Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 7 sur 11

Part Two. The Sixth Majlis: Sayyid Amjad Ali's Testament

دوسرا حصہ۔ چھٹی مجلس: سید امجد علی کا وصیت نامہ

Altaf Husain Hali

Écriture
Taille

دوسرا حصہ

چھٹی مجلس

آتوجی اور مریم زمانی اور بڑی بیگم کی گفتگو

آتوجی: لو بوا! زبیدہ خاتون کا قصہ سن لیا۔ دیکھو اس کی ماں نے بیٹی کو پڑھا لکھا کر کیسا قابل کر دیا؟ کیا ہم آدمی نہیں ہیں؟ ہم چاہیں تو اس سے زیادہ اپنی اولاد کو آدمی بنا لیں۔ پر ویسی لیاقت کہاں سے لائیں؟

مریم زمانی: حضرت! قصور معاف ہو تو کہوں۔ اس سے یہ کیونکر نکلا کہ مائیں بیٹوں کو بھی پڑھا سکتی ہیں؟ ذکر تو میرے احمد مرزا پر چلا تھا، آپ اس پر زبیدہ خاتون کا قصہ لے بیٹھیں۔ کہاں بیٹیوں کا پڑھانا، کہاں بیٹوں کا تربیت کرنا؟ اس میں اور اس میں آسمان زمین کا فرق ہے۔

آتوجی: بڑی بیگم! سنتی ہو مریم زمانی کی باتیں؟ کیا تمھارے نزدیک بھی مائیں بیٹوں کو تعلیم نہیں کر سکتیں؟

بڑی بیگم: آتوجی! سچ تو کہتی ہے۔ بات تو کہیں کی تھی، تم نے اسے ادھر ڈھال دیا۔ یہ تو ہم بھی جانتے ہیں کہ ماں پڑھی لکھی ہو تو بیٹی کو بری یا بھلی طرح تعلیم کر سکتی ہے، پر بیٹوں کا پڑھانا ماؤں کا ہرگز کام نہیں۔

آتوجی: خدا کا شکر ہے کہ ایک بات کا تو اقرار کیا۔ اب دوسری بات کا بھی وقت آتا جاتا ہے۔ ذرا اس وصیت نامہ کو سنا لوں جو سید عباس کے باپ نے آخری وقت میں لکھوایا تھا، پھر تمھاری بات کا بھی جواب آ جائے گا۔

سید عباس کہتا ہے کہ اماں جان نے جو وہ کاغذ مجھے لا کر دیے تھے، میں نے دیکھا تو ان میں یہ لکھا تھا:

سید امجد علی کا وصیت نامہ

بعد حمد و نعت کے خاکسار امجد علی سب صاحبوں کی خدمت میں عرض کرتا ہے۔ اگرچہ یہ خبر کسی کو نہیں کہ موت کب آئے گی اور کہاں آئے گی، مگر اب کی بار جو میں بیمار پڑا ہوں اس سے آپ ہی آپ میرا دل بیٹھا جاتا ہے؛ شاید میرا وقت قریب آ پہنچا۔ اس بات سے میرے عزیز اور دوست اپنا جی نہ کڑھائیں، کیونکہ اگر سچ مچ میری عمر کے دن تمام ہو چکے ہیں تو کمال شکر کی جگہ ہے کہ اس وقت میرے ہوش و حواس قائم ہیں؛ جن سے کچھ کہنا ہے، کہہ سکتا ہوں؛ جن کا کچھ دینا ہے دے سکتا ہوں۔

سب سے پہلے میں اللہ تعالیٰ کا یہ شکر کرتا ہوں کہ اس نے مجھ کو دین اسلام میں پیدا کیا ہے اور توحید کا رستہ بتایا؛ دوسرے مجھ کو ایسے ماں باپ کا بیٹا بنایا جنھوں نے پہلے میرے پالنے اور پرورش کرنے میں کوشش کی، اور پھر میری تعلیم اور تربیت میں اپنی جان کھپائی۔ اگر ایک کانٹا میرے پاؤں میں چبھ جاتا تھا تو ان کے دل میں جا کر کھٹکتا تھا، اور جس بات سے میرا دل میلا ہوتا تھا اس سے ان کی جان پر بن جاتی تھی۔ اس پیار اور اخلاص پر پڑھنے لکھنے میں کبھی انھوں نے میری دلداری نہ کی۔ اچھا کھلایا، اچھا پہنایا، اچھے بچھونوں پر سلایا، اچھے گھوڑوں پر چڑھایا، جو کہا سو کیا، جو مانگا سو دیا؛ غرض ساری ناز برداریاں کیں، مگر تربیت کے مقدمے میں جب دیکھا دشمنی کی نگاہ سے دیکھا۔ میں خوب جانتا ہوں کہ جو باتیں بچپن میں مجھے ناگوار معلوم ہوتی تھیں ان سے میرے ماں باپ کا دل مجھ سے بھی زیادہ دکھتا ہو گا، مگر انھوں نے اپنی چھاتی پر پتھر رکھنا قبول کیا اور میری خوشی اور ناخوشی کا کچھ خیال نہ کیا۔

