Urdu in Translation
بحث

الفصل 8 من 9

To Ala-ud-din Ahmad Khan Alai: Letters 1–28

علائی کے نام: خط ۱ تا ۲۸

ميرزا أسد الله خان غالب

الخط
الحجم

مرزا علاءالدین احمد خاں ”علائی“ و ”نسیمی“

خط ۱

آج بدھ کے دن، ۲۷ رمضان کو، پہر دن چڑھے، جس وقت کہ میں کھانا کھا کر باہر آیا تھا، ڈاک کا ہرکارہ تمہارا خط اور شہاب الدین خاں کا خط [معاً لایا] - مضمون دونوں کا ایک - واہ! کیا مضمون اِن دنوں میں کہ سب طرح کے رنج و عذاب فراہم ہیں؛ ایک داغ جگرسوز یہ بھی ضرور تھا - سبحان اللّٰہ، میں نے اوس کی صورت بھی نہیں دیکھی، یا ولادت کی تاریخ سنی یا اب رحلت کی تاریخ لکھنی پڑی - پروردگار تم کو جیتا رکھے اور نعم‌البدل عطا کرے - میاں، اِس کو سب جانتے ہیں کہ میں مادۂ تاریخ نکالنے میں عاجز ہوں - لوگوں کے مادے دیے ہوئے نظم کر دیتا ہوں، اور جو مادہ اپنی طبیعت سے پیدا کرتا ہوں، وہ بیشتر لچر ہوا کرتا ہے - چنانچہ اپنے بھائی کی رحلت کا مادہ ”دریغ دیوانہ“ نکالا، پھر اوس میں سے ”آہ“ کے عدد گھٹائے - تمام دوپہر اِسی فکر میں رہا، یہ نہ سمجھنا کہ مادہ ڈھونڈھا؛ تمہارے نکالے ہوئے دو لفظوں کو تاکا کیا کہ کسی طرح سات اِس پر بڑھاؤں - بارے، ایک قطعہ درست ہوا؛ مگر تمہاری زبان سے، یعنی گویا تم نے کہا ہے - پانچ شعر میں تین شعر زائد، دو موضح مدعا؛ لیکن میں نہیں جانتا کہ تعمیہ اچھا ہے یا برا ہے - ہاں، اِغلاق تو البتہ ہے؛ تامل سے سمجھ میں آتا ہے اور شاید لوحِ مزار پر کھدوانے کے قابل نہ ہو -

قطعہ

در گریہ اگر دعویِ ہم‌چشمیِ ما کردبینی کہ شود ابرِ بہاری خجل از ما

ناچار بگرییم شب و روز کہ این سیلباشد کہ برد کالبدِ آب و گل از ما

گفتی کہ نگہدار دل از کشمکش غمخود کرد بر آورد غم جان گسل از ما

یحییٰ شد و از شعلۂ سوز غم ہجرشچوں شمع دَوَد دود بسر متصل از ما

غم‌دیدہ ”نسیمی“ پے تاریخِ وفاتشبنوشت کہ در داغ پسر سوخت دل از ما

”ما“ کے عدد ۴۱، ”دل“ کے عدد ۳۴ - ”ما“ میں سے ”دل“ گیا، گویا ۴۱ میں سے ۳۴ گئے؛ باقی رہے سات - وہ ”داغ پسر“ پر بڑھائے؛ ۱۲۷۴ ہات آئے -

[۱۲۷۴ھ، م ۱۸۵۸ع] -

خط ۲

میرزا نسیمی کو دعا پہنچے -

آنکھ کی گھاجلی جب خود پک کر پھوٹ گئی تھی اور پیپ نکل گئی تھی، تو نشتر کیوں کھایا؟ مگر یہ کہ بہ طریق خوشامد طبیب سے رجوع کی - جب اوس نے نشتر تجویز کیا تو خواہی نہ خواہی اِمتثال امر کرنا پڑا اور شاید یوں نہ ہو، کچھ مادہ باقی ہو - بہر حال، حق تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے شفا بخشے -

قطعہ

بسکہ فعّال ما یُرید ہے آجہر سلحشور اِنگلستاں کا

گھر سے بازار میں نکلتے ہوئےزہرہ ہوتا ہے آب، اِنساں کا

چوک جس کو کہیں وہ مقتل ہےگھر بنا ہے نمونہ زنداں کا

شہر دہلی کا ذرہ ذرۂ خاکتشنۂ خوں ہے ہر مسلماں کا

کوئی واں سے نہ آ سکے یاں تکآدمی واں نہ جا سکے یاں کا

میں نے مانا کہ مل گئے پھر کیا؟وہی رونا تن و دل و جاں کا

گاہ جل کر کیا کیے شکوہسوزش داغ‌ہاے پنہاں کا

گاہ رو کر کہا کیے باہمماجرا دیدہ‌ہاے گریاں کا

اِس طرح کے وصال سے، یارب!کیا مٹے دل سے داغ ہجراں کا؟

[۱۸۵۸ع] -

خط ۳

خاک نمناکم و تو باد بہارنہ توانی مرا ز جا بردن

ہاں ”نسیمی“ ز من چہ میخواہیرحمت خویشتن چہ میخواہی

خوشی مجھ میں تم میں مشترک ہے - تم نے مجھے تہنیت دی، تو مبارک؛ اور میں نے تمہیں تہنیت دی تو مناسب - للہ الحمد، للہ الشکر - بھائی، سُچ تو یہ ہے کہ اِن دنوں میں میرے پاس ٹکٹ نہیں - اگر بیرنگ بھیجوں، تو کہار ماندہ، اوٹھ نہیں سکتا، ڈاک‌گھر تک جائے کون؟ اپنا مقصود تمہارے والد ماجد سے اور تمہاری جدۂ ماجدہ اور تمہارے عم عالی‌مقدار سے کہہ چکا ہوں - خلاصہ یہ کہ میری بی‌بی اور بچوں کو، کہ یہ تمہاری قوم کے ہیں، مجھ سے لے لو، کہ میں اب اِس بوجھ کا متحمل ہو نہیں سکتا - اونھوں نے بھی، بہ شرط اِن لوگوں کے لوہارو جانے کے، اِس خواہش کو قبول کیا - میرا قصد سیاحت کا ہے - پنسن اگر کھل جائے گا، تو وہ اپنے صرف میں لایا کروں گا - جہاں جی لگا، وہاں رہ گیا، جہاں سے دل اُوکھڑا، چل دیا -

تا درمیانہ خواستۂ کردگار چیست -

دوشنبہ، ۱۳ محرم سنہ ۱۲۷۵ھ، مطابق ۲۳ اگست سنہ ۱۸۵۸ع -

غالب -

خط ۴

سبحان اللّٰہ، ہزار برس تک نہ پیام بھیجنا، نہ خط لکھنا، اور پھر لکھنا تو سراسر غلط لکھنا - مجھ سے کتاب مستعار مانگتے ہو - یاد کرو کہ تم کو لکھ چکا ہوں کہ ”دساتیر“ اور ”برہان قاطع“ کے سوا کوئی کتاب میرے پاس نہیں - از آں جملہ ”برہان قاطع“ تم کو دے چکا ہوں؛ ”دساتیر“ میرا ایمان و حرز جان ہے - اشعار تازہ مانگتے ہو - کہاں سے لاؤں؟ عاشقانہ اشعار سے مجھ کو وہ بُعد ہے جو ایمان سے کفر کو - گورمنٹ کا بھاٹ تھا، بھٹئی کرتا تھا، خلعت پاتا تھا - خلعت موقوف، بھٹئی متروک - نہ غزل، نہ مدح - ہزل و ہجو میرا آئین نہیں - پھر کہو، کیا لکھوں؟ بوڑھے پہلوان کے سے پیچ بتانے کو رہ گیا ہوں - اکثر اطراف و جوانب سے اشعار آ جاتے ہیں، اِصلاح پا جاتے ہیں - باور کرنا اور مطابق واقع سمجھنا - تمہارے دیکھنے کو دل بہت چاہتا ہے اور دیکھنا تمہارا موقوف اِس پر ہے کہ تم یہاں آؤ - کاش، اپنے والد ماجد کے ساتھ چلے آتے اور مجھ کو دیکھ جاتے - اُردو کا دیوان رامپور سے لایا ہوں اور وہ آگرے گیا ہے - وہاں منطبع ہوگا - ایک نسخہ تمہارے پاس بھی پہنچ جائے گا -

تم جانو، تم کو غیر سے جو رسم و راہ ہو -مجھ کو بھی پوچھتے رہو، تو کیا گناہ ہو؟

مرقومۂ روز دوشنبہ، ۲ جولائی سنہ ۱۸۶۰ع -

غالب -

خط ۵

صاحب،

میری داستان سنیے - پنسن بے کم و کاست جاری ہوا - زر مجتمعۂ سہ‌سالہ یک‌مشت مل گیا - بعد اداے حقوق چار سو روپئے دینے باقی رہے اور ستاسی روپئے گیارہ آنے مجھے بچے - مئی کا مہینا بدستور ملا - آخر جون میں حکم ہوا کہ پنسن‌دار علی‌العموم ششماہی پایا کریں ماہ بماہ پنسن تقسیم نہ ہوا کرے -

میں دس بارہ برس سے حکیم محمد حسن خاں کی حویلی میں رہتا ہوں - اب وہ حویلی غلام اللّٰہ خاں نے مول لے لی - آخر جون میں مجھ سے کہا کہ حویلی خالی کردو - اب مجھے فکر پڑی کہ کہیں دو حویلیاں قریب ہمدگر ایسی ملیں کہ ایک محل‌سرا اور ایک دیوان‌خانہ ہو؛ نہ ملیں - ناچار یہ چاہا کہ بلّی ماروں میں ایک مکان ایسا ملے کہ جس میں جا رہوں؛ نہ ملا - تمہاری چھوٹی پھوپی نے بیکس‌نوازی کی - کروڑا والی حویلی مجھ کو رہنے کو دی - ہر چند وہ رعایت مرعی نہ رہی کہ محل‌سرا سے قریب ہو؛ مگر خیر، بہت دور بھی نہیں - کل یا پرسوں وہاں جا رہوں گا - ایک پانو زمین پر ہے، ایک پانو رکاب میں؛ توشے کا وہ حال، گوشے کی یہ صورت!

