Urdu in Translation
Search

Chapter 11 of 28

Застольная речь Ибн-уль-Вакта

Ibn-ul-Waqt's After-Dinner Speech

انگریزی دستور کے مطابق ابن الوقت نے نوبل صاحب کی دعوت میں کھانے کے بعد تقریر کی

Назир Ахмад

Script
Size

نوبل صاحب بیٹھنے کو تھے کہ ابن الوقت اٹھے۔ مہمانوں میں سے کسی کو بلکہ خود نوبل صاحب کو بھی توقع نہ تھی کہ یہ بھی کچھ کہیں گے۔ مگر کھڑے ہوئے تو انھوں نے کہنا شروع کیا۔

"صاحبو! مجھ کو اس طرح کے معزز جلسوں میں پہلے پہل حاضر ہونے کا اتفاق ہوا ہے۔ اور مجھ کو آپ صاحبوں کے روبرو بات کرنے کی عادت اور صلاحیت دونوں نہیں۔ مگر نوبل صاحب نے ایسی مہربانی کے ساتھ میری تقریب آپ صاحبوں سے کی ہے کہ ان کی شکرگزاری کو میں اپنا فرضِ موقت خیال کرتا ہوں۔ میں نے اپنے پندار میں کوئی ایسا کام نہیں کیا، جس کے واسطے نوبل صاحب یا گورنمنٹ میری احسان مند ہو۔ میں نے نوبل صاحب کو مُردوں کے انبار میں سے اٹھایا اور اپنے گھر لے جا کر رکھا۔ لیکن اگر ایسا نہ کرتا تو میں مسلمان بلکہ انسان نہ تھا۔ پس میں نے اپنا فرضِ مذہبی بلکہ فرضِ انسانیت ادا کیا اور میں نہیں سمجھتا کہ مجھ کو کسی طرح کی خاص مدح کا استحقاق حاصل ہے۔ یہ نوبل صاحب کی ذاتی شرافت اور گورنمنٹ کی فیاضی ہے کہ نوبل صاحب میرا احسان مانتے ہیں اور گورنمنٹ نے کثیر المنفعت زمین داری اور باوقعت بیش قرار ماہانے کی نوکری عطا فرمائی۔

ابھی تک غدر سے پوری پوری نجات حاصل نہیں ہوئی لیکن اس کی جڑ کٹ گئی ہے اور شاخ و برگ کی اگر کوشش نہ بھی کی جائے آپ سے آپ خشک ہو کر اور گل سڑ کر خاک میں مل جائیں گے۔ دنیا کا قاعدہ ہے کہ نتیجہ کے واقع ہونے کے بعد اس کے اسباب کی جستجو کی جاتی ہے۔ لیکن مبارک ہیں وہ لوگ جو وقوعِ نتیجہ سے پہلے اسباب پر نظر کرتے ہیں ؏ مرد آخر بیں مبارک بندہ ایست۔ خیر اگر وہ موقع ہم سے فوت ہو گیا تاہم بعد الوقوع اسبابِ غدر کا خیال کرنا اس وقت دل چسپ اور آئندہ مفید ہوگا۔ اخبار والوں نے اس کی چھیڑ چھاڑ شروع کر دی ہے اور ہر شخص جو کچھ اس کے منہ میں آتا ہے کہتا ہے۔ لیکن اگر گورنمنٹ جس کو واقعی اسبابِ غدر کا جاننا سب سے زیادہ ضروری ہے اخبار والوں کی رائے پر عمل کرے گی اور اخبار والے تو آخر اسی غرض سے خامہ فرسائی کر بھی رہے ہیں تو میں گورنمنٹ سے اور صاحبوں سے معافی مانگ کر یہ بات کہتا ہوں کہ گورنمنٹ بڑا دھوکا کھائے گی۔ اور گورنمنٹ کی خیر خواہی مجھ کو اس بات کے کہنے پر مجبور کرتی ہے کہ شاید وہ ویسی ہی ناواقف اور بے خبر گورنمنٹ رہے گی جیسی غدر سے پہلے تھی۔

