
Глава 9 из 9
To Ala-ud-din Ahmad Khan Alai: Letters 29–56
علائی کے نام: خط ۲۹ تا ۵۶
خط ۲۹
بد است مرگ، ولے بدتر از گماں تو نیست۔
مکرر لکھ چکا ہوں کہ قصیدے کا مسودہ میں نے نہیں رکھا۔ مکرر لکھ چکا ہوں کہ مجھے یاد نہیں کون سی رباعیاں مانگتے ہو۔ پھر لکھتے ہو کہ رباعیاں بھیج، قصیدہ بھیج۔ معنی اِس کے یہ کہ تو جھوٹا ہے؛ اب کے تو مقرر بھیجے گا۔ بھائی، قرآن کی قسم، اِنجیل کی قسم، توریت کی قسم، زبور کی قسم، ہنود کے چار بید کی قسم، دساتیر کی قسم، ژند کی قسم، پاژند کی قسم، استا کی قسم، گرو کے گرنتھ کی قسم، نہ میرے پاس وہ قصیدہ، نہ مجھے وہ رباعیاں یاد۔ "کلیات" کے باب میں جو عرض کر چکا ہوں،
بر ہمانیم کہ ہستیم و ہماں خواہد بود۔
جب میں دس پندرہ جلدیں منگا لوں گا، ایک بھائی کو اور ایک تم کو اُرمغاں بھیجوں گا۔ اور اگر بھائی کو جلدی ہے، تو لکھنئو میں "اودھ اخبار" کا مطبع، مالک اوس کا منشی نولکشور مشہور۔ جتنی جلدیں چاہیں، لکھنئو سے منگا لیں۔ میں بہر حال دو جلدیں، جس وقت موقع ہوگا، بھیج دوں گا۔
۱۱ جون سنہ ۱۸۶۳ع۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۰
یکشنبہ، ۳ محرم سنہ ۱۲۸۰، مطابق ۲۱ جون سنہ ۱۸۶۳ع۔
میری جان،
مرزا علی حسین خاں آئے اور مجھ سے ملے۔ میں نے خطوط مرسلہ تمھارے یکمشت اون کو دیے۔ اب تمھارے پاس بھیجنے کا اون کو اِختیار ہے؛ رسید کا البتہ مجھے اِنتظار ہے۔ علی حسین خاں سے آنے کی حقیقت اور یہاں اِقامت کی مدت پوچھی گئی۔ جواب پایا کہ ایک مہینا دس دن کی رخصت لے کر آیا ہوں؛ بیبی بیمار ہے، اوس کا اِستعلاج منظور ہے۔ میری جان علی حسین خاں کے کام آئے، تو دریغ نہ کروں۔ بھلا، یہ مبالغہ سہی بلکہ بےشک تبلیغ و غلو ہے؛ لیکن قریب قریب اِس کے، یعنی جو چیز اِمکان سے باہر نہ ہو، اوس میں قصور کیوںکر کیا جائے گا؟ بلکہ شاید تمھاری سپارش کی بھی حاجت نہ ہو۔ مگر سونچو کہ آئین غمخواری و اندوہ گساری کیا ہوگی! میرزا بدوضع و بدروش نہیں کہ پند و بند کا محتاج ہو۔ کوئی اوس کا مقدمہ کسی محکمے میں دائر نہیں کہ مصلحت و مشورت کی اِحتیاج ہو۔ رہے اُمور خانگی، یعنی بیبی اور اوس کے آبا اور اِخوان کے معاملے، اوس میں نہ تم کو دخل، نہ مجھ کو مداخلت۔ تم علی حسین خاں کو اِس پیوند پر کیا کیا چھیڑتے ہو اور یہ نہیں سمجھتے کہ اوس کا دادا کتنا بڑا آدمی تھا اور اب اوس کے دادا کی اور اوس کی سسرال ایک ہے۔ یہ ذریعۂ فخر ہے اوس کو، اور اوس کے طفیل سے تم کو۔ بلکہ تھوڑی سی نازش اگر مجھ ننگ اقربا کے حصے میں بھی آ جائے، تو کچھ بعید نہیں۔
ہرچند تمھارا ہر ایک کلمہ ایک بذلہ ہے، لیکن اِس "خسر" و "خسرانی" نے مار ڈالا۔ کیا کہوں، جو مجھ کو مزا ملا ہے؟ کہاں "خسر" و "خسران" لغات عربیالاصل اور کہاں روزمرۂ مشہور کہ "خسر" سسرے کو کہتے ہیں! صنعت اِشتقاق و طباق کو کس سینہ زوری سے برتا ہے! اچھا میرا میاں، یہ "خسر" بہ معنی "پدرزن" کیا لفظ ہے؟ حروف بین الفارسی والعربی مشترک ہیں؛ لیکن اِن معنوں میں نہ فارسی ہے نہ عربی ہے۔ فارسی میں "پدرزن" بہ فکّ اِضافت کہتے ہیں۔ عربی جس طرح، بہ معنیِ نقصان، لغتِ منصرف ہے، شاید "سسرے" کا اِسم جامد بھی ہو، یا فی الحقیقت "سسرے" کی تفریس و تعریب ہو۔ یہ پرسش نہ بہ سبیلِ اِستہزا ہے، بلکہ بہ طریقِ اِستفسار و اِستعلام ہے۔ جو تمھیں معلوم ہو، بلکہ اگر تم پر مجہول ہو تو معلوم کر کے، مجھے لکھ بھیجو۔
یوسف علی خاں "عزیز" مانند اوس دہقان کے، جو دانہ ڈال کے مینہ کا منتظر ہو اور ابر آئے اور نہ برسے، مضطر و حیران ہے۔ علی حسین خاں آتے ہیں، علی حسین خاں آتے ہیں۔ آئے۔ وہ آئے، تو کیا لائے؟
غالب۔
خط ۳۱
صاحب،
میں ازکاررفتہ و درماندہ ہوں۔ آج تمھارے خط کا جواب لکھتا ہوں۔
لفظ "خسر" کے باب میں اِتنی توضیح کیا ضرور تھی؟ میرا علم لغات عربیہ کا محیط نہیں ہے؛ اور یہ بہ طریقِ حق الیقین جانتا ہوں کہ "خسر" لُغت فارسی نہیں، "سسرے" کی تفریس سے خسر پیدا ہوا ہو تو کیا عجب ہے۔ تم سے اِس کی تحقیق چاہی تھی کہ یہ لغت عربی الاصل نہ ہو، وہ معلوم ہوا کہ عربی نہیں، لغتِ ہندی ہے مفرس؛ اور یہی تھا میرا عقیدہ۔
علی حسین خاں آئے، دو تین بار مجھ سے مل گئے۔ اب نہ وہ آ سکتے ہیں، نہ میں جا سکتا ہوں۔ نصیبِ دشمناں، وہ لنگڑے، میں لولا۔ اون کے پانو کا حال مفصل تم کو معلوم ہوگا، جونکیں لگیں، کیا ہوا، کہاں تک نوبت پہنچی۔ میری حقیقت سنو۔ مہینا بھر سے زیادہ کا عرصہ ہوا، بائیں پانو میں ورم، کف پا سے پشت پا کو گھیرتا ہوا پنڈلی تک آماس۔ کھڑا ہوتا ہوں تو پنڈلی کی رگیں پھٹنے لگتی ہیں۔ خیر، نہ اوٹھا؛ روٹی کھانے محلسرا نہ گیا، کھانا یہیں منگا لیا۔ پیشاب کو کیوںکر نہ اوٹھوں؟ حاجتی رکھ لی؛ بغیر اوکڑو بیٹھے بات نہیں بنتی۔ پاخانے کو اگرچہ دوسرے تیسرے دن جاؤں، مگر جاؤں تو سہی۔ یہ سب موقعے خیال میں لا کر سونچ لو کہ کیا گزرتی ہوگی۔ آغازِ فتق مزید علیہ یا مستزاد۔
پیری و صد عیب چنیں گفتہ اند۔
اپنا یہ مصرع بار بار چپکے چپکے پڑھتا ہوں:
اے مرگِ ناگہاں، تجھے کیا اِنتظار ہے؟
مرگ اب ناگہانی کہاں رہی؟ اسباب و آثار سب فراہم ہیں۔ ہاے، اِلٰہیبخش خاں مغفور کا کیا مصرع ہے!