کل شنبہ، ۱۷ ذی الحجہ کی اور ۷ جولائی کی، پہر دن چڑھے تمہارا خط پہنچا - دو گھڑی کے بعد سنا گیا کہ امین الدین خاں صاحب نے اپنی کوٹھی میں نزول اِجلال کیا - پہر دن رہے از راہ مہربانی ناگاہ میرے ہاں تشریف لائے - میں نے اون کو دبلا و افسردہ پایا؛ دل کڑھا - علی حسین خاں بھی آیا، اوس سے بھی میں ملا - میں نے تمہیں پوچھا کہ وہ کیوں نہیں آئے؟ بھائی صاحب بولے کہ جب میں یہاں آیا، تو کوئی وہاں بھی تو رہے، اور اِس سے علاوہ وہ اپنے بیٹے کو بہت چاہتے ہیں - میں نے کہا: اوتنا ہی، جتنا تم اوس کو چاہتے تھے - ہنسنے لگے - غرض کہ میں نے بظاہر اون کو تم سے اچھا پایا - آگے تم لوگوں کے دلوں کا مالک اللّٰہ ہے -

نگاشتہ و رواں داشتۂ یکشنبہ، بین الظہر و العصر -

[۱۲۷۶ھ، م ۱۸۶۰ع] -

راقم: غالب -

خط ۶

مولانا نسیمی،

کیوں خفا ہوتے ہو؟ ہمیشہ سے اسلاف و اخلاف ہوتے چلے آئے ہیں - اگر نیرّ خلیفۂ اول ہے؛ تم خلیفۂ ثانی ہو - اوس کو عمر میں تم پر تقدم زمانی ہے - جانشین دونوں، مگر ایک اول ہے اور ایک ثانی ہے - شیر اپنے بچوں کو شکار کا گوشت کھلاتا ہے، طریق صیدافگنی سکھاتا ہے - جب وہ جوان ہوجاتے ہیں، آپ شکار کر کھاتے ہیں - تم سخنور ہوگئے، حسن طبع خدا داد رکھتے ہو، ولادت فرزند کی تاریخ کیوں نہ کہو؟ اِسم تاریخی کیوں نہ نکال لو کہ مجھ پیر غمزدہ، دل‌مردہ کو تکلیف دو؟ علاءالدین خاں، تیری جان کی قسم، میں نے پہلے لڑکے کا اِسم تاریخی نظم کر دیا تھا، اور وہ لڑکا نہ جیا - مجھ کو اِس وہم نے گھیرا ہے کہ میری نحوست طالع کی تاثیر تھی - میرا ممدوح جیتا نہیں - نصیر الدین حیدر اور امجد علی شاہ ایک ایک قصیدے میں چل دیے - واجد علی شاہ تین قصیدوں کے متحمل ہوئے؛ پھر نہ سنبھل سکے - جس کی مدح میں دس بیس قصیدے کہے گئے، وہ عدم سے بھی پرے پہنچا - نہ صاحب، دوہائی خدا کی، میں نہ تاریخ ولادت کہوں گا، نہ نام تاریخی ڈھونڈھوں گا - حق تعالیٰ تم کو اور تمہاری اولاد کو سلامت رکھے اور عمر و دولت و اِقبال عطا کرے -

سنو صاحب، حسن‌پرستوں کا ایک قاعدہ ہے، وہ امرد کو دو چار برس گھٹا کر دیکھتے ہیں - جانتے ہیں کہ جوان ہے، لیکن بچہ سمجھتے ہیں - یہ حال تمہاری قوم کا ہے - قسم شرعی کھا کر کہتا ہوں کہ ایک شخص ہے کہ اوس کی عزت اور نام‌آوری جمہور کے نزدیک ثابت اور متحقق ہے اور تم صاحب بھی جانتے ہو، مگر جب تک اوس سے قطع نظر نہ کرو اور اوس مسخرے کو گمنام و ذلیل نہ سمجھ لو؛ تم کو چین نہ آئے گا - پچاس برس سے دلی میں رہتا ہوں - ہزارہا خط اطراف و جوانب سے آتے ہیں - بہت لوگ ایسے ہیں کہ محلہ نہیں لکھتے - بہت لوگ ایسے ہیں کہ محلۂ سابق کا نام لکھ دیتے ہیں - حکام کے خطوط فارسی و انگریزی، یہاں تک کہ ولایت کے آئے ہوئے، صرف شہر کا نام اور میرا نام - یہ سب مراتب تم جانتے ہو اور اون خطوط کو تم دیکھ چکے ہو اور پھر مجھ سے پوچھتے ہو کہ اپنا مسکن بتا - اگر میں تمہارے نزدیک امیر نہیں، نہ سہی؛ اہل‌حرفہ میں سے بھی نہیں ہوں کہ جب تک محلہ اور تھانا نہ لکھا جائے، ہرکارہ میرا پتا نہ پائے - آپ صرف ”دہلی“ لکھ کر میرا نام لکھ دیا کیجیے؛ خط کے پہنچنے کا میں ضامن -

پنجشنبہ، ۴ ماہ اپریل [۱۸۶۱ع] -

خط ۷

میری جان،

تخلص تمہارا بہت پاکیزہ اور میرے پسند ہے - ”پشمی“ کو بہ تکلف اوس کا مصحّف کیوں ٹھہراؤ؟ یہ میدان تو بہت فراخ ہے - ”خدا“ کی خے کو جیم فارسی، سے بدل دو - ”نبی“ کو بتقدیم موحدہ علی‌النون لکھو - یہ وساوس دل سے دور کرو - ”رہرو“ ایک اچھا تخلص ہے، ”رہزو“ اوس کی تجنیس موجود ہے - ”شیون“ ایک اچھا تخلص ہے، ”ستون“ اوس کی تصحیف ہے - تمہارے واسطے بہ مناسبت اسم ”عالی“ تخلص خوب تھا، مگر اِس تخلص کا ایک شاعر بہت بڑا نامی گزر چکا ہے - ہاں، ”نامی“، ”سامی“، یہ دو تخلص بھی اچھے ہیں - مولانا ”فائق“ کی پیروی کرو، ”مولانا لائق“ کہلاؤ - اگر کہو گے کہ اِس ترکیب سے لفظ ”نالائق“ پیدا ہوتا ہے، مولانا ”شائق“ بن جاؤ - ہنسی کی باتیں ہو چکیں - اب حقیقت واجبی سنو، ”نسیمی“ تخلص، خماسی، بر وزن ”ظہوری“ و ”نظیری“ اچھا ہے - اگر بدلنا ہی منظور ہے، تو ”نامی“، ”سامی“، ”رہرو“، ”شیون“، یہ چار تخلص رباعی، بر وزن ”عرفی“ و ”غالب“، اچھے ہیں - اِن میں سے ایک تخلص قرار دو - میرے نزدیک سب سے بہتر، تمہارے واسطے خاص ”فخری“ تخلص ہے - کہوگے کہ آزادپور کے باغ میں ایک آم کا نام ”فخری“ ہے - حاصل کلام، دو دن کی فکر میں جو تخلص میرے خیال میں آئے وہ آج لکھ بھیجتا ہوں - بھائی، ”موبد“ تخلص نیا ہے؛ اگر یہ پسند آئے، تو یہ رکھو - والدعا -

صبح یکشنبہ، ۱۲ مئی سنہ ۱۸۶۱ع -

نجات کا طالب، غالب -

خط ۸

میری جان، علائی ہمہ داں،

اِس دفعِ دخل مقدر کا کیا کہنا ہے! ”فرہنگِ لغاتِ دساتیر“ تمہارے پاس ہے، میں چاہتا تھا کہ اوس کی نقل تم سے منگاؤں - تم نے ”دساتیر“ مجھ سے مانگی، اوسی صحیفۂ مقدس کی قسم کہ وہ میرے پاس نہیں ہے - جی میں کہوگے کہ اگر ”دساتیر“ نہیں، تو ”فرہنگ“ کی خواہش کیوں ہے - حق یوں ہے کہ بعض لغات کے اِعراب یاد نہیں، اِس واسطے ”فرہنگ“ کی خواہش ہے - اگر اوس ”فرہنگ“ کی نقل بھیج دو گے، تو مجھ پر احسان کروگے - ”دساتیر“ میرے پاس ہوتی، تو آج اِس خط کے ساتھ اوس کا بھی پارسل بھیج دیتا - ہاں صاحب، اگر ”دساتیر“ ہوتی اور میں بھیج دیتا، تو البتہ بھائی صاحب کا مشکور ہوتا، دین و دنیا میں کیوں ماجور ہوتا؟ اِرسال اِہدا پر حصول اجر کیوں مترتب ہوگیا؟ بھائی وہ مذہب اِختیار کیا چاہتے ہیں، اور تم اوس مذہب کو حق جانتے ہو، کہ میں جو واسطہ اوس کے اِعلان و شیوع کا ہوتا، تو عند اللّٰہ مجھ کو اِستحقاق اجر پانے کا پیدا ہوتا - اپنے باپ کو سمجھاؤ اور ایک شعر میرا اور ایک شعر ”حافظ“ کا اور ایک شعر مولوی روم کا سناؤ:

غالب:

دولت بغلط نبود، از سعی پشیمان شوکافر نتوانی شد، ناچار مسلمان شو -

حافظ:

جنگ ہفتاد و دو ملّت ہمہ را عذر بنہچون ندیدند حقیقت، رہِ افسانہ زدند -

مولانا:

مذہب عاشق ز مذہبہا جداستعاشقاں را مذہب و ملّت خداست -

رات کو خوب مینھ برسا ہے، صبح کو تھم گیا ہے - ہوا سرد چل رہی ہے - ابر تنک چھا رہا ہے - یقین ہے کہ تمہاری جدۂ ماجدہ مع اپنی بہو اور پوتے کے روانۂ لوہارو ہوں - کل آج کی روانگی کی خبر تھی - یہ لڑکا سعید ازلی ہے - ابر کا محیط ہونا اور ہوا کا سرد ہوجانا خاص اوس کی آسایش کے واسطے ہے - میرا منظر سر راہ ہے؛ وہاں بیٹھا ہوا یہ خط لکھ رہا ہوں - محمد علی بیگ اودھر سے نکلا -

’بھئی محمد علی بیگ، لوہارو کی سواریاں روانا ہوگئیں؟‘

’حضرت، ابھی نہیں -‘

’کیا آج نہ جائیں گی؟‘

’آج ضرور جائیں گی؛ تیاری ہو رہی ہے‘ -

مرقومۂ شنبہ، یکم جون وقت صبح ۶ بجے، ۷ کے عمل میں -

[۱۸۶۱ع] -

غالب -

خط ۹

جان غالب،

یاد آتا ہے کہ تمہارے عم نامدار سے سنا ہے کہ لغات ”دساتیر“ کی فرہنگ وہاں ہے - اگر ہوتی تو کیوں نہ تم بھیج دیتے - خیر،

آنچہ ما در کار داریم اکثرے درکار نیست -

تم ثمر نورس ہو اوس نہال کے کہ جس نے میری آنکھوں کے سامنے نشو و نما پائی ہے، اور میں ہواخواہ و سایہ نشین اوس نہال کا رہا ہوں - کیوں کر تم مجھ کو عزیز نہ ہوگے؟ رہی دید وادید، اوس کی دو صورتیں: تم دلی میں آؤ، یا میں لوہارو آؤں - تم مجبور، میں معذور - خود کہتا ہوں کہ میرا عذر زنہار مسموع نہ ہو، جب تک نہ سمجھ لو کہ میں کون ہوں اور ماجرا کیا ہے:

سنو، عالم دو ہیں: ایک عالم ارواح اور ایک عالم آب و گل - حاکم اِن دونوں عالموں کا وہ ایک ہے جو خود فرماتا ہے: لِمَنِ المُلکُ الیوم؛ اور پھر آپ جواب دیتا ہے: للّٰہ الواحد القہّار - ہر چند قاعدۂ عام یہ ہے کہ عالم آب و گل کے مجرم عالم ارواح میں سزا پاتے ہیں؛ لیکن یوں بھی ہوا ہے کہ عالم ارواح کے گنہگار کو دنیا میں بھیج کر سزا دیتے ہیں - چنانچہ میں آٹھویں رجب سنہ ۱۲۱۲ھ میں روبکاری کے واسطے یہاں بھیجا گیا - تیرہ برس حوالات میں رہا - ۷ رجب سنہ ۱۲۲۵ھ کو میرے واسطے حکم دوام حبس صادر ہوا - ایک بیڑی میرے پانو میں ڈال دی اور دلی شہر کو زنداں مقرر کیا اور مجھے اوس زنداں میں ڈال دیا - فکر نظم و نثر کو مشقت ٹھہرایا - برسوں کے بعد میں جیل‌خانے میں سے بھاگا - تین برس بلاد شرقیہ میں پھرتا رہا - پایان کار مجھے کلکتے سے پکڑ لائے اور پھر اوسی محبس میں بٹھا دیا - جب دیکھا کہ یہ قیدی گریزپا ہے، دو ہتکڑیاں اور بڑھا دیں - پانو بیڑی سے فگار، ہات ہتکڑیوں سے زخم‌دار؛ مشقت مقرری اور مشکل ہوگئی، طاقت یک‌قلم زائل ہوگئی - بے حیا ہوں؛ سال گزشتہ بیڑی کو زاویۂ زنداں میں چھوڑ، مع دونوں ہتکڑیوں کے بھاگا - میرٹھ، مرادآباد ہوتا ہوا رامپور پہنچا - کچھ دن کم دو مہینے وہاں رہا تھا کہ پھر پکڑا آیا - اب عہد کیا کہ پھر نہ بھاگوں گا - بھاگوں کیا؟ بھاگنے کی طاقت بھی تو نہ رہی - حکم رہائی دیکھیے، کب صادر ہو - ایک ضعیف سا اِحتمال ہے کہ اِسی ماہ ذی‌حجہ سنہ ۱۲۷۷ع میں چھوٹ جاؤں - بہر تقدیر، بعد رہائی کے تو، آدمی سواے اپنے گھر کے اور کہیں نہیں جاتا؛ میں بھی بعد نجات سیدھا عالم ارواح کو چلا جاؤں گا -

فرخ آں روز کہ از خانۂ زنداں برومسوے شہر خود ازیں وادی ویراں بروم -

گانے میں غزل کے سات شعر کافی ہوتے ہیں - دو فارسی غزلیں، دو اُردو غزلیں اپنے حافظے کی تحویل میں [سے] بھیجتا ہوں، بھائی صاحب کی نذر -

از جسم بہ جاں نقاب تا کے؟ایں گنج دریں خراب تا کے؟

ایں گوہر پُر فروغ، یارب!آلودۂ خاک و آب تا کے؟

ایں راہروِ مسالکِ قدسواماندۂ خورد و خواب تا کے؟

بیتابیِ برق جز دمے نیست؛ما، و ایں‌ہمہ اِضطراب تا کے؟

جاں در طلبِ نجات تا چند؟دل در تعبِ عتاب تا کے؟

پرسش ز تو بےحساب بایدغم‌ہاے مرا حساب تا کے؟

”غالب“ بہ چنیں کشاکش اندر،یا حضرتِ بوتراب، تا کے؟!

دوش، کز گردش بختم گلہ بر روے تو بودچشم سوے فلک و روے سخن سوے تو بود

آنچہ، شب شمع گمان کردی و رفتی بہ عتاب،نفسم پردہ‌کشاے اثر خوے تو بود -

چہ عجب، صانع اگر نقشِ دہانت گم کرد؟کو خود از حیرتیانِ رُخِ نیکوے تو بود -

بکفِ باد مباد ایں ہمہ رسوائیِ دل:کاخر از پردگیانِ شکنِ موے تو بود -

مردن و جاں بہ تمناے شہادت دادنہم ز اندیشۂ آزردنِ بازوے تو بود

دوست دارم گرہے را کہ بکارم زدہ اندکایں ہمانست کہ پیوستہ در ابروے تو بود

لالہ و گل دمد از طرف مزارش پس مرگتا چہا در دل ”غالب“ ہوس روے تو بود -

ہے بسکہ، ہر اِک اون کے اِشارے میں نشاں اور:کرتے ہیں محبت، تو گزرتا ہے گماں اور -

لوگوں کو ہے خورشید جہانتاب کا دھوکا؛ہر روز دکھاتا ہوں میں اِک داغ نہاں اور -

ہے خونِ جگر جوش میں، دل کھول کے روتا؛ہوتے جو کئی دیدۂ خوننابہ‌فشاں اور -

یارب نہ وہ سمجھے ہیں نہ سمجھیں گے مری بات؛دے اور دل اون کو، جو نہ دے مجھ کو زباں اور

تم شہر میں ہو، تو ہمیں کیا غم؟ جب اوٹھیں گےلے آئیں گے بازار سے جا کر دل و جاں اور -

مرتا ہوں اِس آواز پہ، ہر چند سر اوڑ جاےجلّاد کو لیکن وہ کہے جائیں کہ ’ہاں اور‘ -

ہیں اور بھی دنیا میں سخنور بہت اچھے؛کہتے ہیں کہ ”غالب“ کا ہے انداز بیاں اور -

اوس بزم میں، مجھے نہیں بنتی حیا کیے؛بیٹھا رہا، اگرچہ اِشارے ہوا کیے -

ضد کی ہے اور بات؛ مگر خو بری نہیں:بھولے سے اوس نے سینکڑوں وعدے وفا کیے -

صحبت میں غیر کی نہ پڑی ہو کہیں یہ خو:دینے لگا ہے بوسہ بغیر اِلتجا کیے -

رکھتا پھروں ہوں خرقہ و سجادہ رہن مے؛مدت ہوئی ہے دعوت آب و ہوا کیے -

کس روز تہمتیں نہ تراشا کیے عدو؟کس دن ہمارے سر پہ نہ آرے چلا کیے؟

”غالب“ تمہیں کہو کہ ملے گا جواب کیا؟مانا کہ تم کہا کیے اور وہ سنا کیے -

[جون ۱۸۶۱ع] -

خط ۱۰

چہارشنبہ، ۲۵ ستمبر سنہ ۱۸۶۱ع، ہنگام نیمروز -

علائی مولائی،

اِس وقت تمہارا خط پہنچا - اودھر پڑھا، اِدھر جواب لکھا - واہ، کیا کہنا ہے! رامپور کے علاقے کو گاوشنگ * اور مجھ کو بیل یا اوس پیوند کے طعنے کو تازیانہ اور مجھ کو گھوڑا بنایا - وہ علاقہ اور وہ پیوند لوہارو کے سفر کا مانع و مزاحم کیوں ہو؟ رئیس کی طرف سے بہ طریق وکیل محکمۂ کمشنری میں معین نہیں ہوں - جس طرح اُمرا واسطے فقرا کے وجہ معاش مقرر کر دیتے ہیں، اوسی طرح اِس سرکار سے میرے واسطے مقرر ہے - ہاں، فقیر سے دعاے خیر اور مجھ سے اِصلاح نظم مطلوب ہے - چاہوں دلی رہوں، چاہوں اکبرآباد، چاہوں لاہور، چاہوں لوہارو - ایک گاڑی کپڑوں کے واسطے کرایہ کروں، کپڑوں کے صندوق میں آدھی درجن شراب دھروں - آٹھ کہار ٹھیکے کے لوں - چار آدمی رکھتا ہوں؛ دو یہاں چھوڑوں، دو ساتھ لوں، چل دوں - رامپور سے جو لفافہ آیا کرے گا، لڑکوں کا حافظ لوہارو بھجوایا کرے گا - گاڑی ہو سکتی ہے، شراب مل سکتی ہے، کہار بہم پہنچ سکتے ہیں - طاقت کہاں سے لاؤں؟ روٹی کھانے کو باہر کے مکان میں سے محل سرا میں، کہ وہ بہت قریب ہے، جب جاتا ہوں، تو ہندستانی گھڑی بھر میں دم ٹھہرتا ہے اور یہی حال دیوان خانے میں آ کر ہوتا ہے - والی رامپور نے بھی تو مرشدزادے کی شادی میں بلایا تھا؛ یہی لکھا گیا کہ میں اب معدوم محض ہوں - تمہارا اِقبال تمہارے کلام کو اِصلاح دیتا ہے - اِس سے بڑھ کر مجھ سے خدمت نہ چاہو -

بھائی کے اور تمہارے دیکھنے کو جی بہت چاہتا ہے؛ پر کیا کروں؟ عقرب و قوس کے آفتاب یعنی نومبر دسمبر میں قصد تو کروں گا؛ کاش، لوہارو کی جگہ گوڑگانوہ ہوتا یا بادشاہ‌پور ہوتا - کہو گے کہ رامپور کیا نزدیک ہے؟ وہاں گئے کو دو برس ہوگئے - یہاں اِنحطاط و اِضمحلال روز افزوں، نہ تم یہاں آ سکتے ہو، نہ مجھ میں وہاں آنے کا دم - بس، اگر نومبر دسمبر میں میرا اخیر حملہ چل گیا، بہتر؛ ورنہ

اے واے، ز محرومی دیدار دگر ہیچ؟

غالب -

* گاوشنگ کو ہندی میں آر کہتے ہیں کہ جس سے گاڑی‌بان بیلوں کی گاڑی ہانکتے ہیں - [غ]

خط ۱۱

میری جان،

کیا کہتے ہو؟ کیا چاہتے ہو؟ ہوا ٹھنڈی ہوگئی - پانی ٹھنڈا ہوگیا - فصل اچھی ہوگئی - اناج بہت پیدا ہوگیا - توقیع جانشینی مجھ سے تم کو پہنچا - خرقہ پایا، سبحہ و سجادہ کا یہاں پتا نہیں؛ ورنہ وہ بھی عزیز نہ رکھتا - اِس سے بڑھ کر یہ کہ بھائی نے شفا پائی؛ اُستاد میر جان پہنچ گئے - آخر اکتوبر میں یا آغاز نومبر میں ”نیر رخشاں“ کو بھی وہیں لو - پھر عقرب و قوس کے آفتاب کا کیا ذکر؟ آبان ماہ و آزر ماہ سے کیا غرض؟

بسے تیر و دے ماہ و اُردی بہشتبرآید کہ ما خاک باشیم و خشت

اُستاد میرجان کو، اِس راہ سے کہ میری پھوپھی اون کی چچی تھیں اور یہ مجھ سے عمر میں چھوٹے ہیں، دعا؛ اور اِس رو سے کہ دوست ہیں اور دوستی میں کمی و بیشی سن و سال کی رعایت نہیں کرتے، سلام؛ اور اِس سبب سے کہ اُستاد کہلاتے ہیں، بندگی؛ اور اِس نظر سے کہ یہ سید ہیں، درود؛ اور موافق مضمون اِس مصرع کے — ”سوی اللّٰہ، واللہ، ما فی‌الوجود“ — سجود -

