Urdu in Translation
搜索

第 7 章,共 13 章

Hebrew and Arabic Poetry Had the Most Passion

عبرانی اور عربی شاعری میں سب سے زیادہ جوش تھا

Altaf Husain Hali

文字
字号

عبرانی اور عربی شاعری میں سب سے زیادہ جوش تھا

عبرانیوں کی شاعری سب سے زیادہ جوشیلی مانی گئی ہے۔ ایک یوروپین محقق کا قول ہے کہ "عبرانی شاعروں کے کلام میں اس قدر جوش ہے کہ ان کا شعر سن کر یہ معلوم ہوتا ہے گویا صحرا میں ایک تناور درخت جل رہا ہے، یا ایک شخص پر وحی نازل ہو رہی ہے۔" عرب کی شاعری بظاہر عبرانی شاعری پر مبنی معلوم ہوتی ہے، کیونکہ اس میں بھی بے انتہا جوش پایا جاتا ہے۔ اسی لیے، جیسا کہ یوروپ کے مورخ لکھتے ہیں، عرب یونانیوں کی شاعری سے نفرت کرتے تھے، کیونکہ ان کو یونانی شاعری اپنی شاعری کے آگے پھیکی، ٹھنڈی اور آورد سے بھری ہوئی معلوم ہوتی تھی۔ یونانیوں کی جتنی کتابیں انھوں نے ترجمہ کیں، ان میں ایک بھی دیوان شعر ترجمہ نہیں ہوا۔ وہ ہومر، سفوکلیز اور پنڈار کو اپنے شعرا کے برابر نہیں سمجھتے تھے۔ یہاں ہم نمونہ کے طور پر ایک مختصر عربی نظم کا ماحصل اردو میں لکھ کر ناظرین کو دکھاتے ہیں تاکہ ان کو معلوم ہو کہ عرب شعر میں کس قدر جوش ظاہر کرتے تھے؛ مگر چونکہ اردو میں عربی زبان کی خوبی باقی رہنی ناممکن ہے، اس لیے یہ ایک ناقص نمونہ عربی اشعار کا ہوگا۔

بشامہ بن حزن نہشلی، جو ایک اسلامی شاعر ہے، فخریہ اشعار میں کہتا ہے:

"ہم نہشل کے پوتے نہشل کے پوتے ہونے پر فخر کرتے ہیں، اور نہشل ہمارا دادا ہونے پر فخر کرتا ہے۔"

"عزت اور برتری کی کسی حد تک گھوڑے دوڑائے جائیں، سب سے آگے بڑھنے والے جب پاؤ گے بنی نہشل ہی کے گھوڑے پاؤ گے۔"

"ہم میں سے کوئی سردار جب تک کہ کوئی لڑکا اپنا جانشین بننے کے لائق نہیں چھوڑ جاتا، دنیا سے نہیں اٹھتا۔"

"لڑائی کے دن ہم اپنی جانیں سستی کر دیتے ہیں، مگر امن کے زمانے میں اگر ان کی قیمت پوچھے تو انمول ہیں۔"

"ہماری مانگوں کے بال (عطریات کے استعمال سے) سفید ہیں، ہماری دیگیں مہمانوں کے لیے گرم ہیں، ہمارا مال ہمارے مقتولوں کے خوں بہا کے لیے وقف ہے۔"

"میں اس قوم میں سے ہوں جس کے بزرگوں نے دشمنوں کے اتنے کہنے پر کہ 'کہاں ہیں قوم کے حمایتی' اپنے کو نیست و نابود کر دیا۔"

"اگر ہزار میں ہمارا ایک موجود ہو تو بھی جب یہ کہا جائے گا کہ 'کون ہے شہسوار' تو اس کی اپنے ہی پر نگاہ پڑے گی۔"

"ہمارے لوگوں پر کیسی ہی سخت مصیبت پڑے، ان کو اوروں کی طرح اپنے مقتولوں پر روتا نہ پاؤ گے۔"

"ہم اکثر ہولناک موقعوں میں گھس جاتے ہیں، مگر حمیت اور تلواریں جنھوں نے ہم سے قول ہارا ہے، ہماری سب مشکلیں آسان کر دیتی ہیں۔"

عرب کی شاعری میں زیادہ جوش ہونے کا سبب کچھ تو ان کے گرم خون کی جبلی خاصیت تھی، اور زیادہ تر یہ بات تھی کہ ان کی شاعری کا مدار محض واقعات اور دل کے سچے حالات اور واردات پر تھا۔ عشقیہ اشعار زیادہ تر وہی لوگ کہتے تھے جو فی الواقع کسی کے ساتھ عاشقانہ دلبستگی رکھتے تھے۔ رزمیہ اشعار وہی لوگ پڑھتے تھے جو فی الواقع حرب و کارزار کے مرد میدان تھے۔ فخریہ اشعار میں وہ وہی واقعات بیان کرتے تھے جو انھوں سے یا ان کے بزرگوں سے یا ان کے قبیلہ کے لوگوں سے علی الاعلان ظاہر ہوتے تھے، اور جن کے سبب سے ان کی بہادری یا فیاضی یا فصاحت ضرب المثل ہو جاتی تھی۔ ان کی مرثیہ گوئی محض تقلیدی نہیں ہوتی تھی، بلکہ جس شخص کے دل پر کسی دوست یا عزیز یا بزرگ یا نامور آدمی کی موت سے چوٹ لگتی تھی وہ اس کا مرثیہ لکھتا تھا، اور صحیح صحیح اپنے دل کی واردات کا نقشہ کھینچتا تھا۔ محبت، عداوت، ہمدردی، صبر، استقلال، غصہ، انتقام، جوانی، بڑھاپا، دنیا کی بے ثباتی، خدا کی عظمت و جلالت، ظالم کی مذمت، مظلوم کی فریاد رسی، صلۂ رحم یا قطع رحم، غرضکہ جس مضمون کا جوش ان کے دل میں اٹھتا تھا، اس کو بغیر ساختگی اور تصنع کے بیان کرتے تھے۔ مگر افسوس ہے کہ خلافت عباسیہ کے زمانہ سے یہ سچا جوش کم ہونا شروع ہوا، اور آخر کار شعر کے تمام اصناف میں تقلید پھیل گئی۔ شعر بجائے اس کے کہ خود شاعر کے جذبات کا آئینہ ہو، وہ قدما کی طرز و روش بلکہ انھیں کے جذبات کا آئینہ اور انھیں کے خیالات کا ارگن بن گیا۔ قدما سچ مچ اپنے اور اپنے بڑوں کے کارہائے نمایاں پر فخر کرتے تھے؛ متاخرین جھوٹی خودستائیاں کر کے ان کا منہ چڑانے لگے، اور اس کا نام سنت رکھا۔ قدما سچ مچ کسی نہ کسی اصلی معشوقہ کی محبت میں اپنے دل کے جذبات اور واردات بیان کرتے تھے، اور اسی لیے ان کے ہاں صدہا اصلی نام ان کی معاشیق کے موجود ہیں، جیسے لیلیٰ، سلمیٰ، سعاد، سعدیٰ، عذرا، عزہ، خولہ، بثینہ، عنیزہ، فاطم، زینب وغیرہ وغیرہ۔ مگر متاخرین نے شیرخوار بچوں کی طرح کہ روتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ کیوں روتے ہیں، محض تقلیداً فرضی ناموں کو لگا کر ان کی جدائی اور شوق و آرزو کا دکھڑا رونا شروع کیا۔ رفتہ رفتہ عرب سے یہ رنگ ایران میں اور وہاں سے ہندوستان میں پہنچا، اور آخر کار مسلمانوں کی شاعری کا حال اس ویران بستی کا سا ہو گیا جو کبھی آدمیوں سے معمور تھی مگر اب وہاں سونے مکانوں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔

اب ہم چند مثالیں ایسے اشعار کی لکھتے ہیں جن میں ملٹن کی تینوں شرطیں پائی جائیں، یا ان میں سے ایک یا دو شرط پائی جائے، یا بالکل کوئی شرط نہ پائی جائے۔

(۱) ابن یحییٰ بن زیادہ مکروہات دنیوی کو خوشی سے قبول کرنے کے باب میں کہتے ہیں:

ولما رایت الشیب لاح بیاضہ / بمفرق راسی قلت للشیب مرحبا
ولو خفت انی ان کففت تحیتی / تنکب عنی رمت ان یتنکبا
ولکن اذا ما حل کرہ فسامحت / بہ النفس یوما کان للکرہ اذہبا

یعنی جب میں نے دیکھا کہ بڑھاپا میرے سر کے بالوں میں نمودار ہوا تو میں نے اس کو خیر مقدم کہا۔ اگر یہ امید ہوتی کہ وہ ایسا نہ کرنے سے ٹل جائے گا تو میں اس کے ٹالنے میں کوشش کرتا؛ مگر بات یہ ہے کہ مصیبت کے دفع کرنے کی تدبیر اس سے بہتر نہیں کہ اس کو بہ کشادہ پیشانی قبول کیا جائے۔

(۲) متمم بن نویرہ اپنے بھائی مالک کے مرثیہ میں لکھتے ہیں:

لقد لامنی عند القبور علی البکا / رفیقی لتذراف الدموع السوافک
فقال اتبکی کل قبر رایتہ / لقبر ثوی بین اللوی فالدکادک
فقلت لہ ان الشجا یبعث الشجا / فدعنی فہذا کلہ قبر مالک

یعنی میں جو قبرستان کو دیکھ کر رونے لگا تو میرے رفیق نے میرے آنسو جاری دیکھ کر مجھ کو ملامت کی کہ جو قبر (یہاں سے بہت دور) مقام لویٰ اور دکادک کے بیچ میں واقع ہے (یعنی قبر مالک) اس کے لیے تو ہر قبر کو دیکھ کر رو پڑتا ہے۔ میں نے کہا: (اے عزیز) مصیبت مصیبت کو یاد دلاتی ہے، بس مجھ کو رونے دے، میرے نزدیک یہ سب مالک ہی کی قبریں ہیں۔

(۳) ناصر خسرو دنیا کی حقیقت بیان کرتا ہے:

ناصر خسرو براہے میگذشت / مست و لایعقل نہ چوں میخوارگاں
دید گورے چند و مبرز روبرو / بانگ برزد گفت کاے نظارگاں
نعمت دنیا و نعمت خوارہ بیں / اینش نعمت اینش نعمت خوارگاں

(۴) نظامی مناجات میں کہتے ہیں:

پردہ بر انداز و بروں آئے فرد / ور منم آں پردہ بہم در نورد

(۵) نظیری بیت اللہ سے رخصت ہوتے وقت کہتا ہے:

مطرب مستم ز خلوتگاہ سلطاں آمدہ / سرخوش احساں شدہ با خود بہ الحاں آمدہ

(۶) خواجہ حافظ اپنی ایک خاص وجدانی حالت کو، جس سے بے درد لوگ نامحرم ہیں، اس طرح بیان کرتے ہیں:

شب تاریک و بیم موج و گردابے چنیں ہائل / کجا دانند حال ما سبکساران ساحلہا

(۷) شیخ ابراہیم ذوق اس بات کو کہ مرنے کے بعد بھی اگر راحت نہ ملی تو دل کو تسلی دینے کی پھر کوئی صورت نہیں، یوں بیان کرتے ہیں:

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے / مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے

(۸) مرزا غالب انسان کے لاشے اور ہیچ ہونے کو اس طرح ادا کرتے ہیں:

خوشی جینے کی کیا، مرنے کا غم کیا / ہماری زندگی کیا اور ہم کیا

(۹) میر تقی فرط محبت و دلبستگی کی اس طرح تصویر کھینچتے ہیں:

جب نام ترا لیجیے تب چشم بھر آوے / اس طرح کے جینے کو کہاں سے جگر آوے

(۱۰) خواجہ میر درد اپنی شہرت اور مقبولیت کا محض بے اصل و بے بنیاد ہونا اس طرح ظاہر کرتے ہیں:

