
Chapitre 12 sur 20
Muhammad Kamil and Husn-ara
محمد کامل اور حسن آرا
جب ہر ایک چیز کا معمول بندھ گیا اور انتظام بیٹھ گیا، اصغری دوسرے کاموں کی طرف متوجہ ہوئی۔ محمد کامل پڑھتا لکھتا تو تھا، لیکن اس بے تدبیری اور بدشوقی سے جس طرح آزاد خود مختار لڑکے پڑھا کرتے ہیں۔ باپ تو باہر رہتے تھے؛ محمد عاقل، گو بڑا بھائی تھا، لیکن دونوں بھائیوں میں صرف اڑھائی برس کی بڑائی چھٹائی تھی؛ محمد کامل پر اس کا دباؤ کم تھا۔ صبح و شام سبق بھی پڑھتا تھا، اور ہم عمر لڑکوں میں گنجفہ، شطرنج، چوسر بھی کھیلا کرتا تھا۔ بعض مرتبہ کھیل میں مصروف ہوتا تو پہر پہر بھر رات گئے گھر آتا۔ اصغری کو یہ حال تو معلوم تھا، لیکن موقع ڈھونڈتی تھی کہ ایسے ڈھب سے کہنا چاہیے کہ ناگوار نہ ہو۔
ایک روز بہت رات گئے محمد کامل آیا، اور (شاید بازی جیت کر آیا تھا) خوش تھا۔ آتے کے ساتھ کھانا مانگا۔ دیانت النسا سالن گرم کرنے دوڑی گئی۔ محمد کامل سمجھا، ابھی پک رہا ہے؛ پوچھا، ”ماما، ابھی تک تمہاری ہانڈی چولھے سے نہیں اتری؟“
اصغری نے کہا، ”کئی دفعہ اتر کر چڑھ چکی ہے۔ ایسے ناوقت تم کھانا کھاتے ہو کہ کھانا ٹھنڈا ہو کر مٹی ہو جاتا ہے۔ یا تو ایسا بندوبست کرو کہ سویرے کھا جایا کرو، یا کھانا باہر منگوا لیا کرو۔ ادھر تمہارے انتظار میں اماں جان کو ہر روز تکلیف ہوتی ہے۔“
محمد کامل نے کہا، ”ہیں! تم لوگ میرے منتظر رہتے ہو؟ میں تو جانتا تھا تم کھا لیا کرتی ہو گی۔“
اصغری نے کہا، ”مردوں کے ہوتے عورتوں کے کھانا کھا بیٹھنا کون ضرور ہے؟“
محمد کامل نے کہا، ”دو چار روز کی بات ہو تو گزر سکتی ہے؛ اس میں ضد کی کیا بات ہے؟ تم لوگ کھانا کھا لیا کرو۔“
اصغری اس وقت تو چپ ہو رہی۔ کوٹھے پر پھر محمد کامل نے خود چھیڑ کر اسی بات کو کہا۔ اصغری نے کہا، ”تعجب کی بات ہے؛ تم اپنے معمول کے خلاف نہیں کر سکتے، اور ہم لوگوں سے چاہتے ہو کہ ہم اپنے معمول کے خلاف کریں۔ تمہیں سویرے چلے آیا کرو۔“
محمد کامل نے کہا، ”کھانے کے بعد باہر نکلنے کو جی نہیں چاہتا، اور مجھ کو نیند دیر کر آتی ہے؛ گھر میں بے شغل پڑے پڑے جی گھبراتا ہے؛ اس واسطے میں قصداً دیر کر کے آتا ہوں کہ کھانے کے بعد سو رہوں۔“
اصغری نے کہا، ”شغل تو اپنے اختیار میں ہے۔ اپنے وقت کا انضباط کرے تو ہزاروں کام ہیں۔ ایک پڑھنے کا شغل کیا کم ہے؟ میں اپنے بڑے بھائی کو دیکھا کرتی تھی کہ آدھی رات تک کتاب دیکھتے، اور جس دن اتفاق سے سو جاتے تو بڑا افسوس کیا کرتے تھے۔ تم پڑھنے میں کم محنت کرتے ہو، اس واسطے بے شغلی سے تمہارا جی گھبراتا ہے۔“
