Urdu in Translation
搜索

第 11 章,共 13 章

The Qasida and the Marsiya

قصیدہ اور مرثیہ

Altaf Husain Hali

文字
字号

قصیدہ

قصیدہ بھی اگر اس کے معنی مطلق مدح و ذم کے لیے جائیں، اور اس کی بنیاد محض تقلیدی مضامین پر نہیں بلکہ شاعر کے سچے جوش اور ولولے پر ہو، تو شعر کی ایک نہایت ضروری صنف ہے، جس کے بغیر شاعر کمال کے درجہ کو نہیں پہنچ سکتا، اور اپنے بہت سے اہم اور ضروری فرائض سے سبکدوش نہیں ہو سکتا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اوقات کسی چیز کو دیکھ کر یا کسی واقعہ کو سن کر بے اختیار ہمارے دل میں مدح و ستایش یا نفرین و ملامت کا جوش اٹھتا ہے۔ کبھی کسی کے عدل و انصاف یا عالی ہمتی، یا حب وطن یا قومی ہمدردی، یا اور کسی خوبی کو معلوم کر کے اس کی تعریف کرنے کو جی چاہتا ہے۔ کبھی کسی نیک صفات اور ستودہ خصائل آدمی کی موت پر افسوس کرنے اور اس کی خوبیاں یاد کرنے کا ولولہ دل میں پیدا ہوتا ہے۔ کبھی ہم کو اپنے گذشتہ دوستوں کی صحبتیں یاد آتی ہیں اور ان کی بے ریا دوستی اور خالص محبت کا نقشہ آنکھوں کے سامنے پھر جاتا ہے جو ان کا ذکر خیر کرنے پر مجبور کرتا ہے۔ کبھی کسی خوش فضا مقام پر ہمارا گذر ہوتا ہے، اور جو لطف وہاں حاصل ہوتا ہے اس کے بیان کرنے کا جوش ہمارے دل میں اٹھتا ہے۔ اسی طرح جب کوئی واقعہ ہمارے دل کو ناگوار معلوم ہوتا ہے، یا کسی سے کوئی حرکت یا کام قابل نفرین ظہور میں آتا ہے، تو اس کی برائی ظاہر کرنے کا ارادہ ہمارے نفس میں متحرک ہوتا ہے۔ ایسے موقعوں پر شاعر کا فرض ہے کہ جو ملکہ اس کی طبیعت میں خدا نے ودیعت کیا ہے اس کو معطل اور بیکار نہ چھوڑے، اور اس سے جیسا کہ اس کی فطرت کا مقتضیٰ ہے کچھ کام لے۔ جس طرح ایک محقق حکیم کا یہ فرض ہے کہ موجودات عالم کے جس قدر خواص اور احوال اس پر منکشف ہوں ان سے دنیا کو آگاہ کرے، یا ایک طبیب کا فرض ہے کہ عقاقیر کے مضار و منافع سے بنی نوع کو تابمقدور بے خبر نہ رہنے دے، یا ایک سیاح کا فرض ہے کہ انکشافات جدیدہ سے اہل وطن کو مطلع کرے، اسی طرح شاعر کا فرض یہ ہونا چاہیے کہ اچھوں کی خوبیوں کو چمکائے، ان کے ہنر اور فضائل عالم میں روشن کرے، اور ان کے اخلاق کی خوشبو سے موجودہ اور آئندہ دونو نسلوں کے دماغ معطر کرنے کا سامان مہیا کر جائے، اور نیز برائیوں اور عیبوں پر جہاں تک ممکن ہو گرفت کرے، تاکہ حال اور استقبال دونو زمانوں کے لوگ برائی کی سزا اور اس کے نتائج سے ہوشیار اور چوکنے رہیں۔ یہ وتیرہ بالکل سنت الٰہی کے مطابق ہو گا، کیونکہ کلام الٰہی میں بھی ہمیشہ بروں کو برائی کے ساتھ اور بھلوں کو بھلائی کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے۔ متوکل باللہ نے ایک شاعر سے پوچھا کہ تم کس حد تک لوگوں کی ہجو کے درپے رہتے ہو اور کب تک ان کی مدح و ستایش کرتے ہو؟ اس نے کہا: "مَا اَسَاؤُوْا وَاَحْسَنُوْا"، یعنی جب تک کہ ان سے بدی اور نیکی سرزد ہوتی ہے۔ پھر کہا: "نَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ نَّکُوْنَ کَالْعَقْرَبِ الَّتِیْ تَلْسَعُ النَّبِیَّ وَالذِّمِّیَّ"، یعنی خدا نہ کرے کہ ہمارا حال بچھو کا سا ہو جو کہ نبی اور ذمی دونو کے ڈنک مارتا ہے۔

