Urdu in Translation
Search

Chapter 14 of 20

Lessons in the School

مکتب کی تعلیم

Deputy Nazir Ahmad

Script
Size

اگلے روز جو صفیہن آئی، تو لڑکیوں کے کشیدے، اور لڑکیوں کے بنے ہوئے گوٹے، لڑکیوں کے موڑے ہوئے گوکھرو، لڑکیوں کی بنائی ہوئی توئیاں اور چمپا، لڑکیوں کے قطع کیے ہوئے اور سیے ہوئے مردانے اور زنانے کپڑے، اصغری نے سب دکھائے، جن کے دیکھنے سے صفیہن کو نہایت اچنبھا پیدا ہوا۔ اس کے بعد لڑکیوں کی گڑیوں کے گھر دکھائے۔ ان گھروں میں خانہ داری کا سب لوازمہ، فرش فروش، گاؤ تکیے، اگالدان، چلمچی، آفتابہ، پٹاری، پردہ، چلمن، چھتگیری، پنکھا، مسہری، پلنگ، ہر طرح کے برتن، ہر طرح کا سامانِ آرایش، اپنے اپنے ٹھکانے سے رکھا ہوا تھا؛ اور گڑیاں ایسی سجی ہوئی تھیں کہ عین مین شادی کے گھر میں مہمان جمع ہیں۔ جب گڑیوں کے گھروں کو دیکھ چکی، تو اصغری نے صفیہن سے کہا کہ ”لڑکیوں کے سب کھیلوں میں مجھ کو گڑیوں کا کھیل بہت پسند ہے؛ اس کے ذریعے سے لڑکیاں سینا پرونا، کپڑوں کی قطع، اور گھر کا بندوبست، ہر طرح کی تقریبات، چھٹی، کھیر چٹائی، دودھ چھڑائی، بسم اللہ، روزہ، منگنی، عیدی، ساونی، محرم کی قفلیاں اور گوٹا، تیج تہوار، ساچق، برات، بہورا، بیاہ، چالے، چوتھی کی راہ و رسم، سے واقفیت حاصل کرتی ہیں۔ بوا صفیہن، تمہاری لڑکی تو ابھی تھوڑے دنوں سے آتی ہے؛ جو لڑکیاں میرے مکتب میں بہت دنوں سے ہیں، جیسے یہ بیٹھی ہے ام النبین، یا میری نند محمودہ، یا حسن آرا، توبہ توبہ کر کے کہتی ہوں کہ اگر ان کو کسی بڑے بھرے پرے گھر کا انتظام اس وقت سونپ دیا جائے، تو ان شاء اللہ ایسا کریں گی جیسے کوئی بڑی مشاق اور تجربہ کار کرتی ہے۔ میں تو صرف پڑھنے پر تاکید نہیں کرتی؛ ان کو دنیا کے کام کا بناتی ہوں، جو چند روز بعد ان کے سر پڑے گا۔“

یہ کہہ کر اصغری نے حسن آرا کو بلایا اور کہا کہ ”بوا، تمہاری گڑیا کا گھر تو خوب آراستہ ہے، صرف ایک کسر ہے کہ تمہاری گڑیوں کے پاس رنگین جوڑے نہیں معلوم ہوتے؛ شاید تم کو رنگنا نہیں آتا۔“

حسن آرا نے کہا، ”رنگ تو مجھ کو محمودہ بیگم نے بہت سکھا دیے ہیں؛ یونہی نہیں رنگے۔“

اصغری نے کہا، ”بھلا، بتاؤ تو۔“

حسن آرا بولی، ”استانی جی، برسات کے رنگ: سرخ، نارنجی، گلنار، گل شفتالو، سردئی، دھانی، اودی؛ اور جاڑے کے: گیندئی، جوگیا، عنابی، کاہی، تیلیا، کاکریزی، سیاہ، نیلا، گلابی، زعفرانی، کوکئی، کرنجوی؛ اور گرمی کے: پیازی، آبی، چمپئی، کپاسی، بادامی، کافوری، دودھیا، خشخاشی، فالسئی، ملاگیری، سیندوریا۔ اور رنگ تو اور بہت ہیں، مگر میں نے وہی بیان کیے جو اکثر پہنے جاتے ہیں۔“