محمد کامل نے کہا، ”اور کیا محنت کروں؟ دونوں وقت سبق پڑھ لیتا ہوں، یاد کر لیتا ہوں۔“
اصغری نے کہا، ”نہیں معلوم، تم کیسا پڑھنا پڑھتے ہو۔ جس دن عظمت کا حساب کتاب ہوتا تھا، ابا جان تم سے حساب پوچھتے تھے، اور تم بتا نہیں سکتے تھے؛ مجھ کو شرم آتی تھی۔“
محمد کامل نے کہا، ”حساب دوسرا فن ہے؛ میں عربی پڑھتا ہوں، اس سے اور حساب سے کیا واسطہ؟“
اصغری نے کہا، ”پڑھنا لکھنا اسی واسطے ہوتا ہے کہ دنیا کا کوئی کام اٹکا نہ رہے۔ بڑے بھائی عربی فارسی بہت پڑھ گئے ہیں، لیکن نوکری نہیں ملتی۔ ابا کہا کرتے ہیں کہ حساب کتاب اور کچہری کا کام جب تک نہ سیکھو گے، نوکری کا خیال مت کرو۔ اب مال اندیش مدرسے میں پڑھتا ہے، اور حساب و کتاب میں بڑے بھائی سے زیادہ ہوشیار ہے؛ ابا اس سے بہت خوش ہیں، اور کہا کرتے ہیں، ’دو برس مدرسے میں اور پڑھو، پھر تم کو کہیں نوکر کرا دوں گا۔‘“
محمد کامل نے کہا، ”مدرسے میں کم عمر آدمی کو داخل کرتے ہیں؛ میری عمر زیادہ ہے۔“
اصغری نے کہا، ”مدرسے میں داخل ہونے پر کیا منحصر ہے؟ یوں شہر میں کیا سکھانے والے نہیں ہیں؟ جتنا وقت تم کھیل میں ضائع کرتے ہو، اسی میں صرف کیا کرو۔“
محمد کامل نے کہا، ”کھیل کیا میں دن رات کھیلتا ہوں؟ کبھی گھڑی دو گھڑی کو بیٹھ گیا۔“
اصغری نے کہا، ”کھیلنا افیون کی سی عادت ہے؛ تھوڑے سے شروع ہو کر بڑھتی جاتی ہے، یہاں تک کہ لت پڑ جاتی ہے، اور پھر چھوٹنا مشکل ہوتا ہے۔ اول تو یہ کھیل گناہ ہیں؛ دوسرے، آدمی کو دوسرے کمال حاصل کرنے سے روکتے ہیں۔ کام کاج کے آدمی کبھی نہیں کھیلتے؛ نکمے لوگ البتہ اسی طرح دن کاٹتے ہیں۔ ان کھیلوں میں جیسا بازی جیتنے سے جی خوش ہوتا ہے، ہارنے سے رنج بھی بہت ہوتا ہے؛ اور جس طرح وہ خوشی بے اصل ہوتی ہے، یہ رنج بھی ناحق کا ہوتا ہے؛ اور اکثر کھیلتے کھیلتے آپس میں مفت کی تکرار ہو جاتی ہے۔ میری صلاح مانو تو ان کھیلوں کو بالکل موقوف کرو۔ لوگ تمہارے منہ پر تو کچھ نہیں کہتے، لیکن پیچھے ہنستے ہیں۔ پرسوں کی بات ہے کہ تم کو کوئی مردوا بلانے آیا تھا؛ ماما نے اندر سے جواب دیا کہ باہر سدھار گئے ہیں؛ اس مردوے نے اپنے ساتھ والے سے کہا، ’میاں ماسٹر حسینی کے مکان پر چلو، وہاں شطرنج کے جمگھٹے میں ملیں گے۔‘ ابا جان کا شہر میں بڑا نام ہے، لوگ ان کے معتقد ہیں؛ ایسی جگہ جانے سے نام بد ہوتا ہے۔ اور میں نے ابا جان کو افسوس کرتے سنا کہ ’ہائے ہماری تقدیر! دو لڑکوں میں کوئی بھی ایسا نہ ہوا کہ اس کو دیکھ کر جی خوش ہوتا۔ عاقل کو کچھ لکھایا پڑھایا تھا، اب وہ بھی اپنی نوکری کے پیچھے ایسا پڑا ہے کہ لکھا پڑھا بھی بھول گیا؛ چھوٹے صاحب ہیں، ان کو کھیل کود سے فرصت نہیں۔‘ بلکہ ہمارے ابا جان کو بھی کسی نے اس کی خبر کر دی؛ مجھ سے پوچھتے تھے؛ میں نے کہا، ’سب جھوٹ ہے؛ اگر ایسی بات ہوتی تو مجھ کو ضرور معلوم ہوتا۔‘“
اصغری کی نصیحت نے محمد کامل پر بہت عمدہ اثر کیا؛ اور اس نے کھیلنا بالکل چھوڑ دیا، اور پہلے کی نسبت عربی پر بھی زیادہ محنت کرنے لگا، اور ایک مدرس سے مدرسے کے باہر حساب کتاب وغیرہ بھی سیکھنا شروع کر دیا۔ خدا نے وقت میں بڑی برکت دی ہے؛ اس کو انتظام کے ساتھ صرف کرنے سے چند روز میں محمد کامل کی استعدادِ عربی بھی درست ہو گئی، اور حساب و ریاضی کی بھی کئی کتابیں نکل گئیں۔
محمد کامل تو ادھر مصروف رہا؛ اصغری نے اسی عرصے میں ایک اور کارخانہ جاری کیا۔ اس محلے میں حکیم روح اللہ خاں بڑے نامی گرامی آدمی تھے۔ حکیم صاحب خود تو سرکار مہاراجۂ پٹیالہ میں دیوان تھے، لیکن گھر بار، لڑکے بالے، سب اسی محلے میں تھے۔ مکان، محلات، نوکر چاکر، بڑا کارخانہ تھا؛ اور یہ گھر شہر کے اونچے گھروں میں گنا جاتا تھا؛ اونچی جگہ میں رشتے ناتے، اونچے لوگوں سے رہ و رسم۔ حکیم صاحب کے چھوٹے بھائی فتح اللہ خاں بہت مدت تک والیِ اندور کی سرکار میں مختارِ کل رہے؛ اور جب اس سرکار میں منشی امی جان کو بڑا دخل ہوا، مصلحتِ وقت سمجھ کر کنارہ کش ہو گئے۔ لیکن لاکھوں روپیہ گھر میں تھا، نوکری کی کچھ پروا نہ تھی۔ ہزاروں روپے کی املاک شہر میں خرید کر لی تھی؛ سیکڑوں روپیہ ماہواری کرایہ کا چلا آتا تھا؛ بڑی شان سے رہتے تھے۔ ڈیوڑھی پر سپاہیوں کا گارد، اندر باہر تیس چالیس آدمی نوکر؛ گھوڑا، ہاتھی، پالکی، بگھی، سواری کو موجود۔
فتح اللہ خاں کی دو بیٹیاں تھیں، جمال آرا اور حسن آرا۔ جمال آرا نواب اسفندیار خاں کے بیٹے سے بیاہی گئی تھی، لیکن ایسی ناموافقت ہوئی کہ آخرکار قطعِ تعلق ہو گیا؛ کچھ، خدانخواستہ، طلاق نہیں ہوئی تھی، لیکن کسی طرح کا واسطہ بھی نہیں رہا تھا؛ جہیز کا اسباب تک پھر آیا تھا۔ حسن آرا کی نسبت نوابِ جھجر کے خاندان میں ہوئی تھی۔ ان لڑکیوں کی خالہ شاہ زمانی بیگم اس محلے میں رہتی تھیں جس میں اصغری کا میکہ تھا۔ اس محلے میں تو اصغری کی لیاقت کا شور تھا؛ شاہ زمانی بیگم بھی اصغری کے حال سے خوب واقف تھیں؛ شادی بیاہ میں کئی مرتبہ اس کو دیکھا تھا۔ شاہ زمانی بیگم اپنی چھوٹی بہن، حسن آرا کی ماں، سے ملنے کے لیے آئیں۔