جب کسی ایسے شخص کی جو مدح کا مستحق ہوتا ہے تعریف کی جاتی ہے تو اس کو مدح کا زیادہ استحقاق حاصل کرنے یا کم سے کم اپنا پہلا استحقاق قائم رکھنے کا، اور دوسروں کو اس کی ریس کرنے کا خیال پیدا ہوتا ہے۔ اسی طرح جو لوگ نفرین کے مستحق ہیں جب ان کے عیب کنایۃً بیان کیے جائیں گے تو امید ہے کہ وہ اس اندیشہ سے کہ مبادا آئندہ زیادہ رسوائی ہو اپنی اصلاح کی طرف متوجہ یا کم سے کم اپنی برائی سے نادم یا متنبہ ہوں گے، اور دوسرے ان عیبوں کو مذموم و قابل نفرین سمجھیں گے۔ اسی لیے مدح ایسے اسلوب سے کرنی چاہیے کہ وہ منجر بہ خوشامد نہ ہو جائے، اور مذمت ایسے عنوان سے ہونی چاہیے کہ دلسوزی کا پہلو طعن و تشنیع کی نسبت غالب تر ہو۔

مرثیہ پر بھی اس لحاظ سے کہ اس میں زیادہ تر شخص متوفیٰ کے محامد و فضائل بیان ہوتے ہیں مدح کا اطلاق ہو سکتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ زندوں کی تعریف کو قصیدہ بولتے ہیں اور مردوں کی تعریف کو، جس میں تاسف اور افسوس بھی شامل ہوتا ہے، مرثیہ کہتے ہیں۔ عرب کی قدیم شاعری میں قصائد اور مرثیے ایسے سچے اور صحیح حالات و واقعات پر مشتمل ہوتے تھے کہ ان سے متوفیٰ کی مختصر لائف استنباط ہو سکتی تھی۔ مثلاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جد بزرگوار عبد المطلب کے مرثیے جتنے لکھے گئے ہیں سب میں تھوڑے تھوڑے تفاوت سے ان کی عشیرہ پروری، قومی ہمدردی، اور قوم کی مشکلات اور مصائب میں سینہ سپر ہونے کی تعریف کی گئی ہے۔ ہر مرثیہ میں ان کی خوبصورتی کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اپنی قوم میں ممتاز، سربرآوردہ، فیاض، قحط سالیوں میں اہل وطن کے ساتھ سلوک کرنے والے، عالی خاندان، عہد و پیمان کے سخت پابند، اولو العزم، نرم خو، صاحب رعب و داب، صلۂ رحم کرنے والے، باحیا، مہالک و مخاطر میں بے دھڑک گھسنے والے، اور آبرو کی حفاظت کرنے والے تھے۔ بعض مرثیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ قصی ابن کلاب کے زمانہ سے خانۂ کعبہ کی تولیت اور سقایۂ حجاج اور عمارت مسجد حرام عبد المطلب کے خاندان میں چلی آتی تھی، اور دیگر بنی کنانہ جو قصی کی نسل سے نہ تھے اس بات پر بنی قصی سے جلتے تھے۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ بنی قصی نے مکہ اور حوالی مکہ میں اہل وطن اور حاجیوں کے آرام کے لیے کوئیں کھدوائے تھے، ورنہ پہلے چقر اور گڑھے گڑھولوں میں جو بارش کا پانی جمع ہو جاتا تھا فقط اسی پر مدار زندگی تھا۔ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابو لہب بن عبد المطلب کی ماں کا نام لبنیٰ تھا، اور وہ بنی خزاعہ میں سے تھی، اور سعد جو کہ بیس برس قوم کی حمایت میں لشکر کا سردار رہا تھا، اور ابو شمر اور عمرو بن مالک اور ذو جدن اور ابو الجبر، یہ لبنیٰ کے رشتہ دار تھے۔ حذیفہ ابن غانم نے، جو لؤی بن غالب ہی کی نسل سے تھا، عبد المطلب کے مرثیہ میں اس احسان کا بھی ذکر کیا ہے کہ جب وہ خود چار ہزار درم قرضہ کی بابت مکہ میں پکڑا گیا تو ابو لہب بن عبد المطلب نے اس کو جا کر قرضخواہوں کے پنجے سے چھڑایا تھا۔ اسی طرح عرب کے اکثر قصائد اور مراثی حقائق و وقعات پر مشتمل پائے جاتے ہیں۔