اصغری نے پوچھا، ”رنگوں کے نام تو تم نے بہت سے گنوا دیے؛ بھلا یہ تو بتاؤ کہ یہ سب رنگ تم کو رنگنے آتے ہیں؟“

حسن آرا نے کہا، ”میں نے انہیں رنگوں کا نام لیا جو مجھ کو خود رنگنے آتے ہیں۔“

اصغری نے کہا، ”بھلا، بتاؤ تو، سردئی کیونکر رنگتے ہیں؟“

حسن آرا نے کہا، ”کاہی قند اچھی گہرے رنگ کی آدھ گز منگوائی، اور پانی کو خوب جوش کر کے پھٹکری ڈال کر ملا دیا؛ پھٹکری کی تاثیر سے قند کا رنگ کٹ جائے گا؛ پس اس میں کپڑا رنگ لیا۔“

اصغری نے کہا، ”بھلا، اور جو قند نہ ملے؟“

حسن آرا نے کہا، ”تو ٹیسو کے پھولوں کو جوش کر کے، پھٹکری پیس کر ملا دے، سردئی ہو جائے گا، لیکن ہلکا کپاسی ہو گا؛ اچھا سردئی بے قند کے نہیں رنگا جاتا۔ اور اگر قند کی جگہ بانات کا رنگ کاٹا جائے تو وہ عمدہ رنگ آتا ہے کہ سبحان اللہ! لیکن ان دنوں مجنٹن ایسا چلا ہے کہ سب رنگوں کو مات کیا ہے؛ کپڑے تو کپڑے، مٹھائی کھانے کا گوٹا مجنٹن میں نہایت خوش رنگ رنگا جاتا ہے۔ بڑی آپا جان نے مجنٹن کے رنگ کا زردہ پکا کر بھیجا تھا، زعفران سے بہتر رنگ تھا۔“

اصغری خانم نے گھبرا کر پوچھا، ”حسن آرا، کہیں تم نے تو وہ مجنٹن کے رنگے ہوئے چانول نہیں کھائے؟“

حسن آرا نے کہا، ”میں نے کھائے تو نہیں؛ لیکن استانی جی، کیوں؟ کیا کچھ بری بات ہے؟“

اصغری خانم نے کہا، ”اے ہے، مجنٹن میں سنکھیا پڑتی ہے؛ خبردار! مجنٹن کی کوئی چیز زبان پر مت رکھنا۔“

حسن آرا نے کہا، ”میں نے تو مجنٹن کا رنگا ہوا گوٹا محرم میں بہت کھایا ہے۔“

اصغری خانم نے کہا، ”کیا ہوا؟ رمق برابر مجنٹن میں تو بہتیرا گوٹا رنگا جاتا ہے؛ اس سبب سے تم کو کچھ نقصان نہ کیا؛ لیکن یاد رکھو کہ اس میں زہر ہے۔“

حسن آرا نے کہا، ”مجنٹن کی رنگی ہوئی مٹھائی لوگ منوں کھاتے ہیں۔“

اصغری خانم نے کہا، ”بہت برا کرتے ہیں؛ زہر جب اپنی معتاد پر پہنچ جائے گا، ضرور اثر کرے گا۔“

شام ہوئی تو لڑکیاں اپنے کشیدے اور کتاب رکھ رکھا، معمول بموجب کھیلنے اور کہانیاں اور پہیلیاں کہنے سننے کو آ بیٹھیں۔ اصغری نے صفیہن سے کہا کہ ”یہاں چڑے چڑیا کی کہانیاں نہیں ہوتیں؛ کہانیوں کی ایک بہت عمدہ کتاب ہے، جس میں بڑی اچھی اچھی کہانیاں ہیں، اور ہر ایک کہانی سے ایک نصیحت کی بات نکلتی ہے؛ اس کتاب کی زبان بھی بہت شستہ ہے؛ اب یہ لڑکیاں اسی کتاب کی کہانیوں سے جی بہلائیں گی۔ کہانیاں کہنے سے ان کی تقریر صاف ہوتی ہے، ادائے مطلب کی استعداد بڑھتی جاتی ہے؛ اور جب کبھی مجھ کو فرصت ہوتی ہے تو میں کہانیوں کے بیچ میں ان سے الجھتی جاتی ہوں، اور جیسی ان کی سمجھ ہے، یہ میری بات کا جواب دیتی ہیں؛ اگر نادرست ہوتا ہے، میں بتا دیتی ہوں۔ پہیلیوں کے بوجھنے سے ان کی عقل کو ترقی اور ان کے ذہن کو تیزی ہوتی ہے۔ لیکن تم ان میں بیٹھ کر سیر دیکھو؛ مجھ کو آج عالیہ کی ماں نے بلا بھیجا ہے؛ ان کے بچے کا جی اچھا نہیں؛ بہت بہت منتیں کہلا بھیجی ہیں؛ نہ جاؤں گی تو برا مانیں گی، اور میرا جی بھی نہیں مانتا۔“

