
Chapter 10 of 13
The Ghazal, Continued: Model Ghazals, Language and Idiom
غزل (باقی): نمونے کی غزلیں، زبان اور محاورہ
از دیوان خواجہ حافظ
مضمون: تمام عالم خدا کا نادیدہ مشتاق اور طالب ہے۔طرز بیان: روے تو کس ندید و ہزارت رقیب ہست / در غنچہ ہنوز و صدت عندلیب ہست
مضمون: خدا کے طالب صادق کبھی محروم نہیں رہتے۔طرز بیان: عاشق کہ شد کہ یار بحالش نظر نکرد / اے خواجہ درد نیست وگرنہ طبیب ہست
مضمون: دوست کو الزام دے کر شرمندہ کرنا شرط دوستی کے برخلاف ہے۔
طرز بیان: صبحدم مرغ چمن با گل نوخاستہ گفت / ناز کم کن کہ دریں باغ بسی چون تو شگفت
گل بخندید کہ از راست نرنجیم ولے / ہیچ عاشق سخن تلخ بمعشوق نگفت
مضمون: اقبالمندی کا زمانہ ہمیشہ نہیں رہتا۔طرز بیان: گفتم اے مسند جم جام جہاں بینت کو / گفت افسوس کہ آں دولت بیدار بخفت
مضمون: جس طاعت میں ریا کا لگاؤ ہو اس سے معصیت بہتر ہے۔
طرز بیان: ساقی بیار بادہ کہ ماہ صیام رفت / دردہ قدح کہ موسم ناموس و نام رفت
وقت عزیز رفت، بیا تا قضا کنیم / عمرے کہ بے حضور صراحی و جام رفت
مضمون: باوجودیکہ خدا تک کسی کی رسائی نہیں، پھر اس کے بھید دنیا میں کیونکر ظاہر ہو گئے۔
طرز بیان: صبا ز روے تو با ہر گلے حدیثے کرد / رقیب چوں رہ غماز داد در حرمت
مضمون: سب کوششوں میں ناکام ہو کر خدا کی طلب میں کوشش کرنی۔طرز بیان: عشق می ورزم و امید کہ ایں فن شریف / چوں ہنرہاے دگر موجب حرماں نشود
از دیوان خواجہ میر درد
مضمون: دنیا میں سب سے ملنا مگر سب سے بے تعلق رہنا۔
طرز بیان: اے درد یاں کسو سے نہ دل کو لگائیو / لگ چلیو سب سے، یوں تو پہ جی مت پھنسائیو
مضمون: قرب الٰہی میں بڑے بڑے خطرات ہیں۔طرز بیان: کاش تا شمع نہ ہوتا گذر پروانہ / تم نے کیا قہر کیا بال و پر پروانہ
مضمون: سالک کی غایت مقصود فنا ہے۔طرز بیان: ایک ہی جست میں لی منزل مقصود اس نے / رہروو! رشک کی جا ہے سفر پروانہ
مضمون: سر باطن کسی پر ظاہر کرنا نہیں چاہیے۔طرز بیان: ہر گھڑی کان میں وہ کہتا ہے / کوئی اس بات [1] سے نہ ہو آگاہ
مضمون: بندہ اور خدا کے بیچ میں کسی واسطہ کی گنجائش نہیں۔طرز بیان: قاصد نہیں یہ کام ترا اپنی راہ لے / اس کا پیام دل کے سوا کون لا سکے
مضمون: کائنات کے تمام جلوے مظہر تجلیات الٰہی ہیں۔طرز بیان: گذرا ہے صبا کون بتا آج ادھر سے / گلشن میں ترے پھولوں کی یہ باس نہیں ہے
مضمون: کُلَّ یَوْمٍ ہُوَ فِیْ شَاْنٍ۔طرز بیان: دل بھی تیرے ہی ڈھنگ سیکھا ہے / آن میں کچھ ہے آن میں کچھ ہے
مضمون: باخدا لوگوں کی صحبت میں خدا یاد آتا ہے۔طرز بیان: بسا ہے کون ترے دل میں گلبدن اے درد / کہ بو گلاب کی آئی ترے پسینے سے
مضمون: عشق الٰہی تمام تعلقات سے نجات دیتا ہے۔
طرز بیان: اس کے خیال زلف نے سب سے ہمیں چھڑا دیا / گرچہ پھنسے ہیں دام میں دل کو مگر فراغ ہے
مضمون: جہاں موت کا کھٹکا ہو وہاں ایک دم یاد خدا سے غافل نہ رہنا چاہیے۔طرز بیان: ساقیا یاں لگ رہا ہے چل چلاؤ / جب تلک بس چل سکے ساغر چلے
از دیوان سودا
مضمون: شیخ کو چاہیے کہ سالک کو تعلیم فنا سے پہلے دنیا کے تعلقات سے متنفر کرے۔
طرز بیان: خانہ پرورد چمن ہیں آخر اے صیاد ہم / اتنی رخصت دے کہ ہو لیں گل سے ٹک آزاد ہم
مضمون: دنیا میں فی الحقیقۃ کوئی چیز دلبستگی کے قابل نہیں۔
طرز بیان: خندۂ گل بے نمک، فریاد بلبل بے اثر / اس چمن سے کہہ تو جا کر کیا کریں گے یاد ہم
مضمون: دنیا کی کسی نعمت کو ثبات نہیں۔
طرز بیان: اے گل صبا کی طرح پھرے اس چمن میں ہم / پائی نہ بوے وفا کی ترے پیرہن میں ہم
مضمون: دنیا میں عروج کے ساتھ ہی تنزل لگا ہوا ہے۔
طرز بیان: نہ دیکھا اس سوا کچھ لطف اے صبح چمن تیرا / گل ایدھر کھل گئے، کلیاں گئیں، روتی ادھر شبنم
مضمون: جو دنیا کو بے ثبات جانتے ہیں وہ بھی اپنی بے ثباتی سے غافل ہیں۔
طرز بیان: بھلا گل تو تو ہنستا ہے ہماری بے ثباتی پر / بتا روتی ہے کس کی ہستی موہوم پر شبنم
مضمون: خدا کی، بندے کی، قوم کی، ملک کی، کسی کی محبت کیوں نہ ہو، اس پر ملامت ہونی ضرور ہے۔
طرز بیان: دلا اب سر کو اپنے پھیر مت سنگ ملامت سے / یہی ہوتا ہے ناداں عشق کا انجام دنیا میں
مضمون: جو کام کرنے ہیں انھیں دیر کرنی نہیں چاہیے۔طرز بیان: ساقی ہے اک تبسم گل فرصت بہار / ظالم بھرے ہے جام تو جلدی سے بھر کہیں
مضمون: جس قدر دنیا کی محبت بڑھتی جاتی ہے اسی قدر مشکلات زیادہ ہوتی جاتی ہیں۔طرز بیان: اس کشمکش سے دام کی کیا کام تھا ہمیں / اے الفت چمن ترا خانہ خراب ہو