ہمارے قصائد کی حالت تو ناگفتہ بہ ہے، البتہ ہمارے شعرا نے مرثیہ میں ایک خاص قسم کی نمایاں ترقی ظاہر کی ہے۔ مرثیہ کا اطلاق ہمارے ہاں زیادہ تر شہدائے کربلا اور خاص کر جناب سید الشہدا کے مرثیہ پر ہوتا ہے۔ یہاں مرثیہ کی ابتدا اول اسی اصول پر ہوئی تھی جو کہ قدرت نے تمام انسانوں کو یکساں طور پر تعلیم کیا ہے، یعنی میت کو یاد کر کے حزن و غم کا اظہار کرنا اور اپنے بیان سے دوسروں کو محزون و مغموم کرنا؛ چنانچہ جو مرثیے اول اول لکھے گئے وہ کم و بیش بیس تیس بند یا بیس تیس بیت سے زیادہ نہ ہوتے تھے، اور انھیں مرثیت یا بین کے سوا اور کوئی مضمون نہ ہوتا تھا۔ مگر چونکہ مرثیہ ایک خاص مضمون کے دائرہ میں محدود تھا اور اس کی قدر روز بروز زیادہ ہوتی جاتی تھی، لہٰذا متاخرین کو اس کے سوا کچھ چارہ نہ تھا کہ مرثیہ میں کچھ جدت پیدا کریں اور اس کے مضامین میں کچھ اضافہ کریں۔ رفتہ رفتہ مرثیہ کی لے بہت بڑھ گئی، یہاں تک کہ خواجہ حیدر علی آتش نے مرزا دبیر کا ایک مرثیہ مجلس میں سن کر تعجب سے یہ کہا کہ یہ مرثیہ تھا یا لندھور بن سعدان کی داستان تھی؟ اگرچہ یہ ترقی براہ راست مرثیہ کی ترقی نہ تھی بلکہ اردو شاعری میں ایک قسم کا ایجاد تھا، کہ جس نظم کی بنیاد محض بین اور مرثیت پر ہونی چاہیے تھی اس میں بین اور مرثیت کے علاوہ مدح اور فخر و مباہات، رزم اور بزم بھی نہایت شد و مد کے ساتھ شامل ہو گئی؛ مگر حق یہ ہے کہ اس نئی طرز کی نظم سے اردو شاعری میں بہت وسعت پیدا ہو گئی۔ اس طرز میں سب سے پہلے، جہاں تک ہم کو معلوم ہے، میر ضمیر نے مرثیے لکھے ہیں، گویا وہی اس طرز کے موجد ہیں؛ مگر میر انیس نے، کہ باوجود خداداد مناسبت کے چار پشت سے شاعری اور مرثیہ گوئی ان کے خاندان میں چلی آتی تھی، اسی پر اردو زبان کے مالک تھے اور لکھنؤ بنا ہوا تھا، اس طرز کو معراج کمال تک پہنچا دیا، اور اردو شاعری میں، جو کہ مار راکد کی طرح مدت سے بے حس و حرکت پڑی تھی، تموج بلکہ تلاطم پیدا کر دیا۔ اگرچہ سوسائٹی کے دباؤ اور کم عیار حریفوں کے مقابلہ نے میر انیس کو ہر جگہ جادۂ استقامت پر قائم رہنے نہیں دیا، بلکہ اس دھرپتے کی طرح جسے مجلس کے بے مغزوں کو رجھانے کے لیے کبھی کبھی بارہ ماسا اور چوبولے بھی الاپنے پڑتے ہیں، کہیں کہیں مبالغہ و اغراق کی آندھیوں کے طوفان اٹھانے پڑے؛ مگر اس قسم کی بے اعتدالیاں ان فوائد کے مقابلہ میں جو ان کی شاعری سے اردو زبان کو پہنچے نہایت بے حقیقت اور کم وزن ہیں۔ انھوں نے بیان کرنے کے نئے نئے اسلوب اردو شاعری میں کثرت سے پیدا کر دیے؛ ایک ایک واقعہ کو سو سو طرح سے بیان کر کے قوت متخیلہ کی جولانیوں کے لیے ایک نیا میدان صاف کر دیا؛ اور زبان کا ایک معتدبہ حصہ، جس کو ہمارے شاعروں کی قلم نے مس تک نہیں کیا تھا اور جو محض اہل زبان کی بول چال میں محدود تھا، اس کو شعرا سے روشناس کرا دیا۔ انھوں نے اپنے کلام میں جا بجا اس بات کا اشارہ کیا ہے، اور بالکل بجا کیا ہے، کہ ان کے ہمعصر مرثیہ گو ان کی زبان اور طرز بیان کے خوشہ چیں تھے۔ ایک جگہ کہتے ہیں:

نہریں رواں ہیں فیض شہ مشرقین کی / پیاسو پیو سبیل ہے نذر حسین کی

ایک اور جگہ کہتے ہیں:

لگا رہا ہوں مضامین نو کے پھر انبار / خبر کرو مرے خرمن کے خوشہ چینوں کو

آج کل یورپ میں شاعر کے کمال کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جاتا ہے کہ اس نے اور شعرا سے کس قدر زیادہ الفاظ خوش سلیقگی اور شایستگی سے استعمال کیے ہیں۔ اگر ہم بھی اسی کو معیار کمال قرار دیں تو بھی میر انیس کو اردو شعرا میں سب سے برتر ماننا پڑے گا۔ اگرچہ نظیر اکبر آبادی نے شاید میر انیس سے بھی زیادہ الفاظ استعمال کیے ہیں، مگر اس کی زبان کو اہل زبان کم مانتے ہیں؛ بخلاف میر انیس کے، کہ ان کے ہر لفظ اور ہر محاورہ کے آگے سب کو سر جھکانا پڑتا ہے۔ میر انیس کا کلام جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا بلاشبہ مبالغہ اور اغراق سے خالی نہیں، مگر اس کے ساتھ ہی جہاں کہیں وہ واقعات کا نقشہ اتارتے ہیں یا نیچرل کیفیات کی تصویر کھینچتے ہیں یا بیان میں تاثیر کا رنگ بھرتے ہیں، وہاں اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ مقتضائے وقت کے موافق جہاں تک کہ امکان تھا میر انیس نے اردو شاعری کو اعلیٰ درجہ پر پہنچا دیا تھا۔