صفیہن بولی، ”ہاں، میں نے بھی سنا ہے کہ ان کے لڑکے نے کئی دن سے دودھ نہیں پیا؛ بیچاری بہت ہراساں ہو رہی ہیں۔ اے ہے، خدا کرے، نگوڑا جیتا رہے! بڑے اللہ آمین کا بچہ ہے؛ دس برس میں پھڑک پھڑک کر خدا نے یہ صورت دکھائی ہے۔ عالیہ کے اوپر بھی تو ایک بچہ ہوا ہے۔ استانی جی، تم کو علاج کے واسطے بلایا ہو گا۔“

اصغری نے کہا، ”علاج ولاج تو مجھ کو کچھ بھی نہیں آتا؛ ایک مرتبہ پہلے اس لڑکے کو پیاس ہو گئی تھی؛ میں نے زہر مہرہ، بنسلوچن، گلاب کا زیرہ، چھوٹی الائچی، زیرے کی گری، کباب چینی، خرفہ، اس طرح کی دو چار دوائیں بتا دی تھیں؛ خدا کا کرنا، لڑکا اچھا ہو گیا۔“

صفیہن نے کہا، ”استانی جی، تم سب گنوں پوری ہو۔“

اصغری نے کہا، ”اس میں گن کی کیا بات ہے؟ ہمارے میکے میں دوا دارو کا بہت خیال ہے؛ جب میں چھوٹی تھی، جو دوا آتی، میں ہی اس کو چھانتی بناتی اور خیال رکھتی؛ اس طرح پر سنی سنائی دو چار دوائیں یاد ہیں؛ جس کو ضرورت ہوئی، بتا دی۔ اور بچوں کا علاج تو عورتیں ہی کر کرا لیا کرتی ہیں؛ جب ایسی ہی مشکل آ پڑتی ہے تو حکیم کے پاس لے جاتے ہیں۔“

صفیہن نے کہا، ”استانی جی، تم نے مہربانی کر کے مجھ کو اپنے مکتب کا سب انتظام تو دکھایا؛ للہ، ذرا دم کے دم ٹھہر جاؤ تو میں دیکھ لوں، لڑکیاں کیونکر کہانیاں کہتی ہیں، اور کہانیوں میں کیونکر تم تعلیم کرتی ہو۔“

اصغری نے کہا، ”بوا، مجھ کو تو دیر ہوتی ہے؛ پر خیر، تمہاری خاطر ہے۔ اچھی لڑکیو، آج کس کی باری ہے؟“

محمودہ نے کہا، ”باری تو امۃ اللہ کی ہے، لیکن فضیلت سے کہلوائیے۔“

اصغری نے کہا، ”اچھا فضیلت، کوئی بہت چھوٹی سی کہانی کہو۔“

فضیلت نے کہانی شروع کی کہ ”ایک تھا بادشاہ۔“

اصغری نے پوچھا، ”بادشاہ کس کو کہتے ہیں؟“

فضیلت بولی، ”جیسے دلی میں بہادر شاہ تھے۔“

اصغری: ”یہ تو تم نے ایسی بات کہی کہ جو دلی اور بہادر شاہ کو جانتا ہو، وہی سمجھے۔“

فضیلت نے کہا، ”بادشاہ حاکم کو کہتے ہیں۔“

اصغری: ”تو کوتوال تھانہ دار بھی بادشاہ ہیں۔“

فضیلت: ”نہیں، کوتوال تھانہ دار تو بادشاہ نہیں ہیں؛ یہ تو بادشاہ کے نوکر ہیں۔“

اصغری: ”کیوں؟ کیا کوتوال حاکم نہیں ہے؟“

فضیلت: ”حاکم تو ہے، لیکن بادشاہ سب سے بڑا حاکم ہوتا ہے، اور سب پر حکم چلاتا ہے۔“

اصغری: ”ہمارا بادشاہ کون ہے؟“

فضیلت: ”جب سے بہادر شاہ کو انگریز پکڑ کر کالے پانی لے گئے، تب سے تو کوئی بادشاہ نہیں ہے۔“