تہمتیں چند اپنے ذمے دھر چلے / کس لیے آئے تھے ہم، کیا کر چلے

ان تمام مثالوں میں، جیسا کہ ظاہر ہے، بیان کی سادگی، اصلیت اور جوش، تینوں باتیں بوجہ احسن پائی جاتی ہیں۔

(۱۱) نظیری اس حالت کو، جب کہ اس نے سفر حج کا ارادہ کیا ہے اور تعلقات دنیوی سے آزاد ہونے اور خدا کی طرف رجوع کرنے کا شوق اس کے دل میں موجزن ہے، اس طرح بیان کرتا ہے:

سگ آستانم اما ہمہ شب قلادہ خایم / کہ سر شکار دارم نہ ہوائے پاسبانیعجب ار نبودہ باشد خضرے بجستجویم / کہ فتادہ ام بظلمت چو زلال زندگانی

پہلے شعر میں اپنے تئیں بلحاظ اس کے کہ تعلقات میں پھنسا ہوا ہے سگ آستان قرار دیا ہے جو رات بھر اپنے مالک کے مکان کی پاسبانی کرتا ہے؛ مگر بلحاظ اس کے کہ تعلقات کو ترک کر کے رجوع الی اللہ کرنا چاہتا ہے، اپنے کو شکاری کتے سے تشبیہ دی ہے جو رات بھر شکار کے شوق میں اپنے گلے کے پٹے کو چباتا ہے کہ اس کو کاٹ کر شکار کی تلاش میں جنگل کی راہ لے۔ دوسرے شعر میں اس نے یہ مضمون ادا کیا ہے کہ انسان جس میں یہ قابلیت ہے کہ ترقی کر کے ملاء اعلیٰ تک پہنچ جائے، اس کا دنیوی تعلقات میں آلودہ رہنا ایسا ہے کہ گویا آب حیات ظلمات میں چھپا ہوا ہے؛ اور چونکہ جاذبۂ لطف الٰہی ہر وقت انسان کی گھات میں ہے کہ اس کو اپنی طرف کھینچ کر تعلقات کے پھندے سے نجات دے، اور نیز یہ بھی مشہور ہے کہ خضر سکندر کو ساتھ لے کر آب حیات کی تلاش میں گئے تھے، اس لیے جاذبۂ الٰہی کو خضر سے اور آپ کو آب حیات سے تشبیہ دے کر کہتا ہے کہ تعجب ہے اگر خضر میری تلاش میں نہ ہو، کیونکہ میں آب حیات کی طرح ظلمات میں پڑا ہوا ہوں۔

ان دونو شعروں میں اصلیت اور غایت درجہ کا جوش دونو باتیں کمال خوبی کے ساتھ پائی جاتی ہیں۔ اگرچہ ایسے بلیغ اشعار کی نسبت یہ کہنا بے دردی ہے کہ ان میں کسی چیز کی کسر ہے اور کسی خوبی میں کمی ہے، لیکن جو معنی سادگی کے اوپر بیان کیے گئے ہیں ان کے لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ ان میں سادگی ایسی نہیں پائی جاتی کہ عام اہل زبان یا زبان دان اس کو اچھی طرح سمجھ سکیں۔

(۱۲) مومن اس مضمون کو کہ اہل دنیا کا ایک نہ ایک بلا میں مبتلا رہنا ایک ضروری بات ہے، اور اس لیے جب کبھی میں ایک بلا سے محفوظ ہوتا ہوں تو دوسری بلا کا منتظر رہتا ہوں، اس طرح بیان کرتے ہیں:

ڈرتا ہوں آسمان سے بجلی نہ گر پڑے / صیاد کی نگاہ سوئے آشیاں نہیں

اس شعر میں اصلیت اور جوش دونو باتیں پائی جاتی ہیں، مگر تیسری چیز، یعنی سادگی جس سے الفاظ اور خیال دونو کی سادگی مراد ہے، البتہ نہیں پائی جاتی؛ کیونکہ جب تک یہ جملہ کہ "اہل دنیا کا ایک نہ ایک بلا میں مبتلا رہنا ضرور ہے" شعر میں اضافہ نہ کیا جائے، عام ذہن معنی مقصود کی طرف انتقال نہیں کر سکتے۔ لیکن اس میں شاعر نے ایک لطافت رکھی ہے جو سادگی کا نعم البدل ہو سکتی ہے؛ اگر بیان زیادہ صاف ہوتا تو وہ لطافت باقی نہ رہتی۔ اس نے یہ جملہ گویا قصداً حذف کر دیا ہے، اور یہ جتانا چاہتا ہے کہ یہ بات ایسی بدیہی ہے کہ اس کے ذکر کرنے کی ضرورت نہیں۔

(۱۳) آتش کہتے ہیں:

فرصت اک دم عہد طفلی میں نہ رونے سے ملی / پرورش پایا ہوا ہوں دامن سیلاب کا
جامۂ تن ہو گیا راہ عدم میں نذر گور / بوجھ اٹھایا تھا مگر ٹھگ کے لیے اسباب کا
ساحل مقصود دیکھا میں نے جا کر گور میں / ڈوبنا کشتی تن کو مژدہ تھا پایاب کا

ان تینوں شعروں میں شاید مشکل سے کسی نہ کسی قسم کی اصلیت تو نکل آئے، لیکن جیسا کہ ظاہر ہے، نہ بیان میں سادگی ہے نہ جوش۔

(۱۴) نظیری کہتا ہے:

رہ نداد آنقدرم بر سر خوان تو فلک / کز نمکدان تو بر لب زنم انگشت نمکرستخیزے بکہ شود زیر و زبر وضع جہاں / چند رختم بسما باشد و بختم بہ سمک

پہلے شعر کا مطلب یہ ہے کہ خوان معرفت الٰہی سے مجھ کو اتنا بھی حصہ نہ ملا کہ نمکدانی سے نمک تو انگلی پر لگا کر چکھ لیتا۔

