
Chapitre 5 sur 9
Lightning in the Church, and Purdah: Poems 16–27
برق کلیسا اور پردہ: نظمیں ۱۶ تا ۲۷
۱۶۔ برقِ کلیسا، سنہ ۱۹۰۷ء
رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دوچارہائے وہ حسن، وہ شوخی، وہ نزاکت، وہ ابھار
زلفِ پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مریدقدِ رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہگار کریںگال وہ صبحِ درخشاں کہ ملک پیار کریں
گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکےدلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے
دلکشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیںسرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں
آتشِ حسن سے تقویٰ کو جلانے والیبجلیاں لطفِ تبسم سے گرانے والی
پہلوئے حسنِ بیاں، شوخیِ تقریر میں غرقٹرکی و مصر و فلسطیں کے حالات میں برق
پس گیا، لوٹ گیا، دل میں سکت ہی نہ رہیسُر تھے تمکیں کے جس گت میں، وہ گت ہی نہ رہی
ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوایا حفیظ کا کیا ورد، مگر کچھ نہ ہوا
عرض کی میں نے کہ اے گلشنِ فطرت کی بہاردولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار
تو اگر عہدِ وفا باندھ کے میری ہو جائےساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے
شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یہ کھولیناز و انداز سے تیوری کو چڑھا کر بولی
غیر ممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سےبوئے خوں آتی ہے اس قوم کے افسانوں سے
لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی ہو کرحملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی ہو کر
کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیںآگ میں کودتے ہیں، توپ سے لڑ جاتے ہیں
گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیںپائیں سامانِ اقامت تو قیامت ڈھائیں
مطمئن ہو کوئی کیونکر کہ یہ ہیں نیک نہادہے ہنوز ان کی رگوں میں اثرِ حکمِ جہاد
دشمنِ صبر کی نظروں میں لگاوٹ پائیکامیابی کی دلِ زار نے آہٹ پائی
عرض کی میں نے کہ اے لذتِ جاں، راحتِ روحاب زمانے پہ نہیں ہے اثرِ آدم و نوح
شجرِ طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیںگیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں
اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرفٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
ہم میں باقی نہیں اب خالدِ جانباز کا رنگدل پہ غالب ہے فقط حافظِ شیراز کا رنگ
یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر، نہ وہ جوشِ سپاہسب کے سب آپ ہی پڑھتے ہیں سبحان اللہ
جوہرِ تیغِ مجاہد ترے ابرو پہ نثارنورِ ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار
اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحثِ بد و نیکدو دلے ہو رہے ہیں، کہتے ہیں اللہ کو ایک
موجِ کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گردمیں تو تہذیب میں ہوں پیرِ مغاں کا شاگرد
مجھ پہ کچھ وجہِ عتاب آپ کو اے جاں نہیںنام ہی نام ہے، ورنہ میں مسلماں نہیں
جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحبِ فہمتو نکالو دلِ نازک سے یہ شبہہ، یہ وہم
میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھوہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو
ڈالے جانِ معانی میں وہ اردو یہ ہےکروٹیں لینے لگے طبع، وہ پہلو یہ ہے
۱۷۔ ایک بوڑھا نحیف و خستہ و زار
ایک بوڑھا نحیف و خستہ و زاراک ضرورت سے جاتا تھا بازار
ضعفِ پیری سے خم ہوئی تھی کمرراہ بیچارہ چلتا تھا جھک کر
چند لڑکوں کو اس پہ آئی ہنسیقد پہ پھبتی کمان کی سوجھی
کہا اک لڑکے نے یہ اس سے کہ بولتو نے کتنے کو لی کمان یہ مول
