
第 8 章,共 20 章
Mama Azmat
ماما عظمت
ایک دن، برسات کے موسم میں، بادل گھرا ہوا تھا، ننھی ننھی پھوہار پڑ رہی تھی، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی؛ محمد کامل نے کہا، ”آج تو کڑھائی کو جی چاہتا ہے، لیکن بشرطیکہ تمیز دار بہو اہتمام کرے۔“ اصغری کوٹھے پر رہا کرتی تھی، اس کو خبر نہیں کہ محمد کامل نے کڑھائی کی فرمائش کی۔ ماما عظمت گھی، شکر، بیسن وغیرہ سامان لے آئی، اور محمد کامل سے کہا، ”صاحب زادے، لیجیے، سب سودا تو میں لے آئی؛ جاؤں، بہو صاحب کو بلا لاؤں؟“ کوٹھے پر گئی تو اصغری سے کڑھائی کا کچھ تذکرہ تک نہیں کیا؛ اسی طرح الٹے پاؤں اتر آئی، اور کہا، ”بہو کہتی ہیں، میرے سر میں درد ہے۔“
ماما عظمت سے معمولی کھانا تو پک نہیں سکتا تھا، کڑھائی کیا خاک پکاتی؟ سب چیزوں کو ستیاناس ملا کر رکھ دیا۔ کس آرزو سے محمد کامل نے فرمائش کی تھی؛ بدمزہ پکوان کھا کر بہت اداس ہوا۔ کوٹھے پر گیا تو بیوی کو دیکھا کہ اپنا پائجامہ سی رہی ہیں۔ جی میں ناخوش ہوا کہ ”ہیں! سینے کو سر میں درد نہیں، اور ذرا کڑھائی کو کہا تو دردِ سر کا بہانہ کر دیا!“ یہ پہلی ناخوشی محمد کامل کو اصغری سے پیدا ہوئی؛ اور دستور ہے کہ میاں بیویوں میں بگاڑ اسی طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں میں پیدا ہوا کرتا ہے۔ ازبسکہ اکثر چھوٹی سی عمر میں بیاہ ہو جاتا ہے، خدا کے فضل سے عقلِ مصلحت اندیش نہ میاں میں ہوتی ہے نہ بیوی میں۔ اگر ذرا سی بات بھی خلافِ مزاج دیکھی تو میاں الگ اکڑے بیٹھے ہیں اور بیوی الگ منہ اوندھائے لیٹی ہیں؛ اور جب ایک جگہ کا رہنا سہنا ہوا تو مخالفت کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا بیشتر واقع ہونا کیا تعجب ہے؟ یہ مخالفت کثرت سے ہوتے ہوتے آپس کے اتحاد اور باہم کی موافقت میں بڑا فتور پیدا کرتی ہے، اور دونوں طرف سے لحاظ اور پاس اٹھ جاتا ہے، اور تمام عمر جوتیوں میں دال بٹتی رہتی ہے۔ سب سے بہتر تدبیر یہ ہے کہ میاں بیوی شروع سے اپنا معاملہ ایک دوسرے کے ساتھ صاف رکھیں، اور ادنیٰ رنجش کو بھی پیدا نہ ہونے دیں؛ ورنہ یہی چھوٹی چھوٹی رنجشیں جمع ہو کر آخر کو فسادِ عظیم اور بگاڑ ہو جائیں گی۔ اور رنجش کو پیدا نہ ہونے دینے کی یہ حکمت ہے کہ جب کوئی ذرا سی بات بھی خلافِ مزاج واقع ہو، اس کو دل میں نہ رکھا، منہ در منہ کہہ کر صاف کر لیا۔ اگر محمد کامل میں عقل ہوتی اور وہ اس حکمت کو جانتا ہوتا، تو ضرور بیوی سے بطور شکایت پوچھتا کہ ”کیوں صاحب، ذرا سا کام تم سے نہ ہو سکا، اور دردِ سر کا جھوٹا بہانہ کر دیا؟“ اسی وقت دو چار باتوں میں معاملہ طے ہو جاتا، اور ماما عظمت کی فطرت کھل پڑتی؛ لیکن محمد کامل نے منہ پر تو مہر لگائی، اور دل میں دفترِ شکایت لکھ ڈالا۔
