
Chapitre 16 sur 16
Ruba'is
رباعیات
رباعیات
رباعی ۱
بعد از اتمامِ بزمِ عیدِ اطفالایامِ جوانی رہے ساغر کشِ حال
آ پہنچے ہیں تا سوادِ اقلیمِ عدماے عمرِ گزشتہ یک قدم استقبال
رباعی ۲
شب زلف و رخِ عرق فشاں کا غم تھاکیا شرح کروں کہ طرفہ تر عالم تھا
رویا میں ہزار آنکھ سے صبح تلکہر قطرۂ اشک دیدۂ پرنم تھا
رباعی ۳
آتش بازی ہے جیسے شغلِ اطفالہے سوزِ جگر کا بھی اسی طور کا حال
تھا موجدِ عشق بھی قیامت کوئیلڑکوں کے لیے گیا ہے کیا کھیل نکال
رباعی ۴
دل تھا کہ جو جانِ دردِ تمہید سہیبیتابیِ رشک و حسرتِ دید سہی
ہم اور فسردن اے تجلی افسوستکرار روا نہیں تو تجدید سہی
رباعی ۵
ہے خلقِ حسد قماش لڑنے کے لیےوحشت کدۂ تلاش لڑنے کے لیے
یعنی ہر بار صورتِ کاغذِ بادملتے ہیں یہ بدمعاش لڑنے کے لیے
رباعی ۶
دل سخت نژند ہو گیا ہے گویااس سے گلہ مند ہو گیا ہے گویا
پر یار کے آگے بول سکتے ہی نہیںغالب منہ بند ہو گیا ہے گویا
رباعی ۷
دکھ جی کے پسند ہو گیا ہے غالبدل رک رک کر بند ہو گیا ہے غالب
واللہ کہ شب کو نیند آتی ہی نہیںسونا سوگند ہو گیا ہے غالب
مشکل ہے زبس کلام میرا اے دلسن سن کے اسے سخنورانِ کامل
آساں کہنے کی کرتے ہیں فرمائشگویم مشکل وگر نگویم مشکل
رباعی ۸
بھیجی ہے جو مجھ کو شاہِ جم جاہ نے دالہے لطف و عنایاتِ شہنشاہ پہ دال
یہ شاہ پسند دال بے بحث و جدالہے دولت و دین و دانش و داد کی دال
رباعی ۹
ہیں شہ میں صفاتِ ذوالجلالی باہمآثارِ جلالی و جمالی باہم
ہوں شاد نہ کیوں سافل و عالی باہمہے اب کے شبِ قدر و دوالی باہم
رباعی ۱۰
دیکھ وہ برق تبسم بس کہ دل بیتاب ہےدیدۂ گریاں مرا فوارۂ سیماب ہے
کھول کر دروازۂ میخانہ بولا مے فروشاب شکست توبہ میخواروں کو فتح الباب ہے
رباعی ۱۱
ہر چند کہ دوستی میں کامل ہوناممکن نہیں یک زبان و یک دل ہونا
میں تجھ سے اور مجھ سے تو پوشیدہہے مفت نگاہ کا مقابل ہونا
رباعی ۱۲
سامان ہزار جستجو یعنی دلساغر کش خون آرزو یعنی دل
پشت و رخ آئنہ ہے دین و دنیامنظور ہے دو جہاں سے نو یعنی دل
رباعی ۱۳
اے کاش بتاں کا خنجر سینہ شگافپہلوے حیات سے گزر جاتا صاف
اک تسمہ لگا رہا کہ تا روزے چندرہیے نہ مشقت گدائی سے معاف
رباعی ۱۴
اے کثرت فہم بے شمار اندیشہہے اصل خرد سے شرمسار اندیشہ
یک قطرۂ خون و دعوت صد نشتریک وہم و عبادت ہزار اندیشہ
رباعی ۱۵
دل سوز جنوں سے جلوہ منظر ہے آجنیرنگ زمانہ فتنہ پرور ہے آج
یک تار نفس میں جوں طناب صباغہر پارۂ دل بہ رنگ دیگر ہے آج
رباعی ۱۶