ذوق
مضمون: اگر دلوں میں دنیا کی محبت باقی نہ رہے تو دنیا کے سب کام بند ہو جائیں۔
طرز بیان: بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے / پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے
مضمون: بہت سے جوہر قابل پہلے اس سے کہ اپنے جوہر دکھلائیں خاک میں مل جاتے ہیں۔
طرز بیان: کھل کے گل کچھ تو بہار اپنی صبا دکھلا گئے / حسرت ان غنچوں پہ ہے جو بن کھلے مرجھا گئے
مضمون: توکل کی شان۔طرز بیان: احسان ناخدا کے اٹھائے مری بلا / کشتی خدا پہ چھوڑ دوں لنگر کو توڑ دوں
مضمون: تعلقات دنیوی کے نتائج۔
طرز بیان: اگر اٹھے تو آزردہ، جو بیٹھے تو خفا بیٹھے / لگایا جی کو اپنے روگ جب سے دل لگا بیٹھے
غالب
مضمون: عزلت نشینی میں کوئی خطرہ نہیں۔طرز بیان: نے تیر کماں میں ہے نہ صیاد کمیں میں / گوشہ میں قفس کے مجھے آرام بہت ہے
مضمون: تیز زبان آدمی کی ہر کوئی شکایت کرتا ہے۔طرز بیان: گرمی سہی کلام میں لیکن نہ اس قدر / کی جس سے بات اس نے شکایت ضرور کی
مضمون: رنج اور تکلیف سب خدا کی طرف سے ہے۔
طرز بیان: جلاد سے لڑتے ہیں نہ واعظ سے جھگڑتے / ہم سمجھے ہوئے ہیں اسے جس رنگ میں جو آئے
مضمون: غلبۂ یاس میں مطلب ہاتھ سے جاتا رہتا ہے۔
طرز بیان: سنبھلنے دے مجھے اے ناامیدی کیا قیامت ہے / کہ دامان خیال یار چھوٹا جائے ہے مجھ سے
مضمون: خدا تک کسی کی رسائی نہیں ہوئی۔
طرز بیان: تھک تھک کے ہر مقام پہ دو چار رہ گئے / تیرا پتا نہ پائیں تو ناچار کیا کریں
شیفتہ
مضمون: خدا غریبوں کے جھونپڑے میں ہے۔طرز بیان: فانوس و شیشہ و لگن زر سے کیا حصول / وہ ہے وہاں جہاں نہیں روغن چراغ میں
مضمون: مشائخ کے ہر ایک سلسلہ کی نسبت میں جدا کیفیت ہوتی ہے۔طرز بیان: ہے امتزاج مشک مے لعل فام میں / آتی ہے بوے غیر ہمارے مشام میں
مضمون: نفس کی رعونت جس طریقہ سے کم ہو سکے بہتر ہے۔
طرز بیان: نفس سرکش کی کسی ڈھب سے رعونت کم ہو / چاہتا ہوں وہ صنم جس میں محبت کم ہو
مضمون: خدا کی ذات مکان اور جہت سے پاک ہے۔طرز بیان: وہ آہوے رمیدہ کہ ہم جس کے صید ہیں / نہ وادی تتار نہ دشت ختن میں ہے
مضمون: لہو و لعب سے دفعۃً کنارہ کش ہو کر اطمینان کلی حاصل کرنا۔طرز بیان: ہزار دام سے نکلا ہوں ایک جنبش میں / جسے غرور ہو آئے کرے شکار مجھے
اگرچہ اس قسم کے اشعار سے فارسی کے خاص خاص دیوان بھرے ہوئے ہیں، اور اردو میں بھی تلاش کرنے سے ایسے اشعار اور زیادہ دستیاب ہو سکتے ہیں، مگر یہ اسلوب زیادہ تر تصوف کے مضامین سے خصوصیت رکھتے ہیں؛ ہر قسم کے نیچرل خیالات ادا کرنے کے لیے صرف یہی اسلوب کافی نہیں ہو سکتے، جب تک کہ شاعر ان کو عمدہ طور پر ہر موقع کے مناسب استعمال کرنے کی لیاقت اور انھیں میں ملتے جلتے نئے اسلوب پیدا کرنے کا ملکہ نہ رکھتا ہو۔ ہمارے نزدیک اس کا گر یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے استعارہ و کنایہ و تمثیل کے استعمال اور محاورات کے برتنے پر قدرت حاصل کرنی چاہیے۔
استعارہ و کنایہ و تمثیل کی تعریف اور ان کی قسمیں علم بیان کی کتابوں میں دیکھنی چاہییں؛ یہاں ہم صرف اس قدر کہنا چاہتے ہیں کہ استعارہ بلاغت کا ایک رکن اعظم ہے، اور شاعری کو اس کے ساتھ وہی نسبت ہے جو قالب کو روح کے ساتھ۔ کنایہ اور تمثیل کا حال بھی استعارہ ہی کے قریب قریب ہے۔ یہ سب چیزیں شعر میں جان ڈالنے والی ہیں۔ جہاں اصل زبان کا قافیہ تنگ ہو جاتا ہے وہاں شاعر انھیں کی مدد سے اپنے دل کے جذبات اور دقیق خیالات عمدگی کے ساتھ ادا کر جاتا ہے، اور جہاں اس کو اپنا منتر کارگر ہوتا نظر نہیں آتا وہاں انھیں کے زور سے وہ لوگوں کے دلوں کو تسخیر کر لیتا ہے۔
بعض مضامین فی نفسہ ایسے دلچسپ اور دلکش ہوتے ہیں کہ ان کو محض صفائی اور سادگی سے بیان کر دینا کافی ہوتا ہے؛ مگر بہت سے خیالات ایسے ہوتے ہیں کہ معمولی زبان ان کو ادا کرتے وقت رو دیتی ہے، اور معمولی اسلوب انھیں اثر پیدا کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ایسے مقام پر اگر استعارہ اور کنایہ یا تمثیل وغیرہ سے مدد نہ لی جائے تو شعر شعر نہیں رہتا بلکہ معمولی بات چیت ہو جاتی ہے۔ مثلاً داغ کہتے ہیں:
گیا تھا کہہ کے اب آتا ہوں قاصد کو تو موت آئی / دل بیتاب واں جا کر کہیں تو بھی نہ مر رہنا
اس شعر میں دیر لگانے کو موت آنے اور مر رہنے سے تعبیر کیا ہے۔ اگر یہ دونو لفظ نہ ہوں بلکہ اس طرح بیان کیا جائے کہ قاصد نے تو بہت دیر لگائی، اے دل کہیں تو بھی دیر نہ لگائیو، تو شعر میں کچھ جان باقی نہیں رہتی۔
