
Chapitre 7 sur 9
There Is No God but God: Poems 35–47
لا الٰہ الا اللہ: نظمیں ۳۵ تا ۴۷
۳۵۔ مزے کا جشن تھا کل اک شراب خانے میں
مزے کا جشن تھا کل اک شراب خانے میںکسی نے خوب یہ گایا کسی ترانے میں
خدا کے فضل سے ہم نام کے مسلماں ہیںوگرنہ چین سے رہتے نہ اس زمانے میں
۳۶۔ ہستی کے شجر میں جو یہ چاہو کہ چمک جاؤ
ہستی کے شجر میں جو یہ چاہو کہ چمک جاؤکچے نہ رہو، بلکہ کسی رنگ میں پک جاؤ
میں نے کہا قائل میں تصوف کا نہیں ہوںکہنے لگے، اس بزم میں آؤ تو تھرک جاؤ
میں نے کہا کچھ خوف کلکٹر کا نہیں ہےکہنے لگے، آ جائیں ابھی وہ تو دبک جاؤ
میں نے کہا ورزش کی کوئی حد بھی ہے آخرکہنے لگے، بس اس کی یہی حد ہے کہ تھک جاؤ
میں نے کہا افکار سے پیچھا نہیں چھٹتاکہنے لگے، تم جانبِ میخانہ لپک جاؤ
میں نے کہا اکبرؔ میں کوئی رنگ نہیں ہےکہنے لگے، شعر اس کے جو سن لو تو پھڑک جاؤ
۳۷۔ کر چکا ختم جب میں اسپنسر
کر چکا ختم جب میں اسپنسرمجھ پہ پڑنے لگی ہر اک کی نگاہ
پوچھا استاد نے کہ سمجھے کچھان دقائق سے دل میں کی کچھ راہ
کہہ دیا میں نے، اس کا کل مطلبصاف ہے: لا الٰہ الا اللہ
ماسٹر نے کہا، تو کودن ہےحق پکارا کہ واہ اکبرؔ واہ
۳۸۔ سنا کہ چند مسلماں جمع تھے یک جا
سنا کہ چند مسلماں جمع تھے یک جاخدا پرست، خوش اخلاق اور بلند نگاہ
کہا کسی نے یہ ان سے کہ یہ تو بتلاؤتمھاری عزت و وقعت کا کس طرح ہو نباہ
نظر کرو طرف اقتدارِ اہلِ فرنگکہ ان کے قبضہ میں ہے ملک و مال و گنج و سپاہ
انھیں کا سکہ ہے جاری یہاں سے لندن تکانھیں کے زیرِ نگیں ہے ہر اک سفید و سیاہ
کلیں بنائی ہیں وہ وہ کہ دیکھ کر جن کوزبانِ خلق سے بیساختہ نکلتی ہے واہ
تمھارے پاس بھی کچھ ہے کہ جس پہ تم کو ہے نازکہا انھوں نے کہ ہاں، لا الٰہ الا اللہ
۳۹۔ نہ وہ بک رہ گئے، نہ سر سید
نہ وہ بک رہ گئے، نہ سر سیددلِ احباب سے نکلتی ہے آہ
ذاتِ محمود سے تسلی تھیلی انھوں نے بھی آج خلد کی راہ
بولی عبرت کہ ہوش میں آؤاے حریصانِ شان و شوکت و جاہ
مٹ گیا نقشِ احمد و محمودرہ گیا لا الٰہ الا اللہ
۴۰۔ بنام ایڈیٹر رسالہ یدِ بیضا
علمِ اسرارِ دل و حلِّ معمّا داریبرتر از نظمِ دکن نظمِ ثریا داری
تو چہ حاجت بہ جمالِ سخنِ ما داریحسنِ یوسف، دمِ عیسیٰ، یدِ بیضا داری
آنچہ خوباں ہمہ دارند تو تنہا داری
۴۱۔ مسلمانوں میں اب تعلیمِ انگلش رک نہیں سکتی
مسلمانوں میں اب تعلیمِ انگلش رک نہیں سکتیکسی سے مشرق و مغرب کی سازش رک نہیں سکتی
وہ نزلہ رک نہیں سکتا، یہ [illegible] رک نہیں سکتیبڑے بوڑھوں کی لیکن یہ بھی خواہش رک نہیں سکتی
