Urdu in Translation
Search

Chapter 9 of 20

A Letter to Her Brother

بھائی کے نام خط

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

محمد کامل کی ماں تو سوار ہو خانم کے بازار کو سدھاریں، اور محمودہ نے سب حال تمیز دار کو جا سنایا۔

اصغری کو اور کچھ تو نہ سوجھی؛ فوراً اپنے بڑے بھائی خیراندیش خاں کو یہ خط لکھا کہ:

”مدت سے میں نے اپنا حال آپ کو نہیں لکھا، اس واسطے کہ جو عریضہ جناب والد کی خدمت میں بھیجتی ہوں، وہ آپ کی نظر سے بھی ضرور گزرتا ہو گا۔ اب ایک خاص بات ایسی پیش آئی ہے کہ اس کو میں آپ ہی کی خدمت میں عرض کرنا مناسب سمجھتی ہوں۔ وہ یہ ہے کہ جب سے میں سسرال آئی، کسی طرح کی تکلیف مجھ کو نہیں پہنچی؛ اور بڑی آپا کو جن باتوں کی شکایت رہا کرتی تھی، آپ کی دعا سے وہ باتیں میرے ساتھ نہیں ہیں۔ سب لوگ مجھ سے محبت کرتے ہیں، اور میں خوش رہتی ہوں۔ ایک ماما عظمت کے ہاتھوں سے وہ ایذا ہے جو کسی بدمزاج ساس اور بدزبان نند سے بھی نہ ہوتی۔ یہ عورت اس گھر کی پرانی ماما ہے، اور اندر باہر کا سب کام اسی کے ہاتھوں میں ہے۔ اس عورت نے گھر کو لوٹ کر خاک سیاہ کر دیا۔ اب اتنا قرض ہو گیا ہے کہ اس کے ادا ہونے کا سامان نظر نہیں آتا۔ کسی طرح کا بندوبست گھر میں نہیں ہے۔ میں نے چند روز معمولی کاروبارِ خانہ داری میں دخل دیا تھا، تو ہر چیز میں غبن، ہر بات میں فریب پایا گیا۔ میری روک ٹوک سے ماما میری دشمن ہو گئی، اور اس دن سے ہر روز تازہ فساد کھڑا کیے رہتی ہے۔ اب تک ہرچند کوئی قباحت کی بات پیدا نہیں ہوئی، لیکن اس ماما کا رہنا مجھ کو سخت ناگوار ہے؛ مگر اس کا نکلنا بھی بہت دشوار ہے؛ تمام بازار کا قرض اسی کی معرفت ہے؛ موقوفی کا نام بھی سن پائے تو قرض خواہوں کو جا بھڑکائے۔ پھر قرض کا نہ حساب ہے نہ کتاب؛ زبانی تکوں پر سب لینا دینا ہو رہا ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ سب لوگوں کا حساب و کتاب ہو کر لکھا پڑھی ہو جائے، اور بقدرِ مناسب ہر ایک کی قسط مقرر کر دی جائے، اور قرض لینے کا دستور آئندہ کے واسطے موقوف ہو، اور ماما نکال دی جائے۔ یقین ہے کہ جناب والد کے ساتھ آپ بھی رمضان میں تشریف لائیں؛ میں چاہتی ہوں کہ آپ مہربانی فرما کر لاہور ہو کے آئیے، اور ابا جان کو، جس طرح بن پڑے، کم سے کم دو ہفتے کے واسطے اپنے ساتھ لوا لائیے۔ آپ سب لوگوں کے سامنے یہ سب معاملہ بخوبی طے ہو جائے گا۔ میں اس خط کو سخت تشویش کی حالت میں لکھ رہی ہوں۔ کوئی مہاجن آمادۂ نالش ہے؛ ماما نے صلاح دی ہے کہ میرے کڑے گرو رکھے جائیں؛ اماں جان روپے کے بندوبست کے واسطے اس وقت خالہ جان کے پاس گئی ہیں۔ فقط۔“