دنیا کا دستور ہے کہ کوئی فردِ بشر رنج سے خالی نہیں؛ اور یہ امر کچھ منجانب اللہ ہے؛ اگر ہر طرف سے خوشی ہو تو انسان خدا کو بھول کر یاد نہ کرے، اور نہ اپنے تئیں بندہ سمجھے۔ شاہ زمانی کی چھوٹی بہن سلطانہ بیگم کو دنیا کے سب عیش میسر تھے، لیکن لڑکیوں کی طرف سے رنجیدہ خاطر رہا کرتی تھیں۔ ادھر جمال آرا بیاہ برات ہو ہوا کر گھر بیٹھی تھی؛ ادھر حسن آرا کے مزاج کی افتاد ایسی بری پڑی تھی کہ اپنے گھر میں سب سے بگاڑ تھا؛ نہ ماں کا لحاظ، نہ آپا کا ادب، نہ باپ کا ڈر۔ نوکر ہیں کہ آپ نالاں ہیں؛ لونڈیاں ہیں کہ الگ پناہ مانگتی ہیں۔ غرض حسن آرا سارے گھر کو سر پر اٹھائے رہتی تھی۔ شاہ زمانی بیگم کے آنے سے چاہیے تھا کہ بڑی خالہ سمجھ کر حسن آرا گھڑی دو گھڑی کو چپ ہو کر بیٹھ جاتی؛ کیا ذکر! شاہ زمانی بیگم کو پالکی سے اترے دیر نہ ہوئی تھی کہ لگاتار دو تین فریادیں آئیں۔ نرگس روتی ہوئی آئی کہ ”بیگم صاحب، دیکھیے، چھوٹی صاحب زادی نے میرا نیا دوپٹا جھاڑ جھاڑ ڈالا۔“ سوسن نے فریاد مچائی کہ ”بیگم صاحب، چھوٹی صاحب نے میرے کلے میں چکٹا بھر لیا۔“ گلاب بلبلا اٹھی کہ ”میرا کان خون خون ہو گیا۔“ دائی چلائی کہ ”دیکھیے، میری لڑکی کم بخت کے ایسے زور سے لکڑی ماری کہ بازو میں بدھی پڑ گئی۔“ باورچی خانے سے ماما نے دہائی دی کہ ”دیکھیے، سالن کی پتیلیوں میں مٹھیاں بھر بھر کر راکھ جھونک رہی ہیں۔“ شاہ زمانی بیگم نے آواز دی کہ ”حسنا! یہاں آؤ۔“ خالہ کی آواز پہچانی، بارے حسن آرا چلی تو آئی؛ نہ سلام نہ دعا؛ ہاتھوں میں راکھ، پاؤں میں کیچڑ؛ اسی حالت میں دوڑ کر خالہ سے لپٹ گئی۔
خالہ نے کہا، ”حسنا، تم بہت شوخی کرنے لگی ہو۔“ حسن آرا نے کہا، ”اس نرگس چڑیل نے فریاد کی ہو گی۔“ یہ کہہ کر خالہ کی گود سے نکل، لپک کر نرگس کا سر کھسوٹ لیا۔ بہتیرا خالہ ”ہیں! ہیں!“ کرتی رہیں، ایک نہ سنی۔
شاہ زمانی بیگم اپنی بہن کی طرف مخاطب ہو کر بولیں، ”بوا سلطانہ، اس لڑکی کے لیے تو، خدا کے لیے، کوئی استانی رکھو۔“
سلطانہ بیگم نے کہا، ”باجی اماں، کیا کروں؟ مہینوں سے استانی کی تلاش میں ہوں، کہیں نہیں ملتی۔“
شاہ زمانی بیگم بولیں، ”اوئی بوا، تمہاری بھی وہ کہاوت ہوئی: ڈھنڈورا شہر میں، لڑکا بغل میں۔ خود تمہارے محلے میں مولوی محمد فاضل کی چھوٹی بہو لاکھ استانیوں کی ایک استانی ہے۔“