اس کے بعد مجھے اس بات کا شکر کرنا بھی ضرور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی قوم کی سلطنت میں پیدا کیا جن کو خدا تعالیٰ نے قرآن میں مسلمانوں کا سب سے زیادہ دوست فرمایا ہے۔ انگریزی سلطنت کی بدولت آج ہندوستان میں وہ روشنی پھیل رہی ہے کہ رات اور دن میں کچھ تمیز نہیں رہی۔ رستے ایسے صاف ہیں کہ جہاں پہلے قافلوں کا گذر نہ ہوتا تھا اب وہاں جس کا جی چاہے آنکھ بند کر کے سونا اچھالتا چلا جائے۔ تجارت اس قدر آسان ہو گئی کہ دو دن میں ہزاروں من مال مشرق سے مغرب میں اور جنوب سے شمال میں پہنچتا ہے۔ جن شہروں کا پہلے نام ہی نام سنتے تھے اب وہاں جانا ایسی بات ہے جیسے بازار میں سیر کر آئے۔ اگر ہزاروں کوس کسی کو کچھ خبر بھیجنی ہو یا وہاں سے کسی کی خبر منگانی ہو تو منہ سے بات نکالنے کی دیر ہے؛ جو خبر بھیجو اس کی رسید لو، جو بات پوچھو اس کا جواب لو۔ پیشے والے پہلے اپنے کاموں کی قدر آپ نہ جانتے تھے؛ صبح سے شام تک جان کھپاتے تھے تو کہیں شام کو جا کر دو تین آنے پلے پڑتے تھے؛ اب ہر شخص کو اس کی محنت کا پھل خاطر خواہ ملتا ہے۔ یہ غلطی ہمیشہ سے چلی آتی تھی کہ نکمے آدمی سدا عیش و عشرت سے بسر کرتے تھے اور کام کے آدمی ذلیل و خوار پھرتے تھے؛ یہ اسی سلطنت کا صدقہ ہے کہ جتنے حق دار تھے وہ اپنے حق کو پہنچ گئے۔ کھیتی کا مدار پہلے ہر جگہ بارش پر یا کنوؤں کے پانی پر تھا؛ اب گنگا اور جمنا چاروں کھونٹ میں دوڑی دوڑی پھرتی ہیں؛ جہاں جہاں نہر گئی ہے وہاں ہمیشہ سماں رہتا ہے۔

