
第 3 章,共 9 章
The New Light and the Old Faith: Poems 2–11
نئی روشنی اور پرانا دین: نظمیں ۲ تا ۱۱
۲۔ خدا جانے کہا کس نے یہ کس دن عقلِ سالم سے
خدا جانے کہا کس نے یہ کس دن عقلِ سالم سےکہ مشرق کو نظر آتا نہیں مغرب سے چھٹکارا
گئی دنیا تو پھر ہم دیں کو اب کیوں لگا رکھیںبڑا معلوم ہوتا ہے مسائل کا یہ پشتارا
مضر ہیں مذہبی قیدیں، مناسب ہے شکست ان کیمزاحم ہیں مگر یہ مولوی، ان کا نہیں چارا
وہ چھینٹے دیجیے ان کو حکیمانہ طریقوں سےکہ بجھ کر راکھ ہی ہو جائے مذہب کا یہ انگارا
چلے مقراضِ تدبیر ایسے پیچیدہ طریقوں سےکہ جڑ کٹ جائے مذہب کی، یہ گھر ہو منہدم سارا
عمل جاتا رہے بالکل، فقط الفاظ رہ جائیںانھیں بھی پست کر دے مغربی حکمت کا نقارا
ترقی پائیگی قوم آپ کی پھر دورِ گردوں میںعجب کیا ہے کہ پھر بہنے لگے اقبال کا دھارا
قیامت کر گئی قومی ترقی گوشِ مسلم میںلگا کہنے زہے نعمت اگر حاصل شود ما را
اگر آں شاہدِ مغرب بدست آرد دلِ ما رابچشمِ مستِ او بخشیم تسبیح و مصلیٰ را
مصلّے کو غرض تہ کر کے اٹھا عابدِ مشرقجو طاقت آ گئی تھی دل میں، اس طاقت سے للکارا
ادھر تحریر، ادھر اسپیچ، ادھر سازش، ادھر بندشکسے جھڑکا، کسے ڈانٹا، کسے گانٹھا، کسے مارا
نتائج پر نظر کب مردِ عاشق تن کی ہوتی ہےوہ سمجھے میں نئی اک قوم کا بن جاؤں گا دارا
دو روزہ پالسی نے اس طرف سے تقویت دیادھر بجنے لگا فتح و ظفر کا پھر تو نقارا
[illegible]وہ گیسو جن سے پھیلی بوئے مستِ عنبرِ سارا
حواسِ ظاہری کے دام سے بچنا ہوا مشکلکہاں موہوم حوریں اور کہاں پریوں کا نظارا
وہ ٹوٹے، وہ گرے، وہ پھسلے، پھر ان کو عشق آیانمازوں میں رہی طاقت، نہ دل میں صبر کا یارا
حریفانِ طرب آگیں نے چھیڑا سازِ عشرت کوبجایا سب نے مضرابِ ہوس سے دادرا دارا
بتوں کے عشق میں پڑ ہی چکے تھے عقل پر پتھر[illegible] تکلف چڑھ گیا ہر قلب پر پارا
غریبوں، دردمندوں، بیکسوں، تنگ دل کی کیا ہستیوہ حالت پیش آئی تھی کہ جس سے قوم ہو ہارا
نہ حالی کی مناجاتوں کی پروا کی زمانے نےنہ اکبر کی ظرافت سے ڈرے یارانِ خود آرا
زبانِ حال سے فریاد تھی یہ اہلِ تمکیں کیکہ اے نظمِ جہاں را حافظ و اے عرش را دارا
فغاں زیں سحر فن دلکش مسانِ آفتِ ایماںچناں بردند صبر از دل کہ ترکاں خوانِ یغما را
ہوا سب کو تعجب، کیوں ہوئیں یہ حالتیں پیدانہ تھا یہ مطلبِ سید کہ اس رخ پر چلے دھارا
وہ پردے کے بڑے حامی تھے، طاعت کے مؤید تھےوہ خواہاں تھے کہ چمکے اوج پر اسلام کا تارا
حباب آسا جو آسانی سے ٹوٹا گنبدِ مذہبتو کیا اقبال و عزت کا ادھر سے لگا دوبارا
سنا سب کچھ، مگر دیکھا جو بالآخر تو کیا دیکھاوہی اینٹیں، وہی پتھر، وہی چونا، وہی گارا
ادھر شیرازۂ قومی کو ہم ہیں توڑتے جاتےادھر بازی حریفوں کی، ہر ہاتھ ان کے ہے پوبارا