شعرا کے جرگے میں یہ مقولہ مشہور ہے کہ "بگڑا شاعر مرثیہ گو، اور بگڑا گویا مرثیہ خواں"؛ مگر میر انیس نے اس قول کو بالکل باطل کر دیا۔ ان کو جس نظر سے ہم دیکھتے ہیں اس نظر سے بہت کم دیکھا گیا ہے۔ اکثر ذاکر امام حسین علیہ السلام سمجھ کر ان کا ادب کیا جاتا ہے۔ بہت سے لوگ ایسے بھی ہیں جو ان کو صدق دل سے، یا محض اپنے فریق کی پاسداری اور دوسرے فریق کی ضد سے، صرف مرثیہ گویوں میں سب سے فائق اور افضل سمجھتے ہیں؛ لیکن ایسے بہت کم ہیں جو مطلق شاعری میں ان کو فی الواقع بے مثل سمجھتے ہوں۔

اس خاص طرز کے مرثیہ کو اگر اخلاق کے لحاظ سے دیکھا جائے تو بھی ہمارے نزدیک اردو شاعری میں اخلاقی نظم کہلانے کا مستحق صرف انھیں لوگوں کا کلام ٹھیر سکتا ہے؛ بلکہ جس اعلیٰ درجہ کے اخلاق ان لوگوں نے مرثیہ میں بیان کیے ہیں ان کی نظیر فارسی بلکہ عربی شاعری میں بھی بمشکل سے ملے گی۔

فضائل اخلاق کا نمونہ اس سے اعلیٰ اور اشرف اور کیا ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے نبی کا نواسہ، جس کے آگے ہر مسلمان کا سر جھکنا چاہیے تھا، اور جس کو ان سے بے انتہا امیدیں ہونی چاہییں تھیں، وہ چند عزیزوں اور دوستوں کے سوا ہر مسلمان کو اپنے خون کا پیاسا دیکھتا ہے۔ ریگستان عرب کی لو اور گرمی ہے؛ عورتیں، صغیر سن بچے اور سارا کنبا ہمراہ ہے؛ مدینے سے کوفہ تک مہینوں کی راہ طے کرنی ہے؛ جو اعوان و انصار بن کر ساتھ چلے تھے انھیں سے چند کے سوا سب ساتھ چھوڑ چھوڑ کر چل دیے ہیں؛ جن لوگوں نے متواتر خط اور پیغام بھیج کر اور خدا اور رسول کو درمیان دے کر نصرت و یاری کے وعدوں پر بلایا تھا وہ ان کو آ کر یکقلم منحرف و برگشتہ پاتا ہے، اور تمام امیدیں مبدل بہ یاس ہو گئی ہیں؛ باایں ہمہ وہ راضی برضا ہے، ہر حال میں خدا کا شکر ادا کرتا ہے، اور اپنے ارادہ پر ثابت قدم ہے۔ جس شخص کے تسلط کو وہ ملک اور قوم اور دین کے حق میں ایک مرض مہلک سمجھ کر اس کی بیعت سے انکار کر چکا ہے، باوجود ان تمام شدائد کے اپنے انکار پر اسی طرح قائم ہے۔

دشمنوں نے کھانا اور پانی سب بند کر رکھا ہے، اور دریائے فرات آنکھوں کے سامنے بہ رہا ہے؛ دشمنوں کے گھوڑے گدھے اور اونٹ تک اس سے سیراب ہوتے ہیں، مگر اس کا سارا کنبا تین روز سے پیاسا ہے؛ اس کے ننھے ننھے بچے پانی کی ایک ایک بوند کو ترستے ہیں؛ اور یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ وہ ایک نالائق آدمی کے ہاتھ پر بیعت نہیں کرتا۔ باایں ہمہ وہ اپنے ارادہ پر اسی طرح ثابت قدم ہے؛ کسی سختی اور کسی مصیبت سے اس کے استقلال میں فرق نہیں آتا۔

اس کے یار و مددگار کل ستر اور دو بہتر آدمی ہیں، اور ایک ٹڈی دل سے مقابلہ ہے۔ لڑنے میں اپنا اور سب عزیزوں اور دوستوں کا خاتمہ نظر آتا ہے؛ خیمہ اور اسباب کا لٹنا، باقیماندوں کا اسیر ہونا، عورتوں کی بے ردائی اور بادیہ پیمائی، یہ سب آفتیں گویا آنکھ سے دکھائی دیتی ہیں؛ مگر وہ ان سب کو گوارا کرتا ہے اور بہتر سمجھتا ہے بہ نسبت اس کے کہ ایک نالائق آدمی کے ہاتھ پر بیعت کرے اور اس کی حکومت کو تسلیم کرے۔

وہ اپنے بھائی، بیٹے، بھتیجے اور بھانجوں کو نہایت اطمینان کے ساتھ مسلح اور آراستہ کر کے ایک ایک کو ہزاروں کے ساتھ لڑنے کے لیے بھیج رہا ہے؛ ان کے بازو تلواروں سے کٹتے، ان کے کلیجے برچھیوں سے چھدتے اور ان کی چھاتیاں تیروں سے چھنتے دیکھتا ہے؛ ایک ایک کی لاش کاندھے پر رکھ کر لاتا ہے اور اپنے ہاتھ سے زمین میں دفن کرتا ہے۔ خیمہ میں عورتوں بچوں کے کہرام سے ہر وقت ایک قیامت برپا ہے؛ بی بی، بیٹی اور بہنوں کی دلخراش صدائیں دل میں ناسور ڈال رہی ہیں؛ چھ مہینے کا شیرخوار بچہ ایک بے رحم کا تیر کھا کر گود میں مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہا ہے، اس کے حلق سے خون کا فوارہ جاری ہے۔ سب چھوٹے بڑے کام آ چکے ہیں، اور بچہ بھی کوئی دم کا مہمان ہے؛ اب سب کے بعد اپنی باری نظر آتی ہے، اور پھر اہل بیت کے جہاز کا خدا کے سوا کوئی ناخدا نظر نہیں آتا۔ ان سب بلاؤں کا سامنا ہے، اور مصائب و آفات کی گھنگھور گھٹا چاروں طرف چھائی ہوئی ہے؛ مگر ان میں سے کوئی چیز اس کے عزم و استقلال میں تزلزل پیدا نہیں کر سکتی۔ وہ کوہ راسخ کی طرح اپنے ارادہ پر ثابت قدم ہے اور اپنے قول سے نہیں ہٹتا۔

