Urdu in Translation
Search

Chapter 7 of 20

The New Bride

نئی دلہن

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

باپ کا خط پا کر اصغری کے دل میں جوشِ محبت نے عجیب اثر پیدا کیا، اور بے اختیار رونے کو جی چاہا۔ لیکن نئی بیاہی ہوئی تھی، سسرال میں رونا عیب؛ ضبط کو کام میں لائی، اور باپ کے خط کو آنکھوں سے لگا کر بہت احتیاط سے وظیفے کی کتاب میں رکھ لیا، اور ہر روز بلا ناغہ اس خط کو پڑھا کرتی اور اس کے مطلب پر غور کیا کرتی تھی۔

جب تک اصغری نئی بیاہی ہوئی رہی، اس کا جی بہت گھبراتا تھا، اس واسطے کہ دفعتاً ماں کا گھر چھوڑ کر نئے گھر اور نئے آدمیوں میں رہنا پڑا۔ یہ تو کام اور انتظام کی خوگر تھی، بے شغل اس کو ایک گھڑی چین نہ تھا؛ یا مہینوں بند کوٹھری میں چپ چاپ بیٹھنا پڑا۔ ماں باپ کے گھر میں جو آزادی حاصل تھی، وہ باقی نہ رہی۔ یہاں سسرال میں آتے ہی اس کی ہر ایک بات کو لوگ دیکھنے اور تاڑنے لگے۔ کوئی منہ دیکھتا ہے، کوئی چوٹی کی لنبان ناپتا ہے، کوئی قد کی اٹھان کو تاڑتا ہے، کوئی زیور ٹٹولتا ہے، کوئی کپڑا پہچانتا ہے۔ کھاتی ہے تو لقمے پر نظر ہے: نوالا کتنا بڑا لیا، منہ کتنا کھولا، کیونکر چبایا اور کس طرح نگلا؟ اٹھتی ہے تو یہ دیکھتے ہیں کہ دوپٹا کیونکر اوڑھا، پائنچے کس طرح اٹھائے؟ سوتی ہے تو وقت پر نگاہ ہے، کس وقت سوئی، کب اٹھی؟ الغرض جملہ حرکات و سکنات اس کی زیرِ نظر تھیں۔

ایسی حالت میں اصغری کو سخت تکلیف ہوتی تھی، لیکن ازبسکہ عاقلہ اور تربیت یافتہ تھی، ایسے سخت امتحان میں کامل نکلی، اور سب ادائیں اس کی سسرال والوں کو بھائیں۔ بات کی تو نہ اس قدر بہت کہ لوگ کہیں، ”کیسی لڑکی ہے! چار دن کی بیاہی ہوئی نے کس بلا کی بک بک لگا رکھی ہے!“ نہ اتنی کم کہ بدمزاج اور تیوری چڑھی سمجھیں۔ کھانا کھایا تو نہ اتنا زیادہ کہ محلے میں چرچا ہو، نہ ایسا کہ ساس نندیں سر تھکا کر بیٹھ رہیں، اور یہاں اثر نہ ہو۔ سوئی تو نہ اتنے سویرے کہ ”چراغ میں بتی پڑی، لاڈو میری تخت چڑھی“، اور نہ اتنی دیر تک کہ گویا مُردوں سے شرط باندھ کر سوئی تھی۔

دستور ہوتا ہے کہ نئی دلہن کو محلے کی لڑکیاں گھیرے رہا کرتی ہیں۔ اصغری کے پاس بھی، جب دیکھو، دس پانچ موجود؛ لیکن اصغری نے کسی سے خصوصیت پیدا نہ کی۔ اگر کوئی لڑکی تمام دن بیٹھی رہ گئی تو یہ نہ کہا کہ ”بوا، اپنے گھر جاؤ“؛ اگر کوئی نہ آئی تو اس سے یہ نہ پوچھا کہ ”بوا، تم کہاں تھیں؟ کیوں نہیں آئیں؟“

اصغری کے اس طرزِ ملاقات اور طریقۂ مدارات سے رفتہ رفتہ لڑکیوں کا انبوہ کم ہو گیا۔ خصوصاً محلے کے کمینوں کی لڑکیاں تو چاٹ کی آشنا ہوتی ہیں؛ جب انہوں نے دیکھا کہ نہ تو پان پر پان ملتا ہے، نہ کچھ سودے سلف کا ذکر ہے، چھ سات دن میں بادی کی طرح چھٹ کر الگ ہو گئیں۔

