
الفصل 6 من 9
To Mir Mehdi Majrooh: Letters 27–50
میر مہدی مجروح کے نام: خط ۲۷ تا ۵۰
خط ۲۷
جان غالب،
اب کے ایسا بیمار ہوگیا تھا کہ مجھ کو خود افسوس تھا۔ پانچویں دن غذا کھائی؛ اب اچھا ہوں، تندرست ہوں۔ ذیالحجہ سنہ ۱۲۷۶ تک کچھ کھٹکا نہیں ہے۔ محرم کی پہلی تاریخ سے اللّٰہ مالک ہے۔ میر نصیرالدین آئے کئی بار، مگر میں نے اون کو دیکھا نہیں۔ اب کے بار درد میں مجھ کو غفلت بہت رہی؛ اکثر احباب کے آنے کی خبر نہیں ہوئی۔ جب سے اچھا ہوا ہوں سید صاحب نہیں آئے۔
تمہاری آنکھوں کے غبار کی وجہ یہ ہے کہ جو مکان دلی میں ڈھائے گئے اور جہاں جہاں سڑکیں نکلیں، جتنی گرد اوڑی اوس کو آپ نے از راہ محبت اپنی آنکھوں میں جگہ دی۔ بہر حال، اچھے ہو جاؤ اور جلد آؤ۔ ”مجتہدالعصر“ میر سرفراز حسین کا خط آیا تھا۔ میں نے میرن صاحب کی آزردگی کے خوف سے اوس کا جواب نہیں لکھا۔ یہ رقعہ اون دونوں صاحبوں کو پڑھا دینا تاکہ میر سرفراز حسین صاحب اپنے خط کی رسید سے مطلع ہو جائیں اور میرن صاحب میرے پاس اُلفت پر اِطلاع پائیں۔
چہار شنبہ، ۶ جون سنہ ۱۸۶۰ع۔
خط ۲۸
میاں،
تمہارے خط کا جواب منحصر تین باتوں پر ہے۔ دو کا جواب لکھتا ہوں؛ تیسری بات کا جواب تم بتاؤ کہ تمہیں کیا لکھوں؟ پہلی بات: میاں محمد افضل تصویر لے گئے۔ اب وہ تصویر کھینچا کریں اور تم اِنتظار۔ دوسری بات: میر نصیرالدین آئے اور اِن تینوں صاحبوں کا جیند کے جانے کا حال مفصل معلوم ہوا۔ حق تعالیٰ اپنے بندوں پر رحم فرمائے۔ تیسری بات: میرن صاحب کو، جب تک تم نہ کہو، میں دلی نہ بلاؤں۔ گویا اون کے عاشق تمہیں ہو، میں نہیں۔ بھائی، ہوش میں آؤ، غور کرو۔ یہ مقدور مجھ میں نہیں کہ اون کو یہاں بلا کر ایک الگ مکان رہنے کو دوں؛ اور اگر زیادہ نہ ہو، تو تیس روپیہ مہینا مقرر کروں کہ بھائی یہ لو اور دریبہ اور چاوڑی اور اجمیری دروازے کا بازار اور لاہوری دروازے کا بازار ناپتے پھرو اور اُردو بازار اور خاص بازار اور بلاقی بیگم کا کوچہ اور خان دوران خاں کی حویلی کے کھنڈر گنتے پھرو۔ اے میر مہدی، تو در ماندہ و عاجز پانیپت میں پڑا رہے، میرن صاحب وہاں پڑے ہوئے دلّی دیکھنے کو ترسا کریں؛ سرفراز حسین نوکری ڈھونڈھتا پھرے؛ اور میں اِن غمہاے جانگداز کی تاب لاؤں۔ مقدور ہوتا تو دکھا دیتا کہ میں نے کیا کیا۔
اے بسا آرزو، کہ خاک شدہ!
اللّٰہ! اللّٰہ! اللّٰہ!
سہ شنبہ، ۴ جمادیالثانی، ۱۸ دسمبر [۱۲۷۷ھ م ۱۸۶۰ع]
خط ۲۹
میاں،
تمہاری تحریر کا جواب یہ ہے کہ وہ تصویر جو میں نے میاں محمد افضل کو دی تھی وہ اونھوں نے واپس دی اور اوس کی نقل کے باب میں یہ کہا کہ ابھی تیار نہیں ہے۔ جب وہ تیار ہو جائے گی میں اون کو روپیہ دے کر لے لوں گا۔ خاطر جمع رکھو۔
پنسن سراسر سب کو ششماہی ملنے کا حکم ہو گیا۔ ہر مہینے میں سودی لو اور کھاؤ۔ کشمیری کٹرا بگڑ گیا۔ ہاے! وہ اونچے اونچے در، اور وہ بڑی بڑی کوٹھریاں دورویہ، نظر نہیں آتیں کہ کیا ہوئیں۔ آہنی سڑک کا آنا اور اوس کے رہگذر کا صاف ہونا ہنوز ملتوی ہے۔ چار دن سے پروا ہوا چلتی ہے۔ ابر آتے ہیں مگر صرف چھڑکاو ہوتا ہے؛ مینھ نہیں برستا۔ گیہوں، چنا، باجرا، تینوں اناج ایک بھاو ہیں: نو سیر، ساڑھے نو سیر۔
میر سرفراز حسین اور میرن صاحب کو میں اچھی طرح نہیں سمجھا کہ جیند میں ہیں یا یہاں ہیں۔ میر نصیرالدین دو بار میرے پاس آئے؛ اب مجھ کو نہیں معلوم کہ وہ کہاں ہیں۔ قاسم علی خاں ”قطب الاقطاب“ ایک دن کہتے تھے کہ میر احمد صاحب کے قبائل یہاں آئے ہوئے ہیں۔ آخر وہ شادی بھی کب ہونے والی ہے اور کہاں ہونے والی ہے؟ اِس خط کا جو جواب لکھو، تو سب حالات مفصل لکھو۔
صبح چہار شنبہ، نہم جنوری سنہ ۱۸۶۱ع۔
غالب۔
خط ۳۰
لو صاحب، یہ تماشا دیکھو۔ میں تو تم سے پوچھتا ہوں کہ میر سرفراز حسین اور میر نصیرالدین کہاں ہیں؛ حالانکہ میر نصیرالدین شہر میں ہیں اور مجھ سے نہیں ملتے، میر سرفراز حسین آئے ہیں اور میرے ہاں نہیں اوترے۔ لا حول و لا قوۃ؛ اوترنا کیسا؟ ملنے کو بھی تو نہیں آئے۔ افسوس ہے، جن کو میں اپنا سمجھتا ہوں وہ مجھ کو بیگانہ جانتے ہیں۔ اب تم یہ پوچھو کہ نصیرالدین کا دلی میں ہونا اور ”مجتہد العصر“ کا یہاں آنا تونے کیوں کر جانا۔
بھائی، آج جمعے کا دن، ۲۸ جمادی الثانی کی، اور ۱۱ جنوری کی، صبح کے وقت منھ اندھیرے؛ اوسی وقت میری آنکھ کھلی تھی، لحاف میں لپٹا ہوا پڑا تھا کہ ناگاہ میر نصیرالدین صاحب تشریف لائے اور فرمایا کہ میں اب جاتا ہوں اور میر حسن صاحب بھی جاتے ہیں۔ میں سمجھا میر سرفراز حسین۔ جب بعد تکرار معلوم ہوا، تو میر حسن — جےپور سے آئے اور خدا جانے کہاں اوترے اور اب کہاں جاتے ہیں۔ ہے ہے! مجھے غیر سمجھا یا مرا ہوا سمجھا کہ میرے ہاں نہ آئے اور مجھ سے نہ ملے۔ اپنی سسرال میں رہے اور میکے کو چھوڑا۔ واللّٰہ، میرا جی اون کے دیکھنے کو بہت چاہتا تھا۔ اب اوٹھا ہوں۔ سردی رفع ہو لے، دھوپ نکل لے؛ آغا جان کے ہاں آدمی کو بھیجتا ہوں۔ میں کمبخت یہ بھی تو نہیں جانتا کہ آغا جان کہاں رہتے ہیں۔ اب میر احمد علی کی بیبی پاس، حبش خاں کے پھاٹک، آدمی بھیجوں گا۔ جب آغا جان کے گھر کا پتا معلوم ہو جائے گا اور آدمی دیکھ آئے گا اور یہ بھی معلوم کر آئے گا کہ میر حسن صاحب ہیں، تو میں سوار ہو کر جاؤں گا اور اون سے ملوں گا۔ تم اِس خط کا جواب جلد لکھو اور اپنے چچا کے یہاں آنے کا منشا اور اون کا احوال مفصل لکھو۔
تصویر کا حال آگے لکھ چکا ہوں۔ خاطر جمع رکھو اور ”مجتہد العصر“ اور میرن صاحب کا حال لکھو۔
صبح جمعہ، ۱۱ جنوری سنہ ۱۸۶۱ع۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۱
جانِ غالب،
تمہارا خط پہنچا۔ غزل اِصلاح کے بعد پہنچتی ہے:
”ہر اِک سے پوچھتا ہوں: وہ کہاں ہے؟“
مصرع بدل دینے سے یہ شعر کس رتبے کا ہو گیا!