حضرت، وہ ”شرف نامہ“ نہیں ہے - کسی احمق نے ”شرف نامہ“ میں سے کچھ لغات، اکثر غلط، کمتر صحیح، چن کر جمع کیے ہیں - نہ دیباچہ ہے کہ اوس سے جامع کا حال معلوم ہو، نہ خاتمہ ہے کہ عہد و عصر کا حال کھلے - با ایں ہمہ میاں ضیاءالدین کے پاس ہے - اگر وہ آ جائیں گے، تو اون سے کہہ دوں گا - اگر وہ لاویں گے، تو اُون کو قیمت دے کر ”علائی مولائی“ کو بھیج دوں گا -

خصی بکروں کے گوشت کے قلیے، دوپیازے، پلاؤ، کباب، جو کچھ تم کھا رہے ہو، مجھ کو، خدا کی قسم، اگر اوس کا کچھ خیال بھی آتا ہو - خدا کرے، بیکانیر کی مصری کا کوئی ٹکڑا تم کو میسر نہ آیا ہو - کبھی یہ تصور کرتا ہوں کہ میر جان صاحب اوس مصری کے ٹکڑے چبا رہے ہوں گے، تو یہاں میں رشک سے اپنا کلیجا چابنے لگتا ہوں -

سہ‌شنبہ، ۱۵ ماہ اکتوبر سنہ ۱۸۶۱ع -

نجات کا طالب، غالب -

خط ۱۲

مرزا علائی،

پہلے اُستاد میر جان صاحب کے قہر و غضب سے مجھ کو بچاؤ؛ تاکہ میرے حواس جو منتشر ہوگئے ہیں، جمع ہوجائیں - میں اپنے کو کسی طرح کے قصور کا مورد نہیں جانتا - جھگڑا اون کی طرف سے ہے - تم اوس کو یوں چکاؤ یعنی اگر اون کو صرف آشنائی و ملاقات منظور ہے، تو وہ میرے دوست ہیں، شفیق ہیں، میرا سلام قبول فرمائیں - اور اگر قرابت و رشتہ‌داری ملحوظ ہے، تو وہ میرے بھائی ہیں، مگر عمر میں چھوٹے، میری دعا قبول فرمائیں - صاحبین کی راے کا اِختلاف مشہور ہے - مجھ سے کچھ نہیں ہوسکتا، مگر ہر ایک قول جدا جدا لکھوں - آج نہ لکھا نہ سہی، دو چار دن کے بعد لکھوں گا - تم سمجھ تو گئے ہوگے کہ ”صاحبین“ مرزا قربان علی بیگ اور مرزا شمشاد علی بیگ ہیں - بھائی صاحب کی رضاجوئی مجھ کو منظور اور یہ غزل معروض ہے - میری طرف سے سلام کہو -

از من غزلے گیر و بفرماے کہ مطربدر نے دمد از روے نوازش دو سہ دم را -

غزل

جز دفع غم، ز بادہ نبودہ‌ست کام ما؛گوئی، چراغِ روز سیاہست جام ما -

در خلوتش گزر نبود باد را، مگرصر صر بہ خاک راہ رساند پیام ما -

اے باد صبح، عطرے ازآں پیرہن بیار؛تسکیں ز بوے گل نہ پزیرد مشام ما -

ہر بار دانہ بہر ہما افگنیم و مورآید بدام و دانہ رباید ز دام ما -

گفتی چو حال دل شنود، مہرباں‌شود؛مشکل کہ پیش دوست تواں برد نام ما -

از ما بما پیام و ہم از ما بما سلامرنج دلے مباد پیام و سلام ما -

مقصود ما ز دہر ہرآئینہ نیستیستیارب، کہ ہیچ دوست مبادا بکام ما -

”غالب“، بقول حضرت ”حافظ“، ز فیض عشق”ثبت است بر جریدۂ عالم دوام ما“ -

خط ۱۳

چاشتگاہ سہ‌شنبہ، دوازدہم نومبر سنہ ۱۸۶۱ع -

آج جس وقت کہ روٹی کھانے گھر جاتا تھا، شہاب الدین خاں تمہارا خط اور مصری کی تھلیا لے کر آئے - میں اوس کو لوا کر گھر گیا - اپنے سامنے مصری تلوائی؛ آدھ پاؤ اوپر دو سیر نکلی - خانۂ دولت آباد - یہی کافی و وافی ہے؛ اور اب حاجت نہیں - روٹی کھاکر باہر آیا - تمہارے ابن عم کا آدمی جواب خط کا متقاضی ہوا کہ شترسوار جانے والا ہے - میں کھانا کھاکر لیٹنے کا عادی ہوں؛ لیٹے لیٹے مصری کی رسید لکھ دی - مطالبِ مندرجۂ خط کا جواب بہ شرطِ حیات کل بھیجوں گا -

غالب -

خط ۱۴

یکشنبہ، ۹ فروری سنہ ۱۸۶۲ع -

صاحب،

صبح جمعہ کو میں نے تم کو خط لکھا؛ اوسی وقت بھیج دیا - پہر دن چڑھے سنا کہ شب کو پھر دورہ ہوا؛ گیا، خود اون سے حال پوچھا - علی محمد بیگ کی زبانی یہ معلوم ہوا کہ بہ نسبت دورہ ہاے سابق خفیف تھا اور اِفاقہ جلد ہوگیا - کل مرزا شمشاد علی بیگ ناقل تھے کہ مجھ سے علی حسین کہتے تھے کہ نواب صاحب فرماتے ہیں کہ لوہارو چلو گے اور ہماری دال روٹی قبول کرو گے؟ میں نے کہا کہ میں دال روٹی چاہتا ہوں، مگر پیٹ بھر کے - ”غالب“ کہتا ہے کہ اِس بیان سے یہ معلوم ہوا کہ سالک سے سلوک منظور نہیں - تنہا ہواے شمشاد در سر است -

رموز مملکت خویش خسرواں دانندگداے گوشہ‌نشینی، تو ”حافظا“ مخروش

غالب -

خط ۱۵

شنبہ، ۱۵ شعبان و فروری وقت نماز ظہر۔

"نیّر اصغر" سپہر سخن‌سرائی مولانا علائی کے خاطرنشان و دل‌نشین ہو کہ آج صبح کو ۵ یا ۶ گھڑی دن چڑھے دونوں بھائی صاحب تشریف لائے۔ میں گیا اور ملا۔ علی حسین خاں کو بھی دیکھا۔ تھوڑی دیر کے بعد بھائی صاحب والدہ صاحبہ کے پاس گئے۔ میں گھر آیا، کھانا کھایا۔ دو پہر کو تمھارا خط پایا۔ دو گھڑی لوٹ پوٹ کر جواب لکھا اور ڈاک میں بھجوایا۔

یہ مرض جو بھائی کو ہے اِس راہ سے کہ ضد صحت ہے، مکروہ طبع ہے؛ ورنہ ہرگز موجب خوف و خطر نہیں۔ میں تو بھول گیا تھا، اب بھائی کے بیان سے یاد آگیا کہ بارہ تیرہ برس پہلے ایک دن ناگاہ یہ حالت طاری ہوگئی تھی۔ وہ موسم جوانی کا تھا اور حضرت عادی بہ افیون نہ تھے؛ تنقیہ بہ قے فوراً اور بہ اِسہال بعد چند روز عمل میں آیا۔ اب سن کہولت، اِستعمال افیون مزید علیہ، دورہ جلد جلد متواتر ہوا۔ اِضطراب از راہ محبت ہے، از روے حکمت اِضطراب کی کوئی وجہ نہیں۔ نظری میں یکتا حکیم اِمام‌الدین خاں، وہ ٹونک؛ عملی میں چالاک حکیم احسن‌اللّٰہ خاں، وہ کرولی رہے۔ حکیم محمود خاں، وہ ہمسایۂ دیوار بہ دیوار؛ حکیم غلام نجف خاں، وہ دوست قدیم صادق الولا۔ حکیم "بقا" کے خاندان میں دو صاحب موجود، تیسرے حکیم "منجھلے" وہ بھی شریک ہو جائیں گے۔ اب آپ فرمائیے حکیم کون ہے؟ ہاں دو ایک ڈاکٹر، بہ اِعتبار ہم‌قومی حکام نامور، یا کوئی ایک آدھ بید، سو معزولی اور گم نام۔ بہر حال، خاطر جمع رکھو؛ خدا کے فضل پر نظر رکھو۔ سبحان اللّٰہ، تم مجھ سے سپارش کرو امین الدین خاں کی! کیا میرے پہلو میں دل یا میرے دل میں ایمان، جس کو محبت بھی کہتے ہیں، بہ قدر پر پشہ و سر مور بھی نہیں؟ معالجہ حکما کی راہ پر رہے گا۔ ندیمی اور غمخواری میں اگر قصور کروں، تو گناہگار۔ میاں، ایسے موقع میں راے اطبا میں خلاف کم واقع ہوتا ہے۔ مرض مشخص، دوا معین، سوء مزاج سادج نہیں، مادی ہے؛ اور مادہ بارد ہے۔ کوئی طبیب سواے تنقیے کے کچھ تدبیر نہ سوچے گا۔ تنقیے میں سواے مخرجات بلغم اور کچھ تجویز نہ کرے گا۔ تجویز ہے کہ دو دن کے بعد تنقیۂ خاص ہو اور ایارج کا مسہل دیا جائے۔ اسما و آیات شفابخش مقرر ہیں، رد سحر و دفع بلا اون کے ذریعے سے متصور ہے؛ لیکن اِن ملاؤں اور عزائم خوانوں نے تہ توڑ دی ہے۔ کچھ نہیں جانتے اور باتیں بکھانتے ہیں۔ تمھارے باپ پر کوئی سحر کیوں کرے گا؟ بےچارہ الگ ایک ایسے گوشے میں رہتا ہے کہ جب تک خاص وہاں کا قصد نہ کرے، کبھی کوئی وہاں نہ جائے۔ یہ خیال عبث۔ ہاں، خیرات اور مساکین سے طلب دعا اور اہل اللّٰہ سے اِستمداد۔ شہر میں مساکین شمار سے باہر، اہل اللّٰہ میں ایک حافظ عبدالعزیز۔ ما بہ خیر، شما بہ سلامت۔

دن اور تاریخ اوپر لکھ آیا ہوں۔

[۱۲۷۸ھ، م ۱۸۶۲ع]۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۱۶

یکشنبہ، ۱۶ فروری سنہ ۱۸۶۲ع، ہنگام نیمروز۔

صاحب،

کل تمھارے خط کا جواب بھیج چکا ہوں، پہنچا ہوگا۔ آج صبح کو بھائی صاحب کے پاس گیا۔ بھائی ضیاء الدین خاں اور میاں شہاب الدین خاں بھی وہیں تھے۔ مولوی صدرالدین میرے سامنے آئے۔ حکیم محمود خاں کے طور پر معالجہ قرار پایا ہے۔ یعنی اونھوں نے نسخہ لکھ دیا ہے، سو اوس کے موافق حبوب بن گئے ہیں۔ نقوع کی دوائیں آج آ کر بھیگیں گی، کل حبوب کے اوپر وہ نقوع پیا جائے گا۔ مگر انداز و ادا سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ ابھی حضرت مریض کی اور اون کے ہواخواہوں کی راے میں قصد اِس اِستعلاج کا مذبذب ہے۔ نسخے کی حقیقت کو میزان نظر میں تول رہے ہیں۔ اُستاد میر جان بھی تھے۔ نیم نامعقول مرزا اسد بیگ بھی تھے۔ سب طرح خیریت ہے۔