اصغری نے پہلے محمودہ، اپنی نند سے ربط بڑھایا۔ محمودہ لڑکی تو تھی ہی، تھوڑے سے التفات میں رام ہو گئی۔ دن بھر اصغری کے پاس گھسی رہا کرتی تھی، بلکہ ماں کسی وقت کہہ بھی اٹھتی کہ ”اس بھاوج پر اتنی مہربان کیوں ہو؟ بڑی بھاوج کے تو سائے سے تم بھاگتی پھرتی تھیں۔“ محمودہ اس کا جواب دیتی کہ ”وہ تو ہم کو مارتی تھیں؛ ہماری چھوٹی بھابھی جان تو ہم کو پیار کرتی ہیں۔“

محمودہ کی ملاقات سے اصغری نے اپنا خوب کام نکالا۔ اول تو تمام گھر کا حال، بلکہ تمام کنبے اور محلے کا حال، محمودہ سے پوچھ پوچھ کر معلوم کیا؛ اور جو بات شروع میں شرم و لحاظ کے سبب خود نہ کہہ سکتی، وہ محمودہ کے ذریعے سے کہا کرتی۔ اصغری نے گھر کے کام میں بتدریج اس طرح پر دخل دینا شروع کیا کہ شام کو محمودہ سے روئی منگا کر چراغ کی بتیاں بٹ دیا کرتی؛ ترکاری بنا لیتی؛ محمودہ کا پھٹا ادھڑا کپڑا سی دیتی؛ ساس اور میاں کے لیے پان بنا دیا کرتی۔ شدہ شدہ باورچی خانے تک جانے، اور ماما عظمت کو بھوننے بگھارنے میں صلاح دینے لگی؛ یہاں تک کہ اصغری کی رائے پر کھانا پکنے لگا۔ جب سے اصغری نے کھانے میں دخل دینا شروع کیا، گھر والوں نے جانا کہ کھانا بھی عجب نعمت ہے۔ پھر تو یہ حال ہو گیا کہ جس دن اصغری کسی وجہ سے ماما عظمت کی صلاح کار نہ ہوتی، کھانا پھیکا پھیکا پھرتا تھا۔

ساس بہوؤں کی لڑائی کچھ معمولی بات ہے؛ اصغری یوں لڑنے کے قابل نہ تھی، تو اس کا ہنر باعثِ فساد ہوا۔ ماما عظمت اس گھر میں ایسی دخیل کار تھی کہ کل کاموں کا مدار اسی ماما پر تھا۔ سودا سلف، کپڑا، اناج، جو کچھ بازار سے آتا، سب ماما عظمت کے ہاتھوں آتا۔ زیور تک ماما عظمت بنوا کر لاتی؛ قرض کی ضرورت ہوتی تو وہ بھی ماما عظمت کی معرفت لیا جاتا۔ غرض کہ ماما عظمت، مردوں کی طرح، اس گھر کی منتظم تھی۔

جب سے اصغری نے کھانے میں دخل دیا تو ماما عظمت کا غبن ظاہر ہونے لگا۔ ایک دن پسندوں کے کباب پک رہے تھے، اور اصغری باورچی خانے میں بیٹھی ہوئی ماما عظمت کو بتاتی جاتی تھی۔ جب گوشت پس کر تیار ہوا اور دہی مصالحہ ملانے کا وقت آیا، اصغری نے ماما سے کہا، ”دہی مجھ کو چکھا لو، کھٹا اور باسی ہو گا تو کباب بگڑ جائیں گے۔“ ماما نے دہی کا دونا نکال اصغری کے ہاتھ میں دیا۔ اصغری نے چکھا تو کھٹا چوک، کئی دن کا باسی؛ نیلا نیلا پانی الگ اور دہی کی پھٹکیاں الگ۔ اصغری نے کہا، ”اے ہے! کیسا برا دہی ہے؛ یہ تو ہرگز کبابوں میں ڈالنے کے لائق نہیں۔ ماما، جلد جاؤ اور ٹکے کا اچھا تازہ میٹھا دہی دیکھ کر لاؤ۔“

ماما نے کہا، ”اوئی بیوی، سیر بھر گوشت کے کبابوں میں ٹکے کا دہی (اونٹ کے منہ میں زیرہ) کیا ہو گا؟ یہ دہی جو تم نے ناپسند کیا، ایک آنے کا ہے۔“

اصغری کو سن کر حیرت ہوئی، اور بولی، ”ہمارے گھر تو آئے دن کباب پکتے رہا کرتے، ہمیشہ سیر بھر گوشت میں ڈیڑھ پیسے کا دہی پڑتا تھا۔ اس حساب سے تو ٹکے کا میں نے زیادہ سمجھ کر منگوایا کہ کباب خوب نرم اور سرخ ہوں۔“

