Urdu in Translation
Buscar

Capítulo 4 de 9

The Sayyid, the Preacher and the Oudh Punch: Poems 12–15

سید، واعظ اور اودھ پنچ: نظمیں ۱۲ تا ۱۵

Akbar Allahabadi

Escritura
Tamaño

۱۲۔ سید سے آج حضرتِ واعظ نے یہ کہا (سنہ ۱۸۷۷ء)

سید سے آج حضرتِ واعظ نے یہ کہاچرچا ہے جا بجا ترے حالِ تباہ کا

سمجھا ہے تو نے نیچر و تدبیر کو خدادل میں ذرا اثر نہ رہا لا الٰہ کا

ہے تجھ سے ترکِ صوم و صلوٰۃ و زکوٰۃ و حجکچھ ڈر نہیں جنابِ رسالت پناہ کا

شیطاں نے دکھا کے جمالِ عروسِ دہربندہ بنا دیا ہے تجھے حبِّ جاہ کا

اس نے دیا جواب کہ مذہب ہو یا رواجراحت میں جو مخل ہو وہ کانٹا ہے راہ کا

افسوس ہے کہ آپ ہیں دنیا سے بے خبرکیا جانیے جو رنگ ہے شام و پگاہ کا

یورپ کا پیش آئے اگر آپ کو سفرگذرے نظر سے حال رعایا و شاہ کا

وہ آب و تاب و شوکتِ ایوانِ خسرویوہ محکموں کی شان، وہ جلوہ سپاہ کا

آئے نظر علومِ جدیدہ کی روشنیجس سے خجل ہو نورِ رخِ مہر و ماہ کا

دعوت کسی امیر کے گھر میں ہو آپ کیکم سن مسوں سے ذکر ہو الفت کا، چاہ کا

نوخیز، دلفریب، گل اندام، نازنیںعارض پہ جن کے بار ہو دامن نگاہ کا

ٹکرائے اگر تو ہنس کے کہے اک بتِ حسیںوَل مولوی! یہ بات نہیں ہے گناہ کا

اس وقت قبلہ جھک کے کروں آپ کو سلامپھر نام بھی حضور جو لیں خانقاہ کا

پتلون و کوٹ و بنگلہ و بسکٹ کی دھن بندھےسودا جناب کو بھی ہو ہیٹ کی کلاہ کا

منبر پہ یوں تو بیٹھ کے گوشے میں اے جنابسب جانتے ہیں وعظ ثواب و گناہ کا

۱۳۔ گرمیِ بحث میں انور نے یہ اکبر سے کہا

گرمیِ بحث میں انور نے یہ اکبر سے کہاکہ رہِ احمدِ مرسل پہ تو قائم نہ رہا

رہ گئی ہے فقط اوہام پرستی تجھ میںبادۂ جہل کی بس آ گئی مستی تجھ میں

نہ مقاصد میں بلندی، نہ خیالات صحیحبحرِ عصیان و تعصب میں تو ڈوبا ہے صریح

سخت ناعاقبت اندیش ہیں شیخ و ملاقوم برباد ہوئی جاتی ہے کھلم کھلا

کہا اکبر نے یہ الزام ہے بے شبہ درستتو ہے مجھ سے بھی زیادہ مگر اس راہ میں سست

کرّ و تزئین و تجمل سے تجھے ہے بس کامدل میں انکار ہے اور لب پہ ہے نامِ اسلام

طاعتِ حق کی ترے قافلے میں گرد نہیںنفسِ سرد نہیں ہے، دلِ پُر درد نہیں

ہم اگر تنگی سے جاتے ہیں خامی کی طرفترا میلان ہے الحاد و غلامی کی طرف

تو بھی اس رنگ سے محروم ہے، ہم بھی محرومصادق آتا ہے یہی قولِ شہیدِ مرحوم

اے صبا مایۂ سودا نہ تو داری و نہ منبوئے آں زلفِ چلیپا نہ تو داری و نہ من

۱۴۔ نامہ بنام اودھ پنچ، سنہ [illegible]