اے میر مہدی، تجھے شرم نہیں آتی:
”میاں، یہ اہل دہلی کی زباں ہے“۔
ارے! اب اہل دہلی یا ہندو ہیں، یا اہل حرفہ ہیں، یا خاکی ہیں، یا پنجابی ہیں، یا گورے ہیں۔ اِن میں سے تو کس کی زبان کی تعریف کرتا ہے؟ لکھنؤ کی آبادی میں کچھ فرق نہیں آیا، ریاست تو جاتی رہی، باقی ہر فن کے کامل لوگ موجود ہیں۔
خس کی ٹٹی، پروا ہوا، اب کہاں؟ لطف، وہ تو اوسی مکان میں تھا۔ اب میر خیراتی کی حویلی میں وہ جہت اور سمت بدلی ہوئی ہے۔ بہر حال میگزرد۔ مصیبت عظیم یہ ہے کہ قاری کا کنواں بند ہوگیا؛ لال ڈگی کے کنویں یکقلم کھاری ہو گئے۔ خیر، کھاری ہی پانی پیتے؛ گرم پانی نکلتا ہے۔ پرسوں میں سوار ہو کر کنووں کا حال دریافت کرنے گیا تھا۔ مسجدِ جامع ہوتا ہوا راجگھاٹ دروازے کو چلا۔ مسجد جامع سے راجگھاٹ دروازے تک، بےمبالغہ، ایک صحرا لق و دق ہے۔ اینٹوں کے ڈھیر جو پڑے ہیں، وہ اگر اوٹھ جائیں تو ہو کا مکان ہو جائے۔ یاد کرو، مرزا گوہر کے باغیچے کے اِس جانب کو کئی بانس نشیب تھا، اب وہ باغیچے کے صحن کے برابر ہوگیا، یہاں تک کہ راجگھاٹ کا دروازہ بند ہوگیا۔ فصیل کے کنگورے کھلے رہے ہیں، باقی سب اَٹ گیا۔ کشمیری دروازے کا حال تم دیکھ گئے ہو۔ اب آہنی سڑک کے واسطے کلکتہ دروازے سے کابلی دروازے تک میدان ہوگیا۔ پنجابی کٹرا، دھوبی واڑا، رام جی گنج، سعادت خاں کا کٹرا، جرنیل کی بیبی کی حویلی، رام جی داس گودام والے کے مکانات، صاحب رام کا باغ، حویلی؛ اِن میں سے کسی کا پتا نہیں ملتا۔ قصہ مختصر، شہر صحرا ہوگیا تھا؛ اب جو کنویں جاتے رہے اور پانی گوہر نایاب ہوگیا، تو یہ صحرا صحراے کربلا ہو جائے گا۔
اللّٰہ اللّٰہ، دلی نہ رہی اور دلی والے اب تک یہاں کی زبان کو اچھا کہے جاتے ہیں۔ واہ رے حسن اِعتقاد! ارے بندۂ خدا، اُردو بازار نہ رہا؛ اُردو کہاں؟ دلّی، واللّٰہ، اب شہر نہیں ہے؛ کمپ ہے، چھاونی ہے؛ نہ قلعہ، نہ شہر؛ نہ بازار، نہ نہر۔
الور کا حال کچھ اور ہے۔ مجھے اور اِنقلاب سے کیا کام؟ الکزنڈر ہدرلے کا کوئی خط نہیں آیا۔ ظاہرا اون کی مصاحبت نہیں، ورنہ مجھ کو ضرور خط لکھتا رہتا۔
میر سرفراز حسین اور میرن صاحب اور نصیرالدین کو دعا۔
[۱۸۶۱ع]
خط ۳۲
اُو میاں سید زادۂ آزادہ، دلی کے عاشق دلدادہ، ڈھیے ہوئے ”اُردو بازار“ کے رہنے والے، حسد سے لکھنؤ کو برا کہنے والے؛ نہ دل میں مہر و آزرم، نہ آنکھ میں حیا و شرم۔ نظامالدین ”ممنون“ کہاں! ”ذوق“ کہاں! مومن خاں کہاں! ایک ”آزردہ“، سو خاموش؛ دوسرا ”غالب“، وہ بیخود و مدہوش۔ نہ سخنوری رہی، نہ سخندانی؛ کس برتے پر تتّا پانی؟ ہاے دلی! واے دلی! بھاڑ میں جاے دلی!
سنو صاحب، پانیپت کے رئیسوں میں ایک شخص ہیں احمد حسین خاں ولد سردار خاں ولد دلاور خاں اور نانا اوس احمد حسین خاں کے غلام حسین خاں ولد مصاحب خاں۔ اِس شخص کا حال از روے تحقیق مُشرّح اور مفصّل لکھو۔ قوم کیا ہے، معاش کیا ہے، طریق کیا ہے، احمد حسین کی عمر کیا ہے؟ لیاقت ذاتی کا کیا رنگ ہے؟ طبیعت کا کیا ڈھنگ ہے؟ بھائی، خوب چھان کر لکھ اور جلد لکھ۔
پنجشنبہ، ۲۳ مئی سنہ ۱۸۶۱ع۔
خط ۳۳
”اے جناب میرن صاحب، السلام علیکم۔“
”حضرت، آداب۔“
”کہو صاحب، آج اِجازت ہے میر مہدی کے خط کا جواب لکھنے کو؟“
”حضور، میں کیا منع کیا کرتا ہوں؟ میں نے تو یہ عرض کیا تھا کہ اب وہ تندرست ہو گئے ہیں، بخار جاتا رہا ہے، صرف پیچش باقی ہے، وہ بھی رفع ہو جائے گی۔ میں اپنے ہر خط میں آپ کی طرف سے دعا لکھ دیتا ہوں؛ آپ پھر کیوں تکلیف کریں؟“
”نہیں، میرن صاحب، اوس کے خط کو آئے ہوئے بہت دن ہوئے ہیں، وہ خفا ہوا ہوگا، جواب لکھنا ضرور ہے۔“
”حضرت، وہ آپ کے فرزند ہیں، آپ سے خفا کیا ہوں گے؟“
”بھائی، آخر کوئی وجہ تو بتاؤ کہ تم مجھے خط لکھنے سے کیوں باز رکھتے ہو؟“
”سبحان اللّٰہ! اے لو حضرت، آپ تو خط نہیں لکھتے اور مجھے فرماتے ہیں کہ تو باز رکھتا ہے۔“
”اچھا، تم باز نہیں رکھتے؛ مگر یہ تو کہو کہ تم کیوں نہیں چاہتے کہ میں میر مہدی کو خط لکھوں؟“
”کیا عرض کروں؟ سچ تو یہ ہے کہ جب آپ کا خط جاتا اور وہ پڑھا جاتا تو میں سنتا اور حظ اوٹھاتا؛ اب جو میں وہاں نہیں ہوں تو نہیں چاہتا کہ تمہارا خط جاوے۔ میں اب پنجشنبے کو روانا ہوتا ہوں۔ میری روانگی کے تین دن کے بعد آپ خط شوق سے لکھیے گا۔“
”میاں، بیٹھو؛ ہوش کی خبر لو۔ تمہارے جانے نہ جانے سے مجھے کیا علاقہ؟ میں بوڑھا آدمی، بھولا آدمی، تمہاری باتوں میں آ گیا اور آج تک اوسے خط نہیں لکھا۔ لا حول و لا قوۃ۔“
سنو میر مہدی صاحب، میرا کچھ گناہ نہیں۔ میرے خط کا جواب لکھو۔ تپ تو رفع ہو گئی، پیچش کے رفع ہونے کی خبر شتاب لکھو؛ پرہیز کا بھی خیال رکھا کرو۔ یہ بری بات ہے کہ وہاں کچھ کھانے کو ملتا ہی نہیں۔ تمہارا پرہیز اگر ہوگا بھی تو ’عصمتِ بیبی از بے چادری‘ ہوگا۔ حالات یہاں کے مفصل میرن صاحب کی زبانی معلوم ہوں گے۔ دیکھو، بیٹھے ہیں۔ کیا جانوں، حکیم میر اشرف علی میں اور اون میں کچھ کونسل ہو تو رہی ہے۔ پنجشنبہ روانگی کا دن ٹھہرا تو ہے۔ اگر چل نکلیں اور پہنچ جائیں، تو اون سے یہ پوچھیو کہ جناب ملکۂ اِنگلستان کی سالگرہ کی روشنی کی محفل میں تمہاری کیا گت ہوئی تھی۔ اور یہ بھی معلوم کر لیجیو کہ یہ جو فارسی مثل مشہور ہے کہ ”دفتر را گاو خورد“، اِس کے معنے کیا ہیں۔ پوچھیو اور نہ چھوڑیو، جب تک نہ بتائیں۔
اِس وقت پہلے تو آندھی چلی، پھر مینھ آیا؛ اب مینھ برس رہا ہے۔ میں خط لکھ چکا ہوں، سرنامہ لکھ کر رکھ چھوڑوں گا۔ جب ترشح موقوف ہو جائے گا تو کلیان ڈاک کو لے جائے گا۔
میر سرفراز حسین کو دعا پہنچے۔ اللّٰہ اللّٰہ! تم پانیپت کے ”سلطان العلما“ اور ”مجتہد العصر“ بن گئے۔ کہو، وہاں کے لوگ تمہیں ”قبلہ و کعبہ“ کہنے لگے یا نہیں؟ میر نصیرالدین کو دعا کہنا۔
[مئی ۱۸۶۱ع]
خط ۳۴
میاں،