نتیجے ہم نے خود آنکھوں سے دیکھے دورِ روشن میںفلک نے سرکشوں کو خاکِ ناکامی پہ دے مارا
کہیں تحقیرِ مذہب کی کوئی تعلیم کرتا ہےبجھا کر نورِ دل کو کب ہے چمکا قسمت کا تارا
بہت ہے غفلت و ترکِ عمل دنیا میں، یہ ماناعقیدہ اصل ہے لیکن، وہ ہونا چاہیے پیارا
مدارِ خیر خواہی ترکِ مذہب پر نہیں ہرگزہر اک نے دل سے انگلش لائلٹی کا دم مارا
نہ تھا یہ مطلبِ سارہ کہ اسمٰعیل کا فخر ہوحریفانہ نہ ہو انداز، مطلب تھا یہی سارا
جب اپنی ہسٹری ہم بھول جائینگے تو کیا ہوگاخدارا اک نظر اس سین کا کرتے تو نظارا
صلوٰۃ اب بے وضو سے، رو رہی ہے اس طرف مسجدادھر قرآنِ بے رغبت سے دل نے ہے کیا سیپارا
مشینیں چل رہی ہیں اور کسی کی کچھ نہیں چلتیادھر ہیں بے پھلے کندے، ادھر ہے برق وش آرا
خود اپنی قوم کی تحقیر کرنا اس کے کیا معنییہ کس جادو نے بچوں کو کیا خود بیں و خود آرا
کہیں اطفالِ ناداں ہیں، کہیں پیرانِ بے طاقتیہ غوطے کھاتے ہیں، تقریر میں آتا ہے وہ بیچارا
یہ اخلاقی، یہ روحانی بنائیں ٹوٹتی کیوں ہیںیہ نفسِ مطمئنہ پر ہوا کیوں غالب امّارا
یہ کس کل کے بنینگے جزو کھو کر اپنی ملت کومگر ہاں اپنے بیلوں میں ملا لے کوئی بنجارا
ہمارے حکمراں تو چرچ میں سرگرمِ طاعت ہوںتو ہم بندے پھریں کیوں دشتِ بے دینی میں آوارا
عمل مطلوب ہے بیشک، مگر نور اپنا کیوں کھوئیںزمانے کو ہے گردش، ہم نہیں ثابت سے سیّارا
ہو الاوّل ہو الآخر یہ شہدِ روح پرور ہےپھر وہ آزاد ہو کر یہ ہے یا لوکا شکر پارا
بٹھایا کیوں نہیں جاتا یہ نقشِ جانفزا دل پرکہ روحانی ترقی میں ہو لڑکا عرش کا تارا
بہت فکر اس کی ہے دن رات گو قومی بزرگوں کومگر کمزور یہ موجیں، ادھر غفلت کا ہے دھارا
میں یہ پیچیدہ بحثیں پیش کرنے کو تھا آمادہکہ اتنے میں جنابِ حضرتِ حافظ نے للکارا
حدیث از مطرب و مے گو و رازِ دہر کمتر جوکہ کس نکشود و نکشاید بحکمت ایں معمّا را
۳۔ قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبر
قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبرتو صاف کہتے ہیں سید یہ رنگ ہے میلا
جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوںخود اپنی قوم مچاتی ہے شور و واویلا
جو اعتدال کی کہیے تو وہ ادھر نہ ادھرزیادہ حد سے دیے سب نے پاؤں ہیں پھیلا
ادھر یہ ضد ہے کہ لمنڈ بھی چھو نہیں سکتےادھر یہ دھن ہے کہ ساقی صراحیِ مے لا
ادھر ہے دفترِ تدبیر و مصلحت ناپاکادھر ہے وحیِ ولایت کی ڈاک کا تھیلا
غرض دو گونہ عذاب است جانِ مجنوں رابلائے صحبتِ لیلیٰ و فرقتِ لیلیٰ
۴۔ یہ تسبیح و تکبیر و حمد و دعا
یہ تسبیح و تکبیر و حمد و دعاسبھی فخرِ دل بندگانِ خدا
یہ پلٹن کے گورے ہر اتوار کوسجاتے ہیں گرجا کے دربار کو
اگر یہ کہو ہیں وہ بالکل وحوشتو دیکھو کہ عابد ہیں حضرت لیوش
جب اڈورڈ ہفتم ہوئے تھے علیلتو کی قوم نے یادِ ربِّ جلیل
