
الفصل 16 من 20
Asghari Goes to Sialkot
اصغری سیالکوٹ میں
ہرچند اصغری نے سیالکوٹ جانے کا عزمِ مصمم کر لیا تھا، لیکن تماشا خانم کو صلاح کے واسطے بلا بھیجا، اور سب حال اس سے کہا۔ تماشا خانم نے کہا، ”بوا، کوئی دیوانی ہوئی ہے؟ شہر چھوڑ کر اب کہاں سیالکوٹ جاتی پھرے گی؟“
اصغری نے کہا، ”مجھ کو شہر سے کیا مطلب! میں تو جس کے ساتھ وابستہ ہوں، وہیں شہر ہے۔“
تماشا خانم نے کہا، ”اے ہے! کنبے والے کیا کہیں گے؟ ہمارے کنبے میں سے آج تک کوئی باہر نہیں گیا۔“
اصغری نے کہا، ”اس میں عیب کی کیا بات ہے؟ آخر یہی کہیں گے کہ ’میاں کے پاس چلی گئی، تو برا کیا کیا؟‘ اور کنبے کی رسم کو جو پوچھو، تو پچھلے دنوں نہ ڈاک تھی، نہ ریل، نہ رستے آباد تھے؛ عورتوں کا سفر کرنا بہت مشکل تھا؛ اس سبب سے لوگ نہیں جاتے تھے۔ اب کیا مشکل ہے؟ اگر آج ڈاک میں بیٹھوں، اور خدا اصل خیر رکھے، تو پرسوں سیالکوٹ داخل؛ گویا میرٹھ گئی۔“
تماشا خانم نے کہا، ”کیا طلبی کا خط آیا ہے؟“
اصغری نے کہا، ”خط تو نہیں آیا۔“
تماشا خانم بولی، ”بن بلائے جانا تو مناسب نہیں۔“
اصغری نے کہا، ”تم مناسب نامناسب دیکھتی ہو، اور میں کہتی ہوں کہ اگر میں نہ جاؤں گی تو عمر بھر کو گھر غارت ہو جائے گا۔“
تماشا خانم بولی، ”اے آپا، ایسی تم کیوں گری پڑتی ہو؟ تم کو ان کی کیا پروا ہے؟ خدا تمہارے مکتب کو سلامت رکھے، تم دس کو روٹی کھلایا کرو۔“
اصغری نے کہا، ”واہ، آپ کی بھی کیا سمجھ ہے؟ یہ مکتب تو میں نے اپنا جی بہلانے کے واسطے بٹھا لیا ہے؛ کچھ مجھ کو اس سے کمائی کرنی منظور نہیں۔ خدا جانے، تم کو یقین آوے یا نہ آوے، آج تک میں نے مکتب کی رقم سے ایک پیسہ اپنے اوپر خرچ نہیں کیا؛ صرف پچاس روپیے نقد اور بیس کپڑے کے واسطے تمہارے بھائی جان کو، سیالکوٹ جاتے ہوئے، ضرور دیے تھے، سو بھی قرض داخل؛ اور باقی کوڑی کوڑی کا حساب لکھا ہوا موجود ہے؛ دیکھ لو۔ عورتوں کی کمائی بھی کوئی کمائی ہے؟ اگر عورتوں کی کمائی سے گھر بسا کریں، تو مرد کیوں ہوں؟ میرا اپنا گھر بنا رہے، تو میں ایسے ایسے دس مکتبوں کے اجڑنے کی بھی پروا نہیں کرتی۔“
تماشا خانم نے کہا، ”ایسی بھری برسات میں کہاں جاؤ گی؟ جاڑا آنے دو؛ اس وقت کھلے موسم میں دیکھ لینا۔“
اصغری نے کہا، ”اے ہے، دیر کرنا تو غضب ہے۔ اب جو کام سمجھانے سے نکلے گا، پھر بڑے جھگڑوں سے بھی طے نہیں ہو گا۔“
تماشا خانم نے کہا، ”اے ہے آپا، گھر چھوڑتے ہوئے تمہارا جی نہیں کڑھتا؟“