اس کے سوا پہلے بادشاہوں اور امیروں کے سوا غریبوں کی بیماری کا علاج جیسا چاہیے ویسا نہ ہوتا تھا؛ کہیں طبیب کو دینا پڑتا تھا، کہیں دوائیں مول لینی پڑتی تھیں۔ اب شہر شہر اور قصبے قصبے اور گاؤں گاؤں سرکاری ڈاکٹر علاج کرتے پھرتے ہیں؛ نہ کچھ ڈاکٹر کو دینا پڑتا ہے، نہ دوا مول لینی پڑتی ہے؛ جس کا جی چاہے علاج کرائے، جو دوا چاہے لے جائے۔ پہلے اول تو کتاب ملتی ہی نہ تھی، اور جو ملتی بھی تھی تو بہت بھاری قیمت کو ملتی تھی، اور جو لکھواتے بھی تو ایک ایک کتاب برسوں میں تمام ہوتی تھی؛ اب چھاپے کی بدولت کتاب اور ترکاری ایک بھاؤ بکتی ہے۔ جو سواریاں پہلے بادشاہوں کو میسر نہ تھیں وہ آج ادنیٰ ادنیٰ آدمی کے پاس موجود ہیں۔ جو کپڑا پہلے امیروں کو نصیب نہ ہوتا تھا وہ پنہاریوں کے بچے پہنے پھرتے ہیں۔ پہلے جب کوئی تمام عالم کی سیر کرتا تب جا کر اس کو ساری دنیا کی حقیقت معلوم ہوتی، کیونکہ ہر ایک ملک کا نقشہ نہایت صحیح چھپا ہوا کاغذ کے مول بکتا پھرتا ہے؛ جس کا جی چاہے گھر بیٹھے ساری دنیا کے پہاڑ اور جنگل اور دریا اور جزیرے اور آبادی اور ویرانے کی سیر کر لے۔ پہلے اولاد کو پڑھانا لکھانا اس قدر مشکل تھا کہ اس سے زیادہ کوئی مشکل کام نہ تھا؛ اب سرکاری تعلیم نے اس مہم کو ایسا آسان کر دیا کہ جاہل رہنا مشکل ہے اور پڑھنا لکھنا آسان ہے۔ پہلے شہروں کی صفائی ایک ایسی چیز تھی کہ کبھی اس کا تصور بھی دل میں نہ آتا تھا؛ اب ایک ایک گلی اور ایک ایک کوچہ اور سڑک اور بازار ایسے صاف رہتے ہیں کہ پہلے شاید امیروں کے رہنے کے مکان بھی اتنے صاف نہ رہتے ہوں گے۔ پہلے غریب امیروں سے اور رعیت حاکم سے ایسی دبتی تھی جیسے غلام اپنے آقا سے دبتا ہے؛ اب ہر شخص کو ہر طرح کی آزادی حاصل ہے؛ ایک جرم قانونی کے سوا اور جو کچھ جس کے جی میں آئے سو کرے، کوئی کسی کا مزاحم نہیں۔ ایک حاکم کے فیصلے سے ناراض ہو، دوسرے کے ہاں جا کر نالش کرے؛ وہاں بھی خاطر خواہ حکم نہ ہو، تیسرے سے جا کر کہے، چوتھے سے کہے، یہاں تک کہ بادشاہ کے دربار میں جا کر فریاد کرے۔ جو مذہب جس کا جی چاہے اختیار کرے۔ سرکاری قانون کی جو بات ناگوار معلوم ہو اس پر اعتراض کرے۔ غرض اسی طرح کی اور سینکڑوں باتیں ہیں۔

میں نے یہاں تقریر کو اس لیے طول دیا ہے تاکہ میری اولاد اس سلطنت کی قدر پہچانے۔ آدمی کا قاعدہ ہے، جو سدا سے آرام و آسائش میں رہا کرتا ہے اس کو آرام و آسائش کی قدر نہیں ہوتی۔ شاید میری اولاد اس سلطنت کی کچھ قدر نہ جانے، کیونکہ وہ اس زمانہ کے سوا اور کچھ نہیں دیکھنے کے؛ لیکن مجھے امید ہے کہ جس وقت وہ پڑھ لکھ لیں گے اور اگلے بادشاہوں کے حال کتابوں میں دیکھیں گے، اس وقت ان کی آنکھیں کھلیں گی، اور اسی وقت یہ سمجھیں گے کہ ملکہ معظمہ کا سایۂ عاطفت ہمارے سر پر بہت بڑی دولت ہے اور ہماری خوش نصیبی کی نشانی ہے۔

اس کے بعد پھر میں اپنے ماں باپ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ انھوں نے ایک بڑے عالی خاندان کی لڑکی سے میری شادی کی۔ اس بیوی نے آ کر میرے گھر کے ایک ایک کونے سے تاریکی کو کھو دیا۔ بری بری رسمیں جو ہمارے ہاں بڑوں کے وقت سے چلی آتی تھیں، اور بڑے بڑے عقیدے جن کو ہمارے ہاں کے مرد عورت اپنا دین و ایمان جانتے تھے، انھوں نے ان کو ایسی خوبصورتی سے مٹایا کہ کسی کو ناگوار نہ گذرا، بلکہ الٹے سب ان کے ممنون ہوئے۔ میری ماں بہن کے ساتھ انھوں نے وہ برتاؤ برتا کہ میں ان کا یہ احسان قیامت تک یاد رکھوں گا۔ خواجہ صاحب قبلہ نے ان کو رخصت کے وقت یہ کہا تھا کہ "اول تو جہاں تک ہو سکے تم اپنی ساس نندوں سے نباہ کرنا؛ اور جو دیکھو کہ کسی طرح نہیں بنتی تو اپنے میاں سے کہہ کر الگ ہو جانا، اور یہ خیال نہ کرنا کہ لوگ برا کہیں گے یا ساس نندیں برا مانیں گی؛ اب تو ایک ہی دفعہ برا مان کر رہ جائیں گے، اور ساتھ رہنے میں روز بگاڑ رہے گا۔ مگر اپنے خاوند کو ان کی اطاعت سے باہر نہ ہونے دینا۔"