یہ سن کر سب لڑکیاں ہنس پڑیں۔

اصغری نے کہا، ”فضیلت، تم بڑی بے وقوف ہو۔ تم نے خود کہا کہ جو سب سے بڑا حاکم ہو اور سب پر حکم چلاوے، وہ بادشاہ ہوتا ہے؛ اور یہ بھی جانتی ہو کہ بہادر شاہ کو انگریز پکڑ کر کالے پانی لے گئے؛ تو انگریز بادشاہ ہوئے یا نہ ہوئے؟“

فضیلت: ”ہاں، ہوئے تو سہی۔“

اصغری: ”اچھا، اب بتاؤ، ہمارا کون بادشاہ ہے؟“

فضیلت: ”انگریز۔“

اصغری: ”کیا انگریز کسی خاص شخص کا نام ہے؟“

فضیلت: ”نہیں، سیکڑوں ہزاروں انگریز ہیں۔“

اصغری: ”کیا سب انگریز بادشاہ ہیں؟“

فضیلت: ”اور کیا؟“

یہ سن کر پھر لڑکیاں ہنسیں۔ اصغری نے حسن آرا کی طرف اشارہ کیا کہ ”تم جواب دو۔“

حسن آرا نے کہا، ”استانی جی، ہمارا بادشاہ ملکہ وکٹوریہ ہے۔“

اصغری: ”مرد ہے یا عورت؟“

حسن آرا: ”عورت ہے۔“

اصغری: ”کہاں رہتی ہیں؟“

حسن آرا: ”لندن میں۔“

اصغری: ”لندن کہاں ہے؟“

حسن آرا: ”انگریزوں کی ولایت میں ایک بہت بڑا شہر ہے۔“

اصغری: ”کتنی دور ہو گا؟“

حسن آرا: ”میں نے ایک کتاب میں پانچ ہزار کوس لکھا دیکھا ہے۔“

اصغری: ”کوس کتنا لمبا ہوتا ہے؟“

حسن آرا: ”استانی جی، سلطان نظام الدین کو تین کوس کہتے ہیں۔“

یہ سن کر محمودہ ہنسی اور کہا کہ ”ایک ہزار سات سو ساٹھ گز کا ہوتا ہے۔“

اصغری نے محمودہ سے پوچھا کہ ”اس مرتبہ جو میں قطب صاحب گئی تھی، اور تم بھی میرے ساتھ تھیں، تم نے بھی دیکھا تھا کہ تھوڑی تھوڑی دور سڑک پر پتھر گڑے تھے، اور پتھروں پر لکھا ہوا تھا؛ وہ پتھر کیسے تھے؟“

محمودہ: ”میں اٹکل سے یہی سمجھتی تھی کہ کوسوں کے پتھر ہیں؛ لیکن گاڑی ایسی تیز تھی کہ پتھروں پر نگاہ نہیں جمتی تھی؛ میں خوب نہیں پڑھ سکی کہ ان پر کیا لکھا تھا۔“

اصغری: ”وہ کوسوں کے پتھر نہیں تھے، میلوں کے پتھر تھے۔ آدھے کوس کا میل ہوتا ہے، اور ہر میل پر پتھر گڑا ہے؛ اس میں یہی لکھا ہوتا ہے کہ یہاں سے دلی اس قدر میل ہے اور قطب صاحب اتنے میل۔“

اس کے بعد اصغری پھر حسن آرا کی طرف مخاطب ہوئی اور پوچھا، ”ہاں بوا، لندن کس طرف ہے؟“

حسن آرا: ”اتر میں ہے۔“

اصغری: ”وہ ملک گرم ہے یا سرد؟“

حسن آرا: ”یہ تو میں نہیں جانتی۔“

محمودہ: ”بڑا سرد ہے؛ جتنا اتر کو جاؤ، گرمی کم ہے، اور جتنا دکھن کو چلو، گرمی زیادہ ہوتی جاتی ہے۔“