اصغری کو محمد کامل کی کم التفاتی سے کھٹکا ہوا، اور سمجھی کہ خدا خیر کرے، لڑائی کا آغاز نظر آتا ہے۔ ساس کو دیکھا تو ان کو بھی مکدر پایا۔ حیرت میں تھی کہ الٰہی! کیا بات ہے؟
ابھی یہ بات طے نہ ہوئی تھی کہ ماما عظمت نے ایک وار اور چلایا۔ رمضان کا قرب تھا۔ محمد کامل کی ماں نے ماما عظمت سے کہا کہ ”ماما، رمضان آتا ہے، ابھی سے تیاری کر چلو۔ برتن چھوٹے بڑے سب قلعی کرانے ہیں؛ مکان میں برس بھر ہوا سفیدی نہیں ہوئی۔ لالہ ہزاری مل سے کہو کہ جس طرح ہو سکے، کہیں سے پچیس روپے دے؛ عید کا خرچ سر پر چلا آتا ہے۔“ ماما عظمت بولی کہ ”تمیز دار بہو اپنی ماں کے یہاں مہمان جائیں گی؛ اور میں نے سنا ہے، تحصیل دار بھی آنے والے ہیں، ضرور دونوں بیٹیوں کو بلا بھیجیں گے۔ اور میں نے ایک جگہ یہ بھی سنا ہے کہ تمیز دار بہو کا ارادہ ہے کہ اپنے باپ کے ساتھ چلی جائیں۔ بہو جائیں گی تو چھوٹے صاحب زادے بھی جائیں گے؛ پھر، بیوی، تمہارا اکیلا دم ہے، مکان میں سفیدی ہو کر کیا کرے گی، اور برتن قلعی ہو کر کیا ہوں گے؟ ہزاری مل کم بخت تو ایسا بے مروت ہو گیا ہے کہ ہر روز تقاضے کو اس کا آدمی دروازے پر کھڑا رہتا ہے؛ اور قرض کیونکر دے گا؟“
محمد کامل کی ماں یہ سن کر سرد ہو گئی؛ اور سرد ہونے کی بات تھی۔ میاں تو جس دن سے لاہور گئے، پھر کر گھر کی شکل نہ دیکھی؛ چھٹے مہینے، برسویں دن، جی میں آ گیا تو کچھ بھیج دیا، ورنہ کچھ واسطہ نہیں۔ محمد عاقل ماں سے الگ ہو ہی چکا تھا؛ صرف محمد کامل کا دم گھر میں تھا؛ اس کے گئے پیچھے مطلع صاف تھا۔ محمد کامل کی ماں نے ماما سے پوچھا، ”اری، سچ بتا، تمیز دار بہو ضرور جائیں گی؟“ ماما بولی، ”بیوی، جانے نہ جانے کی تو خدا جانے؛ جو سنا تھا سو کہہ دیا۔“ محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”اری کم بخت، کس سے سنا؟ کیونکر معلوم ہوا؟“
ماما بولی، ”سننے کی جو پوچھو تو کفایت النسا سے میں نے دو روپے قرض مانگے تھے؛ اس نے کہا، ’میں دے تو دیتی، لیکن پہاڑ پر جانے والی ہوں۔‘ تب میں نے اس سے حال پوچھا؛ اس سے معلوم ہوا کہ سب بات ٹھیک ٹھاک ہو چکی ہے؛ بس اتنی دیر ہے کہ تحصیل دار آئیں؛ عید کی صبح کو یہ سب لوگ روانہ ہو جائیں گے۔ اور سننے پر کیا منحصر ہے؟ خدا کو دیکھا نہیں تو عقل سے پہچانا ہے۔ بیوی، کیا تم کو تمیز دار بہو کے ڈھنگوں سے نہیں سمجھ پڑتا؟ دیکھو، پہلے تو بہو گھر کا کام کاج بھی دیکھتی بھالتی تھیں، اب تو کوٹھے پر سے نیچے اترنا بھی قسم ہے۔ خط پر خط باپ کے نام چلے جاتے ہیں؛ سوائے جانے کے ایسا اور کون سا معاملہ ہے؟“