کس حال میں ہو، کس خیال میں ہو؟ کل شام کو میرن صاحب روانہ ہوئے؛ یہاں اون کی سسرال میں قصے کیا کیا نہ ہوئے۔ ساس اور سالیوں نے اور بیبی نے آنسوؤں کے دریا بہا دیے۔ خوشدامن صاحب بلائیں لیتی ہیں، سالیاں کھڑی ہوئی دعائیں دیتی ہیں، بیبی مانند صورت دیوار چپ، جی چاہتا ہے چیخنے کو، مگر ناچار چپ۔ وہ تو غنیمت تھا کہ شہر ویران، نہ کوئی جان نہ پہچان؛ ورنہ ہمسائے میں قیامت برپا ہو جاتی، ہر ایک نیکبخت اپنے گھر سے دوڑی آتی۔ امام ضامن علیہ السلام کا روپیہ بازو پر باندھا، گیارہ روپئے خرچ راہ دیے۔ مگر ایسا جانتا ہوں کہ میرن صاحب اپنے جد کی نیاز کا روپیہ راہ ہی میں اپنے بازو پر سے کھول لیں گے، اور تم سے صرف پانچ روپئے ظاہر کریں گے۔ اب سچ جھوٹ تم پر کھل جائے گا۔ دیکھنا، یہی ہوگا کہ میرن صاحب تم سے بات چھپائیں گے۔ اِس سے بڑھ کر ایک بات اور ہے، اور وہ محل غور ہے: ساس غریب نے بہت سی جلیبیاں اور تودۂ قلاقند ساتھ کر دیا ہے اور میرن صاحب نے اپنے جی میں یہ اِرادہ کر لیا ہے کہ جلیبیاں راہ میں چٹ کریں گے اور قلاقند تمہارے نذر کر کر تم پر اِحسان دھریں گے: ”بھائی میں دلی سے آیا ہوں، قلاقند تمہارے واسطے لایا ہوں“۔ زنہار نہ باور کیجیو، مال مفت سمجھ کر لے لیجیو۔ کون گیا ہے؟ کون لایا ہے؟ کلو، ایاز کے سر پر قرآن رکھو؛ کلیان کے ہات گنگاجلی دو؛ بلکہ میں بھی قسم کھاتا ہوں کہ اِن تینوں میں سے کوئی نہیں لایا۔ واللّٰہ! میرن صاحب نے کسی سے نہیں منگایا۔ اور سنو، مولوی مظہر علی صاحب لاہوری دروازے کے باہر صدر بازار تک اون کے پہنچانے کو گئے۔ رسم مشایعت عمل میں آئی۔ اب کہو بھائی، کون برا اور کون اچھا ہے؟ میرن صاحب کی نازکمزاجیوں نے کھیل بگاڑ رکھا ہے۔ یہ لوگ تو اون پر اپنی جان نثار کرتے ہیں، عورتیں صدقے جاتی ہیں، مرد پیار کرتے ہیں۔
”مجتہد العصر، سلطان العلما“ مولانا سرفراز حسین کو میری دعا کہنا اور کہنا کہ حضرت ہم تم کو دعا کہیں اور تم ہم کو دعا دو۔ میاں، کس قصّے میں پھنسا ہے؟ فقہ پڑھ کر کیا کرے گا؟ طب و نجوم و ہیئت و منطق و فلسفہ پڑھ، جو آدمی بنا چاہے۔ خدا کے بعد نبی اور نبی کے بعد اِمام؛ یہی ہے مذہب حق۔ و السلام والاکرام۔ ”علی، علی“ کیا کرو، اور فارغ البال رہا کرو۔
[مئی ۱۸۶۱ع]
خط ۳۵
جمعہ، ۱۷ محرم، ۲۶ جولائی
سید صاحب،
کل پہر دن رہے تمہارا خط پہنچا؛ یقین ہے کہ اوس وقت یا شام کو میر سرفراز حسین تمہارے پاس پہنچ گئے ہوں۔ حال سفر کا جو کچھ ہے، اون کی زبانی سن لو گے، میں کیا لکھوں؟ میں نے بھی جو کچھ سنا ہے، اونھیں سے سنا ہے۔ اِن کا اِس طرح ناکام پھر آنا میری تمنا اور میرے مقصود کے خلاف ہے، لیکن میرے عقیدے اور میرے تصور کے مطابق ہے۔ میں جانتا تھا کہ وہاں کچھ نہ ہوگا۔ سو روپئے کی زیرباری ناحق ہوئی۔ چونکہ یہ زیرباری میرے بھروسے پر ہوئی، تو مجھے بھی شرمساری ہے۔ میں نے اِس چھیاسٹھ برس میں اِس طرح کی شرمساریاں اور روسیاہیاں بہت اوٹھائی ہیں۔ جہاں ہزار داغ ہیں، ایک ہزار ایک سہی۔ میر سرفراز حسین کی زیرباری سے دل کڑھتا ہے۔
وبا کو کیا پوچھتے ہو؟ قدرانداز قضا کے ترکش میں یہی ایک تیر باقی تھا۔ قتل ایسا عام! لوٹ ایسی سخت! کال ایسا بڑا! وبا کیوں نہ ہو؟ ”لسانالغیب“ نے دس برس پہلے فرمایا ہے:
ہوچکیں ”غالب“ بلائیں سب تمامایک مرگ ناگہانی اور ہے۔
میاں، سنہ ۱۲۷۷ کی بات غلط نہ تھی؛ مگر میں نے وباے عام میں مرنا اپنے لائق نہ سمجھا۔ واقعی، اِس میں میری کسر شان تھی۔ بعد رفع فساد ہوا سمجھ لیا جائے گا۔ ”کلیات اُردو“ کا چھاپا تمام ہوا۔ اغلب کہ اِسی ہفتے میں، غایت اِسی مہینے میں ایک نسخہ بہ سبیل ڈاک تم کو پہنچ جائے گا۔ ”کلیات نظم فارسی“ کے چھاپنے کی بھی تدبیر ہو رہی ہے۔ اگر ڈول بن گیا، تو وہ بھی چھاپا جائے گا۔ ”قاطع برہان“ کے خاتمے میں کچھ فوائد بڑھائے گئے ہیں۔ اگر مقدور مساعدت کرے گا، تو میں بے شرکت غیر اوس کو چھپواؤں گا؛ مگر یہ خیال محال ہے۔ میرے مقدور کی تیاری کا حال ”مجتہد العصر“ کو معلوم ہے۔ واللّٰہ علی کُلِّ شیءٍ قدیر۔ خدا کا بندہ ہوں، علی کا غلام۔ میرا خدا کریم، میرا خاوند سخی۔
علی دارم، چہ غم دارم؟
وبا کی آنچ مدھم ہو گئی ہے۔ ہاں سات دن بڑا زور شور رہا۔ پرسوں خواجہ مرزا، ولد خواجہ امان، مع اپنی بیبی بچوں کے دلّی میں آیا، کل رات کو اوس کا نو برس کا بیٹا ہیضہ کر کے مرگیا۔ اِنا للّٰہ و اِنا اِلیہ راجعون۔
الور میں بھی وبا ہے۔ الکزنڈر ہدرلے مشتہر بہ ”الک صاحب“ مر گیا۔ واقعی، بےتکلف وہ میرا عزیز اور ترقیخواہ اور راج میں اور مجھ میں متوسط تھا؛ اِس جرم میں ماخوذ ہوکر مرا۔ خیر، یہ عالم اسباب ہے۔ اِس کے حالات سے ہم کو کیا؟
[۱۲۷۸ھ، ۱۸۶۱ع]
خط ۳۶
بھائی،
تم سچ کہتے ہو:
بر سر فرزند آدم ہر چہ آید، بگزرد۔
لیکن مجھے افسوس اِس بات کا ہے کہ یہ زیرباری میری تحریر کے بھروسے پر ہوئی اور خلاف میری مرضی کے ہوئی۔ جس طرح سے یہ آئے ہیں، اگرچہ میری طبیعت اور میری خواہش کے منافی ہے؛ لیکن، واللّٰہ، میرے عقیدے اور تصور اور قیاس کے مطابق ہے۔ یعنی میں یہی سمجھا تھا کہ البتہ یوں ہی ہوگا۔
”دیوان اُردو“ چھپ چکا۔ ہاے! لکھنؤ کے چھاپےخانے نے جس کا دیوان چھاپا اوس کو آسمان پر چڑھا دیا؛ حسن خط سے الفاظ کو چمکا دیا۔ دلی پر اور اوس کے پانی پر اور اوس کے چھاپے پر لعنت! صاحب دیوان کو اِس طرح یاد کرنا جیسے کوئی کتے کو آواز دے۔ ہر کاپی دیکھتا رہا ہوں۔ کاپی نگار اور تھا، متوسط جو کاپی میرے پاس لایا کرتا تھا وہ اور تھا۔ اب جو دیوان چھپ چکے، حق التصنیف ایک مجھ کو ملا۔ غور کرتا ہوں تو وہ الفاظ غلط جوں کے توں ہیں؛ یعنی کاپینگار نے نہ بنائے۔ ناچار غلط نامہ لکھا؛ وہ چھپا۔ بہر حال خوش و ناخوش کئی جلدیں مول لوں گا۔ اگر خدا چاہے تو اِسی ہفتے میں تین مجلد اصحاب ثلثہ کے پاس پہنچ جائیں۔ نہ میں خوش ہوا ہوں، نہ تم خوش ہو گے۔ اور یہ جو لکھتے ہو کہ یہاں خریدار ہیں، قیمت لکھ بھیجو۔ میں دلال نہیں، سوداگر نہیں، مہتمم مطبع نہیں۔ مطبع احمدی کے مالک محمد حسین خاں، مہتمم مرزا امّو جان، مطبع شاہدرے میں؛ محمد حسین خاں، دلی شہر، راےمان کے کوچے میں، مصوروں کی حویلی کے پاس؛ قیمت کتاب ”۶ آنے“؛ محصول ڈاک خریدار کے ذمے۔ طالبانِ کتاب کو اِطلاع دو۔ دو، چار، دس، پانچ، جلدیں جس کو منگانی ہوں، محمد حسین خاں کے نام پر دہلی، راے مان کے کوچے، مصوروں کی حویلی کا پتا لکھ کر، خط ڈاک میں بھجوا دو۔ کتاب ڈاک میں پہنچ جائے گی۔ قیمت چاہو نقد، چاہو ٹکٹ اِرسال کرو۔ مجھ کو کیا اور تم کو کیا؟ جو کہے اوس کو یہ جواب دے دو۔
وبا تھی کہاں جو میں لکھوں کہ اب کم ہے یا زیادہ؟ ایک چھیاسٹھ برس کا مرد، ایک چونسٹھ برس کی عورت؛ اِن دونوں میں سے ایک بھی مرتا تو ہم جانتے کہ ہاں، وبا آئی تھی۔ تُف بریں وبا!