اصغری نے کہا، ”کیوں نہیں کڑھتا؟ کیا میں آدمی نہیں ہوں؟ لیکن یہ تھوڑی دیر کا کڑھنا بہتر، یا عمر بھر کا جلاپا؟“
تماشا خانم نے کہا، ”تم نے اپنی ساس سے بھی اجازت لی؟“
اصغری نے کہا، ”بھلا، وہ اجازت دیں گی؟ لیکن ہماری ساس بیچاری سیدھی آدمی ہیں؛ میں سمجھا دوں گی تو یقین ہے، نہ روکیں۔“
غرض یہ کہ اصغری نے اپنا ارادہ اور اس کی وجوہات اپنی ساس سے ایک دن بیان کیں۔ بات معقول تھی؛ اس میں کون گفتگو کر سکتا تھا؟ اصغری کا جانا ٹھہر گیا۔ ایک روز جا کر اصغری سب کچا حال اپنی ماں سے بھی کہہ آئی، اور رخصت ہو آئی۔ مکتب کے واسطے لڑکیوں کو سمجھا دیا کہ ”محمودہ تم سب کے پڑھانے کو بہت ہیں؛ میں صرف دو مہینے کے واسطے جاتی ہوں؛ سب لڑکیاں بدستور آیا کریں۔“
رخصت ہونے کی تقریب سے اپنی آپا کے پاس گئی۔ محمد عاقل نے پوچھا، ”کیوں بھئی تمیز دار بہو، تم جاتی ہو، مکتب کو کیا کر چلیں؟“
اصغری نے کہا، ”مکتب اور گھر سب آپ کے حوالے کیے جاتی ہوں۔“
محمد عاقل نے کہا، ”وہ کیا خوب! نہ مجھ کو گھر سے تعلق، نہ مکتب سے واسطہ؛ میں کیا کر سکتا ہوں؟“
اصغری نے کہا، ”تعلق رکھنا اور نہ رکھنا سب آپ کے اختیار میں ہے۔“
محمد عاقل نے کہا، ”تمیز دار بہو، یہ بات تمہارے منہ سے زیبا نہیں؛ بھلا میرا کیا اختیار ہے؟ گھر تمہاری آپا نے چھڑوایا؛ رہا مکتب، سو لڑکیوں کا ہے؛ لڑکوں کا مکتب ہوتا تو میں خوشی سے سب کو پڑھا دیا کرتا۔“
اصغری نے کہا، ”اب آپا اور آپ دونوں گھر میں چل کر رہیے؛ اماں جان اکیلی ہیں۔“
محمد عاقل نے کہا، ”اپنی بہن کو سمجھاؤ۔“
اصغری نے کہا، ”سمجھانے کی کیا ضرورت ہے؟ آپا تو خود جانتی اور سمجھتی ہیں؛ یہاں اکیلے آپ کو تکلیف ہوتی ہے؛ نہ بچوں کا کوئی سنبھالنے والا ہے، نہ گھر کا کوئی دیکھنے والا۔ دکھ سکھ آدمی کے ساتھ ہیں؛ بے ضرورت جدا رہنا مناسب نہیں؛ اور پچھلی باتیں گئی گزری ہوئیں؛ آپس کی نااتفاقی کیا؟ اور باہم کی رنجش کیسی؟“
اکبری جدا گھر کرنے کا مزا خوب چکھ چکی تھی، اور بہانہ ڈھونڈھتی تھی کہ پھر ساتھ رہنے کو کوئی کہے؛ فوراً راضی ہو گئی؛ اور اصغری دونوں کو اپنے ساتھ لوا لائی۔ محمد کامل کی ماں کو اصغری کے جانے کا سخت قلق تھا؛ اب ان کی بھی تسلی ہو گئی کہ ”خیر، ایک بہو گئی تو دوسری موجود ہے۔“ محمودہ کو البتہ بڑی فکر تھی کہ ”دیکھیے، کیا ہو؟