کمی کی نہ اسٹیٹ نے خرچ میںدعائیں ہوئیں دھوم سے چرچ میں
وہ جنرل کہ دہلتی تھی جن سے زمیںہیں گرجا میں راکع مع الراکعیں
ہوئے جنگ سے زار و اندیشہ ناکگرے سجدہ میں پیشِ اللہ پاک
سرِ بادشاہاں گردن فرازبدرگاہِ او بر زمینِ نیاز
۵۔ ہمنشیں کہتا ہے کچھ پروا نہیں مذہب گیا
ہمنشیں کہتا ہے کچھ پروا نہیں مذہب گیامیں یہ کہتا ہوں کہ بھائی یہ گیا تو سب گیا
نیشنل فیلنگ تو ہم میں کبھی تھی ہی نہیںاتحادِ دیں فقط باقی رہا تھا، اب گیا
ہے عقیدوں کا اثر اخلاقِ انساں پر ضروراس جگہ کیا چیز ہوگی وہ اثر جب دب گیا
پیٹ میں کھانا، زباں پر کچھ مسائل ناتمامقوم کے معنی گئے اور روح کا مطلب گیا
منقلب ہوتے ہیں پیہم طالب علموں کے کورسکورس بھی رخصت ہوا، [illegible] جب گیا
اتحادِ معنوی ان میں برائے نام ہےدیکھتے ہو اک گروہ اک راہ ہو کر کب گیا
بعد ازیں کیا حشر ہوگا، یہ تو سوچو دوستوجو اٹھا، سرحلقۂ ملت و مشرب گیا
[illegible]حیف! مسلم سے خیالِ مکہ و یثرب گیا
مجلسِ دنیا میں کس صف کے ہوگے مستحق[illegible]
نوکری کے باب میں وہ پالسی قائم نہیںہوش میں آؤ، وہ رنگِ دورِ کرتب گیا
ہم یہی کہتے ہیں صاحب، سوچ لو انجامِ کاردوسرا پھر کیا ٹھکانا ہے اگر مذہب گیا
۶۔ اک لعبتِ چیں کو لندن سے جو بیاہ کے لائے مغاعیلن
اک لعبتِ چیں کو لندن سے جو بیاہ کے لائے مغاعیلناحباب نے تیرِ مطاعن سے ان کے دل کو مجروح کیا
باپ ان کے یہ بولے، کشتی مری واللہ ڈبو دی، ہائے غضباس لڑکے نے صحبتِ بد پا کر یہ کارِ ابنِ نوح کیا
تعلیم کو میں نے بھیجا تھا، تزویج کی اس نے ٹھہرائیممدوح تو بیٹا بھول گیا، بس اپنے تئیں منکوح کیا
لڑکے نے جواب میں عرض کیا، اے قبلہ کچھ سنیے تویہ کون برائی میں نے کی جو فاتح کو مفتوح کیا
۷۔ مسانِ خود فروش آخر فرستادند ایں بلہا
مسانِ خود فروش آخر فرستادند ایں بلہاطلب کردند زر چندانکہ خوں افتاد در دلہا
نشاطِ طبع برہم شد، شکست آں رنگِ محفلہاالا یا ایہا الساقی ادر کاساً و ناولہا
کہ عشق آساں نمود اول ولے افتاد مشکلہا
۸۔ ادھر ہے علمِ دیں بے نور، ایماں قلب سے زائل
ادھر ہے علمِ دیں بے نور، ایماں قلب سے زائلادھر کالج کا بیڑا پار کرنے پر ہے دل مائل
ادھر ہے نوکری دشوار، بیکاری سے ہے سائلشبِ تاریک و بیمِ موج و گردابے چنیں حائل
کجا دانند حالِ ما سبکسارانِ ساحلہا
نہ قیدِ شرع باقی ہے، نہ آزادی کی ہے کچھ حدنہیں کچھ گفتگو اس باب میں، یہ ٹھیک ہے یا بد
بزرگوں کا بھی فتویٰ ہے کہ پڑھ قانونِ سرسیدؔ[۱]بمے سجادہ رنگیں کن گرت پیرِ مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نبود ز راہ و رسمِ منزلہا
کہاں کی پیش بینی، جب طبیعت ہی نہ تھی حاضرمقیمِ دیر تھے، دلچسپ تھی بزمِ بتِ کافر
نہ تھا کچھ پاسِ ایماں، دل کی تھی مدِّ نظر خاطرہمہ کارم ز خود کامی بہ بدنامی کشید آخر
