Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 6 de 9

The Cataract of Lodore, and Sir Sayyid's College: Poems 28–34

آبشار لوڈور اور سر سید کا کالج: نظمیں ۲۸ تا ۳۴

Akbar Allahabadi

Escritura
Tamaño

۲۸۔ وہ سوڈیؔ سخنگوئے شیریں مقال

وہ سوڈیؔ سخنگوئے شیریں مقالجو انگریزی شاعر تھا اک بے مثال

بفرمائشِ دخترِ با تمیزکہ رکھتا تھا جس کو وہ دل سے عزیز

لکھی اس نے اک نظم لاجوابدکھائی ہے شکلِ روانیِ آب

جو بہتا ہے پانی میانِ لوڈوراسی کا دکھایا ہے شاعر نے زور

مناسب جو انگلش مصادر ملےمقفی کیے اس کے سب سلسلے

یہ جمعیتِ افعال کی خوب کیکہ درسی بھی ہے اور دلچسپ بھی

یہ اصرار کرتے ہیں بھائی حسنکہ میں بھی ہوں اس بحر میں موجزن

دکھاؤں روانیِ دریا مگرکہ گوہر شناسوں میں ہو جس کا ذکر

عجب ہے نہیں ان کی اس پر نظرکجا میں، کجا سوڈیِ نامور

سوا اس کے ہیں اور بھی مشکلیںنہیں سہل اس راہ کی منزلیں

مرے پاس سرمایہ کافی نہیںوہ مصدر نہیں، وہ قوافی نہیں

زباں میں نہ وسعت، نہ ایسا مذاقادھر تو ہے کچھ اور ہی اطلاق

اگر ترجمہ ہو تو مطلب ہو خبطمعانی میں پیدا نہ ہو ربط و ضبط

موانع یہ ہیں جن سے ڈرتا ہوں میںمگر خیر کچھ فکر کرتا ہوں میں

جو تھیں دقتیں، کہہ چکا برملاغرض دیکھیے، اب یہ پانی چلا

اچھلتا ہوا اور ابلتا ہوااکڑتا ہوا اور مچلتا ہوا

یہ بنتا ہوا اور وہ تنتا ہواٹپکتا ہوا اور چھنتا ہوا

روانی میں اک شور کرتا ہوارکاوٹ میں اک زور کرتا ہوا

پہاڑوں کے روزن، زمیں کے مسامیہ سب کر رہا ہر طرف اپنا کام

ادھر چھوٹتا اور بہکتا ادھررخ اس سمت کرتا، کھسکتا ادھر

پہاڑوں پہ سر کو پٹکتا ہواچٹانوں پہ دامن جھٹکتا ہوا

وہ ٹیلوں سے ساحل دباتا ہوایہ سبزہ پہ چادر بچھاتا ہوا

بھٹکتا ہوا، غل مچاتا ہواوہ جل تھل کا عالم رچاتا ہوا

وہ گاتا ہوا اور بجاتا ہوایہ لہروں کو پیہم نچاتا ہوا

ادھر جھومتا اور مٹکتا ہواادھر گھومتا اور اٹکتا ہوا

بپھرتا ہوا، جوش کھاتا ہوابگڑ کر وہ کف منہ پہ لاتا ہوا

وہ اونچے سروں میں تموج کا راگوہ خود جوش میں آ کے لانا یہ جھاگ

سدھرتا ہوا اور سنورتا ہواتھرکتا ہوا، رقص کرتا ہوا

ادھر گونجتا، گنگناتا ہواادھر خود بخود بھنبھناتا ہوا

لپٹتا ہوا اور چمٹتا ہوایہ پھٹتا ہوا، وہ سمٹتا ہوا

سماتا ہوا اور پلٹتا ہواسرکتا ہوا اور ہلتا ہوا

یہ گھٹتا ہوا اور وہ بڑھتا ہوااترتا ہوا اور چڑھتا ہوا

یہ ہٹتا ہوا اور وہ بچتا ہوادباتا ہوا اور کھچتا ہوا