یا مثلاً مرزا غالب کہتے ہیں:
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ / ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
دوسرے مصرع میں طنزاً بطور استعارہ کے "دیر پشیماں" کی جگہ "زود پشیماں" کہا گیا ہے، جس سے شعر میں جان پڑ گئی ہے۔ یہ ویسا ہی استعارہ ہے جیسا قرآن مجید میں "اَنْذِرْہُمْ" کی جگہ "بَشِّرْہُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍ" فرمایا ہے۔
اسی طرح میر تقی کہتے ہیں:
کہتے ہو اتحاد ہے ہم کو / ہاں کہو اعتماد ہے ہم کو
یہاں بھی "اعتماد نہیں ہے" کی جگہ طنزاً "اعتماد ہے" کہا گیا ہے۔
مرزا غالب کہتے ہیں:
وفاداری بشرط استواری اصل ایماں ہے / مرے بتخانہ میں تو کعبہ میں گاڑو برہمن کو
دوسرے مصرع کا اصل مدعا یہ تھا کہ وفاداری ایسی عمدہ صفت ہے کہ اگر برہمن وفاداری کے ساتھ ساری عمر بتخانہ میں نباہ دے تو اس کے ساتھ وہ برتاؤ کرنا چاہیے جو اعلیٰ سے اعلیٰ درجہ کے مسلمان کے ساتھ کرنا زیبا ہے۔ اس مطلب کو یوں ادا کیا گیا ہے کہ اگر وہ بتخانہ میں مرے تو اس کو کعبہ میں دفن کرنا چاہیے۔ جو خوبی اس عنوان بیان میں ہے وہ ظاہر ہے۔
دوسری جگہ مرزا غالب کہتے ہیں:
کوئی ویرانی سی ویرانی ہے / دشت کو دیکھ کے گھر یاد آیا
دوسرے مصرع میں بطور کنایہ کے "خوف معلوم ہوا" کی جگہ "گھر یاد آیا" کہا گیا ہے، کیونکہ جنگل میں خوف معلوم ہونے کو گھر یاد آنا لازم ہے؛ اور چونکہ اس میں صنعت ایہام بھی ملحوظ رکھی گئی ہے اس لیے شعر میں اور زیادہ لطف پیدا ہو گیا ہے، یعنی اس میں یہ معنی بھی نکلتے ہیں کہ ہمارا گھر اس قدر ویران ہے کہ دشت کو دیکھ کر گھر یاد آتا ہے۔
مرزا غالب کا فارسی شعر ہے:
ہوا مخالف و شب تار و بحر طوفاں خیز / گسستہ لنگر کشتی و ناخدا خفتست
اس شعر میں اپنی مشکلات اور سختیوں کو بطور تمثیل کے بیان کیا ہے۔ جس حالت کو شاعر نے اس عنوان سے بیان کیا ہے وہ کچھ ہی کیوں نہ ہو، اگر اس کو صاف اور سیدھے طور پر جیسی کہ وہ ہے بیان کیا جائے تو وہ ہرگز دو مصرعوں میں نہیں سما سکتی، اور باوجود اس کے جس ہیبت ناک صورت میں اس کو تمثیل کا پیرایہ ظاہر کرتا ہے یہ بات ہرگز نہیں پیدا ہو سکتی۔
مرزا غالب کا اردو شعر ہے:
پنہاں تھا دام سخت قریب آشیان کے / اڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے
اس شعر میں بھی اس بات کو کہ آدمی نے جہاں ہوش سنبھالا اور تعلقات دنیوی میں پھنسا، بطور تمثیل کے بیان کیا ہے، اور اس عنوان بیان کی خوبی ظاہر ہے۔
بہرحال شاعر کا یہ ضروری فرض ہے کہ مجاز و استعارہ و کنایہ و تمثیل وغیرہ کے استعمال پر قدرت حاصل کرے، تاکہ ہر روکھے پھیکے مضمون کو آب و تاب کے ساتھ بیان کر سکے؛ لیکن استعارہ وغیرہ میں اس بات کا خیال رکھنا ضرور ہے کہ مجازی معنی فہم سے بعید نہ ہوں، ورنہ شعر چیستاں اور معما بن جائے گا۔ مثلاً شاہ نصیر کہتے ہیں:
چرائی چادر مہتاب شب میکش نے جیحوں پر / کٹورا صبح دوڑانے لگا خورشید گردوں پر
چادر مہتاب چرانے سے چاندنی کا لطف اٹھانا اور اس سے متمتع ہونا مراد رکھا ہے، جو نہایت بعید الفہم ہے۔ جن لوگوں نے استعارہ وغیرہ کے استعمال میں مذکورۂ بالا اصول کو ملحوظ نہیں رکھا ان کا کلام ہمیشہ نامقبول اور متروک رہا ہے، جیسے بدر چاچی کے قصائد، جن میں نہایت بعید الفہم استعارے استعمال کیے گئے ہیں: کہیں آہوے مادہ سے آفتاب مراد لی ہے، کہیں اشک زلیخا سے کواکب، کہیں اعلیٰ سے برج عقرب، کہیں برگ بنفشہ سے حروف، کہیں آب خشک سے پیالہ، کہیں پنج دریا سے پانچ انگلیاں، اور اسی طرح کہیں زمین سے آسمان اور کہیں آسمان سے زمین۔
اردو میں شعرا نے استعارہ کا استعمال زیادہ تر محاورات کے ضمن میں کیا ہے، کیونکہ اکثر محاورات کی بنیاد اگر غور کر کے دیکھا جائے تو استعارہ پر ہوتی ہے۔ مثلاً "جی اچٹنا"؛ اس میں جی کو ان چیزوں سے تشبیہ دی گئی ہے جو سخت چیز پر لگ کر اچٹ جاتی ہیں، جیسے کنکر، پتھر، گیند وغیرہ۔ یا مثلاً "جی بٹنا"؛ اس میں جی کو ایسی چیز سے تشبیہ دی گئی ہے جو منقسم اور متفرق ہو سکے۔ "آنکھ کھلنا"، "دل کملانا"، "غصہ بھڑکنا"، "کام چلنا"، اور اسی طرح ہزارہا محاورے استعارہ پر مبنی ہیں؛ اور یہ وہ استعارے ہیں جنھیں شعرا کی کارستانی کو کچھ دخل نہیں ہے، بلکہ نیچرل طور پر بغیر فکر اور تصنع کے اہل زبان کے منہ سے وقتاً فوقتاً نکل کر زبان کا جزو بن گئے ہیں۔ کنایہ بھی زیادہ تر محاورات ہی کے ضمن میں استعمال ہوا ہے؛ مگر اردو شعرا نے تمثیل کو بہت کم برتا ہے، البتہ نئی طرز کی شاعری میں اس کا کچھ کچھ رواج ہوتا چلا ہے اور ضرورت نے لوگوں کو اس کے برتنے پر مجبور کیا ہے۔ چونکہ اس موقع پر استعارہ کی تقریب سے محاورہ کا ذکر آ گیا ہے، اس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ محاورہ کے متعلق چند ضروری باتیں بیان کی جائیں۔