محمد کامل کی ماں یہ حال سن کر سناٹے میں رہ گئی، اور اسی سوچ میں بیٹھی تھی کہ محمد کامل باہر سے آیا۔ محمد کامل کو پاس بلا کر پوچھا کہ ”کامل، ایک بات پوچھتی ہوں، سچ سچ بتائیے گا؟“
محمد کامل نے کہا، ”اماں، بھلا ایسی کون بات ہے جو تم سے چھپاؤں گا؟“
محمد کامل کی ماں نے جو کچھ ماما سے سنا تھا، حرف بہ حرف محمد کامل سے کہا۔
محمد کامل نے کہا، ”اماں، میں سچ کہتا ہوں کہ مجھ کو اس سے مطلق خبر نہیں، نہ مجھ سے تمیز دار بہو نے اس کا تذکرہ کیا۔“
محمد کامل کی ماں بولی، ”چل جھوٹے! ہمیں سے باتیں بناتا ہے؟ اتنی بڑی بات، اور تجھ کو خبر نہیں!“
محمد کامل نے کہا، ”تم کو تو یقین نہیں آتا؛ تمہارے سر کی قسم، مجھ کو معلوم نہیں۔“
اتنے میں ماما بھی آ نکلی۔ محمد کامل کی ماں نے کہا، ”کیوں ری عظمت، کامل تو کہتا ہے، مجھ کو معلوم نہیں۔“
ماما نے کہا، ”میاں، تم برا مانو یا بھلا، تمہاری بیوی جانے کی تیاریاں تو کر رہی ہیں؛ تم سے شاید چھپاتی ہوں۔ یہ مزاج دار بہو نہیں ہیں کہ ان کے پیٹ میں بات نہیں سماتی تھی؛ یہ تمیز دار بہو ہیں کہ کسی کو اپنا بھید نہ دیں۔“
محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”بھلا کامل، اگر یہ بات سچ ہو تو تمہارا کیا ارادہ ہے؟“
محمد کامل نے کہا، ”بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ تم کو اکیلا چھوڑ کر چلا جاؤں گا؟ اور تمیز دار بہو بھی، ایسی کیا زبردستی ہے کہ بے پوچھے گاچھے چلی جاویں گی؟ اور میں آج تمیز دار بہو سے پوچھوں گا کہ ’کیوں جی، یہ کیا بات ہے؟‘“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اس نامراد ماما کی بات کا کیا اعتبار ہے؟ ابھی بہو سے کچھ ذکر مذکور مت کرو؛ جب بات تحقیق ہو جائے گی تو دیکھا جائے گا۔“
اس طرح کی باتوں سے ماما عظمت اصغری کو ساس اور میاں سے بری بنانے کی فکر میں تھی؛ اور اصغری سے ہرچند کسی نے منہ در منہ کچھ کہا سنا نہیں، لیکن وہ بھی ان سب کے قیافے سے سمجھ گئی تھی کہ ضرور کچھ کشیدگی ہے۔ اصغری کے پاس محمودہ بڑی جاسوس تھی؛ ذرا ذرا سی بات اصغری سے کہتی؛ اور ماما کی بدذاتی سب اصغری پر کھل گئی تھی۔ لیکن اصغری ایسی احمق نہ تھی کہ جلد بگڑ بیٹھتی۔ وہ اس فکر میں ہوئی کہ اس معاملے میں اپنی طرف سے کچھ کہنا سننا مناسب نہیں؛ آخر کبھی نہ کبھی بات کھلے گی، اس وقت دیکھا جائے گا۔ اصغری نے اپنے دل میں کہا کہ ”بھلا عظمت، رہ تو سہی، ان شاء اللہ تعالیٰ تجھ کو بھی کیسی سیدھا بناتی ہوں! اب یہاں تک تیرے مغز چل گئے ہیں کہ گھر کے گھر میں فساد ڈلواتی ہے۔ ان شاء اللہ تجھ کو وہاں ماروں کہ پانی نہ ملے، اور ایسا تجھ کو اجاڑوں کہ پھر اس محلے میں آنا نصیب نہ ہو۔“
ماما عظمت کی شامت سر پر سوار تھی؛ تیسرا وار اصغری پر اور سہی کیا۔ ہزاری مل کی تو عادت تھی کہ جب کبھی ماما عظمت کو اپنی دکان کے سامنے سے آتے جاتے دیکھا، تو ادبدا کر چھیڑتا کہ ”کیوں ماما، ہمارے حساب کتاب کی بھی کچھ فکر ہے؟“ اور آٹھویں ساتویں دن گھر پر تقاضا کہلا بھیجتا۔ ایک دن حسبِ معمول ماما عظمت سودے سلف کو بازار جاتی تھی، ہزاری مل نے ٹوکا۔ ماما بولی، ”اے لالہ، یہ کیا تم نے مجھ سے آئے دن کی چھیڑ خانی مقرر کی ہے؟ جب مجھ کو دیکھتے ہو، تقاضا کرتے ہو۔ جن کو دیتے ہو، ان سے مانگو، ان پر تقاضا کرو؛ میں بےچاری غریب آدمی، ٹکے کی اوقات، مجھ سے اور مہاجنوں کے لین دین سے کیا واسطہ؟“
ہزاری مل نے کہا، ”یہ بات تم نے کیا کہی کہ مجھ سے واسطہ نہیں؟ دکان سے تو تم لے جاتی ہو؛ ہاتھ کو ہاتھ پہچانتا ہے؛ ہم تو تم کو جانتے ہیں اور تمہاری ساکھ پر دیتے ہیں؛ ہم گھر والوں کو کیا جانیں؟“ ماما نے کہا، ”اے لالہ، ہوش میں آؤ، ایسے گھر کے بھولے! میری ایسی کیا حیثیت تم نے دیکھ لی؟ میرے پاس نہ جائداد نہ دولت؛ اور تم نے سیکڑوں روپیہ آنکھ بند کر کے مجھ کو دے دیا! اور اگر مجھ کو دیا تو جاؤ، مجھی سے لے بھی لینا؛ میرے جو محل کھڑے ہوں گے، بکوا لینا؛ قلعے میں جو میری تنخواہ ہو گی، بند کرا دینا۔“
ماما کی ایسی اکھڑی اکھڑی باتیں سن کر ہزاری مل بہت سٹپٹایا، اور ماما سے ملاوٹ کی باتیں کرنے لگا، اور کہا کہ ”آج تو تم کسی سے لڑ کر آئی معلوم ہوتی ہو؛ بتاؤ تو کیا بات ہے؟ بیوی صاحب نے کچھ کہا، یا صاحب زادے کچھ خفا ہوئے؟ یہاں تو آؤ۔“ ادھر تو ماما سے یہ کہا، اور ادھر دکان پر جو لڑکا بیٹھتا تھا، ایک پیسہ اس کے ہاتھ دیا کہ ”دوڑ کر دو گلوریاں، زردہ ڈلوا کر، بنوا لا۔“ جب ماما بیٹھ گئی تو پھر ہزاری مل نے ہنس کر پوچھا، ”معلوم ہوتا ہے، آج ضرور کسی سے لڑی ہو۔“
ماما نے کہا، ”خدا نہ کرے! کیوں لڑنے لگی؟ بات پر بات میں نے بھی کہہ دی۔ سچی بات پر برا کیوں مانتے ہو؟“