“ لیکن اصغری نے ادھر تو محمودہ کی تسلی کی، اور سمجھا دیا کہ اب وہ باتیں نہیں ہیں؛ ادھر اپنی آپا کو سمجھا دیا کہ ”محمودہ اب بڑی ہو گئی ہے، کوئی سخت بات اس کو نہ کہیے گا۔“ مکتب کے واسطے محمد عاقل سے اتنا کہہ دیا کہ ”پڑھانا لکھانا وغیرہ سب محمودہ کر لیا کریں گی؛ آپ صرف بالائی انتظام کی خبر لے لیا کیجیے، اور مکتب کی رقم کا حساب کتاب محمودہ کو لکھا دیا کیجیے۔“
الغرض اصغری رخصت ہوئیں؛ ڈاک پر سوار ہو سیدھی سیالکوٹ پہنچیں۔ یہاں محمد کامل دفعتاً اصغری کے پہنچنے سے سخت متعجب ہوا، اور پوچھا کہ ”خیریت ہے؟ کہیں اماں سے تو نہیں لڑ آئیں؟“
اصغری نے کہا، ”توبہ کرو! کیا اماں جان میرے برابر کی ہیں کہ میں ان سے لڑنے جاؤں گی؟ اس چار برس میں کبھی تم نے مجھ کو ان سے یا کسی سے لڑتے دیکھا؟“
یہاں محمد کامل نے خوب ہاتھ پاؤں نکالے تھے، اور بری صحبت میں مبتلا تھا۔ خوشامدی لوگ جمع تھے، اور وہ اس کو الو بنائے ہوئے تھے۔ بازارِ رشوت گرم تھا؛ ناچ رنگ تک بھی احتراز باقی نہ رہا تھا۔ امیری ٹھاٹھ تھے؛ تنخواہ سے چارچند کا معمولی خرچ۔ اگر یہی حال چندے اور رہتا، ضرور جیمس صاحب کو بدگمانی پیدا ہوتی، اور آخر کو نوکری جاتی رہتی۔ اچھے وقت اصغری جا پہنچی۔ فوراً اس نے ہر طرف سے رخنہ بندیاں کیں، اور سمجھایا کہ ”تم کو خدا نے سو کا نوکر کر دیا؛ اس کا یہی شکریہ ہے کہ تم کو اس پر قناعت نہیں؟“
محمد کامل نے کہا کہ ”جو خوشی سے دے، اس میں کیا قباحت ہے؟“
اصغری نے کہا، ”سبحان اللہ! روپیہ بھی ایسی چیز ہے کہ کوئی اس کو بے وجہ خوشی سے دیتا ہے؟ ان دنوں لوگ روپے کے اس قدر حاجت مند ہیں کہ عزت تک کی پروا نہیں کرتے، مگر روپیہ نہیں چھوڑتے۔ آدمی اپنے اوپر قیاس کرے کہ ہم کسی کو کیا دیا کرتے ہیں؛ ایک زکوٰۃ کی بھی کچھ اصل ہے؛ سیکڑے پیچھے، برسویں دن، چالیسواں حصہ، ڈھائی روپیہ؛ وہی دیتے ہوئے جان نکلتی ہے! لوگوں کے پاس ایسا کہاں کا خزانۂ قارون بھرا پڑا ہے کہ وہ تم کو بے مطلب دے جاتے ہیں؟ جب دیکھتے ہیں کہ کام بگڑتا ہے، نہ دیں گے تو مقدمہ خراب ہو گا، عاجز آ کر، قرض وام لے کر، گھر والیوں کے زیور بیچ کر رشوت دیتے ہیں۔“
محمد کامل نے کہا، ”میں خود نہیں لیتا، پھر اس میں کیا ڈر ہے؟“
اصغری بولی، ”اول تو رشوت چھپ نہیں سکتی؛ علاوہ اس کے، فرض کیا کہ آدمی پر ظاہر نہ ہوئی، خدا جو پردوں میں دیکھتا ہے، وہ تو جانتا ہے۔ بندوں کا گناہ جمع کرنا اور عاقبت کی جوابدہی سمیٹنا بڑی بے باکی کی بات ہے۔“