سلطنت میں رعایا اور گورنمنٹ دونوں کے اغراض وابستۂ یک دگر ہیں۔ اگر ہندوستانیوں کو انگریزی سلطنت سے امن اور آزادی کے گوناگوں فائدے پہنچے ہیں جو فی الواقع ان کو کسی زمانے میں نصیب نہیں ہوئے تو اس سے بھی انکار نہیں ہو سکتا کہ انگلستان اسی سلطنت کی بدولت مالا مال ہو گیا ہے اور اسی سلطنت کے برتے پر اس نے تمام یورپ کی سلطنتوں کی کنی دبائی ہے۔ ممکن ہے کہ بعض احمق ہندوستانی اسی کو انگلستان کا بڑا استفادہ سمجھتے ہوں کہ انگریز بڑی بڑی تنخواہیں پاتے ہیں۔ یہ تو ان فائدوں کا پاسنگ بھی نہیں۔ بات یہ ہے کہ انگلستان ہنرمندی اور صنّاعی کا گھر ہے اور اس کے تموّل کا بڑا ذریعہ بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ تنہا ذریعہ تجارت ہے سو ہندوستان کی سلطنت نے انگلستان کی تجارت کو ہزار گونہ تو اب بڑھا رکھا ہے اور کوئی کہہ نہیں سکتا کہ آئندہ اس میں کہاں تک افزائش ہوگی۔ پس اگر اغراض کا موازنہ کریں تو میرے نزدیک انگلستان کی اغراض کا پلّہ جھکتا رہے گا۔ یہ سبب ہے کہ انگریزوں کو غدر کا زیادہ فکر ہونا چاہیے۔

میں اس کو انگریزوں کی اقبال مندی سمجھتا ہوں کہ حسنِ اتفاق سے اس وقت کوئی معاصر سلطنت ہندوستان کی دعویٰ دار نہیں ہوئی اور اہلِ ہند میں اِس سرے سے اُس سرے تک کسی فرد بشر میں سلطنت کی صلاحیت نہ تھی اور ہندوستان کی مختلف اقوام میں اتفاق کا رنگ پیدا نہیں ہونے پایا تھا۔ انگریزوں نے اس ملک کو بہ زورِ شمشیر فتح کیا اور بہ زورِ شمشیر اس پر قابض رہے اور بہ زورِ شمشیر غدر کو بھی فرو کر دیا مگر زورِ شمشیر رعایا کے جسموں کو مسخر کر سکتا ہے، نہ دلوں کو۔ یہ ملک صدہا بلکہ ہزارہا برس سے شخصی سلطنتوں کا محکوم رہا ہے اور یہاں کی رعایا نے ابھی تک انگریزی سلطنت کی حقیقت کو نہیں سمجھا اور یہ لوگ حکّامِ ضلع کو بادشاہ کا اوتار خیال کرتے ہیں۔ پس اس ملک کے عہدہ دارانِ انگریزی کے ذمّے دوسرے فرائضِ خدمت کے علاوہ ایک بڑا ضروری فرض مزید یہ ہے کہ ہر وقت اپنے تئیں ملکہ کا قائم مقام سمجھ کر لوگوں کے ساتھ اسی طرح کا برتاؤ کریں جو ملکہ کے لیے زیبا ہے۔ اب آپ صاحبوں میں سے ہر شخص اپنے دل میں خیال کر سکتا ہے کہ اُس نے اس فرض کو کہاں تک ادا کیا ہے۔