آہ، جی جاؤں نکل جائے، اگر جان کہیں!
زائدہ بےفائدہ۔
جمعہ، ۳ جولائی سنہ ۱۸۶۳ع۔
مرگ کا طالب، غالب۔
خط ۳۲
صبح یکشنبہ، ۲۰ ستمبر سنہ ۱۸۶۳ع۔
جانا، عالیشانا،
پہلے خط، اور پھر، بہ توسط برخوردار علی حسین خاں، مجلد "کلیات فارسی" پہنچے۔ حیرت ہے کہ چار روپئے قیمت کتاب اور "۴ آنے" محصول ڈاک، قالب اِنطباع میں آ کر پانچ روپئے قیمت اور "۵ آنے" محصول قرار پاوے۔ خیر، جہاں سَو وہاں سوا سَے۔ میرا حال تمھیں اور تمھارا حال مجھے معلوم ہے۔
ایں ہم اندر عاشقی بالاے غمہاے دگر۔
اب کے چٹھے میں شاید نہ دے سکوں۔ نومبر سنہ حال میں "پچاس" تمھارے پاس پہنچ جائیں گے؛ اِن شاء اللّٰہ العلی العظیم۔ میں بےحیا تھا، نہ مرا؛ اچھا ہونے لگا۔ عوارض میں تخفیف ہے، طاقت چلی آتی ہے۔ مختصر مفید:
در نامہ جز ایں مصرعۂ شاعر چہ نویسم:اے واے ز محرومی دیدار، دگر ہیچ۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۳
اِقبال نشان مرزا علاءالدین خاں بہادر کو غالب گوشہنشین کی دعا پہنچے۔
برخوردار علی حسین خاں آیا، مجھ سے ملا۔ بھائی کا حال اوس کی زبانی معلوم ہوا۔ حق تعالیٰ اپنا فضل کرے۔ الولد سِرٌّ لابیہٖ، تم اِس کے مصداق کیوں بنے؟ خفقان و مراق اگرچہ تمھارا خانہزاد موروثی ہے، لیکن آج تک تمھاری خدمت میں حاضر نہ ہوا تھا، اب کیوں آیا؟ اگر آیا تو ہرگز اوس کو ٹھہرنے نہ دو؛ ہانک دو۔ خبردار، اوس کو اپنے پاس رہنے نہ دینا۔
شفیقِ مکرمؔ و لطفِ مجسم منشی نولکشور صاحب بہ سبیل ڈاک یہاں آئے؛ مجھ سے اور تمھارے چچا اور تمھارے بھائی شہاب الدین خاں سے ملے۔ خالق نے اون کو زہرہ کی صورت اور مشتری کی سیرت عطا کی ہے۔ گویا بجاے خود "قران السعدین" ہیں۔ تم سے میں نے کچھ نہ کہا تھا اور "کلیات" کے دس مجلد کی قیمت "۵۰" مان لیے تھے۔ اب اون سے جو ذکر آیا، تو اونھوں نے پہلی قیمت مشتہرۂ اخبار لینی قبول کی، یعنی "۳ روپئے ۴ آنے" فی جلد۔ اِس صورت میں دس مجلد کے "۳۲ روپئے ۸ آنے" میں دوں اور "۳۲ روپئے ۸ آنے" تم دو۔ ہمگی "۶۵" مطبع "اودھ اخبار" میں پہنچانے چاہییں۔ میں دسمبر ماہ حال کی دسویں گیارھویں کو طالب ہوں گا۔ کہو، "۳۲ روپئے ۸ آنے" علی حسین خاں کو دے دوں؛ کہو، لکھنئو بھیج دوں۔ اِس نگارش کا جواب جلد بھیجو۔ بھائی صاحب کی خدمت میں میرا سلام کہنا، اور اُستاد میر جان کے میری طرف سے قدم لینا۔
نجات کا طالب، غالب۔
پنجشنبہ، ۲۱ جمادیالثانی، سال غفر؛ مطابق ۳ دسمبر، سال: 'کیا غضب! ہے ہے' = ۱۸۶۳ع۔ یہ گویا تاریخ وفات جناب گورنر جنرل لارڈ الگن صاحب بہادر کی ہے۔
خط ۳۴
مولانا علائی،
واللّٰہ! علی حسین خاں کا بیان بہ مقتضاے محبت تھا۔ ہر بار کہتا تھا اور یہ کہتا تھا کہ حق بہ جانب اون کے ہے: نہ کوئی ہمسخن، نہ کوئی ہمنفس؛ نہ سیر، نہ شکار؛ نہ مجلس، نہ دربار؛ تنہائی و بےشغلی اور بس۔ جی نہ کیوںکر گھبرائے، خفقان کیوں نہ ہوجائے؟
نہ دن یاد، نہ تاریخ؛ آج چوتھا، یا بھئی شاید بھول گیا ہوں، پانچواں دن ہے کہ منشی نول کشور بہ سواری ڈاک رہگراے لکھنئو ہوئے۔ کل پہنچ گئے ہوں یا آج پہنچ جائیں۔ آج، روزِ یکشنبہ، ۱۳ دسمبر کی ہے۔ ایک دن منشی صاحب میرے پاس بیٹھے تھے اور برخوردار شہاب الدین خاں بھی تھا۔ میں نے "ثاقب" کو مخاطب کر کے کہا کہ اگر میں دنیادار ہوتا، تو اِس کو نوکری کہتا۔ مگر چونکہ فقیرِ تکیہدار ہوں، تو یہ کہہ سکتا ہوں کہ تین جگہ کا روزینہدار ہوں۔ ساڑھے باسٹھ روپئے یعنی "۷۵۰" سال سرکار انگریزی سے پاتا ہوں اور بارہ سو سال رامپور سے اور چوبیس روپیہ سال اِن مہاراج سے۔ توضیح یہ کہ دو برس سے ہر مہینے میں چار بار اخبار مجھ کو بھیجتے ہیں، قیمت نہیں لیتے۔ مگر ہاں، اڑتالیس ٹکٹ میں مطبع میں پہنچا دیا کرتا ہوں۔ "۳۲ روپئے ۸ آنے" جو میں نے پوچھے تھے کہ علی حسین خاں کے حوالے کروں، مقصود اِس سے یہ تھا کہ اِرسال بہ سبیل ہنڈوی دشوار ہے۔ خیر، اب جس طرح ہوگا، حصار پر ہنڈوی لکھوا کر تم کو بھیج دوں گا۔ تم حصار پہنچ کر روپیہ منگوا لیجو۔ خدا چاہے، تو دسمبر میں روپیہ تمھارے پاس پہنچ جائے۔ اُستاد میر جان صاحب کو قدمبوس کہہ کر مجھ کو فرعون بننا پڑا۔ دوہائی خدا کی، اب ایسا نہ کروں گا۔ میرا سلام، بلکہ دعا اون کو کہہ دینا۔ پرسوں مولوی صدر الدین خاں صاحب کو فالج ہوگیا۔ سیدھا ہات رہ گیا ہے۔ زبان موٹی ہوگئی ہے، بات مشکل سے کرتے ہیں اور کم سمجھ میں آتی ہے۔ میں اپاہج ہوں، جا نہیں سکا۔ جو اون کو دیکھ آتا ہے اوس سے اون کا حال پوچھا جاتا ہے۔ دن تاریخ صدر میں لکھ آیا ہوں۔ کاتب کا نام، غالب ہے کہ دستخط سے پہچان جاؤ۔
[۱۸۶۳ع]
خط ۳۵
یکم جنوری سنہ ۱۸۶۴ع۔
علائی مولائی کو غالب طالب کی دعا۔
بیچارے مرزا کا معاملہ علی حسین خاں کی معرفت طے ہوگیا۔ یہاں پندرہ کا سوال وہاں دس میں سے تین کم کرنے کا خیال۔ متوسط دوسرا، جو علی حسین خاں بہادر کے بعد درمیان آئے، وہ کیا کرے اور کیا کہے؟ مرزا قانع و متوکل ہیں؛ نہ پندرہ مانگتے ہیں نہ دس؛ اللّٰہ بس، ما سوا ہوس۔
جناب ترولین صاحب، بھائی کے دوستِ دلی، دلّی آئے۔ "لارڈ صاحب" کہلاتے ہیں؛ سنتا ہوں کہ کل اکبرآباد جاتے ہیں۔
بھائی علی بخش خاں مدت سے بیمار تھے رات کو بارہ پر دو بجے مرگئے۔ اِنا للّٰہ واِنا اِلیہ راجعون۔ تمھارے عم نامدار آج دن کو بارہ بجے "سلطان جی" گئے ہیں، میں نہ جا سکا۔ تجہیز و تکفین اون کی طرف سے عمل میں آئے گی۔
بارہ پر تین بجے یہ خط میں نے تمھیں لکھا ہے۔ کل، شنبہ، ۲ جنوری، صبح کو ڈاکگھر بھیج دوں گا۔ مشفقی شفیقی میر جان صاحب کو سلام مع الاکرام۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۶
چہار شنبہ، ۱۸ مئی سنہ ۱۸۶۴ع، بقولِ عوام 'باسی عید کا دن'؛ صبح کا وقت۔
میری جان،
غالبِ کثیر المطالب کی کہانی سن۔ میں اگلے زمانے کا آدمی ہوں۔ جہاں ایک امر کی اِبتدا دیکھی، یہ جان لیا کہ اب یہ امر مطابق اِس بدایت کے نہایت پزیر ہوگا۔ یہاں اِختلافِ طبائع کا وہ حال کہ آغاز مغشوش، انجام مخدوش۔ مبتدا خبر سے بیگانہ، شرط جزا سے محروم۔ سنا، اور متواتر سنا کہ قصّہ طے ہوگیا؛ اب علاءالدین خاں مع قبائل آئیں گے۔ دل خوش ہوا کہ اپنے محبوب کی شکل مع اوس کے نتائج کے دیکھوں گا۔ پرسوں آخر روز بھائی پاس گیا۔ اثناے اِختلاط و اِنبساط میں میں نے پوچھا کہ کہو بھئی، علاءالدین خاں کب آئیں گے؟ جواب کچھ نہیں۔ 'اجی!، وہ قصّہ تو طے ہو گیا؟' 'ہاں، وہ تو روپیہ میں نے دے بھی دیا'۔ میں نے کہا: 'تو اب چاہیے کہ وہ آئیں'۔ فرمایا کہ 'شاید ابھی نہ آئے'۔
معلوم ہوا کہ خیر، ٹھینگا باجا۔
ناچار اِرادہ کیا کہ جو کچھ کہنا تھا اب وہ لکھ کر بھیجوں۔ پرسوں تو شام ہوگئی تھی، کل بغلگیر ہونے والوں نے دم نہ لینے دیا۔ اوس پر طُرّہ یہ کہ "ثاقب" نے کہا کہ بھائی تم سے شاکی ہیں۔ اب ضرور آ پڑا کہ گزارش مدعا سے پہلے تمھارے رفع ملال میں کلام کروں۔
بھائی، تم میرے فرزند بلکہ بہ از فرزند ہو۔ اگر میرا صلبی بیٹا اِس دید و دانست و تحریر و تقریر کا ہوتا، تو میں اوس کو اپنا یار وفادار اور ذریعۂ اِفتخار جانتا۔ میرے خطوط کے نہ پہنچنے کا گلہ غلط؛ تمھارا کون سا خط آیا کہ اوس کا جواب یہاں سے نہ لکھا گیا۔ میرے پاس جو مقاصد ضروری فراہم تھے، وہ میں نے اِس نظر سے نہ لکھے کہ اب تم آتے ہو، زبانی گفت و شنید ہو جائے گی۔ "ثاقب" نے چلتی گاڑی میں روڑا اٹکا دیا، تب مجھے توطئہ و تمہید میں ایک ورق لکھنا پڑا۔ ورنہ آغاز نگارش یہاں سے ہوتا:
یا اسد اللّٰہ الغالب!
