
Глава 25 из 28
عشاء منتصف الليل مع الحماة
A Midnight Supper with the Mother-in-Law
حجۃ الاسلام ساس سے ابن الوقت کے پاس نہ ٹھہرنے کا عذر کرتے ہیں
حجۃ الاسلام کے بے وقت گھر پہنچنے سے سب کو حیرت ہوئی۔ لوگ اس خیال سے کہ ابن الوقت کے پاس ٹھہریں گے کھا پی کر سو سلا رہے تھے۔ جوں ہی اس نے گھر میں قدم رکھا، ساس کو کہتے سنا کہ "اے ہے اگر کھانا بھی کھا کر نہیں آئے تو اتنی رات گئے اب کیا ہوگا؟ خاگینہ بن سکتا ہے لیکن اس بلا کی گرمی پڑ رہی ہے اور راستے کی حرارت الگ۔ انڈے گرم آگ لوچ کوئی کھائے۔ سویاں بھنی ہوئی تیار ہیں۔ رومالی ہیں اور بھننے میں بھی کسر نہیں رہی۔ مگر آخر ہے تو میدا حاشا للہ میں تو نہیں دوں گی۔ کھچڑی پیاس بہت لگائے گی۔"
اتنے میں تو داماد نے سامنے آ کر سلام کے بعد چھوٹتے کے ساتھ ہی کہا کہ اماں جان بڑی زور کی بھوک لگ رہی ہے۔ بارے کچھ شامی کباب فیرینی کے نوالچے بچوں کے لیے لگا رکھے تھے۔ ٹوکری میں کچھ نان خطائیاں بچ گئی تھیں۔ سیب کا مربہ، اچار گھر میں تھا۔ جلدی سے ماما نے توا رکھ پتلے پتلے دو تین پراٹھے پکا دیے غرض ایسے ناوقت بھی بات کی بات میں جو کھانا مہیا ہو گیا۔ ابن الوقت کے یہاں اہتمام سے بھی میسر نہ ہوتا جتنی دیر داماد کھانا کھاتا رہا ساس پاس بیٹھی باتیں کیا کیں۔
"کیوں بیٹا! راستے میں ایسی کہاں دیر لگی کہ تم کو یہ وقت ہو گیا۔ میں تو سمجھی تھی کہ تم کچھ دن رہے سے بھائی کے پاس پہنچ گئے ہو گے۔"
داماد۔ "واقع میں میں نے عصر کی نماز بھائی کی کوٹھی پر پڑھی اور ارادہ انھیں کے پاس ٹھہرنے کا تھا۔"
ساس۔ "پھر ایسی کیا بات ہوئی کہ تم اتنی رات گئے چل کھڑے ہوئے؟"
داماد۔ "اگر مجھ کو بھائی کے پاس ذرا سی بھی آسائش کی توقع ہوتی تو میں ہرگز نہ آتا اور یوں سمجھتا کہ میں سرائے میں نہ ٹھہرا ان ہی کے یہاں ٹھہرا سہی۔ مگر وہاں تو مسلمان کے کھڑے ہونے تک کا ٹھکانا نہیں۔ ٹھہرنا اور رہنا تو درکنار۔ عصر اور مغرب دو وقت کی نمازیں میں نے وہاں پڑھی، میرے دل کو تسلی نہیں کہ نماز ہوئی ہو۔ اب عشاء کے ساتھ دونوں کا اعادہ کروں گا۔ آدھ کوس کے گردے میں تو وہاں مسجد کا پتہ نہیں جماعت تو یوں گئی گزری ہوئی۔ بنگلے میں مارے تصویروں کے کہیں اتنی جگہ نہیں کہ ایک کونے میں کوئی شخص کھڑا ہو کر دو رکعت پڑھ لے ناچار برآمدے میں نماز پڑھی تو کس مصیبت سے کہ کتے اوپر چلے آتے ہیں۔ دو تین کتے تو ایسے خونخوار اور ہیبت ناک تھے کہ اگر بھائی عین وقت پر نہ آ پہنچیں تو ضرور لپک کر میرا ٹینٹوا لیں۔"