نہاں کے ماند آں رازے کزو سازند محفلہا
جو ہونا چاہتا ہے بدر، بن جا ماہِ نو حافظنہ کر آرام، رہ راہِ طلب میں تیز رو حافظ
لگائے رہ اسی سے رات دن تو اپنی لو حافظحضوری گر ہمی خواہی ازو غافل مشو حافظ
متیٰ ما تلق من تہویٰ دع الدنیا و اہملہا
۹۔ آئینہ لفظِ خدا ہے سیکڑوں مفہوم کا
آئینہ لفظِ خدا ہے سیکڑوں مفہوم کااور از انجملہ مرادف ہے یہ نامعلوم کا
سب کا حصہ تو بحالت کے لائق ہے یہاںبس یہی مطلب تو ہے اے مہرباں مقسوم کا
۱۰۔ پیر و مرشد نے کیا قوم میں بچپن پیدا
پیر و مرشد نے کیا قوم میں بچپن پیداوہ یہ سمجھے تھے کہ ہو جائیگا جوبن پیدا
وہ تو پیدا نہ ہوا ہاتھ سے لڑکوں کے، مگرہو چلے دین کی دیواروں میں روزن پیدا
پستیِ قوم کے جب آ گئے دن اے اکبراونچے درجوں میں ہوئے عقل کے دشمن پیدا
دین کیا چیز ہے، شیرازۂ قومی ہے فقطجس سے ملت کی ہر اک صورتِ احسن پیدا
آج ہوتا نہیں اس کا ضرر ان کو محسوسہو رہے ہیں ابھی کچھ لالہ و [illegible] پیدا
بالیقیں آئیگا اس باغ پہ ایسا اک وقتکہ جلیں گی روشیں، نسترن و سوسن پیدا
صورتِ برگِ خزاں دیدہ پھریں گے اڑتےنہ بہار آئیگی پھر، ہوگا نہ گلشن پیدا
باپ کے خون سے ہوگی جو حمیت زائلہونگے اطفال بھی بے غیرت و کودن پیدا
کاہ کی طرح سے اڑ جائینگے دینی اعمالاختلافات کے ہو جائینگے خرمن پیدا
ظلمتِ جہل سے گھر جائینگے دل کے اطرافسینوں میں ہو نہ سکیں گے دلِ روشن پیدا
کون کہتا ہے کہ انگلش کا نہ ہو دل سے مطیعکون کہتا ہے نہ کر زراعت و فن پیدا
کون کہتا ہے تکلف سے نہ کر زیست بسرکون کہتا ہے نہ کر وضع میں جوبن پیدا
کون کہتا ہے کہ تو علم نہ پڑھ، عقل نہ سیکھکون کہتا ہے نہ کر حسرتِ لندن پیدا
بس یہ کہتا ہوں کہ ملت کے [illegible]راہِ قومی کا تو خود ہی نہ ہو رہزن پیدا
قوم قوم آٹھ پہر سنتے ہیں ہم، قوم کہاںتار باقی نہیں، تو کرتا ہے دامن پیدا
مذہبی سلسلہ ہی فقط ہے تری قومی ہستییہ جو ٹوٹی تو نہیں کوئی نشیمن پیدا
کچھ گھروں میں ابھی ممکن ہے کہ پالیں لڑکےفطرتی طور پہ جو ہوتی ہے [illegible] پیدا
[illegible]پھر نہیں ہونے کی یہ [illegible] پیدا
سرِ تہذیب سے ہو جائینگے قطعاً خارجحس ہی باقی نہ رہیگا کہ ہو شیون پیدا
۱۱۔ بیشک نئی روشنی سے بہتر ہے کہیں
بیشک نئی روشنی سے بہتر ہے کہیںانسان کے لیے کرسچین ہو جانا
یزداں کا خیال تو دلاتا ہے وہ دیںہے کفرِ صریح اہرمن ہو جانا
مرشد کہتے ہیں تو ہے ناداں اے دوستبات اور ہے صاحبِ سخن ہو جانا
میری چالیں بھی ہیں اسی کی تمہیدسکھلاتے ہیں پہلے بے دہن ہو جانا
ساکت کر دے گی ان کو جب بے علمیآساں ہوگا ادھر وطن ہو جانا
حواشی
[۱] اگرچہ اختلافِ حرکتِ قافیہ اساتذہ کے یہاں ہے مگر یہاں میں سرسید سے قافیہ نہیں ملا سکا۔
这一章在你心里留下了什么?
登录后参与
讨论
还没有人开口。说说这一章触动了你什么。