غرض پس و پیش سمجھا کر اصغری نے محمد کامل سے توبہ کرائی۔ چند روز رہ کر اصغری نے پوچھا، ”یہ چار آدمی جن کو باہر کھانا جاتا ہے، کون لوگ ہیں؟“
محمد کامل نے کہا، ”نوکری کے امیدوار ہیں؛ بیچارے غریب الوطن ہیں؛ میں نے کہا، ’اچھا، جب تک تمہاری نوکری لگے، تب تک میرے پاس رہو۔‘“
اصغری نے پوچھا، ”پھر اب تک ان کو نوکری نہیں ملی؟“
محمد کامل نے کہا، ”نوکری تو ملتی ہے، لیکن ان کی حیثیت سے کم ہے۔“
اصغری نے کہا، ”جب ان کی حالت یہاں تک پہنچی ہے کہ دوسرے کے سر پر پڑے ہوئے روٹیاں کھاتے ہیں، تو حیثیت سے کیا بحث باقی رہی؟ تھوڑی بہت جو ملے، کر لیں۔“
محمد کامل نے کہا، ”خدا جانے تم کیا کہتی ہو! عزت سے گھٹ کر کیونکر کر لیں؟“
اصغری نے کہا، ”کم درجے کی نوکری میں تو بے عزتی ہوتی ہے، اور دوسرے کے سر دھائی دینے میں بے عزتی نہیں! جب ان لوگوں میں اتنی غیرت نہیں، تو اور عادتیں بھی ان میں ضرور بری ہوں گی؛ ان کا ساتھ اچھا نہیں۔ ضرور تمہارے نام سے کچھ یہ لیتے بھی ہوں گے۔ ان سے کہو کہ یا نوکری کریں، یا رخصت ہوں۔“
محمد کامل نے کہا، ”میری مروت تو مقتضی نہیں ہوتی کہ میں جواب دوں۔“
اصغری نے کہا، ”جب ان میں مروت نہیں، تو تم کو مروت کا لحاظ کیا ضرور ہے؟ اگر ہم سے بچے، تو کنبے میں بہت سے غریب ہیں؛ ان کا حق مقدم ہے؛ غیروں کو، اور غیروں میں سے ایسوں کو، دینے سے کیا فائدہ؟ اور یہ ضرور نہیں کہ تم سختی سے جواب دو؛ کسی طور پر ان کو سمجھا دو۔“
خلاصہ یہ کہ یہی لوگ محمد کامل کے شیطان تھے۔ اصغری نے حکمتِ عملی سے ان کو نکلوا دیا۔ نوکروں میں جو جو بدوضع تھے، چھانٹ چھانٹ کر نکالے گئے۔ اور ڈیڑھ برس اصغری نے رہ کر اندر باہر سب انتظام درست کر دیا۔ اب میاں مسلم کی شادی ہونے والی تھی؛ اصغری کی طلب میں خط گیا، اور تماشا خانم نے بہت اصرار کے ساتھ لکھا۔ ازبس کہ بہت دن ہو چکے تھے، اصغری نے دلی آنے کا ارادہ کیا؛ لیکن اپنے دل میں سوچی کہ محمد کامل کو اکیلا چھوڑ جانا مصلحت نہیں۔ محمد کامل سے کہا کہ ”مسافرت میں تنہا رہنا مناسب نہیں؛ کوئی اپنا رشتہ دار ساتھ رہنا ضرور ہے؛ سو میرے نزدیک تم اپنے خالہ زاد بھائی، محمد صالح کو بلا لو؛ وہ یہاں تمہارے پاس کچہری کا کام بھی سیکھے گا، اور پڑھے گا بھی؛ اور شاید کہیں اس کی نوکری بھی لگ جائے۔“