دوسرے شعر میں وہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ میں باعتبار اپنی قابلیت اور استعداد کے جوہر علوی ہوں، مگر میرا نصیب اپنی پستی کے سبب تحت الثریٰ میں پڑا ہوا ہے۔ پس کہتا ہے کہ کاش ایسی رستخیز یعنی انقلاب برپا ہو جس سے جہان زیر و زبر ہو جائے اور میرا نصیب پستی سے بلندی پر پہنچ جائے۔ ان دونو شعروں میں اصلیت اور جوش بخوبی پایا جاتا ہے، لیکن طرز بیان کسی قدر عام اذہان سے بالاتر ہے۔

(۱۵) آتش کہتے ہیں:

تری تقلید سے کبک دری نے ٹھوکریں کھائیں / چلا جب جانور انساں کی چال اس کا چلن بگڑا
نہیں بے وجہ ہنسنا اس قدر زخم شہیداں کا / تری تلوار کا منہ کچھ نہ کچھ اے تیغ زن بگڑا
امانت کی طرح رکھا زمیں نے روز محشر تک / نہ اک مو کم ہوا اپنا نہ اک تار کفن بگڑا

یہ تینوں شعر صاف ہیں، مگر ان میں سادگی بیان کے سوا، جیسا کہ ظاہر ہے، نہ اصلیت ہے نہ جوش۔

(۱۶) ذوق کہتے ہیں:

کیا جانے اسے وہم ہے کیا میری طرف سے / جو خواب میں بھی رات کو تنہا نہیں آتاہم رونے پہ آ جائیں تو دریا ہی بہائیں / شبنم کی طرح سے ہمیں رونا نہیں آتا

ان شعروں میں بھی سادگی بیان کے سوا نہ اصلیت ہے نہ جوش۔

اب صرف دو احتمال باقی رہ گئے ہیں: ایک یہ کہ کلام میں صرف جوش پایا جائے، اور سادگی و اصلیت نہ پائی جائے؛ دوسرے یہ کہ سادگی اور جوش پایا جائے، اصلیت نہ پائی جائے۔ لیکن جوش کے لیے اصلیت کا ہونا ایسا ضروری ہے کہ بغیر اس کے ہرگز کلام میں جوش متحقق نہیں ہو سکتا۔ پس یہ دونو صورتیں ممکن الوقوع نہیں۔

رہا وہ کلام جس میں نہ سادگی، نہ جوش، نہ اصلیت، تینوں چیزیں نہ پائی جائیں، سو ایسے کلام سے ہمارے شعرا کے دیوان بھرے پڑے ہیں؛ کیونکہ ہماری شاعری زیادہ تر دو قسم کے مضامین میں منحصر ہے: عشقیہ یا مدحیہ۔ عشقیہ مضامین کثرت سے غزل، مثنوی اور قصائد کی تشبیب میں باندھے جاتے ہیں، اور مدحیہ مضامین زیادہ تر قصائد میں۔ سو ان تینوں صنفوں میں شاعر کا کام یہ سمجھا جاتا ہے کہ جو مضامین قدیم سے بندھتے چلے آتے ہیں، اور جو بندھتے بندھتے بمنزلۂ اصول مسلمہ کے ہو گئے ہیں، انھیں کو ہمیشہ بادنیٰ تغیر باندھتا رہے اور ان سے سر مو تجاوز نہ کرے۔ مثلاً غزل میں ہمیشہ معشوق کو بے وفا، بے مروت، بے مہر، بے رحم، ظالم، قاتل، صیاد، جلاد، ہرجائی، اپنے سے نفرت کرنے والا، اوروں سے ملنے والا، سچی محبت پر یقین نہ لانے والا، اہل ہوس کو عاشق صادق جاننے والا، بدگمان، بدخو، بدزبان، بدچلن، غرضکہ ایک حسن و جمال یا ناز و ادا یا دیگر حرکات مہر انگیز کے سوا اور تمام ایسی برائیوں کے ساتھ اس کو موصوف کرنا جو ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ کر سکتا ہے؛ اور اپنے تئیں غم زدہ، مصیبت زدہ، فلک زدہ، ضعیف، بیمار، بدبخت، آوارہ، بدنام، مردود خلائق، آوارگی پسند، بدنامی کا خواہاں، حسن قبول سے نفور، خوشی اور عافیت سے کنارہ کرنے والا، میخوار، بدمست، مدہوش، خود فراموش، وفادار، جفاکش، کہیں آزاد طبع اور کہیں گرفتاری کا آرزومند، کہیں صابر اور کہیں بیقرار، کہیں دیوانہ اور کہیں ہوشیار، کہیں غیور اور کہیں چکنا گھڑا، رشک کا پتلا، رقیبوں کا [illegible] سارے جہان سے بدگمان، آسمان کا شاکی، زمین سے نالاں، زمانہ کے ہاتھ سے تنگ؛ غرض [illegible] ایک عشق اور وفاداری کے سوا اپنے تئیں ان تمام صفات سے متصف کرنا جو عموماً انسان کے [illegible] قابل افسوس خیال کی جاتی ہیں۔ یا مثلاً آسمان اور زمانہ یا نصیب اور ستارہ کی شکایت کرنی؛ یا زاہد و واعظ و صوفی کو لتاڑنا، اور بادہ کش و بادہ فروش اور ساقی و خمار کی تعریف کرنی اور [illegible] حسن عقیدت ظاہر کرنا؛ ایمان و اسلام و زہد و طاعت سے نفرت، اور کفر و بے دینی و گناہ و معصیت سے رغبت ظاہر کرنی؛ کبھی کبھی مال و جاہ و منصب دنیوی کو حقیر ٹھہرانا، اور فقر و عشق و آزادگی وغیرہ کو علم و عقل و سلطنت وغیرہ پر ترجیح دینی۔ اسی طرح کے اور چند مضامین ہیں جو غزل کے لیے بمنزلۂ ارکان و عناصر کے ہو گئے ہیں۔ غزل کے ساتھ جو الفاظ مخصوص ہیں وہ بھی ایک نہایت تنگ دائرہ میں محدود ہیں۔ مثلاً معشوق کی صورت کو حور، پری، چاند، سورج، گل، لالہ، باغ اور جنت وغیرہ سے؛ اس کی آنکھ کو نرگس، آہو، بادام، ساحر، مست، بیمار وغیرہ سے؛ زلف کو سنبل، مشک، عنبر، کافر، جادوگر، رات، ظلمات، دام، زنجیر، کمند وغیرہ سے؛ نگاہ و مژہ و غمزہ و ادا کو تیر و سناں و شمشیر وغیرہ سے؛ ابرو کو کمان سے؛ ذقن کو کوئیں سے؛ دانتوں کو موتیوں سے؛ ہونٹوں کو لعل، یاقوت، گلبرگ، نبات، آبحیات وغیرہ سے؛ منہ کو غنچہ سے؛ کمر کو بال سے یا دونو کو عدم سے؛ قد کو سرو، صنوبر، شمشاد، قیامت وغیرہ سے؛ رفتار کو فتنۂ قیامت، بلا، آفت، آشوب وغیرہ سے؛ اور اسی طرح اور بعض اعضا کو چند خاص خاص چیزوں سے تشبیہ دینا۔ معشوق کے سامان آرایش میں سے مشاطہ، شانہ، آئینہ، حنا، سرمہ، کاجل، غازہ، مسی پان، کبھی قبا، بند قبا، کلاہ، چیرہ، دستار، اور کبھی برقع، نقاب، محرم، چادر، چوٹی، چوڑیاں اور خاص خاص زیوروں کا ذکر کرنا، اور ان کو خاص خاص چیزوں سے تشبیہ دینا۔

