Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 7 de 16

Ghazals 122–141 (Radif Nun)

غزلیں ۱۲۲ تا ۱۴۱ (ردیف ن)

Mirza Asadullah Khan Ghalib

Escritura
Tamaño

ردیف ن

۱۲۲۔ قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آنا

قیامت ہے کہ سن لیلیٰ کا دشتِ قیس میں آناتعجّب سے وہ بولا ’یوں بھی ہوتا ہے زمانے میں؟‘

دلِ نازک پہ اس کے رحم آتا ہے مجھے غالبؔنہ کر سرگرم اس کافر کو اُلفت آزمانے میں

۱۲۳۔ دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنا

دل لگا کر لگ گیا اُن کو بھی تنہا بیٹھنابارے اپنی بے کسی کی ہم نے پائی داد، یاں

ہیں زوال آمادہ اجزا آفرینش کے تماممہرِ گردوں ہے چراغِ رہگزارِ باد، یاں

۱۲۴۔ یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیں

یہ ہم جو ہجر میں دیوار و در کو دیکھتے ہیںکبھی صبا کو کبھی نامہ بر کو دیکھتے ہیں

وہ آئیں گھر میں ہمارے خدا کی قدرت ہےکبھی ہم ان کو کبھی اپنے گھر کو دیکھتے ہیں

نظر لگے نہ کہیں اس کے دست و بازو کویہ لوگ کیوں مرے زخمِ جگر کو دیکھتے ہیں

ترے جواہرِ طرفِ کلہ کو کیا دیکھیںہم اوجِ طالعِ لعل و گہر کو دیکھتے ہیں

۱۲۵۔ نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیں

نہیں کہ مجھ کو قیامت کا اعتقاد نہیںشبِ فراق سے روزِ جزا زیاد نہیں

کوئی کہے کہ ’شبِ مَہ میں کیا بُرائی ہے‘بلا سے آج اگر دن کو ابر و باد نہیں

جو آؤں سامنے اُن کے تو مرحبا نہ کہیںجو جاؤں واں سے کہیں کو تو خیر باد نہیں

کبھی جو یاد بھی آتا ہوں میں، تو کہتے ہیںکہ ’ آج بزم میں کچھ فتنۂ و فساد نہیں‘

علاوہ عید کے ملتی ہے اور دن بھی شرابگدائے کُوچۂ مے خانہ نامراد نہیں

جہاں میں ہو غم و شادی بہم، ہمیں کیا کام؟دیا ہے ہم کو خدا نے وہ دل کہ شاد نہیں

تم اُن کے وعدے کا ذکر اُن سے کیوں کرو غالبؔیہ کیا؟ کہ تم کہو، اور وہ کہیں کہ“یاد نہیں“

۱۲۶۔ تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیں

تیرے توسن کو صبا باندھتے ہیںہم بھی مضموں کی ہَوا باندھتے ہیں

آہ کا کس نے اثر دیکھا ہےہم بھی اک اپنی ہوا باندھتے ہیں

تیری فرصت کے مقابل اے عُمر!برق کو پابہ حنا باندھتے ہیں

قیدِ ہستی سے رہائی معلوم!اشک کو بے سروپا باندھتے ہیں

نشۂ رنگ سے ہے واشُدِ گلمست کب بندِ قبا باندھتے ہیں

غلطی ہائے مضامیں مت پُوچھلوگ نالے کو رسا باندھتے ہیں

اہلِ تدبیر کی واماندگیاںآبلوں پر بھی حنا باندھتے ہیں

سادہ پُرکار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں

۱۲۷۔ زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔ

زمانہ سخت کم آزار ہے، بہ جانِ اسدؔوگرنہ ہم تو توقعّ زیادہ رکھتے ہیں

۱۲۸۔ دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میں

دائم پڑا ہوا ترے در پر نہیں ہوں میںخاک ایسی زندگی پہ کہ پتھر نہیں ہوں میں

کیوں گردشِ مدام سے گھبرا نہ جائے دلانسان ہوں پیالہ و ساغر نہیں ہوں میں

یا رب، زمانہ مجھ کو مٹاتا ہے کس لیے؟لوحِ جہاں پہ حرفِ مکرر نہیں ہوں میں

حد چاہیے سزا میں عقوبت کے واسطےآخر گناہگار ہوں کافر نہیں ہوں میں

کس واسطے عزیز نہیں جانتے مجھے؟لعل و زمرد و زر و گوہر نہیں ہوں میں

رکھتے ہو تم قدم مری آنکھوں سے کیوں دریغ؟رتبے میں مہر و ماہ سے کمتر نہیں ہوں میں؟

کرتے ہو مجھ کو منعِ قدم بوس کس لیے؟کیا آسمان کے بھی برابر نہیں ہوں میں؟

غالبؔ وظیفہ خوار ہو دو شاہ کو دعاوہ دن گئے کہ کہتے تھے نوکر نہیں ہوں میں

۱۲۹۔ سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیں

سب کہاں؟ کچھ لالہ و گل میں نمایاں ہو گئیںخاک میں کیا صورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہو گئیں!