امیر بیگم کو خط گیا، اور اصغری کے رہتے محمد صالح پہنچ گیا۔ یہ لڑکا نہایت درجے کا نیک بخت تھا، اور محمد کامل سے صرف دو برس چھوٹا تھا۔ اب اصغری کو اطمینان ہوا، تو سیالکوٹ سے رخصت ہو لاہور پہنچی؛ یہاں مولوی محمد فاضل صاحب کے پاس ایک ہفتہ مقیم رہی۔ مولوی محمد فاضل کی عمر ساٹھ برس کے قریب تھی، اور مختاری کی نوکری میں محنت بہت تھی: روز بلاناغہ سب حاکموں کی کچہری میں جا کر رئیس کے مقدمات کی خبر لینا، اور صبح و شام عملوں میں جانا؛ بیچارے مولوی صاحب رات کو آتے تو بہت تھک جاتے تھے۔ اصغری نے کہا، ”ابا جان، اب آپ کی عمر اس مشقت کے قابل نہیں؛ مناسب ہے کہ آپ گھر بیٹھنے کی فکر کیجیے۔ ایک کتاب میں میں نے پڑھا ہے کہ انسان عمر کے تین حصے کرے: پہلا حصہ بچپن کا، اور دوسرا دنیا کے کاموں کے بندوبست کا، تیسرا آرام اور یادِ الٰہی کا۔ پس اب آپ گھر چل کر آرام سے بیٹھیے۔“
مولوی صاحب نے کہا، ”اول تو رئیس نہیں چھوڑتا؛ دوسرے، آخر کوئی میری جگہ کام کرنے والا بھی تو چاہیے۔“
اصغری نے کہا، ”رئیس سے جب آپ اپنی ضعیفی کا عذر کیجیے گا، تو غالب ہے کہ مانیں؛ اور کام کرنے کو تو بھائی جان کیا کم ہیں؟“
مولوی صاحب نے کہا، ”وہ کچہری دربار کا دستور قاعدہ کیا جانے؟“
اصغری نے کہا، ”چند روز ان کو بلا کر ساتھ رکھیے؛ دیکھنے بھالنے سے سب معلوم ہو جائے گا۔ وہ تو مولوی آدمی ہیں؛ ہندو لوگ تو دو چار فارسی کی کتابیں پڑھ کر کچہری کی نوکری کرنے لگتے ہیں۔“
مولوی صاحب کو اصغری کی بات پسند آئی۔ اصغری تو دلی پہنچی، اور مولوی صاحب نے محمد عاقل کو بلا بھیجا۔ چند روز میں محمد عاقل نے باپ کا سب کام اٹھا لیا، اور رئیس کو اپنی خدمت سے بہت خوش کیا۔ تب مولوی صاحب نے رئیس سے کہا کہ ”یہ لڑکا اب حضور کی خدمت میں حاضر رہے؛ مجھ کو آزاد فرمائیے:
رسم است کہ مالکانِ تحریرآزاد کنند بندۂ پیر“
رئیس دل کا بڑا سخی تھا؛ بیس روپیہ تاحیات مولوی صاحب کی پنشن کر دی، اور مولوی صاحب کی جگہ محمد عاقل کو پوری تنخواہ پر رکھ لیا۔
اصغری دلی میں آئی تو اس نے محمودہ کی فکر کی۔ حسن آرا جھجر سے اپنے گھر آئی ہوئی تھی، اور انہیں دنوں جمال آرا بھی سسرال سے چھوٹی بہن سے ملنے آئی تھی۔ حکیم جی کا تو تمام گھر اصغری کا مرید تھا۔ دونوں بہنیں اصغری کے آنے کی خبر سن کر دوڑی آئیں؛ ہر طرح کی باتیں ہوتی رہیں۔ جمال آرا نے کہا، ”استانی جی، کیسا جی تم میں پڑا تھا کہ بیان نہیں ہو سکتا۔ بھلا، حسن آرا تو تمہاری شاگرد ہیں، لیکن میں شاگردوں سے بھی زیادہ ہوں؛ میرا اجڑا ہوا گھر تمہیں نے بسوایا۔“