ماما نے کہا، ”تم، بیوی، اپنے محلے کا حساب کتاب رہنے دو۔ بھلا کہاں چاندنی چوک اور کہاں ترکمان دروازہ؟ جو چیز چاندنی چوک میں پیسے کی ہے، یہاں ایک آنے کو بھی نہیں ملتی۔ یہ خاک ملا محلہ تو ’اجاڑ نگری سونا دیس‘ ہے؛ سدا ہر چیز کا توڑا، ہر چیز کا قحط رہتا ہے۔“

چونکہ کھانے میں دیر ہوتی تھی، اصغری یہ سن کر چپ ہو رہی، اور ماما سے کہا، ”خیر، جتنے کا ملتا ہو، جلد لاؤ۔“ لیکن اصغری ایسی بھولی نہ تھی کہ ماما کی بات کو تسلیم کر لیتی۔ اپنے دل میں کہنے لگی، ”ضرور دال میں کچھ کالا ہے؛ دمڑی چھدام کا فرق ہو تو مضائقہ نہیں، یہ غضب کہ ایک شہر کے دو محلوں میں دوگنے چوگنے کا فرق!“

اس وقت سے اصغری بھی تاک میں ہوئی۔ اگلے دن ماما پان لائی تھی۔ اصغری نے دیکھ کر کہا کہ ”ماما، تم تو بالکل ہرے پتے اٹھا لاتی ہو؛ ان میں نہ کچھ لذت ہوتی ہے، نہ کچھ مزا ملتا ہے۔ اب تو جاڑے کی آمد ہے، کرارے پکے پکے پان ڈھونڈ کر لایا کرو۔“

ماما نے کہا، ”پکے پان تو پیسے کے دو آتے ہیں، اور یہاں، اللہ رکھے، آدھی ڈھولی روز کا خرچ ہے؛ اس خیال سے میں نئے پان لاتی ہوں۔“ اتنے میں اصغری کے گھر سے اس کی اپنی ماما، کفایت النسا، خیر صلاح کی خبر کو آ نکلی۔ پانوں کا تذکرہ تو درپیش تھا؛ اصغری نے اپنی ماما سے پوچھا، ”کیوں بی کفایت النسا، تم کو آج کل کیسے پان ملتے ہیں؟“

کفایت النسا نے کہا، ”بیوی، پیسے کے سولہ۔“

اصغری نے صندوقچہ کھول دو پیسے کفایت النسا کے ہاتھ دیے، اور کہا، ”اسی محلے کی پنواڑی سے پان لے آؤ۔“ کفایت النسا بڑے بڑے کرارے دل دار چالیس پان لے آئی۔

اصغری نے کہا، ”چاندنی چوک کی نسبت بھی پیسے پیچھے چار پان زیادہ ملے!“ کفایت النسا نے کہا، ”بیوی، یہ محلہ شہر کا پھاٹک ہے؛ جو چیز شہر میں آتی ہے، اسی دروازے سے آتی ہے۔ گوشت، اناج، پان، یہ چیزیں اس محلے میں سستی ملتی ہیں؛ البتہ ہری ترکاری سبزی منڈی سے سیدھی کابلی دروازے ہو کر شہر میں جاتی ہے، وہ کسی قدر مہنگی ہو گی۔ پرانے پان چالیس ملے، اگر نئے لیتی تو ساٹھ ملتے۔“

اصغری نے کہا، ”یہ نامراد ماما عظمت تو ہر چیز میں یوں ہی آگ لگاتی ہے۔ کفایت النسا، تم دو چار دن یہاں رہو، میں اماں سے کہلا بھیجوں گی؛ وہاں کا کام دو چار دن کے لیے ہر کوئی دیکھ بھال لے گی۔“

کفایت النسا نے کہا، ”بیوی، میں حاضر ہوں؛ خدا نہ کرے، کیا یہاں وہاں دو دو گھر ہیں؟“

غرض چار دن کفایت النسا کے ہاتھوں ہر طرح کا سودا بازار سے آیا، اور ہر چیز میں ماما عظمت کا غبن ثابت ہوا۔ لیکن سب باتیں اس طرح پر ہوئیں کہ اصغری کی ساس کو خبر تک نہ ہوئی؛ اصغری نے جانا، یا کفایت النسا نے، یا ماما عظمت نے۔ اس واسطے کہ اصغری بہت مروت اور لحاظ کی عورت تھی؛ اس نے سمجھا کہ اس بڑھیا ماما کو بدنام اور رسوا کرنے سے کیا فائدہ؟