کل تمھارے خط میں دو بار یہ کلمہ مرقوم دیکھا کہ دلی بڑا شہر ہے، ہر قسم کے آدمی وہاں بہت ہوں گے۔ اے میری جان، یہ وہ دلی نہیں ہے جس میں تم پیدا ہوئے ہو؛ وہ دلی نہیں ہے جس میں تم نے علم تحصیل کیا ہے؛ وہ دلی نہیں ہے جس میں تم شعبان بیگ کی حویلی میں مجھ سے پڑھنے آتے تھے؛ وہ دلی نہیں ہے جس میں میں سات برس کی عمر سے آتا جاتا ہوں؛ وہ دلی نہیں ہے جس میں اِکیاون برس سے مقیم ہوں۔ ایک کمپ ہے: مسلمان، اہل حرفہ یا حکام کے شاگرد پیشہ؛ باقی سراسر ہنود۔ معزول بادشاہ کے ذکور، جو بقیۃالسیف ہیں، وہ پانچ پانچ روپیہ مہینا پاتے ہیں۔ اُناث میں سے جو پیرزن ہیں، وہ کٹنیاں اور جوانیں کسبیاں۔ امراے اِسلام میں سے اموات گنو، حسن علی خاں بہت بڑے باپ کا بیٹا سو روپئے روز کا پنسن‌دار، سو روپئے مہینے کا روزینہ‌دار بن کر نامرادانہ مر گیا۔ میر نصیر الدین، باپ کی طرف سے پیرزادہ، نانا اور نانی کی طرف سے امیرزادہ، مظلوم مارا گیا۔ آغا سلطان، بخشی محمد علی خاں کا بیٹا، جو خود بھی بخشی ہوچکا ہے، بیمار پڑا۔ نہ دوا، نہ غذا؛ انجام کار مر گیا۔ تمھارے چچا کی سرکار سے تجہیز و تکفین ہوئی۔ احیا کو پوچھو، ناظر حسین مرزا، جس کا بڑا بھائی مقتولوں میں آیا، اوس کے پاس ایک پیسا نہیں۔ ٹکے کی آمد نہیں۔ مکان اگرچہ رہنے کو مل گیا ہے، مگر دیکھیے چھٹا رہے یا ضبط ہو جائے۔ بڈھے صاحب، ساری املاک بیچ کر، نوش جان کر کر، بہ یک بینی و دو گوش، بھرت‌پور چلے گئے۔ ضیاء الدولہ کی پانسو روپئے کرائے کی املاک واگزاشت ہو کر پھر قرق ہوگئی۔ تباہ، خراب لاہور گیا؛ وہاں پڑا ہوا ہے۔ دیکھیے، کیا ہوتا ہے؟ قصہ کوتاہ "قلعہ" اور "جھجر" اور "بہادر گڑھ" اور "بلب گڑھ" اور "فرخ نگر"، کم و بیش تیس لاکھ روپئے کی ریاستیں مٹ گئیں۔ شہر کی اِمارتیں خاک میں مل گئیں۔ ہنرمند آدمی یہاں کیوں پایا جائے؟ جو حکما کا حال لکھا ہے، وہ بیان واقع ہے۔ صلحا اور زہاد کے باب میں جو حرف مختصر میں نے لکھا ہے، اوس کو بھی سچ جانو۔ اپنے والد ماجد کی طرف سے خاطر جمع رکھو۔ سحر آسیب کا گمان ہرگز نہ کرو۔ خدا چاہے تو اِستعمال ایارجات کے بعد بالکل اچھے ہو جائیں گے اور اب بھی خدا کے فضل سے اچھے ہیں۔

عافیت کا طالب، غالب۔

خط ۱۷

صبح یکشنبہ، یکم مارچ سنہ ۱۸۶۲ع۔

صاحب،

پرسوں تمھارا خط آیا۔ کل جمعے کے دن نواب کا مسہل تھا، ۱۱ بجے وہاں سے آیا۔ چونکہ حبوب میں مکرّب دوائیں تھیں، بہت بےچین رہے۔ آٹھ دس دست آئے۔ آخر روز مزاج بحال ہوگیا۔ تنقیہ اچھا ہوا۔ اب بہ فضل اِلٰہی اچھے ہیں اور یقین ہے کہ مرض عود نہ کرے۔ دلی کی اِقامت کی مدت اپنے والد کی راے پر رہنے دو۔ بہ قدر مناسب، وقت عزم خیرخواہانہ کچھ کہوں گا ضرور، لیکن نہ بہ اِبرام۔ میں تم سے زیادہ اِن کا مزاج‌داں ہوں۔ یہ خودپسند اور معہذا سپارش کا دشمن ہے۔ مغلبچوں کے مقدمے کو طبیعت اِمکان پر چھوڑ دو۔ میں دخل نہ کروں گا۔ ہاں، اگر خود مجھ سے پوچھیں گے یا میرے سامنے ذکر آ جائے گا تو میں اچھی کہوں گا۔

بریدہ باد زبانے کہ ناسزا گوید۔

برا نہ ماننا، اگر یہ دونوں بھائی یا اِن میں سے ایک رفیق ہوگیا، یوں تمام عمر بہ خوشی گزر جائے، لیکن تم کے برس، کے مہینے، کے ہفتے کا گریسلٹ لکھتے ہو؟

غالب۔

خط ۱۸

صاحب،

میرا برادر عالی قدر اور تمھارا والد ماجد اب اچھا ہے۔ از روے عقل اِعادۂ مرض کا اِحتمال باقی نہیں ہے۔ رہا وہم، اوس کی دوا لقمان کے پاس بھی نہیں۔ مرزا قربان علی بیگ اور مرزا شمشاد علی بیگ کے باب میں جو کچھ تم نے لکھا ہے اور آیندہ جو کچھ لکھو گے، میری طرف سے جواب وہی ہوگا جو آگے لکھ چکا ہوں۔ یعنی میں تماشائی محض رہوں گا۔ اگر بھائی صاحب مجھ سے کچھ ذکر کریں گے، تو بھلی کہوں گا۔ آپ کے عم عالی مقدار جو فرماتے ہیں کہ "غالب" کو بیٹھے ہوئے ہزارہا تسویلات و خیالات دکھلائی دیتے ہیں، یہ حضرت نے اپنی ذات پر میری طبیعت کو طرح کیا ہے اور وہ یہ سمجھے ہیں کہ جس طرح میں مبتلاے وساوس و اوہام ہوں اور لوگ بھی اِسی طرح بخارات مراقی میں گرفتار ہوں گے۔ قیاس مع الفارق ہے، نہ تخیل صادق۔ یہاں "لا موجود اِلا اللّٰہ" کے بادۂ ناب کا رطلِ گراں چڑھائے ہوئے اور کفر و اِسلام و نور و نار کو مٹائے ہوئے بیٹھے ہیں۔

کجا غیر و کو غیر و کو نقش غیر؟سوی اللّٰہ، واللّٰہ، ما فی‌الوجود۔

"ضیمران" بر وزنِ دُرگران لغت عربی ہے، نہ معرب۔ میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ یہ پھول ہندستان میں ہوتا ہے یا نہیں۔ اِس کی تحقیقات از روے "الفاظ الادویہ" ممکن ہے۔

آج اوس نے جلاب لیا۔ دس دست آئے۔ مواد خوب اِخراج ہوا۔

فارسیِ غیر فصیح: امروز فلانی مسہل گرفت۔ دہ دست آمدند۔ مواد خوب برآمد۔

فارسیِ فصیح: امروز فلانی پگاہ داروے مسہل آشامید۔ تا شام دہ بار نشست یا دہ بار بہ مستراح رفت یا دہ بار بہ بیت‌الخلا رفت۔ مادۂ فاسد چنانکہ باید اِخراج یافت۔

معلوم رہے کہ لوطیوں کے منطق میں خصوصاً اور اہل فارس کے روزمرے میں عموماً "نشستن" اِستعارہ ہے "ریدن" کا۔ چنانچہ ایک تذکرے میں مرقوم ہے کہ اِصفہان میں ایک امیر نے شعرا کی دعوت اپنے باغ میں کی۔ مرزا صائب اور اوس عصر کے کئی شعرا جمع ہوئے۔ ایک شاعر کے تذکرے میں اوس کا نام مندرج ہے اور میں بھول گیا ہوں۔ آکول تھا، مگر معدہ اوس کا ضعیف تھا۔ حرص و شرہ کے سبب سے بہت کھا جاتا تھا، ہضم نہ کر سکتا تھا۔ کھانا کھا کھا کر، شراب پی پی کر، دروازہ باغ کا مقفل کر کے سب سو رہے۔ اِس مردِ آکولِ فضول نے رات بھر میں سارا باغ ہگ بھرا؛ نہ ایک جگہ، بلکہ کبھی اوس کیاری میں، اور کبھی اوس روش پر، کبھی اوس درخت کے تلے، کبھی اوس دیوار کی جڑ میں۔ قصہ مختصر، غایت شرم و حیا سے دو چار گھڑی رات رہے دیوار سے کود کر چلا گیا۔ صبح کو جب سب جاگے، اوس کو اِدھر اودھر ڈھونڈھا، کہیں نہ پایا۔ مگر حضرت کا فضلہ کئی جگہ نظر آیا۔ مرزا صائب نے ہنس کر فرمایا "یاران، شما را چہ اُفتادہ است کہ میگوئید فلانی در باغ نیست؟ می بینم کہ مخدوم ہمدرین باغ چند جا نشستہ است"۔

صبح جمعہ، ۵ رمضان و ۷ مارچ سال رستاخیز۔

رباعی خط میں لکھنا بھول گیا۔ یہ میں نے بھائی کو تہنیت میں بھیجی تھی:

اے کردہ بہ مہر زرفشانی تعلیم،
پیدا ز کلاہ تو شکوہ دیہیم
بادا بتو فرخندہ، ز یزدان کریم
پروانگی جدید اقطاع قدیم۔

[۱۲۷۸ھ، م ۱۸۶۲ع]۔

خط ۱۹

یار بھتیجے، گویا بھائی، مولانا علائی،

خدا کی دوہائی، نہ میں ویسا ہوں گا جیسا "نیّر" سمجھا ہے اور تم مجھ کو لکھ چکے ہو، یعنی خفقانی اور خیال تراش؛ نہ ویسا ہوں گا جیسا میرزا علی حسین خاں بہادر سمجھے ہوں گے۔

اے کاش، کسے ہر آنچہ ہستم داند۔

دوجانے میں میرا اِنتظار اور میرے آنے کا تقریبِ شادی پر مدار! یہ بھی شعبہ ہے اونھیں ظنون کا جس سے تمھارے چچا کو گمان ہے مجھ پر جنون کا۔ جاگیردار میں نہ تھا کہ ایک جاگیردار مجھ کو بلاتا۔ گویّا میں نہ تھا کہ اپنا ساز و سامان لے کر چلا جاتا۔ دوجانے جا کر شادی کماؤں اور پھر اوس فصل میں کہ دنیا کرۂ نار ہو! لوہارو، بھائی کے دیکھنے کو، نہ جاؤں اور پھر اوس موسم میں کہ جاڑے کی گرمی بازار ہو!