وہ بے رحم قوم جو نانا کا کلمہ پڑھتی ہے اور نواسے کے خون کی پیاسی ہے، جو چند نفوس کے مقابلہ کے لیے ایک ٹڈی دل کو ساتھ لے کر آئے ہیں اور اپنی تمام طاقت اس بات میں صرف کر رہے ہیں کہ جو ایذائیں اور تکلیفیں آدم سے تا ایندم کسی ذی روح نے کسی ذی روح کو نہیں دیں وہ سب اپنے نبی کے دلبندوں اور جگر کے ٹکڑوں پر ختم کی جائیں؛ جو حرص و طمع کے نشے میں دین، ایمان، رحم، انصاف، آدمیت، ہمدردی اور تمام فضائل انسانی سے دست بردار ہو کر خدا کا گھر ڈھانے یعنی خاندان نبوت کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینے پر تیار اور کمربستہ ہیں؛ وہ ان کو بددعا نہیں دیتا، نہ ان کی شکایت کرتا ہے، نہ ان پر غصے ہوتا ہے، بلکہ نہایت ٹھنڈے دل کے ساتھ اپنے حقوق، جن کے ماننے کا وہ دعوے کرتے ہیں، ان کو جتاتا ہے، اور ان کے فرائض جو خاندان نبوت کے ساتھ ان کو بجا لانے چاہییں انھیں یاد دلاتا ہے۔

چھوٹے سے بڑے تک ہر شخص کے دل میں یہ امنگ ہے کہ سب سے پہلے میں اپنی جان خاندان پر نثار کروں۔ باپ کی یہ خواہش ہے کہ تلواروں کی آنچ میں بھائی بھتیجے اور بھانجوں سے پہلے اپنے جگر بند کو جھونک دوں۔ بھائی، بھائی اور بھتیجوں سے پہلے مرنے کو تیار اور میدان جنگ کا خواستگار ہے۔ بھانجوں کی یہ تمنا ہے کہ ماموں اور ماموں کی اولاد پر سب سے پہلے ہم قربان ہوں۔ بھتیجے کی یہ آرزو ہے کہ چچا کا فدیہ سب سے پہلے میں بنوں۔ بہن کو یہ ارمان ہے کہ اپنے بچوں کو بھائی اور بھتیجوں پر قربان کر دے۔ بھائی اس فکر میں گھلا جاتا ہے کہ اگر بھانجے میری رفاقت میں مارے گئے تو بہن کو کیا منہ دکھاؤں گا۔ چچا کو خود بھی تین دن کی پیاس سے بیقرار ہے، مگر اپنی پیاس کی کچھ پروا نہیں کرتا، لیکن پیاسی بھتیجی کی بے قراری کسی طرح نہیں دیکھ سکتا۔ وہ مشکیزہ گلے میں ڈال اور جان ہتھیلی پر رکھ دشمنوں کی صفیں چیرتا ہوا دریا میں گھوڑا جا ڈالتا ہے۔ دریا کا سرد اور شیریں پانی لہریں مار رہا ہے، اور پیاس کے مارے آنکھوں میں دم ہے؛ دل قابو سے باہر ہوا جاتا ہے، دو چلو پانی میں پیاس بجھتی ہے؛ مگر غیرت اور حمیت اجازت نہیں دیتی کہ ننھے ننھے بچوں کی پیاس بجھنے سے پہلے اپنی پیاس بجھا لے۔ وہ مشکیزہ بھر کر اسی طرح پیاسا دریا سے پھرتا ہے تاکہ جلدی جا کر بچوں کے خشک حلق میں پانی چوائے۔ لیکن دشمنوں نے گھیر کر دونو بازو کاٹ ڈالے ہیں، اس پر بھی اس کو اپنے بازوؤں کا کچھ خیال نہیں؛ اگر ہے تو مشکیزہ کی فکر ہے کہ مبادا پانی ضائع ہو جائے اور بچے پیاسے رہ جائیں۔ وہ سب حربے اپنے اوپر لیتا ہے مگر مشک پر آنچ نہیں آنے دیتا، جب تک کہ زخموں سے چور ہو کر گھوڑے سے نہیں گرتا۔