ادھر تو اصغری نے بھائی کو خط لکھا، اور ادھر اپنی خالہ سے کہلا بھیجا کہ ”میں اکیلی ہوں؛ بوا تماشا خانم کو دو دن کے واسطے بھیج دیجیے؛ میں نے سنا ہے کہ وہ آپ کے یہاں مہمان آئی ہوئی ہیں۔“ غرض شاموں شام بی تماشا خانم آ پہنچیں۔ ڈولی سے اترتے ہی پکاریں، ”اللہ، بی اصغری، ایسا بھی کوئی بے مروت نہ ہو! میں نے خالو ابا کا خط تم سے منگوا بھیجا تھا، تم نے نہ دیا۔“

اصغری نے کہا، ”اوئی، کون مانگنے آیا؟“

تماشا خانم بولی، ”دیکھو، یہ ماما عظمت موجود ہیں۔ کیوں بی، اس جمعے کو تم ہمارے گھر گئی تھیں، میں نے تم سے کہہ دیا تھا یا نہیں؟“

عظمت بولی، ”ہاں بی، انہوں نے تو کہا تھا؛ مجھ کم بخت کو بات یاد نہیں رہتی، یہاں آنے تک گھر کے دھندے میں بھول گئی۔“

اصغری نے آہستہ سے کہا، ”ہاں، تم کو تو لوٹنا اور فساد ڈلوانا یاد رہتا ہے۔“ اور تماشا خانم سے کہا، ”خط موجود ہے، اور ایک اور نئی کتاب بھی آئی ہے، بڑے مزے کی باتیں اس میں ہیں؛ وہ بھی تم لیتی جانا۔“

اصغری نے ماما کا سب حال ذرا ذرا تماشا خانم سے کہا۔ تماشا خانم مزاج کی بڑی تیز تھی؛ اسی وقت جوتی لے کر اٹھی، اور ماما کو مارنے چلی۔

اصغری نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا، اور کہا، ”خدا کے لیے، آپا، ایسا غضب مت کرنا۔ ابھی جلدی مت کرو، سب بات بگڑ جائے گی۔“

تماشا خانم نے کہا، ”تم یوں ہی پس و پیش لگا کر اپنا وقر کھوتی ہو۔ بوا، اگر میں تمہاری جگہ ہوتی، خدا کی قسم، مردار کو مارے جوتیوں کے ایسا سیدھا بناتی کہ عمر بھر یاد رکھتی۔“

اصغری نے کہا، ”دیکھو، ان شاء اللہ اس نمک حرام پر خدا کی مار پڑے گی، کوئی دن کی دیر ہے۔“

اس کے بعد تماشا خانم نے پوچھا، ”تمہاری ساس اپنی بہن کے یہاں کس غرض سے گئی ہیں؟“

اصغری نے کہا، ”وہ بےچاری بھی اسی نامراد ماما کے ہاتھوں سے دربدر ماری ماری پھرتی ہیں۔ کوئی مہاجن ہے، اس کا کچھ دینا ہے؛ ماما نے آج آ کر کہا تھا کہ وہ نالش کرنے والا ہے؛ اسی کے روپے کی فکر میں گئی ہیں۔“

تماشا خانم نے پوچھا، ”کون سا مہاجن نالش کرنے والا ہے؟“

اصغری نے کہا، ”نام تو نہیں جانتی۔“

تماشا خانم نے ماما سے پوچھا، ”عظمت، کون مہاجن ہے؟“

عظمت نے کہا، ”بیوی، ہزاری مل۔“

تماشا خانم نے کہا، ”وہی ہزاری مل نا، جس کی دکان جوہری بازار میں ہے؟“

عظمت نے کہا، ”ہاں بیوی، ہاں، وہی ہزاری مل۔“

تماشا خانم نے کہا، ”اس سے تو ہماری سسرال میں بھی لین دین ہے۔ بھلا، کیا موئے کی طاقت ہے جو نالش کرے گا؟ میں یہاں سے جا کر تمہارے بھائی جان سے کہوں گی؛ دیکھو تو، کیسا ٹھیک بناتے ہیں۔“