صفیہن: ”اچھی استانی جی، عورت بادشاہ ہے؟“

اصغری: ”اس میں تعجب کی کیا بات ہے؟“

صفیہن: ”تعجب کی بات کیوں نہیں؟ عورت ذات کیا کرتی ہو گی؟“

اصغری: ”جو مرد بادشاہ کرتے ہیں، وہی عورت کرتی ہے؛ ملک کا بندوبست، رعیت کا پالنا۔“

صفیہن: ”عورت کیا کرتی ہو گی؟ کرتے سب کچھ انگریز ہوں گے؛ برائے نام عورت کو بادشاہ بنا رکھا ہو گا۔“

اصغری: ”یہ سب انگریز ملکہ کے نوکر ہیں؛ ہر ایک کا کام الگ ہے، ہر ایک کا اختیار جدا ہے؛ اپنے اپنے کام پر مستعد رہتے ہیں؛ اور جب مرد بادشاہ ہوتے ہیں، تب بھی وزیر وزرا سب کام کیا کرتے ہیں۔“

صفیہن: ”میرا جی تو قبول نہیں کرتا کہ عورت ذات بادشاہت کر سکے۔“

اصغری: ”بھوپال کی بیگم کا نام سنا ہے؟“

صفیہن: ”کیوں؟ سنا کیوں نہیں! خود میرے سسرے بھوپال میں نوکر ہیں۔“

اصغری: ”بس، اسی طرح سمجھ لو۔ بھوپال ذرا سا ملک ہے، اور ملکہ وکٹوریہ کے پاس بڑی سلطنت ہے۔ جس طرح بھوپال کی بیگم اپنے چھوٹے ملک کا بندوبست کرتی ہیں، ملکہ وکٹوریہ اپنی بڑی سلطنت کا انتظام کرتی ہیں۔ بھوپال چھوٹی سرکار ہے، نوکر چاکر کم ہیں اور تھوڑی تنخواہ پاتے ہیں؛ ملکہ وکٹوریہ کی سرکار بڑی عالی جاہ سرکار ہے؛ بڑے کارخانے، لاکھوں نوکر، تنخواہیں بیش قرار۔“

صفیہن: ”اچھی، ملکہ کا کوئی میاں ہے؟“

اصغری: ”ہاں، مگر موت پر کسی کا زور نہیں چلتا؛ چاند کو بھی خدا نے داغ لگا دیا ہے۔ کئی برس ہوئے، ملکہ بیوہ ہو گئیں۔“

صفیہن: ”ملکہ کی اولاد ہے؟“

اصغری: ”ہاں، خدا رکھے! بیٹے، پوتے، نواسیاں، سب کچھ ہے۔“

صفیہن: ”اچھی، ملکہ اس ملک میں کیوں نہیں آتیں؟“

اصغری: ”وہاں بھی بڑا ملک ہے؛ وہاں کے کاموں سے فرصت نہیں ملتی۔ لیکن ان دنوں ملکہ کا بیٹا آنے والا ہے؛ بڑی تیاریاں ہو رہی ہیں؛ اخبار میں دیکھا ہے۔“

صفیہن: ”اچھی، ملکہ کو ہزاروں کوس دور بیٹھے یہاں کی کیا خبر ہوتی ہو گی؟“

اصغری: ”کیوں نہیں؟ ذرہ ذرہ خبر ہوتی ہے؛ ڈاک اور تار برقی پر رات دن خبریں آتی جاتی ہیں؛ ہزاروں اخبار ولایت جاتے ہیں۔“

صفیہن: ”ملکہ کو کیونکر دیکھیں؟“

اصغری: ”کیونکر بتائیں؟ لیکن ان کی تصویر البتہ دیکھ سکتی ہو۔“

صفیہن: ”خیر، تصویر ہی دیکھ لیتی۔“

اصغری: ”بوا، تم بھی تماشے کی باتیں کرتی ہو؛ کیا تم نے روپیہ نہیں دیکھا؟“

صفیہن: ”کیوں نہیں دیکھا؟“

اصغری: ”عورت کا چہرہ جو بنا ہے، وہ ملکہ کی تصویر ہے۔ خطوں کے ٹکٹ پر ملکہ کی تصویر ہے؛ اور میرے پاس ملکہ کی ایک بڑی عمدہ تصویر اور ہے؛ میرے ابا کو کسی انگریز نے دی تھی، وہ انہوں نے میرے پاس بھیج دی تھی۔ محمودہ، میرا صندوقچہ تو اٹھا لاؤ۔“