با من از جہل معارض شدہ نامنفعلےکہ گرش ہجو کنم ایں بودش مدح عظیم۔
یہ رسالہ موسوم بہ "محرقِ قاطع برہان" جو "ثاقب" نے تم کو بھیجا ہے، میرے کہنے سے بھیجا ہے، اور اِس اِرسال سے میرا مدعا یہ ہے کہ اِس کے معائنے کے وقت اِس کتاب کی بے ربطی عبارت پر اور میری اپنی قرابت اور نسبتہاے عدیدہ پر نظر نہ کرو۔ بیگانہوار دیکھو اور از روے اِنصاف حکَم بنو، بے حیف و میل۔ اوس نے جو مجھے گالیاں دی ہیں، اوس پر غصہ نہ کرو۔ غلطیاں عبارت کی، شدتِ اِطناب ممل کی صورت، سوال دیگر جواب دیگر، اِن باتوں کو مطمح نظر کرو۔ بلکہ اگر فرصت مساعدت کرے تو اون مراتب کو الگ ایک کاغذ پر لکھو اور بعد اِتمام میرے پاس بھیج دو۔ میرا ایک دوست روحانی کہ وہ من جملۂ رجال الغیب ہے، اِن ہفوات کا خاکا اوڑا رہا ہے۔ "نیر رخشاں" نے اوس کو مدد دی ہے۔ تم بھی، بھائی، مدد دو۔
اور وہ امر مبہم کہ جو تمھارے والد کی تقریر سے دلنشین نہیں ہوا، یعنی قصہ چک جانا اور دلی آنا؛ اوس کا ماجرا مفصل و مشرح لکھ۔
دن، تاریخ، اپنا نام، آغاز کتابت میں لکھ آیا ہوں۔ اب اِرسال جواب کی تاکید کے سوا اور کیا لکھوں؟ فقط۔
خط ۳۷
دوشنبہ، ۲۳ ذیالحجہ سنہ ۱۲۸۰ھ۔
اے میری جان،
"مثنوی ابر گہربار" کون سی فکر تازہ تھی، کہ میں تجھ کو بھیجتا؟ "کلیات" میں موجود ہے۔ معہذا شہاب الدین خاں نے بھیج دی، میں مکرر کیا بھیجتا؟
"تپ محرق" کے دیکھنے سے اِنکار کیوں کرتے ہو؟ اگر منافیِ طبع تحریر کو، بہ سبب اِنزجار، نہ دیکھا کرتے؛ تو فریقین کی کتب مبسوطہ کہاں سے موجود ہوتیں؟ "افسوس" کو میں نے عربی جانا؛ عربی نہیں ہے۔ اب مانا؛ یہ ایک سہو طبیعت تھا۔ میرا اِعتراض تو خلطِ مبحث پر ہے: "افسوس" و "فسوس" ایک کیوں ہوجائے؟
یہاں کے اطوار مجھ سے باوجود قرب مخفی اور تم پر با ایں ہمہ بُعد آشکار۔ دورانِ باخبر در حضور، و نزدیکاں بےبصر دور۔ روپیہ آگیا، دل سے نکلا، مخزن سے نکلا، ہات سے نہیں نکلا۔ جب ہات سے نکل جائے گا اور جنس مول لی جائےگی اور یہ گنڈ کٹ جائے گا، تب ترساں ترساں پیشگاہ نادری میں تمھارے یہاں آنے کے باب میں کچھ عرض کیا جائےگا۔ میں اِن دنوں مردود بھی ہوں۔ والسلام۔
صبحدم با ابو البشر گفتم:"پارۂ زر بدہ، کہ زر داری۔
حیف باشد کہ از چو من پسرےخاک رنگیں عزیز تر داری۔"
گفت: "حیفاست از تو خواہش زر،کہ تو گنجینۂ گہر داری؛
گنجدان سخن حوالۂ تستخود بہ بین تاچہ، اے پسر، داری
پیش من زر کجاست جانِ پدر؟ببری ہر چہ در نظر داری۔"
گفتم: "اینک بہ بند پیمانےزر بہ من می دہی، اگر داری؛
سرِ زنبیلِ آن عَمَرِ عیّار،گر ز عیّاریش خبر داری،
بکشا زود و زر بریز و بگوےکہ ہمیں مدعا مگر داری۔"
گفت: "بابا فسانۂ بودہ ست؛چہ فرو ریزم و چہ برداری؟"
[۳۰ مئی ۱۸۶۴ع]۔
خط ۳۸
شنبہ، ۹ جولائی سنہ ۱۸۶۴ع۔
علائی مولائی، غالب کو اپنا دعاگو اور خیرخواہ تصور کریں۔ مادہہاے تاریخ کو نہ آپ قالبِ نظم میں لائیں اور نہ اور کو اِس امر مُنکَر کی تکلیف دیں۔ بھائی سمجھو؛ "یزید" پر لعن من جملۂ عبادت سہی، لیکن تقریباً کہہ دیتے ہیں کہ "بر یزید لعنت"۔ کسی مومن نے اوس کی ہجو میں قصیدہ نہیں لکھا۔ اِبداع مادہہاے تاریخ تمھارے حسنات میں لکھا گیا۔ مُثاب تم ہو چکے، اجر پاؤگے اِن شاء اللّٰہ۔ اب اپنے کو بدنام اور کسی کو ملول اور عداوت کو ظاہر اور اگر ظاہر ہو، تو محکم نہ کرو۔ علی بخش خاں مرحوم مجھ سے چار برس چھوٹا تھا۔ میں سنہ ۱۲۱۲ع میں پیدا ہوا ہوں۔ اب کے رجب کے مہینے سے اونہتّرواں برس شروع ہوا ہے۔ اوس نے ۶۶ برس کی عمر پائی۔ نئی تقریر و تحریر کا آدمی تھا۔ اکبرآباد میں میور صاحب سے ملے۔ اثناے مکالمت میں کہنے لگے کہ میں چچا جان کے ساتھ جرنیل لارڈ لیک صاحب کے لشکر میں موجود تھا اور ہولکر سے جو محاربات ہوئے ہیں، اوس میں شامل رہا ہوں۔ بےادبی ہوتی ہے؛ ورنہ اگر قبا و پیرہن اوتار کر دکھلاؤں، تو سارا بدن ٹکڑے ٹکڑے ہے، جا بجا تلوار اور برچھی کے زخم ہیں۔ وہ ایک بیدارمغز اور دیدہور آدمی، اون کو دیکھ دیکھ کر کہنے لگا کہ نواب صاحب ہم ایسا جانتے ہیں کہ تم جرنیل صاحب کے وقت میں چار پانچ برس کے ہوئے۔ یہ سن کر آپ نے کہا کہ درست، بجا اِرشاد ہوتا ہے۔ خدایش بیامرزاد و بدیں دروغہاے بےنمک مگیراد۔
غالب۔
خط ۳۹
اجی مولانا علائی،
نواب صاحب دو مہینے تک اِجازت دے چکے، اور یہ میں خبرتراشی نہیں کرتا، مرزا علی محمد بیگ کی زبانی ہے کہ نواب، علاءالدین خاں سے کہہ چکے ہیں کہ قصہ مٹ گیا ہے؛ اب تم شوق سے دلی جاؤ۔ دو ہفتے سے لے کر دو مہینے تک کی تم کو رخصت ہے۔ پھر تم کیوں نہ آئے؟ خدا نے دعا، خداوند نے اِستدعا قبول کی۔ تمھاری طرف سے سست قدمی اور دلسردی کی کیا وجہ؟ اگر حاکی کی حکایت جھوٹ ہے، تو تم سچ لکھو کہ ماجرا کیا ہے۔ مرزا یوسف علی خاں "عزیز" تمھارے بلائے ہوئے اور مہدی حسین بھائی صاحب کے مطلوب، مرزا عبدالقادر بیگ کے قبائل کے ساتھ کل روانۂ لوہارو ہوئے ہیں۔
شنبہ، ۱۷ ستمبر سنہ ۱۸۶۴ع۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۰
مرزا علائی مولائی،
نہ لاہور سے خط لکھا، نہ لوہارو سے۔ بہ قدر مادۂ حمق محو اِنتظار، بلکہ امیدوار رہا۔ اب جو کسی طرح کی توقع نہ رہی، تو شکوہ طرازی کا موقع ہات آیا۔ اگرچہ جانتا ہوں کہ ایک شکوے کے دفع میں "طوطینامہ" برابر ایک رسالہ لکھو گے اور ہزار وجہیں موجہ بیان کرو گے۔ میں اِس تصور کا مزا اوٹھا رہا ہوں کہ دیکھوں کیا لکھتے ہو۔ دادی صاحبہ سے لکھوانا، پھوپی صاحبہ سے لکھوانا، غالب سے لکھوانا؛ بعدِ حصولِ اِجازت نہ آنا۔ اِس کے بھی کچھ معنی ہیں یا نہیں؟ اچھا میرا میاں، کچھ اِس باب میں لکھ۔ چپڑی اور دو دو، ایک مندیل اور ایک سیلا، یا کوئی اور چیز مبارک؟
بچوں کو میری دعا کہنا اور اون کی خیروعافیت لکھنا۔ اُستاد میر جان صاحب کو سلام۔ مزا تو جب ملے گا کہ تم دلّی آؤ اور اپنی زبان سے لاہور کے ہنگامۂ انجمن کا حال بیان کرو۔
چہارشنبہ، ۲ نومبر سنہ ۱۸۶۴ع۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۱
جمعہ، نہم رجب و دسمبر۔
میری جان،
تمھارا خط بھی آیا اور علی حسین خاں نجمالدین بھی تشریف لایا۔ اگر سر نوشتِ آسمانی میں بھی اواخرِ رجب یا اوائلِ شعبان میں ہمارا تمھارا مل بیٹھنا مندرج ہے، تو زبانی کہہ سن لیں گے۔ قلم کو اِن اسرار کی محرمیت نہیں ہے۔ جو شخص اپنے ملک و مال و جان و تن و ننگ و نام کے اُمور میں آشفتہ و سرگرداں، بلکہ عاجز و حیراں ہو، دوسرے کو اوس سے کیا گلہ؟ ہاے نظیری:
"با ما جفا و ناخوشی، با خود غرور و سرکشیاز ما نۂ، از خود نۂ، آخر از آنِ کیستی؟"
محلِ عقل و ہوش دماغ، سو تباہ؛ افیون کا مخمر ہو جانا علاوہ۔ اللّٰہ جو چاہے سو کرے۔ ایسا پیارا باغ و بہار بھائی یوں بگڑ جائے!