اے گوہرِ بحرِ ظرافتوے جوہرِ معدنِ لطافت

سرمایۂ انبساطِ خاطرتسکینِ دل و نشاطِ خاطر

دیباچۂ دفترِ فصاحتعنوانِ صحیفۂ بلاغت

خلّاقِ معانیِ طرب خیزکشّافِ رموزِ عشرت انگیز

ہادیِ ادیب و دانش آموزگوہر افشاں و گوہر اندوز

زینت دہِ شاہدِ تکلمآئینۂ خندہ و تبسم

سرچشمۂ قول و وعظ و گفتارگنجینۂ وعظ و پند و اسرار

اے مخزنِ دو زبانِ اردووے اوج دہِ نشانِ اردو

رنگینی میں غیرتِ گلستاںشوخی میں حریفِ برقِ تاباں

کیا خوب ہے نسخۂ اودھ پنچمحبوب ہے سب کو اودھ پنچ

دن رات یہی ہیں اس کے چرچےپڑھ جاتے ہیں دل کو اس کے پرچے

ہے خلقِ خدا قتیل اس کیحاسد کا حسد دلیل اس کی

معقول مزاج ہے تو یہ ہےشرعاً جو مباح ہے تو یہ ہے

ہر چند کہ زہر بیشتر ہےگو فقرۂ طعن نیشتر ہے

لیکن وہ قند میں گھلا ہےیہ آبِ حیات میں بجھا ہے

وہ شربتِ حفظِ عقل و ایماںیہ مردہ دلوں کو ہے رگِ جاں

بگڑے ہوئے بن گئے ہنسی میںحکمت ہے تو ایسی دل لگی میں

ہر کس کہ بدید گفت خوب استباللہ مفرّح القلوب است

رندوں کی زباں میں پندِ دلخواہسبحان اللہ واہ وا واہ

ہر چند کہ طرزِ پنچ لندنبے شبہ ہے دلپسند و پُر فن

لیکن وہ نقشِ اولیں ہےنسبت اس سے اسے نہیں ہے

ماشاء اللہ یہ نقشِ ثانیبہتر ہے بصورت و معانی

وہ پیرِ معمر و کہن سالیہ خیر سے نونہالِ اقبال

وہ اک گلِ صد بہار دیدہیہ غنچۂ تازہ نو دمیدہ

مولودِ سعیدِ مریمِ طبععیسیٰ دم و گوہرِ یمِ طبع

زینتِ شامِ اودھ ہے اس سےروشن نامِ اودھ ہے اس سے

اک نور ہے مہرِ لکھنؤ کااختر ہے سپہرِ لکھنؤ کا

وہ سرد بہ رنگِ آتشِ گلیہ گرم بسانِ آہِ بلبل

بحثِ مضموں میں وہ اگر پیچیہ حلِّ نکات میں ہے سرپنچ

واں بازوئے کار سست بنیادیاں خامہ نیزۂ تہمتن زاد

کیسا خامہ، زبانِ معنیکیا ذکرِ زباں، کہ جانِ معنی

اٹھنے میں نگاہِ چشمِ جادوچلنے میں حریفِ تیغِ ابرو

مفتاحِ خزینۂ تصورنقاشِ نگینۂ تصور

کہنا اسے شمع کب روا ہےاوصاف میں شمع سے سوا ہے

وہ چہرہ نمائے بزمِ صورتیہ پردہ برافگنِ حقیقت

ہر چند کہ سرمہ در گلو ہےتاہم سرگرمِ گفتگو ہے

رعنا و لطیف و شوخ و بیباکسرگرم و حریف و چست و چالاک

مشاطۂ شاہدِ معانیبانیِ بنائے خوش بیانی

پیچیدگیوں میں حرف زن ہےشانہ کشِ گیسوئے سخن ہے

آزادی کا فخر اسے اگر ہےیہاں فخر اس سے زیادہ تر ہے

یعنی کہ وہ مطلق العناں ہےمقید، ہر ایک سو رواں ہے

واں طبع کو زورِ لاتخف ہےدقت تو جو ہے وہ اس طرف ہے

