
Capítulo 13 de 20
Asghari's School
اصغری کا مکتب
اگلے دن شاہ زمانی بیگم اور سلطانہ بیگم، دونوں بہنیں حسن آرا کو لے کر اصغری کے گھر آئیں۔ باوجودیکہ اصغری کے یہاں غریبی سامان تھا، لیکن اس کے انتظام اور سلیقے کے سبب بیگموں کی وہ مدارات ہوئی کہ ہر طرح کی چیز وہیں بیٹھے بیٹھے موجود ہو گئی۔ دو چار طرح کا عطر، چوگھڑا، الائچی، چکنی ڈلی، چائے، بات کی بات میں سب موجود ہو گیا۔ خوب خوب مزے کی گلوریاں تیار ہو گئیں۔ دونوں بہنوں نے اصغری سے کہا کہ ”مہربانی کر کے اس کو دل سے پڑھا دیجیے۔“ اصغری نے کہا، ”اول تو خود مجھ کو کیا آتا ہے؟ مگر دو چار حرف بزرگوں کی عنایت سے آتے ہیں؛ ان شاء اللہ ان کے بتانے میں اپنے مقدور بھر دریغ نہ کروں گی۔“
چلتے ہوئے سلطانہ بیگم ایک اشرفی اصغری کو دینے لگیں۔ اصغری نے کہا، ”اس کی کچھ ضرورت نہیں؛ بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے کہ میں پڑھوائی آپ سے لوں؟“
سلطانہ نے کہا، ”استغفر اللہ! پڑھوائی دینے کے واسطے ہمارا کیا منہ ہے؟ بسم اللہ کی مٹھائی ہے۔“
اصغری نے کہا، ”شروع میں تبرک کے واسطے مٹھائی بانٹ دیا کرتے ہیں، سو اشرفی کیا ہو گی؟ بچوں کا منہ میٹھا کرنے کو سیر آدھ سیر مٹھائی کافی ہے۔“
یہ کہہ کر دیانت کی طرف اشارہ کیا؛ وہ کوٹھری میں سے ایک قاب بھر کر نکتیاں نکال لائی۔ اصغری نے خود فاتحہ پڑھ کر پہلے حسن آرا کو دیں، اور بھری قاب دیانت کو اٹھا دی کہ ”سب بچوں کو بانٹ دو۔“
سلطانہ نے کہا، ”اچھا، تم نے مجھ کو شرمندہ کیا۔“
اصغری نے کہا، ”ہم بیچارے غریب کس لائق ہیں؟ لیکن یہاں جو کچھ ہے، وہ بھی آپ ہی کا ہے۔ البتہ میرا دینا یہی ہے کہ حسن آرا بیگم کو پڑھا دوں؛ سو خدا وہ دن کرے کہ میں آپ سے سرخرو ہوں۔“
غرض دنیاسازی کی باتیں ہو ہوا کر شاہ زمانی بیگم اور سلطانہ بیگم چلی گئیں، اور حسن آرا کو اصغری کے حوالے کر گئیں۔ اصغری نے جس طرز پر حسن آرا کو تعلیم کیا، اس کی ایک جدا کتاب بنائی جائے گی؛ اگر یہاں وہ سب حال لکھا جاتا تو یہ کتاب بہت بڑھ جاتی۔ اس مقام پر اتنا مطلب ہے کہ حسن آرا کے بیٹھتے ہی محلے کا محلہ ٹوٹ پڑا؛ جس کو دیکھو، اپنی لڑکی کو لیے چلا آتا ہے؛ لیکن اصغری نے شریف زادیوں کو چن لیا، اور باقیوں کو حکمتِ عملی سے ٹال دیا کہ ”میں آئے دن اپنی ماں کے گھر جاتی رہتی ہوں؛ پڑھنا پڑھانا جب تک جم کر نہ ہو، بے فائدہ ہے۔“ پھر بھی بیس لڑکیاں بیٹھتی تھیں؛ لیکن اصغری کو کسی لڑکی سے لینے لوانے کی قسم تھی، بلکہ ایک دو روپیہ اس کا اپنا لڑکیوں پر خرچ ہو جاتا تھا۔ صبح سے دوپہر تک پڑھنا ہوتا تھا، اور پھر کھانے کے واسطے چار گھڑی کی چھٹی؛ اس کے بعد لکھنا؛ اور پہر دن رہے سے سینا۔