کل اُستاد میر جان صاحب نے تمھارا خط مجھ کو دکھایا ہے۔ میں نے اون کو جانے نہ جانے میں متردد پایا ہے۔ جائیں نہ جائیں، میں اپنی طرف سے ترغیب کرتا رہتا ہوں اور کہتا رہوں گا۔ غلام حسن خاں اگر کسی وقت آ جائیں گے، تو اون کو تمھاری تحریر کا خلاصہ خاطر نشان کروں گا۔ حق سبحانہ تعالیٰ اِن دونوں صاحبوں کو یا ایک کو اِن میں سے توفیق دے یا مجھ کو طاقت یا تم کو اِنصاف کہ میرے نہ آنے کو دلّی کی دل‌بستگی پر محمول نہ کرو۔ مجھ کو رشک ہے جزیرہ‌نشینوں کے حال پر عموماً اور رئیسِ فرخ‌آباد پر خصوصاً کہ جہاز سے اوتر کر سر زمین عرب میں چھوڑ دیا۔ اہا ہا ہا!

پڑیے گر بیمار، تو کوئی نہ ہو بیماردار؛اور اگر مر جائیے، تو نوحہ‌خواں کوئی نہ ہو۔

کلیات کے اِنطباع کا اِختتام اپنی زیست میں مجھ کو نظر نہیں آتا۔ "قاطع برہان" کا چھاپا تمام ہو گیا۔ حق‌التصنیف کی ایک جلد میرے پاس آ گئی، وہ تمھارے عم نامدار کے نذر ہوئی۔ باقی جلدیں جن کا میں خریدار ہوا ہوں اور درخواست میری مطبع میں داخل ہے، جب تک قیمت نہ بھیج دوں، کیوں کر آئیں؟ روپئے کی تدبیر میں ہوں۔ اگر بہم پہنچ جائے، تو بھیج دوں۔ تمھارے پاس جو "قاطع برہان" پہنچی ہے، اگر چھاپے کی ہے تو صحیح ہے۔ جہاں تردد ہو، غلطنامۂ ملحقہ میں دیکھ لو؛ زیادہ اِنکشاف منظور ہو، مجھ سے پوچھ لو۔ اگر قلمی ہے، تو درجۂ اِعتبار سے ساقط ہے۔ اوس کو میری تالیف نہ سمجھو، بلکہ مجھ کو مول لے لو اور اوس کو پھاڑ ڈالو۔ آج، یوم‌الخمیس، ۱۹ جون المبارک، بارہ پر تین بجے تمھارا خط آیا۔ اودھر پڑھا اِدھر جواب لکھنے بیٹھا۔ یہاں تک لکھ چکا تھا کہ شیخ شہاب‌الدین سہروردی آئے۔ تمھارا خط اون کو دیا۔ وہ پڑھ رہے ہیں؛ ہم لکھ رہے ہیں۔ ابر آیا ہوا ہے۔ ہوا سرد چل رہی ہے۔

[۱۸۶۲ع]۔

خط ۲۰

جان غالب،

دو خط متواتر تمھارے پہنچے۔ "مغربی" عرفا میں سے ہے۔ بیشتر اوس کے کلام میں مضامینِ حقیقت‌آگین ہیں۔ لیکن "داماں گلہ دارد" و "گریباں گلہ دارد"؛ اِس زمین میں میں نے اوس کی غزل نہیں دیکھی۔ حاجی محمد جان "قدسی" کی غزل اِس زمین میں ہے:

در بزم وصال تو بہ ہنگام تماشانظارہ ز جنبیدنِ مژگاں گلہ دارد۔

یہ ایک شعر اوس کا مجھے یاد ہے۔

بھائی، تمھارا باپ بدگمان ہے۔ یعنی مجھ کو زندہ سمجھتا ہے۔ میرا سلام کہو اور یہ شعر میرا پڑھ سناؤ:

گمانِ زیست بود بر منت ز بیدردیبد است مرگ، ولے بدتر از گمانِ تو نیست۔

مجھے کافور و کفن کی فکر پڑ رہی ہے، وہ ستمگر شعر و سخن کا طالب ہے۔ زندہ ہوتا، تو وہیں کیوں نہ چلا آتا؟ مجھ پر سے یہ تکلیف اوٹھوا لو اور تم اِس زمین میں چند شعر لکھ کر بھیج دو۔ میں اِصلاح دے کر بھیج دوں گا۔ 'عصاے پیر بہ جاے پیر'۔ واللّٰہ، میرا کلام ہندی یا فارسی کچھ میرے پاس نہیں ہے۔ آگے جو کچھ حافظے میں موجود تھا، وہ لکھ بھیجا۔ اب جو کچھ یاد آ گیا، وہ لکھتا ہوں:

غزل

با من، کہ عاشقم، سخن از ننگ و نام چیست؟در امر خاص حجّت دستور عام چیست؟

مستم ز خون دل کہ دو چشمم از آن پر استگوئی مخور شراب و نہ بینی بجام چیست؟

با دوست ہر کہ بادہ بہ خلوت خورد مدامداند کہ حور و کوثر و دار السلام چیست؟

ما خستۂ غمیم و بود مے دواے مابا خستگاں حدیثِ حلال و حرام چیست؟

از کاسۂ کرام نصیب است خاک راتا از فلک نصیبۂ کاس کرام چیست؟

"غالب" اگر نہ خرقہ و مصحف بہم فروختپرسد چرا کہ نرخِ مے لعل فام چیست؟

خط ۲۱

لو صاحب،

پرسوں تمھارا خط آیا اور کل دوپہر کو اُستاد میر جان آئے۔ جب اون سے کہا گیا، تو یہ جواب پایا کہ میں مدّت سے آمادۂ سفر لوہارو بیٹھا ہوں۔ حکیم صاحب کی گاڑی کی روانگی کے وقت میں نے اپنی گٹھری بھیجی تھی، وہ پھری آئی اِس مراد سے کہ گاڑی میں جگہ نہ گٹھری کی، نہ سواری کی۔ ناچار چُپ ہو رہا۔ اب وہ گٹھری ویسی ہی بندھی ہوئی رکھی ہے۔ جب میاں خاں اور وزیر خاں روانا ہوں گے اور منشی اِمداد حسین مجھ کو اِطلاع دیں گے، تو میں فوراً چل دوں گا۔ پا بہ رکاب ہوں۔ کل ہی آخر روز غلام حسن خاں آئے۔ کل اونھوں نے چوتھے دن کھانا کھایا تھا۔ ہیضہ ہو گیا تھا۔ قے متواتر، دست پے بہ پے۔ غرض بچ گئے۔ کہتے تھے کہ آج جولائی کی ۱۷ تاریخ ہے، تیرہ دن یہ اور پانچ دن اگست کے اور نہیں جا سکتا۔ تنخواہ لے کر بانٹ بونٹ کر، ایک دن نہ ٹھہروں گا، لوہارو کی راہ لوں گا۔ مرزا شمشاد علی بیگ سے تمھارا پیام کہا گیا۔ کیا بعید ہے جو غلام حسن خاں کے ہمسفر ہو جائیں؟ بھائی کی طرف سے منشی اِمداد حسین خاں کو لکھوا بھیجو کہ میاں خاں وغیرہ کے ساتھ اُستاد کو ضرور بھیجنا اور تم اپنی طرف سے اپنے ابن عم غلام حسن خاں کو بحوالۂ میری تحریر کے عیادت اور اوائل اگست میں روانگی کی تاکید لکھ بھیجو۔

در بزمِ وصالِ تو بہ ہنگام تماشانظارہ ز جنبیدنِ مژگاں گلہ دارد۔

یہ زمین "قدسی" علیہ‌الرحمۃ کے حصے میں آ گئی ہے۔ میں اِس میں کیوں کر تخم‌ریزی کروں؟ اور اگر بےحیائی سے کچھ ہات پانو ہلاؤں، تو اِس شعر کا جواب کہاں سے لاؤں؟

ہرگز نتواں گفت دریں قافیہ اشعاربیجاست برادر اگر از من گلہ دارد۔

اِلتواے شرب شراب: ۲۲ جون، شروع شراب: ۱۰ جولائی۔

المنۃ للّٰہ کہ در میکدہ باز ست۔

[۱۸ جولائی ۱۸۶۲ع]۔

خط ۲۲

صبح یکشنبہ، ۲۷ جولائی سنہ ۱۸۶۲ع۔

میری جان،

سن، پنجشنبہ پنجشنبہ، جمعہ نو، ہفتہ دس، اِتوار گیارہ؛ ایک مژہ برہم‌زدن مینہ نہیں تھما۔ اِس وقت شدت سے برس رہا ہے۔ انگیٹھی میں کوئلے دہکا کر پاس رکھ لیے ہیں۔ دو سطریں لکھیں اور کاغذ کو آگ سے سینک لیا۔ کیا کروں؟ تمھارے خط کا جواب ضرور۔ لو سنتے جاؤ، مرزا شمشاد علی بیگ کو تمھارا خط پڑھوا دیا۔ اونھوں نے کہا کہ غلام حسن خاں کی معیت پر کیا موقوف ہے؟ مجھے آج سواری مل جائے، کل چل نکلوں۔ اب میں کہتا ہوں کہ اونٹ ٹٹو کا موسم نہیں، گاڑی کی تدبیر ہو جائے، بس۔

پچاس برس کی بات ہے کہ اِلٰہی بخش خاں مرحوم نے ایک زمین نئی نکالی، میں نے حسب‌الحکم غزل لکھی۔ بیت الغزل یہ:

پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے؛ شراب تو دے۔

مقطع یہ:

"اسد" خوشی سے مرے ہات پانو پھول گئےکہا جو اوس نے 'زرا میرے پانو داب تو دے'۔

اب میں دیکھتا ہوں کہ مطلع اور چار شعر کسی نے لکھ کر اِس مقطع اور اِس بیت الغزل کو شامل اون اشعار کے کر کے غزل بنالی ہے، اور اوس کو لوگ گاتے پھرتے ہیں۔ مقطع اور ایک شعر میرا اور پانچ شعر کسی اُلو کے۔ جب شاعر کی زندگی میں گانے والے شاعر کے کلام کو مسخ کر دیں، تو کیا بعید ہے کہ در شاعر متوفیٰ کے کلام میں مطربوں نے خلط کر دیا ہو؟ مقطع بےشک مولانا "مغربی" کا ہے؛ اور وہ شعر جو میں نے تم کو لکھا ہے اور یہ شعر جو اب لکھتا ہوں:

داماں نگہ تنگ و گل حسن تو بسیارگلچین بہار تو ز داماں گلہ دارد

یہ دونوں شعر "قدسی" کے ہیں۔ "مغربی" قدما میں اور عرفا میں ہے جیسا "عراقی"۔ اِن کا کلام دقائق و حقائقِ تصوف سے لبریز۔ "قدسی" شاہجہانی شعرا میں "صائب" و "کلیم" کا ہم‌عصر اور ہم‌چشم۔ اِن کا کلام شور انگیز۔ اِن بزرگوں کی طرز و روش میں زمین و آسمان کا فرق۔