ساس۔ "دور پار تمہارے دشمنوں کا پھر یہ لوگ مجھ سے کیا آ آ کر کہتے تھے کہ دشمنوں نے مارے جلن کے بدنام کر رکھا ہے جوان کو بے دین کہے وہ خود بے دین۔"
داماد۔ "شرع میں نام لے کر تو کسی کو بھی کافر کہنے کا حکم نہیں اور بھائی ابن الوقت تو اپنے تئیں چوری چھپے بھی نہیں کھلے خزانے پکار پکار کر مسلمان کہتے ہیں اور مسلمان ہیں بھی مگر ان کا رہنا سہنا، کھانا پینا سب انگریزوں کا سا ہے سرِمو فرق نہیں۔"
ساس۔ "اے ہے غدر کے دنوں میں کچھ ایسی گھڑی کا پیرا اس موئے فرنگی کا آیا تھا کہ بچے کی مت پھیر دی۔ ہم سے تو ایسا چھپایا ایسا چھپایا کہ دن کو گورے شہر میں گھسے اور رات کو ہم نے جانا کہ سارے غدر ہمارے گھر میں فرنگی چھپا رہا۔ جس وقت فرنگی کو لائے تھے اگر ذرا بھی کسی کو معلوم ہوتا تو میں اس کو کھڑا پانی نہ پینے دوں۔ خدا جانے کم بخت کہاں سے ہمارے گھر آ مرا تھا۔ نہ آتا نہ بچہ ہاتھ سے جاتا۔ آخر میرا صبر پڑا پھر پڑا۔ کسی کی آہ کا لینا اچھا نہیں ہوتا۔ خدا نے اس کے پیچھے ایسا روگ لگایا کہ سارے سارے دن اٹوانی کھٹوانی لیے پڑا رہتا تھا۔ آخر کو جاتے ہی بن پڑی۔ کالا منہ۔ خدا کرے پھر آنا نصیب نہ ہو۔"
داماد۔ "آپ اس انگریز کو ناحق کوستی ہیں۔ اس نے اتنا بڑا بھاری سلوک اس خاندان کے ساتھ کیا ہے کہ جس کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ اگر اس گھر میں آ کر نہ رہا ہوتا تو آج ساری عورتیں رانڈ ہوتیں، تمام بچے یتیم، محلے میں گدھوں کا ہل پھر گیا ہوتا، مال و اسباب کے نام کسی کو ایک پھوٹی کوڑی نہ ملتی۔ بھائی ابن الوقت کیا وہ دودھ پیتے بچے تھے کہ بہکائے میں آ گئے۔ پڑھے لکھے لائق ہوشیار، ایک دم سے ڈپٹی کلکٹر کر دیے گئے اور ڈپٹی کلکٹری کو ایسا سنبھالا کہ آج ڈپٹی کلکٹروں میں کوئی ان کا مدمقابل نہیں۔ ایسے شخص کو کون بہکا سکتا ہے اور وہ کیوں کسی کے بہکائے میں آ گئے۔ کرسٹان ہو گئے۔ انگریزوں کے مذہب کو تو ایسا لتاڑتے تھے کہ ان ہی کا جی جانتا ہوگا۔ انگریز ان کو کیا بہکاتے وہ تو الٹے ان کی وضع سے جلتے اور خار کھاتے ہیں اور سارا جھگڑا تو اسی بات کا ہے۔ آج وہ ہندوستانی بن کر رہیں تو صاحب کلکٹر سے صفائی کرا دینے کا میرا ذمہ۔"
ساس۔ "پھر بیٹا تم ہی کچھ بھائی کو سمجھاؤ۔"
داماد۔ "میں تو ہزار دفعہ سمجھاؤں مگر کوئی سمجھنے والا بھی بنے۔ یہ جو صورت پیش آئی اس کا تو کسی کو خیال بھی نہ تھا مگر ہاں بھائی ابن الوقت کی غیر معمولی ذہانت اور بلند نظری دیکھ کر مجھے اچھی طرح یاد پڑتا ہے۔ حضرت فرمایا کرتے تھے کہ اس لڑکے کی حالت خطرناک ہے۔ یہ بڑا ہو کر نہیں معلوم کیا کرے گا۔"
