Urdu in Translation
搜索

第 15 章,共 16 章

Qit'as and Sehras

قطعات اور سہرے

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

قطعات

قطعہ در نمایشِ عنوانِ دلاویزیِ گفتار و آسان کردنِ اندوہِ پشیمانی بر دلِ دلدار

گئے وہ دن کہ نا دانستہ غیروں کی وفاداریکیا کرتے تھے تم تقریر، ہم خاموش رہتے تھے

بس اب بگڑے پہ کیا شرمندگی، جانے دو، مل جاؤقسم لو ہم سے گر یہ بھی کہیں کیوں ہم نہ کہتے تھے

قطعہ در ستایشِ کلکتہ

کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیںاک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے

وہ سبزہ زار ہائے مطرا کہ ہے غضبوہ نازنیں بتانِ خود آرا کہ ہائے ہائے

صبر آزما وہ ان کی نگاہیں کہ حف نظرطاقت ربا وہ ان کا اشارا کہ ہائے ہائے

وہ میوہ ہائے تازۂ شیریں کہ واہ واہوہ بادہ ہائے نابِ گوارا کہ ہائے ہائے

چکنی سپاری پر قطعہ

ہے جو صاحب کے کفِ دست پہ یہ چکنی ڈلیزیب دیتا ہے اسے جس قدر اچھا کہیے

خامہ انگشت بہ دنداں کہ اسے کیا لکھیےناطقہ سر بہ گریباں کہ اسے کیا کہیے

مہرِ مکتوبِ عزیزانِ گرامی لکھیےحرزِ بازوئے شگرفانِ خود آرا کہیے

مسی آلود سر انگشتِ حسیناں لکھیےداغِ طرفِ جگرِ عاشقِ شیدا کہیے

خاتمِ دستِ سلیماں کے مشابہ لکھیےسرِ پستانِ پری زاد سے مانا کہیے

اخترِ سوختۂ قیس سے نسبت دیجےخالِ مشکینِ رخِ دلکشِ لیلیٰ کہیے

حجر الاسودِ دیوارِ حرم کیجے فرضنافہ آہوئے بیابانِ ختن کا کہیے

وضع میں اس کو اگر سمجھیے قافِ تریاقرنگ میں سبزۂ نوخیزِ مسیحا کہیے

صومعے میں اسے ٹھہرائیے گر مہرِ نمازمے کدے میں اسے خشتِ خمِ صہبا کہیے

کیوں اسے قفلِ درِ گنجِ محبت لکھیےکیوں اسے نقطۂ پرکارِ تمنا کہیے

کیوں اسے گوہرِ نایاب تصور کیجےکیوں اسے مردمکِ دیدۂ عنقا کہیے

کیوں اسے تکمۂ پیراہنِ لیلیٰ لکھیےکیوں اسے نقشِ پئے ناقۂ سلمیٰ کہیے

بندہ پرور کے کفِ دست کو دل کیجے فرضاور اس چکنی سپاری کو سویدا کہیے

قطعہ: خوشی ہے یہ آنے کی برسات کے

خوشی ہے یہ آنے کی برسات کےپییں بادۂ ناب اور آم کھائیں

سر آغاز موسم میں اندھے ہیں ہمکہ دلی کو چھوڑیں لوہارو کو جائیں

سو اناج کے جو ہے مقلوب جاںنہ واں آم پائیں نہ انگور پائیں

ہوا حکم باورچیوں کو کہ ہاںابھی جا کے پوچھو کہ کل کیا پکائیں

وہ کھٹے کہاں پائیں املی کے پھولوہ کڑوے کریلے کہاں سے منگائیں

فقط گوشت سو بھیڑ کا ریشے دارکہو اس کو کیا کھا کے ہم حظ اٹھائیں

قطعہ: نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نے

نہ پوچھ اس کی حقیقت حضور والا نےمجھے جو بھیجی ہے بیسن کی روغنی روٹی

نہ کھاتے گیہوں نکلتے نہ خلد سے باہرجو کھاتے حضرت آدم یہ بیسنی روٹی

قطعہ: سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاں

سلیم خاں کہ وہ ہے نور چشم واصل خاںحکیم حاذق و دانا ہے وہ لطیف کلام

تمام دہر میں اس کے مطب کا چرچا ہےکسی کو یاد بھی لقمان کا نہیں ہے نام

اسے فضائل علم و ہنر کی افزایشہوئی ہے مبدع عالم سے اس قدر انعام

کہ بحث علم میں اطفال ابجدی اس کےہزار بار فلاطوں و دے چکے الزام

عجیب نسخہ نادر لکھا ہے ایک اس نےکہ جس میں حکمت و طب ہی کے مسئلے ہیں تمام