اصغری نے کہا، ”میں کس لائق ہوں؟“
جمال آرا نے کہا، ”واہ استانی جی، میں تو جیتے جی تمہارا سلوک نہیں بھولوں گی؛ اور کیا کروں؟ تم ہم لوگوں کی خدمت کسی طرح قبول نہیں کرتیں؛ نہیں تو اپنی کھال کی جوتیاں تم کو بنوا دیتی، تب بھی شاید تمہارا حق ادا نہ ہوتا۔“
اصغری نے کہا، ”اول تو کچھ خدمت مجھ سے نہ بن پڑی؛ اور باقتضائے سرداری کوئی کام آپ کو پسند ہوا، تو بیگم صاحب، آپ کو خدا نے سب قابل بنایا ہے؛ ہم غریبوں کا خوش کر دینا کون بڑی بات ہے؟“
حسن آرا بولی، ”اے ہے استانی جی، تم اپنے منہ سے کیسی بات کہتی ہو!“
اصغری نے کہا، ”سنو بوا حسن آرا، استانی گری اور شاگردی تو اب باقی نہیں؛ وہ مکتب تک تھی؛ اب، اللہ رکھے، تم بیاہی گئیں۔ ادھر تم پوتوں کی امیر اور امیروں کی سرتاج؛ ادھر یہ سردار اور سرداروں کی بیٹی بہو۔ اب اس شہر میں تم سے بڑھ کر تو دوسرا امیر نہیں؛ تم تک پہنچ کر جو آدمی محروم رہے، تو اس کی قسمت کا قصور ہے۔“
حسن آرا نے کہا، ”اچھی استانی جی، کیا بات ہے؟“
اصغری نے کہا، ”بوا، بڑا مشکل کام ہے؛ تم وعدہ کرو کہ مجھ کو ناامید نہ کرو گی، تو میں کہوں۔“
حسن آرا اور جمال آرا نے جانا کہ ”کسی کی نوکری چاکری کے واسطے کہیں گی“؛ دونوں نے کہا، ”استانی جی، خدا کی قسم، تمہارے واسطے ہم دل و جان سے حاضر ہیں؛ لو، ہم کو تو بڑی تمنا ہے کہ تم ہم سے کچھ فرمایش کرو۔“
اصغری نے کہا، ”وہ کام میرے نزدیک تو بڑا ہے، لیکن اگر آپ دونوں صاحب دل سے آمادہ ہوں، تو کچھ بڑا نہیں۔“
دونوں بہنوں نے کہا، ”استانی جی، خدا جانتا ہے، ہمارے کرنے کا کام ہو تو ہم کو ہرگز دریغ نہیں۔“
جب خوب پکا وعدہ کرا لیا، تو اصغری نے کہا، ”میری یہ عرضی ہے کہ محمودہ کو اپنی فرزندی میں قبول کرو۔“
یہ سن کر دونوں بہنوں نے سکوت کیا۔ پھر ادھر ادھر کی باتیں ہونے لگیں۔ جب دونوں اٹھنے کو ہو گئیں، تو اصغری نے ایک ہاتھ سے حسن آرا کا دوپٹا پکڑا، اور دوسرے ہاتھ سے جمال آرا کا، اور کہا کہ ”میں اپنا حق اب لڑ جھگڑ کر لوں گی؛ اور جب تک میرا سوال پورا نہ ہو گا، خدا کی قسم، جانے نہ دوں گی۔“
حسن آرا نے کہا، ”استانی جی، بھلا اس میں ہمارا کیا اختیار ہے؟ ابھی تو ارجمند لڑکا ہے؛ دوسرے، ایسی باتوں میں ماں باپ کے ہوتے، بہنوں کو کیا دخل؟“
اصغری نے کہا، ”بڑی اور بیاہی ہوئی بہنیں بھی ماں کے برابر ہوتی ہیں؛ اور رشتے ناتے بے سب کی صلاح کے نہیں ہوتے؛ ایسا ممکن نہیں ہے کہ تم سے مشورہ نہ ہو۔“