بی بیاں خاوندوں کو اور مائیں بیٹوں کو زخمی اور قتل ہوتے دیکھتی ہیں، مگر کوئی زبان سے اف نہیں کرتی اور منہ سے سانس تک نہیں نکالتی، صرف اس خیال سے کہ جس مربی اور سرپرست کی رفاقت میں وہ کام آئے ہیں اس کے دل پر میل نہ آئے، اور وہ اپنے دل میں ہم سے محجوب نہ ہو۔ سب اس کی اور اس کی اولاد کی خیر مناتی ہیں، اپنے بچھڑے ہوؤں کو کوئی یاد نہیں کرتی۔

دو صغیر سن بھائی ہیں جو صرف اس قصور پر کہ نبی کے نواسے کے رشتہ دار ہیں حاکم کے حکم سے واجب القتل ٹھیرے ہیں۔ جلاد دونو کے سر پر تلوار تولے کھڑا ہے۔ بڑا بھائی منتیں کرتا ہے کہ پہلے میرا سر اتار، اور چھوٹا بھائی کہتا ہے کہ پہلے مجھ پر وار کر۔

ایک خدا کا بندہ جو دشمنوں کی فوج کے ساتھ نبی کے نواسے سے لڑنے کو آیا ہے، باوجودیکہ دشمنوں کا ساتھ دینے میں اس کو ہر طرح دولت و جاہ و منصب کی توقع ہے، اور ان کا ساتھ چھوڑنے میں جان و مال اور خاندان کی تباہی کا یقین واثق ہے؛ جس قوم میں وہ گھرا ہوا ہے وہاں کوئی ترغیب یا تقریب ایسی نہیں جو اس کا دل ظلم و بے دردی و بے دینی اور حب جاہ و ثروت سے ہٹا کر رحم و ہمدردی و دینداری کی طرف مائل کر سکے؛ اس کو ہر طرف سے یہی آواز آتی ہے کہ جلد اس قلیل جمعیت پر فتح حاصل کیجیے، مردوں کے سر اتاریے، عورتوں اور بچوں کو اسیر کر کے لے چلیے، اور حاکم سے چل کر اپنی خدمات کا صلہ لیجیے؛ دوسری طرف کوئی ظاہری سامان ایسا نظر نہیں آتا جس کے لالچ میں وہ ان تمام فائدوں سے قطع نظر کر کے اپنی فوج کا ساتھ چھوڑ دے، بلکہ بخلاف اس کے طرح طرح کی بلاؤں اور آفتوں کا سامنا نظر آتا ہے؛ باایں ہمہ وہ تمام دنیوی منفعتوں اور امیدوں پر خاک ڈال کر ان ظالموں سے کنارہ کرتا ہے، حق کی نصرت میں اپنی جان دینے کو فوز عظیم جانتا ہے، اور سب سے پہلے خاندان نبوت پر اپنی جان فدا کرتا ہے۔

چند وفادار رفیق اور دوست جو فرزند نبی کے ہمراہ ہیں، اور جو ایک ٹڈی دل کے مقابلہ میں اس قدر قلیل ہیں کہ انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں، وہ ایک عالم کو اپنے سردار سے برگشتہ اور منحرف پاتے ہیں؛ خود اس کے ساتھیوں اور رفیقوں کو اثنائے راہ میں اس کا ساتھ چھوڑ چھوڑ کر اور آنکھیں چرا چرا کر جاتے دیکھ چکے ہیں؛ اپنے لیے اس کا ساتھ دینے میں کوئی نفع عاجل اور دنیا کی کوئی بھلائی نہیں سوجھتی بلکہ ہر وقت موت کا سامنا ہے؛ اس کی رفاقت کی بدولت بھوک اور پیاس میں تین دن سے جان لبوں پر آ رہی ہے؛ نہ کوئی رشتہ ہے، نہ قرابت ہے، جو اس کی رفاقت چھوڑنے سے مانع ہو؛ مگر وفاداری کا طوق ان کی گردن میں اور دوستی و اخلاص کی زنجیر ان کے پاؤں میں پڑی ہے؛ کوئی خوف اور کوئی طمع ان کے اس تعلق کو قطع نہیں کر سکتی۔ ہر وقت یہ آرزو ہے کہ کب اذن جنگ ملے اور کب خاندان نبوت پر اپنی جانیں قربان کریں، اور کب اس فرض سے سبکدوش ہوں۔

یہ چند باتیں مرثیوں کے عام بیانات سے، جو کبھی کبھی کے سنے سنائے ہمارے ذہن میں محفوظ تھے، محض سرسری طور پر استنباط کر لی گئی ہیں؛ اگر زیادہ تفحص کیا جائے تو ایسی اور بہت سی باتیں اخذ کی جا سکتی ہیں۔ ہمارے نزدیک نہ صرف اردو بلکہ فارسی و عربی شاعری میں بھی ایسی نظمیں مشکل سے ملیں گی جن میں ایسے اعلیٰ درجہ کے اخلاق بیان کیے گئے ہوں۔ مگر افسوس ہے کہ جو اثر ایسی اخلاقی نظموں سے انسان کے دل پر ہونا چاہیے وہ نہ ان مرثیوں کے سامعین کے دل پر ہوتا ہے اور نہ ہو سکتا ہے۔ اول تو یہ خیال کہ مرثیہ کا اصل مقصد صرف رونا اور رلانا ہے، سامعین کو دوسری طرف متوجہ ہی نہیں ہونے دیتا؛ دوسرے یہ اعتقاد کہ (جو کچھ صبر و استقلال و شجاعت و ہمدردی و وفاداری و غیرت و حمیت و عزم بالجزم اور دیگر اخلاق فاضلہ خود امام ہمام اور ان کے عزیزوں اور دوستوں سے معرکۂ کربلا میں ظاہر ہوئے وہ مافوق طاقت بشری اور خوارق عادات سے تھے) کبھی ان کی پیروی اور اقتدا کرنے کا تصور بھی دل میں آنے نہیں دیتا۔