انگریز الا ماشاء اللہ اس ملک میں ایسا روکھا مزاج بنائے رکھتے ہیں اور ہندوستانیوں کو ایسی نفرت و حقارت سے دیکھتے ہیں کہ کوئی ان کے پاس نہیں پھٹکتا تاوقتیکہ اس کو ضرورت مجبور نہ کرے۔ انگریزوں اور ہندوستانیوں میں محبت اور اخلاص کا ہونا ایسا شاذ ہے جیسے شیر اور بکری میں۔ میں ہندوستانیوں کے ڈیفنس میں ایک لفظ نہیں کہنا چاہتا۔ اور اس بات کو تسلیم کرتا ہوں کہ کوئی انگریز جنٹلمین ان کی ملاقات سے کبھی محظوظ ہو نہیں سکتا لیکن اگر بُروں سے پالا پڑ جائے تو تھوڑا بہت اپنی طبیعت پر بھی جبر کرنا چاہیے۔ ؏ چہ تواں کرد مرد ماں اینند۔ اور جو شخص اس تکلیف کا متحمل نہیں ہونا چاہتا تو اس کو اِن بُروں سے بھلائی کی توقع بھی نہیں رکھنی چاہیے۔

غدر کے بعد سے ہر انگریز کو یہ شکایت پیدا ہوئی ہے کہ ہندوستانیوں نے اس کی مدد نہیں کی لیکن اگر انگریز گریبان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ وہ کس احسان کس سلوک کس مہربانی کے عوض میں اس مدد کا مستحق تھا۔ وہ شاید اپنا ایک حق بھی کسی ہندوستانی پر ثابت نہیں کر سکے گا۔ اس اصولِ منصفانہ کو پیشِ نظر رکھیں تو بغاوت کی لمبی فہرست ایک فردِ مختصر رہ جائے گی۔ اب رہ گئی بغاوت بہ مقابلۂ سرکار، سو میں آپ صاحبوں کی خدمت میں پہلے عرض کر چکا ہوں کہ ہندوستانیوں کے نزدیک سرکار کوئی چیز نہیں۔ احسان فراموشی انسان کی نیچر یعنی تقاضائے طبیعت ہے۔ غدر جس کا لوگوں نے اتنا بڑا بتنگڑ بنا رکھا ہے میرے نزدیک انسانی نیچر کے ظہور سے کچھ زیادہ نہ تھا۔ ہر چند انگریزی عمل داری سے ہندوستانیوں کو بہت سے فائدے پہنچے تھے، مگر ان کو واقعی یا ادعائی واجب یا غیر واجب چند در چند شکایتیں بھی تھیں۔ پس اگر انھوں نے شکایتوں کے جوش میں فائدوں پر نظر نہ کی تو اس کو جوشِ بشریت اور انسان کی نیچر کے نقصان کے علاوہ اور کیا کہا جا سکتا ہے۔

انگریزی اور ایشیائی حکومتوں کا طرز ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہے کہ ایک کو دوسرے سے کچھ مناسبت نہیں۔ سینکڑوں بلکہ ہزاروں برس سے ہندوستانی خوگر تھے اپنے ہم وطنوں کی حکومت کے جن کے درباروں میں ان کی رسائی بآسانی ہو سکتی تھی۔ ملک کی تمام آمدنی بادشاہ کی خاص ملکیت ہوتی تھی اور وہ اس کو بلامزاحمت جس طور پر چاہتا خرچ کرتا تھا۔ مگر اس بدنصیب ملک کی ساری دولت ایشیائی حکومتوں میں سدا بے ہودہ نمود و نمائش اور ممنوع عیاشی میں برباد ہوا کی اور اس سے متمتع ہوتے رہے۔ خوشامدی، خود غرض۔ بہر کیف دولت کا دریا ایک رُخ کو بہتا اور ان لوگوں کو سیراب کرتا رہا جن کی قسمتوں میں اس سے فائدہ اٹھانا تھا۔ ہندوستانی عمل داری جا کر انگریزی عمل داری کا آنا اس سے تو کسی طرح کم نہیں کہ وہ دریائے ذخّار ایک سمت کو بہتے بہتے یکایک لگا بالکل سمتِ مخالف میں دوسری جگہ بہنے۔ یعنی ایک سلطنت ایسی شروع ہوئی جس کی مثال اس ملک میں نہ دیدہ ہے نہ شنیدہ ہے۔ خلق خدا کی، ملک وکٹوریہ بادشاہ زادی کا اور حکم کمپنی بہادر کا۔ خلقت ایک اور اکٹھے تین تین فرماں روا اور تینوں نظر سے پوشیدہ۔ آپ صاحب یہاں کے لوگوں کی حیرت پر تعجب کریں گے مگر اس میں رتی برابر مبالغہ نہیں، انگریزی سلطنت رعایائے ہندوستان کے حق میں ایک پہیلی ہے۔ جس کو اس وقت تک اکثر عوام الناس نہیں بوجھ سکتے۔