نہیں کتاب ہے اک منبع نکات بدیعنہیں کتاب ہے اک معدن جواہر کام

کل اس کتاب کے سال تمام میں جو مجھےکمال فکر میں دیکھا خرد نے بے آرام

کہا یہ جلد کہ تو اس میں سوچتا کیا ہےلکھا ہے نسخہ تحفہ یہی ہے سال تمام

قطعہ: اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیر

اے شہنشاہ فلک منظر بے مثل و نظیراے جہاندار کرم شیوۂ بے شبہ و عدیل

پانو س تیرے ملے فرق ارادت اورنگفرق سے تیرے کرے کسب سعادت اکلیل

تیرا انداز سخن شانۂ زلف الہامتیری رفتار قلم جنبش بال جبریل

تجھ سے عالم پہ کھلا رابطۂ قرب کلیمتجھ سے دنیا میں بچھا مائدہ بذل خلیل

بہ سخن اوج وہ مرتبۂ معنی و لفظبہ کرم داغ نہ ناصیۂ قلزم و نیل

تاترے وقت میں ہو عیش و طرب کی توفیرتاترے عہد میں ہو رنج و الم کی تقلیل

ماہ نے چھوڑ دیا ثور سے جانا باہرزہرہ نے ترک کیا حوت سے کرنا تحویل

تیری دانش مری اصلاح مفاسد کی رہینتیری بخشش مرے انجاح مقاصد کی کفیل

تیرا اقبال ترحم مرے جینے کی نویدتیرا انداز تغافل مرے مرنے کی دلیل

بخت ناساز نے چاہا کہ نہ دے مجھ کو اماںچرخ کج باز نے چاہا کہ کرے مجھ کو ذلیل

پیچھے ڈالی ہے سر رشتۂ اوقات میں گانٹھپہلے ٹھونکی ہے بن ناخن تدبیر میں کیل

تپش دل نہیں بے رابطۂ خوف عظیمکشش دم نہیں بے ضابطۂ جر ثقیل

در معنی سے مرا صفحہ لقا کی داڑھیغم گیتی سے مرا سینہ عمر کی زنبیل

فکر میری گہر اندوز اشارات کثیرکلک میری رقم آموز عبارات قلیل

میرے ابہام پہ ہوتی ہے تصدق توضیحمیرے اجمال سے کرتی ہے تراوش تفصیل

نیک ہوتی مری حالت تو نہ دیتا تکلیفجمع ہوتی مری خاطر تو نہ کرتا تعجیل

قبلۂ کون و مکاں خستہ نوازی میں یہ دیرکعبۂ امن و اماں عقدہ کشائی میں یہ ڈھیل

قطعہ: ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہے

ہندوستان کی بھی عجب سر زمین ہےجس میں وفا و مہر و محبت کا ہے وفور

جیسا کہ آفتاب نکلتا ہے شرق سےاخلاص کا ہوا ہے اسی ملک سے ظہور

ہے اصل تخم ہند سے اور اس زمین سےپھیلا ہے سب جہان میں یہ میوہ دور دور

قطعہ: ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیں

ہند میں اہل تسنن کی ہیں دو سلطنتیںحیدرآباد دکن رشک گلستان ارم

رامپور اہل نظر کی ہے نظر میں وہ شہرکہ جہاں ہشت بہشت آ کے ہوئے ہیں باہم

حیدرآباد بہت دور ہے اس ملک کے لوگاس طرف کو نہیں جاتے ہیں جو جاتے ہیں تو کم

رام پور آج ہے وہ بقعہ معمور کہ ہےمرجع و مجمع اشراف نژاد آدم

رام پور ایک بڑا باغ ہے از روے مثالدلکش و تازہ و شاداب و وسیع و خرم

جس طرح باغ میں ساون کی گھٹائیں برسیںہے اسی طور پہ یاں دجلہ فشاں دست کرم

ابر دست کرم کلب علی خاں سے مدامدر شہوار ہیں جو گرتے ہیں قطرے پیہم

صبح دم باغ میں آ جائے جسے ہو نہ یقیںسبزہ و برگ گل و لالہ پہ دیکھے شبنم

حبذا باغ ہمایون تقدس آثارکہ جہاں چرنے کو آتے ہیں غزالان حرم

مسلک شرع کے ہیں راہرو و راہ شناسخضر بھی یاں اگر آجائے تو لے ان کے قدم

مدح کے بعد دعا چاہیے اور اہل سخناس کو کرتے ہیں بہت بڑھ کے بہ اغراق رقم

حق سے کیا مانگیے ان کے لیے جب ہو موجودملک و گنجینہ و خیل و سپہ و کوس و علم

ہم نہ تبلیغ کے مائل نہ غلو کے قائلدو دعائیں ہیں کہ وہ دیتے ہیں نواب کو ہم