پھسلتا ہوا، ڈگمگاتا ہوالچکتا ہوا، لڑکھڑاتا ہوا

وہ روئے زمیں کو چھپاتا ہواوہ خاکی کو سیمیں بناتا ہوا

گل و خار یکساں سمجھتا ہواہر اک سے برابر الجھتا ہوا

بہاتا ہوا اور بہتا ہواہوا کے طمانچوں کو سہتا ہوا

لرزتا ہوا، تلملاتا ہوابلکتا ہوا، بلبلاتا ہوا

بلندی سے گرتا گراتا ہوانشیبوں میں پھرتا پھراتا ہوا

اچکتا ہوا اور اڑتا ہوااٹکتا ہوا اور مڑتا ہوا

وہ کھیتوں میں راہیں کترتا ہوازمینوں کو شاداب کرتا ہوا

یہ تھالوں کے گودوں کو بھرتا ہواوہ دھرتی پہ احسان دھرتا ہوا

یہ پھولوں کے گجرے بناتا ہواوہ چکر میں پتھر کے پھنساتا ہوا

لپکتا ہوا، دندناتا ہوااُمڈتا ہوا، سنسناتا ہوا

چمکتا ہوا اور جھلکتا ہواسنبھلتا ہوا اور چھلکتا ہوا

ہواؤں سے موجیں لڑاتا ہواحبابوں کی فوجیں بڑھاتا ہوا

تڑپتا ہوا، جگمگاتا ہواشعاعوں کا جوبن دکھاتا ہوا

یونہیں العرض ہو یہ پانی رواںبس اب دیکھ لیں شاعرِ نکتہ داں

وہ سوڈے کا سیلانِ آبِ لوڈوریہ بحرِ خیالاتِ اکبرؔ[۱] کا زور

۲۹۔ برق و بخارات کا زور اے حکیم

برق و بخارات کا زور اے حکیمکب ہے پئے روح رہِ مستقیم

تار پہ جاتے نہیں اہلِ نظرریل سے کھنچتا نہیں قلبِ سلیم

۳۰۔ سب جانتے ہیں، علم سے ہے زندگی کی روح

سب جانتے ہیں، علم سے ہے زندگی کی روحبے علم ہے اگر تو وہ انساں ہے ناتمام

بے علم و بے ہنر ہے جو دنیا میں کوئی قومنیچر کا اقتضا ہے، رہے بن کے وہ غلام

تعلیم اگر نہیں ہے زمانہ کے حسبِ حالپھر کیا امیدِ دولت و آرام و احترام

سید کے دل میں نقش ہوا اس خیال کاڈالی بنائے مدرسہ لے کر خدا کا نام

صدمے اٹھائے، رنج سہے، گالیاں سنیںلیکن نہ چھوڑا قوم کے خادم نے اپنا کام

دکھلا دیا زمانہ کو زورِ دل و دماغبتلا دیا کہ کرتے ہیں یوں کرنے والے کام

نیت جو تھی بخیر، تو برکت خدا نے دیکالج ہوا درست، بصد شان و احتشام

سرمایہ میں کمی تھی، سہارا کوئی نہ تھاسید کا دل تھا در پئے تکمیلِ انتظام

آخر اٹھا سفر کو وہ مردِ خجستہ پےاحباب چند ساتھ تھے ذی علم و خوش کلام

قسمت کی رہبری سے ملی منزلِ مرادفرماں روائے ملکِ دکن کو کیا سلام

حالت دکھائی اور ضرورت بیاں کیخوبی سے التماس کیا قوم کا پیام

رحم آ گیا حضور کو حالت پہ قوم کیپھر کیا تھا، موجزن ہوا دریائے فیضِ عام

ماہانہ دو ہزار کیا، اک ہزار سےامید سے زیادہ عطا تھی یہ لا کلام

اکبرؔ کی یہ دعا ہے خدا کی جناب میںتا حشر اس رئیس و ریاست کو ہو قیام

کیا وقت پر ہوئی ہے، کہ بے احتیاجِ فکرتاریخ اپنی آپ ہے فیاضیِ نظام[۲]