بہرحال ہم میر انیس کے مرثیہ کی اور نئی طرز کی مرثیہ گوئی کی دل سے داد دیتے ہیں، لیکن نئی دھن کے شاعروں کو ہرگز یہ صلاح نہیں دیتے کہ مرثیہ گوئی میں ان کا یا اور مرثیہ گویوں کا اتباع کریں۔ اول تو یہ امید نہیں کہ اس خاص طرز میں اب کوئی شخص ان کا سا کمال حاصل کر سکے۔ دوسرے، مرثیہ میں رزم و بزم اور فخر و خودستائی اور سراپا وغیرہ کو داخل کرنا، لمبی لمبی تمہیدیں اور توطیے باندھنے، گھوڑے اور تلوار وغیرہ کی تعریف میں نازک خیالیاں اور بلند پروازیاں کرنی، اور شاعرانہ ہنر دکھانے، مرثیہ کے موضوع کے بالکل خلاف ہیں؛ اور بعینہ ایسی بات ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ یا بھائی کے مرنے پر اظہار حزن و ملال کے لیے سوچ سوچ کر رنگین اور مسجع فقرے انشا کرے، اور بجائے حزن و ملال کے اپنی فصاحت و بلاغت کا اظہار کرے۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ مرثیہ کی ترتیب میں مطلق فکر و غور کرنا اور صنعت شاعری سے بالکل کام لینا نہیں چاہیے؛ بلکہ یہ کہتے ہیں کہ جہاں تک ممکن ہو شاعری کا سارا کمال زبان کی صفائی، مضمون کی سادگی و بے تکلفی، کلام کے موثر بنانے اور آورد کو آمد کر دکھانے میں صرف کرنا چاہیے، تاکہ وہ اشعار جو بے انتہا فکر و غور اور کاٹ چھانٹ کے بعد مرتب ہوئے ہیں ایسے معلوم ہوں کہ گویا بیساختہ شاعر کی قلم سے ٹپک پڑے ہیں۔ تیسرے، مرثیہ کو صرف واقعۂ کربلا کے ساتھ مخصوص کرنا اور تمام عمر اسی ایک مضمون کو دہراتے رہنا، اگر محض بہ نیت حصول ثواب ہو تو کچھ مضائقہ نہیں، لیکن شاعری کے فرائض اس سے زیادہ وسیع ہونے چاہییں۔ مرثیہ کے معنی ہیں کسی کی موت پر جی کڑھانا اور اس کے محامد و محاسن بیان کر کے اس کا نام دنیا میں زندہ کرنا۔ پس شاعر جو کہ قوم کی زبان ہوتا ہے اس کا یہ فرض ہونا چاہیے کہ جب کسی کی موت سے اس کو یا اس کی قوم یا خاندان کے دل کو فی الواقع صدمہ پہنچے، اس کیفیت یا حالت کو جہاں تک ممکن ہو درد اور سوز کے ساتھ شعر کے لباس میں جلوہ گر کرے؛ کیونکہ خالص محبت جو ایک کو دوسرے کے ساتھ ہوتی ہے، اور بے ریا تعظیم جو ایک دوسرے کی نسبت کرتا ہے، اس کے اظہار کا اس سے بہتر کوئی موقع نہیں کہ ممدوح خواب عدم میں بے خبر سوتا ہو، اور اس سے کسی نفع کی امید یا ضرر کا خوف باقی نہ رہا ہو۔ اب اگر شاعر کا دل فی الحقیقۃ علائق دنیوی سے ایسا پاک ہے کہ مقربان درگاہ الٰہی کے سوا کسی کی موت سے متاثر اور متغیر نہیں ہوتا، اس کو آحاد ناس کے مرثیے لکھنے کی تکلیف دینی بلاشبہ تکلیف مالایطاق ہو گی؛ لیکن اگر اس کے پہلو میں ایسا پاک دل نہیں ہے بلکہ وہ عام انسانوں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہے اور دنیاداروں کی موت پر بھی اس کا دل پسیجتا ہے، تو اس کو اپنی فطرت کا مقتضیٰ ضرور پورا کرنا چاہیے۔