یا خدا غالبؔ عاصی کے خدا وند کو دےدو وہ چیزیں کہ طلبگار ہے جن کا عالم

اولاً عمر طبیعی بہ دوام اقبالثانیاً دولت دیدار شہنشاہ امم

قطعہ: جب کہ سید غلام بابا نے

جب کہ سید غلام بابا نےمسند عیش پر جگہ پائی

ایسی رونق ہوئی برات کی راتکہ کواکب ہوے تماشائی

قطعہ: خجستہ انجمن طوے میرزا جعفر

خجستہ انجمن طوے میرزا جعفرکہ جس کے دیکھے سے سب کا ہوا ہے جی محظوظ

ہوئی ہے ایسے ہی فرخندہ سال میں غالبؔنہ کیوں ہو مادۂ سال عیسوی محظوظ

قطعہ: ہزار شکر کہ سید غلام بابا نے

ہزار شکر کہ سید غلام بابا نےفراز مسند عیش و طرب جگہ پائی

زمیں پہ ایسا تماشا ہوا برات کی راتکہ آسماں پہ کواکب بنے تماشائی

قطعہ: مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قل

مسلمانوں کے میلوں کا ہوا قلپجے ہے جوگ مایا اور دیبی

نشاں باقی نہیں ہے سلطنت کامگر ہاں نام کو اورنگ زیبی

قطعہ: ہوئی جب میرزا جعفر کی شادی

ہوئی جب میرزا جعفر کی شادیہوا بزم طرب میں رقص ناہید

کہا غالبؔ سے تاریخ اس کی کیا ہےتو بولا انشراح جشن جمشید

قطعہ: سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لے

سیہ گلیم ہوں لازم ہے میرا نام نہ لےجہاں میں جو کوئی فتح و ظفر کا طالب ہے

ہوا نہ غلبہ میسر کبھی کسی پہ مجھےکہ جو شریک ہو میرا شریک غالبؔ ہے

قطعہ: ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلو

ہے چار شنبہ آخر ماہ صفر چلورکھ دیں چمن میں بھر کے مئے مشکبو کی ناند

جو آئے جام بھر کے پیے اور ہو کے مستسبزے کو روندتا پھرے پھولوں کو جائے پھاند

غالبؔ یہ کیا بیاں ہے بجز مدح بادشاہبھاتی نہیں ہے اب مجھے کوئی نوشت خواند

بٹتے ہیں سونے روپے کے چھلے حضور میںہے جن کے آگے سیم و زر مہر و ماہ ماند

یوں سمجھیے کہ بیچ سے خالی کیے ہوئےلاکھوں ہی آفتاب ہیں اور بے شمار چاند

قطعہ: سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑی

سہل تھا مسہل و لے یہ سخت مشکل آپڑیمجھ پہ کیا گزرے گی اتنے روز حاضر بن ہوے

تین دن مسہل سے پہلے تین دن مسہل کے بعدتین مسہل تین تبریدیں یہ سب کے دن ہوے

قطعہ: منظور ہے گزارش احوال واقعی

منظور ہے گزارش احوال واقعیاپنا بیان حسن طبیعت نہیں مجھے

سو پشت سے ہے پیشۂ آبا سپہ گریکچھ شاعری ذریعۂ عزت نہیں مجھے

آزادہ رو ہوں اور مرا مسلک ہے صلح کلہرگز کبھی کسی سے عداوت نہیں مجھے

کیا کم ہے یہ شرف کہ ظفرؔ کا غلام ہوںمانا کہ جاہ و منصب و ثروت نہیں مجھے

استاد شہ سے ہو مجھے پرخاش کا خیالیہ تاب یہ مجال یہ طاقت نہیں مجھے

جام جہاں نما ہے شہنشاہ کا ضمیرسوگند اور گواہ کی حاجت نہیں مجھے

میں کون اور ریختہ ہاں اس سے مدعاجز انبساط خاطر حضرت نہیں مجھے

صحرا لکھا گیا ز رہ امتثال امردیکھا کہ چارہ غیر اطاعت نہیں مجھے

مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ باتمقصود اس سے قطع محبت نہیں مجھے

روئے سخن کسی کی طرف ہو تو رو سیاہسودا نہیں جنوں نہیں وحشت نہیں مجھے

قسمت بری سہی پہ طبیعت بری نہیںہے شکر کی جگہ کہ شکایت نہیں مجھے

صادق ہوں اپنے قول میں غالبؔ خدا گواہکہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے

قطعہ: نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھے

نصرت الملک بہادر مجھے بتلا کہ مجھےتجھ سے جو اتنی ارادت ہے تو کس بات سے ہے

گرچہ تو وہ ہے کہ ہنگامہ اگر گرم کرےرونق بزم مہ مہر تری ذات سے ہے

اور میں وہ ہوں کہ گر جی میں کبھی غور کروںغیر کیا خود مجھے نفرت مری اوقات سے ہے

خستگی کا ہو بھلا جس کے سبب سے سر دستنسبت اک گونہ مرے دل کو ترے ہات سے ہے

ہاتھ میں تیرے رہے تو سن دولت کی عناںیہ دعا شام و سحر قاضی حاجات سے ہے

تو سکندر ہے مرا فخر ہے ملنا تیراگو شرف خضر کی بھی مجھ کو ملاقات سے ہے

اس پہ گزرے نہ گماں ریوو ریا کا زنہارغالبؔ خاک نشیں اہل خرابات سے ہے

قطعہ: مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاک

مقام شکر ہے اے ساکنان خطہ خاکرہا ہے زور سے ابر ستارہ بار برس

کہاں ہے ساقی مہوش کہاں ہے ابر مطیربیار لامئے گلنار گوں ببار برس

خدا نے تجھ کو عطا کی ہے گوہر افشانیدر حضور پر اے ابر بار بار برس

ہر ایک قطرے کے ساتھ آئے جو ملک وہ کہےامیر کلب علی خاں جییں ہزار برس

فقط ہزار برس پر کچھ انحصار نہیںکئی ہزار برس بلکہ بے شمار برس

جناب قبلۂ حاجات اس بلا کش نےبڑے عذاب سے کاٹے ہیں پانچ چار برس

شفا ہو آپ کو غالبؔ کو بند غم سے نجاتخدا کرے کہ یہ ایسا ہو سازگار برس

قطعہ: مژدہ اے رہروان راہ سخن

مژدہ اے رہروان راہ سخنپایہ سنجان دست گاہ سخن

طے کرو راہ شوق زودا زودآن پہنچی ہے منزل مقصود

پاس ہے اب سواد اعظم نثردیکھیے چل کے نظم عالم نثر

سب کو اس کا سواد ارزانیچشم بینش ہو جس سے نورانی

یہ تو دیکھو کہ کیا نظر آیاجلوۂ مدعا نظر آیا

ہاں یہی شاہراہ دہلی ہےمطبع بادشاہ دہلی ہے

منطبع ہو رہی ہے پنج آہنگگل و ریحان و لالہ رنگا رنگ

ہے یہ وہ گلشن ہمیشہ بہاربار ور جس کا سرو گل بے خار

نہیں اس کا جواب عالم میںنہیں ایسی کتاب عالم میں

اس سے انداز شوکت تحریراخذ کرتا ہے آسماں کا دبیر

مرحبا طرز نغز گفتاریحبذا رسم و راہ نثاری

نثر مدحت سراے ابراہیمہے مقرر جو اب پئے تعلیم

اس کے فقروں میں کون آتا ہےکیا کہیں کیا وہ راگ گاتا ہے

تین نثروں سے کام کیا نکلےان کے پڑھنے سے نام کیا نکلے

ورزش قصہ کہن کب تکداستان شہ دکن کب تک

تا کجا درس نثر ہاے کہنتازہ کرتا ہے دل کو تازہ سخن

تھے ظہوری و عرفی و طالباپنے اپنے زمانے میں غالبؔ

نہ ظہوری ہے اور نہ طالب ہےاسد اللہ خاں غالبؔ ہے

قول حافظ کا ہے بجا اے دوستہر کر اپنج روز نوبت اوست

کل وہ سرگرم خودنمائی تھےشمع بزم سخن سرائی تھے

آج یہ قدر دان معنی ہےبادشاہ جہان معنی ہے

نثر اس کی ہے کارنامۂ رازنظم اس کی نگار نامۂ راز

دیکھو اس دفتر معانی کوسیکھو آئین نکتہ دانی کو

اس سے جو کوئی بہرہ ور ہو گاسینہ گنجینۂ گہر ہو گا