صندوقچے میں سے اصغری نے ملکہ کی تصویر نکال کر دکھائی، اور سب لڑکیوں نے نہایت شوق سے ملکہ کی تصویر کو دیکھا۔

صفیہن: ”کیا اچھی تصویر ہے! عین مین ملکہ کھڑی ہیں۔“

اصغری: ”بے شک، یہ تصویر ہو بہو ملکہ کی ہے؛ روپے کے چہرے سے ملا کر دیکھو، کتنا فرق ہے! یہ تصویر ہاتھ کی بنائی ہوئی نہیں ہے؛ ایک آئینہ ہوتا ہے، اس کو کچھ مصالح لگا کر سامنے رکھ دیتے ہیں، خود بخود جیسی کی تیسی شکل اتر آتی ہے۔“

صفیہن: ”حسن آرا نے لندن کو پانچ ہزار کوس دور بتایا، تو کہیں برسوں میں یہاں سے وہاں تک آتے جاتے ہوں گے۔“

اصغری: ”نہیں، سمندر سمندر ایک مہینے میں بافراغت پہنچ جاتے ہیں۔“

صفیہن: ”اے ہے، سمندر ہو کر جانا پڑتا ہے! انگریزوں کے بھی کیسے دل ہیں! ان کو سمندر سے ڈر نہیں لگتا؛ میرے تو سمندر کا نام سننے سے رونگٹے کھڑے ہوتے ہیں۔“

اصغری: ”سمندر سے ڈرنے کی کیا بات ہے؟ مزے میں جہاز پر بیٹھ لیے؛ اچھا خاصا خانۂ رواں بن گیا۔“

صفیہن: ”اے ہے استانی جی، ڈوبنے کا کیسا بڑا کھٹکا ہے! لو، پارسال کی بات ہے کہ نواب قطب الدین خاں کے ساتھ میری خلیا ساس حج کو گئی تھیں؛ کچھ ایسی گھڑی کی گئیں کہ پھر لوٹ کر آنا نصیب نہ ہوا۔“

اصغری خانم: ”ہاں، اتفاق کی بات ہے؛ جہاز کبھی کبھار ڈوب بھی جاتے ہیں؛ اور اگر، خدانخواستہ، آئے دن ڈوبا کریں، تو سفرِ دریا کا کوئی نام نہ لے۔ اب تو دریا کا رستہ خشکی کی سڑکوں سے زیادہ آباد ہو رہا ہے؛ ہزاروں لاکھوں جہاز رات دن آتے جاتے رہتے ہیں؛ انگریز اور ان کی بیوی بچے، اور کل انگریزی اسباب، سب جہاز کی راہ یہاں آتا ہے۔“

صفیہن: ”انگریزوں کی عورتوں کا کیا ذکر؟ وہ تو کچھ اور ہی طرح کی عورتیں ہیں؛ ہماری ان کی کیا ریس؟ وہ تو باہر پھرتیاں ہیں۔ سنتی ہوں، ننھے ننھے بچوں کو ولایت بھیج دیتی ہیں، اور ان کا دل نہیں کڑھتا؛ نہیں معلوم، کس قسم کی مائیں ہیں، کیونکر ان کے دل کو صبر آتا ہے۔ پھر باہر کی پھرنے والیاں، اور لوہے کے دل؛ ان کو ایک سمندر کیا، ہوا پر اڑنا بھی کچھ مشکل نہیں۔“

اصغری خانم: ”باہر کے پھرنے کی جو تم نے کہی، تو ان کے ملک میں پردے کا دستور نہیں۔ غدر کے دنوں میں ہم لوگ ایک گاؤں میں بھاگ کر گئے تھے، وہاں بھی پردے کا دستور نہ تھا؛ سب کی بہو بیٹیاں باہر نکلتیاں تھیں؛ لیکن میں تو چار مہینے وہاں رہی، باہر کے پھرنے والیوں میں وہ شرم لحاظ دیکھا کہ خدا ہم سب پردے والیوں کو نصیب کرے! اور بچوں کے ولایت بھیج دینے سے تم کیونکر سمجھیں کہ اولاد کی محبت نہیں؟ البتہ ان لوگوں کی محبت عقل کے ساتھ ہے؛ یہاں کی ماؤں کی طرح باؤلی محبت نہیں کہ اولاد کو پڑھنے سے روکیں، ہنر حاصل کرنے سے باز رکھیں۔ نام کو تو محبت، اور حقیقت میں اولاد کے حق میں کانٹے بوتیاں ہیں؛ اولاد کو ناہموار اٹھاتی جاتی ہیں، اور محبت کا نام بدنام کرتی ہیں۔“