زنجیرِ خرد کی پائے بندیناقاعدہ شرحِ دردمندی

تارِ نظرِ حسودِ بدکیشہر گام پہ مثلِ دام در پیش

کوتہ نظرانِ پست فطرتسرگرمِ شرارت و عداوت

واں شاخِ شجر پہ ہے ترانہیاں دیدۂ دام آشیانہ

کیونکر نہ ہو ادعائے اعجازکھولے ہیں قفس میں بالِ پرواز

کی سیرِ دو عالم اک نفس میںپھر دیکھیے تو اسی قفس میں

دریا قطرے میں موجزن ہےغنچے میں بہارِ صد چمن ہے

ہے نوکِ سناں پہ مشقِ پروازرقصاں دمِ تیغ پر بصد ناز

شعلوں کے ہجوم میں سمندرامواج میں ماہیِ شناور

کیا کثرتِ خار سے خطر ہےیاں دوشِ نسیم پر سفر ہے

پابندی کا کب ہے یاں تأسفیوسف زنداں میں بھی ہے یوسف

جلوہ ہے وہی، وہی تجلیشوکت ہے وہی، وہی تسلی

پابند جو یوسفِ سخن ہےپھیلی ہوئی بوئے پیرہن ہے

ہر رنگ میں ہے بہارِ معنیہر لفظ ہے پردہ دارِ معنی

ہر نقطہ ہے نکتۂ بصیرتہر حرف ہے کاشفِ حقیقت

صرصر کے جور سے بری ہےیہ شاخ خزاں میں بھی ہری ہے

وہ مہرِ فلک سے منفعل ہےیاں روشنیِ دماغ و دل ہے

دریوزہ گری یہ اس کی اوقاتیہاں قطب صفت ثبات دن رات

جن سے آسیب کا تھا کھٹکاان دیووں نے خوب سر کو پٹکا

غالب تھا اگرچہ اسم ان کاٹوٹا نہ کبھی طلسم اس کا

ہوتے نہ جو رشک سے وہ چیںحسّاد بھی صاد کرتے بالیقیں

سنیے اک اور نکتۂ خوبآزادیِ گفتگو ہے معیوب

لاتا ہوں دلیلِ شاعرانہدیکھو قدرت کا کارخانہ

منہ کے اندر زباں جڑی ہےدانتوں کے حصار میں پڑی ہے

بتیس جواں سخت طینتاستادہ ہیں مائلِ اذیت

ہیں مثلِ سفید دیو بیباکظالم، جابر، حریص، سفاک

حد سے جو بڑھے زبانِ گفتاردوڑیں اسے کاٹنے یہ خونخوار

پہلو میں جو ان کے ہمنشیں ہووہ نوکِ خلال سے حزیں ہو

کتنا ہی وہ ہو ملائم و تردانا پستا ہے ان میں آ کر

لوہے کے چنے کہاں سے لائیںسختی کا انھیں مزا چکھائیں

اس قید میں جب کہ یہ زباں ہےآزادیِ گفتگو کہاں ہے

باریک ہے گو یہ نکتہ اے دللازم ہے سمجھ لیں اس سے عاقل

مرضی تھی خدائے جسم و جاں کیمحدود ہوں شوخیاں زباں کی

دل میں جو آئے بک نہ جاؤہشیار چلو، بہک نہ جاؤ

دریائے خیال موجزن ہےوقفِ یزداں و اہرمن ہے

ہے شارعِ عامِ حق و باطلناظر اس کی ہے فکرِ عاقل

گزرے جو خیالِ بد بلا کد[illegible] خرد سے بس کرو رد

باطل پہ نہ جاؤ، حق کو سن لوکانٹوں کو ہٹا کے پھول چن لو

خاموش بس اے زبانِ خامہمنظورِ فکر ہے ختمِ نامہ

ہر چند یہ عالمِ سخن ہےیاں فیضِ ازل ضیا فگن ہے