ہو سخن کی جسے طلب گاریکرے اس نسخے کی خریداری

آج جو دیدہ ور کرے درخواستتین بھیجے رپے وہ بے کم و کاست

منطبع جب کہ ہو چکے گی کتابزر قیمت کا ہو گا اور حساب

چار سے پھر نہ ہو گی کم قیمتاس سے لیویں گے کم نہ ہم قیمت

جس کو منظور ہو کہ زر بھیجےاحسن اللہ خاں کے گھر بھیجے

وہ بہار ریاض مہر و وفاجس کو کہتے ہیں عمدۃ الحکما

میں جو ہوں در پے حصول شرفنام عاصی کا ہے غلام نجف

ہے یہ القصہ حاصل تحریرکہ نہ ارسال زر میں ہو تاخیر

چشمۂ انطباع جاری ہےابتداے ورق شماری ہے

قطعہ: گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیں

گو ایک بادشاہ کے سب خانہ زاد ہیںدربار دار لوگ بہم آشنا نہیں

کانوں پہ ہاتھ دھرتے ہیں کرتے ہوئے سلاماس سے ہے یہ مراد کہ ہم آشنا نہیں

قطعہ: اے شہنشاہ آسماں اورنگ

اے شہنشاہ آسماں اورنگاے جہاں دار آفتاب آثار

تھا میں اک بے نواے گوشہ نشیںتھا میں اک درد مند سینہ فگار

تم نے مجھ کو جو آبرو بخشیہوئی میری وہ گرمی بازار

کہ ہوا مجھ سا ذرہ ناچیزروشناس ثوابت و سیار

گرچہ از روے ننگ بے ہنریہوں خود اپنی نظر میں اتنا خوار

کہ گر اپنے کو میں کہوں خاکیجانتا ہوں کہ آئے خاک کو عار

شاد ہوں لیکن اپنے جی میں کہ ہوںبادشہ کا غلام کار گزار

خانہ زاد اور مرید اور مداحتھا ہمیشہ سے یہ عریضہ گزار

بارے نوکر بھی ہو گیا صد شکرنسبتیں ہو گئیں مشخص چار

نہ کہوں آپ سے تو کس سے کہوںمدعاے ضروری الاظہار

پیر و مرشد اگرچہ مجھ کو نہیںذوق آرایش سرود ستار

کچھ تو جاڑے میں چاہیے آخرتا نہ دے باد زمہریر آزار

کیوں نہ درکار ہو مجھے پوششجسم رکھتا ہوں ہے اگرچہ نزار

کچھ خریدا نہیں ہے اب کے سالکچھ بنایا نہیں ہے اب کی بار

رات کو آگ اور دن کو دھوپبھاڑ میں جائیں ایسے لیل و نہار

آگ تاپے کہاں تلک انساںدھوپ کھاوے کہاں تلک جاں دار

دھوپ کی یابش آگ کی گرمیوقنا ربنا عذاب النار

میری تنخواہ جو مقرر ہےاس کے ملنے کا ہے عجب ہنجار

رسم ہے مردے کی چھ ماہی ایکخلق کا ہے اسی چلن پہ مدار

مجھ کو دیکھو تو ہوں بقید حیاتاور چھ ماہی ہو سال میں دوبار

بس کہ لیتا ہوں ہر مہینے قرضاور رہتی ہے سود کی تکرار

میری تنخواہ میں تہائی کاہو گیا ہے شریک ساہوکار

آج مجھ سا نہیں زمانے میںشاعر نغز گوے خوش گفتار

رزم کی داستان گر سنیےہے زباں میری تیغ جوہر دار

بزم کا التزام گر کیجیےہے قلم میری ابر گوہر بار

ظلم ہے گر نہ دو سخن کی دادقہر ہے گر کرو نہ مجھ کو پیار

آپ کا بندہ اور پھروں ننگاآپ کا نوکر اور کھاؤں ادھار

میری تنخواہ کیجیے ماہ بماہتا نہ ہو مجھ کو زندگی دشوار

ختم کرتا ہوں اب دعا پہ کلامشاعری سے نہیں مجھے سروکار

تم سلامت رہو ہزار برسہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار

قطعہ: اس کتاب طرب نصاب نے جب