۳۱۔ کہا کسی نے یہ سید سے، آپ اے حضرت

کہا کسی نے یہ سید سے، آپ اے حضرتنہ پیر کو نہ کسی پیشوا کو مانتے ہیں

نہ آپ عالمِ برزخ سے مانگتے ہیں مددنہ فاتحے کے طریقِ ادا کو مانتے ہیں

نظر تو کیجیے اس بات پر جو ہیں ہندوبصد خلوص ہر اک دیوتا کو مانتے ہیں

بہت وہ ہیں جو عناصر پرست ہیں دل سےوہ آگ پوجتے ہیں یا ہوا کو مانتے ہیں

کرسچین بھی فدائی ہیں نامِ مریم کےبدل مسیح علیہ الثنا کو مانتے ہیں

خود آپ ہی میں جو ہیں شیعیانِ با تمکیںوہ اہلِ بیت کو، آلِ عبا کو مانتے ہیں

وہ لوگ جو ہیں ملقب بہ صوفیانِ کرامفدا قبور پہ ہیں، اولیا کو مانتے ہیں

مرادیں مانگتے ہیں لوگ پاک روحوں سےکسی بزرگ کو یا مقتدا کو مانتے ہیں

پھر آپ میں یہ ہوا کیا سما گئی ہے کہ آپنہ دستگیر نہ مشکل کشا کو مانتے ہیں

جواب انھوں نے دیا، ہم ہیں پیروِ قرآںادب ہر اک کا ہے، لیکن خدا کو مانتے ہیں

سند ہماری ہے ایاک نستعین اے دوستاسی یگانۂ حاجت روا کو مانتے ہیں

اسی کا نام زباں پر ہے، حی اور قیوماسی کی قدرتِ بے انتہا کو مانتے ہیں

یہ بوئے شرک ہی ہے جنگ و اختلاف کی جڑتو عقلمند کب ایسی بلا کو مانتے ہیں

جوابِ حضرتِ سید کا خوب ہے اکبرؔہم ان کے قولِ درست و بجا کو مانتے ہیں

ولیکن اس نئی تہذیب کے بزرگ اکثرخدا کو، اور نہ طریقِ دعا کو مانتے ہیں

زبانی کہتے ہیں سب کچھ، مگر حقیقت میںوہ صرف قوتِ فرماں روا کو مانتے ہیں

۳۲۔ پوچھا پروانے سے کہ اے ناداں

پوچھا پروانے سے کہ اے ناداںآگ میں گر کے کیوں گنواتا ہے جاں

جل کے بولا کہ اے خرد دشمنسن لے مجھ سے یہ معنیِ روشن

شعلے سے طالبِ وصال اچھایا اندھیرے میں پائمال اچھا

۳۳۔ کیا شک ہے آفتاب کے شان و جلال میں

کیا شک ہے آفتاب کے شان و جلال میںروشن تر اس سے کون سی شے ہے خیال میں

لیکن نہیں وہ کچھ بھی مؤثر پس از غروبلازم ہے غور کیجیے اس مسئلے پہ خوب

ہر چند تم خیال کرو آفتاب کاگوشہ بھی اٹھ سکے گا نہ شب کی نقاب کا

پوجو گے اس کو، تب بھی وہ پھیرا نہ جائے گااس کو پکارنے سے اندھیرا نہ جائے گا

انساں کا حال بھی مرے نزدیک ہے یہیتحقیق کی نظر سے کرو ٹھیک ہے یہی

کتنا ہی کوئی صاحبِ اوج و کمال ہوکتنا ہی با اثر ہو کہ عالی خیال ہو

جب کر گیا جہاں سے وہ ملکِ عدم کو کوچپھر اس سے کچھ مدد کا تصور ہے ہیچ و پوچ

قیوم و حی ذات ہے اللہ کی فقطزندہ ہمیشہ بات ہے اللہ کی فقط

سن لو کہ اتباع و ادب اور چیز ہےمطلب کی لیکن التجا و طلب اور چیز ہے

آزردہ کوئی شیخ ہو یا برہمن خفاحقانیت یہی ہے، یہی ٹھیک فلسفا

۳۴۔ کر چکا کالج میں جب تکمیلِ فن

کر چکا کالج میں جب تکمیلِ فنتب یہ بولے مجھ سے مسٹر [illegible]

گو کہ شہرت ہے تمھاری دور دورمجھ سا تم رکھتے نہیں عقل و شعور

عرض کی میں نے کہ اے روشن ضمیرہے یہی تو جس کو روتا ہے بشیرؔ[۳]

آپ نے سیکھا ہے اپنے باپ سےاور میں نے جو پڑھا، وہ آپ سے

حواشی

[۱] اصل کھو گئی ہے، لڑکوں کے غلط لفظوں کے بعض اجزا جو مجھے پہونچے، ان سے یہ نقل لکھی گئی۔ ۲۶ دسمبر سنہ [illegible]ء

[۲] سید صاحب نے انسٹیٹیوٹ گزٹ میں نظمِ مندرجہ بالا کی تعریف چھاپی ہے۔

[۳] ایڈیٹر اخبار البشیر نے لکھا تھا کہ مسلمان پروفیسر مقرر ہوں۔

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.