یاد تھیں ہم کو بھی رنگارنگ بزم آرائیاںلیکن اب نقش و نگارِ طاقِ نسیاں ہو گئیں

تھیں بنات النعشِ گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہو گئیں

قید میں یعقوب نے لی گو نہ یوسف کی خبرلیکن آنکھیں روزنِ دیوارِ زنداں ہو گئیں

سب رقیبوں سے ہوں ناخوش، پر زنانِ مصر سےہے زلیخا خوش کہ محوِ ماہِ کنعاں ہو گئیں

جوئے خوں آنکھوں سے بہنے دو کہ ہے شامِ فراقمیں یہ سمجھوں گا کہ شمعیں دو فروزاں ہو گئیں

ان پری زادوں سے لیں گے خلد میں ہم انتقامقدرتِ حق سے یہی حوریں اگر واں ہو گئیں

نیند اس کی ہے، دماغ اس کا ہے، راتیں اس کی ہیںتیری زلفیں جس کے بازو پر پریشاں ہو گئیں

میں چمن میں کیا گیا گویا دبستاں کھل گیابلبلیں سن کر مرے نالے غزل خواں ہو گئیں

وہ نگاہیں کیوں ہوئی جاتی ہیں یا رب دل کے پار؟جو مری کوتاہیِ قسمت سے مژگاں ہو گئیں

بس کہ روکا میں نے اور سینے میں ابھریں پے بہ پےمیری آہیں بخیۂ چاکِ گریباں ہو گئیں

واں گیا بھی میں تو ان کی گالیوں کا کیا جواب؟یاد تھیں جتنی دعائیں صرفِ درباں ہو گئیں

جاں فزا ہے بادہ جس کے ہاتھ میں جام آ گیاسب لکیریں ہاتھ کی گویا، رگِ جاں ہو گئیں

ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترکِ رسومملتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایماں ہو گئیں

رنج سے خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنجمشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

یوں ہی گر روتا رہا غالبؔ تو اے اہلِ جہاںدیکھنا ان بستیوں کو تم کہ ویراں ہو گئیں

۱۳۰۔ دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیں

دیوانگی سے دوش پہ زنار بھی نہیںیعنی ہمارے جیب میں اک تار بھی نہیں

دل کو نیازِ حسرتِ دیدار کر چکےدیکھا تو ہم میں طاقتِ دیدار بھی نہیں

ملنا ترا اگر نہیں آساں تو سہل ہےدشوار تو یہی ہے کہ دشوار بھی نہیں

بے عشق عمر کٹ نہیں سکتی ہے اور یاںطاقت بہ قدرِ لذتِ آزار بھی نہیں

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبالِ دوشصحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں

گنجائشِ عداوتِ اغیار اک طرفیاں دل میں ضعف سے ہوسِ یار بھی نہیں

ڈر نالہ ہائے زار سے میرے، خدا کو مانآخر نوائے مرغِ گرفتار بھی نہیں

دل میں ہے یار کی صفِ مژگاں سے روکشیحالانکہ طاقتِ خلشِ خار بھی نہیں

اس سادگی پہ کوں نہ مر جائے اے خُدا!لڑتے ہیں اور ہاتھ میں تلوار بھی نہیں

دیکھا اسدؔ کو خلوت و جلوت میں بارہادیوانہ گر نہیں ہے تو ہشیار بھی نہیں

۱۳۱۔ نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میں

نہیں ہے رخم کوئی بخیے کے درخُور مرے تن میںہُوا ہے تارِ اشکِ یاس، رشتہ چشمِ سوزن میں

ہُوئی ہے مانعِ ذوقِ تماشا، خانہ ویرانیکفِ سیلاب باقی ہے برنگِ پنبہ روزن میں

ودیعت خانۂ بے دادِ کاوش ہائے مژگاں ہوںنگینِ نامِ شاہد ہے مرا ہر قطرہ خوں تن میں

بیاں کس سے ہو ظلمت گستری میرے شبستاں کیشبِ مہ ہو جو رکھ دیں پنبہ دیواروں کے روزن میں

