Urdu in Translation
搜索

第 14 章,共 16 章

Qasidas

قصائد

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

منتخب قصیدۂ منقبتِ علی مرتضیٰ علیہ السلام

سازِ یک ذرّہ نہیں فیضِ چمن سے بیکارسایۂ لالۂ بے داغ سویدائے بہار

مستیٔ بادِ صبا سے ہے بہ عرضِ سبزہریزۂ شیشۂ مے جوہرِ تیغِ کہسار

سبز ہے جامِ زمرّد کی طرح داغِ پلنگتازہ ہے ریشۂ نارنج صفت روئے شرار

مستئِ ابر سے گلچینِ طرب ہے حسرتکہ اس آغوش میں ممکن ہے دو عالم کا فِشار

کوہ و صحرا ہمہ معمورئِ شوقِ بلبلراہِ خوابیدہ ہوئی خندۂ گل سے بیدار

سونپے ہے فیضِ ہوا صورتِ مژگانِ یتیمسر نوشتِ دو جہاں ابر بہ یک سطرِ غبار

کاٹ کر پھینکئے ناخن جو باندازِ ہلالقوت نامیہ اس کو بھی نہ چھوڑے بیکار

کفِ ہر خاک بہ گردون شدہ قمری پروازدامِ ہر کاغذِ آتش زدہ طاؤسِ شکار

مے کدے میں ہو اگر آرزوئے گل چینیبھول جا یک قدحِ بادہ بہ طاقِ گلزار

موجِ گل ڈھونڈھ بہ خلوت کدۂ غنچۂ باغگُم کرے گوشۂ مے خانہ میں گر تو دستار

کھینچے گر مانیٔ اندیشہ چمن کی تصویرسبزہ مثلِ خطِ نو خیز ہو خطِّ پرکار

لعل سے کی ہے پئے زمزمۂ مدحتِ شاہطوطئِ سبزۂ کہسار نے پیدا منقار

واں کی خاشاک سے حاصل ہو جسے یک پرِ کاہوہ رہے مروحۂ بالِ پری سے بیزار

خاکِ صحرائے نجف جوہرِ سیرِ عُرفاچشمِ نقشِ قدم آئینۂ بختِ بیدار

ذرّہ اس گرد کا خورشید کو آئینہ نازگرد اُس دشت کی اُمّید کو احرامِ بہار

آفرینش کو ہے واں سے طلبِ مستیٔ نازعرضِ خمیازۂ ایجاد ہے ہر موجِ غبار

فیض سے تیرے ہے اے شمعِ شبستانِ بہاردلِ پروانہ چراغاں، پرِ بلبل گلنار

شکلِ طاؤس کرے آئینہ خانہ پروازذوق میں جلوے کے تیرے بہ ہوائے دیدار

تیری اولاد کے غم سے ہے بروئے گردوںسِلکِ اختر میں مہِ نو مژۂ گوہر بار

ہم عبادت کو، ترا نقشِ قدم مُہرِ نمازہم ریاضت کو، ترے حوصلے سے استظہار

مدح میں تیری نہاں زمزمۂ نعتِ نبیجام سے تیرے عیاں بادۂ جوشِ اسرار

جوہرِ دستِ دعا آئینہ یعنی تاثیریک طرف نازشِ مژگان و دگر سو غمِ خار

مَردُمک سے ہو عزا خانۂ اقبالِ نگاہخاکِ در کی ترے جو چشم نہ ہو آئینہ دار

دشمنِ آلِ نبی کو بہ طرب خانۂ دہرعرضِ خمیازۂ سیلاب ہوطاقِ دیوار

دیدہ تا دل اسد آئینۂ یک پرتوِ شوقفیضِ معنی سے خطِ ساغرِ راقم سرشار

انتخابِ قصیدۂ منقبتِ علی مرتضیٰ علیہ السلام

دہر جز جلوۂ یکتائیِ معشوق نہیںہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں

بے دلی ہائے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوقبے کسی ہائے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں

ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بمِ ہستی و عدملغو ہے آئینۂ فرقِ جنون و تمکیں

نقشِ معنی ہمہ خمیازۂ عرضِ صورتسخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں

لافِ دانش غلط و نفعِ عبادت معلومدُردِ یک ساغرِ غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں

مثلِ مضمونِ وفا باد بہ دستِ تسلیمصورتِ نقشِ قدم خاک بہ فرقِ تمکیں

عشق بے ربطیِ شیرازۂ اجزائے حواسوصل زنگارِ رخِ آئینۂ حسنِ یقیں

کوہکن گرسنہ مزدورِ طرب گاہِ رقیببے ستوں آئینۂ خوابِ گرانِ شیریں

کس نے دیکھا نفَسِ اہلِ وفا آتش خیزکس نے پایا اثرِ نالۂ دل ہائے حزیں

سامعِ زمزمۂ اہلِ جہاں ہوں لیکننہ سر و برگِ ستائش نہ دماغِ نفریں

کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہیک قلم خارجِ آدابِ وقار و تمکیں

نقشِ لاحول لکھ اے خامۂ ہذیاں تحریریا علی عرض کر اے فطرتِ وسواس قریں

مظہرِ فیضِ خدا جان و دلِ ختمِ رسلقبلۂ آلِ نبی کعبۂ ایجادِ یقیں

ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرمِ خرامہر کفِ خاک ہے واں گردۂ تصویرِ زمیں

جلوہ پرداز ہو نقشِ قدم اس کا جس جاوہ کفِ خاک ہے ناموسِ دو عالم کی امیں

نسبتِ نام سے اس کی ہے یہ رتبہ کہ رہےابداً پشتِ فلک خم شدۂ نازِ زمیں

فیضِ خلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدابوئے گل سے نفَسِ بادِ صبا عطر آگیں

برشِ تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچاقطع ہو جائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں

کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹےرنگِ عاشق کی طرح رونقِ بت خانۂ چیں

جاں پناہا! دل و جاں فیض رسانا! شاہا!وصیِ ختمِ رسل تو ہے بہ فتوائے یقیں

جسمِ اطہر کو ترے دوشِ پیمبر منبرنامِ نامی کو ترے ناصیۂ عرش نگیں

کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجبشعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں

آستاں پر ہے ترے جوہرِ آئینۂ سنگرقمِ بندگیِ حضرتِ جبریلِ امیں

تیرے در کے لیے اسبابِ نثار آمادہخاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں

تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباںتیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں

کس سے ہو سکتی ہے مداحیِ ممدوحِ خداکس سے ہو سکتی ہے آرائشِ فردوسِ بریں

جنسِ بازارِ معاصی اسد اللہ اسدکہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں

شوخیِ عرضِ مطالب میں ہے گستاخِ طلبہے ترے حوصلۂ فضل پہ از بس کہ یقیں

دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسنِ قبولکہ اجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں

غمِ شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریزکہ رہیں خونِ جگر سے مری آنکھیں رنگیں

طبع کو الفتِ دلدل میں یہ سرگرمیِ شوقکہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں

دلِ الفت نسب و سینۂ توحید فضانگہِ جلوہ پرست و نفَسِ صدق گزیں

صرفِ اعدا اثرِ شعلہ و دودِ دوزخوقفِ احباب گل و سنبلِ فردوسِ بریں

قصیدہ در مدحِ بہادر شاہ ظفر

صبح دم دروازۂ خاور کھلامہر عالم تاب کا منظر کھلا

خسرو انجم کے آیا صرف میںشب کو تھا گنجینۂ گوہر کھلا

وہ بھی تھی اک سیمیا کی سی نمودصبح کو راز مہ و اختر کھلا

ہیں کواکب کچھ نظر آتے ہیں کچھدیتے ہیں دھوکا یہ بازی گر کھلا

سطح گردوں پر پڑا تھا رات کوموتیوں کا ہر طرف زیور کھلا

صبح آیا جانب مشرق نظراک نگار آتشیں رخ سر کھلا

تھی نظر بندی کیا جب رد سحربادۂ گلرنگ کا ساغر کھلا

لا کے ساقی نے صبوحی کے لیےرکھ دیا ایک جام زر کھلا

بزم سلطانی ہوئی آراستہکعبۂ امن و اماں کا در کھلا

تاج زریں مہر تاباں سے سواخسرو آفاق کے منہ پر کھلا

شاہ روشن دل بہادر شہ کو ہےراز ہستی اس پر سر تا سر کھلا

وہ کہ جس کی صورت تکوین میںمقصد نہ چرخ و ہفت اختر کھلا

وہ کہ جس کے ناخن تاویل سےعقدہ احکام پیغمبر کھلا

پہلے دارا کا نکل آیا ہے ناماس کے سرہنگوں کا جب دفتر کھلا

روشناسوں کی جہاں فہرست ہےواں لکھا ہے چہرۂ قیصر کھلا

توسن شہ میں ہے وہ خوبی کہ جبتھان سے وہ غیرت صرصر کھلا

نقش پا کی صورتیں وہ دلفریبتو کہے بت خانہ آزر کھلا

مجھ پہ فیض تربیت سے شاہ کےمنصب مہر و مہ و محور کھلا

لاکھ عقدے دل میں تھے لیکن ہر ایکمیری حد وسع سے باہر کھلا

تھا دل وابستہ قفل بے کلیدکس نے کھولا کب کھلا کیوں کر کھلا

باغ معنی کی دکھاؤں گا بہارمجھ سے گر شاہ سخن گستر کھلا

ہو جہاں گرم غزالخوانی نفسلوگ جانیں طبلۂ عنبر کھلا

غزل

کنج میں بیٹھا رہوں یوں پر کھلاکاش کے ہوتا قفس کا در کھلا

ہم پکاریں اور کھلے یوں کون جاےیار کا دروازہ پاویں گر کھلا

ہم کو ہے اس راز داری پر گھمنڈدوست کا ہے راز دشمن پر کھلا

واقعی دل پر بھلا لگتا تھا داغزخم لیکن داغ سے بہتر کھلا

ہاتھ رکھ دی کب ابرو نے کماںکب کمر سے غمزے کی خنجر کھلا

مفت کا کس کو برا ہے بدرقہرہروی میں پردۂ رہبر کھلا

سوز دل کا کیا کرے باران اشکآگ بھڑکی مینھ اگر دم بھر کھلا

نامے کے ساتھ آ گیا پیغام مرگرہ گیا خط میری چھاتی پر کھلا

دیکھیو غالبؔ سے گر الجھا کوئیہے ولی پوشیدہ اور کافر کھلا

پھر ہوا مدحت طرازی کا خیالپھر مہ و خرشید کا دفتر کھلا

خامے سے پائی طبیعت نے مددبادباں بھی اٹھتے ہی لنگر کھلا

مدح سے ممدوح کی دیکھی شکوہیاں عرض سے رتبۂ جوہر کھلا

مہر کانپا چرخ چکر کھا گیابادشہ کا رایت لشکر کھلا

بادشہ کا نام لیتا ہے خطیباب علو پایۂ منبر کھلا

سکۂ شہ کا ہوا ہے روشناساب عیار آبروے زر کھلا

شاہ کے آگے دھرا ہے آئنہاب مآل سعی اسکندر کھلا

ملک کے وارث کو دیکھا خلق نےاب فریب طغرل و سنجر کھلا

ہوسکے کیا مدح ہاں اک نام ہےدفتر مدح جہاں داور کھلا

فکر اچھی پر ستایش ناتمامعجز اعجاز ستایش گر کھلا

جانتا ہوں ہے خط لوح ازلتم پہ اے خاقان نام آور کھلا

تم کرو صاحب قرانی جب تلکہے طلسم روز و شب کا در کھلا

قصیدہ در مدحِ شاہ، بہ تقریبِ نوروز

اے شاہ جہانگیر جہاں بخش جہاں دارہے غیب سے ہر دم تجھے صد گونہ بشارت

جو عقدہ دشوار کہ کوشش سے نہ وا ہوتو وا کرے اس عقدے کو سو بھی بہ اشارت

ممکن ہے کرے خضر سکندر سے ترا ذکرگر لب کو نہ دے چشمۂ حیواں سے طہارت

آصف کو سلیماں کی وزارت سے شرف تھاہے فخر سلیماں جو کرے تیری وزارت

ہے نقش مریدی ترا فرمان الہیہے داغ غلامی ترا توقیع امارت

تو آب سے گر سلب کرے طاقت سیلاںتو آگ سے گر دفع کرے تاب شرارت

ڈھونڈے نہ ملے موجۂ دریا میں روانیباقی نہ رہے آتش سوزاں میں حرارت

ہے گرچہ مجھے نکتہ سرائی میں توغلہے گرچہ مجھے سحر طرازی میں مہارت

کیوں کر نہ کروں مدح کو میں ختم دعا پرقاصر ہے ستایش میں تری میری عبارت

نو روز ہے آج اور وہ دن ہے کہ ہوئے ہیںنظارگی صنعت حق اہل بصارت

تجھ کو شرف مہر جہاں تاب مبارکغالبؔ کو ترے عتبۂ عالی کی زیارت

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。