پنجشنبہ، ۸ ماہ اگست کی؛ [قمری] مہینے کا حال کچھ معلوم نہیں۔ کل شام کو دو دو مونڈھے رکھ کر کئی آدمی دیکھا کیے، ہلال نظر نہیں آیا۔
[۸ اگست ۱۸۶۱ع]۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۷
ہاں صاحب، تم کیا چاہتے ہو؟ ”مجتہد العصر“ کے مسودے کو اِصلاح دے کر بھیج دیا۔ اب اور کیا لکھوں؟ تم میرے ہمعمر نہیں جو سلام لکھوں، میں فقیر نہیں جو دعا لکھوں۔ تمہارا دماغ چل گیا ہے؛ لفافے کو کریدا کرو، مسودے کے کاغذ کو بار بار دیکھا کرو؛ پاؤگے کیا؟ یعنی تم کو وہ محمد شاہی روشیں پسند ہیں: ”یہاں خیریت ہے۔ وہاں کی عافیت مطلوب ہے۔ خط تمہارا بہت دن کے بعد پہنچا، جی خوش ہوا۔ مسودہ بعد اِصلاح کے بھیجا جاتا ہے۔ برخوردار میر سرفراز حسین کو دینا اور دعا کہنا؛ اور ہاں حکیم میر اشرف علی اور میر افضل علی کو بھی دعا کہنا۔ لازمۂ سعادتمندی یہ ہے کہ ہمیشہ اِسی طرح خط بھیجتے رہو۔“ کیوں؟ سچ کہیو؛ اگلوں کے خطوط کی تحریر کی یہی طرز تھی یا اور؟ ہاے، کیا اچھا شیوہ ہے! جب تک یوں نہ لکھو وہ خط ہی نہیں ہے؛ چاہ بےآب ہے، ابر بےباراں ہے، نخل بےمیوہ ہے، خانۂ بےچراغ ہے، چراغ بےنور ہے۔ ہم جانتے ہیں کہ تم زندہ ہو، تم جانتے ہو کہ ہم زندہ ہیں۔ امر ضروری کو لکھ لیا، زوائد کو اور وقت پر موقوف رکھا؛ اور اگر تمہاری خشنودی اوسی طرح کی نگارش پر منحصر ہے، تو بھائی ساڑھےتین سطریں ویسی بھی میں نے لکھ دیں۔ کیا نماز قضا نہیں پڑھتے، اور وہ مقبول نہیں ہوتی؟ خیر، ہم نے بھی وہ عبارت، جو مسودے کے ساتھ لکھی تھی، اب لکھ بھیجی۔ قصور معاف کرو، خفا نہ ہو۔
میر نصیرالدین ایک بار آئے تھے، پھر نہ آئے۔ نثر فارسی، نئی میں نے کہاں لکھی کہ تمہارے چچا کو یا تم کو بھیج دوں؟ نواب فیض محمد خاں کے بھائی حسن علی خاں مر گئے۔ حامد علی خاں کی ایک لاکھ تیس ہزار کئی سو روپئے کی ڈگری پادشاہ پر ہو گئی۔ کلو داروغہ بیمار ہوگیا تھا، آج اوس نے غسل صحت کیا۔ باقر علی خاں کو مہینے بھر سے تپ آتی ہے۔ حسین علی خاں کے گلے میں دو غدود ہو گئے ہیں۔ شہر چپ چاپ؛ نہ کہیں پھاوڑا بجتا ہے، نہ سرنگ لگا کر کوئی مکان اوڑایا جاتا ہے، نہ آہنی سڑک آتی ہے، نہ کہیں دمدمہ بنتا ہے۔ دلی، شہر خموشاں ہے۔
کاغذ نبڑ گیا ورنہ تمہارے دل کی خوشی کے واسطے ابھی اور لکھتا۔
یکشنبہ، ۲۲ ستمبر [۱۸۶۱ع]
خط ۳۸
پنجشنبہ، ۱۵ ذیقعدہ و مئی [باہم]۔
صاحب،
آج تمہارا خط دو پہر کو آیا۔ اوس میں میں نے مسودہ تاریخ کا پایا، قلمدان میں رکھ لیا۔ خط پڑھ کر میر سرفراز حسین کو بھیج دیا۔ کل وہ کہتے تھے کہ اُنتیس روپئے کو تین گاڑیاں مقرر ہو گئی ہیں، میں کل، یعنی آج شام کو، سوار ہو جاؤں گا۔ اب اِس وقت جو میں یہ خط لکھ رہا ہوں، پہر دن باقی ہے؛ لکھ کر کھلا رکھ چھوڑوں گا۔ شام کو ”مجتہد العصر“ میرے گھر ضرور آئیں گے۔ اگر آج جائیں گے تو واسطے تودیع کے، اور اگر نہ جائیں گے تو موافق معمول کے آئیں گے۔ اون کے جانے، نہ جانے کا حال، صبح کو اِسی ورق پر لکھ کر خط بند کر کے بھیج دوں گا۔ خدا کرے، اُردو کی نثر کا لفافہ اونھوں نے ڈاک میں بھیج دیا ہو۔ شام کو مجھے دے جائیں، تو میں کل اِس خط کے ساتھ اوس کو بھی بھجوا دوں۔ مہاراج اگر دورے کو گئے، تو کیا اندیشہ ہے؟ گرمی کا موسم ہے، لمبا چوڑا سفر کیوں کریں گے؟ آٹھ سات دن میں پھر آئیں گے۔ یہاں کی تلاش کا نتیجہ دیکھو، تب کہیں جائیو۔ میرن صاحب کی تمہاری چوما چاٹی کے لکھنے کا مجھ میں دم نہیں۔ تم جانو، وہ جانیں۔
”کلیات“ کے چھاپے کی حقیقت سنو: ۶۰ صفحے چھاپے گئے تھے کہ مولوی ہادی علی مصحح بیمار ہو گئے، کاپی نگار رخصتی اپنے گھر گیا۔ اب دیکھیے، کب چھاپا شروع ہو۔ ”قاطع برہان“ کا چھاپا ختم ہوا۔ ایک جلد بہ طریقِ نمونہ آ گئی۔ میں نے پچاس جلدوں کی درخواست پہلے سے دے رکھی ہے۔ اب پچاس روپئے بھیجوں تو اونچاس جلدیں منگاؤں۔ دیکھیے، نو من تیل کب میسر ہو اور رادھا کب ناچے۔
میاں، کل شام کو میر سرفراز حسین میرے گھر نہیں آئے۔ یا تو الور کو، مجھ سے بغیر رخصت ہوئے، گئے یا نہیں گئے۔ میں تو آج جمعہ، ۱۶ مئی، صبح کے وقت یہ خط ڈاک میں بھیجتا ہوں۔
[۱۲۷۸ھ، م ۱۸۶۲ع]
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۳۹
سید صاحب،
اچھا ڈھکوسلا نکالا ہے۔ بعد القاب کے شکوہ شروع کر دینا اور میرن صاحب کو اپنا ہمزبان کر لینا۔ میں میر مہدی نہیں، کہ میرن صاحب پر مرتا ہوں؛ میر سرفراز حسین نہیں، کہ اون کو پیار کرتا ہوں۔ علی کا غلام اور سادات کا معتقد ہوں، اوس میں تم بھی آ گئے۔ کمال یہ کہ میرن صاحب سے محبت قدیم ہے۔ دوست ہوں، عاشق زار نہیں؛ بندۂ مہر و وفا ہوں، گرفتار نہیں۔ تمہارے بھائی نے سخت مشوش بلکہ نعل در آتش کر رکھا ہے۔ ایک ”سلام“ اِصلاح کے واسطے بھیجا اور لکھا کہ بعد محرم کے میں بھی آؤں گا۔ میں نے ”سلام“ رہنے دیا اور منتظر رہا کہ ڈاک میں کیوں بھیجوں، وہ آئیں گے تو یہیں اون کو دے دوں گا۔ محرم تمام ہوا۔ آج سہشنبہ، غرۂ صفر ہے؛ حضرت کا پتا نہیں۔ ظاہرا برسات نے آنے نہ دیا۔
