Urdu in Translation
搜索

第 11 章,共 16 章

Ghazals 205–227 (Radif Ye)

غزلیں ۲۰۵ تا ۲۲۷ (ردیف ی)

米尔扎·阿萨杜拉·汗·迦利布

文字
字号

ردیف ی

۲۰۵۔ حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے

حسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہےاس سے میرا مہِ خورشید جمال اچّھا ہے

بوسہ دیتے نہیں اور دل پہ ہے ہر لحظہ نگاہجی میں کہتے ہیں کہ مفت آئے تو مال اچّھا ہے

اور بازار سے لے آئے اگر ٹوٹ گیاساغرِ جم سے مرا جامِ سفال اچّھا ہے

بے طلب دیں تو مزہ اس میں سوا ملتا ہےوہ گدا جس کو نہ ہو خوۓ سوال اچّھا ہے

ان کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے منہ پر رونقوہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچّھا ہے

دیکھیے پاتے ہیں عشّاق بتوں سے کیا فیضاک برہمن نے کہا ہے کہ یہ سال اچّھا ہے

ہم سخن تیشے نے فرہاد کو شیریں سے کیاجس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچّھا ہے

قطرہ دریا میں جو مل جائے تو دریا ہو جائےکام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے

خضر سلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سر سبزشاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے

ہم کو معلوم ہے جنّت کی حقیقت لیکندل کے خوش رکھنے کو غالبؔ یہ خیال اچّھا ہے

۲۰۶۔ نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہی

نہ ہوئی گر مرے مرنے سے تسلّی نہ سہیامتحاں اور بھی باقی ہو تو یہ بھی نہ سہی

خار خارِ المِ حسرتِ دیدار تو ہےشوق گلچینِ گلستانِ تسلی نہ سہی

مے پرستاں خمِ مے منہ سے لگائے ہی بنےایک دن گر نہ ہوا بزم میں ساقی نہ سہی

نفسِ قیس کہ ہے چشم و چراغِ صحراگر نہیں شمعِ سیہ خانۂ لیلی نہ سہی

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونقنوحۂ غم ہی سہی نغمۂ شادی نہ سہی

نہ ستائش کی تمنّا نہ صلے کی پرواگر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی؟ نہ سہی

عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمرِ طبیعی نہ سہی

۲۰۷۔ عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگے

عجب نشاط سے جلاّد کے چلے ہیں ہم آگےکہ اپنے سائے سے سر پاؤں سے ہے دو قدم آگے

قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادۂ الفتفقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے

غمِ زمانہ نے جھاڑی نشاطِ عشق کی مستیوگرنہ ہم بھی اٹھاتے تھے لذّتِ الم آگے

خدا کے واسطے داد اس جنونِ شوق کی دیناکہ اس کے در پہ پہنچتے ہیں نامہ بر سے ہم آگے

یہ عمر بھر جو پریشانیاں اٹھائی ہیں ہم نےتمہارے آئیو اے طرّہ ہاۓ خم بہ خم آگے

دل و جگر میں پَر افشاں جو ایک موجۂ خوں ہےہم اپنے زعم میں سمجھے ہوئے تھے اس کو دم آگے

قسم جنازے پہ آنے کی میرے کھاتے ہیں غالبؔہمیشہ کھاتے تھے جو میری جان کی قسم آگے

۲۰۸۔ شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہے

شکوے کے نام سے بے مہر خفا ہوتا ہےیہ بھی مت کہہ کہ جو کہیے تو گِلا ہوتا ہے

پُر ہوں میں شکوے سے یوں، راگ سے جیسے باجااک ذرا چھیڑیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