سینے کا کام گنجایشی تھا؛ اس واسطے کہ نہ صرف سینا سکھایا جاتا تھا، بلکہ ہر ایک طرح کی جالی کا کاڑھنا، ہر ایک طرح کی سلائی، ہر ایک طرح کی قطع، مصالح بنانا اور ٹانکنا۔ اول تو اس کا سامان جمع کرنے میں اصغری کے دس روپے خرچ ہوئے؛ لیکن پھر تو اسی کام سے بچت ہونے لگی۔ جو کام لڑکیاں بناتیں، دیانت اس کو چپکے سے بازار میں لگا آتی؛ اور اس طور پر رفتہ رفتہ مکتب کی ایک بڑی رقم جمع ہو گئی۔ جو لڑکی غریب ہوتی، اسی رقم سے اس کے کپڑے بنائے جاتے، کتاب مول لے دی جاتی؛ لڑکیوں کے پانی پلانے اور پنکھا جھلنے کے واسطے خاص ایک عورت نوکر تھی، اور مکتب کی رقم سے اس کو تنخواہ ملتی تھی۔
لڑکیوں کا یہ حال تھا کہ استانیوں کے پاس جاتے ہوئے ان کا دم فنا ہوتا تھا، لیکن اصغری کی شاگردیں اس پر عاشق تھیں۔ ابھی سو کر نہیں اٹھی کہ لڑکیاں خود بخود آنی شروع ہوئیں، اور پہر رات گئے تک جمع رہتی تھیں، اور مشکل سے جاتی تھیں؛ اس واسطے کہ اصغری سب کے ساتھ دل سے محبت کرتی تھی، اور پڑھانے کا طریقہ ایسا اچھا رکھا تھا کہ باتوں میں تعلیم ہوتی تھی؛ نہ یہ کہ صبح سے ریں ریں کا چرخہ جو چلا تو دن چھپے تک بند نہیں ہوتا۔ جس طرح اصغری کو اس کے باپ نے پڑھایا تھا، اسی طرح اصغری اپنی شاگردوں کو پڑھاتی تھی۔ پس یہ لڑکیاں شاگرد کی شاگرد اور سہیلی کی سہیلی تھیں۔ جب کبھی کسی لڑکی کا بیاہ ہوا، مکتب کی رقم سے اس کو تھوڑا بہت زیور چڑھایا جاتا تھا۔ اگر اصغری اپنے مکتب کو بڑھانا چاہتی تو تمام شہر کے مکتب اجڑ جاتے۔ سیکڑوں عورتیں اپنی لڑکیوں کے واسطے خوشامد کرتی تھیں، اور خود لڑکیاں دوڑ دوڑ آتی تھیں؛ اس واسطے کہ اور مکتبوں میں دن بھر کی قید، استانیوں کی سختی، پڑھنا کم، مار کھانا اور کام کرنا بہت۔ دن بھر میں پڑھے تو صرف دو حرف؛ صبح و شام تو معمولی مار؛ اور جہاں چپ کی اور استانی جی کی نظر پڑ گئی، آفت آئی۔ اور کام کو پوچھو تو صبح آتے کے ساتھ گھر میں جھاڑو دی؛ استانی جی اور استاد جی اور دس بارہ خلیفہ جی، بلکہ پڑوسیوں تک کے بچھونے تہ کیے؛ اور چار چار پانچ پانچ نے مل کر کم بخت بھاری بھوجل چارپائیاں اٹھائیں۔ پھر دو چار کی جو شامت آئی تو سیپارہ لے کر بیٹھیں؛ منہ سے آواز نکلی اور استانی جی نے بنیٹھی پھینکنی شروع کی۔ اور دو چار، جو کسی اچھے کا منہ دیکھ کر اٹھی تھیں، کام دھندے میں لگ گئیں۔ کسی نے استانی جی کے لڑکے کو گود میں لیا؛ بوجھ کے مارے کولا ٹوٹا جاتا ہے، لیکن مار کے ڈر سے گردن پر بلا سوار ہے، اور وقت ٹالتی پھرتی ہیں۔ پٹتی ہوئی لڑکیوں کی آواز کان میں چلی آ رہی ہے؛ دل ہے کہ اندر ہی اندر سہما جاتا ہے؛ اس عذاب سے یہ مصیبت غنیمت معلوم ہوتی ہے۔ کسی نے رات کے جھوٹے برتن مانجھنے شروع کیے؛ گٹے پر پڑ گئے ہیں اور کندھے رہ رہ جاتے ہیں؛ لیکن چھوٹی بہن پٹ رہی ہے اور چلا رہی ہے، ”اچھی استانی جی، میں مر گئی! اچھی، میں تم پر واری گئی! اچھی، خدا کے لیے! اچھی، رسول کے لیے! اچھی، میں خلیفہ جی کی لونڈی ہو گئی! ہائے رے! ہائے رے! ہائے رے! اوئی اماں! اوئی آپا!“ اور آپا ہیں کہ جھائیں جھائیں جلدی جلدی برتن مانجھ رہی ہیں۔ ان کاموں سے فراغت ہوئی تو مصالح پیسنے، آٹا گوندھنے، آگ سلگانے، گوشت بگھارنے کا وقت آیا۔ پھر دوپہر کو استانی جی ہیں کہ سو رہی ہیں، اور معصوم بچے پنکھا جھل رہے ہیں، اور دل میں دعا مانگ رہے ہیں، ”الٰہی! ایسی سوئیں کہ پھر نہ اٹھیں!“
غرض اور مکتبوں میں یہ مصیبت رہتی ہے؛ اصغری کے یہاں نہ مار نہ دھاڑ۔ بڑا ڈراوا یہ تھا کہ ”سنو بوا، تم سبق یاد نہیں کرتیں، تمہارے سبب سے ہمارے مکتب کا نام بد ہوتا ہے؛ میں تمہاری اماں جان کو بلا کر کہہ دوں گی کہ بی، تمہاری لڑکی یہاں نہیں پڑھتی، اس کو تم کسی دوسری استانی کے پاس بٹھاؤ۔“ اتنا کہا کہ لڑکی کا دم فنا ہوا؛ پھر سبق ہے کہ نوکِ زبان یاد ہے۔ یا جس نے سبق یاد نہیں کیا، اس سے کہا گیا کہ ”بوا، آج تم نے سبق یاد نہیں کیا؛ اور لڑکیاں تو دوپہر کے بعد سئیں گی، اور تم پڑھنا۔“ یہ کہنا تھا کہ اس نے جلدی جلدی سبق حفظ کیا۔
مکتب میں محمودہ اور حسن آرا دو خلیفہ تھیں۔ نہ یہاں جھاڑو دینی ہے، نہ بچھونے اٹھانے ہیں، نہ چارپائیاں ڈھونی ہیں، نہ برتن مانجھنے ہیں، نہ خلیفاؤں کو لادے لادے پھرنا ہے؛ بلکہ خود لڑکیوں پر ایک عورت نوکر تھی۔ محبت اور آرام؛ پڑھنا، لکھنا، سینا، تین کام؛ خوب شوق سے لڑکیاں تعلیم پاتی تھیں۔
اس مقام پر مکتب کی ایک حکایت لکھی جاتی ہے، جس سے اصغری کا طرزِ تعلیم مختصر طور پر معلوم ہو جائے گا۔