مذاقِ قوم بیگانہ نہ ہو اللہ اکبر سےیہ نقشِ جانفزا مٹنے نہ پائے دل کے دفتر سے
۴۲۔ اہلِ یورپ کے ساتھ ہوٹل میں
اہلِ یورپ کے ساتھ ہوٹل میںچکھی سید نے ایک دن کاری[۱]
خانساماں نے کان میں یہ کہاآپ تو علم سے نہیں عاری
پڑھیے کوئی دعائے اکلِ طعامدین سے بھی رہے وفاداری
تب یہ اشعارِ حضرتِ سعدیہوئے ان کی زبان پر جاری
اے کریمے کہ از خزانۂ غیبگبر و ترسا وظیفہ خور داری
دوستاں را کجا کنی محرومتو کہ با دشمناں نظر داری
۴۳۔ نظمِ مذہبی، حسبِ فرمائش ایڈیٹر دکن ریویو
جو دل کرتے ہیں حق کی پاسبانی
خدا کا ان پہ ہے لطفِ نہانی
سمجھتے ہیں جو قرآں کے معانی
سنا ہے میں نے یہ ان کی زبانی
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
سرورِ قلب و حرزِ جاں ہے اسلام
معینِ شاہی و شاہاں ہے اسلام
جہاں میں با سر و ساماں ہے اسلام
ابھی تک حافظِ ایماں ہے اسلام
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
مساجد میں وہی شورِ اذاں ہے
وہی اللہ اکبر بر زباں ہے
وہی جوشِ دلِ اسلامیاں ہے
وہی غیرت ہے، وہی آن بان ہے
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
دلوں میں ہے خدا کی یاد اب تک
طبیعت ذکر سے ہے شاد اب تک
بہت ہیں صاحبِ ارشاد اب تک
بہت ہیں باغِ دیں آباد اب تک
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
عیاں ہے پرتوِ روئے محمد
مشامِ جاں میں ہے بوئے محمد
رواں ہیں قافلے سوئے محمد
وہی ہے رونقِ کوئے محمد
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
دلوں میں کیوں تمھارے ہے یہ خامی
نہیں فطرت میں کچھ بد انتظامی
ابھی تک یادِ حق ہے دل کی حامی
سنو یہ نغمۂ استادِ جامی
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
برٹش سلطنت کے ہیں عواطف
کہ مذہب کی نہیں ہے وہ مخالف
تو کیوں ہوتے نہیں تم اس سے واقف
کہ کہتی ہے نگاہِ چشمِ عارف
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
رسول اللہ کو دنیا نے مانا
زبانوں میں ہے اب تک وہ فسانہ
نہیں اسلام سے خالی زمانہ
سنو اکبرؔ کا یہ قومی ترانہ
ہنوز آں ابرِ رحمت در فشان استخم و خمخانہ با مہر و نشان است
۴۴۔ خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دے
خدا علی گڑھ کے مدرسے کو تمام امراض سے شفا دےبھرے ہوئے ہیں رئیس زادے، امیر زادے، شریف زادے
لطیف و خوش وضع، چست و چالاک، صاف و پاکیزہ، شاد و خرمطبیعتوں میں ہے ان کی جودت، دلوں میں ان کے ہیں نیک ارادے