اس کتاب طرب نصاب نے جبآب و تاب انطباع کی پائی

فکر تاریخ سال میں مجھ کوایک صورت نئی نظر آئی

ہندسے پہلے سات سات کے دودیے ناگاہ مجھ کو دکھلائی

اور پھر ہندسہ تھا بارہ کابا ہزاراں ہزار زیبائی

سال ہجری نو ہو گیا معلومبے شمول عبارت آرائی

مگر اب ذوق بذلہ سنجی کوہے جداگانہ کارفرمائی

سات اور سات ہوتے ہیں چودہبہ امید سعادت افزائی

غرض اس سے ہیں چار دہ معصومجس سے ہے چشم جاں کو بینائی

اور بارہ امام ہیں بارہجس سے ایماں کو ہے توانائی

ان کو غالبؔ یہ سال اچھا ہےجو ائمہ کے ہیں تولائی

قطعہ: گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلم

گڑگانویں کی ہے جتنی رعیت وہ یک قلمعاشق ہے اپنے حاکم عادل کے نام کی

سویہ نظر فروز قلم دان نذر ہےمسٹر کوان صاحب عالی مقام کی

قطعہ: افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہو

افطار صوم کی کچھ اگر دستگاہ ہواس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے

جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہ ہوروزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے

سہرے

سہرا: خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہرا

خوش ہو اے بخت کہ ہے آج ترے سر سہراباندھ شہزادہ جواں بخت کے سر پر سہرا

کیا ہی اس چاند سے مکھڑے پہ بھلا لگتا ہےہے ترے حسن دل افروز کا زیور سہرا

سر پہ چڑھنا تجھے پھبتا ہے پر اے طرف کلاہمجھ کو ڈر ہے کہ نہ چھینے ترا لمبر سہرا

ناؤ بھر کر ہی پروئے گئے ہوں گے موتیورنہ کیوں لائے ہیں کشتی میں لگا کر سہرا

سات دریا کے فراہم کیے ہوں گے موتیتب بنا ہو گا اس انداز کا گز بھر سہرا

رخ پہ دولھا کے جو گرمی سے پسینا ٹپکاہے رگ ابر گہر بار سراسر سہرا

یہ بھی اک بے ادبی تھی کہ قبا سے بڑھ جائےرہ گیا آن کے دامن کے برابر سہرا

جی میں اترائیں نہ موتی کہ ہمیں ہیں اک چیزچاہیے پھولوں کا بھی ایک مقرر سہرا

جب کہ اپنے میں سماویں نہ خوشی کے مارےگوندھے پھولوں کا بھلا پھر کوئی کیوں کر سہرا

رخ روشن کی دمک گوہر غلطاں کی چمککیوں نہ دکھلاوے فروغ مہ و اختر سہرا

تار ریشم کا نہیں ہے یہ رگ ابر بہارلائے گا تاب گراں باری گوہر سہرا

ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرفدار نہیںدیکھیں اس سہرے سے کہدے کوئی بڑھ کر سہرا

سہرا: چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہرا

چرخ تک دھوم ہے کس دھوم سے آیا سہراچاند کا دائرہ لے زہرہ نے گایا سہرا

جسے کہتے ہیں خوشی اس نے بلائیں لے کرکبھی چوما کبھی آنکھوں سے لگایا سہرا

رشک سے لڑتی ہیں آپس میں الجھ کر لڑیاںباندھنے کو جو ترے سر پہ اٹھایا سہرا

صاف آتی ہیں نظر آب گہر کی لہریںجنبش باد سحر نے جو ہلایا سہرا

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。