ساس۔ "ابن صاحب مجھ سے کہہ گئے ہیں کہ وہ فرنگی ان کی ہوشیاری دیکھ کر لٹو ہو گیا تھا اور وہی ان کو اکسا کرے گیا۔ اگر یہ ساتھ نہ دیں تو فرنگیوں کے لیے دلّی کبھی نہ لی جائے۔ پھر میں یہی کہوں گی اس فرنگی نے میرے بچے کو کچھ کر دیا ہے۔ خدا اس کو کھو دے۔"
داماد۔ "کر کیا دیا ایک دم سے ڈپٹی کلکٹر کر دیا جاگیردار کر دیا۔"
ساس۔ "نہیں بیٹا کچھ جادو کر دیا ہے۔"
یہ سن کر حجۃ الاسلام ہنسنے لگا۔ "آپ کو یہ بھی معلوم ہے انگریز بالکل جادو کے قائل نہیں۔"
ساس۔ "کیا جانیں بھائی، سنتے ہیں کہ فرنگی بڑے جادوگیرے ہوتے ہیں۔ جادو کے زور سے سارے ملک لیتے چلے جاتے ہیں اور ان کو ایسا جادو آتا ہے کہ ایک پل میں ہزاروں کوس کی خبر منگوا لیں۔"
داماد۔ "وہ عقل کا جادو ہے۔"
ساس۔ "اچھا تو تم ان کی بادشاہ زادی کو لکھو۔"
داماد۔ "کیا ۔۔۔؟"
ساس۔ "یہی کہ تمہارے فرنگیوں نے ایسا ظلم کر رکھا ہے کہ ہمارے آدمی کو بہکا کر فرنگی بنا لیا ہے۔ اگر وہ سچ مچ کی بادشاہ زادی ہے تو ضرور ہماری فریاد لے گی۔ لیکن بعضے آدمی کہتے ہیں بادشاہ زادی کو مت لکھواؤ۔ کمپنی اس کی بیٹی ہے اور بادشاہ زادی نے یہ ملک بیٹی کے جہیز میں دے ڈالا ہے۔ اب کمپنی کا حکم چلتا ہے۔ سو تم کو اصل حال معلوم ہوگا۔ کسی ایسے کو لکھو کہ بس دیکھتے کے ساتھ ہی حکم کر دے بھلا کہیں خدا کی خدائی میں ایسا بھی اندھیر ہوا ہے کہ آپ ہی تو فرنگیوں نے بلایا اپنے میں ملایا اور دوسرا فرنگی ایسا ظالم آیا کہ آتے کے ساتھ لگا دشمنی کرنے۔ دیکھنا تم بادشاہ زادی کو یہ ساری باتیں لکھوانا بھولنا مت، ذرا یہاں کے فرنگیوں کی بھی تو حقیقت کھلے کہ کسی بھلے آدمی کو دھوکا دینا ایسا ہوتا ہے۔ بادشاہی کیا گئی سارے فرنگی بے سرے ہو گئے۔"
داماد۔ "جو تدبیر کرنے کی ہوگی بھائی ابن الوقت کب اس سے غافل ہوں گے۔ ان سے بہتر سوجھے گی کس کو؟ آپ تو صرف خدا کی درگاہ میں دعا کرتی رہیے۔ ہزار تدبیروں کی ایک تدبیر تو یہ ہے۔ بھائی کے ذمے کوئی الزام نہیں۔ رشوت وہ نہیں لیتے، کام چور وہ نہیں، نالائق نہیں، کلکٹر نہیں کلکٹر کا باوا بھی ہو تو ان کا کچھ نہیں کر سکتا۔ سارا فساد صرف انگریزی وضع کا ہے۔ خدا مقلب القلوب ہے۔ وہی ان کے دل کو پھیرے تو پھیرے۔"
Что оставила в вас эта глава?
Войдите, чтобы отреагировать
Обсуждение
Пока никто не высказался. Расскажите, что всколыхнула в вас эта глава.