Urdu in Translation
Buscar
Marcador

Capítulo 24 de 28

Hujjat-ul-Islam va a la ciudad

Hujjat-ul-Islam Goes to the City

حجۃ الاسلام شہر میں جا رہے ہیں

Deputy Nazir Ahmad

Escritura
Tamaño

حجۃ الاسلام۔ "لو صاحب مجھ کو اجازت دو مجھے شہر جانا ہے۔"

ابن الوقت۔ "کیا آپ میرے ساتھ کھانا یا میرے بنگلے میں رہنا خلافِ اسلام سمجھتے ہیں؟"

حجۃ الاسلام۔ "بس مذہبی چھیڑ چھاڑ رہنے دو۔ مذہب ایسی چیز نہیں ہے کہ مباحثے اور مناظرے سے کسی کے دل میں اتار دیا جائے۔ ذٰلک فضل اللہ یؤتیہ من یشاء۔ خداوند تعالیٰ خاص طبیعتیں پیدا کرتا ہے جو مذہبی باتوں سے متاثر اور اس کو قبول کر لیتی ہیں۔"

ابن الوقت۔ "پھر آپ جبریوں کی سی باتیں لائے۔ اگر خدا خاص طبائع کے مناسب مذہب پیدا کرتا ہے تو پھر مواخذہ کیوں ہے؟"

حجۃ الاسلام۔ "مواخذہ بقدرِ مناسب۔ لا یکلّف اللہ نفساً الا وسعھا۔"

یہ کہہ کر حجۃ الاسلام اٹھ کھڑا ہوا اور اس کے ساتھ ابن الوقت بھی اٹھا اور کہنے لگا کیا واقع میں آپ میرے پاس نہیں رہنا چاہتے؟

حجۃ الاسلام۔ "نہیں بھائی نہیں۔"

ابن الوقت۔ "آخر کچھ سبب تو بتائیے۔"

حجۃ الاسلام۔ "بات تو یہ ہے کہ میرے یہاں ٹھہرنے سے تم کو بھی تکلیف ہوگی اور مجھ کو بھی آسائش نہیں ملے گی۔"

ابن الوقت۔ "میری تکلیف کا تو خیال کیجیے نہیں اور آپ اپنی آسائش کے لیے بے تکلف جس طرح کہیے انتظام کر دیا جائے۔"

حجۃ الاسلام۔ "تم کس کس بات کا انتظام کرو گے۔ اوّل تو میری نماز کا ہی ٹھکانا نہیں۔ جس کمرے میں جاؤ تصویر۔ بنگلہ کیا ہے خاصہ بت خانہ ہے۔ پھر تم نے کتے اس کثرت سے پال رکھے ہیں کہ اذان تک دینے کا حکم نہیں۔ اور جب تک مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز نہ پڑھوں میرا جی خوش نہیں ہوتا۔ میں نے اترتے کے ساتھ ہی پہلے تمام بنگلے کو اندر باہر بالتفصیل دیکھ لیا ہے۔ تم سمجھو تو میں ایک دن بھی ایسے مکان میں گزر نہیں سکتا۔ مجھے کسی طرح کا سبیتا دکھائی نہیں دیتا۔"

ابن الوقت۔ "اچھا تو کھانا کھا کر جائیے۔"

حجۃ الاسلام۔ "بس کھانے سے بھی معاف ہی رکھو۔ میں آپ کے باورچی اور کھانے کا سب حال سن چکا ہوں۔"

ابن الوقت۔ "کیا ہمارا باورچی میلے کچیلے غچلے بھٹیاروں سے بھی گیا گزرا ہوا؟ آپ کھانے کی میز کو ایک نظر دیکھیے تو سہی۔"

حجۃ الاسلام۔ "بھائی جان ظاہری صفائی تو بلاشبہ تمہارے کھانے میں بہت ہوگی۔ میں نے تم کو نہیں دیکھا تو بارہا انگریزوں کو کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔ مگر مجھ کو تمہارے باورچی کی نسبت شبہہ ہے۔"