برسات کا نام آ گیا؛ لو پہلے تو مجملاً سنو: ایک غدر کالوں کا، ایک ہنگامہ گوروں کا، ایک فتنہ اِنہدام مکانات کا، ایک آفت وبا کی، ایک مصیبت کال کی؛ اب یہ برسات جمیع حالات کی جامع ہے۔ آج اِکّیسواں دن ہے، آفتاب اِس طرح گاہ گاہ نظر آ جاتا ہے جس طرح بجلی چمک جاتی ہے؛ رات کو کبھی کبھی تارے اگر دکھائی دیتے ہیں تو لوگ اون کو جگنو سمجھ لیتے ہیں۔ اندھیری راتوں میں چوروں کی بن آئی ہے۔ کوئی دن نہیں کہ دو چار جگہ کی چوری کا حال نہ سنا جائے۔ مبالغہ نہ سمجھنا، ہزارہا مکان گر گئے، سینکڑوں آدمی جا بجا دب کر مر گئے، گلی گلی ندی بہ رہی ہے۔ قصہ مختصر، وہ اَنکال تھا کہ مینھ نہ برسا، اناج نہ پیدا ہوا؛ یہ پنکال ہے کہ پانی ایسا برسا کہ بوئے ہوئے دانے بہ گئے، جنھوں نے ابھی نہیں بویا تھا وہ بونے سے رہ گئے۔ سن لیا دلی کا حال؟ اِس کے سوا کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جناب میرن صاحب کو دعا۔ زیادہ کیا لکھوں؟
سہشنبہ، یکم صفر و ۲۹ جولائی[۱۲۷۹ھ، م ۱۸۶۲ع]۔
خط ۴۰
برخوردار نور چشم میر مہدی کو بعد دعائے حیات و صحت کے معلوم ہو۔
بھائی، تم نے بخار کو کیوں آنے دیا، تپ کو کیوں چڑھنے دیا؟ کیا بخار میرن صاحب کی صورت میں آیا تھا جو تم مانع نہ آئے؟ کیا تپ آبن بن کر آئی تھی جو اوس کو روکتے ہوئے شرمائے؟ حکیم اشرف علی ابھی گئے ہیں۔ کہتے تھے کہ میں نے نسخہ لکھ کر آج ڈاک میں بھیج دیا ہے۔ چونکہ یہ خط بھی آج روانا ہوتا ہے، کیا عجب ہے کہ دونوں خط ایک دن بلکہ ایک وقت پہنچیں۔ دل تمہارے واسطے بہت کڑھتا ہے۔ حق تعالیٰ تم کو جلد شفا دے اور تمہاری تندرستی کی خبر مجھ کو سنائے۔
سنو میاں سرفراز حسین، ہزار برس میں تم نے مجھ کو ایک خط لکھا، وہ بھی اِس طرح کا کہ جیسا "جلال اسیر" کہتا ہے:
بہ غیر در شکر آب ست و رو بما دارد۔
پڑھتا ہوں اوس خط کو اور ڈھونڈھتا ہوں کہ میرے واسطے کون سی بات ہے، مجھ کو کیا پیام ہے؟ کچھ نہیں۔ شاید دوسرے صفحے میں کچھ ہو۔ اودھر خاتمہ بالخیر ہے۔ یارب! سرنامہ میرے نام کا، آغاز تحریر میں القاب میرا؛ پھر سارے خط میں میرن صاحب کا جھگڑا۔ یہ کیا سیر ہے؟ میں ایسے خط کا جواب کیوں لکھوں؟ میری بلا لکھے۔ اب جو تم خط لکھو گے اور اوس میں اپنے بھائی کی خیر و عافیت رقم کروگے اور میرن صاحب کا نام اور اون کے لیے سلام تک بھی اوس میں نہ ہوگا، تو میں اوس کا جواب آنکھوں سے لکھوں گا۔
اور ہاں میاں، پھر تم نے میر اشرف علی کو کیا لکھا کہ ہم نے سنا ہے کہ چچا نے اوس کا مرنا سنا ہوگا؟ اوس غریب کا قول یہ ہے کہ میری دونوں بہنیں اور پانچ بھانجیاں پانیپت میں ہیں۔ کیا چچا کو نہ معلوم ہوگا کہ کون سی لڑکی مری؟ کاش، اوس کے باپ کا نام لکھتے تاکہ میں جانتا کہ کون سی بھانجی مری ہے۔ اب میں کس کا نام لے کر روؤں اور کس کی فاتحہ دلواؤں؟ اِس امر میں حق بہ جانب اوس مظلوم کے ہے۔ توضیح بقید نام لکھو۔
خط ۴۱
واہ حضرت،
کیا خط لکھا ہے! اِس خرافات کے لکھنے کا فائدہ؟ بات اِتنی ہی ہے کہ میرا پلنگ مجھ کو ملا، میرا بچھونا مجھ کو ملا، میرا حمام مجھ کو ملا، میرا بیت الخلا مجھ کو ملا۔ رات کا وہ شور: "کوئی آئیو، کوئی آئیو" فرو ہوگیا۔ میری جان بچی، میرے آدمیوں کی جان بچی؛
اکنون، شب من شب است و روزم روز است۔
بھئی، تم نے یہ نہ لکھا کہ میرن صاحب کو میرا خط پہنچا یا نہ پہنچا۔ میں گمان کرتا ہوں کہ نہیں پہنچا۔ اگر پہنچتا تو بےشک وہ تمہاری نظر سے گزرتا اور میرن صاحب اوس کی اصل حقیقت تم سے پوچھتے؛ اور اِس صورت میں یہ بھی ضرور تھا کہ تم اِس واہیات کے بدلے مجھ کو وہ روداد لکھتے جو میرن صاحب میں اور تم میں پیش آئی۔ پس اگر، جیسا کہ میرا گمان ہے، خط نہیں پہنچا تو خیر جانے دو؛ اگر خط پہنچا ہے، تو — میرن صاحب کے خط کے جواب لکھوانے میں تم نے میرا دم ناک میں کر دیا تھا — اب اون سے میرے خط کے جواب کا تقاضا کیوں نہیں کرتے؟ حسن بھی کیا چیز ہے! نادر کا اِتنا خوف نہیں جتنا حسین آدمی کا ڈر ہوتا ہے۔ تم اون سے خواہش وصال کرتے ہوئے ڈرو۔ میرے خط کے جواب کے باب میں کیوں نہیں کہتے؟ نہ صاحب، یہ کچھ بات نہیں۔ میرے خط کا جواب اون سے لکھوا کر بھجواؤ۔
یہاں کا حال وہ ہے جو دیکھ گئے ہو۔ پانی گرم، ہوا گرم، تپیں مستولی، اناج مہنگا۔ بیچارہ منشی میر احمد حسین کا بھتیجا، میر اِمداد علی "آشوب" کا بیٹا، محمد میر، شب گزشتہ کو گزر گیا۔ آج صبح کو اوس کو دفن کر آئے۔ جوانِ صالح، پرہیزگار، مومنین کا پیش نماز تھا۔ اِنّا لِلّٰہ واِنّا اِلیہ راجعون۔
"مجتہد العصر" کا حکم بجا لاؤں گا، اور نہ رئیس کو بلکہ مدار المہام ریاست کو لکھوں گا۔ رئیس میرے سوال کا جواب قلمانداز کر جائے گا اور مدار المہام امر واقعی لکھ بھیجے گا۔ "مجتہد العصر" کو دعا کہنا اور یہ خط پڑھا دینا۔ میرن صاحب کو دعا؛ اور کہنا کہ بھلا صاحب، تم نے ہمارے خط کا جواب نہیں لکھا، ہم بھی تمہاری طرز کا تتبع کریں گے۔ حکیم میر اشرف علی کو دعا کہنا اور کہنا کہ اگر تم میں اون میں راہ و رسم تعزیت و تہنیت ہو، تو میر احمد حسین کو خط لکھو؛ اور یہ بھی اون کو معلوم ہو کہ حفیظ یہاں آیا ہوا ہے، قبائل تمہارے یہیں ہیں۔ اگر وہاں کچھ رسائی حاصل ہو تو خیر، ورنہ یہاں کیوں نہ چلے آؤ؟
میں بھولا نہیں تجھ کو، اے میری جانکروں کیا کہ یاں گر رہے ہیں مکان
