Urdu in Translation
搜索

第 15 章,共 20 章

A Post in Sialkot

سیالکوٹ کی نوکری

纳齐尔·艾哈迈德

文字
字号

بیان میں ہم دوسری کتاب لکھنے لگے۔ ادھر تو اصغری اپنے مکتب میں مصروف تھی، ادھر محمد کامل بے روزگاری سے گھبراتا تھا۔ ایک دن اصغری سے کہنے لگا کہ ”اب میرا جی بہت گھبراتا ہے؛ اگر تمہاری صلاح ہو تو میں تحصیل دار صاحب کے پاس پہاڑ پر چلا جاؤں، اور ان کے ذریعے سے نوکری تلاش کروں۔“

اصغری نے تھوڑی دیر تامل کر کے کہا کہ ”نوکری کرنی تو بہت ضرور ہے، اس واسطے کہ تم دیکھتے ہو، کیسی تنگی سے گھر میں گزر ہوتی ہے۔ ابا جان اب بڈھے ہوئے؛ مناسب یہ ہے کہ وہ گھر میں بیٹھیں، اور تم کما کر ان کی خدمت کرو۔ علاوہ اس کے، محمودہ بڑی ہوتی جاتی ہے؛ میں اس کی منگنی کی فکر میں ہوں، اور ارادہ یہ ہے کہ بہت اونچی جگہ اس کا بیاہ ہو؛ اور میں تدبیر کر رہی ہوں، ان شاء اللہ اسی برس اس کی بات ٹھہر جاتی ہے؛ لیکن اس کے واسطے بڑا سامان درکار ہو گا، اور اس وقت تک کسی قسم کی کوئی چیز موجود نہیں۔ بھائی جان اول تو الگ ہیں، اور پھر ایسی تھوڑی نوکری میں ان کی اپنی گزر نہیں ہو سکتی، دوسرے کو کہاں سے دے سکتے ہیں؟ پس سوائے اس کے کہ تم نوکری کرو، اور کوئی صورت نہیں۔ لیکن پہاڑ پر جانے کی میری صلاح نہیں۔ ابا تو تمہارے واسطے کوشش کریں گے، اور غالب ہے کہ جلد تر اچھی نوکری بھی مل جائے؛ لیکن کسی کا سہارا پکڑ کر نوکری کرنی کچھ ٹھیک بات نہیں۔ بلا سے تھوڑی ہو، پر اپنے قوتِ بازو سے ہو۔ گو ابا کوئی غیر نہیں ہیں، رشتے میں بھی تم سے ان کا ہاتھ اونچا ہے؛ ان سے، لینا کیا، بلکہ مانگنا بھی عیب نہیں؛ پھر بھی خدا کسی کا احسان مند نہ کرے! سدا کو آنکھ جھکاتی ہے۔ انہوں نے منہ پر نہ رکھا، تو کنبے میں، اللہ رکھے، سو آدمی ہیں؛ منہ در منہ نہ کہیں گے، تو پیٹھ پیچھے ضرور کہیں گے کہ ’دیکھو، سسرے کے سہارے سے نوکر ہوئے۔‘“

محمد کامل نے کہا، ”پھر کیا کروں؟ لاہور چلا جاؤں؟“

اصغری نے کہا، ”لاہور میں کیا ہے؟ رئیس کی سرکار خود تباہ ہے۔ ابا جان کو بھی، نہیں معلوم، پہلے کا لحاظ مان کر وہ کس طرح پچاس روپے دیتا ہے؛ نئے آدمی کی گنجایش اس کی سرکار میں کہاں؟“

محمد کامل نے کہا، ”اور بہت سرکاریں ہیں۔“

اصغری نے کہا، ”جب سے انگریزی ہوئی، سب رئیس اسی طرح تباہ ہیں۔ پچھلے نام و نمود کو سب نباہتے ہیں؛ اس سے دس پانچ صورتیں ان کے یہاں لگی لپٹی رہتی ہیں؛ سو بھی کیا خاک؟ برسوں تنخواہ نہیں ملتی۔“

محمد کامل نے کہا، ”پھر کیا علاج؟“

اصغری نے کہا، ”انگریزی نوکری تلاش کرو۔“

محمد کامل نے کہا، ”انگریزی نوکری تو بے سعی سفارش کے نہیں ملتی؛ ہزاروں لاکھوں آدمی مجھ سے بہتر بہتر مارے پھرتے ہیں، کوئی نہیں پوچھتا۔“