پیر مردِ لطیف و دانشمندہنس کے کہنے لگا کہ اے فرزند
پہنچو گے میری عمر کو جس آنمفت مل جائیگی تمھیں یہ کمان
۱۸۔ میں نے اکبر سے کہا، آئیے حجرے میں مرے
میں نے اکبر سے کہا، آئیے حجرے میں مرےاس چٹائی پہ نمازیں پڑھیں حسبِ دستور
چھوڑیے آپ یہ ہنگامۂ تعلیمِ جدیدکاٹ ہی دے گا کسی طرح خداوندِ غفور
بولا جھنجھلا کے کہ ہے سہل جہنم مجھ پراس کی نسبت کہ میں کالج میں ہوں احمق مشہور
۱۹۔ انگلش ڈریس انور کا جو کل بزم میں دیکھا
انگلش ڈریس انور کا جو کل بزم میں دیکھااکبر نے کہا، یہ تو خرابی کے ہیں آثار
معنی میں بھی ہو جائیگا آخر کو تغیرتبدیلیِ صورت کے رہے گر یہی اطوار
خالق کی عبادت سے حجاب آنے لگے گاشرماؤ گے کرتے ہوئے اسلام کا اظہار
بیگانہ وشی ہوگی عزیزانِ وطن سےبنگلے میں نہاں ہوگے کہیں چھوڑ کے گھر بار
[illegible] مسامات کی اٹھیں گی امنگیںوہ زیست جو آساں تھی، ہو جائے گی دشوار
آپس میں بھی تم لوگ موافق نہ رہوگےایک ایک کو دیکھے گا بہ اکراہ و بہ انکار
آخر کو رہوگے نہ ادھر کے نہ ادھر کےانگریز بھی کھنچتے رہیں گے، قوم بھی بیزار
انور نے کہا، صلِّ علیٰ، واہ بہت خوبشک اس میں نہیں، مدح کے قابل ہے یہ گفتار
لیکن جو یہ تعمیم ہے حضرت کے سخن میںاس کو تو نہ تسلیم کرے گا یہ گنہگار
ہر مذہب و ملت میں ہیں اچھے بھی، برے بھیوہ کون سا فرقہ ہے کہ سب جس میں ہوں ابرار
ملبوس و مکاں کا جو کیا آپ نے مذکوراس کے بھی بجا ہونے کا مجھ کو نہیں اقرار
باطن سے ہے اخلاقِ حمیدہ کا تعلقفطرت میں جو ہے نیک، وہ بد ہوگا نہ زنہار
اوضاعِ زمانہ تو بدلتے ہی رہیں گےرکتی نظر آتی نہیں دنیا کی یہ رفتار
ہے حکمِ ضرورت، وہ ضرورت سے ہے مجبوربے شوق جسے کیوں نہ کیا جائے وہ ناچار
مقصود جو اصلی ہے، وہ ہے دل کی درستییا ہیٹ و اوورکوٹ ہو، یا جبہ و دستار
شبہہ مرے اس قول کی صحت میں اگر ہوسن لیجیے سعدی کا یہ ارشادِ گہربار
حاجت بہ کلاہِ برکی داشتنت نیستدرویش صفت باش و کلاہِ تتری دار
۲۰۔ بہار آئی، کھلے گل زیبِ صحنِ بوستاں ہو کر (سنہ ۱۸۹۹ء)
بہار آئی، کھلے گل زیبِ صحنِ بوستاں ہو کرعنادل نے مچائی دھوم سرگرمِ فغاں ہو کر
بچھا فرشِ زمرد اہتمامِ سبزۂ تزئیںچلی مستانہ وش بادِ صبا عنبر فشاں ہو کر
عروجِ نشۂ نشو و نما سے ڈالیاں جھومیںترانے گائے مرغانِ چمن نے شادماں ہو کر
بلائیں شاخِ گل کی لیں نسیمِ صبحگاہی نےہوئیں کلیاں شگفتہ روئے رنگینِ بتاں ہو کر
جوانانِ چمن نے اپنا اپنا رنگ دکھلایاکسی نے یاسمن ہو کر، کسی نے ارغواں ہو کر
کیا پھولوں نے شبنم سے وضو صحنِ گلستاں میںصدائے نغمۂ بلبل اٹھی بانگِ اذاں ہو کر
ہوائے شوق میں شاخیں جھکیں خالق کے سجدے کوہوئی تسبیح میں مصروف ہر پتی زباں ہو کر
زبانِ برگِ گل نے کی دعا رنگیں عبارت میںخدا سرسبز رکھے اس چمن کو مہرباں ہو کر
نگاہیں کاملوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے میںکہیں چھپتا ہے اکبرؔ پھول پتوں میں نہاں ہو کر
۲۱۔ میں نے کہا، بہت سی زبانیں ہوں جانتا (قطعہ)
میں نے کہا، بہت سی زبانیں ہوں جانتامدت تک امتحاں دیے امتحان پر
جرمن، فرنچ، لیٹن و انگلش پہ ہے عبورثابت مرا کمال ہے سارے جہان پر
اک شوخ طبع مس نے دکھائی زباں مجھےبجلی تھی ابر میں کہ قمر آسمان پر
بولی، رہوگے زیست کی لذت سے بے خبرقدرت نہ پائی تم نے اگر اس زبان پر
۲۲۔ ہوئی جو مجھ سے یہ فرمائشِ بتِ طناز
ہوئی جو مجھ سے یہ فرمائشِ بتِ طنازکہ فنِ شعر میں تو آج ہے بہت ممتاز
لگا دے اس پہ کوئی مصرعۂ حسین و نفیسزمانہ با تو نسازد تو با زمانہ بساز
کہا یہ میں نے کہ ہے قیدِ حسن و خوبی کیتو سن یہ شعر نشاط آور و نگاہ نواز
پہن لے سایہ مری جاں، اتار کر پشواززمانہ با تو نسازد تو با زمانہ بساز
۲۳۔ ناخوش جو ہوا میں ایسی بے قدری پر
ناخوش جو ہوا میں ایسی بے قدری پراک ناز سے مسکرا کے بولی وہ مس