برسات کا حال نہ پوچھو۔ خدا کا قہر ہے۔ قاسم جان کی گلی، سعادت خاں کی نہر ہے۔ میں جس مکان میں رہتا ہوں، عالم بیگ خاں کے کٹڑے کی طرف کا دروازہ گر گیا، مسجد کی طرف کے دالان کو جاتے ہوئے جو دروازہ تھا وہ گر گیا، سیڑھیاں گرا چاہتی ہیں، صبح کے بیٹھنے کا حجرہ جُھک رہا ہے۔ چھتیں چھلنیاں ہوگئی ہیں، مینھ گھڑی بھر برسے، تو چھت گھنٹا بھر برسے۔ کتابیں، قلمدان، سب توشہخانے میں۔ فرش پر کہیں لگن رکھا ہوا، کہیں چلمچی دھری ہوئی۔ خط لکھوں کہاں بیٹھ کر؟ پانچ چار دن سے فرصت ہے۔ مالک مکان کو فکر مرمت ہے۔ آج ایک امن کی صورت نظر آئی؛ کہا کہ آؤ، میر مہدی کے خط کا جواب لکھوں۔ الور کی ناخوشی، راہ کی محنت کشی، تپ کی حرارت، گرمی کی شرارت، یاس کا عالم، کثرت اندوہ و غم، حال کی فکر، مستقبل کا خیال، تباہی کا رنج، آوارگی کا ملال، جو کچھ کہو وہ کم ہے۔ بالفعل تمام عالم کا ایک سا عالم ہے۔ سنتے ہیں کہ نومبر میں مہاراجہ کو اِختیار ملے گا۔ ہاں، ملے گا! مگر وہ اِختیار ایسا ہوگا جیسا خدا نے خلق کو دیا ہے: سب کچھ اپنے قبضۂ قدرت میں رکھا، آدمی کو بدنام کیا ہے۔ بارے رفع مرض کا حال لکھو۔ خدا کرے، تپ جاتی رہی ہو، تندرستی حاصل ہوگئی ہو۔ میر صاحب کہتے ہیں:
تندرستی ہزار نعمت ہے۔
ہائے، پیش مصرع مرزا قربان علی بیگ "سالک" نے کیا خوب بہم پہنچایا ہے! مجھ کو بہت پسند آیا ہے:
تنگدستی اگر نہ ہو، سالک!"تندرستی ہزار نعمت ہے"
"مجتہد العصر" جناب میر سرفراز حسین صاحب کو دعا۔ اہا ہا ہا! میر افضل علی صاحب کہاں ہیں؟ حضرت، یہاں تو اِس نام کا کوئی آدمی نہیں ہے۔ لکھنٔو کے مجتہد العصر کے بھائی کا نام میرن صاحب تھا، جیپور کے "مجتہد العصر" کے بھائی 'میرن صاحب' کیوں نہ کہلائیں۔ ہاں بھائی، میرن صاحب، بھلا اون کو ہماری دعا کہنا۔
جمعہ، ۲۶ ستمبر سنہ ۱۸۶۲ء۔
خط ۴۲
میری جان،
خط نہ بھیجو اور میرے خط کا اِنتظار کرو؛ اِس کی وجہ میں نہیں سمجھا۔ تمہارا خط آئے اور میں جواب نہ لکھوں، تو گنہگار۔ نواب یوسف علی خاں "ناظم" کا دیوان میرے پاس کہاں؟ نواب صاحب نے بہ سبیل ارمغاں مجھے ایک ورق بھی نہیں بھیجا۔ یہاں کچھ بکتے آگئے تھے، میں نے ایک مول لے کر نواب مصطفیٰ خاں کو جہانگیر آباد بھیجا تھا۔ اب محمد بخش اور پیر جی سے کہہ دوں گا؛ اگر کسی نے لا دیا تو ایک جلد میر سرفراز حسین کو بھیج دوں گا۔ توقع نوکری کا حال مجھ کو مفصل معلوم ہے۔ یہ بھی بادشاہی تنخواہ ہوئی کہ روپیہ دے کر مول لیں اور کہیں کہ ہم نے نذرانہ دیا ہے۔ بشرط نوکری ہو جانے کے، برس چھ مہینے تک اپنا دیا ہوا روپیہ مسترد کرنا ہوگا، نوکری مفت میں۔
"مقدر" مذکر اور "تقدیر" مونث ہے۔ کون کہے گا: "فلانے کی مقدر اچھی ہے"؟ کون کہے گا: "ڈھمکے کا تقدیر برا ہے"؟ یہ مسئلہ صاف ہے، مذبذب نہیں۔ کوئی بھی "مقدر" کو مونث نہ کہتا ہوگا۔ تم کو تردد کیوں ہوا؟
"جواں مرد"، "جواں بخت"، "جواں دولت"، "جواں عمر"، "جواں سال"، "جواں خرد"، "جواں مرگ"، یہ الفاظ مقررۂ اہل زبان ہیں؛ کبھی مقلوب و معکوس نہیں آتے۔
"اودھ اخبار" میں بادشاہ کے مرنے کی خبر لکھی دیکھی؛ مگر پھر کہیں سے تصدیق نہیں ہوئی۔ نرندر سنگھ راجۂ پٹیالہ بے تکلف مرگیا۔ مسجد جامع کی واگزاشت کی خبر مشہور ہے۔ اگر سچ ہوجائے تو کیا دور ہے؟ شاہ اودھ کی آملاک کی بھی واگزاشت کی خبر ہے۔
لو کہو، اب اور کیا لکھوں؟ سر راہ کی مُنڈیر کے پاس جو تخت بچھا ہے، اوس پر بیٹھا ہوا دھوپ کھا رہا ہوں اور خط لکھ رہا ہوں۔ بس، اب یہ لکھنا باقی ہے کہ "مجتہد العصر" کو دعا اور میر افضل علی صاحب کو دعائیں۔
صبح پنجشنبہ، ۲۷ جمادی الاول، ۲۰ نومبر سال حال۔
خط ۴۳
جویائے حال دہلی و الور سلام لو۔
مسجد جامع واگزاشت ہوگئی؛ "چتلی قبر" کی طرف کی سیڑھیوں پر کبابیوں نے دکانیں بنا لیں۔ انڈا، مرغی، کبوتر بکنے لگا۔ عشرۂ مبشرہ یعنی دس آدمی مہتمم ٹھہرے۔ مرزا الٰہی بخش، مولوی صدرالدین، تفضل حسین خاں ابن فضلاللہ خاں؛ تین یہ اور سات اور۔ ۷ نومبر، ۱۴ جمادی الاول سال حال، جمعے کے دن ابوظفر سراجالدین بہادر شاہ قید فرنگ و قید جسم سے رہا ہوئے۔ اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلیہ راجعون۔
جاڑا پڑ رہا ہے۔ ہمارے پاس شراب آج کی اور ہے۔ کل سے رات کو نری انگیٹھی پر گزارا ہے؛ بوتل، گلاس موقوف۔
راجہ پٹیالہ مرگیا۔ مہندر سنگھ، اوس کے خلف، پر خطاب فرزندی اور القاب بحال و برقرار رہا۔ بالفعل دیوان نہالچند کام کر رہا ہے۔ ظاہرا جو رنگ اِس ریاست کا ہونے والا ہے وہ نواب گورنر جنرل بہادر کے آنے پر کھلے گا، اور وہ فروری مہینے میں یہاں آئیں گے۔ الور کی ریاست کا حال بدستور ہے۔ گورنر صاحب ہی اِنھیں اِختیار دیں گے۔ یعنی پٹیالے اور الور کے راج کا اِنتظام اوسی وقت پر ہوگا۔ بالفعل اِمپے صاحب، ایجنٹ الور، دلّی ہوتے ہوئے میرٹھ گئے ہیں۔ راجہ صاحب، تجارہ تک، اون کی مشایعت کر گئے۔ یہاں اِمپے صاحب سے، کوئی صاحبسنگھ ٹھیکے دار الور کی سڑک کا ہے، اوس نے کچھ کہا تھا۔ جواب دیا کہ الور کے مقدمات میں پنچوں کو اِختیار ہے۔ ہم کچھ حکم نہ دیں گے۔ اِسفندیار بیگ مُتوفّیٰ کا کوئی متبنّیٰ مستدعی پرورش ہوا۔ اوس کو بھی یہی جواب ملا۔ اب، اور بولو، کیا لکھوں؟
دھوپ میں بیٹھا ہوں، یوسف علی خاں اور لالہ ہیرا سنگھ بیٹھے ہیں۔ کھانا تیار ہے۔ خط لکھ کر، بند کر کر، آدمی کو دوں گا اور میں گھر جاؤں گا؛ اور وہاں ایک دالان میں دھوپ ہوتی ہے، اوس میں بیٹھوں گا۔ ہات منہ دھوؤں گا۔ ایک روٹی کا چھلکا سالن میں بھگو کر کھاؤں گا۔ بیسن سے ہات دھوؤں گا۔ باہر آؤں گا۔ پھر اوس کے بعد خدا جانے کون آئے گا، کیا صحبت ہوگی۔
"مجتہد العصر" میر سرفراز حسین صاحب اور "ذاکر الحسین" میر افضل علی عرف میرن صاحب کو دعا۔
منگل کا دن، ۲۳ جمادیالثانی، ۱۶ دسمبر؛ پہر دن چڑھے۔