دو دن تماشا خانم اصغری کے پاس رہی۔ تیسرے دن رخصت ہوئی، اور چلتے چلتے کہہ گئی کہ ”بوا اصغری، تم کو میرے سر کی قسم، جب تمہارے سسرے آویں اور یہ سب معاملہ مقدمہ پیش ہو، مجھ کو ضرور بلوانا، اور عظمت کو مجھے حوالے کر دینا۔“

وہاں محمد کامل کی ماں کو ان کی بہن نے ٹھہرا لیا کہ ”اے ہے آپا، کبھی کبھار تو تم آئی ہو؛ بھلا، ایک ہفتہ تو رہو۔“ لیکن آدمی ہر روز یہاں تمیز دار بہو کی خبر کو آتا تھا۔ ماما عظمت نے بیٹھے بٹھائے ایک اور شرارت کی۔ ان دنوں لاٹ صاحب کی آمد آمد تھی؛ شہر کی صفائی کے واسطے حاکم کی طرف سے بہت تاکید ہوئی؛ ہر محلے اور ہر کوچے میں اشتہار لگائے گئے کہ ”سب لوگ اپنے اپنے کوچے اور گلیاں صاف کریں، دروازوں پر سفیدی کرا لیں، بدرروئیں صاف رکھیں؛ اگر کسی جگہ کوڑا پڑا ملے گا تو مکان نیلام ہو جائے گا۔“ اسی مضمون کا ایک اشتہار اس محلے کے پھاٹک پر بھی لگایا گیا۔ ماما عظمت رات کو جا کر محلے کے پھاٹک سے وہ اشتہار اکھاڑ لائی، اور چپکے سے اپنے دروازے پر لگا دیا۔ پھر اندھیرے منہ خانم کے بازار میں محمد کامل کی ماں سے خبر کرنے دوڑی گئی۔ ابھی مکان کے کواڑ بھی نہیں کھلے تھے کہ اس نے آواز دی۔

محمد کامل کی ماں نے آواز پہچانی، اور کہا کہ ”ارے، دوڑو، کواڑ کھولو؛ عظمت ایسے ناوقت کیوں بھاگی آئی ہے؟“ عظمت سامنے آئی تو پوچھا، ”ماما، خیریت ہے؟“

عظمت بولی، ”بیوی، مکان پر اشتار یا شتار (کیا ہوتا ہے؟) لگا ہوا ہے؛ معلوم ہوتا ہے کہ ہزاری مل نے نالش کر دی۔“

محمد کامل کی ماں نے اپنی بہن سے کہا، ”لو بوا، میں تو جاتی ہوں؛ جاؤں، ہزاری مل کو بلواؤں گی اور سمجھاؤں گی؛ خدا اس کے دل میں رحم ڈالے!“

بہن بولی، ”آپا، میں بہت شرمندہ ہوں کہ مجھ سے روپے کا بندوبست نہ ہو سکا؛ لیکن میرے گلے کا توڑا موجود ہے، اس کو لیتی جاؤ؛ گروی رکھنے سے کام نکلے تو خیر، ورنہ بیچ ڈالنا۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”خیر، میں توڑا لیتی جاتی ہوں، مگر اس کا روپیہ بہت بڑھ گیا ہے، ایک توڑے سے کیا ہو گا؟“

بہن بولی کہ ”آخر انہوں نے بھی تو کہا ہے کہ میں کسی دوسرے مہاجن سے قرض لاؤں گا۔ تم بسم اللہ کر کے سوار ہو؛ وہ آتے ہیں تو میں ان کو بھی پیچھے سے بھیجتی ہوں۔“