تبدیلِ سلطنت یوں بھی کچھ آسان بات نہیں اور پھر ایسا تبدّل کہ حاکم و محکوم دونوں میں کسی طرح کی مناسبت نہیں۔ نہ وطن ایک، نہ زبان ایک، نہ مذہب ایک، پس ہندوستانیوں کے حق میں سلطنت کیا بدلی گویا ساری خدائی بدل گئی اگلے تمام ذریعے معطّل، ساری لیاقتیں بے کار، کُل تدبیریں بے اثر۔ پس شاہی متوسّل اور متوسّلوں کے متوسّل اور متوسّلوں کے متوسّلوں کے متوسّل کہ ان کا مجموعہ بجائے خود ایک جمِّ غفیر ہوگا۔ محض بے آسرے اور بے سہارے ہو کر بیٹھ رہے۔ اب ہر ایک منصف مزاج آدمی خیال کر سکتا ہے کہ اس گروہ کے انگریزی عمل داری سے ناخوش ہونے اور رہنے کی وجہ معقول تھی یا نہیں۔ پھر انگریزی عمل داری اتنی پرانی ہو گئی تھی کہ جن لوگوں نے بادشاہی وقت دیکھے تھے مر کھپ چکے تھے اور چاہیے تھا کہ اس زمانے کی باتیں بھی بھول بسر جاتیں مگر ہم دیکھتے تھے تو ان کی یادگار ہر دم تازہ ہے اس وجہ سے کہ اب بھی چھوٹی بڑی محکوم اور مختار بہتیری ہندوستانی ریاستیں جگہ جگہ موجود ہیں اور ان میں بلاکم و کاست ایشیائی حکومتوں کے نمونے باقی ہیں۔

اگر سرکارِ انگریزی کو اپنی رعایا کا دل خوش رکھنا منظور ہے تو چار دانگ ہندوستان میں اس سرے سے اس سرے تک ایک طرح کا انتظام ہونا چاہیے۔ مجھ کو بیرونِ شہر کسی ہندوستانی ریاست میں رہنے یا نوکری کرنے کا اتفاق نہیں ہوا مگر لوگوں کے کہے سننے سے اخبار سے بعض ریاستوں کے عام حالات معلوم ہیں اور دہلی کا قلعہ بھی بجائے خود چھوٹی سی ریاست تھی اور میں پشتہا پشت سے اسی شہر کا رہنے والا اور سرکارِ شاہی کا متوسّل ہوں اور شہر اور قلعہ دونوں کا کوئی حال مجھ سے مخفی نہیں، اتنا کہہ سکتا ہوں کہ اہلِ شہر اور اہلِ قلعہ کی زندگی ایک دوسرے سے اس قدر مختلف تھی کہ قلعہ ایک دوسری دنیا معلوم ہوتا تھا۔ جب سلطنت میں غدر کی وجہ سے اتنا بڑا انقلاب ہوا کہ ملکۂ معظمہ نے زمامِ حکومت اپنے دستِ خاص میں لی اور کمپنی کو کچھ تعلق نہ رہا تو میں اس کو ملک کے حق میں فالِ نیک سمجھتا ہوں اور مجھ کو پورا بھروسا ہے کہ گورنمنٹ کے انتظامات میں یقیناً بڑی بڑی تبدیلیاں ہونے والی ہیں۔ پس اگر کوئی مجھ سے صلاح پوچھے تو میں پہلے اسی بات کو بڑے شد و مد کے ساتھ پیش کروں گا کہ گورنمنٹ اپنے تعلقات اندرونی ایشیائی گورنمنٹوں کے ساتھ درست کرے۔