غالب۔
خط ۴۴
برخوردار،
تمہارا خط آیا، حال معلوم ہوا۔ میں اِس خیال میں تھا کہ الور کا کچھ حال معلوم کرلوں اور کپتان الکزنڈر کا خط آئے اور میں اوس کو میر سرفراز حسین کے مقدمے میں لکھ لوں تو اوس وقت تمہارے خط کا جواب لکھوں۔ چونکہ آج تک اون کا خط نہ آیا؛ میں سونچا کہ اگر اِسی اِنتظار میں رہوں گا اور خط کا جواب نہ بھیجوں گا تو میرا پیارا میر مہدی خفا ہوگا۔ ناچار جو کچھ الور کا حال سنا ہے وہ، اور کچھ اپنا حال، لکھتا ہوں۔ ہرچند میں نے دریافت کرنا چاہا؛ مگر حکیم محمود علی کا وہاں پہنچنا اور یہ کہ وہاں پہنچنے کے بعد کیا طور قرار پایا، کچھ معلوم نہیں ہوا۔ صرف خبر واحد ہے کہ اون کو راوراجہ نے، صاحب ایجنٹ سے اِجازت لے کر، بلا لیا ہے۔ کہتے ہیں کہ صاحب ایجنٹ الور نے راجہ کے بالغ اور عاقل ہونے کی رپوٹ صدر کو بھیجی ہے۔ کیا عجب ہے کہ اِن کا راج اِن کو مل جائے۔ کہتے ہیں کہ راوراجہ نے اہلِ خطّہ کے فراق کی شکایت حاکم سے کی تھی۔ جواب پایا کہ وہ لوگ مُفسد اور بدمعاش ہیں، اور تمہاری برادری کے لوگ اون سے نا خوش ہیں، اون کے آنے میں فساد کا اِحتمال ہے؛ وہ نہ آنے پائیں گے۔
مولانا غالب علیہ الرحمۃ اِن دنوں میں بہت خوش ہیں۔ پچاس ساٹھ جزو کی کتاب، امیر حمزہ کی داستان کی، اور اِسی قدر حجم کی ایک جلد "بوستان خیال" کی آگئی ہے؛ سترہ بوتلیں بادۂ ناب کی توشکخانے میں موجود ہیں۔ دن بھر کتاب دیکھا کرتے ہیں، رات بھر شراب پیا کرتے ہیں۔
کسے، کاین مرادش میسر بوداگر جم نباشد، سکندر بود۔
میر سرفراز حسین کو اور میرن صاحب کو اور میر نصیرالدین صاحب کو دعائیں اور دیدار کی آرزوئیں۔
خط ۴۵
برخوردار،
تمہارا خط پہنچا، مگر یہ غضب ہے کہ: میں اوس کا جواب نہیں لکھ سکتا، اور وہ جواب طلب ہے۔ جواب کیا لکھوں؟ قواعد عملداری کے برہم ہوگئے، نئے نئے دستور ہیں۔ شہرت ہوئی کہ لارڈ صاحب آتے ہیں۔ فروری کو انبالے پہنچیں گے، اہل دہلی کی ملازمت وہاں ہوگی۔ اب یہ آوازہ بلند ہے کہ فروری میں کلکتے سے چلیں گے۔ بنارس، اِلہآباد، اکبرآباد، ہوتے ہوئے مارچ کو انبالے پہنچیں گے۔ الور، جےپور، کوٹہ، یہ تین راجہ آگرے پہنچ گئے؛ وہاں میرفرش کی طرح بیکار دھرے ہوئے ہیں۔ الور کے راجہ گویا یوسف ہیں۔ اون کے خریدار دوڑتے پھرتے ہیں۔ کوئی شکرم، کوئی کرانچی ڈھونڈھ رہا ہے؛ کوئی پیادہ چل نکلا؛ کسی نے مانگے کا ٹٹو بہم پہنچایا۔ یہ سب قصے یک طرف؛ اب سنتا ہوں کہ راجستان کے ایجنٹ نے سب رئیسوں کو لکھا ہے کہ لارڈ صاحب تمہیں بلاتے نہیں؛ جس کا جی چاہے آؤ، جس کا جی نہ چاہے نہ آؤ۔ اِس تحریر کو دیکھ کر، جو وعدہگاہ پر جا پہنچے وہ پشیمان ہیں؛ جو راہ میں ہیں وہ وہیں ٹھٹک رہے ہیں، نہ آگے بڑھتے ہیں نہ پیچھے ہٹ سکتے ہیں۔ جو اپنے مقام سے نہ ہلے تھے وہ اچھے رہے۔
یہاں دو تین مہاوٹیں برس گئی ہیں۔ گیہوں، چنا، اچھا ہوگا۔ ربیع کی اُمید پڑی۔
اُفقہا پُر از ابرِ بہمن مہیسفالینہ جام من از مے تہی۔
سیدھے ہات پر ایک زخم، بائیں بازو پر ایک گھاو، سیدھی ران پر ایک پھوڑا؛ یہ حال میرا ہے۔ باقی خیر و عافیت۔
میر سرفراز حسین صاحب اور میرن صاحب کو دعا پہنچے۔
غالب۔
خط ۴۶
نور چشم میر مہدی کو بعد دعا کے معلوم ہو کہ "کلیات فارسی" کا پہنچنا مجھ کو معلوم ہوا۔ میاں، اِس میں اغلاط بہت ہیں۔ مبارک ہو تمہیں، اور میر سرفراز حسین کو، اور میرن صاحب کو، اور بھائی، خدا کرے، مجھ کو بھی۔ لو صاحب، ایجنٹ بہادر راجستان کا حکم الور کے ایجنٹ کو آیا کہ تم پہلی ستمبر کو راج کے کاغذ، جو تمہارے پاس ہیں، اور راج کا اسباب، جو تمہارے تحت میں ہے، وہ سب راجہ صاحب کو دو اور تم الگ ہو جاؤ۔ ستمبر کی بیسویں کو ہم الور آئیں گے، راجہ صاحب کو مسند پر بیٹھائیں گے، خلعت شاہی اونھیں پہنائیں گے۔
"ستمبر" ستم برد و آورد داد۔
شنبہ، ۲۲ اگست سنہ ۱۸۶۳ع۔
از غالب۔
خط ۴۷
آئیے جناب میر مہدی صاحب دہلوی۔ بہت دنوں میں آئے؛ کہاں تھے؟ بارے، آپ کا مزاج خوش ہے؟ میر سرفراز حسین صاحب اچھی طرح ہیں؟ میرن صاحب خوش ہیں؟
"ہستی ہماری اپنی فنا پر دلیل ہےیاں تک مٹے کہ آپ ہم اپنی قسم ہوئے"
پہلے یہ سمجھو کہ قسم کیا چیز ہے، قد اوس کا کتنا لمبا ہے، ہات پانو کیسے ہیں، رنگ کیسا ہے۔ جب یہ نہ بتا سکو گے، تو جانو گے کہ قسم جسم و جسمانیات میں سے نہیں۔ ایک اِعتبار محض ہے۔ وجود اوس کا صرف تعقل میں ہے۔ سیمرغ کا سا اوس کا وجود ہے۔ یعنی کہنے کو ہے، دیکھنے کو نہیں۔ پس، شاعر کہتا ہے کہ جب ہم آپ اپنی قسم ہو گئے تو گویا اِس صورت میں ہمارا ہونا ہمارے نہ ہونے کی دلیل ہے۔
"میخواہم از خدا و نمیخواہم از خدادیدن حبیب را و ندیدن رقیب را"
لف و نشر مرتب ہے۔ میخواہم از خدا، دیدن حبیب را۔ نمی خواہم از خدا، ندیدن رقیب را۔ خوار و زار و خستہ و سوگوار، معنی تو اِس میں موجود ہیں مگر بول چال ٹکسال باہر ہے۔ ایک جملے کا جملہ مقدر چھوڑ دیا ہے اور پھر اِس بھونڈی طرح سے کہ جس کو "المعنیٰ فی بطن الشاعر" کہتے ہیں۔ یہ شعر اساتذۂ مسلم الثبوت میں سے کسی کا نہیں ہے۔ کوئی صاحب ہوں گے کہ اونھوں نے لوگوں کے حیران کرنے کے واسطے یہ شعر کہہ دیا، اور کسی اُستاد کا نام لے دیا کہ یہ اون کا ہے۔