بھائی کو سلام کہنا اور کہنا کہ صاحب وہ زمانہ نہیں کہ اِدھر متھرا داس سے قرض لیا اودھر درباری مل کو مارا، اودھر خوب‌چند چین سکھ کی کوٹھی جا لوٹی۔ ہر ایک پاس تمسک مہری موجود؛ شہد لگاؤ چاٹو، نہ مول نہ سود۔ اِس سے بڑھ کر یہ بات کہ روٹی کا خرچ بالکل پھوپی کے سر۔ با اینہمہ کبھی خان نے کچھ دے دیا، کبھی الور سے کچھ دلوا دیا، کبھی ماں نے کچھ آگرے سے بھیج دیا۔ اب میں اور باسٹھ روپئے آٹھ آنے کلکٹری کے، سو روپئے رامپور کے۔ قرض دینے والا ایک میرا مختارکار، وہ سود ماہ بہ ماہ لیا چاہے، مول میں قسط اوس کو دینی پڑے۔ اِنکم‌ٹکس جدا، چوکی‌دار جدا، سود جدا، مول جدا، بی‌بی جدا، بچے جدا، شاگرد پیشہ جدا؛ آمد وہی ایک سو باسٹھ۔ تنگ آ گیا، گزارا مشکل ہوگیا، روزمرہ کا کام بند رہنے لگا۔ سونچا کہ کیا کروں، کہاں سے گنجایش نکالوں؟ قہر درویش بر جان درویش۔ صبح کی تبرید متروک، چاشت کا گوشت آدھا، رات کی شراب و گلاب موقوف۔ بیس بائیس روپیہ مہینا بچا، روزمرہ کا خرچ چلا۔ یاروں نے پوچھا: تبرید و شراب کب تک نہ پیو گے؟ کہا گیا کہ جب تک وہ نہ پلائیں گے۔ پوچھا: نہ پیو گے، تو کس طرح جیو گے؟ جواب دیا کہ جس طرح وہ جلائیں گے۔ بارے، مہینا پورا نہیں گزرا تھا کہ رامپور سے علاوہ وجہ مقرری اور روپیہ آگیا۔ قرضِ مقسط ادا ہو گیا۔ متفرق رہا، خیر رہو۔ صبح کی تبرید، رات کی شراب جاری ہوگئی؛ گوشت پورا آنے لگا۔ چونکہ بھائی نے وجہ موقوفی اور بحالی پوچھی تھی، اون کو یہ عبارت پڑھا دینا۔ اور حمزہ خاں کو بعد سلام کہنا:

اے بےخبر ز لذّتِ شربِ مدام ما۔

دیکھا، ہم کو یوں پلاتے ہیں۔ دریبے کے بنیوں کے لونڈوں کو پڑھا کر مولوی مشہور ہونا اور مسائل ابوحنیفہ کو دیکھنا اور مسائل حیض و نفاس میں غوطہ مارنا اور ہے، اور عرفا کے کلام سے حقیقت حقۂ وحدت وجود کو اپنے دل‌نشین کرنا اور ہے۔ مشرک وہ ہیں جو وجود کو واجب و ممکن میں مشترک جانتے ہیں؛ مشرک وہ ہیں جو مسیلمہ کو نبوّت میں خاتم‌المرسلین کا شریک گردانتے ہیں؛ مشرک وہ ہیں جو نو مسلموں کو ابوالائمہ کا ہمسر مانتے ہیں۔ دوزخ اون لوگوں کے واسطے ہے۔ میں موحد خالص اور مومن کامل ہوں۔ زبان سے لا اِلٰہ اِلا اللّٰہ کہتا ہوں اور دل میں لا موجود اِلا اللّٰہ، لا موثر فی‌الوجود اِلا اللّٰہ سمجھے ہوا ہوں۔ انبیا سب واجب التعظیم اور اپنے اپنے وقت میں سب مفترض الطاعت تھے۔ محمد علیہ السلام پر نبوت ختم ہوئی۔ یہ خاتم‌المرسلین ارو رحمۃ للعالمین ہیں۔ مقطع نبوت کا مطلع اِمامت، اور اِمامت نہ اِجماعی بلکہ من اللّٰہ ہے۔ اور اِمام من اللّٰہ علی علیہ السلام ہے، ثم حسن، ثم حسین، اِسی طرح تا مہدی موعود علیہ السلام۔

بریں زیستم، ہم بریں بگزرم۔

ہاں، اِتنی بات اور ہے کہ اِباحت اور زندقہ کو مردود اور شراب کو حرام اور اپنے کو عاصی سمجھتا ہوں۔ اگر مجھ کو دوزخ میں ڈالیں گے، تو میرا جلانا مقصود نہ ہوگا؛ بلکہ میں دوزخ کا ایندھن ہوں گا اور دوزخ کی آنچ کو تیز کروں گا، تاکہ مشرکین و منکرین نبوت مصطفوی و اِمامت مرتضوی اوس میں جلیں۔ سنو مولوی صاحب، اگر ہٹ‌دھرمی نہ کرو گے اور کتمان حق کو گناہ جانو گے، تو البتہ تم کو یاد ہوگا اور کہو گے کہ ہاں یاد ہے، جن روزوں میں تم علاءالدین خاں کو "گلستان" اور "بوستان" پڑھاتے ہو اور تم نے ایک دن غریب کو دو تین تپانچے مارے ہیں۔ نواب امین‌الدین خاں اون دنوں میں لوہارو ہیں۔ علاءالدین خاں کی والدہ نے تم کو ڈیوڑھی پر سے اُوٹھا دیا۔ تم با چشم پر آب میرے پاس آئے۔ میں نے تم سے کہا کہ بھائی شریف‌زادوں کو اور سردارزادوں کو چشم نمائی سے پڑھاتے ہیں، مارتے نہیں۔ تم نے بیجا کیا؛ آیندہ یہ حرکت نہ کرنا۔ تم نادم ہوئے۔ اب وہ، مکتب‌نشین طفل سے گزر کر، پیر ہفتاد سالہ کے واعظ بنے۔ تم نے کئی فاقوں میں ایک شعر "حافظ" کا حفظ کیا ہے: "چون پیر شدی حافظ الخ" اور پھر پڑھتے ہو اوس کے سامنے کہ اوس کی نظم کا دفتر "حافظ" کے دیوان سے دوچند سہ‌چند ہے، مجموعۂ نثر جداگانہ؛ اور یہ بھی لحاظ نہیں کرتے کہ ایک شعر "حافظ" کا یہ ہے اور ہزار اِس کے مخالف ہیں:

صوفی، بیا کہ آینہ صاف ست جام راتا بنگری صفاے مے لعل فام را

شراب ناب خور و روے مہ‌جبیناں بینخلاف مذہب آناں جمال ایناں بین۔

ترسم کہ صرفۂ نبرد روز بازخواستنان حلال شیخ ز آب حرام ما۔

ساقی مگر وظیفۂ "حافظ" ز بادہ دادکآشفتہ گشت طرۂ دستار مولوی۔

میاں، میں بڑی مصیبت میں ہوں۔ محل‌سرا کی دیواریں گرگئی ہیں، پاخانہ ڈھ گیا، چھتیں ٹپک رہی ہیں۔ تمھاری پھوپی کہتی ہیں، ہاے دبی! ہاے مری! دیوان‌خانے کا حال محل‌سرا سے بدتر ہے۔ میں مرنے سے نہیں ڈرتا، فقدان راحت سے گھبرا گیا ہوں۔ چھت چھلنی ہے، ابر دو گھنٹے برسے، تو چھت چار گھنٹے برستی ہے۔ مالک اگر چاہے کہ مرمت کرے، تو کیوں کر کرے؟ مینہ کھلے تو سب کچھ ہو، اور پھر اثناے مرمت میں میں بیٹھا کس طرح رہوں۔ اگر تم سے ہوسکے، تو برسات تک بھائی سے مجھ کو وہ حویلی جس میں میر حسن رہتے تھے اپنی پھوپی کے رہنے کو اور کوٹھی میں سے وہ بالاخانہ مع دالان زیریں، جو اِلٰہی بخش خاں مرحوم کا مسکن تھا، میرے رہنے کو دلوا دو۔ برسات گزر جائے گی، مرمت ہوجائے گی، پھر "صاحب" اور "میم" اور "بابا لوگ" اپنے قدیم مسکن میں آ رہیں گے۔ تمھارے والد کے ایثار و عطا کے جہاں مجھ پر اِحسان ہیں، یہ ایک مروت کا اِحسان میرے پایان عمر میں اور بھی سہی۔

غالب۔

خط ۲۳

مولانا علائی،

نہ مجھے خوف مرگ، نہ دعوی صبر ہے۔ میرا مذہب، بخلاف عقیدۂ قدریہ، جبر ہے۔ تم نے میانجی‌گری کی، بھائی نے برادرپروری کی۔ تم جیتے رہو، وہ سلامت رہیں؛ ہم اِسی حویلی میں تا قیامت رہیں۔ اِس اِبہام کی توضیح اور اِس اِجمال کی تفصیل یہ ہے کی مینہ کی شدّت سے چھوٹا لڑکا ڈرنے لگا، اوس کی دادی بھی گھبرائی۔ مجھ کو خلوت‌خانے کا دروازہ غرب رویہ اور اوس کے آگے ایک چھوٹا سہ‌درہ یاد تھا۔ جب تمھارے پانو میں چوٹ لگی ہے، تو میں اوسی دروازے سے تم کو دیکھنے آیا تھا۔ یہ سمجھ کر خلوت‌خانے کو محل‌سرا بنایا چاہتا تھا کہ گاڑی، ڈولی، لونڈی، اصیل، کاچھن، تیلن، تنبولن، کہاری، پسنہاری، اِن فرقوں کا ممر وہ دروازہ رہے گا؛ میری اور میرے بچوں کی آمد و رفت دیوان‌خانے میں سے رہے گی۔ عیاذاً باللّٰہ! وہ لوگ دیوان‌خانے میں سے آئیں جائیں، اپنے بیگانے کو ہر وقت پچھلپائیاں نظر آئیں۔ بی وفادار جن کو تم کچھ، اور بھائی خوب جانتے ہیں، اب تمھاری پھوپی نے اونھیں "وفادار بیگ" بنا دیا ہے۔ باہر نکلتی ہیں، سودا تو کیا لائیں گی، مگر خلیق اور ملنسار ہیں، رستہ‌چلتوں سے باتیں کرتی پھرتی ہیں۔ جب وہ محل سے نکلیں گی، ممکن نہیں کہ اطرافِ نہر کی سیر نہ کریں گی، ممکن نہیں کہ دروازے کے سپاہیوں سے باتیں نہ کریں گی، ممکن نہیں کہ پھول نہ توڑیں اور بی‌بی کو لے جا کر نہ دکھائیں اور نہ کہیں کہ "یہ پھول تائی چچا کے بیٹے کی کائی کی ایں"۔ شرح: تمھارے چچا کے بیٹے کی کیاری کے ہیں۔ ہے ہے، ایسے عالی شان دیوان‌خانے کی یہ قسمت اور مجھ سے نازک مزاج دیوانے کی یہ شامت! معہذا اوس سہ‌دری کو اپنے آدمیوں کے اور لڑکوں کے مکتب کے لیے ہرگز کافی نہ جانا۔ مور اور کبوتر اور دُنبہ اور بکری، باہر گھوڑوں کے پاس رہ سکتے تھے؟ 'عَرَفتُ رَبّی بِفَسخِ العزائم' پڑھا اور چپ ہو رہا۔ مگر تمھاری خاطر عاطر جمع رہے کہ اسباب وحشت و خوف و خطر اب نہ رہے۔ مینہ کھل گیا ہے، مکان کے مالکوں کی طرف سے مدد شروع ہو گئی ہے۔ نہ لڑکا ڈرتا ہے، نہ بی‌بی گھبراتی ہے، نہ میں بے آرام ہوں۔ کُھلا ہوا کوٹھا، چاندنی رات، ہوا سرد، تمام رات فلک پر مریخ پیش نظر، دو گھڑی کے تڑکے زہرہ جلوہ‌گر۔ اِدھر چاند مغرب میں ڈوبا اودھر مشرق سے زہرہ نکلی۔ صبوحی کا وہ لطف، روشنی کا وہ عالم!