میں اس وقت صاف صاف کہے دیتا ہوں کہ اگر یہ چاہتیں تو مجھے ماں بہن سے جدا ہونے میں کچھ عذر نہ ہوتا، کیونکہ میں بھی اس بات کو نہایت مصلحت جانتا تھا؛ مگر انھوں نے یہاں تک نوبت ہی نہ آنے دی۔ میری ماں بہنیں ہمیشہ ان کا دم بھرتی رہیں۔

اس کے سوا فضول خرچی بھی عورتوں کا شیوہ ہے: کھانے پینے میں، بیاہ شادی میں، مرنے جینے میں آگا پیچھا کچھ نہیں دیکھتیں؛ ہمیشہ ان کو یہ دھن لگی رہتی ہے کہ محفل میں نکلیے تو ایسا جوڑا پہن کر نکلیے جو کسی کے پاس نہ نکلے؛ لڑکے کی چھٹی میں ایسی دھوم دھام کیجیے جو کسی نے نہ کی ہو؛ سسرے کا مرنا ایسا کیجیے کہ ساری برادری میں نام ہو جائے؛ اس میں گھر بک جائے تو بک جائے، گھر کا اسباب نیلام ہو جائے تو ہو جائے۔ حالانکہ میں نے کبھی ان سے اپنی جان تک عزیز نہ سمجھی، مگر انھوں نے سدا میری چیز کو ایسا سمجھا جیسے کوئی امانت دار آدمی کسی غیر کی چیز کو سمجھتا ہے۔ کبھی ایک کوڑی بیجا صرف نہ کی، کبھی ایک دانہ بے جگہ نہ اٹھایا۔ گھر کے انتظام میں ان کے سبب سے کبھی مجھ کو دردِ سر کرنا نہ پڑا؛ بلکہ اگر مجھ سے دس مرد مل کر میرے گھر کا انتظام کرتے تو بھی ان سے بہتر نہ ہو سکتا۔ میرے ہاں ہزاروں روپے کا سوداگری اسباب برس برس دن اور دو دو برس رہتا تھا، اور اس میں اکثر اسباب ایسا ہوتا تھا کہ دس دن اس کی خبر نہ لیجیے تو کام سے جاتا رہے؛ مگر ان کی توجہ سے کبھی کوئی چیز نہ بگڑی۔

اس کے سوا عورتوں کو یہ بھی مرض ہوتا ہے کہ ہر وقت دروازے پر ڈولی کھڑی ہی رہتی ہے؛ خالہ، پھپھی، بہن، بھانجی کے ہاں جانے سے کبھی فرصت نہیں ہوتی، اور اسی سبب سے اکثر میاں بیوی میں بگاڑ رہتا ہے۔ مگر ان کی ہمیشہ یہ صورت رہی کہ جب میں ہی ان کو میکے میں بھیجتا تھا تو مہینوں میں ایک آدھ پھیرا کر آتی تھیں؛ اور بیاہ شادی میں جہاں کہیں ایسی ہی ملت جلت ہوتی تھی تو مجبور دو چار گھڑی کے لیے جاتی تھیں؛ نہیں تو اور کہیں جانے آنے سے انھیں بالکل سروکار نہ تھا۔

اس کے سوا جب سے والد مرحوم نے مجھ کو چار حرف پڑھوائے، اہل علم کے سوا کسی کی صحبت مجھے نہ بھاتی تھی، خصوصاً گھر میں بیٹھنے سے ایسا جی گھبراتا تھا کہ اماں اور آپا نے میرا نام اکل کھرا [1] رکھ دیا تھا۔ جب سے یہ آئیں، میرا ہر وقت کا باہر رہنا خود بخود چھوٹ گیا؛ ان کی صحبت میں مجھے باہر کی صحبتوں کی پروا نہ رہی۔ پردیس میں بھی اکثر یہ میرے ساتھ رہیں، مگر سوا ماں بہن کے خیال کے اور کبھی میں نے وطن کو یاد نہیں کیا؛ ایک ان کے ساتھ ہونے سے مجھے پردیس بھی وطن کے برابر معلوم ہوتا تھا۔