غرض محمد کامل کی ماں مکان پر پہنچی۔ دروازے پر اتری تو اشتہار لگا دیکھا۔ افسوس کی حالت میں چپ آ کر بیٹھ گئی۔ ساس کی آمد سن کر اصغری کوٹھے پر سے اتری، سلام کیا۔ ساس کو مغموم دیکھ کر پوچھا، ”آج اماں جان، تمہارا چہرہ بہت اداس ہے۔“

ساس نے کہا، ”ہاں، مہاجن نے نالش کر دی ہے؛ روپے کی صورت کہیں سے نہیں بن پڑتی۔ امیر بیگم نے بھی جواب دیا، اور مکان پر اشتہار لگ چکا؛ دیکھیے، کیا ہوتا ہے؟“

اصغری نے کہا، ”آپ ہرگز اس کی فکر نہ کیجیے۔ اگر ہزاری مل نے نالش کر دی ہے تو کچھ حرج نہیں۔ تماشا خانم کی سسرال میں اس کا لین دین ہے؛ تماشا خانم نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ میں ہزاری مل کو سمجھا دوں گی؛ اور اگر نہیں مانے گا تو اس کے روپے کی کچھ سبیل ہو جائے گی۔ رنج کرنے سے کیا حاصل؟“

ساس نے کہا، ”کامل ہوتا تو میں اس کو ہزاری مل تک بھیجتی۔“

اصغری بولی، ”یوں آپ کو اختیار ہے، لیکن میرے نزدیک مہاجن سے ڈرنا کسی طرح مناسب نہیں؛ ورنہ اس کو آئندہ کے واسطے دلیری ہو جائے گی، اور آئے دن نالش کا ڈر اور دکھایا کرے گا۔ سب سے بہتر یہ ہے کہ ادھر کا اشارہ نہ ہو، اور باہر سے کوئی دباؤ اس پر پڑ جائے کہ وہ نالش کی پیروی سے باز رہے۔“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”تماشا خانم ابھی لڑکی ہیں، کچہری دربار کی باتیں وہ کیا جانیں؟ ایسا نہ ہو، ان کے بھروسے میں کام بگڑ جائے اور قابو ہاتھ سے نکل جائے۔“

اصغری نے کہا، ”تماشا خانم بے شک لڑکی ہیں، مگر میں نے بات خوب پکی کر لی ہے، اور مجھ کو اطمینان ہے۔“

یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ میاں مسلم نے دروازے پر آواز دی۔ اصغری نے کہا، ”دیکھو، مسلم آیا؛ ضرور اس معاملے میں کچھ خبر لایا ہو گا۔“ اصغری نے محمودہ کو اشارہ کیا؛ محمودہ کوٹھری میں چلی گئی؛ مسلم کو اندر بلایا، اور پوچھا، ”مسلم، کیا خبر لائے؟“

مسلم نے کہا، ”آپا نے تم کو سلام کہا ہے، اور مزاج کا حال پوچھا ہے، اور کہا ہے کہ ہزاری مل کو بلوایا تھا؛ بہت کچھ ڈرا اور دھمکا دیا ہے، اور اس نے وعدہ کر لیا ہے کہ نالش نہ ہو گی۔“

یہ بات سن کر محمد کامل کی ماں کو کسی قدر تسلی ہوئی؛ لیکن اصغری حیرت میں تھی کہ ”تماشا خانم نے تو یہ کہلا بھیجا ہے، اور ہزاری مل نالش کر بیٹھا! یہ کیا بات ہے؟ اور اشتہار کا معاملہ بھی عجب ہے؛ میں گھر میں بیٹھی رہی، مجھ کو خبر نہیں؛ حاکم کا اشتہار ہوتا تو کوئی چپراسی پیادہ پکارتا، آواز دیتا۔“

مسلم رخصت ہوا تو محمودہ سے اصغری نے کہا، ”جاؤ، دروازے پر جو کاغذ لگا ہوا ہے، اس کو چپکے سے اکھاڑ لاؤ۔“