[۱۲۸۱ھ، م ۱۸۶۴ع]
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۲
لو صاحب،
وہ مرزا رجب بیگ مرے، اون کی تعزیت آپ نے نہ کی۔ شعبان بیگ پیدا ہو گئے۔ کل اون کی چھٹّی ہو گئی، آپ شریک نہ ہوئے۔
اے واے ز محرومی دیدار، دگر ہیچ!
میاں، خدا جانے کس طرح یہ چار سطریں تجھ کو لکھی ہیں۔ شہابالدین خاں کی بیماری نے میری زیست کا مزا کھو دیا۔ میں کہتا ہوں کہ اِس کے عوض، میں مر جاؤں۔ اللّٰہ اِس کو جیتا رکھے، اِس کا داغ مجھ کو نہ دکھائے۔ یارب، اِس کو صحت [دے]؛ یارب، اِس کی عمر بڑھا دے۔ تین بچے؛ ایک اب پیدا ہونے والا ہے۔ یارب، اِس کو اِس کی اولاد کے سر پر سلامت رکھ۔
[۶ جنوری ۱۸۶۵ع]
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۳
میری جان،
ناسازیِ روزگار و بے ربطی اطوار، و بہ طریق داغ بالاے داغ، آرزوے دیدار۔ وہ دو آتشِ شرارہبار اور یہ ایک دریاے ناپیداکنار۔ و قنا ربنا عذاب النار۔ خدا نے بھائی ضیاءالدین خاں کے بڑھاپے پہ اور میری بیکسی پر رحم فرمایا۔ میرا شہابالدین خاں بچ گیا۔ امراضِ مختلفہ میں گھر گیا تھا: بواسیر خونی، زحیر، تپ، صُداع؛ بارے، اب مِن کلّ الوجوہ صحت حاصل ہے۔ ضعف جاتے ہی جائے گا۔ آگے کون سے قوی تھے کہ اب اون کو ضعیف کہا جائے؟ ایک بڈھا کسی گلی میں جاتے جاتے ٹھوکر کھا کر گر پڑا۔ کہنے لگا: ہاے، بڑھاپا! اِدھر اودھر دیکھا۔ جب جانا کہ کوئی نہیں ہے، کہتا ہوا بڑھا کہ جوانی میں کیا پتھر پڑتے تھے۔ والسلام۔
[جنوری ۱۸۶۵ع]۔
غالبِ مستہام۔
خط ۴۴
صبحِ دوشنبہ، شانزدہم از مہِ صیام۔
میری جان،
نئے مہمان کا قدم تم پر مبارک ہو۔ اللّٰہ تعالیٰ تمھاری اور اوس کی اور اوس کے بھائیوں کی عمر و دولت میں برکت دے۔ تمھاری طرز تحریر سے صاف نہیں معلوم ہوتا کہ سعید ہے یا سعیدہ ہے۔ "ثاقب" اوس کو عزیز اور "غالب" عزیزہ جانتا ہے۔ واضح لکھو، تا اِحتمال رفع ہو۔ خط "ثاقب" کے نام کا؛ توبہ توبہ، خط کاہے کو، ایک تختہ کاغذ کا۔ میں نے سراسر پڑھا، لطیفہ و بذلہ و شوخی و شوخچشمی کا بیان جب کرتا کہ فحواے عبارت سے جگر خون نہ ہو جاتا۔ بھائی کا غم جدا؛ ایسا سخنگزار، ایسا زبانآور، ایسا عیّارِ طرار، یوں عاجز و درماندہ و ازکاررفتہ ہوجائے! تمھارا غم جدا، ساغر اول و دُرد! کیا دل لےکر آئے، کیا زبان لےکر آئے، کیا علم لےکر آئے، کیا عقل لےکر آئے! اور پھر کسی روش کو برت نہ سکے، کسی شیوے کی داد نہ پائی۔ گویا "نظیری" تمھاری زبان سے کہتا ہے:
"جوہرِ بینشِ من در تہِ زنگار بماندآنکہ آئینۂ من ساخت نہ پرداخت، دریغ!"