صفیہن ایک عورت تھی، اور فضیلت اس کی بیٹی، کوئی دس برس کی ہو گی۔ اس فضیلت کو خود بخود پڑھنے لکھنے اور سینے پرونے کا شوق تھا۔ صفیہن یہ چاہتی کہ فضیلت تمام گھر میں جھاڑو دے، لیپے پوتے، برتن مانجھے؛ ایسے کاموں میں فضیلت کا دل نہ لگتا؛ ماں کے کہے سنے سے کر تو دیتی، مگر وہی بے دلی سے۔ صفیہن جو ایک دن فضیلت پر ناخوش ہوئی تو ساتھ لے جا کر اصغری کے مکتب میں بٹھا آئی، اور کہا کہ ”استانی جی، یہ لڑکی بڑی نکمی ہے؛ جس کام کو کہتی ہوں، ٹکا سا جواب دے دیتی ہے۔ اس کو ایسا ادب دو کہ گھر کے کام پر اس کا جی لگے۔“
اصغری نے جو دیکھا تو فضیلت کو اپنے ڈھب کا پایا۔ ادھر فضیلت کو اپنی مرضی کی استانی ملی؛ منہ اندھیرے تڑکے آتی، تو دوپہر کو کھانا کھانے جاتی؛ کھانا کھایا، اور پھر بھاگی، پانی مکتب میں آ کر پیتی؛ اور تیسرے پہر کی آئی آئی کہیں چار گھڑی رات گئے جاتی۔
کبھی کبھی صفیہن اس کی خبر لینے مکتب میں آئی، تو کئی دفعہ اس کو لڑکیوں کے ساتھ گڑیاں کھیلتے دیکھا، دو چار دفعہ ہنڈکلیا پکاتے۔ ایک دن، چار گھڑی رات گئی ہو گی، فضیلت کو جانے میں دیر ہوئی؛ صفیہن اس کو لینے آئی تو کیا دیکھتی ہے کہ محمودہ کہانیاں کہہ رہی ہے، اور مکتب کی سب لڑکیاں آس پاس بیٹھی ہیں، اور خود استانی جی بھی لڑکیوں میں بیٹھی ہوئی کہانیاں سن رہی ہیں۔ تب تو صفیہن کا جی جل کر خاک ہو گیا، اور بولی کہ ”واہ استانی جی! اچھا تم نے لڑکیوں کو نس کر رکھا ہے۔ جب کبھی میں فضیلت کو دیکھنے آئی، کبھی میں نے اس کو پڑھتے نہ پایا۔ مکتب کیا ہے، اچھا کھیل خانہ ہے؛ تبھی تو لڑکیاں دوڑ کر آتی ہیں۔“
اصغری نے کہا کہ ”بوا، اگر تمہاری مرضی کے موافق تمہاری لڑکی کی تعلیم نہیں ہوتی، تو تم کو اختیار ہے، اپنی لڑکی کو اٹھا لے جاؤ؛ مگر مکتب پر ناحق کا الزام مت لگاؤ۔ بھلا میں تم سے پوچھتی ہوں، فضیلت نے مائی جی کے مکتب میں کتنے دنوں پڑھا؟“
صفیہن نے کہا، ”میراں جی کے چڑھتے چاند اس کو بٹھایا تھا؛ مدار بھر پڑھی، خواجہ معین الدین بھر پڑھتی رہی؛ ماہِ رجب سے تمہارے یہاں ہے۔“
اصغری نے پوچھا کہ ”مائی جی کے یہاں فضیلت نے کیا پڑھا؟“
صفیہن نے کہا، ”تین مہینے میں والمحصنات کا سیپارہ اور آدھا لا یحب اللہ۔“