محمودہ کاغذ اکھاڑ لائی۔ اصغری نے پڑھا تو صفائی کا حکم تھا، نالش کا کچھ مذکور نہ تھا۔ سمجھ گئی کہ یہ بھی اسی عظمت کی چالاکی ہے۔ ساس پر تو یہ حال ظاہر نہ کیا، لیکن ان کا اچھی طرح اطمینان کر دیا کہ ”آپ دل جمعی سے بیٹھی رہیے، نالش کا کچھ ڈر نہیں ہے۔“

ساس نے کہا، ”تمہارے کہنے سے نالش کی طرف سے دل جمعی تو ہوئی، لیکن شبِ برات اور رمضان سر پر چلا آتا ہے؛ دونوں تہواروں میں خرچ ہی خرچ ہے۔ لاہور سے خط آنا بھی موقوف ہے؛ اس کی فکر تو میرا لہو خشک کیے ڈالتی ہے۔“

اصغری نے کہا، ”رمضان کے تو ابھی بہت دن پڑے ہیں؛ خدا مسبب الاسباب ہے، اس وقت تک غیب سے کوئی سامان پیدا ہو جائے گا۔ ہاں، شبِ برات کے چار ہی دن رہ گئے، سو شبِ برات کوئی ایسا تہوار نہیں جس میں بہت خرچ درکار ہو۔“

ساس نے کہا، ”میرے گھر تو سال در سال شبِ برات میں بیس روپیہ اٹھتا ہے۔ پوچھو، یہی عظمت خرچ کرنے والی موجود ہیں۔“

اصغری نے کہا، ”خرچ کرنے کا کیا عجب ہے؟ لیکن ایک ضرورت کے واسطے، اور ایک بے ضرورت؛ سو شبِ برات میں کوئی ایسی ضرورت نہیں جس کے واسطے اتنا روپیہ درکار ہو۔“

ساس نے کہا، ”بوا، پیر پیغمبر، بڑے بزرگوں کی فاتحہ مقدم ہے؛ پھر لوگوں کے گھر بھیجنا بھجوانا ضرور ہے۔ لو، کہنے کو ذرا سی بات ہے، پانچ روپے ہوں تو اصل خیر سے تمہارے میاں اور بی محمودہ کے واسطے انار پٹاخے ہوں۔ محمد کامل کا بیاہ ہو گیا تو کیا ہے؟ خدا رکھے، اس کے مزاج میں تو ابھی تک بچپن کی باتیں چلی جاتی ہیں؛ جب تک سو انار، بیس گڈی پٹاخے نہ لے چکے گا، میری جان کھا جائے گا؛ اور محمودہ بھی رو رو کر اپنا برا حال کرے گی۔“

اصغری نے کہا، ”فاتحہ کے واسطے پانچ سیر کا میٹھا بہت ہو گا؛ بھیجنا بھجوانا، تو ادھر سے آیا، ادھر گیا؛ اور محمودہ اب پٹاخوں کے واسطے ضد نہیں کرے گی، میں ان کو سمجھا لوں گی۔ غرض شبِ برات کا اہتمام میں جس طرح ہو سکے گا، کر لوں گی؛ میرا ذمہ، اس کے واسطے آپ قرض کی فکر نہ کیجیے۔“

ساس سے تو یہ باتیں ہوئیں، لیکن اصغری سوچ میں تھی کہ میاں کو انار پٹاخوں سے کس طرح باز رکھے۔ آخرکار اس حکمت سے اصغری نے میاں کو سمجھایا کہ بات بھی کہہ گزری، اور میاں کو ناگوار بھی نہ ہوا۔

محمد کامل کے سامنے چھیڑ کر محمودہ سے پوچھا، ”کیوں بوا، تم نے شبِ برات کے واسطے کیا فکر کی؟“

محمودہ بولی، ”بھائی جب انار پٹاخے لائیں گے، ہم کو بھی دیں گے۔“

ابھی محمد کامل کچھ کہنے نہ پایا تھا کہ اصغری نے کہا، ”بھائی تو ایسی واہیات چیز تمہارے واسطے کیوں لانے لگے؟ محمودہ، انار پٹاخوں میں کیا مزا ہوتا ہے؟“