کمالِ محنت سے پڑھ رہے ہیں، کمالِ غیرت سے بڑھ رہے ہیںسوار مشرق کی راہ میں ہیں تو مغربی راہ میں پیادے
ہر اک ہے ان میں کا بیشک ایسا کہ آپ اسے جانتے ہیں جیسادکھائے محفل میں قدِ رعنا، جو آپ آئیں تو سر جھکا دے
فقیر مانگے تو صاف کہہ دیں کہ تو ہے مضبوط، جا کما کھاقبول فرمائیں آپ دعوت تو اپنا سرمایہ کل کھلا دے
بتوں سے ان کو نہیں لگاوٹ، مسوں کی لیتے نہیں وہ آہٹتمام قوت ہے صرفِ خواندن، نظر کے بھولے ہیں، دل کے سادے
نظر بھی آئے جو زلفِ پیچاں تو سمجھیں یہ کوئی پالسی ہےالیکٹرک لائٹ اس کو سمجھیں جو برق وش کوئی مسکرا دے
نکلتے ہیں کر کے غول بندی بنامِ تہذیب و دردمندییہ کہہ کے لیتے ہیں سب سے چندے، ہمیں جو تم دو تمھیں خدا دے
انھیں اسی بات پر یقیں ہے کہ بس یہی اصلِ کارِ دیں ہےاسی سے ہوگا فروغِ قومی، اسی سے چمکیں گے باپ دادے
مکانِ کالج کے سب مکیں ہیں، ابھی انھیں تجربے نہیں ہیںخبر نہیں ہے کہ آگے چل کر ہے کیسی منزل، ہیں کیسے جادے
دلوں میں ان کے ہے نورِ ایماں، قوی نہیں ہے مگر نگہباںہوائے منطق، ادائے طفلی، یہ شمع ایسا نہ ہو بجھا دے
فریب دے کر نکالے مطلب، سکھائے تحقیرِ دین و مذہبمٹا دے آخر کو وضعِ ملت، نمودِ ذاتی کو گو بڑھا دے
یہی بس اکبرؔ کی التجا ہے، جنابِ باری میں یہ دعا ہےعلوم و حکمت کا درس ان کو پروفیسر دیں، سمجھ خدا دے
۴۵۔ ترجمہ قولِ یکے از کارکنانِ یورپ، سنہ ۱۸۹[illegible]ء
Religion without power is but a Philosophy
یہ شیخ اکبرؔ سے اتنا کیوں خفا ہے[illegible]
نہیں ہے اس میں جھگڑے کی کوئی باتیہ اک قولِ حکیمِ با صفا ہے
نہ ہو مذہب میں جب زورِ حکومتتو وہ کیا ہے؟ فقط اک فلسفا ہے
۴۶۔ پاتی ہیں قومیں تجارت سے عروج
پاتی ہیں قومیں تجارت سے عروجبس یہی ان کے لیے معراج ہے
ہے تجارت واقعی اک سلطنتزورِ یورپ کو اسی کا آج ہے
لفظِ تاجر خود ہے اے اکبرؔ ثبوتدیکھ لو، تاجر کے سر پر تاج ہے
۴۷۔ تمھاری اصل خدا کا کلام واضح ہے
تمھاری اصل خدا کا کلام واضح ہے
عبث یہ ولولۂ نقلِ قومِ فاتح ہے
سنو یہ بات جو مجموعۂ نصائح ہے
وہی ہے باعثِ عزت، عمل جو صالح ہے
نہ ہو جو مذہب و ملت کے ساتھ ہمدردی
زمانہ صاف کہے گا کہ ہے یہ نامردی
انھیں کے واسطے مے کا سرور زیبا ہے
انھیں کے دل میں طرب کا وفور زیبا ہے
انھیں کو روئے زمیں پر غرور زیبا ہے
مرے لیے فقط امیدِ حور زیبا ہے
اسی امید میں ساری ترقیاں سمجھیں
جو آپ حور کے معنی کی خوبیاں سمجھیں
حواشی
[۱] مطلب یہ ہے کہ ہم کیوں نہ پڈنگ اور کاری وغیرہ نعمتیں ہوٹل میں کھائیں۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.