نکو ہش مانعِ بے ربطئ شورِ جنوں آئیہُوا ہے خندہ احباب بخیہ جَیب و دامن میں

ہوئے اُس مِہر وَش کے جلوۂ تمثال کے آگےپَرافشاں جوہرآئینے میں مثلِ ذرّہ روزن میں

نہ جانوں نیک ہُوں یا بد ہُوں، پر صحبت مخالف ہےجو گُل ہُوں تو ہُوں گلخن میں جو خس ہُوں تو ہُوں گلشن میں

ہزاروں دل دیئے جوشِ جنونِ عشق نے مجھ کوسیہ ہو کر سویدا ہو گیا ہر قطرہ خوں تن میں

اسدؔ زندانئ تاثیرِ الفت ہائے خوباں ہُوںخمِ دستِ نوازش ہو گیا ہے طوق گردن میں

۱۳۲۔ مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیں

مزے جہان کے اپنی نظر میں خاک نہیںسوائے خونِ جگر، سو جگر میں خاک نہیں

مگر غبار ہُوے پر ہَوا اُڑا لے جائےوگرنہ تاب و تواں بال و پر میں خاک نہیں

یہ کس بہشت شمائل کی آمد آمد ہے؟کہ غیرِ جلوۂ گل رہ گزر میں خاک نہیں

بھلا اسے نہ سہی، کچھ مجھی کو رحم آتااثر مرے نفسِ بے اثر میں خاک نہیں

خیالِ جلوۂ گل سے خراب ہیں میکششراب خانے کے دیوار و در میں خاک نہیں

ہُوا ہوں عشق کی غارت گری سے شرمندہسوائے حسرتِ تعمیر۔ گھر میں خاک نہیں

ہمارے شعر ہیں اب صرف دل لگی کے اسدؔکُھلا، کہ فائدہ عرضِ ہُنر میں خاک نہیں

۱۳۳۔ دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں؟روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں؟

دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیںبیٹھے ہیں رہ گزر پہ ہم، غیر ہمیں اٹھائے کیوں؟

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روزآپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں؟

دشنۂ غمزہ جاں ستاں، ناوکِ ناز بے پناہتیرا ہی عکسِ رخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں؟

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیںموت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں؟

حسن اور اس پہ حسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرماپنے پہ اعتماد ہے، غیر کو آزمائے کیوں؟

واں وہ غرورِ عز و ناز، یاں یہ حجابِ پاسِ وضعراہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں؟

ہاں وہ نہیں خدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہیجس کو ہوں دین و دل عزیز، اس کی گلی میں جائے کیوں؟

غالبؔ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیںروئیے زار زار کیا، کیجیے ہائے ہائے کیوں؟

۱۳۴۔ غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوں

غنچۂ ناشگفتہ کو دور سے مت دکھا، کہ یُوںبوسے کو پُوچھتا ہوں مَیں، منہ سےمجھے بتا کہ یُوں

پُرسشِ طرزِ دلبری کیجئے کیا؟ کہ بن کہےاُس کے ہر اک اشارے سے نکلے ہے یہ ادا کہ یُوں

رات کے وقت مَے پیے ساتھ رقیب کو لیےآئے وہ یاں خدا کرے، پر نہ خدا کرے کہ یُوں

’غیر سے رات کیا بنی‘ یہ جو کہا تو دیکھیےسامنے آن بیٹھنا، اور یہ دیکھنا کہ یوں

بزم میں اس کے روبرو کیوں نہ خموش بیٹھیےاس کی تو خامشی میں بھی ہے یہی مدعا کہ یوں

میں نے کہا کہ “ بزمِ ناز چاہیے غیر سے تہی“سُن کر ستم ظریف نے مجھ کو اُٹھا دیا کہ یُوں؟

مجھ سے کہا جو یار نے ’جاتے ہیں ہوش کس طرح‘دیکھ کے میری بے خودی، چلنے لگی ہوا کہ یوں

کب مجھے کوئے یار میں رہنے کی وضع یاد تھیآئینہ دار بن گئی حیرتِ نقشِ پا کہ یُوں

گر ترے دل میں ہو خیال، وصل میں شوق کا زوالموجِ محیطِ آب میں مارے ہے دست و پا کہ یوں

جو یہ کہے کہ ریختہ کیوں کر ہو رشکِ فارسیگفتۂ غالبؔ ایک بار پڑھ کے اُسے سُنا کہ یُوں