اصغری نے کہا، ”ہاں، سچ ہے؛ لیکن جب آدمی کسی بات کا ارادہ کرے، تو خدا پر توکل کر کے ناامیدی کا تصور ذہن میں نہ آنے دے۔ مانا کہ ہزاروں نوکری کی جستجو میں لاحاصل پھرتے ہیں، لیکن جو نوکر ہیں، وہ بھی تمہیں ایسے آدمی ہیں؛ اور سو بات کی ایک بات تو یہ ہے کہ نوکری تقدیر سے ملتی ہے۔ بڑے بڑے لائق دیکھتے رہ جاتے ہیں، اور اگر خدا کو دینا منظور ہوتا ہے، تو، نہ وسیلہ ہے نہ لیاقت، چھپر پھاڑ کر دیتا ہے؛ گھر سے بلا کر نوکر رکھ لیتے ہیں۔“

محمد کامل نے کہا، ”تو غرض یہ ہے کہ گھر بیٹھا رہوں؟“

اصغری نے کہا، ”یہ ہرگز میرا مطلب نہیں ہے؛ جہاں تک اپنے سے ہو سکے، ضرور کوشش کرنی چاہیے۔“

محمد کامل نے کہا، ”یہی تو مشکل ہے کہ کیا کوشش کروں؟“

اصغری نے کہا، ”جو لوگ نوکری پیشہ ہیں، ان سے ملاقات پیدا کرو، ان سے محبت بڑھاؤ؛ ان کے ذریعے سے تم کو نوکری کی خبر لگتی رہے گی، اور انہیں کے ذریعے سے تم کسی حاکم تک پہنچ جاؤ گے۔“

محمد کامل نے یہی کیا کہ نوکری والوں سے ملاقات کرنی شروع کی، یہاں تک کہ سررشتہ دار، تحصیل دار، ایسے لوگوں میں بھی آنے جانے لگا۔ روز کے آنے جانے سے سب کو معلوم ہوا کہ ان کو بھی نوکری کی جستجو ہے؛ یہاں تک کہ بندہ علی بیگ نے، جو کچہری میں اظہار نویس تھے، محمد کامل سے کہا کہ ”میاں، نوکری کی تلاش ہے تو میرے ساتھ کچہری چلا کرو؛ چندے امیدواری کرو، سررشتے کے کام سے واقفیت پیدا کرو، حاکموں کو صورت دکھاؤ؛ اسی طرح کبھی نہ کبھی ڈھب لگ جائے گا۔“

محمد کامل کچہری جانے لگا، اور بندہ علی بیگ کے ساتھ کام کیا کرتا تھا، یہاں تک کہ حاکم سے دستخط کرا لاتا۔ حاکم لوگ اس کو جاننے لگے۔ اسی اثنا میں چھوٹے چھوٹے عہدہ داروں کی دو چار عوضیاں بھی محمد کامل کو مل گئیں؛ کسی عملے کو رخصت کی ضرورت ہوئی، وہ آدھی تہائی تنخواہ پر عوضی اس کو دے گیا۔ یہاں تک کہ اتفاق سے ایک دس روپے کا روزنامچہ نویس تین مہینے کی رخصت پر گیا تھا؛ تین مہینے بعد اس نے استعفا بھیج دیا، اور مولوی محمد کامل صاحب اس کی جگہ مستقل ہو گئے۔

کبھی کبھی اصغری سے نوکری کا تذکرہ آتا، تو محمد کامل حقارت کے ساتھ کہا کرتا تھا کہ ”کیا واہیات نوکری ہے! دن بھر پسینا، اور دس روپے؛ نہ اوپر سے کچھ پیدا ہے، نہ آیندہ کو ترقی کی امید! میں تو اس کو چھوڑ دوں گا۔“