بھائی، اِس معرض میں میں بھی تیرا ہمطالع اور ہمدرد ہوں۔ اگرچہ یکفنہ ہوں، مگر مجھے اپنے ایمان کی قسم، میں نے اپنی نظم و نثر کی داد بہ اندازۂ بایست پائی نہیں۔ آپ ہی کہا، آپ ہی سمجھا۔ قلندری و آزادگی و ایثار و کرم کے جو دواعی میرے خالق نے مجھ میں بھر دیے ہیں، بہ قدرِ ہزار ایک، ظہور میں نہ آئے؛ نہ وہ طاقتِ جسمانی کہ ایک لاٹھی ہات میں لوں اور اوس میں شطرنجی اور ایک ٹین کا لوٹا مع سوت کی رسّی کے لٹکا لوں اور پیادہپا چل دوں: کبھی شیراز جا نکلا، کبھی مصر میں جا ٹھہرا، کبھی نجف جا پہنچا۔ نہ وہ دستگاہ کہ ایک عالم کا میزبان بن جاؤں۔ اگر تمام عالم میں نہ ہوسکے، نہ سہی؛ جس شہر میں رہوں اوس شہر میں تو بھوکا ننگا نظر نہ آؤں:
نہ بستاںسرائے، نہ میخانۂ،نہ دستاںسرائے، نہ جانانۂ،
نہ رقصِ پریپیکراں بر بساط،نہ غوغاے رامشگراں در رباط؛
خدا کا مقہور، خلق کا مردود، بوڑھا، ناتواں، بیمار، فقیر، نکبت میں گرفتار۔ تمھارے حال میں غور کی اور چاہا کہ اِس کا نظیر بہم پہنچاؤں۔ واقعۂ کربلا سے نسبت نہیں دے سکتا؛ لیکن، واللّٰہ، تمھارا حال اوس ریگستان میں بعینہ ایسا ہے جیسا مسلم اِبن عقیل کا حال کوفے میں تھا۔ تمھارا خالق تمھاری اور تمھارے بچوں کی جان و آبرو کا نگہبان۔ میرے اور معاملاتِ کلام و کمال سے قطع نظر کرو؛ وہ جو کسی کو بھیک مانگتے نہ دیکھ سکے اور خود در بدر بھیک مانگے، وہ میں ہوں۔
خط ۴۵
پنجشنبہ، ۲۶ رمضان۔
صاحب،
کل تمھارا خط پہنچا۔ آج اوس کا جواب لکھ کر روانا کرتا ہوں۔ رجب بیگ، شعبان بیگ، رمضان بیگ؛ یہ نامور مہینے ہیں، سو خالی گئے۔ شوال بیگ آدمی کا نام نہیں سنا؛ ہاں، عیدی بیگ ہو سکتا ہے۔ پس جب عید ہے اور روز سعید ہے تو کیا بعید ہے کہ بخلاف شہورِ ثُلثۂ ماضیہ اِس مہینے میں تم آ سکو؟ ہے ہے، میں تو کہتا ہوں، نہ آ سکو۔ اِس ماہ مبارک میں اِمضاے حکمِ سرکار کا وہ ہنگامہ گرم ہو کہ پارسیوں کی عید "کوسہ برنشین" کا گمان گزرے۔ دور کیوں جاؤ؟ ہولی کی ڈھلینڈی کا سماں لوہارو میں بندھ جائے۔ ایک خرسوار کی سواری بڑی دھوم سے نکلے۔ حُسنِ اِتفاق یہ کہ یہ وہی موسم ہے، ہولی اور عید "کوسہ برنشین" کا زمانہ باہم ہے۔ حُوت کے آفتاب میں یہ دونوں تہوار ہوتے ہیں۔ کل آفتاب حُوت میں آیا ہے، "کوسہ برنشین" اور ہولی کا مژدہ لایا ہے۔ خیر، میں چند روز اور ستمکشِ فراق اور تیرے دیدار کا مشتاق رہوں۔ تو "کوسہ برنشین" اور ہولی کی رنگ رلیاں منا لے اور خرسوار کو بہ ضربِ تازیانہ دوڑا لے۔
علاءالدین خاں، واللّٰہ تو میرا فرزندِ روحانیِ معنوی ہے؛ فرق اِسی قدر ہے کہ میں جاہل ہوں اور تو مولوی ہے۔ ارے ظالم! اِس "کوسہ برنشین" کی داد دے۔ عقل کرامت ہے، اِلہام ہے، لطفِ طبع ہے، کیا ہے؟ یہ اِسم کس قدر مناسبِ مقام ہے!
صبیہ کا مقدم تم پر مبارک ہو۔ "ثاقب" مجھ سے لڑتا تھا کہ بھتیجا ہے۔ میں کہتا تھا کہ پوتی ہے۔ بارے، میں جیتا اور "ثاقب" ہارا۔ عریضۂ جداگانہ اُستاد میر جان صاحب کے نام پہنچتا ہے۔
خط ۴۶
یکشنبہ، یکم اکتوبر سنہ ۱۸۶۵ع۔
شکرِ ایزد کہ ترا با پدرت صلح فتادحوریاں رقصکناں ساغرِ شکرانہ زدند
قدسیاں بہرِ دعاے تو و والا پدرتقرعۂ فال بنامِ منِ دیوانہ زدند
میاں،
تم جانتے ہو کہ میں عازم رامپور تھا۔ اسباب مساعد ہوگئے۔ بہ شرطِ حیات جمعے کو روانا ہوں گا۔ لڑکے بالوں کی خیر و عافیت علی حسین خاں کی تحریر سے معلوم ہوتی رہتی ہے۔ میرا لکھنا زائد ہے۔ ایک بار میں صاحب کمشنر کی عیادت کو گیا تھا۔ فرخ مرزا بھی میرے ساتھ گیا تھا۔ مزاج کی خبر پوچھ آیا۔ بھائی صاحب کو میرا سلام کہنا۔
راقم: غالب علی شاہ۔
خط ۴۷
جانا، عالیشانا،
خط پہنچا؛ حظ اوٹھا۔ تمھاری آشفتہحالی میں ہرگز شک نہیں: تم کہیں، قبائل کہیں، والیِ شہر ناسازگار، انجامکار ناپدیدار، ایک دل اور سو آزار؛ اللّٰہ تمھارا یاور، علی تمھارا مددگار۔ میں پا در رکاب، بلکہ نعل در آتش۔ کب جاؤں اور "فرخ سیر" کو دیکھوں! ایک خط میں نے علی حسین خاں کو لکھا۔ وہاں سے اوس کا جواب آ گیا۔ روہیلا پھوڑے پھنسی میں مبتلا ہے، خدا اوس کو صحت دے۔ شمشاد علی بیگ کہاں آور پہنچا اور اِس طرح گیا کہ شہابالدین خاں سے بھی مل کر نہ گیا۔ خیر،
رموزِ مصلحت خویش خسرواں دانند۔
یہاں جشن کے وہ سامان ہو رہے ہیں کہ جمشید اگر دیکھتا تو حیران رہ جاتا۔ شہر سے دو کوس پر آغاپور نامی ایک بستی ہے۔ آٹھ دس دن سے وہاں خیام برپا تھے۔ پرسوں صاحب کمشنر بہادر بریلی مع چند صاحبوں اور میموں کے آئے اور خیموں میں اوترے۔ کچھ کم سو صاحب اور میم جمع ہوئے، سب سرکارِ رامپور کے مہمان۔ کل، سہشنبہ ۵ دسمبر، حضورِ پرنور بڑے تجمل سے آغاپور تشریف لے گئے۔ بارہ پر دو بجے گئے اور شام کو پانچ بجے خلعت پہن کر آئے۔ وزیر علی خاں خانساماں خواصی میں سے روپئے پھینکتا ہوا آتا تھا۔ دو کوس کے عرصے میں دو ہزار روپئے سے کم نہ نثار ہوا ہوگا۔ آج صاحبان عالیشان کی دعوت ہے۔ تیِن، شام کا کھانا، یہیں کھائیں گے۔ روشنی، آتشبازی کی وہ اِفراط کہ رات، دن کا سامنا کرے گی۔ طوائف کا وہ ہجوم، حکام کا وہ مجمع کہ اِس مجلس کو طوائف الملوک کہا چاہیے۔ کوئی کہتا ہے کہ صاحب کمشنر بہادر مع صاحبانِ عالیشان کے کل جائیں گے، کوئی کہتا ہے پرسوں۔ رئیس کی تصویر کھینچتا ہوں: قد، رنگ، شکل، شمائل، بعینہ بھائی ضیاءالدین خاں۔ عمر کا فرق، اور کچھ کچھ چہرہ اور لحیہ متفاوت۔ حلیم و خلیق، باذل، کریم، متواضع، متشرع، متورع۔ شعر فہم، سینکڑوں شعر یاد۔ نظم کی طرف توجہ نہیں۔ نثر لکھتے ہیں اور خوب لکھتے ہیں۔ جلالاے طباطبائی کی طرز برتتے ہیں۔ شگفتہ جبیں ایسے کہ اون کے دیکھنے سے غم کوسوں بھاگ جائے۔ فصیح بیان ایسے کہ اون کی تقریر سن کر ایک اور نئی روح قالب میں آئے۔ اللہم دام اِقبالہ و زاد اِجلالہ۔ بعدِ اِختتام محافل طالب رخصت ہوں گا۔ بعدِ حصولِ رخصت دلّی جاؤں گا۔
بھائی صاحب کی خدمت میں بہ شرطِ رسائی و تاب گویائی سلام کہنا اور بچوں کی خیر و عافیت، جو تم کو معلوم ہوئی ہے، وہ مجھ کو لکھنا۔
۶ دسمبر سنہ ۱۸۶۵ع کی، بدھ کا دن، صبح کے آٹھ بجا چاہتے ہیں۔
کاتب کا نام غالب ہے کہ تم جانتے ہوگے۔
خط ۴۸
جمعہ، ۲۲ دسمبر سنہ ۱۸۶۵ع، بارہ پر دو بجے تین کا عمل۔
مرزا،
روبرو بہ از پہلو؛ آؤ، میرے سامنے بیٹھو۔ آج صبح کے سات بجے باقر علی خاں اور حسین علی خاں ۱۴ مرغ، ۶ بڑے اور ۸ چھوٹے، [لے]کے دلّی کو روانا ہوئے۔ دو آدمی میرے اون کے ساتھ گئے۔ کلو اور لڑکا، نیاز علی، یعنی ڈیڑھ آدمی میرے پاس ہیں۔ نواب صاحب نے وقت رخصت ایک ایک دوشالا مرحمت کیا۔ مرزا نعیم بیگ اِبن مرزا کریم بیگ دو ہفتے سے یہاں وارد اور اپنی بہن کے یہاں ساکن ہیں۔ کہتے ہیں کہ تیرے ساتھ دلّی چلوں گا اور وہاں سے لوہارو جاؤں گا۔ میرے چلنے کا حال یہ ہے کہ اِن شاء اللّٰہ تعالیٰ اِسی ہفتے میں چلوں گا۔
آپ چال چوکے، اُردو لکھتے لکھتے جو خط کہ مشتمل ایک مطلب پر تھا، اوس کو تم نے فارسی میں لکھا، اور فارسی بھی متصدیانہ نہیں کہ امیر کو اور اپنے بزرگ کو کبھی بہ صیغۂ مفرد نہ لکھیں۔ یہ وہی چھوٹی "ہے" بڑی "حے" کا قصہ ہے۔ خیر، خط نہ دکھاؤں گا، ما کُتِب فیہ کہہ کر کام نکال لوں گا۔ میں نے تو چلتے وقت "فرخ سیر" کے اتالیق کی زبانی بھائی کو کہلا بھیجا تھا کہ تم اگر کوئی اپنا مدعا کہو تو میں اوس کی درستی کرتا لاؤں۔ جواب آیا کہ اور کچھ مدعا نہیں؛ صرف مکان کا مقدمہ ہے، سو اوس مقدمے میں میرا اور میرے شرکا کا وکیل وہاں موجود ہے۔ اگر وہ اِس امر کا ذکر کرتے، تو میں اون سے اون کے خالو علی اصغر خاں کے نام عرضی یا خط لکھواتا لاتا۔ بہر حال، اب بھی قاصر نہ رہوں گا۔
تاریخ اوپر لکھ آیا۔ نام اپنا بدل کر "مغلوب" رکھ لیا ہے۔
خط ۴۹
صاحب،
تمھارا خط پہنچا۔ مطالب دل نشین ہوئے۔ غوغاے خلق سے مجھ کو غرض نہیں۔ کیا اچھی رباعی ہے کسی کی:
مومن بخیالِ خویش مستم داند،
کافر بگمان خدا پرستم داند۔
مُردم ز غلط فہمیِ مردم، مُردم:
اے کاش کسے، ہر آنچہ ہستم، داند۔
بھائیوں سے پھر نہیں ملا۔ بازار میں نکلتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔ جواہر، خبردار، میرا سلام اخوین کو اور اون کا سلام مجھ کو پہنچا دیتا ہے۔ اِسی کو غنیمت جانتا ہوں؛
تاب لائے ہی بنے گی "غالب"واقعہ سخت ہے اور جان عزیز۔
ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پہ دم نکلےبہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔
یہ مقطع اور مطلع مندرجۂ "دیوان" ہے۔ مگر اِس وقت یہ دونوں شعر حسبِ حال نظر آئے، اِس واسطے لکھ دیے گئے۔ تم نے اشعار جدید مانگے۔ خاطر تمھاری عزیز؛ ایک مطلع، صرف دو مصرعے آگے کے کہے ہوئے، یاد آ گئے کہ وہ داخل "دیوان" بھی نہیں۔ اون پر فکر کر کے، ایک مطلع اور پانچ شعر لکھ کر، سات بیت کی ایک غزل تم کو بھیجتا ہوں۔ بھائی، کیا کہوں کہ کس مصیبت سے یہ چھ بیتیں ہات آئی ہیں اور وہ بھی بلندرتبہ نہیں:
بہت سہی غم گیتی، شراب کم کیا ہے؟غلامِ ساقیِ کوثر ہوں، مجھ کو غم کیا ہے؟
مطلع ثانی:
رقیب پر ہے اگر لطف، تو ستم کیا ہے؟تمھاری طرز و روش جانتے ہیں ہم کیا ہے؟
کٹے تو شب کہیں، کاٹے تو سانپ کہلائے؛کوئی بتاؤ کہ وہ زلف خم بخم کیا ہے؟
لکھا کرے کوئی احکام طالع مولود؛کسے خبر کہ وہاں جنبشِ قلم کیا ہے؟
نہ حشر و نشر کا قائل، نہ کیش و ملت کا؛خدا کے واسطے، ایسے کی پھر قسم کیا ہے؟
وہ داد و دید گراںمایہ شرط ہے ہمدم،و گرنہ مہر سلیمان و جام جم کیا ہے؟
سخن میں خامۂ "غالب" کی آتشافشانییقیں ہے ہم کو بھی، لیکن اب اوس میں دم کیا ہے؟
لو صاحب، تمھارا فرمانِ قضاتواماں بجا لایا۔ مگر اِس غزل کا مسودہ میرے پاس نہیں ہے۔ اگر بہ اِحتیاط رکھو گے اور اُردو کے دیوان کے حاشیے پر چڑھا دو گے، تو اچھا کرو گے۔ عمر فراواں و دولت فزوں باد۔ فقط۔
خط ۵۰
جانا جانا،
ایک خط میرا، تمھارے دو خطوں کے جواب میں، تم کو پہنچا ہوگا۔ آج میں علی اصغر خاں بہادر کے گھر گیا۔ اون سے میں نے تذکرہ کیا۔ فرمایا کہ "فرخ سیر" کی ماں کو لکھ بھیجو کہ سال بھر کی تنخواہ کی رسید بھیج دیں؛ یہاں سے روپیہ بھیج دیا جائے گا۔ آج منگل ہے، ۷ شعبان کی اور ۲۶ دسمبر کی۔ دونوں بھتیجے تمھارے جمعے کے دن، ۲۲ دسمبر کو، روانۂ دہلی ہوئے۔ میں پرسوں، یوم الخمیس کو، مرحلہپیما ہوں گا۔