ابن الوقت۔ "بے شک مجھ کو معلوم ہے کہ وہ سب کچھ کھاتا پیتا ہے مگر ہمارے کھانے میں کوئی چیز ایسی نہیں ہوتی کہ آپ اس سے احتراز کریں۔"

حجۃ الاسلام۔ "ارے میاں کیا کہتے ہو۔ میں نے خود تمہارے یہاں ایک الماری میں شراب رکھی ہوئی دیکھی ہے۔"

ابن الوقت۔ "وہ صاحب لوگوں کے واسطے ہے۔ میں کبھی شراب نہیں پیتا اور اگر پیوں تو ہلاک ہو جاؤں۔ میرا پھیپھڑا اس قابل نہیں۔"

حجۃ الاسلام۔ "جب خود تمہارے پاس شراب کا ذخیرہ ہے اور صاحب لوگوں کو پلاتے ہو اور تمہارا باورچی بھی کسی چیز سے احتراز نہیں رکھتا تو مجھ کو تمہارے کھانے کی طرف سے اطمینان نہیں۔"

ابن الوقت۔ "بوائے (ملازم)" "یس سر" "کک کو بلاؤ۔" کک حاضر ہوا تو ابن الوقت نے پوچھا آج کھانے میں کیا کیا ہے؟

باورچی۔ "سوپ۔ مٹن چاپ کٹلیٹس۔ آسٹین (آئس ٹنگ) بیل ریس (بوائلڈ رائس) پڈنگ۔"

ابن الوقت۔ "ان چیزوں میں سے کسی میں شراب پڑتی ہے؟"

باورچی۔ "کسی میں نہیں۔ مگر پڈنگ میں خمیر کے لیے شراب کا بھپارا دینا ہوتا ہے۔"

ابن الوقت۔ "پڈنگ نشہ لاتا ہے؟"

باورچی۔ "ذرا نہیں۔"

ابن الوقت۔ "اچھا رخصت۔"

حجۃ الاسلام۔ "آپ نے دیکھا۔"

ابن الوقت۔ "کیا دیکھا؟ آپ کے سامنے باورچی کہہ کر نہیں گیا کہ پڈنگ نشہ نہیں لاتا۔ اسلام میں شراب کے حرام ہونے کی اصل وجہ نشہ ہے۔ جب نشہ نہیں تو پھر کیا حرج ہے؟ اور اگر آپ کے نزدیک حرج ہے تو آپ پڈنگ نہ کھائیے۔"

حجۃ الاسلام۔ "مجھ پر خدانخواستہ ایسی کیا مصیبت پڑی ہے کہ اپنے گھر کا رزقِ طیب لذیذ چھوڑ کر تمہارا مشتبہ پھیکا بسا ہندہ کھانا کھاؤں۔"

ابن الوقت۔ "یہ تو بلا کی گرمی پڑ رہی ہے۔ آپ شہر میں جا کر بے فائدہ اپنی تندرستی کو خطرے میں ڈالتے ہیں۔"

حجۃ الاسلام۔ "میری زندگی ایسی کون سی انوکھی زندگی ہے۔ آخر اتنا بڑا اغدار شہر بستا ہے جو اور سب کا حال وہ میرا حال۔"

ابن الوقت۔ "آخر پھر ملاقات کی کیا صورت ہوگی؟"

حجۃ الاسلام۔ "تم تو میرے پاس آنے کا قصد کرنا مت کیوں کہ تمہارے دل میں آب و ہوائے شہر کا پہلے ہی سے ڈر بیٹھا ہوا ہے۔ کل ہے جمعہ مجھ کو فرصت ہوتی نہیں۔ پرسوں لوگوں سے ملنا ہوگا۔ ان شاءاللہ اتوار کو دس بجے ساڑھے دس بجے میں خود آؤں گا۔ اگر کوئی وجہ مانع نہ ہو تو ذرا اپنے داروغہ کو کل بعد مغرب میرے پاس بھیجنا۔ میں اس سے یہاں کے انگریزوں کے حال دریافت کر دوں گا اور تمہارے بھی۔"

¿Qué te deja este capítulo?

Inicia sesión para reaccionar

Conversación

Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.

¿Te ha gustado este capítulo? Comparte una línea.