یہ ہندوستانی ریاستیں جن کا مجموعہ کیا، رقبہ کیا، مردم شماری کیا محاصل انگریزی سلطنت سے کم نہیں۔ باستثنائے معدودے چند اس قدر پیٹ بھر کر خراب ہو رہی ہیں کہ ان کی حالت نہ صرف انھی کے حق میں خطرناک ہے بلکہ انگریزی طرزِ انتظام، انگریزی رعایا سبھی کے حق میں اور جب تک ان ریاستوں کی پوری پوری اصلاح نہ ہو۔ انگریزی گورنمنٹ کو کبھی اپنے انتظام کی طرف مطمئن نہیں ہونا چاہیے۔ ان میں سے ایک ایک ریاست اگر اس کے انتظام میں فساد ہے، انگریزی گورنمنٹ کے حق میں بغلی گھونسہ ہے۔ فسادِ انتظام سے میری مراد یہ نہیں کہ رئیس اپنے تئیں سرکارِ انگریزی کا مدّمقابل سمجھتا ہو یا نافرمانی یا عدول حکمی سے گورنمنٹ کا استخفاف کرتا ہو۔ میں اس بات کو پکار کے کہتا ہوں کہ ہندوستانی رئیس ہندو ہو یا مسلمان آرام طلب ہوگا، کاہل ہوگا، احمق ہوگا، جاہل ہوگا، عیاش ہوگا، غافل ہوگا، مسرف ہوگا، خرچ آمدنی سے فاضل ہوگا۔ غرض اس میں سب طرح کے جنون ہوں گے، مگر نہیں ہوگا تو ایک جنونِ بغاوت۔ سرکار نے اپنی فوجی طاقت کو ہندوستان میں خصوصاً بعد غدر ایسے زور سے ثابت کر دیا ہے جیسے آگ نے جلانے کی خاصیت کو۔ پس ہندوستانی رئیسوں کی طرف ایسا خیال بالکل لغو اور محض بے اصل ہے لیکن جس چیز سے گورنمنٹ انگریزی کو ہندوستانی ریاستوں کی طرف سے میں ڈرانا چاہتا ہوں یہ ہے کہ اکثر ہندوستانی رئیس اپنی چند در چند نالائقیوں گوناگوں بدکرداریوں کی وجہ سے ایسی خرابیاں کر رہے ہیں کہ اوّل تو خود انھیں کی رعایائے ناتہذیب اور ناشائستہ سے انگریزی گورنمنٹ کو ہمیشہ خائف رہنا چاہیے۔ دوسرے ان ریاستوں کے بُرے نمونے دیکھ کر رعایائے انگریزی کی طبیعتیں بگڑی چلی جاتی ہیں۔ جسدِ سلطنت میں یہ ریاستیں گویا برص کے چھٹے ہیں۔ کیوں کر اطمینان ہو سکتا ہے کہ چھٹوں کا فساد دوسرے اعضائے صحیح تک متعدی نہیں ہوگا؟