باغ میں سے چند چیزوں کو انتخاب کر لینا، جیسے سرو، قمری، گل، بلبل، صیاد، گلچیں، باغبان، آشیانہ، قفس، دام، دانہ، یاسمن، نسرین، نسترن، ارغوان، سوسن، خار، گلبن وغیرہ۔

صحرا میں سے وادی، چشمہ، آب رواں، سبزہ، تشنہ، سیراب، سراب، صرصر، گردباد، سموم، نخل، چنار، خار مغیلاں، رہزن، رہنما، خضر، قافلہ، جرس، آواز درا، محمل، لیلیٰ، مجنوں، وحشت، جنوں وغیرہ۔

دریا میں سے کشتی، ناخدا، موج، گرداب، ساحل، حباب، قطرہ، ماہی، نہنگ، غوطہ، شناوری وغیرہ۔

محفل میں سے شمع، پروانہ، شراب، کباب، پیالہ، مینا، صراحی، خم، جرعہ، نشہ، خمار، صبوحی، ساقی، دور، نغمہ، مطرب، چنگ، ارغنون، مضراب، پردہ، ساز، رقص، وجد، سماع وغیرہ۔

سامان غم میں سے نالہ، آہ، افغان، قلق، اضطراب، درد، رشک، ضبط، شوق، جدائی، یاد، تمنا، حسرت، حرمان، رنج، غم، الم، سوز، داغ، زخم، خلش، تپش، کاہش وغیرہ۔ یہ اور اسی قسم کے چند اور الفاظ ہیں جن پر بالفعل اردو زبان کی غزل گوئی کا دار و مدار ہے۔

قصیدہ میں بھی صرف چند معمولی سرکل ہیں جن میں ہمیشہ ہمارے شعرا شبدیز فکر کو کاوے دیتے رہتے ہیں۔ اگر کسی نے زیادہ شاعری کے جوہر دکھانے چاہے تو وہ مدح سے پہلے ایک تمہید لکھتا ہے جس میں یا تو فصل بہار کا ذکر ہوتا ہے، اگرچہ اس وقت خزاں ہی کا موسم ہو، مگر اس ذکر میں اس ناپاک دنیا کی فصل بہار سے کچھ بحث نہیں ہوتی بلکہ ایک اور عالم کی بحث ہوتی ہے جو عالم امکان سے بالاتر ہے؛ یا زمانہ، آسمان، نصیب اور قسمت کی شکایت ہوتی ہے، جس کو درحقیقت خدا کی شکایت سمجھنا چاہیے جو زمانہ وغیرہ کی آڑ میں خوب دل کھول کر کی جاتی ہے؛ اس میں بھی شاعر اپنے واقعی مصائب بیان نہیں کرتا اور نہ ممدوح کو اپنے اوپر رحم دلانے کی باتیں کہتا ہے، بلکہ جس قسم کے مصائب اگلے زمانہ کے شعرا نے اپنی نسبت بیان کیے تھے اور جیسے بہتان انھوں نے آسمان و زمانہ وغیرہ پر باندھے تھے، یہ بھی بادنیٰ تغیر ویسی ہی مصائب بیان کرتا ہے اور اسی قسم کے بہتان باندھتا ہے؛ یا ایک فرضی معشوق کے حسن و جمال کی تعریف، اس کے جور و ظلم کی شکایت، اور اپنے شوق و انتظار کا مسلسل یا غیر مسلسل بیان اسی طرح کیا جاتا ہے جیسا کہ عشقیہ مثنویوں یا غزلوں میں ہوتا ہے؛ یا فخر و خودستائی میں تمام تمہید ختم کر دی جاتی ہے۔