یہاں پہنچ کر سب نے سکوت کیا؛ تو فضیلت نے اپنی کہانی پھر شروع کی، ”اور اس بادشاہ کے کوئی بیٹا نہ تھا، اکیلی ایک بیٹی تھی۔ بادشاہ نے یہ سمجھ کر کہ میرے بعد یہی لڑکی وارثِ سلطنت ہو گی، اس لڑکی کو خوب پڑھوایا لکھوایا، اور ملک داری کا قانون قاعدہ سب اس کو اچھی طرح سکھایا، اور اپنے جیتے جی اسی کو ملک کا کام سونپ دیا۔“

فضیلت یہاں تک پہنچی تھی کہ اصغری خانم نے کہا، ”بوا، تم تو جھپ جھپ کہانی کہتی جاتی ہو، اور میرے دل میں پوچھنے کو ہزاروں باتیں بھری ہیں؛ پر کیا کروں؟ دن تو ہو چکنے پر آیا، اور مجھ کو عالیہ کے گھر جانا ضرور ہے؛ شام کے وقت کسی کے گھر عیادت کو جانا بھی منع ہے۔ میں تو اب نہیں ٹھہر سکتی؛ تم لڑکیاں آپس میں کہو گنو۔“ اور صفیہن سے کہا کہ ”لو بوا، اللہ بیلی! میں تو جاتی ہوں؛ تمہارا دل چاہے تو تم بیٹھی رہو، یا کل پھر آ جانا؛ یہاں تو روز یہی ہوا کرتا ہے۔“

غرض اصغری خانم تو عالیہ کے گھر روانہ ہوئیں، اور صفیہن تو ایسی ریجھیں کہ پہر رات تک لڑکیوں میں بیٹھی رہ گئیں۔ اصغری خانم کے پیچھے محمودہ اور حسن آرا نے کہانی کے بیچ میں خوب خوب مزے کی باتیں نکالیں۔

اس بیان سے اصغری کے مکتب کا انتظام اور اس کی تعلیم اور تلقین کا طریقہ بخوبی ظاہر ہے۔ اصغری بے شک حسن آرا کو بہت چاہتی تھی، اور اس سے زیادہ اپنی نند محمودہ کو۔ حسن آرا کو اس خوبی سے پڑھایا کہ دو برس میں فارسی پڑھنے لگی، اور اردو میں خط لکھ لیتی تھی۔ نہ وہ بدمزاجی حسن آرا کی باقی رہی، نہ وہ چڑچڑاپن؛ بڑی غریب، لکھی پڑھی، ہنرمند، پیاری بیٹی بن گئی۔ جمال آرا کا برسوں کا اجڑا ہوا گھر اصغری کی بدولت خدا نے پھر آباد کیا؛ لیکن یہ تمام قصہ دوسری کتاب میں لکھا جائے گا۔ خلاصہ یہ کہ حکیم جی کا تمام گھر، چھوٹے بڑے، اصغری کے پاؤں دھو دھو کر پیتے تھے۔ سلطانہ بیگم نے لاکھ لاکھ حکمتیں کیں کہ اصغری کچھ لے، مگر اس خدا کی بندی نے کچھ نہ لیا۔ جب حسن آرا کا بیاہ ہونے لگا، تو بڑے حکیم صاحب نے مولوی محمد فاضل کا دباؤ ڈال کر اصغری کو ہزار روپے کے جڑاؤ کڑے دیے، اور کہا، ”سنو، تم میری پوتی اور نواسیوں کے برابر ہو؛ میں تم کو استانی گری کی راہ سے نہیں دیتا، بلکہ اپنا بچہ سمجھ کر دیتا ہوں۔“ ادھر مولوی صاحب نے سمجھایا، تو اصغری نے کڑے لے لیے۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.