ "یاد کرو" بولنا، جس کے دو معنی ہیں: ایک تو یہی کہ درد کا اپنی محفل میں ذکر نہ کرو؛ دوسرے یاد کرنے کے معنی میں اعلیٰ کا ادنیٰ کو اپنے پاس بلانا۔ اور بڑی خوبی درد کے شعر میں یہ ہے کہ محفل میں نہ بلانے کی وجہ جو فارسی میں یقینی طور پر بیان کی گئی ہے، اس کو میر درد نے احتمال کی صورت میں اس طرح بیان کیا ہے: "نہ کہیں عیش تمھارا بھی منغص ہو جائے"۔ ان دونو اسلوبوں میں ایسا ہی فرق ہے جیسے ایک شخص تو بیمار سے یوں کہے کہ "بدپرہیزی سے آدمی ہلاک ہو جاتا ہے"، اور دوسرا یہ کہے کہ "دیکھو کہیں بدپرہیزی میں جان سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو"۔ دوسرے اسلوب میں، جیسا کہ ظاہر ہے، بہ نسبت پہلے اسلوب کے زیادہ تخویف و تحذیر ہے۔

سعدی شیرازی:

دوستاں منع کنندم کہ چرا دل بتو دادم / باید اول بتو گفتن کہ چنیں خوب چرائی؟

میر تقی:

پیار کرنے کا جو خوباں ہم پہ رکھتے ہیں گناہ / ان سے بھی تو پوچھیے تم اتنے کیوں پیارے ہوئے؟

میر کا یہ شعر بظاہر سعدی کے شعر سے ماخوذ معلوم ہوتا ہے، مگر سعدی کے ہاں "خوب" کا لفظ ہے اور میر کے ہاں "پیارے" کا لفظ ہے۔ ظاہر ہے کہ خوب کا محبوب ہونا کوئی ضروری بات نہیں ہے، لیکن پیارے کا پیارا ہونا ضرور ہے؛ پس سعدی کے سوال کا جواب ہو سکتا ہے، مگر میر کے سوال کا جواب نہیں ہو سکتا۔

بہرحال ترجمہ کرنا، بشرطیکہ ترجمہ کے فرائض پورے پورے ادا ہو جائیں، کوئی عیب کی بات نہیں ہو سکتی۔ سعدی، جو فارسی شاعری کا ہومر ہے، خود اس کے کلام میں عربی اقوال و امثال کے ترجمے یا ان کا ماحصل موجود ہے، مثلاً:

سعدی اور اقوال عربی

(۱) سعدی: سگ بدریائے ہفتگانہ بشوے / چونکہ تر شد پلید تر باشدعربی: الکلب انجس ما یکون اذا اغتسل

(۲) سعدی: ترا خامشی اے خداوند ہوش / وقارست و نااہل را پردہ پوشعربی: الصمت زینۃ العالم وستر الجاہل

(۳) سعدی: تو بجائے پدر چہ کردی خیر / تا ہماں چشم داری از پسرتعربی: دع اباک یرع ابنک

(۴) سعدی: شپرہ گر نور آفتاب نخواہد / رونق بازار آفتاب نکاہدعربی: سناء ذکاء لا ینول من دعاء الخفاش

(۵) سعدی: نیکبخت آنکہ خورد و کشت و بدبخت آنکہ مرد و ہشتعربی: السعید من اکل و زرع والشقی من مات و ودع

(۶) سعدی: پادشاہاں بخرد منداں محتاج ترند کہ / خردمنداں بہ پادشاہاںعربی: السلطان احوج الی العقلاء من العقلاء الی السلطان

اہل یورپ جو آج لٹریچر میں بھی مثل علوم و فنون و صنائع کے تمام دنیا سے فائق ہیں، اس کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ دنیا میں کوئی مشہور قوم ایسی نہیں جس کی شاعری اور انشا کا لب لباب ان کی زبانوں میں موجود نہ ہو۔ پس ہم کو بھی چاہیے کہ جس قوم اور جس زبان کے خیالات ہم کو بہم پہنچیں، ان سے جہاں تک ممکن ہو فائدہ اٹھائیں، اور صرف انھیں چند فرسودہ اور بوسیدہ خیالات پر جو صدیوں سے برابر بندھتے چلے آتے ہیں قناعت کر کے نہ بیٹھ رہیں؛ کیونکہ علم و ہنر میں قناعت ویسی ہی قابل ملامت ہے جیسی مال و دولت میں حرص۔