اس کے بعد مدح شروع ہوتی ہے۔ مدح میں اکثر ایک نام کے سوا کوئی خصوصیت ایسی مذکور نہیں ہوتی جو ممدوح کی ذات کے ساتھ مختص ہو، بلکہ ایسے حاوی الفاظ میں مدح کی جاتی ہے کہ اگر بالفرض مداح اس علت میں کہ فلاں شخص کی مدح کیوں کی، عدالت میں ماخوذ ہو جائے تو قصیدہ میں کوئی لفظ ایسا نہ ملے جس سے اس کا جرم ثابت ہو سکے۔ مدح میں زیادہ تر وہی معمولی محامد بیان ہوتے ہیں جو قدیم سے شعرا باندھتے چلے آتے ہیں، اور ہر ایک خوبی کے بیان میں ایسا مبالغہ کیا جاتا ہے کہ قصیدہ کا مصداق نفس الامر میں کوئی انسان قرار نہیں پا سکتا۔ ممدوح کی ذات میں جو واقعی خوبیاں ہوتی ہیں ان سے اصلاً تعرض نہیں کیا جاتا، بلکہ بجائے ان کے ایسی محال باتیں بیان کی جاتی ہیں جو کسی متنفس پر صادق نہ آ سکیں۔ ممدوح کی طرف اکثر وہ خوبیاں منسوب کی جاتی ہیں جن کی اضداد اس کی ذات میں موجود ہیں؛ مثلاً ایک جاہل کو علم و فضل کے ساتھ، ایک ظالم کو عدل و انصاف کے ساتھ، ایک احمق و غافل کو دانشمندی اور بیدار مغزی کے ساتھ، ایک عاجز بے دست و پا کو قدرت و مکنت کے ساتھ، ایک ایسے شخص کو جس کی ران نے کبھی گھوڑے کی پیٹھ کو مس نہیں کیا شہسواری اور فروسیت کے ساتھ۔ غرضکہ کوئی بات ایسی نہیں بیان کی جاتی جس پر ممدوح فخر کر سکے، یا جس سے لوگوں کے دل میں اس کی عظمت اور محبت پیدا ہو، اور اس کے محاسن و مآثر زمانہ میں یادگار رہیں۔

ہماری مثنویوں کا یہ حال ہے کہ انھیں معمولی حمد و نعت وغیرہ کے بعد اکثر پہلے کسی بادشاہ زادہ یا وزیر زادہ یا امیر زادہ یا سوداگر بچہ کے حسن و جمال وغیرہ کی تعریف ہوتی ہے، پھر اس کو کسی پری یا شاہزادی یا وزیرزادی یا اور کسی کے ساتھ لگا مارا جاتا ہے؛ وہ اول اس کے فراق میں شہر اور جنگل جنگل مارا مارا پھرتا ہے، پھر آخر کار وصل سے کامیاب ہوتا ہے۔ یہ کامیابی ایسی ضروری ہے کہ اس کی نسبت پہلے ہی سے پیشین گوئی کی جا سکتی ہے۔

جو لوگ فی الواقع مسلم الثبوت شاعر ہیں، یا اپنے تئیں ایسا سمجھتے ہیں، وہ تو جب مثنوی لکھیں گے ضرور اسی قسم کی لکھیں گے۔ البتہ جو لوگ اس درجہ کے شاعر نہیں ہیں ان کی مثنویاں تاریخی، مذہبی یا اخلاقی مضامین پر بھی دیکھی گئی ہیں، لیکن اول تو یہ مضامین خود روکھے پھیکے ہوتے ہیں، اور پھر ان کے لکھنے والے نہ تو بیان میں کچھ گرمی پیدا کرنی چاہتے ہیں اور نہ پیدا کر سکتے ہیں؛ لہٰذا ان مثنویوں کو کوئی آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھتا۔ پس ہمارے ہاں وہی مثنویاں رونق پاتی ہیں جن کی بنیاد عشق پر رکھی گئی ہو۔

اگرچہ قصہ کی بنیاد عشق یا بہادری پر رکھنے کا دستور قدیم سے چلا آتا ہے، اور آج کل کے شائستہ قصے بھی جب تک ان میں عشق یا بہادری کا رنگ نہیں بھرا جاتا زیادہ مقبول نہیں ہوتے، لیکن ہماری مثنویوں میں اور ان میں بہت بڑا فرق ہے۔ ہمارے ہاں جس قسم کے واقعات اول دو چار استاد باندھ گئے ہیں، انھیں واقعات کو بادنیٰ تغیر برابر باندھتے چلے جاتے ہیں۔ بیان کے اسلوب اور تشبیہات اور معشوق کے سراپا اور قصہ کے آغاز و انجام وغیرہ میں زیادہ تر انھیں کی تقلید کی جاتی ہے۔ نتیجہ ہمیشہ شدہ آمد قدیم کے موافق جدائی کے بعد وصال اور مصیبت کے بعد راحت کا مرتب کیا جاتا ہے۔ طالب و مطلوب کے دل پر جو حالات و واردات ایک دوسرے کی محبت میں فی الواقع گذرتے ہیں یا گذر سکتے ہیں، ان سے بہت کم تعرض کیا جاتا ہے۔ عشقیہ مضامین سے اخلاقی نتائج نکالنے کا کبھی بھول کر بھی خیال نہیں کیا جاتا۔ بیان میں اثر مطلق نہیں ہوتا، کیونکہ شاعر اس خیال سے کہ قدیم مثنویوں سے اپنی مثنوی میں کچھ جدت پیدا کرے، ہمہ تن صنائع لفظی کے سرانجام کرنے میں منہمک ہوتا ہے، اس لیے اس کو کلام میں اثر پیدا کرنے کی فرصت ہی نہیں ملتی۔

بخلاف شائستہ ملکوں کے کہ وہاں اکثر ہر قصہ یا مثنوی میں ایک اچھوتی اور نرالی بات پیدا کی جاتی ہے۔ عقل و عادت کے خلاف باتیں جن پر اکثر ہماری مثنویوں کا قصوں کی بنیاد رکھی جاتی ہے، ان میں بہت کم ہوتی ہیں۔ ان کے قصے برائے نام فرضی سمجھے جاتے ہیں، ورنہ ان میں تمام واقعات اور تمام واردات ایسے بیان ہوتے ہیں جو رات دن لوگوں پر گذرتے ہیں؛ اور پھر ان سے وہ ایسے اخلاقی، سوشل یا پولٹکل نتائج نکالتے ہیں جن سے قوم کے اخلاق، معاشرت یا تمدن پر نہایت عمدہ اثر ہوتا ہے۔ ہمارے ملک کی مثنویوں کی طرح ان کے مطالعہ سے صرف عوام الناس اور بازاری لوگ ہی محظوظ نہیں ہوتے، بلکہ فضلا و حکما کی سوسائٹی میں بھی ان کی قدر کی جاتی ہے۔ ان کے قصوں کا خاتمہ ہمیشہ کامیابی اور خوشی ہی پر نہیں ہوتا، بلکہ عادت الٰہی کے موافق کبھی کامیابی اور کبھی ناکامی پر، کبھی خوشی اور کبھی اندوہ و غم پر ہوتا ہے۔