ہزاری مل نے کہا، ”یہ تو ٹھیک ہے، بیوہار تو مالک کے ساتھ ہے، پر تمہارے ہاتھوں سے ہوتا ہے یا نہیں؟ نہ ہمارے نام رقعہ نہ چٹھی؛ تم نے مالک کے نام سے جو مانگا، سو دیا۔“
ماما نے کہا، ”ہاں، یوں کہو؛ اس سے میں کب مکرتی ہوں؟ جو لے گئی ہوں، ہزاروں میں کہہ دوں، لاکھوں میں کہہ دوں۔ اور ہماری بیوی بھی (روئیں روئیں سے دعا نکلتی ہے) بےچاری کبھی تکرار نہیں کرتیں۔“
ہزاری مل بولا، ”ماما، بیگم صاحب تو حقیقت میں بڑی امیر ہیں۔ واہ، کیا بات ہے!“
پھر ہزاری مل نے آہستہ سے پوچھا، ”چھوٹی بہو صاحب کا کیا حال ہے؟ کیسی ہیں؟ اپنی بڑی بہن کے پرتو پر ہیں، یا اور طرح کا مزاج ہے؟“
ماما نے کہا، ”لالہ، کچھ نہ پوچھو۔ بیٹی تو امیر گھر کی ہیں، پر دل کی بڑی تنگ ہیں؛ دمڑی کا سودا بھی جب تک چار مرتبے پھیر نہ لیں، پسند نہیں آتا۔ ہاں، خدا رکھے، ہنر سلیقہ تو دنیا کی بہو بیٹیوں سے بڑھ چڑھ کر ہے؛ کھانا عمدہ سے عمدہ، سینے میں درزیوں اور مغلانیوں کو مات کیا ہے؛ لیکن، لالہ، امیری کی بات نہیں۔ اول اول مجھ پر بھی روک ٹوک شروع کی تھی؛ لالہ، تم تو جانتے ہو، میرا کام کیسا بے لاگ ہوتا ہے؛ آخر تھک کر بیٹھ رہیں۔ بیگم صاحب تو اولیا آدمی ہیں، اور انہیں کے دم قدم کی برکت سے گھر چلتا ہے؛ ہم غریب بھی انہیں کا دامن پکڑے ہوئے ہیں۔ بہتیرا لوگوں نے بیگم صاحب کو بھڑکایا، لیکن خدا سلامت رکھے، ان کے دل پر میل نہ آیا، اور کسی طرح کا کلام انہوں نے منہ پر نہ رکھا۔“
ہزاری مل نے کہا، ”سنا ہے، چھوٹی بہو صاحب کو بڑا بھاری جہیز ملا۔“
ماما نے چھٹتے ہی کہا، ”خاک! بڑی سے بھی اترتا ہوا۔“
ہزاری مل نے کہا، ”بڑا تعجب ہے؛ ان کے بیاہ کے وقت تو خاں صاحب تحصیل دار تھے؛ بڑی بیٹی سے زیادہ دینا لازم تھا۔“
ماما نے کہا، ”اے ہے، تحصیل دار کا کچھ دوش نہیں؛ اس بےچارے نے تو بڑی تیاریاں کی تھیں۔ یہی چھوٹی کھوٹی منہ بولی تھیں؛ ماں باپ کی خیر خواہی کے مارے کہہ کہہ کر سب چیزیں کم کرائیں۔“
ہزاری مل نے کہا، ”اگر یہی حال ہے تو بڑی بہن کی طرح یہ بھی الگ گھر کریں گی۔“
ماما نے کہا، ”الگ گھر کرنا کیسا؟ یہ تو بڑے گل کھلائیں گی۔ بڑی بہو بدمزاج تھیں، لیکن دل کی صاف؛ اور یہ زبان کی میٹھی اور دل کی کھوٹی۔ کوئی کیسا ہی جان مار کر کام کرے، ان کی خاطر تلے نہیں آتا۔ بات بھی کہیں گی تو تہ کی؛ منہ پر کچھ، دل میں کچھ۔ نہ بابا، یہ عورت ایک دن نباہ کرنے والی نہیں۔ اب تو پہاڑ پر باپ پاس جانے کی تیاریاں کر رہی ہیں۔“
ہزاری مل نے پوچھا، ”لاہور سے ان دنوں کوئی خط آیا ہے؟“