سلطانہ نے کہا، ”مجھ کو آج تک اطلاع نہیں ہوئی؛ دیکھو، میں ابھی آدمی بھیجتی ہوں۔“ یہ کہہ کر اپنے گھر کی داروغہ کو بلایا کہ ”مانی جی، کوئی مولوی صاحب اس محلے میں رہتے ہیں؛ باجی اماں کہتی ہیں، ان کی چھوٹی بہو بہت پڑھی لکھی ہیں۔ دیکھو، اگر استانی گری کی نوکری کریں تو ان کو لوا لاؤ۔ کھانا کپڑا اور دس روپے مہینہ، پان زردے کا خرچ، ہم دینے کو حاضر ہیں؛ اور جب لڑکی پہلا سیپارہ ختم کرے گی اور ادب قاعدہ سیکھ جائے گی، تو تنخواہ کے علاوہ استانی جی کو ہم خوش کر دیں گے۔“
مانی جی مولوی صاحب کے گھر آئیں۔ محمد کامل کی ماں سے صاحب سلامت ہوئی، اور پوچھا، ”اچھی بی، مولوی صاحب کی بیوی تمہیں ہو؟“ دیانت النسا نے کہا، ”ہاں، یہی ہیں؛ آؤ، بیٹھو، کہاں سے آئیں؟“
مانی جی نے کہا، ”تمہاری چھوٹی بہو کہاں ہیں؟“
محمد کامل کی ماں نے کہا، ”کوٹھے پر ہیں۔“
مانی جی نے پوچھا، ”میں ان کے پاس اوپر جاؤں؟“
دیانت النسا نے کہا، ”آپ اپنا پتا نشان بتائیے؛ بہو صاحب یہیں آ جائیں گی۔“
مانی جی نے کہا، ”میں حکیم صاحب کے گھر سے آئی ہوں۔“
محمد کامل کی ماں نے نام بنام سب چھوٹے بڑوں کی خیر و عافیت پوچھی، اور مانی سے کہا، ”تمیز دار بہو سے کیا کام ہے؟“
مانی جی نے کہا، ”وہی آویں تو کہوں۔“
تمیز دار کے نیچے اترنے کا وقت بھی آ گیا تھا، کیونکہ عصر کی نماز پڑھ کر اصغری نیچے اتر آتی تھی، اور مغرب اور عشا دونوں نمازیں نیچے پڑھا کرتی تھی۔
اصغری کو مانی جی نے دیکھا تو استانی گری کی نوکری کے واسطے کہتے ہوئے تامل کیا۔ باتوں ہی باتوں میں یہ کہا کہ ”بیگم صاحب کو اپنی چھوٹی لڑکی کا تعلیم کرانا منظور ہے؛ بڑی بیگم صاحب نے آپ کا ذکر کیا تو بیگم صاحب نے مجھ کو بھیجا۔“
اصغری نے کہا، ”دونوں بیگم صاحب کو میری طرف سے بہت بہت سلام کہنا، اور یہ کہنا کہ جو کچھ برا بھلا مجھ کو آتا ہے، مجھ کو کسی سے عذر نہیں؛ اسی واسطے انسان پڑھتا لکھتا ہے کہ دوسرے کو فائدہ پہنچائے۔ اور بڑی بیگم صاحب کو معلوم ہو گا کہ میں اپنے میکے میں کتنی لڑکیوں کو پڑھاتی تھی؛ اور میرا جی بہت چاہتا ہے کہ بیگم صاحب کی لڑکی کو پڑھاؤں؛ لیکن کیا کروں؟ نہ تو بیگم صاحب لڑکی کو یہاں بھیجیں گی، اور نہ میرا جانا ہو سکتا ہے۔“
مانی جی نے تنخواہ کا نام صاف تو نہ لیا، لیکن دبی زبان سے کہا کہ ”بیگم صاحب ہر طرح سے خرچ پات کی بھی ذمہ داری کرنے کو موجود ہیں۔“