اصغری ہمیشہ ایسے خیالات پر ملامت کرتی کہ ”سخت درجے کی ناشکری تم کرتے ہو۔ وہ دن بھول گئے کہ امیدواری بھی نصیب نہ تھی؟ اب برسرِ کار ہو تو قدر نہیں کرتے! گھر کے گھر میں دس روپیہ کیا کم ہے؟ اپنے بڑے بھائی کو دیکھو کہ کئی برس تک سوداگر کے یہاں دس روپے کی نوکری کرتے رہے۔ اور جب تم نوکری سے ایسے دل برداشتہ ہو، تو تم سے کام بھی کیا خاک ہوتا ہو گا؟ آخر کو نوکری خود چھٹ جائے گی۔ اور اسی طرح تھوڑے سے بہت بھی ہوتی ہے؛ ہمارے ابا پہلے آٹھ روپے مہینے کے نقل نویس تھے، اب خدا کے فضل سے تحصیل دار ہیں؛ اور خدا نے چاہا تو اور بھی بڑھیں گے۔ اوپر کی آمدنی پر کبھی بھول کر بھی نظر مت کرنا؛ حرام کے مال میں ہرگز برکت نہیں ہوتی۔ تقدیر سے بڑھ کر مل نہیں سکتا؛ پھر آدمی نیت کو ڈانواں ڈول کیوں کرے؟ اگر اس سے زیادہ ملنے والا ہے، تو خدا حلال سے بھی دے سکتا ہے۔“

غرض اصغری ہمیشہ محمد کامل کو سمجھاتی رہتی تھی؛ یہاں تک کہ جس حاکم کے پاس محمد کامل نوکر تھا، اس کی بدلی سیالکوٹ کو ہوئی۔ یہ حاکم محمد کامل پر بہت مہربانی کرتا تھا۔ دن کو کچہری میں یہ حال معلوم ہوا؛ شام کو محمد کامل گھر میں آیا تو بہت افسردہ خاطر تھا۔ اصغری نے پوچھا، ”خیریت ہے؟ آج کیوں اداس ہو؟“

محمد کامل نے کہا، ”کیا بتاؤں؟ جیمس صاحب کی بدلی سیالکوٹ کو ہو گئی؛ وہی تو اپنے ایک مہربانِ حال تھے؛ اب کچہری میں رہنے کا مزہ نہیں۔“

اصغری نے بہت دیر تک سکوت کیا، پھر کہا کہ ”بے شک، جیمس صاحب کا بدل جانا افسوس کی بات ہے، لیکن نہ اس قدر کہ جتنا تم کو ہے۔ دوسرا جو ان کی جگہ آوے گا، خدا اس کے دل میں بھی رحم ڈال دے گا۔ آدمی کو آدمی پر بھروسا نہیں رکھنا چاہیے۔“

پھر اصغری نے پوچھا، ”جیمس صاحب کب جائیں گے؟“

محمد کامل نے کہا، ”کل شام کو ڈاک میں سوار ہو جائیں گے۔“

اصغری نے کہا، ”تم ان کے بنگلے پر نہیں گئے؟“

محمد کامل نے کہا، ”اب کیا جانا؟“

اصغری نے کہا، ”واہ، یہی تو ملنے کا وقت ہے؛ کچھ نہ ہو گا، تو کوئی چٹھی پروانہ تم کو دے جائیں گے۔“

محمد کامل نے کہا، ”اچھا، صبح کو جاؤں گا۔“

بہت سویرے کپڑا پہنا، محمد کامل جیمس صاحب کے بنگلے پر گیا۔ جیمس صاحب نے کہا، ”محمد کامل، ہم اب سیالکوٹ جاتا ہے، اور ہم تم سے بہت راضی تھا؛ اب تم چاہے تو ہمارے ساتھ سیالکوٹ چلے؛ ہم تم کو وہاں نوکری دے گا؛ نہیں، اپنے پاس سے پندرہ روپے دے گا۔“

محمد کامل نے سوچ کر کہا کہ ”اس کا جواب میں حضور کو پھر حاضر ہو کر دوں گا؛ اپنی والدہ سے پوچھ لوں۔“

غرض محمد کامل گھر لوٹ کر آیا تو ذکر کیا کہ ”جیمس صاحب مجھ کو ساتھ لیے جاتے ہیں۔“ محمد کامل کی ماں نے تو سنتے ہی غل مچایا؛ اصغری بھی سناٹے میں ہو گئی۔ آخر محمد کامل نے پوچھا کہ ”صاحبو، بتاؤ کہ میں جا کر کیا جواب دوں؟“