ہر گوشے میں وسعتِ فلک ہےہر ذرہ میں مہر کی چمک ہے

ہر گام پہ ہیں چمن ہزاروںایک اک میں گلِ سخن ہزاروں

ہر برگِ گلِ سخن میں سو رنگہر رنگ میں لاکھ لاکھ نیرنگ

نیرنگ ایسی کہ عقل حیراںحیرت ایسی کہ نورِ عرفاں

ہر سمت ہزار میکدے ہیںہر ایک میں لاکھ خم بھرے ہیں

ہر خم میں شرابِ ارغوانییعنی رنگینیِ معانی

اک قطرہ سے طبع ہو جو ممتازسینہ بن جائے محرمِ راز

وہ راز کہ دل ہو محوِ مستیمائل ہو سوئے سخن پرستی

ہو طول جو سلسلہ سخن کا[illegible]

پر طولِ بیاں سے فائدہ کیااس صرفِ زباں سے فائدہ کیا

بس بس اب روک لے زباں کوکافی ہے اشارہ نکتہ داں کو

ہو کر آمادہ جان و دل سےہو محوِ دعا زباں و دل سے

جب تک ہے رباعیِ عناصررنگینیِ نقشِ لوحِ خاطر

جب تک کہ یہ نظمِ بیتِ ہستیموزوں ہے برائے خود پرستی

جب تک ہے مسدسِ جوانببرہانِ مشارق و مغارب

جب تک کہ ہے روح کا لطیفہانفاس کا ہر نفس وظیفہ

یہ پرچۂ دلفریب و زیباہو مونسِ جانِ ناشکیبا

تحریک سے مس کو زر بنائےٹھہرے تو دل کو گھر بنائے

ہر جا میں لاجواب نکلےہر رنگ میں انتخاب نکلے

ہو سوزِ دلِ یگانہ و غیربن جائے چراغِ کعبہ و دیر

جب تک کہ اثر ہے کاف و نوں کامفتوں ہو ہر ایک اس فسوں کا

پروانہ اسے چراغ سمجھےبلبل دیکھے تو باغ سمجھے

خورشید کا نور جس طرف ہوذرّوں کی کشش اسی طرف ہو

اے حافظ و خالقِ اودھ پنچخوش دل رہیں عاشقِ اودھ پنچ

اپنی اپنی مراد پائیںدیکھیں جب دل کو شاد پائیں

ہر مشتریِ بلند فطرتپائے دو ورق میں رفعت

محتاج ہو سیم کا نہ زر کامورد ہو بلندیِ نظر کا

احباب جو اس کے ہیں معاونعالی نشانِ نیک باطن

ظرّاف و مصنفِ لطائفطابع و مصوّرِ ظرائف

سرسبز ہوں گلشنِ جہاں میںخرم پھریں باغ و بوستاں میں

رنگیں طبعی سے گل کھلائیںچشمِ بد بیں کو خوں رلائیں

پیدا ہوں وہ گوہرِ مضامیںدریا کے ہو لب پہ شورِ تحسیں

بیساختہ بول اٹھیں سخنوراللہ رے طبع و فکرِ اکبرؔ

(اودھ پنچ! سبحان اللہ، سبحان اللہ)

۱۵۔ گفتمش تارکِ مذہب شوم و خوش باشم

گفتمش تارکِ مذہب شوم و خوش باشممنصبے چند ہوس دارم و انعامے چند

خلق را فائدہ نیست ازیں جنگ و جدالیک دعا ہست دریں محفل و دشنامے چند

گفت خاموش کہ دیں است مدارِ ملتترکِ ایں راہ مکن تا پئے خود کامے چند

عیبِ مذہب ہمہ گفتی، ہنرش نیز بگونفیِ حکمت مکن از بہرِ دلِ عامے چند

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.