اگر میری تقریر سے ایسا مستنبط ہوا ہو کہ میں ان ریاستوں کے ضبط کرنے کی رائے رکھتا ہوں تو مجھ سے بڑھ کر قوم و ملک کا کوئی دشمن نہیں۔ لیکن یہ میری رائے ضرور ہے کہ ان ریاستوں کا نامنتظم حالت میں رہنے دینا ویسا ہی ظلم ہے جیسا کہ ان کا ضبط کرنا۔ جب کہ انگریزی گورنمنٹ اپنے تئیں ان ننھی گورنمنٹوں کا مربی اور حامی اور محافظ سمجھتی ہے اور فی الواقع میں وہ ہے بھی، تو ان کی اصلاح اس کا فرضِ لازمی ہے۔ لیکن انگریزی گورنمنٹ نے اس فرض کے ادا کرنے میں کما حقہٗ اہتمام نہیں کیا۔ بے شبہ سرکار کی طرف سے ایجنٹ یا ریذیڈنٹ کے نام سے ایک عہدہ دار ہر ایک ہندوستانی ریاست پر مسلط ہے مگر اس کو ریاست کے اندرونی انتظام میں حکماً کچھ مداخلت نہیں وہ اتنی ہی بات کی نگرانی رکھتا ہے کہ ریاست میں سرکارِ انگریزی کا رعب و داب اچھی طرح قائم رہے اور کوئی عام بدنظمی نہ ہو۔ اگر ایک باپ اولاد کے ساتھ وہ کرے جو انگریزی گورنمنٹ نے ہندوستانی ریاستوں کے ساتھ اب تک کیا ہے تو ہم ایسے باپ کی مدح نہیں کر سکتے۔ جتنا اس نے کیا اچھا کیا مگر اس کو اس سے بہت زیادہ کرنا چاہیے تھا۔ مہذب دنیا کی نظر میں انگریزی گورنمنٹ کبھی من حیثیت المجموع منتظم گورنمنٹ نہیں سمجھی جائے گی، تاوقتیکہ اس کی تمام ننھی گورنمنٹیں اسی طرح منتظم نہ ہوں۔ جیسے اس کا اپنا علاقہ۔ انگریزی گورنمنٹ کبھی بیرونی دشمنوں کے خدشے سے خالی نہیں رہتی اور اس کو خالی رہنا چاہیے بھی نہیں۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ میں اس کو ننھی ہندوستانی ریاستوں کی طرف سے کبھی خدشہ کرتے ہوئے نہیں پاتا۔ حالانکہ اگر یہ ریاستیں نامنتظم رہیں جیسا کہ اب ہیں تو یہ اندرونی دشمن بیرونی دشمن سے بہت زیادہ خطرناک ہیں۔

اب میں آپ صاحبوں کو ایک دوسرے مطلب کی طرف متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔ دنیا کی قوموں میں نفرت اور عداوت کی بہت سی وجوہ ہو سکتی ہیں مگر سب سے زیادہ شدید اختلافِ مذہب ہے، خصوصاً ہندوستانیوں کے نزدیک۔ ہندو اپنے مذہب کے ایسے سخت متعصب ہیں کہ کسی طرح دوسرے مذہب کے لوگوں سے ملنا نہیں چاہتے۔ جو لوگ دوسری قوم کا چھوا پانی نہ پی سکیں ان سے دوستی اور اتحاد کی کیا توقع ہو سکتی ہے؟ ہندوستان کے باشندوں میں انگریزوں کے ساتھ ارتباط اور اختلاط کرنے والے اگر کچھ لوگ ہیں تو مسلمان۔ کیوں کہ سچا مذہب اسلام ایسے تعصبات سے بالکل بری ہے۔ صرف یہی نہیں کہ مسلمانوں کی مقدس آسمانی کتاب یعنی قرآن اس سے ساکت ہے بلکہ اس میں نصاریٰ کے ساتھ مواکلت اور مناکحت دونوں کی صاف اور صریح اجازت موجود ہے۔ اور میں نہیں سمجھتا کہ مواکلت اور مناکحت سے بڑھ کر دوستی پیدا کرنے کا کوئی اور بھی ذریعہ ہو سکتا ہے۔