محمد کامل کی ماں بولیں کہ ”جواب کیا دینا ہے؟ اب کیا وہ تیرے لیے بیٹھا رہے گا، یا تیرے لیے سپاہی بھیج رہا ہے؟“

محمد کامل نے کہا، ”نہیں بی، میں اس سے وعدہ کر آیا ہوں؛ اپنے جی میں کہے گا، ’ہندوستانی کیسے خود مطلبی ہوتے ہیں! چلتے وقت ہم سے جھوٹ بولا۔‘“

محمد کامل کی ماں نے کہا، ”اچھا، جا کر کہہ آؤ کہ ’میرا جانا، صاحب، نہیں ہو سکتا۔‘“

محمد کامل نے اصغری سے پوچھا، ”کیوں صاحب، تمہاری کیا صلاح ہے؟“

اصغری نے کہا، ”صلاح اور ہوتی ہے، اور دل کی خواہش اور ہوتی ہے۔ دل کی خواہش تو یہ تھی کہ تم یہاں رہو؛ گھر کا انتظام صرف تمہارے دم سے ہے؛ آخر گھر میں کوئی مرد بھی چاہیے۔ اور صلاح پوچھو تو جانا مناسب ہے؛ جب ایک حاکم خود بے کہے تم کو ساتھ لیے جاتا ہے، تو ضرور اپنی جگہ پہنچ کر بہت سلوک کرے گا۔“

محمد کامل نے کہا، ”پانچ روپیہ کے واسطے کیا دو تین سو کوس کا سفر! میرا تو دل جانے کو نہیں چاہتا۔ وہ مثل ہے، گھر کی آدھی نہ باہر کی ساری۔“

اصغری نے کہا، ”یوں تم کو اختیار ہے؛ لیکن ایسا موقع تقدیر سے ملا ہے، پھر ہاتھ نہ آئے گا۔ اور سفر کون نہیں کرتا؟ ہمارے ابا، تمہارے ابا، دیکھو، ان لوگوں نے عمریں سفر میں تیر کر دیں۔ اور بالفعل پانچ سن لیے گئے؛ پیچھے دیکھو گے، کتنے پانچ ہیں۔ اور اگر نہیں جاتے، تو پھر دس روپے سے بے دلی مت ظاہر کرنا۔“

محمد کامل نے کہا، ”تو یہاں کی نوکری کو استعفا دے جاؤں؟ اور فرض کیا کہ وہاں کچھ صورت نہ ہوئی، تو ادھر سے بھی گیا اور ادھر سے بھی گیا۔“

اصغری نے کہا، ”اول تو یہ فرض کرنا کہ وہاں کچھ صورت نہ نکلے، خلافِ عقل ہے؛ جیمس صاحب اتنا بڑا حاکم، اور تم کو کام دینا چاہے، اور صورت نہ نکلے، میری سمجھ میں تو نہیں آتا۔ اور پھر استعفا کیوں دو؟ مہینے دو مہینے کی رخصت لو۔“

محمد کامل نے کہا، ”ہاں، رخصت منظور ہوئی پڑی ہے!“

اصغری نے کہا، ”منظور ہونے کو کیا ہوا؟ اسی جیمس صاحب سے کہو، وہ چٹھی لکھ دے گا۔“

غرض اصغری نے زبردستی جوت کر محمد کامل کو جانے پر راضی کیا؛ اپنے پاس سے پچیس روپیہ نقد دیا، اور چھ جوڑے نئے کپڑے بنوا دیے؛ دیانت کے بیٹے رفیق کو ساتھ کر دیا۔ مولوی محمد کامل سیالکوٹ تشریف لے گئے۔

ادھر اصغری نے مولوی محمد فاضل صاحب کو یہ تمام حال خط میں لکھا، اور یہ بھی لکھ دیا کہ ”جیمس صاحب سیالکوٹ کو جاتے ہوئے ضرور لاہور ہو کر جائیں گے؛ اگر ایسا ہو سکے کہ آپ وہاں ان سے ملاقات کر کے ان کی سفارش کچھ رئیس سے کرا دیں، تو بہت مفید ہو گا۔“