اصغری نے کہا، ”تین مہینے میں ڈیڑھ سیپارہ، تو مہینے میں آدھا سیپارہ ہوا۔ یہاں تمہاری فضیلت ماہِ رجب سے ہے، اور اب خالی کا چاند چڑھتا ہے؛ چار مہینے ہوئے۔ ’وما ابرئ نفسی‘ کا سیپارہ کل ختم ہوا، یعنی ساڑھے سات سیپارے پڑھے؛ حساب سے مہینے پیچھے ایک سیپارے کے قریب ہوتا ہے، مائی جی کے مکتب سے دونا۔ اور جب فضیلت یہاں آئی تو کالی لکیر تک اس کو کھینچنی نہیں آتی تھی؛ اب نام لکھ لیتی ہے، اور بساط بموجب حرف بھی برے نہیں ہوتے۔ بیس تک بھی پوری گنتی نہیں جانتی تھی؛ اب پندرہ کا پہاڑا یاد کرتی ہے۔ سینے میں تیپچی تک سیدھی بھرنی نہیں آتی تھی؛ اب اس کے ہاتھ کا بخیہ دیکھو۔ لائیو عقیلہ، ذرا بقچیا؛ فضیلت نے جو کرتی میں بخیہ کیا ہے، ذرا ان کو دکھانا؛ اور فضیلت کے ہاتھ کی کیکری، مرمرا، بوٹیاں، لہریا، چھڑیاں، خانہ توڑ، دیکھت بھولی، خاکہ، تارشمار، چنبیلی کا جال، ترپن بیل، کامدانی، کچھ ہو، وہ بھی اٹھا لاؤ۔“
فضیلت بولی، ”استانی جی، میں جا کر لے آؤں۔“
فضیلت دوڑی دوڑی جا، اپنا کشیدہ اٹھا لائی۔ صفیہن ایک بات کے دس دس جواب سن کر ہکا بکا ہو کر رہ گئی۔
اصغری نے کہا، ”بولو بوا، کچھ انصاف بھی ہے؟ چار مہینے میں تمہاری لڑکی اور کیا سیکھ لیتی؟“
صفیہن تو ایسی شرمندہ ہوئی کہ گھڑوں پانی پڑ گیا؛ اب استانی جی سے آنکھ سامنے نہیں کر سکتی تھی۔
صفیہن کم بخت کے آنے جانے سے محمودہ کی مزے کی کہانی تو رہ گئی؛ سب لڑکیاں اسی کی طرف گھور گھور کر دیکھنے لگیں۔ صفیہن نے کہا کہ ”استانی جی، مجھ کو اس کی کیا خبر تھی؟ فضیلت دن بھر تو یہاں رہتی ہے؛ رات کو ایسی دیر کر کے جاتی ہے کہ کھانا کھایا اور سوئی؛ مجھ کو اس سے پوچھنے گچھنے کا اتفاق تو ہوتا نہیں۔ دو چار مرتبہ جو میں ادھر کو آ نکلی، تو کبھی گڑیاں کھیلتے پایا، کبھی ہنڈکلیا پکاتے، کبھی کہانیاں سنتے؛ اس سے مجھ کو خیال ہوا کہ یہ اپنا وقت کھیل کود میں کھوتی ہے۔ اب تو میرے منہ سے بات نکل گئی؛ معاف کیجیے۔“
اصغری نے کہا، ”بے شک، تمہارا شبہ بے جا نہیں تھا؛ لیکن میں انہیں کھیل کی باتوں میں ان کو کام کی باتیں سکھاتی ہوں۔ ہنڈکلیوں میں لڑکیاں ہر ایک طرح کے کھانے کی ترکیب سیکھتی ہیں؛ مصالح کا اندازہ، نمک کی اٹکل، ذائقے کی شناخت، بو باس کی پہچان، ان کو آتی ہے۔ کیوں فضیلت، پرسوں جمعہ تھا، تم لڑکیوں نے مل کر کتنا زردہ پکایا تھا؟ اس کی ترکیب اور سب حساب کتاب تو ہم کو سناؤ۔“