گو سمجھتا نہیں پر حسنِ تلافی دیکھوشکوۂ جور سے سر گرمِ جفا ہوتا ہے

عشق کی راہ میں ہے چرخِ مکوکب کی وہ چالسست رو جیسے کوئی آبلہ پا ہوتا ہے

کیوں نہ ٹھہریں ہدفِ ناوکِ بیداد کہ ہمآپ اٹھا لاتے ہیں گر تیر خطا ہوتا ہے

خوب تھا پہلے سے ہوتے جو ہم اپنے بد خواہکہ بھلا چاہتے ہیں اور برا ہوتا ہے

نالہ جاتا تھا پرے عرش سے میرا اور ابلب تک آتا ہے جو ایسا ہی رسا ہوتا ہے

خامہ میرا کہ وہ ہے باربُدِ بزمِ سخنشاہ کی مدح میں یوں نغمہ سرا ہوتا ہے

اے شہنشاہِ کواکب سپہ و مہرِ علمتیرے اکرام کا حق کس سے ادا ہوتا ہے

سات اقلیم کا حاصل جو فراہم کیجےتو وہ لشکر کا ترے نعل بہا ہوتا ہے

ہر مہینے میں جو یہ بدر سے ہوتا ہے ہلالآستاں پر ترے مہ ناصیہ سا ہوتا ہے

میں جو گستاخ ہوں آئینِ غزل خوانی میںیہ بھی تیرا ہی کرم ذوق فزا ہوتا ہے

رکھیو غالبؔ مجھے اس تلخ نوائی میں معافآج کچھ درد مرے دل میں سوا ہوتا ہے

۲۰۹۔ ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ ’تو کیا ہے‘

ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ ’تو کیا ہے‘تمہیں کہو کہ یہ اندازِ گفتگو کیا ہے

نہ شعلے میں یہ کرشمہ، نہ برق میں یہ اداکوئی بتاؤ کہ وہ شوخِ تند خو کیا ہے

یہ رشک ہے کہ وہ ہوتا ہے ہم سخن تم سےوگرنہ خوفِ بد آموزیِ عدو کیا ہے

چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہنہمارے جیب کو اب حاجتِ رفو کیا ہے

جلا ہے جسم جہاں، دل بھی جل گیا ہوگاکریدتے ہو جو اب راکھ، جستجو کیا ہے

رگوں میں دوڑتے پھرنے کے ہم نہیں قائلجب آنکھ سے ہی نہ ٹپکا تو پھر لہو کیا ہے

وہ چیز جس کے لیے ہم کو ہو بہشت عزیزسوائے بادۂ گلفامِ مشک بو کیا ہے

پیوں شراب اگر خم بھی دیکھ لوں دو چاریہ شیشہ و قدح و کوزہ و سبو کیا ہے

رہی نہ طاقتِ گفتار، اور اگر ہو بھیتو کس امید پہ کہیے کہ آرزو کیا ہے

ہوا ہے شہ کا مصاحب، پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے

۲۱۰۔ غیر لیں محفل میں بوسے جام کے

غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے

خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے

خط لکھیں گے گرچہ مطلب کچھ نہ ہوہم تو عاشق ہیں تمہارے نام کے

رات پی زمزم پہ مے اور صبح دمدھوئے دھبّے جامۂ احرام کے

دل کو آنکھوں نے پھنسایا کیا مگریہ بھی حلقے ہیں تمہارے دام کے

شاہ کی ہے غسلِ صحّت کی خبردیکھیے کب دن پھریں حمّام کے

عشق نے غالبؔ نکمّا کر دیاورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے

۲۱۱۔ پھر اس انداز سے بہار آئی

پھر اس انداز سے بہار آئیکہ ہوئے مہر و مہ تماشائی

دیکھو اے ساکنانِ خطّۂ خاکاس کو کہتے ہیں عالم آرائی

کہ زمیں ہو گئی ہے سر تا سررو کشِ سطحِ چرخِ مینائی

سبزے کو جب کہیں جگہ نہ ملیبن گیا روۓ آب پر کائی

سبزہ و گل کے دیکھنے کے لیےچشمِ نرگس کو دی ہے بینائی

ہے ہوا میں شراب کی تاثیربادہ نوشی ہے باد پیمائی

کیوں نہ دنیا کو ہو خوشی غالبؔشاہِ دیں دار نے شفا پائی

۲۱۲۔ تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہے

تغافل دوست ہوں میرا دماغِ عجز عالی ہےاگر پہلو تہی کیجے تو جا میری بھی خالی ہے

رہا آباد عالم اہلِ ہمّت کے نہ ہونے سےبھرے ہیں جس قدر جام و سبو، مے خانہ خالی ہے

۲۱۳۔ کب وہ سنتا ہے کہانی میری

کب وہ سنتا ہے کہانی میریاور پھر وہ بھی زبانی میری

خلشِ غمزۂ خوں ریز نہ پوچھدیکھ خوں نابہ فشانی میری

کیا بیاں کر کے مرا روئیں گے یارمگر آشفتہ بیانی میری

ہوں ز خود رفتۂ بیدائے خیالبھول جانا ہے نشانی میری

متقابل ہے مقابل میرارک گیا دیکھ روانی میری

قدرِ سنگِ سرِ رہ رکھتا ہوںسخت ارزاں ہے گرانی میری

گرد بادِ رہِ بیتابی ہوںصرصرِ شوق ہے بانی میری

دہن اس کا جو نہ معلوم ہواکھل گئی ہیچ مدانی میری

کر دیا ضعف نے عاجز غالبؔننگِ پیری ہے جوانی میری

۲۱۴۔ نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیب

نقشِ نازِ بتِ طنّاز بہ آغوشِ رقیبپاۓ طاؤس پئے خامۂ مانی مانگے

تو وہ بد خو کہ تحیّر کو تماشا جانےغم وہ افسانہ کہ آشفتہ بیانی مانگے

وہ تبِ عشق تمنّا ہے کہ پھر صورتِ شمعشعلہ تا نبضِ جگر ریشہ دوانی مانگے

۲۱۵۔ گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہے

گلشن کو تری صحبت از بسکہ خوش آئی ہےہر غنچے کا گل ہونا آغوش کشائی ہے

واں کُنگرِ استغنا ہر دم ہے بلندی پریاں نالے کو اُور الٹا دعواۓ رسائی ہے

از بسکہ سکھاتا ہے غم ضبط کے اندازےجو داغ نظر آیا اک چشم نمائی ہے

۲۱۶۔ جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کی

جس زخم کی ہو سکتی ہو تدبیر رفو کیلکھ دیجیو یا رب اسے قسمت میں عدو کی

اچّھا ہے سر انگشتِ حنائی کا تصوّردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی

کیوں ڈرتے ہو عشّاق کی بے حوصلگی سےیاں تو کوئی سنتا نہیں فریاد کسو کی

دشنے نے کبھی منہ نہ لگایا ہو جگر کوخنجر نے کبھی بات نہ پوچھی ہو گلو کی

صد حیف وہ نا کام کہ اک عمر سے غالبؔحسرت میں رہے ایک بتِ عربدہ جو کی

۲۱۷۔ سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہم

سیماب پشت گرمیِ آئینہ دے ہے ہمحیراں کیے ہوئے ہیں دلِ بے قرار کے

آغوشِ گل کشودہ براۓ وداع ہےاے عندلیب چل! کہ چلے دن بہار کے

۲۱۸۔ ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میں

ہے وصل ہجر عالمِ تمکین و ضبط میںمعشوقِ شوخ و عاشقِ دیوانہ چاہۓ

اُس لب سے مل ہی جاۓ گا بوسہ کبھی تو، ہاں!شوقِ فضول و جرأتِ رندانہ چاہۓ

۲۱۹۔ چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیے

چاہیے اچھّوں کو، جتنا چاہیےیہ اگر چاہیں تو پھر کیا چاہیے

صُحبتِ رنداں سے واجب ہے حَذرجاۓ مے، اپنے کو کھینچا چاہیے

چاہنے کو تیرے کیا سمجھا تھا دل؟بارے اب اِس سے بھی سمجھا چاہیے!