(ب) محاورہ لغت میں مطلقاً بات چیت کرنے کو کہتے ہیں، خواہ وہ بات چیت اہل زبان کے روزمرہ کے موافق ہو خواہ مخالف؛ لیکن اصطلاح میں خاص اہل زبان کے روزمرہ یا بول چال یا اسلوب بیان کا نام محاورہ ہے۔ پس ضرور ہے کہ محاورہ تقریباً ہمیشہ دو یا دو سے زیادہ الفاظ میں پایا جائے، کیونکہ مفرد الفاظ کو روزمرہ یا بول چال یا اسلوب بیان نہیں کہا جاتا؛ بخلاف لغت کے، کہ اس کا اطلاق ہمیشہ مفرد الفاظ پر یا ایسے الفاظ پر جو بمنزلۂ مفرد [2] کے ہیں کیا جاتا ہے۔ مثلاً پانچ اور سات دو لفظ ہیں جن پر الگ الگ لغت کا اطلاق ہو سکتا ہے، مگر ان میں سے ہر ایک کو محاورہ نہیں کہا جائے گا؛ بلکہ دونو کو ملا کر جب "پانسات" بولیں گے تب محاورہ کہا جائے گا۔ یہ بھی ضرور ہے کہ وہ ترکیب جس پر محاورہ کا اطلاق کیا جائے قیاسی نہ ہو، بلکہ معلوم ہو کہ اہل زبان اس کو اسی طرح استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً اگر پانسات یا سات آٹھ یا آٹھ سات پر قیاس کر کے چھ آٹھ یا آٹھ چھ یا سات نو بولا جائے گا تو اس کو محاورہ نہیں کہنے کے، کیونکہ اہل زبان کبھی اس طرح نہیں بولتے۔ یا مثلاً بلاناغہ پر قیاس کر کے اس کی جگہ بے ناغہ، ہر روز کی جگہ ہر دن، روز روز کی جگہ دن دن، یا آئے دن کی جگہ آئے روز بولنا؛ ان میں سے کسی کو محاورہ نہیں کہا جائے گا، کیونکہ یہ الفاظ اس طرح اہل زبان کی بول چال میں کبھی نہیں آتے۔
کبھی محاورہ کا اطلاق خاص کر ان افعال پر کیا جاتا ہے جو کسی اسم کے ساتھ مل کر اپنے حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں استعمال ہوتے ہیں، جیسے "اتارنا"۔ اس کے حقیقی معنی کسی جسم کو اوپر سے نیچے لانے کے ہیں، مثلاً گھوڑے سے سوار کو اتارنا، کھونٹی سے کپڑا اتارنا، کوٹھے پر سے پلنگ اتارنا؛ لیکن ان میں سے کسی پر محاورہ کے یہ دوسرے معنی صادق نہیں آتے، کیونکہ ان سب مثالوں میں اتارنا اپنے حقیقی معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ ہاں نقشہ اتارنا، نقل اتارنا، دل سے اتارنا، دل میں اتارنا، ہاتھ اتارنا، پہنچا اتارنا، یہ سب محاورے کہلائیں گے، کیونکہ ان سب مثالوں میں اتارنے کا اطلاق مجازی معنوں پر کیا گیا ہے۔ یا مثلاً "کھانا"؛ اس کے حقیقی معنی کسی چیز کو دانتوں سے چبا کر یا بغیر چبائے حلق سے اتارنے کے ہیں، مثلاً روٹی کھانا، دوا کھانا، افیم کھانا وغیرہ؛ لیکن ان میں سے کسی کو دوسرے معنی کے لحاظ سے محاورہ نہیں کہا جائے گا، کیونکہ ان سب مثالوں میں کھانا اپنے حقیقی معنوں میں مستعمل ہوا ہے۔ ہاں غم کھانا، قسم کھانا، دھوکا کھانا، پچھاڑیں کھانا، ٹھوکر کھانا، یہ سب محاورے کہلائیں گے۔
محاورہ کے جو معنی ہم نے اول بیان کیے ہیں وہ عام ہیں، یعنی دوسرے معنوں کو بھی شامل ہیں؛ لیکن دوسرے معنی پہلے معنی سے خاص ہیں۔ پس جس ترکیب کو پہلے معنوں کے لحاظ سے محاورہ کہا جائے گا اس کو دوسرے معنوں کے لحاظ سے بھی محاورہ کہا جا سکتا ہے؛ لیکن یہ ضرور نہیں کہ جس ترکیب کو پہلے معنوں کے لحاظ سے محاورہ کہا جائے اس کو دوسرے معنوں کے لحاظ سے بھی محاورہ کہا جائے۔ مثلاً "تین پانچ کرنا" (یعنی جھگڑا ٹنٹا کرنا)؛ اس کو دونو معنوں کے لحاظ سے محاورہ کہہ سکتے ہیں، کیونکہ یہ ترکیب اہل زبان کی بول چال کے بھی موافق ہے، اور نیز اس میں "تین پانچ" کا لفظ اپنے حقیقی معنوں میں نہیں بلکہ مجازی معنوں میں بولا گیا ہے۔ لیکن روٹی کھانا، یا میوہ کھانا، یا پانسات، یا دس بارہ وغیرہ صرف پہلے معنوں کے لحاظ سے محاورہ قرار پا سکتے ہیں، نہ دوسرے معنوں کے لحاظ سے، کیونکہ یہ تمام ترکیبیں اہل زبان کی بول چال کے موافق تو ضرور ہیں مگر ان میں کوئی لفظ مجازی معنوں میں مستعمل نہیں ہوا۔ آئندہ ہم ان دونو معنوں میں تمیز کے لیے پہلی قسم کے محاورہ پر "روزمرہ" کا اور دوسری قسم پر "محاورہ" کا اطلاق کریں گے۔