حسن آرا نے کہا، ”ابھی ہمارے یہاں تو کچھ ذکر مذکور کہیں کا نہیں ہے۔“
اصغری نے کہا، ”تم کو معلوم نہ ہو گا؛ علوی خاں کے یہاں رقعہ گیا تھا، واپس آیا۔“
جمال آرا نے کہا، ”استانی جی، تم نے سنا ہے تو گیا ہو گا، مگر ہم سے اس معاملے میں کچھ بات نہیں ہوئی۔ علوی خاں میں کیا برائی تھی؟ خدا جانے رقعہ پھروا کیوں لیا۔“ اسی طرح بات میں بات اور ہونے لگی۔ اصغری نے کہا، ”صاحبو، میرا مطلب رہا جاتا ہے؛ ’ہاں‘ ’نہیں‘ کا جواب مجھ کو دیجیے۔“
جمال آرا نے کہا، ”استانی جی، بھلا ہم کیونکر ہامی بھر سکتے ہیں؟“
اصغری نے کہا، ”دولت، صورت، سیرت، تین چیزیں ہوتی ہیں۔ دولت تو ہم غریبوں کے پاس نام کو نہیں رہی۔ سیرت، سو بوا حسن آرا، تم محمودہ سے بخوبی واقف ہو؛ دو برس تمہارا اس کا ساتھ رہا؛ تم سچ کہنا، شرم، لحاظ، قاعدہ، نیک بختی، ہر کام کا سلیقہ اور ہر طرح کا ہنر، لکھنا پڑھنا، سینا پرونا، پکانا، یہ سب باتیں محمودہ میں ہیں یا نہیں؟ کچھ اس پر موقوف نہیں ہے کہ محمودہ میری نند یا میری شاگرد ہے؛ نہیں، وہ لڑکی کچھ خدا نے بہمہ صفت موصوف پیدا کی ہے۔ کیوں بوا حسن آرا، میں جھوٹ کہتی ہوں تو تم بولو۔“
حسن آرا نے کہا، ”استانی جی، بھلا چاند پر کوئی خاک ڈال سکتا ہے؟ محمودہ بیگم، ماشاء اللہ، بڑے گھروں میں اپنا ثانی نہیں رکھتیں؛ بھلا، کوئی محمودہ بیگم کا پاسنگ تو ہو لے!“
اصغری نے کہا، ”اور صورت، سو ناک، کان، آنکھ، جیسے آدمی میں ہوتے ہیں، محمودہ میں بھی ہیں؛ وہ بھی آدمی کا بچہ ہے؛ جوان ہوئے پر کچھ اس سے زیادہ صورت نکل آئے گی۔“
جمال آرا بولی، ”اے استانی جی، محمودہ بیگم کو آدمی کا بچہ کہتی ہو! خدا کی قسم، حور کا بچہ ہے۔ بڑے گھروں میں، اونچی دکان پھیکا پکوان، ہم نے تو کوئی صورت دار نہ دیکھی۔ ہم دونوں بہنیں موجود ہیں؛ خدا کی قسم، بعض لونڈیاں ہم سے اچھی ہیں؛ اور محمودہ تو چندے آفتاب چندے ماہتاب؛ اس صورت کے آدمی کہاں نظر آتے ہیں؟“
اصغری نے کہا، ”پھر بوا، سوائے غریبی کے اور ہم میں کیا برائی ہے؟ اگرچہ چھوٹا منہ بڑی بات ہے، لیکن علی نقی خاں مرحوم کو دو چار پشتیں نہیں گزریں؛ آخر ہم بھی انہیں کے نام لیوا ہیں۔“
دونوں بہنوں نے کہا، ”استانی جی، تم ہماری سرتاج ہو؛ اور ہم اور تم کیا دو دو ہیں؟ ایک ذات، ایک خون۔“
اصغری نے کہا، ”پھر کیا تامل ہے؟ میری درخواست کو قبول فرمائیے۔“