اس کے سوا ہمارے ہاں دادا صاحب کے وقت سے دس بارہ ہزار روپے کا قرض چلا آتا تھا، اور گھر کی ابتری سے اس کے اترنے کی کوئی صورت نہ بنتی تھی؛ انھوں نے ایسا سلیقے سے انتظام کیا کہ دس برس میں ایک ایک کوڑی قرض کی اتار دی۔ رہنے کا مکان ہمیشہ ٹوٹا پھوٹا، میلا کچیلا رہتا تھا؛ انھوں نے مکان کی صورت ہی بدل دی؛ گرمی، سردی، برسات، جس موسم کا آرام چاہیے موجود ہے؛ جس نے یہ مکان بیس برس پہلے دیکھا ہو اور وہ اب آ کر دیکھے تو ہرگز اس کی پہچان میں نہ آئے کہ یہ وہی مکان ہے۔ غرض کہاں تک بیان کروں، ان کا حق مجھ سے کسی طرح ادا نہیں ہو سکتا۔

اب ان سے میری یہ التجا ہے کہ جہاں جیتے جی تمھارے اور ہزاروں احسان مجھ پر رہے، اب میرے مرنے کے بعد بڑا احسان یہ ہے کہ سید عباس کی تربیت میں ایسی کوشش کرنا کہ میری روح تم کو دعا دے۔ اگرچہ میں خوب جانتا ہوں کہ تمھاری زندگی ہمیشہ اچھے کاموں میں صرف ہو گی، مگر اس وقت اس کا حق مجھ پر بھی تھا کہ تم کو اس باب میں وصیت کر جاؤں۔ اور اماں اور آپا سے میرا یہ سوال ہے کہ میرے بعد سید عباس کی والدہ کو میری جگہ سمجھیں، بلکہ مجھ سے بھی زیادہ عزیز جانیں۔

اور اگر خدا تعالیٰ سید عباس کو زندگی عنایت کرے تو اس کو اور اس کی اولاد کو اول وصیت میری یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے تحصیل علم میں سعی کرنا۔ یہ ایک ایسی نصیحت ہے کہ سارے جہان کی نصیحتیں اسی میں آ گئیں؛ تمام دنیا اور دین کی بھلائیاں ایک علم کے پڑھنے سے انسان میں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اس کے سوا چند باتیں روز کے برتاؤ کی بھی بتائے دیتا ہوں؛ اگر ان کے موافق عمل کریں گے تو دنیا میں ان کے بہت کام آئیں گی۔

دنیا میں عزت چاہو تو وہ ہنر سیکھو جس کی بادشاہ وقت کے ہاں قدر ہو۔ ہر زمانہ اور ہر سلطنت میں ایک نئی چیز کی قدر ہوتی ہے۔ جو لوگ اگلے وقتوں کے ہنر کو ہنر سمجھے جاتے ہیں اور نئے کمال اور نئے ہنر نہیں سیکھتے، وہ ہمیشہ دنیا میں ذلیل اور خوار رہا کرتے ہیں۔ ہمارے ہاں کئی پشت سے تجارت کا پیشہ چلا آتا ہے، مگر تم کو کچھ ضرور نہیں کہ تم بھی تجارت ہی کر کے روٹی پیدا کرو؛ نہیں، بلکہ جس کام کی لیاقت اپنے میں دیکھو اور جس بات کی برائی بھلائی سے خوب واقف ہو، وہ پیشہ اختیار کرو۔ بعض نوکری پیشہ اس فکر میں رہتے ہیں کہ کسی طرح ہماری ترقی ہو، مگر جس لیاقت پر ترقی موقوف ہے اس کے حاصل کرنے میں کوشش نہیں کرتے؛ یہ بڑی غلطی کی بات ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ پہلے وہ کمال پیدا کرے جس سے خود بخود اس کی پوچھ ہو۔