ماما نے کہا، ”ہر روز انتظار رہتا ہے؛ نہیں معلوم کیا سبب ہے، کوئی خط نہیں آیا۔ بیوی خرچ کی راہ دیکھ رہی ہیں؛ رمضان سر پر آ رہا ہے؛ بلکہ پرسوں اترسوں مجھ سے کہتی تھیں، ’ہزاری مل سے پچاس روپے قرض لانا۔‘“
ہزاری مل قرض کا نام سن کر چونک پڑا، اور کہا، ”پہلے روپے کی راہ لگا دیں، آگے کو کیا انکار ہے؟ اب میرے ساجھی نہیں مانتے۔ ماما، بیگم صاحب سے خوب طرح پر سمجھا کر کہہ دینا کہ جہاں سے بن پڑے، روپے ادا کریں، ورنہ مجھ پر الزام نہیں۔“
ماما نے کہا، ”تمہارا روپیہ خدا ہی نکلوائے گا تو نکلے گا؛ بیگم صاحب کہاں سے دیں گی؟ بال بال تو قرض دار ہو رہی ہیں؛ مودی الگ جان کھاتا ہے، بزاز جدا غل مچاتا ہے۔“
ہزاری مل نے کہا، ”مجھ کو دوسرے قرض خواہوں سے کیا واسطہ؟ ہماری دکان کا حساب تو بیگم صاحب کو بے باق کرنا ہی پڑے گا۔ میں تو بیگم صاحب کی سرکار کا بڑا لحاظ کرتا ہوں، لیکن میرا ساجھی چھدامی لال تو نہیں مانتا؛ وہ اگر یہ حال سن پائے تو آج نالش کر دے۔“
ماما نے کہا، ”یہ سب حال بیگم صاحب سے کہہ بھر میں دوں گی؛ لیکن گھر کا ذرا ذرا حال مجھ کو معلوم ہے؛ نالش کرو یا فریاد کرو، نہ روپیہ ہے نہ دینے کی گنجائش۔ روپیہ ہوتا تو قرض کیوں لیا جاتا؟“
اتنی باتوں کے بعد ماما عظمت ہزاری مل سے رخصت ہو، سودا سلف لے کر گھر میں آئی تو محمد کامل کی ماں نے پوچھا، ”ماما، تو بازار جاتی ہے تو ایسی بے فکر ہو جاتی ہے کہ کھانے پکانے کا کچھ خیال تجھ کو نہیں رہتا۔ دیکھ تو کتنا دن چڑھا ہے؛ اب کس وقت گوشت چڑھے گا، کب پکے گا، کب کھانا ملے گا؟“
ماما نے کہا، ”بیوی، موئے ہزاری لال کے جھگڑے میں اتنی دیر ہو گئی۔ وہ جانہار ہر روز مجھ کو آتے جاتے ٹوکا کرتا ہے۔ آج میری جان جل گئی، اور میں نے کہا کہ ’کیا تو نے مجھ سے روز کی چھیڑ خانی مقرر کی ہے؟ کیوں مرا جاتا ہے؟ ذرا صبر کر، لاہور سے خرچ آنے دے، تو تیرا اگلا پچھلا سب حساب کتاب بے باق ہو جائے گا۔‘ وہ موا تو میرے سر ہو گیا، اور بھرے بازار میں مجھ کو فضیحت کرنے لگا۔“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”ہزاری مل کو کیا ہو گیا ہے؟ وہ تو ایسا نہ تھا؛ آخر برسوں سے ہمارا اس کا لین دین ہے؛ سویرے بھی دیا ہے، دیر کر بھی دیا ہے؛ کبھی اس نے تکرار نہیں کی۔“
ماما نے کہا، ”بیوی، کوئی اور مہاجن دکان میں ساجھی ہوا ہے؛ اس موئے نے جلدی مچا رکھی ہے۔ جس جس پر لینا تھا، سب سے کھڑے کھڑے وصول کر لیا؛ جس نے نہیں دیا، نالش کر دی۔ ہزاری مل نے کہا ہے کہ بیگم صاحب سے بہت ہاتھ جوڑ کر میری طرف سے کہہ دینا کہ میرا اس میں کچھ بس نہیں؛ جس طرح ہو سکے، دو چار دن میں روپے کی راہ لگا دیں، ورنہ چھدامی لال ضرور نالش کر دے گا۔“