گر جوہر امتیاز ہوتا ہم میںرسوا کرتے نہ آپ کو عالم میں
ہیں نام و نگیں کمیں گہ نقب شعوریہ چور پڑا ہے خانۂ خاتم میں
رباعی ۱۷
جن لوگوں کو ہے مجھ سے عداوت گہریکہتے ہیں وہ مجھ کو رافضی اور دہری
دہری کیوں کر ہو جو کہ ہووے صوفیشیعی کیوں کر ہو ماور النہری
رباعی ۱۸
اصحاب کو جو کہ ناسزا کہتے ہیںسمجھیں تو ذرا دل میں کہ کیا کہتے ہیں
سمجھا تھا نبی نے ان کو اپنا ہمدمہے ہے نہ کہو کسے برا کہتے ہیں
رباعی ۱۹
یاران رسول یعنی اصحاب کبارہیں گرچہ بہت خلیفہ ان میں ہیں چار
ان چار میں ایک سے ہو جس کو انکارغالبؔ وہ مسلمان نہیں ہے زنہار
رباعی ۲۰
یاران نبی میں تھی لڑائی کس میںالفت کی نہ تھی جلوہ نمائی کس میں
وہ صدق وہ عدل وہ حیا اور وہ علمبتلاؤ کوئی کہ تھی برائی کس میں
رباعی ۲۱
یاران نبی سے رکھ تولّا باللہہر یک ہے کمال دیں میں یکتا باللہ
وہ دوست نبی کے اور تم ان کے دشمنلا حول ولا قوۃ الا باللہ
رباعی ۲۲
رقعے کا جواب کیوں نہ بھیجا تم نےثاقب حرکت یہ کی ہے بیجا تم نے
حاجی کلو کو دے کے بے وجہ جوابغالبؔ کا پکا دیا کلیجا تم نے
رباعی ۲۳
اے روشنی دیدہ شہاب الدین خاںکٹتا ہے بتاؤ کس طرح سے رمضاں
ہوتی ہے تراویح سے فرصت کب تکسنتے ہو تراویح میں کتنا قرآں
رباعی ۲۴
اے منشی خیرہ سر سخن ساز نہ ہوعصفور ہے تو مقابل باز نہ ہو
آواز تری نکلے اور آواز کے ساتھلاٹھی وہ لگے کہ جس میں آواز نہ ہو
رباعی ۲۵
بے گریہ کمال ترجبینی ہے مجھےدر بزم وفا خجل نشینی ہے مجھے
محروم صدا رہا بغیر از یک تارابریشم ساز موے چینی ہے مجھے
رباعی ۲۶
گلخن شرر اہتمام بستر ہے آجیعنی تب عشق شعلہ پرور ہے آج
ہوں درد ہلاک نامہ بر سے بیمارقارورہ مرا خون کبوتر ہے آج
رباعی ۲۷
ہم گرچہ بنے سلام کرنے والےکرتے ہیں درنگ کام کرنے والے
کہتے ہیں کہیں خدا سے اللہ اللہوہ آپ ہیں صبح و شام کرنے والے
رباعی ۲۸
اس رشتے میں لاکھ تار ہوں بلکہ سوااتنے ہی برس شمار ہوں بلکہ سوا
ہر سینکڑے کو ایک گرہ فرض کریںایسی گرہیں ہزار ہوں بلکہ سوا
رباعی ۲۹
حق شہ کی بقا سے خلق کو شاد کرےتاشاہ شیوع دانش و داد کرے
یہ دی جو گئی ہے رشتۂ عمر میں گانٹھہے صفر کہ افزایش اعداد کرے
رباعی ۳۰
سامان خور و خواب کہاں سے لاؤںآرام کے اسباب کہاں سے لاؤں
روزہ مرا ایمان ہے غالبؔ لیکنخس خانہ و برفاب کہاں سے لاؤں
رباعی ۳۱
ان سیم کے بیجوں کو کوئی کیا جانےبھیجے ہیں جو ارمغاں شہ والا نے
گن کر دیویں گے ہم دعائیں سو بارفیروزے کی تسبیح کے ہیں یہ دیوانے
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.