اگر کوئی حاکم یا کوئی امیر تمھارا کہنا مانتا ہو تو کبھی کسی نالائق آدمی کی سفارش نہ کرنا؛ اور جو کرو تو اس کے عیب و ہنر سب جتا دینا، اگرچہ وہ شخص تمھارا کیسا ہی دوست ہو؛ نہیں تو ایک اس کا بھلا کرنے میں اور سینکڑوں لائق آدمیوں کا برا ہو گا، کیونکہ جب تمھاری ایک بات غلط نکلے گی پھر تمھاری سچی بات کو بھی کوئی نہیں ماننے کا۔

وعدہ خلافی کرنی، جھوٹ بولنا، رشوت لینی، تغلب کرنا، خوش بیانی کے لیے مبالغہ کرنا، فریب دے کر کام نکالنا، محفلوں میں ایک ایک پر پھبتی کہنی، ان سب باتوں کا اس زمانہ میں بالکل عیب نہیں رہا؛ دیکھو، کبھی تم ان کو عیب نہ جانو۔

معاش پیدا کرنے کے لیے تم کو بارہا سفر کرنے کا اتفاق ہو گا۔ ایک جمعے کے دن تو سفر نہ کرنا، کیونکہ وہ عبادت کا دن ہے؛ جس طرح یہودیوں کے ہاں ہفتہ اور عیسائیوں کے ہاں اتوار ہے، اسی طرح ہمارے ہاں جمعہ ہے۔ اس کے سوا اور سب دن خدا کے ہیں؛ کبھی سفر کرنے میں تردد نہ کرنا۔ لوگ کہتے ہیں کہ دساسول ہفتے اور پیر کو مشرق میں ہوتا ہے، اور جمعے اور اتوار کو مغرب میں، اور منگل اور بدھ کو شمال میں، اور جمعرات کو جنوب میں؛ جب دساسول سامنے ہو تو سفر نہ کرنا چاہیے۔ ایسی باتوں کو تم ہرگز نہ ماننا؛ بعضے وقت ایسے ایسے وہموں سے آدمی اپنا بڑا نقصان کر بیٹھتا ہے۔

شاید تم کو گھوڑے کی تجارت کرنے کا اتفاق ہو، یا اپنی سواری کے لیے گھوڑا خریدنا ہو، تو جو گھوڑا بیمار ہو یا سواری میں کوئی عیب کرتا ہو یا صورت کا برا ہو اس کے نہ لینے کا مضائقہ نہیں؛ اس کے سوا اور بیسیوں بھوریوں کے عیب جو لوگوں نے ٹھیرا رکھے ہیں ان عیبوں کا خیال تم ہرگز نہ کرنا۔ اس زمانہ میں لوگ اس شخص کو بہت بڑا سالوتری اور چابک سوار جانتے ہیں جو کسی لاگ سے عیب دار گھوڑے کو بے عیب کر کے خریدار کے سر منڈھ دے؛ یہ بہت بڑا عیب ہے۔ تم گھوڑے کی سوداگری کرو تو مول تول کرنے سے پہلے گھوڑے کا ایک ایک عیب جتا دینا۔

بعضے لوگ سوداگری مال کو برسوں اس امید پر پڑا رکھتے ہیں کہ جب دگنا تگنا نفع ہو گا تب بیچیں گے؛ جن کو یہ خیال ہوتا ہے وہ ہمیشہ ٹوٹے میں رہا کرتے ہیں؛ اور جو اسی وقت اونے پونے کر کے بیچ دیتے ہیں وہ بہت کم نقصان اٹھاتے ہیں۔

کامی آدمی سے ملنے جاؤ تو اس کی فرصت کے وقت جانا، نہیں تو تمھارا جانا اس کو ناگوار معلوم ہو گا۔ ایسے لوگوں سے دوستی کرنی نہ چاہیے جو بے ضرورت آ کر تمھارا وقت ضائع کر جائیں۔ وقت کو جان سے بھی زیادہ عزیز سمجھنا۔ جو کام ہمیشہ کرنے پڑتے ہیں ان کے وقت باندھ لینا، یہ نہیں کہ جو کام جب چاہا کر لیا؛ اس کا فائدہ اسی وقت معلوم ہو گا جب وقتوں کی پابندی اختیار کرو گے۔