اس خبر کے سننے سے محمد کامل کی ماں کو سخت تردد پیدا ہوا۔ امیر بیگم، ان کی چھوٹی بہن، خانم کے بازار میں رہتی تھیں، اور وہ ذرا خوش حال تھیں۔ محمد کامل کی ماں نے ماما عظمت سے کہا کہ ”ماما، لاہور سے تو جواب خط تک نہیں آتا، خرچ کی کیا امید ہے؟ اگر سچ مچ ہزاری مل نے نالش کر دی تو کیا ہو گا؟ میرے پاس تو اتنا اثاثہ بھی نہیں کہ بیچ کر ادا کر دوں گی؛ اور نالش ہوئے پر دینا بھی بے عزتی ہے، نام تو تمام شہر میں بد ہو گا۔ ڈولی لے آؤ، میں امیر بیگم کے پاس جاتی ہوں؛ دیکھوں، اگر وہاں کوئی صورت نکل آوے۔“
ماما بولی، ”بیوی، نالش تو ہوئی رکھی ہے؛ جس نے منہ سے کہا، اس کو کرتے کیا دیر لگتی ہے؟ اور چھوٹی بیگم صاحب بےچاری کے پاس کہاں سے روپیہ آیا؟ وہ تو ان دنوں خود حیران ہیں۔“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”آخر پھر کچھ کرنا پڑے گا۔“
ماما نے پاس جا کر چپکے سے کہا کہ ”مہینے بھر کے واسطے تمیز دار بہو اپنے کڑے دے دیتیں تو بات رہ جاتی۔ بالفعل ان کڑوں کو گروی رکھ کر آدھے تہائی ہزاری مل کے بھگت جاتے؛ مہینے بھر میں یا تو میاں خرچ بھیج دیتے، یا میں کسی اور مہاجن سے لے آتی۔“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اری، تو کوئی دیوانی ہے؟ خبردار! ایسی بات منہ سے بھی مت نکالنا۔ اگر رہنے کا مکان تک بھی بک جائے تو مجھ کو منظور ہے، لیکن بہو سے کہنے کا منہ نہیں۔“
ماما نے کہا، ”بیوی، میں نے تو اس خیال سے کہا کہ بہو ہوئی، بیٹی ہوئی، کچھ غیر نہیں ہوتیں؛ اور کیا، خدا نہ کرے، بیچ ڈالنے کی نیت ہے؟ مہینے بھر کا واسطہ ہے؛ خیر، صندوقچے میں نہ پڑے رہے، مہاجن کے پاس رکھے رہے، جس میں اس کی خاطر جمع رہے۔“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”پھر بھی بہو بیٹی میں بڑا فرق ہوتا ہے؛ اور نئی بیاہی ہوئی سے، بھلا کوئی ایسی بات کہہ سکتا ہے؟ دیکھ، خبردار، پھر زبان سے یہ بات مت نکالیو؛ ایسا نہ ہو، محمودہ کے کان پڑ جائے، اور وہ بہو سے جا لگائے۔“
ماما نے کہا، ”صاحب زادی ابھی کھڑی ہوئی سن رہی تھیں، مگر وہ بچہ ہیں؛ ابھی ان کو ان باتوں کی سمجھ نہیں۔“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”ڈولی لے آؤ، میں بہن تک جاؤں تو سہی، پھر جیسی صلاح ٹھہرے گی، دیکھا جائے گا۔“
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。