۶ ماہ اگست سنہ ۱۸۶۲ع۔

خط ۲۴

صبح سہ‌شنبہ، نہم ستمبر سنہ ۱۸۶۲ع۔

جانِ غالب، مگر جسم سے نکلی ہوئی جان،

قیامت کو دوبارہ ملنے کی توقع ہے، خدا کا اِحسان۔ مرزا قربان علی بیگ تمھاری کشش کے مجذوب کیوں بنتے؟ وہ تو خود "سالک" ہیں۔ مگر ہاں یہ صاحبزادۂ سعادت مند "رضوان"، سو اِس کے آپ مالک ہیں۔ نواب صاحب کا ہم‌مطبخ اور آپ کا ہم‌مائدہ ہونا بہتر ہوا۔ کاش، تم یہ لکھتے کہ مشاہرہ کیا مقرر ہوا؟ اِثنا عشری ایک تم ہو، سو تمھیں کیا اِختیار ہے؟ البتہ عشرۂ مبشرہ کی اولیت پر مدار ہے۔ باپ تمھارا، خلافِ قاعدۂ اہل سنت جماعت، عشرہ میں سے ثُلثہ کو کم کرتا تھا؛ "رضوان" نے نہ مانا۔ کیوں کر مانتا؟ وہ تو ثُلثہ کا دم بھرتا تھا۔ تہور خاں صاحب کے باب میں بندہ جویا اِس خبر کا ہے کہ اب لوہارو سے اون کا اِرادہ کدھر کا ہے؟

"رضوان" کو دعا پہنچے۔ نواب صاحب کی عنایت اور مولانا علائی کی صحبت مبارک ہو۔ "پیرجی" سے جب پوچھتا ہوں کہ 'تم خوب شخص ہو' اور وہ کہتے ہیں: 'کیا کہنا ہے!' اور میں پوچھتا ہوں: 'کس کا؟' تو وہ فرماتے ہیں: 'مرزا شمشاد علی بیگ کا'۔ 'ایں' اور کسی کا نام تم کیوں نہیں لیتے؟ دیکھو یوسف علی خاں بیٹھے ہیں، ہیرا سنگھ موجود ہے'۔ 'واہ صاحب کیا میں خوشامدی ہوں، جو منہ دیکھی کہوں؟ میرا شیوہ حفظ الغیب ہے؛ غائب کی تعریف کرنی کیا عیب ہے؟' 'ہاں صاحب، آپ ایسے ہی وضع‌دار ہیں؛ اِس میں کیا ریب ہے؟'

خط ۲۵

میاں،

تم میرے ساتھ وہ معاملے کرتے ہو، جو احیا سے مرسوم و معمول ہیں۔ خیر، تمھارا حکم بجا لایا۔ غزل بعد اِصلاح کے پہنچتی ہے۔ جناب لفٹنٹ گورنر بہادر نے دربار کیا۔ میری تعظیم و توقیر اور میرے حال پر لطف و عنایت، میری ارزش و اِستحقاق سے زیادہ، بلکہ میری خواہش اور تصور سے سوا، مبذول کی۔ اِس ہجوم امراضِ جسمانی اور آلام روحانی کو اِن باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ہر دم دم نزع ہے، دل وہ غم سے خوں‌ریز ہو گیا ہے کہ کسی بات سے خوش نہیں ہو سکتا۔ مرگ کو نجات سمجھے ہوئے ہوں، اور نجات کا طالب ہوں۔ کئی دن سے کوئی تحریر دلپذیر تمھاری نظر نہیں آئی، نہ مجھے تم نے یاد کیا، نہ اپنے بھائی کو کچھ لکھا۔ اب اِس خط کا جواب جلد لکھو۔ پہلے اپنے بچوں کا حال پھر وہاں کے اوضاع۔ جیسا تمھارا قاعدہ ہے، منقح اور مفصّل لکھو۔ فقط۔

نجات کا طالب، غالب۔

خط ۲۶

اِقبال نشانا،

بہ خیر و عافیت و فتح و نصرت لوہارو پہنچنا مبارک ہو۔ مقصود اِن سطور کی تحریر سے یہ ہے کہ مطبع "اکمل‌المطابع" میں چند احباب میرے مسودات اُردو کے جمع کرنے پر اور اوس کے چھپوانے پر آمادہ ہوئے ہیں۔ مجھ سے مسودات مانگے ہیں اور اطراف و جوانب سے بھی فراہم کیے ہیں۔ میں مسودہ نہیں رکھتا۔ جو لکھا، وہ جہاں بھیجنا ہو وہاں بھیج دیا۔ یقین ہے کہ خط میرے، تمھارے پاس بہت ہوں گے۔ اگر اون کا ایک پارسل بنا کر بہ سبیل ڈاک بھیج دوگے یا آج کل میں کوئی اِدھر آنے والا ہو، اوس کو دے دوگے، تو موجب میری خوشی کا ہوگا؛ اور میں ایسا جانتا ہوں کہ اوس کے چھاپے جانے سے تم بھی خوش ہوگے۔ بچّوں کو دعا۔

[۱۸۶۳ع]۔

غالب۔

خط ۲۷

ولی‌عہدی میں شاہی ہو مبارکعنایات اِلٰہی ہو مبارک

اِس امر فرخ و ہمایوں کی شہرت میں کوشش، بےحوصلگی ہے اور اِس کے اِخفا میں مبالغہ، خفقانیت۔ تم اپنی زبان پر نہ لاؤ۔ اگر کوئی اور کہے، مانع نہ آؤ۔ نہ اِشتہار، نہ اِستتار۔

دورہ ہوا، مگر مدت معینہ کے بعد؛ اور پھر جھاگ کا نہ آنا اور تمھارے پکارنے سے متنبہ ہو جانا، مادے کی کمی کی علامتیں ہیں۔ شدّت میں جس قدر خفت ہو غنیمت ہے۔

میرے خطوط اُردو کے اِرسال کے باب میں جو کچھ تم نے لکھا، تمھارے حسن طبع پر تم سے بعید تھا۔ میں سخت بےمزہ ہوا، اگر بےمزگی کے وجوہ لکھوں، تو شاید ایک تختہ کاغذ سیاہ کرنا پڑے۔ اب ایک بات موجز و مختصر لکھتا ہوں۔ سنو بھائی، اگر اون خطوط کا تم کو اِخفا منظور ہو اور شہرت تمھارے منافی طبع ہے، تو ہرگز نہ بھیجو۔ قصہ تمام ہوا۔ اور اگر اون کے تلف ہونے کا اندیشہ ہے، تو میرے دستخطی خطوط اپنے پاس رہنے دو اور کسی متصدی سے نقل اوتروا کر، چاہو کسی کے ہات، چاہو بہ سبیل پارسل، اِرسال کرو؛ لیکن جلد۔ خدا کے واسطے، کہیں غصے میں آ کر "عطاے تو بہ لقاے تو"، کہہ کر، اصل خطوط نہ بھیج دینا؛ کہ یہ امر میرے مخالف مقصود ہے۔

بھلا صاحب، ڈرتا ہوں میں تم سے؛ اودھر خط پڑھا اِدھر جواب لکھ کر ڈاک میں بھیجا۔ تمھارا خط رہنے دیا ہے؛ جب آغا شمشاد علی بیگ آئیں گے، پڑھ لیں گے۔

[۱۸۶۳ع]

خط ۲۸

صبح شنبہ، ۳۰ مئی سنہ ۱۸۶۳ع۔

لا موجود اِلا اللّٰہ۔ اوس خدا کی قسم جس کو میں نے ایسا مانا ہے اور اوس کے سوا کسی کو موجود نہیں جانا ہے کہ خطوط کے اِرسال کو مکرر نہ لکھنا از راہ ملال نہ تھا۔ طالب کے ذوق کو سست پا کر میں متوقف ہو گیا۔ متوسط ایک جلیل‌القدر آدمی؛ اور طالب کتب کا سوداگر ہے، اپنا نفع نقصان سونچے گا، لاگت بچت کو جانچے گا۔ میں متوسط کو مہتمم سمجھا تھا اور یہ خیال کیا تھا کہ یہ چھپوائیے گا۔ ۳۰ رقعے ایک جگہ سے لے کر اون کو بھیجے۔ اوس کی رسید میں تقریباً اونھوں نے طلب رقعات بہ تکلیف سوداگر لکھی اور اوس سوداگر کو مفقود الخبر لکھا۔ ظاہرا کتابیں لے کر کہیں گیا ہوگا؛ کتابیں لینے گیا ہوگا۔ یہ ۲۳ لفافے اور ۳۴ خط بدستور میرے بکس میں موجود و محفوظ رہیں گے۔ اگر متوسط بہ تقاضا طلب کرے گا، اِن خطوط کی نقلیں اوس کو اور اصل تم کو بھیج دوں گا؛ ورنہ تمھارے بھیجے ہوئے کاغذ تم کو پہنچ جائیں گے۔

میاں، اِن خطوط کے اِرسال میں تم نے مجھ سے وہ کیا جو میں نے تم سے دوجانے میں کیا تھا۔ بھلا، میں تو پیر خرف ہوں اور سن خرافت کو نسیان لازم ہے۔ تم نے کیا سمجھ کے کپڑا لپیٹ کر اور مختم کر کے بھیجا؟ خطوں پر ایک قلیل العرض کاغذ لپیٹ کر اِرسال کیا ہوتا۔ اگر منشی بہاری لال میرا اور شہاب‌الدین کا دوست نہ ہوتا، تو پچاس روپئے کا مجھ کو دھپا لگتا۔

رسیدہ بود بلائے ولے بخیر گزشت۔

غالب۔

ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟

سجّل الدخول للتفاعل

النقاش

لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.

أعجبك هذا الفصل؟ شارك سطرًا منه.