۱۳۵۔ ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدے

ہم بے خودئ عشق میں کر لیتے ہیں سجدےیہ ہم سے نہ پوچھو کہ کہاں ناصِیہ سا ہیں

۱۳۶۔ اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوں

اپنا احوالِ دلِ زار کہوں یا نہ کہوںہے حیا مانعِ اظہار، کہوں یا نہ کہوں

نہیں کرنے کا میں تقریر ادب سے باہرمیں بھی ہوں واقفِ اسرار، کہوں یا نہ کہوں

شکوہ سمجھو اسے یا کوئی شکایت سمجھواپنی ہستی سے ہوں بیزار، کہوں یا نہ کہوں

اپنے دل ہی سے میں احوالِ گرفتاریِ دلجب نہ پاؤں کوئی غم خوار، کہوں یا نہ کہوں

دل کے ہاتھوں سے، کہ ہے دشمنِ جانی اپناہوں اک آفت میں گرفتار، کہوں یا نہ کہوں

میں تو دیوانہ ہوں اور ایک جہاں ہے غمازگوش ہیں در پسِ دیوار، کہوں یا نہ کہوں

آپ سے وہ مرا احوال نہ پوچھے تو اسدؔحسبِ حال اپنے پھر اشعار کہوں یا نہ کہوں

۱۳۷۔ ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوں

ممکن نہیں کہ بھول کے بھی آرمیدہ ہوںمیں دشتِ غم میں آہوۓ صیّاد دیدہ ہوں

ہوں دردمند، جبر ہو یا اختیار ہوگہ نالۂ کشیدہ، گہ اشکِ چکیدہ ہوں

نے سُبحہ سے علاقہ نہ ساغر سے رابطہمیں معرضِ مثال میں دستِ بریدہ ہوں

ہوں خاکسار پر نہ کسی سے ہو مجھ کو لاگنے دانۂ فتادہ ہوں،نے دامِ چیدہ ہوں

جو چاہۓ، نہیں وہ مری قدر و منزلتمیں یوسفِ بہ قیمتِ اوّل خریدہ ہوں

ہر گز کسی کے دل میں نہیں ہے مری جگہہوں میں کلامِ نُغز، ولے ناشنیدہ ہوں

اہلِ وَرَع کے حلقے میں ہر چند ہوں ذلیلپر عاصیوں کے زمرے میں مَیں برگزیدہ ہوں

ہوں گرمئ نشاطِ تصوّر سے نغمہ سنجمیں عندلیبِ گلشنِ نا آفریدہ ہوں

جاں لب پہ آئی تو بھی نہ شیریں ہوا دہناز بسکہ تلخئِ غمِ ہجراں چشیدہ ہوں

ظاہر ہیں میری شکل سے افسوس کے نشاںخارِ الم سے پشت بہ دنداں گزیدہ ہوں

پانی سے سگ گزیدہ ڈرے جس طرح اسدؔڈرتا ہوں آئینے سے کہ مردم گزیدہ ہوں

۱۳۸۔ جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیں

جس دن سے کہ ہم خستہ گرفتارِ بلا ہیںکپڑوں میں جوئیں بخۓ کے ٹانکوں سے سوا ہیں

۱۳۹۔ میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔ

میر کے شعر کا احوال کہوں کیا غالبؔجس کا دیوان کم از گلشنِ کشمیر نہیں

۱۴۰۔ مے کشی کو نہ سمجھ بےحاصل

مے کشی کو نہ سمجھ بےحاصلبادہ غالبؔ عرقِ بید نہیں

۱۴۱۔ دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں

دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤںرکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں

دی سادگی سے جان پڑوں کوہکن کے پاؤںہیہات کیوں نہ ٹوٹ گیے پیر زن کے پاؤں

بھاگے تھے ہم بہت۔ سو، اسی کی سزا ہے یہہو کر اسیر دابتے ہیں راہ زن کے پاؤں

مرہم کی جستجو میں پھرا ہوں جو دور دورتن سے سوا فِگار ہیں اس خستہ تن کے پاؤں

اللہ رے ذوقِ دشت نوردی کہ بعدِ مرگہلتے ہیں خود بہ خود مرے، اندر کفن کے، پاؤں

ہے جوشِ گل بہار میں یاں تک کہ ہر طرفاڑتے ہوئے الجھتے ہیں مرغِ چمن کے پاؤں

شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیںدکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں

غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزہ نہ ہوپیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں سخن کے پاؤں

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.