اصغری نے کہا، ”یہ سب ان کی مہربانی ہے؛ ان کی ریاست کو یہی بات زیبا ہے؛ لیکن ان کے زیرِ سایہ ہم غریب بھی پڑے ہیں تو خدا ننگا بھوکا نہیں رکھتا۔ بن داموں کی لونڈی بن کر تو خدمت کرنے کو میں حاضر ہوں؛ اور اگر تنخواہ دار استانی درکار ہو تو شہر میں بہت ملیں گی۔“
اس کے بعد مانی جی نے اصغری کا حال پوچھا؛ اور جب سنا کہ یہ تحصیل دار کی بیٹی ہے، اور مولوی محمد فاضل صاحب بھی پچاس روپے ماہواری کے نوکر ہیں، تو مانی کو ندامت ہوئی کہ نوکری کا اشارہ ناحق کیا۔ لیکن اصغری کی گفتگو سن کر مانی لٹو ہو گئی؛ ہرچند نوابی کارخانے دیکھے ہوئے تھی، مگر اصغری کی شستہ تقریر سن کر دنگ ہو گئی، اور معذرت کی کہ ”بی، مجھ کو معاف کرنا۔“
اصغری نے کہا، ”کیوں تم مجھ کو کانٹوں میں گھسیٹتی ہو؟ اول تو نوکری کچھ عیب نہیں، گناہ نہیں؛ اور پھر ناواقفیت کے سبب اگر تم نے پوچھا تو کیا مضائقہ؟“
غرض مانی جی رخصت ہوئی، اور وہاں جا کر کہا کہ ”بیگم صاحب، استانی تو واقع میں لاکھ استانیوں کی ایک استانی ہے؛ جس کی صورت دیکھنے سے آدمی بن جائے، پاس بیٹھنے سے انسانیت حاصل کرے، سایہ پڑ جانے سے سلیقہ سیکھے، ہوا لگ جانے سے ادب پکڑے؛ لیکن نوکری کرنے والی نہیں۔ تحصیل دار کی بیٹی ہے، رئیسِ لاہور کے مختار کی بہو؛ گھر میں ماما نوکر ہے؛ دالان میں چاندنی بچھی ہے، سوزنی، گاؤ تکیہ لگا ہے؛ اچھی خوش گزران زندگی؛ بھلا ان کو نوکری کی کیا پروا ہے؟“
شاہ زمانی بولیں، ”سچ ہے؛ بوا سلطانہ، تم نے مانی جی کو بھیجا تو تھا، لیکن مجھ کو یقین نہ تھا کہ وہ نوکری کریں گی۔“
مانی جی نے کہا، ”لیکن وہ تو ایسی اچھی آدمی ہیں کہ مفت پڑھانے کو خوشی سے راضی ہیں۔“
سلطانہ نے پوچھا کہ ”یہاں آ کر؟“
مانی جی نے کہا، ”بھلا بیگم صاحب، جو نوکری کی پروا نہیں رکھتا، وہ یہاں کیونکر آنے لگا؟“
سلطانہ نے کہا، ”کیا، پھر لڑکی وہاں جایا کرے گی!“
شاہ زمانی نے کہا، ”اس میں کیا قباحت ہے؟ دو قدم پر تو گھر ہے؛ اور مولوی صاحب کو کیا تم نے ایسا بے عزت سمجھا؟ بھائی علی نقی خاں کی سگی پھوپھی زاد بہن کے بیٹے ہیں۔“
سلطانہ نے کہا، ”اہا، تو ایک حساب سے ہماری برادری ہیں۔“
شاہ زمانی نے کہا، ”لو! خدا نہ کرے، کچھ ایسے ویسے ہیں! پہلے ان کا کام خوب بنا ہوا تھا؛ جب سے رئیس بگڑا، بےچارے غریب ہو گئے ہیں۔ پھر بھی ماما ہمیشہ رہی؛ ڈیوڑھی پر بھی ایک دو آدمی رہتے ہیں۔“
سلطانہ نے کہا، ”خیر، حسن آرا وہیں چلی جایا کرے گی۔“
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.