چاک مت کر جیب، بے ایامِ گُلکُچھ ادھر کا بھی اشارہ چاہیے

دوستی کا پردہ ہے بیگانگیمنہ چُھپانا ہم سے چھوڑا چاہیے

دُشمنی نے میری، کھویا غیر کوکِس قدر دُشمن ہے، دیکھا چاہیے

اپنی، رُسوائی میں کیا چلتی ہے سَعییار ہی ہنگامہ آرا چاہیے

منحصر مرنے پہ ہو جس کی امیدنااُمیدی اُس کی دیکھا چاہیے

غافل، اِن مہ طلعتوں کے واسطےچاہنے والا بھی اچھا چاہیے

چاہتے ہیں خُوبرویوں کو اسدؔآپ کی صُورت تو دیکھا چاہیے

۲۲۰۔ ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سے

ہر قدم دورئِ منزل ہے نمایاں مجھ سےمیری رفتار سے بھاگے ہے، بیاباں مجھ سے

درسِ عنوانِ تماشا، بہ تغافلِ خُوشترہے نگہ رشتۂ شیرازۂ مژگاں مجھ سے

وحشتِ آتشِ دل سے، شبِ تنہائی میںصورتِ دُود، رہا سایہ گُریزاں مجھ سے

غمِ عشاق نہ ہو، سادگی آموزِ بُتاںکِس قدر خانۂ آئینہ ہے ویراں مجھ سے

اثرِ آبلہ سے، جادۂ صحراۓ جُنوںصُورتِ رشتۂ گوہر ہے چراغاں مجھ سے

بیخودی بسترِ تمہیدِ فراغت ہو جو!پُر ہے سایے کی طرح، میرا شبستاں مجھ سے

شوقِ دیدار میں، گر تُو مجھے گردن مارےہو نگہ، مثلِ گُلِ شمع، پریشاں مجھ سے

بیکسی ہاۓ شبِ ہجر کی وحشت، ہے ہے!سایہ خُورشیدِ قیامت میں ہے پنہاں مجھ سے

گردشِ ساغرِ صد جلوۂ رنگیں، تجھ سےآئینہ دارئ یک دیدۂ حیراں، مُجھ سے

نگہِ گرم سے ایک آگ ٹپکتی ہے، اسدؔ!ہے چراغاں، خس و خاشاکِ گُلستاں مجھ سے

۲۲۱۔ نکتہ چیں ہے، غمِ دل اس کو سنائے نہ بنے

نکتہ چیں ہے، غمِ دل اس کو سنائے نہ بنےکیا بنے بات جہاں بات بنائے نہ بنے

میں بلاتا تو ہوں اس کو، مگر اے جذبۂ دلاس پہ بن جائے کچھ ایسی کہ بن آئے نہ بنے

کھیل سمجھا ہے، کہیں چھوڑ نہ دے، بھول نہ جائےکاش یوں بھی ہو کہ بن میرے ستائے نہ بنے

غیر پھرتا ہے لیے یوں ترے خط کو کہ اگرکوئی پوچھے کہ یہ کیا ہے، تو چھپائے نہ بنے

اس نزاکت کا برا ہو، وہ بھلے ہیں تو کیاہاتھ آویں تو انہیں ہاتھ لگائے نہ بنے

کہہ سکے کون کہ یہ جلوہ گری کس کی ہےپردہ چھوڑا ہے وہ اس نے کہ اٹھائے نہ بنے

موت کی راہ نہ دیکھوں؟ کہ بن آئے نہ رہےتم کو چاہوں؟ کہ نہ آؤ تو بلائے نہ بنے

بوجھ وہ سر سے گرا ہے کہ اٹھائے نہ اٹھےکام وہ آن پڑا ہے کہ بنائے نہ بنے

عشق پر زور نہیں، ہے یہ وہ آتش غالبؔکہ لگائے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے

۲۲۲۔ چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرے

چاک کی خواہش، اگر وحشت بہ عُریانی کرےصبح کے مانند، زخمِ دل گریبانی کرے

جلوے کا تیرے وہ عالم ہے کہ، گر کیجے خیالدیدۂ دل کو زیارت گاہِ حیرانی کرے

ہے شکستن سے بھی دل نومید، یارب! کب تلکآبگینہ کوہ پر عرضِ گِرانجانی کرے

میکدہ گر چشمِ مستِ ناز سے پاوے شکستمُوۓ شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے

خطِّ عارض سے، لکھا ہے زُلف کو الفت نے عہدیک قلم منظور ہے، جو کچھ پریشانی کرے

۲۲۳۔ وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دے

وہ آ کے، خواب میں، تسکینِ اضطراب تو دےولے مجھے تپشِ دل، مجالِ خواب تو دے

کرے ہے قتل، لگاوٹ میں تیرا رو دیناتری طرح کوئی تیغِ نگہ کو آب تو دے

دِکھا کے جنبشِ لب ہی، تمام کر ہم کونہ دے جو بوسہ، تو منہ سے کہیں جواب تو دے

پلا دے اوک سے ساقی، جو ہم سے نفرت ہےپیالہ گر نہیں دیتا، نہ دے شراب تو دے

اسدؔ! خوشی سے مرے ہاتھ پاؤں پُھول گئےکہا جو اُس نے، ”ذرا میرے پاؤں داب تو دے“

۲۲۴۔ تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہے

تپِش سے میری، وقفِ کش مکش، ہر تارِ بستر ہےمِرا سر رنجِ بالیں ہے، مِرا تَن بارِ بستر ہے

سرشکِ سر بہ صحرا دادہ، نورالعینِ دامن ہےدلِ بے دست و پا اُفتادہ بر خوردارِ بستر ہے

خوشا اقبالِ رنجوری! عیادت کو تم آئے ہوفروغِ شمع بالیں، طالعِ بیدارِ بستر ہے

بہ طوفاں گاہِ جوشِ اضطرابِ شامِ تنہائیشعاعِ آفتابِ صبحِ محشر تارِ بستر ہے

ابھی آتی ہے بُو، بالش سے، اُس کی زلفِ مشکیں کیہماری دید کو، خوابِ زلیخا، عارِ بستر ہے

کہوں کیا، دل کی کیا حالت ہے ہجرِ یار میں، غالبؔ!کہ بے تابی سے ہر یک تارِ بستر، خارِ بستر ہے

۲۲۵۔ خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائے

خطر ہے رشتۂ اُلفت رگِ گردن نہ ہو جائےغرورِ دوستی آفت ہے، تُو دُشمن نہ ہو جائے

سمجھ اس فصل میں کوتاہئ نشوونما، غالبؔ!اگر گُل سَرو کے قامت پہ، پیراہن نہ ہو جائے

۲۲۶۔ فریاد کی کوئی لَے نہیں ہے

فریاد کی کوئی لَے نہیں ہےنالہ پابندِ نَے نہیں ہے

کیوں بوتے ہیں باغباں تونبے؟گر باغ گدائے مَے نہیں ہے

ہر چند ہر ایک شے میں تُو ہےپَر تُجھ سی کوئی شے نہیں ہے

ہاں، کھائیو مت فریبِ ہستی!ہر چند کہیں کہ "ہے"، نہیں ہے

شادی سے گُذر کہ، غم نہ ہووےاُردی جو نہ ہو، تو دَے نہیں ہے

کیوں ردِ قدح کرے ہے زاہد!مَے ہے یہ مگس کی قَے نہیں ہے

ہستی ہے، نہ کچھ عَدم ہے، غالبؔ!آخر تُو کیا ہے، ”اَے نہیں ہے؟“

۲۲۷۔ نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کا

نہ پُوچھ نسخۂ مرہم جراحتِ دل کاکہ اِس میں ریزۂ الماس جزوِ اعظم ہے

بہت دنوں میں تغافل نے تیرے پیدا کیوہ اِک نگہ کہ، بظاہر نگاہ سے کم ہے

这一章在你心里留下了什么?

登录后参与

讨论

还没有人开口。说说这一章触动了你什么。

喜欢这一章吗?分享其中的一句话吧。