(۴) جس طرح ہماری غزل کے مضامین محدود ہیں، اسی طرح اس کی زبان بھی ایک خاص دائرہ سے باہر نہیں نکل سکتی؛ کیونکہ چند معمولی مضمون جب صدیوں تک برابر برتے جاتے ہیں تو زبان کا ایک خاص حصہ ان کے ساتھ مخصوص ہو جاتا ہے، جو کہ زبانوں پر بار بار آنے اور کانوں سے بار بار سننے کے سبب زیادہ مانوس اور گوارا ہو جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر ان الفاظ کی جگہ دوسرے الفاظ جو انھیں کے ہم معنی ہوں استعمال کیے جائیں تو غریب اور اجنبی معلوم ہوتے ہیں۔ عشقیہ مضامین ہمارے ہاں کچھ غزل ہی کے ساتھ خصوصیت نہیں رکھتے، بلکہ قصیدے اور مثنوی میں بھی برابر انھیں کا عمل دخل رہا ہے۔ فارسی اور اردو زبانوں میں چند کے سوا کل مثنویاں عشقیہ مضامین پر لکھی گئی ہیں۔ اسی طرح قصائد کی تمہیدوں میں بھی زیادہ تر یہی دکھڑا رویا گیا ہے۔ واسوخت تو عشق کی پسلی ہی سے پیدا ہوا ہے۔ لیکن چونکہ قصیدہ، مثنوی اور واسوخت کا میدان وسیع ہے، لہٰذا ان میں غریب اور اجنبی الفاظ کی بہت کچھ کھپت ہو سکتی ہے؛ بخلاف غزل کے کہ یہاں ایک لفظ بھی غیر مانوس ہو تو اولو معلوم ہوتا ہے۔ گلاب کے تختہ میں کانٹے بھی پھولوں کے ساتھ نبھ جاتے ہیں، مگر گلدستہ میں ایک کانٹا بھی کھٹکتا ہے۔ اسی واسطے جن بزرگوں نے غزل کی بنیاد تصوف اور اخلاق پر رکھی ہے، ان کو بھی وہی زبان اختیار کرنی پڑی ہے جو غزل میں عموماً برتی جاتی ہے۔ عشقیہ مضامین میں جو الفاظ حقیقی معنوں پر اطلاق کیے جاتے تھے، انھیں الفاظ کو ان بزرگوں نے مجاز و استعارہ کے طور پر استعمال کیا ہے، اور رمز و کنایہ و تمثیل میں اپنے اعلیٰ خیالات ظاہر کیے ہیں۔ پس غزل میں ضرور ہے کہ بہ نسبت اور اصناف کے سادگی اور صفائی کا زیادہ خیال رکھا جائے۔ آج تک فارسی یا اردو میں جن لوگوں کی غزل مقبول ہوئی ہے، وہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اس اصول کو نصب العین رکھا ہے۔ اردو میں ولی سے لے کر انشا اور مصحفی تک عموماً سب کی غزلوں میں صفائی، سادگی، روزمرہ کی پابندی، بیان میں گھلاوٹ اور زبان میں لچک پائی جاتی ہے۔ ان کے بعد دلی میں ممنون، غالب، مومن اور شیفتہ وغیرہ کے ہاں فارسی ترکیبوں نے اردو غزل میں بلاشک زیادہ دخل پایا؛ مگر یہ لوگ بھی اعلیٰ درجہ کا شعر اسی کو سمجھتے تھے جس میں پاکیزہ اور بلند خیال ٹھیٹ اردو کے محاورہ میں ادا ہو جاتا تھا۔ ان لوگوں کا یہ خیال تھا کہ "غزل میں اعلیٰ درجہ کا شعر ایک یا دو سے زیادہ نہیں نکل سکتا، باقی بھرتی ہوتی ہے۔ اگلے شعرا شتر گربگی کی کچھ پروا نہ کرتے تھے؛ ایک دو شعر اچھا نکل آیا، باقی کم وزن اور پھسپھسے شعروں سے غزل کا نصاب پورا کر دیا۔ ہم لوگ یہ کرتے ہیں کہ اپنے بھرتی کے اشعار کو فارسی ترکیبوں سے چست کر دیتے ہیں تاکہ بادی النظر میں حقیر نہ معلوم ہوں"۔ بات یہ ہے کہ یہ لوگ انھیں معمولی خیالات کو، جو مدت سے مختلف شکلوں میں بندھتے چلے آتے تھے، بہت کم باندھتے تھے، بلکہ ہر شعر میں جدت پیدا کرنی چاہتے تھے؛ اس لیے اردو روزمرہ کا سررشتہ اکثر ہاتھ سے جاتا رہتا تھا۔ باایں ہمہ غزلیت کی شان ان کے تمام کلام میں پائی جاتی ہے، اور صاف بامحاورہ اور بلند اشعار ان کے ہاں بھی نسبتاً اتنے ہی نکل سکتے ہیں جتنے کہ قدما کی غزلیات میں۔