عزت کا تو کچھ بھی تجھ میں باقی نہیں وصفافسوس کہ رہ گیا ہے تحقیر کا حس
۲۴۔ خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ
خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔمجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
یہ عاشق شاہدِ مقصود کے ہیںنہ جائینگے و لیکن سعی کے پاس
سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہکیا ہے میں نے جس کو زیبِ قرطاس
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نےکہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس
تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سےبلا دقت میں بن جاؤں تری ساس
کہا مجنوں نے، یہ اچھی سنائیکجا عاشق، کجا کالج کی بکواس
کجا یہ فطرتی جوشِ طبیعتکجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس
بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہےہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس
یہ اچھی قدردانی آپ نے کیمجھے سمجھا ہے کوئی ہرچن داس
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجودنہیں منظور مغزِ سر کا آماس
یہی ٹھہری جو شرطِ وصلِ لیلیٰتو استعفا مرا با حسرت و یاس
۲۵۔ اگرچہ پولیٹکل بحث میں ہوئے ہیں شریک
اگرچہ پولیٹکل بحث میں ہوئے ہیں شریکجنابِ پنڈت جی چند و بابو آشوتوش
مگر ہمیں تو ہے بالکل سکوت اس مد میںسمجھ گئے ہیں یہ مضمونِ سیدِ ذی ہوش
رموزِ مملکتِ خویش خسرواں دانندگدائے گوشہ نشینی تو حافظا مخروش
۲۶۔ اک مسِ سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقد
اک مسِ سیمیں بدن سے کر لیا لندن میں عقداس خطا پر سن رہا ہوں طعنہ ہائے دلخراش
کوئی کہتا ہے کہ بس اس نے بگاڑی نسلِ قومکوئی کہتا ہے کہ یہ ہے بدخصال و بدمعاش
دل میں کچھ انصاف کرتا ہی نہیں کوئی بزرگہو کے اب مجبور خود اس راز کو کرتا ہوں فاش
ہو چکی تھی یہ تاکید، لندن جاؤ، انگریزی پڑھوقومِ انگلش سے ملو، سیکھو وہی وضع و تراش
جگمگاتے ہوٹلوں کا جا کے نظارہ کروسوپ و کاری کے مزے لو، چھوڑ کر یخنی و آش
لیڈیوں سے مل کے دیکھو ان کے اندازِ طریقہال میں ناچو، کلب میں جا کے کھیلو ان سے تاش
بادۂ تہذیبِ یورپ کے چڑھاؤ خم کے خمایشیا کے شیشۂ تقویٰ کو کر دو پاش پاش
جب عمل اس پر کیا، پریوں کا سایہ ہو گیاجس سے تھا دل کی حرارت کو سراسر انتعاش
سامنے تھیں لیڈیاں زہرہ وش، جادو نظریاں جوانی کی امنگ اور ان کو عاشق کی تلاش
اس کی چتون سحر آگیں، اس کی باتیں دلرباچال اس کی فتنہ خیز، اس کی نگاہیں برق پاش
وہ فروغِ آتشِ رخ جس کے آگے آفتاباس طرح جیسے کہ پیشِ شمع پروانے کی لاش
جب یہ صورت تھی تو ممکن تھا کہ اک برقِ بلادستِ سیمیں کو بڑھاتی اور میں کہتا دور باش
دونوں جانب تھا رگوں میں جوشِ خونِ فتنہ زادل ہی تھا آخر، نہیں تھی برف کی یہ کوئی قاش
بار بار آتا ہے اکبرؔ میرے دل میں یہ خیالحضرتِ سید سے جا کر عرض کرتا کوئی کاش
درمیانِ قعرِ دریا تختہ بندم کردہ ایباز میگوئی کہ دامن تر مکن ہشیار باش
۲۷۔ بٹھائی جائینگی پردے میں بیبیاں کب تک (۲۷ اگست سنہ ۱۸۹۱ء، بمقام کانپور)
بٹھائی جائینگی پردے میں بیبیاں کب تکبنے رہوگے تم اس ملک میں میاں کب تک
حرم سرا کی حفاظت کو تیغ ہی نہ رہیتو کام دینگی یہ چلمن کی تیلیاں کب تک
میاں سے بی بی ہیں، پردا ہے ان کو فرض مگرمیاں کا علم ہی اٹھا تو پھر میاں کب تک
طبیعتوں کا نمو ہے ہوائے مغرب میںیہ غیرتیں، یہ حرارت، یہ گرمیاں کب تک
عوام باندھ لیں دوہر کو تھرڈ و انٹر میںسکنڈ و فرسٹ کی ہوں بند کھڑکیاں کب تک
جو منہ دکھائی کی رسموں پہ ہے مصر ابلیسچھپینگی حضرتِ حوا کی بیٹیاں کب تک
جنابِ حضرتِ اکبرؔ ہیں حامیِ پردہمگر وہ کب تک، اور ان کی رباعیاں کب تک
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.