روزمرہ اور محاورہ میں من حیث الاستعمال ایک اور بھی فرق ہے۔ روزمرہ کی پابندی جہاں تک ممکن ہو تقریر و تحریر اور نظم و نثر میں ضروری سمجھی گئی ہے، یہاں تک کہ کلام میں جس قدر کہ روزمرہ کی پابندی کم ہو گی اسی قدر وہ فصاحت کے درجہ سے ساقط سمجھا جائے گا۔ مثلاً "کلکتہ سے پشاور تک سات آٹھ کوس پر ایک پختہ سرا اور ایک کوس پر مینار بنا ہوا تھا"؛ یہ جملہ روزمرہ کے موافق نہیں ہے، بلکہ اس کی جگہ یوں ہونا چاہیے: "کلکتہ سے پشاور تک سات سات آٹھ آٹھ کوس پر ایک ایک پختہ سرا اور کوس کوس بھر پر ایک ایک مینار بنا ہوا تھا"۔ یا مثلاً "آج تک اس سے ملنے کا موقع نہ ملا"؛ یہاں "نہ ملا" کی جگہ "نہیں ملا" چاہیے۔ یا "وہ خاوند کے مرنے سے درگور ہوئی"؛ یہاں "زندہ درگور ہو گئی" چاہیے۔ یا "سو گئے جب بخت تب بیدار آنکھیں ہو گئیں"؛ یہاں "ہو گئیں" کی جگہ "ہوئیں" چاہیے۔ یا "دیکھتے ہی دیکھتے یہ کیا ہوا"؛ یہاں "کیا ہو گیا" چاہیے۔
الغرض نظم ہو یا نثر، دونو میں روزمرہ کی پابندی جہاں تک ممکن ہو نہایت ضروری ہے؛ مگر محاورہ کا ایسا حال نہیں ہے۔ محاورہ اگر عمدہ طور سے باندھا جائے تو بلاشبہ پست شعر کو بلند اور بلند کو بلندتر کر دیتا ہے؛ لیکن ہر شعر میں محاورہ کا باندھنا ضرور نہیں، بلکہ ممکن ہے کہ شعر بغیر محاورہ کے بھی فصاحت و بلاغت کے اعلیٰ درجہ پر واقع ہو، اور ممکن ہے کہ ایک پست اور ادنیٰ درجہ کے شعر میں بے تمیزی سے کوئی لطیف و پاکیزہ محاورہ رکھ دیا گیا ہو۔ ایک مشہور شاعر کا شعر ہے:
گوہر اشک سے لبریز ہے سارا دامن / آج کل دامن دولت ہے ہمارا دامن
اس شعر میں کوئی محاورہ نہیں باندھا گیا، باوجود اس کے شعر تعریف کے قابل ہے۔ دوسری جگہ یہی شاعر کہتا ہے:
اس کا خط دیکھتے ہیں جب صیاد / طوطے ہاتھوں کے اڑا کرتے ہیں
اس شعر میں نہ کوئی خوبی ہے نہ مضمون ہے، صرف ایک محاورہ بندھا ہوا ہے، اور وہ بھی روزمرہ کے خلاف، یعنی "اڑ جاتے ہیں" کی جگہ "اڑا کرتے ہیں"۔ محاورہ کو شعر میں ایسا سمجھنا چاہیے جیسے کوئی خوبصورت عضو بدن انسان میں، اور روزمرہ کو ایسا جاننا چاہیے جیسے تناسب اعضا بدن انسان میں۔ جس طرح بغیر تناسب اعضا کے کسی خاص عضو کی خوبصورتی سے حسن بشری کامل نہیں سمجھا جا سکتا، اسی طرح بغیر روزمرہ کی پابندی کے محض محاورات کے جا و بے جا رکھ دینے سے شعر میں کچھ خوبی پیدا نہیں ہو سکتی۔
شعر کی معنوی خوبی کا اندازہ اہل زبان اور غیر اہل زبان دونو کر سکتے ہیں، لیکن لفظی خوبیوں کا اندازہ کرنا صرف اہل زبان کا حصہ ہے۔ اہل زبان عموماً اس شعر کو زیادہ پسند کرتے ہیں جس میں روزمرہ کا لحاظ کیا گیا ہو، اور اگر روزمرہ کے ساتھ محاورہ کی چاشنی بھی ہو تو وہ ان کو اور بھی زیادہ مزا دیتی ہے؛ مگر عوام اور خواص کی پسند میں بہت بڑا فرق ہے۔ عوام محاورہ یا روزمرہ کے ہر شعر کو سن کر سر دھننے لگتے ہیں، اگرچہ شعر کا مضمون کیسا ہی مبتذل یا رکیک اور سبک ہو، اور اگرچہ محاورہ کیسا ہی بے سلیقگی سے باندھا گیا ہو۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن اسلوبوں میں وہ ایک دوسرے سے بات چیت کرتے ہیں جب انھیں اسلوبوں میں وزن کی کھچاوٹ اور قافیوں کا تناسب دیکھتے ہیں، اور معمولی بات چیت کو شعر کے سانچے میں ڈھلا ہوا پاتے ہیں، تو ان کو ایک نوع کا تعجب اور تعجب کے ساتھ خوشی پیدا ہوتی ہے۔ مگر خواص کی پسند اور تعجب کے لیے صرف روزمرہ کا وزن کے سانچے میں ڈھال دینا کافی نہیں ہے؛ ان کے نزدیک محض تک بندی اور معمولی بات چیت کو موزوں کر دینا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے۔ ہاں اگر وہ دیکھتے ہیں کہ ایک سنجیدہ مضمون معمولی روزمرہ میں کمال خوبی اور صفائی اور بے تکلفی سے ادا کیا گیا ہے تو بلاشبہ ان کو بے انتہا تعجب اور حیرت ہوتی ہے، کیونکہ فن شعر میں اور خاص کر اردو زبان میں کوئی بات اس سے زیادہ مشکل نہیں ہے کہ عمدہ مضمون معمولی بول چال اور روزمرہ میں پورا پورا ادا ہو جائے۔ جن لوگوں نے روزمرہ کی پابندی کو سب چیزوں سے مقدم سمجھا ہے ان کے کلام کو بھی جب نکتہ چینی کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے تو جا بجا فروگذاشتیں اور کسریں نظر آتی ہیں۔ پس جب کوئی شعر باوجود مضمون کی متانت اور سنجیدگی کے روزمرہ اور محاورہ میں بھی پورا اتر جائے تو لامحالہ اس سے ہر صاحب ذوق کو تعجب ہوتا ہے۔ مثلاً میر انشاء اللہ خاں اس بات کو کہ افسردگی کے عالم میں خوشی اور عیش و عشرت کی چھیڑ چھاڑ سخت ناگوار گذرتی ہے، اس طرح بیان کرتے ہیں:
نہ چھیڑ اے نکہت باد بہاری راہ لگ اپنی / تجھے اٹکھیلیاں سوجھی ہیں یہاں بیزار بیٹھے ہیں
یا مثلاً مرزا غالب اتنے بڑے مضمون کو کہ (میں جو معشوق کے مکان پر پہنچا تو اول خاموش کھڑا رہا، پاسبان نے سائل سمجھ کر کچھ نہ کہا؛ جب معشوق کے دیکھنے کا حد سے زیادہ شوق ہوا اور صبر کی طاقت نہ رہی تو پاسبان کے قدموں پر گر پڑا؛ اب اس نے جانا کہ اس کا مطلب کچھ اور ہے؛ اس نے میرے ساتھ وہ سلوک کیا کہ ناگفتہ بہ ہے) دو مصرعوں میں اس طرح بیان کرتے ہیں:
گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے / اٹھا اور اٹھ کے قدم میں نے پاسباں کے لیے
یا مثلاً مرزا غالب کہتے ہیں:
رونے سے اور عشق میں بیباک ہو گئے / دھوئے گئے ہم ایسے کہ بس پاک ہو گئے
قاعدہ ہے کہ جب تک انسان عشق و محبت کو چھپاتا ہے اس کو ہر ایک بات کا پاس و لحاظ رہتا ہے، لیکن جب راز فاش ہو جاتا ہے تو پھر اس کو کسی سے شرم اور حجاب نہیں رہتا۔ اس شعر میں یہی مضمون ادا کیا گیا ہے۔ "دھویا جانا" بے حیا اور بے لحاظ ہو جانے کو کہتے ہیں، اور "پاک" آزاد اور شہدے کو کہتے ہیں۔ رونے کے لیے دھویا جانا، اور دھوئے جانے کے لیے پاک ہونا؛ باوجود اتنی لفظی مناسبتوں اور محاورہ کی نشست اور روزمرہ کی صفائی کے، مضمون پورا پورا ادا ہو گیا ہے، اور کوئی بات ان نیچرل نہیں ہے۔
یا مثلاً مومن خاں کہتے ہیں:
کل تم جو بزم غیر میں آنکھیں چرا گئے / کھوئے گئے ہم ایسے کہ اغیار پا گئے
"آنکھیں چرانا" اغماض و بے توجہی کرنا ہے؛ "کھویا جانا" شرمندہ اور جھینپ جانا؛ "پا جانا" سمجھ جانا یا تاڑ جانا، معنی ظاہر ہیں۔ اس شعر کا مضمون بھی بالکل نیچرل ہے، اور محاورات کی نشست اور روزمرہ کی صفائی قابل تعریف ہے۔ اگرچہ اس کا ماخذ مرزا غالب کا یہ شعر ہے:
گرچہ ہے طرز تغافل پردہ دار راز عشق / پر ہم ایسے کھوئے جاتے ہیں کہ وہ پا جائے ہے
مگر مومن کے ہاں زیادہ صفائی سے بندھا ہے۔ اسی قبیل کے یہ اشعار ہیں:
رند خراب حال کو زاہد نہ چھیڑ تو / تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنی نبیڑ تو
چال ہے مجھ ناتواں کی مرغ بسمل کی تڑپ / ہر قدم پر ہے یقیں یاں رہ گیا واں رہ گیا
جو بے اختیاری یہی ہے تو قاصد / ہمیں آ کے اس کے قدم دیکھتے ہیں
شاید اسی کا نام محبت ہے شیفتہ / اک آگ سی ہے سینہ کے اندر لگی ہوئی
یوں وفا اٹھ گئی زمانے سے / کبھی گویا یہاں تھی ہی نہیں
الغرض روزمرہ کی پابندی تمام اصناف سخن میں عموماً اور غزل میں خصوصاً جہاں تک ہو سکے نہایت ضروری چیز ہے، اور محاورہ بھی بشرطیکہ سلیقہ سے باندھا جائے شعر کا زیور ہے۔ چونکہ یہ بحث بہت طولانی ہے اس لیے ہم اس کو یہیں ختم کر دیتے ہیں؛ اگر موقع ملا تو پھر کبھی اس مضمون پر علیحدہ اپنے خیالات ظاہر کریں گے۔
(ج) صنائع و بدائع پر کلام کی بنیاد رکھنے سے اکثر معنی کا سر رشتہ ہاتھ سے جاتا رہتا ہے اور کلام میں بالکل اثر باقی نہیں رہتا، کیونکہ مخاطب کے دل میں یہ خیال گذرنا کہ شاعر نے شعر کی ترتیب میں تصنع کیا ہے اور الفاظ میں اپنی کاریگری ظاہر کرنی چاہی ہے، بالکل شعر کی تاثیر کو زائل کر دیتا ہے۔ پس صنائع کی پابندی اور التزام سے تمام اصناف سخن میں عموماً اور غزل میں خصوصاً ہمیشہ بچنا چاہیے۔ صنعتیں جیسا کہ علم بلاغت میں مفصل مذکور ہے دو قسم کی قرار دی گئی ہیں: ایک معنوی، جیسے طباق، مشاکلہ، عکس، توریہ، حسن تعلیل، تجاہل عارفانہ، تعجب وغیرہ؛ دوسری لفظی، جیسے تجنیس، رد العجز علی الصدر، منقوط، غیر منقوط، رقطا، خیفا، مقطع، موصل، ترصیع وغیرہ۔ پہلی قسم کی کل صنعتیں اور دوسری قسم کی خاص خاص صنائع عربی اور فارسی کے تمام نامور شعرا نے برتی ہیں، مگر کبھی ان کا التزام نہیں کیا اور کلام کی بنیاد ان پر نہیں رکھی۔ ہاں اگر حسن اتفاق سے کبھی کوئی ایسا مناسب لفظ سوجھ گیا جس سے معنی مقصود میں کچھ خلل واقع نہ ہو اور بیان میں زیادہ حسن پیدا ہو جائے، ایسے موقع کو بلاشبہ ہاتھ سے جانے نہیں دیا، جیسے خواجہ حافظ کہتے ہیں:
بزیر دلق ملمع کمندہا دارند / درازدستی ایں کوتہ آستیناں بیں
اس شعر میں "دراز" اور "کوتہ" کے لحاظ سے صنعت طباق اور "دست" و "آستین" کے اعتبار سے مراعاۃ النظیر ہے؛ مگر دونو صنعتیں ایسی بے تکلف اور مناسب طور پر واقع ہوئی ہیں کہ معنی مقصود میں بجائے اس کے کہ مخل ہوں، اور زیادہ قوت پیدا کر دی ہے، اور شعر کا حسن دوبالا کر دیا ہے۔ یا جیسے میر تقی کہتے ہیں:
یہ جو چشم پر آب ہیں دونو / ایک خانہ خراب ہیں دونو
اس میں "ایک" کا لفظ ایسا بے ساختہ اور بے تکلف واقع ہوا ہے کہ گویا شاعر نے اس کا قصد ہی نہیں کیا۔ یہاں "ایک" کے معنی ہیں نہایت، بے مثل، لاجواب، چھٹا ہوا؛ جیسے کہتے ہیں "وہ ایک بدذات ہے" یا "وہ لوگ ایک شورہ پشت ہیں"۔ "دونو" کے مقابلہ میں "ایک" کے لفظ نے آ کر شعر کو نہایت بلند کر دیا ہے، ورنہ نفس مضمون کے لحاظ سے اس کی کچھ بھی حقیقت نہ تھی۔ یہاں فی الحقیقۃ محض صنعت مراعاۃ النظیر نے اس شعر میں اعلیٰ درجہ کی بلاغت پیدا نہیں کی، بلکہ اس بات نے پیدا کی ہے کہ دو چیزوں پر لفظ "ایک" کا اطلاق ایسی خوبی اور بے تکلفی سے ہوا ہے کہ اس سے بہتر تصور میں نہیں آ سکتا؛ ورنہ ایک شعر یا ایک مصرع میں "ایک" اور "دو" کا جمع کر دینا، کہ اسی کا نام مراعاۃ النظیر ہے، کوئی بڑی بات نہ تھی۔
حسن مطلع:ایک سب آگ ایک سب پانی / دیدہ و دل عذاب ہیں دونو
اس شعر میں بھی آگ اور پانی کا مقابلہ نہایت بے تکلفی سے واقع ہوا ہے۔ پس اگر اس قسم کی مناسبت لفظی اتفاق سے شعر میں پیدا ہو جائے تو یہ شاعری کا زیور ہے؛ مگر قصداً ایسی رعایتوں کی جستجو کرنے سے آخر کار شاعری شاعری نہیں رہتی بلکہ مسخراپن ہو جاتا ہے۔ ایک مشہور شاعر فرماتے ہیں:
مرغ دل کو توڑے گی بلی ترے دروازہ کی / رخت تن کو کترے گا چوہا تمھاری ناک کا
چونکہ بلی کے لیے چوہا لانا واجبات سے تھا اس لیے جب اصلی چوہا نہ ملا، ناچار ناک ہی کے چوہے پر قناعت کی۔
کھانے کی اصل خوبی یہ ہے کہ لذیذ ہو، مفید ہو، جزو بدن بننے کے لائق ہو؛ بو باس اور رنگ روپ بھی اچھا رکھتا ہو؛ اگر باوجود ان سب باتوں کے چینی کے باسنوں میں کھایا جائے تو اور بھی بہتر ہے۔ یہی حال شعر کا ہے۔ شعر کی اصل خوبی یہ ہے کہ نیچرل ہو، موثر ہو، لفظاً اور معنیً سانچے میں ڈھلا ہو؛ اگر اس کے ساتھ کوئی لفظی رعایت بھی اس میں پائی جائے تو اور بہتر ہے، ورنہ اس کی کچھ ضرورت نہیں۔
ہر زبان میں صنعت الفاظ (اگر ہمارا قیاس غلط نہیں ہے) متقدمین کی نسبت متاخرین کے کلام میں زیادہ پاؤ گے، کیونکہ اکثر متاخرین انھیں مضامین کو دہراتے ہیں جو ان سے پہلے قدما باندھ گئے ہیں؛ پس تاوقتیکہ وہ صنعت الفاظ کو کام میں نہ لائیں انھیں معمولی باتوں میں کوئی کرشمہ نہیں دکھا سکتے۔
متاخرین میں صنائع کا خیال زیادہ تر اس سبب سے پیدا ہوتا ہے کہ قدما کے کلام میں کچھ اشعار ایسے پائے جاتے ہیں جنھیں باوجود حسن معنی کے اتفاق سے کوئی لفظی مناسبت بھی پیدا ہو گئی ہے۔ چونکہ وہ اشعار عموماً پسند کیے جاتے ہیں، بعض لوگ غلطی سے یہ خیال کر لیتے ہیں کہ ان کی مقبولیت کا سبب وہی لفظی مناسبت ہے اور بس۔ اب وہ بتکلف انھیں صنعتوں کو اپنے کلام میں جا و بے جا استعمال کرنا شروع کرتے ہیں، اور جو اصل خوبی قدما کے کلام میں ہوتی ہے اس کا مطلق خیال نہیں کرتے۔ اس کی مثال بعینہ ایسی ہے کہ ایک جامہ زیب اور حسین آدمی، جس پر کوئی لباس بدنما نہیں معلوم ہوتا، اتفاق سے بنت کی ٹوپی یا کارچوبی انگرکھا پہن کر نکلے، اور لوگ اس کی ریس سے ویسے ہی کپڑے پہننے لگیں اور یہ سمجھیں کہ اس کی زیبائش کا اصل سبب حسن و جمال ہے نہ بنت کی ٹوپی اور کارچوبی انگرکھا۔
صنعت الفاظ نے ہماری شاعری بلکہ ہمارے تمام لٹریچر کو بے انتہا صدمہ پہنچایا ہے، جس کی تفصیل کے لیے ایک جدا کتاب لکھنے کی ضرورت ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح عجائب قدرت کی تعظیم ہوتے ہوتے آخر کار دنیا میں عجائب پرستی ہونے لگی اور خدا کا خیال جاتا رہا، اسی طرح ہمارے لٹریچر میں صنائع لفظی کی لے بڑھتے بڑھتے آخر کار محض الفاظ پرستی باقی رہ گئی اور معنی کا خیال بالکل جاتا رہا۔ صنائع و بدائع کی پابندی دلی کے شعرا میں عموماً بہت کم پائی جاتی ہے، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ بالکل نہیں پائی جاتی؛ البتہ لکھنؤ کے بعض شعرا نے اس کا سخت پابندی کے ساتھ التزام کیا ہے، اور بمقابلۂ اہل دہلی کے لکھنؤ کے عام شعرا بھی رعایت لفظی کا زیادہ خیال کرتے ہیں؛ لیکن پھر بھی فارسی کے مقابلہ میں اردو شاعری اس آفت سے بہت محفوظ ہے۔ جہاں تک ہم کو معلوم ہے وہ بیہودہ لفظی صنعتیں جنھیں معنی سے بالکل قطع نظر کر لی جاتی ہے، اور محض ایک لفظوں کا گورکھ دھندا بنایا جاتا ہے، جیسے منقوط، غیر منقوط، رقطا، خیفا، ذو قافیتین، ذو بحرین وغیرہ وغیرہ، اردو شاعری میں کمیاب ہیں؛ مگر بجائے صنائع لفظی کے اردو غزل میں ایک اور روگ پیدا ہو گیا ہے، جو صنائع سے بھی زیادہ معنی کا خون کرنے والا ہے۔