بعضے لوگ اپنی بیویوں پر تشدد [2] کرنے کو نہایت انتظام کی بات جانتے ہیں، اور ہر وقت ان سے بدگمان رہنے کو کمال غیرت اور حمیت سمجھتے ہیں؛ وہ لوگ اپنی زندگی آپ تلخ کرتے ہیں اور عورتوں کا صبر اپنی گردن پر لیتے ہیں۔ مجھ کو میری شادی کے دن عین رخصت کے وقت خواجہ صاحب قبلہ نے یہ نصیحت کی تھی کہ "عورتوں سے بدگمان رہنے کی ممانعت حدیث میں آئی ہے۔" میں نے ان کی اس نصیحت سے بہت فائدہ اٹھایا؛ تم بھی اس نصیحت کو کبھی نہ بھولنا۔

مصیبت کے وقت استقلال کو ہاتھ سے نہ دینا۔ ہمیشہ صبح کو سویرے اٹھنا۔ جس سے ملو اس سے کوئی نہ کوئی بات سیکھنے کا ارادہ رکھنا۔ کاہل وجود اور امیرزادے بن کر نہ بیٹھنا؛ اور نوکروں کو صرف یہ سمجھنا کہ یہ بھی ایک ہمارے مددگار ہیں؛ جب تم کسی بڑے کام میں مصروف ہو تو چھوٹے چھوٹے کام ان سے لینا، اور جو تمھارے آگے کوئی بڑا کام نہ ہو تو اپنا کام آپ کرنے کو عیب نہ جاننا۔ جن لوگوں کے آگے نوکر چاکر کام کرتے ہیں اکثر وہ ان کے سہارے پر آپ بالکل اپاہج ہو بیٹھتے ہیں۔ ایسے مزاج کے آدمی ہمیشہ تکلیف اور نقصان اٹھاتے ہیں۔

جتنی علموں کے سیکھنے میں کوشش کرو، اتنی ہی نئی نئی زبانیں سیکھنے میں سعی کرنا۔ مگر سب سے پہلے اپنی زبان درست کرنا، پھر وہ زبان سیکھنا جس میں دین کی کتابیں ہوں، پھر بادشاہ وقت کی زبان میں کمال حاصل کرنا۔ اس کے بعد جو زبان تھوڑی بہت آ جائے فائدے سے خالی نہیں، مگر بہت ضرور تینوں زبانوں کا سیکھنا ہے۔ بعضے لوگ فارسی زبان سیکھنے میں اپنی عمر تمام کر دیتے ہیں؛ یہ بڑی غلطی کی بات ہے؛ اس کی ضرورت تھی تو اہل عجم کی سلطنت میں تھی، اب وہ وقت گیا؛ اب انگریزی میں کمال پیدا کرنا چاہیے، اور فارسی صرف اتنی سیکھنی چاہیے جس سے اردو کو رونق ہو۔

غرض جو بات عقل کے نزدیک اچھی ہو اس کو لاکھ زمانہ برا جانے، تم کبھی اس کو عیب نہ جاننا؛ اور جو بات عقل کے نزدیک بری ہو اس کو ہزار لوگ اچھا کہیں، تم ہرگز اسے اچھا نہ کہنا۔

اس کے بعد اپنی ساری قوم سے میری یہ عرض ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم میں کوشش کریں، اور ان کو جو خدا تعالیٰ نے جوہر قابل دیا ہے اس کو خاک میں نہ ملائیں، اور ان کے پڑھانے لکھانے میں جو ہزاروں فائدے ان کے اور عورتوں کے لیے ہیں انھیں مفت برباد نہ کریں؛ اور یہ سمجھیں کہ جب دو حرف یاد ہونے سے طوطے اور مینا کی قدر و قیمت بڑھ جاتی ہے، تو عورتیں جو تمھاری ہم جنس ہیں انھوں نے کیا قصور کیا ہے کہ علم پڑھنے سے ان کو کچھ فائدہ نہ پہنچے گا؟

پس جو کچھ وصیتیں مجھ کو کرنی تھیں کر چکا۔ اب سب کو میں اپنے اسلام پر گواہ کرتا ہوں، اور یہ عہد کرتا ہوں کہ اب تک جو کچھ گناہ مجھ سے ہوئے، اگر جیتا رہا تو جہاں تک ہو سکے گا ان سے بچوں گا۔ اللہ بس، باقی ہوس۔

حواشی

[1] اکل کھرا: جو تنہائی پسند کرے، سوسائٹی سے گھبرائے۔

[2] تشدد: سختی۔ بدسلوکی۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.