محمودہ نے کہا، ”بھابھی جان، جب انار پٹاخے چھٹتے ہیں تو کیسی بہار ہوتی ہے!“

اصغری نے کہا، ”محلے میں سیکڑوں انار چھٹیں گے؛ کوٹھے پر سے تم بھی دیکھ لینا۔“

محمودہ نے کہا، ”واہ! ہم نہ چھوڑیں؟“

اصغری نے کہا، ”تم کو ڈر نہیں لگتا؟“

محمودہ بولی، ”میں کیا اپنے ہاتھ سے چھوڑتی ہوں؟“

اصغری نے کہا، ”پھر جس طرح تم نے اپنے انار چھٹتے دیکھے، ویسے ہی محلے کے۔ اور محمودہ، سنو؛ یہ بہت برا کھیل ہے، اس میں جل جانے کا خوف ہے۔ ایک مرتبہ ہمارے محلے میں ایک لڑکے کے ہاتھ میں انار پھٹ گیا تھا، دونوں آنکھیں پھوٹ کر چوپٹ ہو گئیں۔ اس کو دیکھنا بھی ہو تو دور سے۔ اور محمودہ، تم اماں جان کا حال دیکھتی ہو، اداس ہیں یا نہیں؟“

محمودہ نے کہا، ”اداس تو ہیں۔“

اصغری نے پوچھا، ”کبھی تم نے یہ بھی غور کیا کہ کیوں اداس ہیں؟“

محمودہ نے کہا، ”یہ تو معلوم نہیں۔“

اصغری بولی، ”واہ! اسی پر تم کہتی ہو کہ میں اماں کو بہت چاہتی ہوں؟“

محمودہ نے پوچھا، ”اچھی بھابھی جان، اماں جان کیوں اداس ہیں؟“

اصغری نے کہا، ”خرچ کی تنگی ہے؛ مہاجن قرض نہیں دیتا؛ اس سوچ میں ہیں کہ محمودہ اناروں کے واسطے ضد کرے گی تو کہاں سے منگا کر دوں گی؟“

محمودہ نے کہا، ”ہم تو انار نہیں منگائیں گے۔“

اصغری نے کہا، ”شاباش، شاباش، تم بہت پیاری بہن ہو۔“ اور محمودہ کو گلے سے لگا کر پیار کیا۔

محمد کامل چپ بیٹھا ہوا یہ سب باتیں سنتا رہا۔ چونکہ معقول بات تھی، اس کے دل نے قبول کر لی؛ اور اسی وقت نیچے اتر کر ماں کے پاس گیا، اور کہا، ”اماں، میں نے سنا ہے تم شبِ برات کی سوچ میں بیٹھی ہو؛ تو بی، میری فکر مت کرو، مجھ کو انار پٹاخے درکار نہیں؛ اور محمودہ بھی کہتی ہے کہ میں نہیں منگاؤں گی۔“ غرض خرچ کی ایک رقم تو یوں کم ہوئی۔

فاتحہ کے واسطے دو روپے میں خاصا میٹھا بن گیا۔ بھیجنے کے واسطے اصغری نے خود اہتمام کیا۔ جب باہر سے حصہ آیا، گھر میں نہ ٹھہرنے دیا؛ دے کر آدمی باہر نکلا، اور اس نے کہا کہ ”فلانی جگہ یہ حصہ پہنچا دو۔“ جس جس کو دینا تھا، سب کو نام بنام پہنچ گیا، اور دو روپے میں مزے کی شبِ برات ہو گئی۔

عظمت یہ بندوبست دیکھ کر جل گئی، اس واسطے کہ اس کی بڑی رقم ماری گئی۔ جتنا باہر سے آتا، وہ سب لیتی؛ اور جو گھر سے جاتا، آدھا اس میں سے نکالتی؛ اور شبِ برات کا حلوا جو خشک کر رکھتی تھی، مہینوں پنجیری کی طرح پھانکتی۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.