مولوی صاحب نے جیمس صاحب کی جستجو کی؛ اور رئیس کے کچھ دیہات ضلع سیالکوٹ میں بھی تھے؛ مولوی صاحب نے رئیس کی طرف سے صاحب کی دعوت کی، اور رئیس کے باغ میں ٹھہرایا۔ کھانے کے بعد صاحب اور رئیس دونوں بیٹھے ہوئے باتیں کر رہے تھے کہ مولوی صاحب نے جیمس صاحب سے کہا، ”دلی کی رعیت کو آپ کی مفارقت کا بہت قلق ہے؛ اگرچہ آپ صرف دو برس دلی میں حاکم رہے، لیکن آپ کے انصاف، آپ کی شرفا پروری سے وہاں کے لوگ بہت خوش تھے۔ ایک بندہ زادہ بھی آپ کی خدمت میں حاضر تھا؛ اس کے لکھنے سے سب حال معلوم ہوتا رہتا تھا۔“

صاحب نے پوچھا، ”کیا کوئی آپ کا لڑکا بھی میری کچہری میں تھا؟“

مولوی صاحب نے کہا، ”محمد کامل۔“

صاحب نے کہا، ”وہ تو ہمارے ساتھ آتا ہے؛ وہ آپ کا بیٹا ہے؟“

مولوی صاحب نے کہا، ”آپ کا غلام ہے۔“ رئیس نے اس تقریب میں صاحب سے کہا کہ ”مولوی صاحب ہماری ریاست کے قدیم الخدمت ہیں، اور ہم کو ہر طرح سے ان کی پرداخت مرکزِ خاطر رہتی ہے؛ لیکن آپ تو جانتے ہیں، اب گنجایش نہیں۔ پس اگر آپ ان کے بیٹے کی پرورش فرمائیں گے، تو ہم آپ کے ممنون ہوں گے۔“

جیمس صاحب پہلے سے محمد کامل کے حال پر ملتفت تھے؛ ایسے وقتِ مناسب پر تقریب ہو گئی کہ جیمس صاحب کو بہت خیال ہو گیا۔ اول تو جوان عمر؛ دوسرے، شریف؛ تیسرے، رئیس کا سفارشی؛ چوتھے، خود صاحب کا رفیق؛ پانچویں، لائق؛ اتنے حقوق محمد کامل کو حاصل ہو گئے۔ صاحب نے پہلے دن کچہری کرتے ہی محمد کامل کو پچیس روپے کا نائب سررشتہ دار کیا، اور مولوی محمد فاضل صاحب کو خط لکھا کہ ”بالفعل ہم نے آپ کے بیٹے کو پچیس کی نوکری دی ہے، اور ہم جلد اس کی ترقی کریں گے؛ آپ رئیس کی خدمت میں اطلاع کر دیجیے۔“

مولوی صاحب نے بطرزِ مناسب صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ اور وہ محمد کامل، جو کبھی امیدواری کا محتاج تھا، اور چھوٹے چھوٹے عہدہ داروں کی عوضیاں کرتا تھا، اور صرف دس روپے کا روزنامچہ نویس تھا، اور پندرہ کے وعدے پر، اصغری کے جوتنے سے، جیمس صاحب کے ساتھ سیالکوٹ آیا تھا، اب ایک دم سے پچیس کا عہدہ دار ہو گیا۔ محمد کامل کی ماں، اگرچہ جاتے وقت ناخوش ہوئی تھیں، پچیس کا نام سن کر ان کی باچھیں بھی کھل گئیں۔ اب تو گھر میں چوگنی برکت ہو گئی؛ اصغری کا انتظام، اور بیس کی جگہ اب ساٹھ روپے مہینہ گھر میں آنے لگا؛ کیا پوچھنا ہے؟

محمد کامل آخر ایک ہی برس میں سررشتہ دار ہو گیا۔ لیکن سررشتہ دار ہونے تک سنبھلا ہوا تھا؛ خرچ بھی برابر آتا تھا، خط بھی متواتر چلے آتے تھے؛ لیکن آخر جوان آدمی تھا، خود مختار ہو کر رہا، صحبت بری مل گئی، بہک چلا؛ خطوں میں کمی شروع ہوئی۔ اصغری تو بڑی دانش مند تھی؛ سمجھ گئی کہ دال میں کالا ہے۔ بہت دن تک اصغری فکر میں رہی کہ اب کیا تدبیر کروں؛ آخر کو سوائے اس کے کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ خود جانا چاہیے۔

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。