اولِ ما آخرِ ہر منتہی؛ در اِکرام و عزتآخرِ ما جیبِ تمنا تہی؛ از مال و دولت
تو "کمان کروھہ" کہا کر، فارسی بھگارا کر۔ مجھ سے ہندی کی چندی سن: ایک غلیل حضور نے دینی کی ہے، ایک علی اصغر خاں سے اُمیٹھی۔ دونوں کل آئیں گی۔ مرزا نعیم بیگ اِبن مرزا کریم بیگ دو تین ہفتے سے یہاں وارد اور اپنی بہن کے ہاں ساکن ہیں۔ زاد کی خدا نے چٹھی فقیر پر کی، راحلہ وہ جانیں۔ فقط۔
[۱۲۸۲ھ، م ۱۸۶۵ع]۔
غالب۔
خط ۵۱
میاں،
چلتے وقت تمھارے چچا نے غلیل کی فرمایش کی تھی۔ رامپور پہنچ کر وہ بے سعی و بے تلاش ہات آ گئی، بنوا رکھی۔ لڑکوں نے، ملازموں نے، سب نے مجھ سے سن لیا کہ یہ نواب ضیاءالدین خاں کے واسطے ہے۔ اب چلنے سے ایک ہفتہ پہلے تم نے غلیل مانگی۔ بھائی، کیا بتاؤں کہ کتنی جستجو کی، کہیں بہم نہ پہنچی۔ دس روپئے تک مول کو نہ ملی۔ نواب صاحب سے مانگی۔ توشہخانے میں بھی نہ تھی۔ ایک امیر کے ہاں پتا لگا۔ دوڑا ہوا گیا۔ کھپچی موجود پائی۔ لیکن کیا کھپچی؟ جیسے نجف خاں کے عہد کے تورانیوں میں، ہماری تمھاری ہڈی۔ بنوانے کی فرصت کہاں؟ آج لی، کل چل دیا۔ اِس بانس کی قدر کرنا اور اِس کو اچھی طرح بنوا لینا۔
بادشاہ "فرخ سیر" اور اوس کے اِخوان خوش و خرم ہیں۔ فرخ سیر کی ماں نے باجرے کا حلوا سوہن کھلایا۔
۲۵ شعبان، ۱۳ جنوری
[۱۲۸۲ھ، م ۱۸۶۶ع]۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۵۲
سعادت و اِقبال نشان، مرزا علاءالدین خاں بہادر کو فقیر اسد اللّٰہ کی دعا پہنچے۔
کل شام کو مخدوم مکرم جناب آغا محمد حسین صاحب شیرازی بہ سواری ریل مانند دولتِ دلخواہ، کہ ناگاہ آوے، فقیر کے تکیے میں تشریف لائے۔ شب کو جناب ڈپٹی ولایت حسین خاں کے مکان میں آرام فرمایا۔ اب وہاں آتے ہیں۔ قریبِ طلوعِ آفتاب بہ چشم نیمباز یہ رقعہ تمھارے نام لکھا ہے۔ جو کچھ جی چاہتا ہے، وہ مفصل نہیں لکھ سکتا۔ مختصرِ مفید، آغا صاحب کو دیکھ کر یوں سمجھنا کہ میرا بوڑھا چچا "غالب" جوان ہو کر میلے کی سیر کو حاضر ہوا ہے۔ پس نورچشماں راحت جان مرزا باقر علی خاں بہادر و مرزا حسین علی خاں بہادر جناب آغا صاحب کا قدمبوس بجا لائیں اور اون کی خدمتگزاری کو اپنی سعادت اور میری خشنودی سمجھیں، بس۔
ہاں، مرزا علائی، اگر کرنیل الکزنڈر اسکنر بہادر سے ملاقات ہو تو میرا سلام کہنا۔
خط ۵۳
میاں،
مدعا اصلی اِن سطور کی تحریر سے یہ ہے کہ اگر کل کمیٹی میں گئے ہو، تو میرے سوال کے پڑھے جانے کا حال لکھو۔ ضمناً ذکر ایک مدبر کا لکھا جاتا ہے۔ جو تم نے اِس مدبر کے صفات لکھے سب سچ ہیں: احمق، خبیث النفس، حاسد، طبیعت بری، سمجھ بری، قسمت بری۔ ایک بار میں نے دکنی کی دشمنی میں گالیاں کھائیں؛ ایک بار بنارسی کی دوستی میں گالیاں کھاؤں گا۔ میں نے جو تمھیں اِس کے باب میں لکھا تھا وجہ اوس کی یہ تھی کہ میں نے سنا تھا کہ تم نے اپنے سائیسوں سے کہہ دیا ہے یا کہا چاہتے ہو کہ اِس کو بازار میں بےحرمت کریں۔ یہ بات خلاف شیوۂ مومنین ہے۔ خلاصہ یہ کہ یہ قصد نہ کرنا۔ یہ موید اوس قول کا ہے جو میں نے تم سے پہلے کہا تھا کہ تم یوں تصور کرو کہ اِس نام کا آدمی اِس محلے میں، بلکہ اِس شہر میں، کوئی نہیں۔
غالب۔
خط ۵۴
صاحب،
بہت دن سے تمھارا خط نہیں آیا۔ آپ کا وکیل بڑا چربزبان ہے۔ مقدمہ اوس نے جیت لیا۔ چنانچہ اوس کی تحریر سے تم کو معلوم ہوا ہوگا۔
سنتا ہوں کہ حمزہ خاں کو اِن دنوں علّتِ مشائخ کا زور ہے اور "سعدی" کی اِس بیت پر عمل کرتے ہیں:
کسانیکہ یزداںپرستی کنندبہ آواز دولاب مستی کنند
خدا مبارک کرے۔
خط ۵۵
میاں،
تمھارے باپ کا تابع، تمھارا مطیع، فرخ مرزا کا فرماں بردار۔ مگر ابھی اوٹھا ہوں۔ اپنے کو بھی نہیں سمجھا کہ میں کون ہوں۔ آج فرخ صاحب کے نام کا رقعہ پہنچ جائے گا۔ چھ جزو تمھارے دیے ہوئے میر مہدی حسین صاحب کو دیے اور باقی، دن چڑھے اعیانِ مطبع جمع ہو لیں، تو وہ اوراق بھی منگا دوں۔
غالب۔
خط ۵۶
اِقبال نشان والا شان، صد رہ عزیزتر از جان، مرزا علاءالدین خان کو دعاے درویشانۂ غالبِ دیوانہ پہنچے۔
سالِ نگارش تم کو یاد ہوگا۔ میں نے دبستان فارسی کا تم کو جانشین و خلیفہ قرار دے کر ایک سجل لکھ دیا ہے۔ اب جو چار کم اسّی برس کی عمر ہوئی اور جانا کہ میری زندگی برسوں کیا بلکہ مہینوں کی نہ رہی — شاید بارہ مہینے، جس کو ایک برس کہتے ہیں، اور جیوں؛ ورنہ دو چار مہینے، پانچ سات ہفتے، دس بیس دن، کی بات رہ گئی ہے — اپنے ثباتِ حواس میں، اپنے دستخط سے، یہ توقیع تم کو لکھ دیتا ہوں کہ فنّ اُردو میں نظماً و نثراً تم میرے جانشین ہو۔ چاہیے کہ میرے جاننے والے جیسا مجھ کو جانتے تھے، ویسا تم کو جانیں اور جس طرح مجھ کو مانتے تھے، تم کو مانیں۔ کُلُّ شیءٍ ہالکٌ اِلّا وجہہ و یَبقیٰ وجہ ربک ذوالجلالِ و الاِکرام۔
یکشنبہ، سلخ صفر سنہ ۱۲۸۵ ہجری، ۲۱ جون سنہ ۱۸۶۸ع۔ دہلی۔
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.