ذوق کی غزل میں عموماً زبان کا چٹخارا اپنے معاصرین کے کلام سے زیادہ ہے، مگر وہ بھی جہاں مضمون آفرینی کرتے ہیں، صفائی سے بہت دور جا پڑتے ہیں۔ ظفر کا تمام دیوان زبان کی صفائی اور روزمرہ کی خوبی میں اول سے آخر تک یکساں ہے، لیکن اس میں تازگی خیالات بہت کم پائی جاتی ہے۔ داغ کی غزل میں باوجود زبان کی صفائی، روزمرہ کی پابندی اور محاورہ کی بہتات کے، طرز ادا میں ایک شوخی اور تیکھاپن ہے جو اسی شخص کا حصہ ہے۔ مگر نہایت تعجب ہے کہ لکھنؤ میں متاخرین نے سادگی اور صفائی کا غزل میں بہت کم خیال رکھا ہے، باوجودیکہ زبان کے لحاظ سے دلی اور لکھنؤ میں کوئی معتدبہ فرق نہیں معلوم ہوتا۔ اس کے سوا شجاع الدولہ کے زمانہ سے سعادت علی خاں کے وقت تک اردو کے تمام نامور شعرا کا جمگھٹا لکھنؤ ہی میں رہا، یہاں تک کہ میر، سودا، سوز، جرأت، مصحفی اور انشا وغیرہ اخیر دم تک وہیں رہے اور وہیں مرے؛ مگر متاخرین کی غزل میں ان کی طرز بیان کا اثر بہت کم پایا جاتا ہے۔ ظاہراً ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جب دلی بگڑ چکی اور لکھنؤ سے زمانہ موافق ہوا، اور دلی کے اکثر شریف خاندان اور ایک آدھ کے سوا تمام نامور شعرا لکھنؤ ہی میں جا رہے، اور دولت و ثروت کے ساتھ علوم قدیمہ نے بھی ایک خاص حد تک ترقی کی، اس وقت نیچرل طور پر اہل لکھنؤ کو ضرور یہ خیال پیدا ہوا ہوگا کہ جس طرح دولت اور منطق و فلسفہ وغیرہ میں ہم کو فوقیت حاصل ہے، اسی طرح زبان اور لب و لہجہ میں بھی ہم دلی سے فائق ہیں؛ لیکن زبان میں فوقیت ثابت کرنے کے لیے ضرور تھا کہ اپنی اور دلی کی زبان میں کوئی امر مابہ الامتیاز پیدا کرتے۔ چونکہ منطق و فلسفہ و طب و علم کلام وغیرہ کی ممارست زیادہ تھی، خود بخود طبیعتیں اس بات کی مقتضی ہوئیں کہ بول چال میں ہندی الفاظ رفتہ رفتہ ترک اور ان کی جگہ عربی الفاظ کثرت سے داخل ہونے لگے، یہاں تک کہ سیدھی سادی اردو امرا اور اہل علم کی سوسائٹی میں متروک ہی نہیں ہو گئی، بلکہ جیسا ثقات سے سنا گیا ہے، معیوب اور بازاریوں کی گفتگو سمجھی جانے لگی؛ اور یہی رنگ رفتہ رفتہ نظم و نثر پر بھی غالب آ گیا۔ نظم میں جرأت اور ناسخ کے دیوان کا، اور نثر میں باغ و بہار اور فسانۂ عجائب کا مقابلہ کرنے سے اس کا کافی ثبوت ملتا ہے۔ باایں ہمہ انصاف یہ ہے کہ مرثیہ اور مثنوی میں خاص خاص شخصوں پر (جیسا کہ آگے بیان کیا جائے گا) زمانہ کے اقتضا نے کچھ اثر نہیں کیا؛ انھوں نے زبان کے اصلی جوہر کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا، بلکہ اس کو بزرگوں کا تبرک سمجھ کر اس انقلاب کے زمانہ میں نہایت احتیاط سے محفوظ رکھا۔