الغرض جب کہ ہماری موجودہ شاعری کا مدار من کل الوجوہ، یعنی نہ صرف الفاظ و عبارات میں بلکہ خیالات و مضامین میں بھی، محض قوم کی تقلید پر ہے، اور جب کہ ہمارے ہاں یہ بات بالاتفاق تسلیم کی گئی ہے کہ "احسن الشعر اکذبہ"، تو ہم کو اپنی شاعری کی موجودہ حالت میں اصلیت اور جوش دونو سے دست بردار ہونا چاہیے، کیونکہ اصلیت اور کذب میں منافات ہے، اور جوش بغیر اصلیت کے پیدا نہیں ہو سکتا۔ رہی سادگی، سو وہ موجودہ حالت میں اکثر بمجبوری چھوڑنی پڑتی ہے؛ کیونکہ جو معمولی خیالات اور مضامین زیادہ تر ہمارے شعرا کے زیر مشق رہتے ہیں، ان کو قدما سادگی اور صفائی کے ہر اسلوب اور ہر پیرایہ میں ادا کر چکے ہیں۔ اب تاوقتیکہ طرز بیان میں کسی قدر پیچیدگی یا خیال میں کوئی بھونڈا اضافہ یا تبدیلی پیدا نہ کی جائے، اس وقت تک آسانی سے کسی معمولی مضمون میں جدت نہیں دکھائی جا سکتی۔

اگرچہ ہمارے بعض شعرا ایسے بھی گذرے ہیں جنھوں نے سادگی بیان کو سب چیزوں سے مقدم سمجھا ہے، جیسے میر، درد، اثر اور مصحفی وغیرہ، لیکن چونکہ انھوں نے قدما کے خیالات و مضامین سے بہت کم تجاوز کیا ہے، اس لیے ان کے دیوان زیادہ تر بھرتی اور پوچ اشعار سے بھرے ہوئے ہیں۔ میر کی نسبت مولانا آزردہ دہلوی اپنے تذکرہ میں لکھتے ہیں کہ "پستش بغایت پست و بلندش بغایت بلند"۔ ان لوگوں کو جو اعلیٰ درجہ کا استاد مانا گیا ہے، اس کا سبب یہی ہے کہ ان کے کلام میں وہی معمولی خیالات، جو متعدد صدیوں سے برابر بندھتے چلے آتے تھے، باوجود غایت درجہ کی سادگی اور صفائی کے اکثر جگہ ایسے نرالے اسلوبوں میں بیان ہوئے ہیں جو فی الواقع بے مثل و عدیم النظیر ہیں۔ میر کے دیوان میں ایک غزل ہے "خاک میں، چاک میں، ہلاک میں"۔ مولانا آزردہ کے مکان پر ان کے چند احباب، جن میں مومن اور شیفتہ بھی تھے، ایک روز جمع تھے۔ میر کی اسی غزل کا یہ شعر پڑھا گیا:

اب کے جنوں میں فاصلہ شاید نہ کچھ رہے / دامن کے چاک اور گریباں کے چاک میں

شعر کی بے انتہا تعریف ہوئی، اور سب کو یہ خیال ہوا کہ اس قافیہ کو ہر شخص اپنے اپنے سلیقہ اور فکر کے موافق باندھ کر دکھائے۔ سب قلم دوات اور کاغذ لے کر الگ الگ بیٹھ گئے اور فکر کرنے لگے۔ اسی وقت ایک اور دوست وارد ہوئے۔ مولانا سے پوچھا کہ حضرت کس فکر میں بیٹھے ہیں؟ مولانا نے کہا: قل ہو اللہ کا جواب لکھ رہا ہوں۔

ظاہر ہے کہ جوش جنوں میں گریبان یا دامن یا دونو کو چاک کرنا ایک نہایت مبتذل اور پامال مضمون ہے جس کو قدیم زمانہ سے لوگ برابر باندھتے چلے آئے ہیں۔ ایسے چچوڑے ہوئے مضمون کو میر نے باوجود غایت درجہ کی سادگی کے ایک ایسے اچھوتے، نرالے اور دلکش اسلوب میں بیان کیا ہے کہ اس سے بہتر اسلوب تصور میں نہیں آ سکتا۔ اس اسلوب میں بڑی خوبی یہی ہے کہ سیدھا سادہ ہے، نیچرل ہے، اور باوجود اس کے بالکل انوکھا ہے۔

یہاں تک ان تین شرطوں کی شرح، جن کو ملٹن نے شعر کے لیے ضروری قرار دیا ہے، یعنی سادگی، اصلیت اور جوش، ہمارے نزدیک بقدر ضرورت بیان ہو گئی ہے۔ ملٹن سے پہلے ہمارے قدما نے بھی عمدہ شعر کی تعریف میں کچھ کچھ کہا ہے۔ اصمعی نے اس کی یہ تعریف کی ہے کہ "اس کے معنی لفظوں سے پہلے ذہن میں آ جائیں"، یعنی سریع الفہم ہو۔ گویا اصمعی نے ملٹن کی تین شرطوں میں سے صرف ایک شرط، یعنی سادگی، پر شعر کی عمدگی کا مدار رکھا ہے۔ یہ تعریف جامع تو ہے لیکن مانع نہیں ہے، یعنی کوئی عمدہ شعر سادگی سے خالی تو نہیں ہو سکتا، مگر یہ ضرور نہیں کہ جس شعر میں سادگی ہو وہ اعلیٰ درجہ کا بھی ضرور ہو۔ خلیل ابن احمد کے نزدیک عمدہ شعر کا معیار یہ ہے کہ "سامع کو اس کے شروع ہوتے ہی یہ معلوم ہو جائے کہ اس کا فلاں قافیہ ہوگا"۔ یہ تعریف نہ جامع ہے اور نہ مانع؛ ممکن ہے کہ شعر ادنیٰ درجہ کا ہو اور اس میں یہ بات پائی جائے، اور ممکن ہے کہ شعر اعلیٰ درجہ کا ہو اور اس میں یہ بات نہ پائی جائے۔ صاحب عقد الفرید لکھتے ہیں کہ اس باب میں سب سے بہتر زہیر ابن ابی سلمیٰ کا قول ہے:

وان احسن بیت انت قائلہ / بیت یقال اذا انشدتہ صدقا

(یعنی سب سے بہتر شعر جو تم کہہ سکتے ہو وہ ہے کہ جب پڑھا جائے تو لوگ کہیں کہ سچ کہا ہے)

اس قول میں بھی گویا ملٹن کی تین شرطوں میں سے صرف ایک شرط، یعنی اصلیت، کو ضروری بتایا گیا ہے۔ لیکن صرف یہ ایک شرط کافی نہیں ہے۔ اگرچہ اعلیٰ درجہ کے شعر میں یہ خاصیت ہونی ضرور ہے، مگر یہ ضرور نہیں کہ جس میں یہ خاصیت پائی جائے وہ اعلیٰ ہی درجہ کا شعر ہو۔ اس سے زیادہ اور کونسا شعر سچا ہو سکتا ہے:

"چشمان تو زیر ابروانند / دندان تو جملہ در دہانند"

حالانکہ اس کو ادنیٰ درجہ کا شعر بھی بمشکل کہا جا سکتا ہے۔

ہمارے نزدیک اس باب میں سب سے عمدہ ابن رشیق کا قول ہے۔ وہ کہتے ہیں:

"فاذا قیل اطمع الناس طرا / واذا رید اعجز المعجزینا"

(یعنی جب پڑھا جائے تو ہر شخص کو یہ خیال ہو کہ میں بھی ایسا کہہ سکتا ہوں، مگر جب ویسا کہنے کا ارادہ کیا جائے تو معجز بیان عاجز ہو جائیں)۔ حق یہ ہے کہ ابن رشیق نے جس لطافت اور خوبی سے عمدہ شعر کی تعریف کی ہے اس سے بہتر تصور میں نہیں آ سکتی؛ گویا جس رتبہ اور پایہ کے شعر کی اس نے تعریف کی ہے، اسی رتبہ اور پایہ کا شعر اس کی تعریف میں انشا کیا ہے۔

ابن رشیق اور ملٹن کے بیان میں فرق

ابن رشیق اور ملٹن کے بیان میں جو نازک فرق ہے اس کو غور سے سمجھنا چاہیے۔ ابن رشیق کی تعریف سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ عمدہ شعر کا سرانجام ہونا زیادہ تر حسن اتفاق پر موقوف ہے؛ شاعر کے قصد و ارادہ کو اس میں چنداں دخل نہیں ہے۔ وہ شاعر کو عمدہ شعر کہنے کا طریقہ نہیں بتاتا، بلکہ یہ بتاتا ہے کہ شاعر کے کونسے شعر کو عمدہ شعر سمجھنا چاہیے۔

بخلاف ملٹن کے کہ اس کے بیان میں دونو پہلو موجود ہیں؛ اس سے عمدہ شعر کی پہچان اور عمدہ شعر کہنے کی ارکان، دونو باتیں معلوم ہوتی ہیں۔ اگرچہ یہ ضرور نہیں ہے کہ ملٹن کی تینوں شرطیں ملحوظ رکھنے سے ہمیشہ ویسے ہی سہل و ممتنع اشعار سرانجام ہوں گے جن کا معیار ابن رشیق نے بتایا ہے، لیکن ضرور ہے کہ جو شاعر اس کی شرطوں کو ملحوظ رکھے گا، اس کے کلام میں جابجا وہ بجلیاں کوندتی نظر آئیں گی۔

یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ دنیا میں جتنے شاعر استاد مانے گئے ہیں یا جن کو استاد ماننا چاہیے، ان میں ایک بھی ایسا نہ نکلے گا جس کا تمام کلام اول سے آخر تک حسن و لطافت کے اعلیٰ درجہ پر واقع ہوا ہو؛ کیونکہ یہ خاصیت صرف خدا ہی کے کلام میں ہو سکتی ہے، جیسا کہ وہ خود فرماتا ہے: "ولو کان من عند غیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافا کثیرا"۔ شاعر کی معراج کمال یہ ہے کہ اس کا عام کلام ہموار اور اصول کے موافق ہو، اور کہیں کہیں اس میں ایسا حیرت انگیز جلوہ نظر آئے جس سے شاعر کا کمال خاص و عام کے دلوں پر نقش ہو جائے۔ البتہ اتنی بات ضرور ہے کہ اس کے عام اشعار بھی خاص خاص اشخاص کے دل پر خاص خاص حالتوں میں تقریباً ویسا ہی اثر کریں جیسا کہ اس کا خاص کلام ہر شخص کے دل پر ہر حالت میں اثر کرتا ہے؛ اور یہ بات اسی شاعر کے کلام میں پائی جا سکتی ہے جس کا کلام سادہ اور نیچرل ہو۔ اگرچہ مقتضائے مقام یہ تھا کہ اس بحث کو زیادہ بسط کے ساتھ بیان کیا جائے، اور جس قدر کہ بیان کیا گیا ہے وہ ہمارے نزدیک کافی مقدار سے بہت کم ہے، لیکن اس وقت بضرورت صرف اسی قدر بیان پر اکتفا کیا جاتا ہے؛ اگر وقت نے مساعدت کی تو پھر کسی موقع پر اسی بحث کو زیادہ وضاحت کے ساتھ لکھا جائے گا۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。