حسن آرا نے کہا، ”اچھا استانی جی، آج ہم اس بات کا مذکور اماں سے کریں گے۔“
اصغری نے کہا، ”مذکور نہیں؛ مذکور تو میں بھی کر سکتی ہوں؛ بلکہ دل سے اس میں مدد کرو؛ اور اب یہ بات چھڑی ہے تو ایسا ہو کہ پوری ہو جائے۔“
دونوں بہنوں نے وعدہ کیا کہ ”استانی جی، جیسا آپ کا ارادہ ہے، ان شاء اللہ، ویسا ہی ہو گا۔“
غرض کہ اس وقت دونوں بہنیں رخصت ہو گئیں۔ اگلے دن اصغری خود سلطانہ بیگم سے ملنے کو گئی؛ دو سو روپے کا بہت عمدہ شالی رومال، جو سیالکوٹ سے لائی تھی، سلطانہ بیگم کو نذر دیا۔ سلطانہ بیگم نے کہا، ”استانی جی، تم ہم کو بہت شرمندہ کرتی ہو؛ ہم کو تمہاری خدمت کرنی چاہیے، نہ کہ الٹا تم سے لیں۔“
اصغری نے کہا، ”یہ رومال میں نے صرف آپ کے واسطے فرمایش کر کے بنوایا، اور اس کو آپ قبول فرمائیے۔ ڈیڑھ برس سے اسی امید میں میری گٹھری میں بندھا تھا کہ دلی چل کر میں خود پیش کروں گی۔“
سلطانہ بیگم نے کہا، ”میں اس کو بطور تبرک کے لیے لیتی ہوں؛ لیکن مجھ کو، خدا کی قسم، شرم آتی ہے۔ کبھی آپ نے بھی تو کچھ فرمایش کی ہوتی کہ میرا جی خوش ہوتا۔“
اتنا سہارا پا کر اصغری دست بستہ کھڑی ہو گئی، اور اپنا مطلب بیان کیا۔
سلطانہ بیگم نے کہا، ”اچھا استانی جی، آپ بیٹھیے تو سہی۔“
اصغری نے کہا، ”اب میں اپنی مراد لے کر بیٹھوں گی۔“
سلطانہ بیگم نے ہاتھ پکڑ کر بٹھا لیا، اور کہا کہ ”بیٹا بیٹیوں کے کام مشکل کام ہیں؛ کمہار کے یہاں سے دمڑی کا پیالہ لیتے ہیں تو ٹھوک بجا لیتے ہیں؛ اور یہ تو عمر بھر کی کمائیوں کے بیوہار ہیں؛ سوچ سمجھ کر، صلاح مشورہ ہو کر کرنا چاہیے۔ آپ نے ذکر کیا؛ اب میں ان کے باپ سے، اور اپنی بڑی بہن سے، اور کنبے کے اور دو چار آدمیوں سے صلاح کروں؛ پھر جیسا ہو گا، دیکھا جائے گا۔ اور ابھی تو ارجمند لڑکا ہے؛ اس کے بیاہ کی کیا جلدی ہے؟“
اصغری نے کہا، ”حوصلے سے بڑھ کر میں نے سوال کیا ہے؛ جس طرح مصر میں کوئی بڑھیا عورت سوت کی انٹی لے کر حضرت یوسف کی خریدار بنی تھی، اسی طرح میرے پاس غریبی اور عاجزی کے سوا کچھ دینے لینے کو نہیں ہے؛ اب صرف آپ کی مہربانی درکار ہے۔“
ہرچند سلطانہ بیگم نے زبان سے کچھ نہ کہا، لیکن انداز سے معلوم ہوا کہ بات ناگوار نہیں ہوئی۔ چلتے ہوئے اصغری جمال آرا اور حسن آرا سے کہتی گئی کہ ”اب اس کا نباہ آپ لوگوں کے اختیار میں ہے۔“
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.