یہ سچ ہے کہ جناب سید الشہدا اور ان کے عزیزوں اور ساتھیوں کے آلام و مصائب کا بیان، بشرطیکہ اس میں بناوٹ اور تصنع اور صنعت شاعری کا اظہار نہ ہو، ایک مسلمان کے ایمان کو تازہ کرتا ہے، اور اس سے خاندان نبوت کے ساتھ رشتۂ محبت و اخلاص، جو کہ اسلام کی جڑ ہے، مضبوط ہوتا ہے، اور ان کے بے نظیر صبر و استقلال کی پیروی کرنے کا سبق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن جس طرح ان تمام باتوں کی ضرورت ہے اسی طرح قوم میں قومیت کی روح پھونکنے کی بھی ضرورت ہے، اور وہ اسی طرح پھونکی جاتی ہے کہ قوم کے افراد مثل ایک خاندان کے ممبروں کے ایک دوسرے کے ساتھ ہمدردی کریں، ان کی مساعی جمیلہ کی قدر کریں، ان کے نیک کاموں میں معین و مددگار ہوں، زندگی میں ان کی نیکیوں کو چمکائیں، ان کے کمالات کو شہرت دیں، اور مرنے کے بعد ان کی ایسی یادگاریں قائم کریں جو صفحۂ ہستی سے کبھی مٹنے والی نہ ہوں۔ مدحیہ قصیدے جو ممدوح کی زندگی میں لکھے جاتے ہیں انھیں اس کی خوبیوں کا ایسا ثبوت نہیں ہوتا جیسا اس کے مرنے کے بعد بے لاگ مرثیوں اور نوحوں میں ہوتا ہے۔ اسی واسطے ہمارے قدیم شعرا، جن کا خمیر عرب کی خاک پاک سے تھا، جب کوئی برگزیدہ آدمی قوم میں سے اٹھ جاتا تھا اس کے مرثیے ویسے ہی شوق اور جوش و خروش کے ساتھ لکھتے تھے جیسے کہ اس کی زندگی میں مدحیہ قصیدے انشا کرتے تھے۔ برامکہ کے مرثیوں پر شعرا برابر قتل کیے جاتے تھے، مگر لوگ ان کے مرثیے لکھنے سے باز نہ آتے تھے۔ معن بن زائدہ کا مرثیہ لکھنے پر خلیفۂ وقت نے ایک شاعر کو کمال بے حرمتی کے ساتھ دربار سے نکلوا دیا، اس پر بھی اس کے بیشمار مرثیے لکھے گئے۔ ابو اسحاق صابی کا مرثیہ علم الہدیٰ شریف مرتضیٰ نے باوجود اختلاف مذہب کے ایسے سوز و گداز کے ساتھ لکھا ہے جیسے کوئی اپنے عزیز یگانے کی موت پر افسوس کرتا ہے، اور اس کے علم و فضل کی بے انتہا تعریف کی ہے۔ اسی طرح ہزارہا مرثیہ اہل علم، اہل کمال، بہادروں، فیاضوں، نیک دل بادشاہوں، لائق وزیروں اور دیگر ممتاز لوگوں کی وفات پر لکھا گیا ہے۔

لیکن جو شخص مرثیہ لکھنے میں کمال حاصل کرنا چاہے اس کے لیے اس نئی طرز کے مرثیہ سے بہتر کوئی رہنما اردو شاعری میں نہیں مل سکتا۔ جو باتیں ان بزرگوں کے کلام میں مرثیت کی شان کے برخلاف ہیں اگر ان سے قطع نظر کی جائے تو طالب فن کو اس سے نہایت عمدہ سبق مل سکتا ہے۔ مگر افسوس ہے کہ قصیدہ اول تو اردو میں بمقابلہ فارسی اور عربی کے اس قدر کم لکھا گیا ہے کہ گویا بالکل نہیں لکھا گیا؛ دوسرے، اس کا کوئی نمونہ اردو میں ایسا نشان نہیں دیا جا سکتا جس کے قدم بقدم چلنا چاہیے۔ اول سودا اور آخر ذوق، صرف یہ دو شخص ہیں جنھوں نے ایران کے قصیدہ گویوں کی روش پر کم و بیش قصیدے لکھے ہیں، اور جو چال قدیم سے چلی آتی تھی اس کو بہت خوبی سے نباہا ہے؛ مگر جیسے قصیدے کی اب ضرورت ہے، یا آئندہ ہونے والی ہے یا ہونی چاہیے، اس کا نمونہ ہماری زبان میں معدوم ہے۔ شاید بہت تلاش سے عربی میں کسی قدر زیادہ اور فارسی میں خال خال ایسے نمونے ملیں جن کا اتباع کیا جا سکے؛ مگر حق یہ ہے کہ ایشیاٹک پوئٹری میں ایسے نمونے تلاش کرنے جن پر آج کل کے خیالات کے موافق مدح یا ہجا کی بنیاد قائم کی جائے، بعینہ ایسی بات ہے جیسے ایک ڈسپاٹک گورنمنٹ کی رعایا میں آزادی رائے کی جستجو کرنی۔ جن ملکوں میں ابتدائے آفرینش سے بادشاہوں اور ان کے ارکان سلطنت کی برابر پرستش ہوتی رہی ہو، جہاں رعیت کی سلامتی بلکہ زندگی خوشامد اور فرمانبرداری اور رضا و تسلیم پر موقوف ہو، جہاں رعیت اور غلام دو مترادف لفظ سمجھے جاتے ہوں، اور جہاں آزادی ایک ایسا لفظ ہو جس کے مفہوم سے کوئی واقف تک نہ ہو، ایسے ملکوں میں ممکن نہیں کہ مدح و ذم کے اصول راستی و عقل و انصاف پر مبنی ہوں۔ پس اس کے سوا کچھ چارہ نہیں کہ مدح و ذم کا طریقہ یورپ کی موجودہ شاعری سے اخذ کیا جائے، اور آئندہ قصائد کی بنیاد اسی طریقہ پر رکھی جائے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。