رات کے وقت کھانے سے فراغت ہو کر کوٹھے پر اصغری پان کھا رہی تھی، کفایت النسا بھی پاس بیٹھی ہوئی تھی؛ اتنے میں ماما عظمت آئی۔ کفایت النسا نے کہا، ”کیوں بوا عظمت، یہ کیا ماجرا ہے؟ چوری کون نوکر نہیں کرتا؟ دیکھو، یہ گھر والی موجود ہیں؛ سات برس تک برابر ان کی خدمت کی؛ گھر کا کاروبار سب یہ اٹھائے ہوئے تھیں؛ اللہ رکھے، امیر گھر اور امیری خرچ؛ ہزاروں روپے کا سودا انہیں ہاتھوں سے آیا؛ حق دستوری، یہ کیونکر کہوں کہ نہیں لیا؟ اتنا لینا تو ہم نوکروں کا دھرم ہے، چاہے خدا بخشے، چاہے مارے؛ لیکن اس سے زیادہ تو ہضم نہیں ہو سکتا؛ آگے بڑھ کر نمک حرامی میں داخل ہے۔“

عظمت نے کہا، ”بوا، میرا حال کون نہیں جانتا؟ اب میری بلا چھپائے! ہاں، میں تو چراتی اور لوٹتی ہوں؛ لیکن نہ آج سے، بلکہ سدا سے میرا یہی کام ہے۔ ذرا میری حالت پر بھی تو نظر کرو کہ اس گھر میں کس بلا کا کام ہے۔ اندر باہر میں اکیلی آدمی؛ چار نوکروں کا کام میرے اکیلے دم پر پڑتا ہے۔ پھر، بوا، بے مطلب تو کوئی اپنی ہڈیاں یوں نہیں پیلتا۔ بیوی کئی مرتبہ مجھ کو موقوف بھی کر چکی ہیں، پھر آخر مجھی کو بلوایا۔ سمجھ کا پھیر ہے، کوئی یوں سمجھا، کوئی ووں سمجھا۔ چار آدمیوں کے بدلے میں اکیلی ہوں؛ چار کی تنخواہ بھی مجھ اکیلی کو ملنی چاہیے۔“ اور حال اس ماما عظمت کا اس طرح پر ہے کہ یہ عورت پچیس برس سے اس گھر میں تھی، اور ہمیشہ لوٹنے پر اتری تھی۔ ایک دن کی بات ہو تو چھپ چھپا جائے؛ آئے دن اس کا فریب ظاہر ہوا کرتا تھا۔ کئی مرتبہ نکالی گئی؛ جب موقوف ہوئی، بنیے، بزاز، سنار، قصائی، کنجڑے، جن جن سے اس کی معرفت اچاپت قرض اٹھتی تھی، تقاضے کو آ موجود ہوئے؛ اس ڈر کے مارے پھر بلائی جاتی تھی۔ یوں چوری اور سرزوری ماما عظمت کی تقدیر میں لکھی تھی۔ جتا کر لیتی اور بتا کر چراتی؛ دکھا کر نکالتی اور لکھا کر مکر جاتی۔ گھر میں آمدنی کم اور عادتیں بگڑی ہوئیں؛ کھانے میں امتیاز، کپڑے میں تکلف؛ سب کارخانہ قرض پر تھا، اور قرض کی ارہٹ ماما عظمت کے دم سے تھی۔ کھلے خزانے کہتی تھی کہ ”میرا نکلنا آسان بات نہیں؛ گھر نیلام کرا کے نکلوں گی، اینٹ سے اینٹ بجا کر جاؤں گی۔“ اصغری نے جو حساب کتاب میں روک ٹوک شروع کی تو ماما عظمت اصغری کی جانی دشمن ہو گئی، اور اس فکر میں ہوئی کہ اصغری کو محمد کامل اور اس کی ماں سے برا بنائے۔ لیکن اصغری اس ارادے سے بے خبر تھی؛ بلکہ اصغری نے جب دیکھا کہ ماما گھر کی مختارِ کل ہے، نہ اپنی عادت سے باز آئے گی، نہ نکلے گی، تو اپنے جی میں کہا کہ ”پھر ناحق کی جھک جھک سے کیا فائدہ؟ میں مفت میں ماما سے کیوں بری بنوں؟“ باورچی خانے کا جانا اور کھانے میں دخل دینا بالکل موقوف کیا۔

گھر والوں کو تو اصغری کے ہاتھ کی چاٹ لگ گئی تھی؛ پہلے ہی وقت سے منہ بنانے لگے۔ کوئی کہتی، ”اے ہے! گوشت منہ میں کچر کچر ہوتا ہے“؛ کوئی کہتا، ”دال میں نمک زہر ہو گیا ہے، زبان پر نہیں رکھی جاتی۔“ لیکن اصغری سے کون کہہ سکتا تھا کہ تم کھانا پکاؤ؟ مجبور، جیسا برا بھلا ماما عظمت پکا رندھ کر رکھ دیتی تھی، کھانا پڑتا تھا۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.