فضیلت نے کہا، ”حساب تو محمودہ بیگم نے اپنی کتاب پر لکھ رکھا ہے، مگر ترکیب تو میں نے بموجب آپ کے فرمانے کے خوب دھیان لگا کر دیکھ لی ہے، اور اچھی طرح میری سمجھ میں آ گئی ہے۔ سیر بھر چانول تھے؛ پہلے ان کو لگن میں بھگو دیا؛ شاید دھیلے کی ہرسنگھار کی ڈنڈیاں منگوائی تھیں، پیسہ بھر ملی تھیں، ان کو کوئی ڈیڑھ سیر پانی میں جوش دیا؛ جب ابال آ گیا اور رنگ کٹ گیا، تو چھان کر عرق میں چانول، نچوڑ کر، ڈال دیے۔ چانول جب آدھ کچرے ہو گئے اور ایک کنی رہی، تو چانولوں کو کپڑے پر پھیلا دیا کہ جتنا بھر پانی ہے، سب نکل جائے۔ پھر آدھ پاؤ گھی دیگچی میں لونگوں کا بگھار دے کر کڑکڑایا، اور چانول چھوڑ دیے؛ اوپر سے چانولوں کے ہم وزن کچی کھانڈ ڈال دی، اور اٹکل سے اتنا پانی ڈال دیا کہ چانولوں کی ایک کنی جو باقی رہی تھی، گل جائے۔ پھر ایک چھٹانک کشمش گھی میں کڑکڑا کر، جب پھول گئی، چانولوں میں چھوڑ دی، اور اوپر تلے انگارے رکھ کر دم دے دیا۔“
اصغری نے کہا، ”ترکیب تو درست ہے؛ لیکن چانولوں کو جو میں نے دیکھا تھا تو بیٹھ گئے تھے؛ معلوم ہوتا ہے کہ تم نے کپڑے پر پھیلا کر ٹھنڈے پانی سے ان کو دھویا نہیں۔“
پھر اصغری صفیہن کی طرف مخاطب ہو کر بولی کہ ”کیوں بوا، زردہ تو تمہاری لڑکی نے ٹھیک پکایا؟ یہ سب ہنڈکلیا کی بدولت۔ بوا محمودہ، اپنے زردے کا حساب تو سناؤ۔“
محمودہ جا، حساب کی کتاب اٹھا لائی، اور کہا، ”استانی جی، چھسیرے چانول، سیر بھر، پونے تین آنے کے؛ اور ایک پیسے کی ڈنڈیاں اور لونگیں؛ دو سیر کا گھی ہے، پون پاؤ منگوایا، آدھ پاؤ بگھارتے وقت ڈالا اور چھٹانک بھر کشمش کڑکڑا کر دم دیتے وقت، ڈیڑھ آنے کا گھی ہوا؛ اور چوسیری کھانڈ، سیر بھر، چار آنے کی؛ ایک پیسے کی کشمش؛ کل پونے گیارہ آنے کے پیسے خرچ ہوئے۔ دس لڑکیوں کا ساجھا تھا؛ پونے دو آنے تو میرے تھے؛ اور فضیلت ایک، عقیلہ دو، حسن آرا تین، امۃ اللہ چار، عالیہ پانچ، سلمیٰ چھ، ام النبین سات، شکیلہ جمیلہ دونوں بہن نو، سب کا ایک ایک آنا۔“
اصغری نے کہا، ”محمودہ، تم نے دھوکا کھایا۔“
محمودہ نے سوچا تو کہا، ”ہاں استانی جی، چانولوں میں کوڑیاں باقی ہیں؛ وہ نامراد بنیے نے ہضم کیں۔ آئے ہے، ڈنڈیاں اور لونگیں اس میں آ جاتیں تو ایک پیسہ بچتا۔ دیانت، جا، تو بنیے سے کوڑیاں لا۔“
اصغری نے کہا، ”ایں! ایں! کیا کرتی ہو؟ کوڑیوں کا معاملہ، پرسوں کی بات! اب کچھ مت کہو؛ تمہاری غلطی کی سزا ہے کہ اتنا نقصان سہو۔“
اصغری حسن آرا کی طرف مخاطب ہو کر بولی، ”زردے کی ترکیب اور لاگت تو معلوم ہوئی؛ بھلا، دیگچہ بھرا، سیر بھر زردہ تم سب نے کیا کیا؟“
حسن آرا نے جواب دیا، ”منجھولی دو رکابیاں چوٹی دار بھر کر تو اللہ کے نام کی مسجد میں بھیج دیں؛ باقی میں تیرہ طشتریاں بھری گئیں۔ مکتب میں ہم سب پچیس لڑکیاں ہیں؛ دو دو میں ایک ایک طشتری آئی؛ تیرھویں طشتری میں میں اکیلی تھی۔“