بہرحال غزل میں زبان اور بیان کی صفائی کی غرض سے چند باتوں کا لحاظ رکھنا ضرور ہے:

(۱) ہم اوپر لکھ آئے ہیں کہ غزل کو محض عشقیات میں، اور عشقیات کو محض ہوا و ہوس کے مضامین میں محدود رکھنا ٹھیک نہیں ہے، بلکہ اس کو ہر قسم کے جذبات کا ارگن بنانا چاہیے۔ یہ بھی ظاہر ہے کہ غزل میں معمولی مضامین بندھتے بندھتے اس کی ایک خاص زبان قرار پا گئی ہے، اور وہ اس قدر کانوں میں رچ گئی ہے کہ اگر دفعۃً اس میں کثرت سے غیر مانوس اور اجنبی ترکیبیں اور اسلوب بیان داخل ہو جائیں تو غزل ایسی ہی گٹھل ہو جائے جیسی کہ بعض شعرا کی غزل عربی اور فارسی کے غیر مانوس الفاظ اور ترکیبیں اختیار کرنے سے ہو گئی ہے؛ حالانکہ غزل کو باعتبار مضامین کے وسعت دینا بظاہر اس بات کا مقتضی ہے کہ زبان اور طریقۂ بیان کو بھی وسعت دی جائے۔ پس ضرور ہے کہ کوئی ایسا طریقہ اختیار کیا جائے کہ طریقۂ بیان میں دفعۃً کوئی بڑی تبدیلی بھی واقع نہ ہو، اور باوجود اس کے غزل میں ہر قسم کے خیالات عمدگی کے ساتھ ادا ہو سکیں۔ آج کل دیکھا جاتا ہے کہ شعر کے لباس میں اکثر نئے خیالات، جو ہمارے اگلے شعرا نے کبھی نہیں باندھے تھے، ظاہر کیے جاتے ہیں؛ مگر چونکہ وہ اس خاص زبان میں، جو شعرا کی کثرت استعمال سے کانوں میں رچ گئی ہے، ادا نہیں کیے جاتے، بلکہ نئے خیالات جن الفاظ میں براہ راست ظاہر ہونا چاہتے ہیں انھیں الفاظ میں ظاہر کر دیے جاتے ہیں، اس لیے وہ مقبول خاص و عام نہیں ہوتے۔ لیکن نئی طرز کی عام شاعری اگر سردست مقبول نہ ہو تو کچھ حرج نہیں؛ جب لوگوں کے مذاق رفتہ رفتہ اس سے آشنا ہو جائیں گے اور سچی باتوں کی لذت اور حلاوت سے واقف ہوں گے، اس وقت وہ خود بخود مقبول ہو جائے گی۔ البتہ غزل کو ابتدا ہی سے جہاں تک ممکن ہو عام پسند اور مطبوع طبائع بنانا ضرور ہے، کیونکہ یہی ایسی صنف ہے جو خاص و عام کی زبان پر جاری ہوتی ہے؛ اسی کے اشعار ہر شخص کو بآسانی یاد ہو سکتے ہیں، اور یہی تمام خوشی کے جلسوں اور سماع کی مجلسوں اور یاروں کی صحبتوں میں گائی اور پڑھی جاتی ہے۔ پس ملک میں نیچرل شاعری پھیلانے کا اس سے بہتر کوئی طریقہ نہیں کہ غزل میں ہر قسم کے لطیف و پاکیزہ خیالات بیان کیے جائیں، اس کو تمام انسانی جذبات کے ظاہر کرنے کا آلہ بنایا جائے، اور باوجود اس کے اس کو ایسے لباس میں ظاہر کیا جائے جو بادی النظر میں اجنبی اور غیر مانوس نہ ہو۔

سب سے بڑی دلیل اس بات کی کہ نئے اور اعلیٰ سے اعلیٰ خیالات بھی اول اول اسی زبان اور اسی روزمرہ میں ادا ہونی چاہییں جس میں پرانے اور پست خیالات ادا کیے جاتے تھے، یہ ہے کہ کلام الٰہی میں تمام روحانی اور اخلاقی باتیں ویسے ہی محاورات و تشبیہات و استعارات و تمثیلات میں بیان کی گئی ہیں جن میں شعرائے جاہلیت عشقیات و خمریات اور تفاخر و مدح و ذم وغیرہ کے مضامین بیان کرتے تھے۔