(د) سنگلاخ زمینوں میں لکھنؤ اور دلی کے شعرائے متاخرین نے ہزارہا غزلیں لکھی ہیں۔ میر، سودا، جرأت، درد اور آثر کے ہاں ایسی زمینوں میں بہت کم غزلیں پائی جاتی ہیں؛ اس کی ابتدا مصحفی اور انشا کے وقت سے ہوئی ہے، اور شاہ نصیر نے سب سے زیادہ اس میں طبع آزمائی کی ہے۔ ذوق کو بھی ابتدائے شاعری میں اس کا بہت لپکا رہا ہے؛ ظفر کے کلام میں بھی ایسی زمینیں بہت ہیں۔ البتہ غالب، مومن، ممنون، شیفتہ، داغ وغیرہ نے ایسی زمینیں بہت کم اختیار کی ہیں۔ لکھنؤ کے شعرا نے بھی سخت زمینوں میں بے انتہا غزلیں لکھی ہیں۔
جو لوگ شاعری کے فرائض پورے پورے ادا کرنے چاہتے ہیں وہ اس بات کا اندازہ کر سکتے ہیں کہ شعر کے سرانجام کرنے میں کوئی چیز ایسی مشکل نہیں جیسا مضمون شعر کے مناسب قافیہ بہم پہنچانا؛ اسی لیے جب کسی کو سخت وقت پیش آتی ہے تو کہتے ہیں کہ اس کا قافیہ تنگ ہو گیا۔ اسی قافیہ کی مشکلات سے بچنے کے لیے یورپ کے شعرا نے آخر کار ایک "بلینک ورس" یعنی نظم غیر مقفیٰ نکال لی ہے، اور اب زیادہ تر وہاں اسی طرح کی نظم پر شاعری کا دارومدار ہے۔ ہمارے ہاں اس پر طرہ یہ ہے کہ قافیہ کے پیچھے ایک ردیف کا دم چھلا اور لگا لیا گیا ہے۔ اگرچہ ردیف ایسی ضروری نہیں سمجھی جاتی جیسا قافیہ سمجھا جاتا ہے، لیکن غزل میں اور خاص کر اردو غزل میں تو اس کو وہی رتبہ دیا گیا ہے جو قافیہ کو؛ اگر تمام اردو دیوانوں میں غیر مردف غزلیں تلاش کی جائیں تو ایسی غزلیں شاید گنتی کی نکلیں۔ پس جب کہ ردیف اور قافیہ کی گھاٹی خود دشوار گذار ہے تو اس کو اور زیادہ کٹھن اور ناقابل گذر بنانا انھیں لوگوں کا کام ہو سکتا ہے جو معنی سے کچھ سروکار نہیں رکھتے، اور شاعری کا مآل محض قافیہ پیمائی سمجھتے ہیں اور بس۔
جہاں تک سنگلاخ زمینوں کا استقرا کیا جاتا ہے ان میں یا تو ردیف اور قافیہ ایسا اختیار کیا جاتا ہے جنھیں باہم کچھ مناسبت نہ ہو، مثلاً تقریر پشت آئینہ، تخمیر پشت آئینہ، تدبیر پشت آئینہ؛ اور جبل کی مکھی، محل کی مکھی، دول کی مکھی؛ اور عسس کی تیلیاں، نگس کی تیلیاں، نفس کی تیلیاں۔ یا ردیف ایسی لمبی اختیار کرتے ہیں جو ایک آدھ سے زیادہ شعروں میں معقول طور پر نہیں آ سکتی، جیسے فلک پہ بجلی زمیں پہ باراں، سر طرہ ہار گلے میں، گاہ خدنگ گاہ کماں۔ غرض کہ قصداً ایسی طرح تجویز کرتے ہیں جس میں عمدہ مضمون بندھنا تو یقیناً ناممکن ہو، اور بامعنی شعر نکالنا بھی نہایت مشاق و ماہر استادوں کے سوا عام شعرا کے لیے قریب ناممکن کے ہو۔ ایسی زمینوں میں بڑا کمال شاعر کا یہ سمجھا جاتا ہے کہ قافیہ اور ردیف میں جو منافرت ہو وہ بظاہر جاتی رہے، گویا تیل اور پانی کو ملایا جاتا ہے۔ ایسی غزلوں میں اور امیر خسرو کی انمل میں کچھ تھوڑا ہی سا فرق معلوم ہوتا ہے۔ امیر خسرو نے کھیر، چرخہ، ڈھول اور کتا ان چار چیزوں کا اس طرح پیوند ملایا ہے:
کھیر پکائی جتن سے چرخہ دیا جلا / آیا کتا کھا گیا تو بیٹھی ڈھول بجا
ایک شاعر گلگیر اور پشت آئینہ کو اس طرح پیوند دیتا ہے:
آرسی پہنے ہوئے وہ گل جو لیوے شمع کا / ہم انگوٹھے کو کہیں گلگیر پشت آئینہ
ایک اور شاعر نے کل اور مکھی کو اس طرح گانٹھا ہے:
صنعت لعبت چیں دیکھ دلا جا کر تو / دیکھنی گر تجھے منظور ہو کل کی مکھی
اسی پر قیاس کر لینا چاہیے کہ کل سنگلاخ زمینوں میں اس کے سوا اور کچھ مقصود نہیں ہوتا کہ دو بے میل چیزوں میں میل ثابت کیا جائے۔ پس شاعر کو چاہیے کہ ہمیشہ ردیف ایسی اختیار کرے جو قافیہ سے میل کھاتی ہوئی ہو، اور ردیف و قافیہ دونو مل کر دو مختصر کلموں سے زیادہ نہ ہوں؛ بلکہ رفتہ رفتہ مردف غزلیں لکھنی کم کرنی چاہییں اور صرف محض قافیہ پر قناعت کرنی چاہیے۔ قافیہ ایسا اختیار کرنا چاہیے جس کے لیے قدر ضرورت سے دس گنے بلکہ بیس گنے الفاظ موجود ہوں، ورنہ مضمون کو قوافی کا تابع کرنا پڑے گا، قافیے مضمون کے تابع نہ ہوں گے۔ جتنے نامور شعرا گذرے ہیں انھوں نے یہی اصول ملحوظ رکھا ہے، اور ہمیشہ ایسی زمینیں اختیار کی ہیں جن میں ہر قسم کے مضمون کی گنجائش ہو۔
حواشی
[1] اس بات کے لفظ میں جو لطف ہے اس کو اہل زبان سمجھ سکتے ہیں۔ ۱۲
[2] جیسے تیس اور کتیس؛ تیس مفرد ہے، اور کتیس مرکب بمنزلۂ مفرد۔ ۱۲
What did this chapter leave with you?
Sign in to react
Discussion
No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.