اصغری نے پوچھا، ”کیا، تم نے دوہرا حصہ لیا؟“
حسن آرا بولی، ”نہیں تو، میری طشتری آدھی تھی؛ سب سے پوچھ لیجیے۔“
اصغری نے کہا، ”پھر تم برادری سے الگ کیوں رہیں؟“
حسن آرا تو چپ ہوئی۔ امۃ اللہ نے کہا، ”استانی جی، ان کو سب کے ساتھ کھاتے گھن آتی ہے۔“
حسن آرا نے کہا، ”نہیں استانی جی، گھن کی بات نہیں ہے؛ دسترخوان پر سب لڑکیوں سے پیچھے آئی، اس سے اکیلی رہ گئی؛ آپ محمودہ بیگم سے دریافت کر لیجیے۔“
امۃ اللہ نے کہا، ”کیوں! تم ابھی، تھوڑی دیر ہوئی، میرا جھوٹا پانی پینے پر لڑ چکی ہو؟“
حسن آرا نے کہا، ”میں لڑی تھی، یا صرف اتنی بات کہی تھی کہ جتنی پیاس ہوا کرے، اسی قدر پانی لیا کرو؟ گلاس میں جھوٹا پانی چھوڑ دینا عیب کی بات ہے؟“
پھر اصغری نے محمودہ سے پوچھا، ”وہ رسالہ ’الوانِ نعمت‘ جو میں نے تم کو دیا تھا، اس میں کے تم سب کھانے پکا کر دیکھ چکیں یا ابھی نہیں؟“
محمودہ نے تھوڑی دیر تامل کر کے کہا، ”میں اپنی دانست میں سب پکوا چکی ہوں، بلکہ کئی کئی بار نوبت آ چکی ہے۔ جتنی بڑی لڑکیاں ہیں، معمولی روزمرہ کے کھانوں کی ترکیب سب کو معلوم ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہر قسم کے کباب، سیخ کے، پسندوں کے، شامی، گولیوں کے؛ کوفتے، پلاؤ، زردہ، متنجن، کچی بریانی، نور محلی، قورمہ، سموسے میٹھے سلونے، قلمی بڑے، دہی بڑے، سہال، سیویں، گھی کی تلی دال، کچوریاں، پاپڑ، بورانی، فرنی، حلوا سوہن، پیڑے، کھیر، اندرسے کی گولیاں، سب چیزیں بار بار پک چکی ہیں؛ اور سب لڑکیوں نے پکتے دیکھیں، بلکہ اپنے ہاتھوں پکائی ہیں۔ اور یہ تو آپ کو معلوم ہے کہ ہمارے مکتب میں ہنڈکلیا کا تو نام ہے؛ جو چیز پکتی ہے، خاصے ایک کنبے کے لائق پکتی ہے۔ اور حسن آرا کو تو چٹنیوں اور مربوں سے بہت شوق ہے؛ یہ چیزیں، ان کے سوا، اور لڑکیاں کم جانتی ہیں۔“
اس کے بعد اصغری نے صفیہن سے کہا کہ ”بوا، اب تم کو یہاں کی ہنڈکلیا کا فائدہ تو معلوم ہو گیا ہو گا۔ رات زیادہ گئی؛ بعض لڑکیوں کے گھر دور ہیں؛ اگر کل آؤ تو گڑیوں کی سیر تم کو دکھائیں، اور شام تک رہو تو کہانیاں بھی سنوائیں۔“
سب لوگ رخصت ہوئے۔ صفیہن چلتے چلتے اصغری کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی کہ ”استانی جی، للہ! میرا قصور معاف کیجیے گا۔“
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.