تذکیر و تانیث کا کوئی قاعدہ منضبط نہیں کہ جس پر حکم کیا جائے۔ جو جس کے کانوں کو لگے، جس کو جس کا دل قبول کرے، اوس طرح کہے۔ "رتھ" میرے نزدیک مذکر ہے یعنی "رتھ آیا"۔ لیکن جمع میں کیا کروں گا؟ ناچار مونث بولنا پڑے گا؛ یعنی "رتھیں آئیں"۔ "خبر" مونث ہے بہ اِتفاق۔ مگر "کاغذ اخبار"، اِس کو خود سمجھ لو کہ تمہارا دل کیا قبول کرتا ہے۔ میں تو مذکر کہوں گا یعنی "اخبار آیا"۔ "پیر ہوئی یا ہوا"؛ یہ منطق عوام کا ہے۔ ہمیں اِس سے کچھ کام نہیں۔ ہم کہیں گے کہ "دوشنبہ ہوا"، "پیر کا دن ہوا"۔ نری "پیر ہوئی" یا "پیر ہوا" ہم کیوں بولیں گے؟ "بلبل" میرے نزدیک مونث ہے، جمع اوس کی "بلبلیں"۔ "طوطی بولتا ہے" "بلبل بولتی ہے"۔ بھائی، اِس امر میں میں مفتی و مجتہد بن نہیں سکتا؛ اپنا عندیہ لکھتا ہوں۔ جو چاہے مانے، جو چاہے نہ مانے۔
سہشنبہ، ۸ دسمبر سنہ ۱۸۶۳ع۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۸
برخوردار کامگار، میر مہدی دہلوی، اُردو بازار کے مولوی، صاحب لوائے ولائے مرتضوی، پر عَلم عبّاس ابن علی کا سایہ۔
راجہ صاحب کے سلوک کا حال ہم پہلے ہی سن چکے تھے۔ الحمد للّٰہ علیٰ کلّ حالٍ۔ دیکھیے، اب معاودت کب کرتے ہیں، موافق اپنے وعدے کے ہم کو کیوںکر طلب کرتے ہیں؟ کلکتے جاتے وقت فرما گئے ہیں کہ میں آ کر "اسد" کو بلاؤں گا۔ البتہ اگر وہ بلائیں گے، تو میں کیوںکر نہ جاؤں گا؟ ظاہرا ہمارے تمہارے واسطے زمانۂ اِنتہائے مصیبت اور وقت پیش آمد دولت ہے۔ اب مجھ کو میرن صاحب کی خوشامد کرنی پڑے گی۔ وہ مقرب بنیں گے، اگر میری قسمت لڑے گی۔ تم میری کامیابی کا سامان کر رکھنا، میرن صاحب کو مجھ پر مہربان کر رکھنا۔ بھائی، یہ جو میرن صاحب یا امیرن صاحب ہیں، حضور کے بڑے مصاحب ہیں۔ جس گروہ میں سے جس کو چاہیں حضور سے ملوا دیں؛ فرقۂ شعرا میں سے جس کو جو کچھ چاہیں دلوادیں۔ اون کو اور "مجتہد العصر" کو میری دعا کہنا۔
نجات کا طالب، غالب۔
خط ۴۹
میری جان،
وہ پارسیِ قدیم جو ہوشنگ و جمشید و کیخسرو کے عہد میں مروج تھی، اوس میں خُر، بہ خاے مضموم، "نور قاہر" کو کہتے ہیں۔ اور چونکہ پارسیوں کی دید و دانست میں بعد خدا کے آفتاب سے زیادہ کوئی بزرگ نہیں ہے، اِس واسطے "آفتاب" کو "خُر" لکھا، اور "شید" کا لفظ بڑھا دیا۔ "شید" بہ شین مکسور و یاے معروف، بر وزن "عید"، "روشنی" کو کہتے ہیں۔ یعنی یہ اوس "نورِ قاہرِ ایزدی" کی روشنی ہے۔ "خُر" اور "خُورشید"، یہ دونوں اِسم "آفتاب" کے ٹھہرے۔ جب عرب و عجم مل گئے تو اکابرِ عرب نے، کہ وہ منبع علوم ہوئے، واسطے دفع اِلتباس کے "خُر" میں واو معدولہ بڑھا کر "خُور" لکھنا شروع کیا۔ ہر آینہ متاخرین نے اِس قاعدے کو پسند کیا اور منظور کیا، اور فیالحقیقت یہ قاعدہ بہت مستحسن ہے۔ فقیر "خُر" جہاں بے اِضافۂ لفظِ "شید" لکھتا ہے، موافقِ قانونِ عظماے عرب بہ واوِ معدولہ لکھتا ہے، یعنی "خور"، اور جہاں بہ اِضافۂ لفظ "شید" لکھتا ہے، وہاں بہ پیروی بزرگانِ پارسی سر بسر لفظ "خور" کو بے واو لکھتا ہے، یعنی "خُرشید"۔ "خُر" کا قافیہ "در" اور "بر" کے ساتھ جائز اور روا ہے۔ خود میں نے دو چار جگہ باندھا ہوگا۔ وہاں میں بے واو کیوں لکھوں؟ رہا "خورشید" چاہو بے واو لکھو چاہو مع الواو لکھو۔ میں بے واو لکھتا ہوں؛ مگر مع الواو کو غلط نہیں جانتا، اور خُر کو کبھی بے واو نہ لکھوں گا، قافیہ ہو یا نہ ہو۔ یعنی نظم میں، وسط شعر میں آ پڑے یا نثر کی عبارت میں واقع ہو، "خور" لکھوں گا۔ یہ بات بھی تم کو معلوم رہے کہ جس طرح "خُر" ترجمہ "قاہر" کا ہے، اُسی طرح "جم" ترجمہ "قادر" کا ہے کہ بہ اِضافۂ لفظ "شید" اِسم شہنشاہ وقت قرار پایا ہے۔
"مجتہد العصر" میر سرفراز حسین کو دعا پہنچے۔ سچ کہیے، تمہیں وہاں کوئی "مجتہد العصر" نہ کہتا ہوگا۔ نہ کہو، تم کو کیا؟ میں نے، تم نے مان لیا؛ اب کوئی کہے یا نہ کہے۔ میاں بدرالدین سے ایک مہر کھدوا دوں گا:
"جناب مجتہد العصر سرفراز حسین"
بس، تم یہ مہر خطوں پر، محضروں پر، تمسکوں پر، کرنی شروع کرنا، سب کے سب تم کو "مجتہد العصر" کہنے لگیں گے۔
حکیم میر اشرف علی کو اور اون کے فرزند کو دعا پہنچے۔
میرن صاحب کو دعا پہنچے۔ بھائی میرن، اب وہ خس کا پردہ کھول ڈالا۔ صافیاں جھجر پر لپیٹتا ہوں، دم بدم بھگوتا ہوں۔ وہ لُو کہاں جو پردے سے لپٹ کر صافی کو لگے آ کر، اور پانی کو ٹھنڈا کرے؟ وہ پانی جو میر مہدی اور تم اور حکیم جی پیا کیے ہو، اب کہاں؟ برف پندرہ دن کی اور باقی ہے؛ آیندہ خدا رزاق ہے۔
خط ۵۰
قرۃ العینین میر مہدی و میر سرفراز حسین مجھ سے ناخوش اور گلہمند ہوں گے، اور کہتے ہوں گے کہ دیکھو ہمیں خط نہیں لکھتا۔
ہم بھی منہ میں زبان رکھتے ہیں؛کاش، پوچھو کہ ماجرا کیا ہے؟
ماجرا یہ ہے کہ تمہارا بھی تو کوئی خط نہیں آیا، میں جس کا جواب لکھتا۔ میرن صاحب سے تمہاری خیر و عافیت پوچھنی، اور کہہ دینا کہ میری دعا لکھ بھیجنا۔ بس اب اِتنا ہی دم باقی ہے۔ کل میرن صاحب آئے؛ پوچھا کہ الور سے کوئی خط آیا؟ فرمایا کہ اِس ہفتے میں کوئی خط میں نے نہیں پایا۔ کیا کہوں کہ کیا حال ہے؟ پیش ازین اپنا یہ شعر پڑھا کرتا تھا:
بس، ہجوم نا اُمیدی، خاک میں مل جائے گییہ جو اِک لذت ہماری سعی بے حاصل میں ہے۔
اب اِس زمزمے کا بھی محل نہ رہا؛ یعنی سعی بے حاصل کی لذت خاک میں مل گئی۔ اِنّا لِلّٰہ و اِنّا اِلیہ راجعون۔
سہشنبہ، ۱۸ شعبان سنہ ۱۲۸۱ھ۔
مرگ ناگاہ کا طالب، غالب۔
ما الذي تركه هذا الفصل فيك؟
سجّل الدخول للتفاعل
النقاش
لم يتكلم أحد بعد. قل ما حرّكه هذا الفصل فيك.