یہ ممکن ہے کہ کسی قوم کے خیالات میں دفعۃً ایک نمایاں ترقی اور وسعت پیدا ہو جائے، مگر زبان میں دفعۃً وسعت پیدا نہیں ہو سکتی، بلکہ نامعلوم طور پر بیان کے اسلوب آہستہ آہستہ اضافہ کیے جاتے ہیں اور ان کو رفتہ رفتہ پبلک کے کانوں سے مانوس کیا جاتا ہے، اور قدیم اسلوب جو کانوں میں رچ گئے ہیں ان کو بدستور قائم و برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اگر علم کی ترقی سے بہت سے قدیم شاعرانہ خیالات محض غلط اور بے بنیاد ثابت ہو جائیں تو بھی جن الفاظ کے ذریعہ سے وہ خیالات ظاہر کیے جاتے تھے وہ الفاظ ترک نہیں کیے جاتے۔ فرض کرو کہ آسمان کا وجود اور اس کا گردش کرنا، زمین کا ساکن ہونا، پانی اور ہوا کا بسیط ہونا، عناصر کا چار میں منحصر ہونا، جام جم کا جہاں نما ہونا، ظلمات میں چشمۂ حیواں کا مخفی ہونا، سیمرغ اور دیو و پری کا موجود ہونا، اور اسی قسم کی اور بہت سی باتیں علم انسانی کی ترقی سے غلط ثابت ہو جائیں، تو بھی شاعر کا یہ کام نہیں ہے کہ ان خیالات سے بالکل دست بردار ہو جائے؛ بلکہ اس کا کمال یہ ہے کہ حقائق و واقعات اور سچے اور نیچرل خیالات کو انھیں غلط اور بے اصل باتوں کے پیرایہ میں بیان کرے اور اس طلسم کو جو قدما باندھ گئے ہیں ہرگز ٹوٹنے نہ دے، ورنہ وہ بہت جلد دیکھے گا کہ اس نے اپنے منتر میں سے وہی اچھر بھلا دیے ہیں جو دلوں کو تسخیر کرتے تھے۔

بہرحال جو لوگ اردو شاعری کو ترقی دینا یا یوں کہو کہ اس کو صفحۂ روزگار پر قائم رکھنا چاہتے ہیں ان کا فرض ہے کہ اصناف سخن میں عموماً اور غزل میں خصوصاً اس اصول کو ملحوظ رکھیں کہ سلسلۂ سخن میں نئے اسلوب جہاں تک ممکن ہو کم اختیار کیے جائیں اور غیر مانوس الفاظ کم برتے جائیں، مگر نامعلوم طور پر رفتہ رفتہ ان کو بڑھاتے رہیں؛ اور زیادہ تر کلام کی بنا قدیم اسلوبوں اور معمولی الفاظ و محاورات پر رکھیں، مگر الفاظ کے حقیقی معنوں ہی پر قناعت نہ کریں بلکہ ان کو کبھی حقیقی معنوں میں، کبھی مجازی معنوں میں، کبھی استعارہ اور کنایہ کے طور پر اور کبھی تمثیل کے پیرایہ میں استعمال کریں؛ ورنہ ہر قسم کے خیالات ایک ایسی تلی زبان میں کیونکر ادا کیے جا سکتے ہیں۔ ہم اس مقام پر علم بیان کے اصول، جس سے ایک مطلب کو متعدد پیرایوں میں ادا کرنا اور ایک ایک لفظ کو مختلف موقعوں میں برتنا آتا ہے، بیان کرنے نہیں چاہتے، کیونکہ ان کی تفصیل عربی، فارسی اور نیز اردو رسالوں میں مل سکتی ہے؛ مگر ہم فارسی اور اردو غزل کے کس قدر اشعار بطور مثال کے نقل کرتے ہیں جن میں اخلاق اور تصوف کے مضامین عشق مجازی اور تغزل کے پیرایہ میں ادا کیے گئے ہیں اور اجنبی خیالات کے ظاہر کرنے میں ایک محدود اور معمولی زبان سے کام لیا گیا ہے۔

حواشی

[1] غزل کے معنی لغت میں عشقبازی کرنے اور عورتوں سے مخاطب ہونے کے ہیں۔ عربی میں کہتے ہیں: "زید اغزل من عمرو"، یعنی زید عشق کے مضامین عمرو سے بہتر باندھتا ہے، یا زید عمرو سے زیادہ عشقباز ہے۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.