لیکن ہندوستان کی حالت میں ہم اس بات کا کافی ثبوت رکھتے ہیں کہ مذہب کہاں تک رسم و رواج سے متاثر ہو سکتا ہے۔ ہندوستان میں ایک مدت سے ہندو مسلمان ملے جلے رہتے چلے آئے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ دونوں قوموں نے ایک دوسرے سے بہت سی باتیں اخذ کی ہیں اور بڑی خوشی کی بات ہے کہ دونوں میں اختلافِ مذہب اور خاص کر مذہبِ ہنود کے روکھے پن کی وجہ سے جو منافرت ہونی چاہیے تھی مدتوں کی یک جائی نے اس کو بہت کم کر دیا ہے۔ مسلمانوں کی دیکھا دیکھی ہندو دھوتیاں اور کھڑاویں چھوڑ کر پاجامے اور جوتیاں پہننے، اپنی عورتوں کو پردے میں بٹھانے اور مسلمانوں کے علوم پڑھنے لگے۔ ہزارہا ہنود محرم میں جو مسلمانوں کا مشہور مذہبی تہوار ہے تعزیہ داری کرتے ہیں۔ مسلمانوں کی طرح مسلمان بزرگوں کی قبروں کی تعظیم کرتے ہیں۔ ان سے منتیں مانتے ہیں کہ یہ ایک قسم کی پرستش ہے۔ اسی طرح مسلمان ہندوؤں کی تقلید سے کھانے پینے کا پرہیز کرنے لگے ہیں۔ اپنی بیوہ عورتوں کا نکاح نہیں کرتے۔ اکثر نجوم کے معتقد ہیں۔ شادی بیاہ میں بہت سی رسمیں ہیں جن کی مذہب میں کچھ اصل نہیں، ہندوؤں سے لی گئی ہیں غرض ہندوؤں اور مسلمانوں کے اختلاط کا یہ نتیجہ ضرور ہوا ہے کہ ایک دوسرے سے وحشت باقی نہیں رہی۔ لیکن یہ کیفیت کہیں صدہا سال میں جا کر پیدا ہوئی ہے اور پھر بھی میں اس کو اتحاد کے درجے میں نہیں سمجھتا۔ دونوں کے دل بدستور ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں آج کوئی بھڑکانے والا کھڑا ہو تو مسلمانوں کے نزدیک ہندو ویسے ہی کافر اور مشرک ہیں اور ہندوؤں کی نظر میں مسلمان ویسے ہی ہتیارے بھرشٹ اور یہ نااتفاقی انگریزی گورنمنٹ کے حق میں ایک فالِ مبارک اور شگون نیک ہے۔ مگر وہیں تک کہ باہم رعایا میں ہو۔

اب دیکھنا چاہیے کہ سرکار نے کہاں تک مذہبی ناراضامندی کو اپنے مقابلے میں پیدا نہیں ہونے دیا۔ سو لوگوں میں تو یہی بات مشہور رہے کہ یہ تمام فساد چربی کے کارتوسوں کا تھا۔ مگر میرے نزدیک یہ نہایت نحیف رائے ہے۔ عوام کو ایسا مغالطہ واقع ہو سکتا ہے، کیوں کہ ان کے نزدیک ہر انگریز سرکار رہے، اگرچہ وہ امریکہ کے کسی مشن کا پادری یا سوداگر یا سیّاح یا شکاری ہی کیوں نہ ہو۔ مگر جو لوگ انگریزی گورنمنٹ کے حالات سے کسی قدر بھی واقف ہیں بخوبی جانتے ہیں کہ سرکار کسی مذہب سے سروکار نہیں رکھتی۔ اور سرکار نے ابتدائے عمل داری سے اپنے تئیں مذہبی بکھیڑوں سے ایسا الگ تھلگ رکھا ہے کہ سرکار پر مذہبی طرف داری کا الزام بہتان اور افترا ہے۔ لیکن رعایا کے خیالات نہ جاننے یا جان کر اُن کی پروا نہ کرنے سے سرکاری عہدے دار یعنی حکامِ انگریزی سے اس طرح کی غلطی کا ہونا ممکن ہے، جس سے لوگوں کو مذہبی ناخوشی پیدا ہو۔ اور میں خیال کرتا ہوں کہ چربی کا کارتوس بھی اسی قسم کی غلطی تھی۔ مگر میں نہیں سمجھتا کہ صرف کارتوس غدر کا سبب ہوا۔ بلکہ میری رائے یہ ہے کہ غدر کا مادّہ دلوں میں مدّت سے جمع ہو رہا تھا کارتوس اس کا محرّک ہو گیا۔ غدر کا اصل سبب ہے رعایا کی ناراضامندی اور اس کی بہت سی وجوہ ہیں۔ منجملہ ان کے کارتوس بھی ہے۔

اب دیکھنا چاہیے کہ لوگوں کو صرف اسی ایک کارتوس سے شبہہ ہوا کہ سرکار مذہب میں مداخلت کرنا چاہتی ہے یا سرکار کی کسی کارروائی سے لوگوں کو پہلے سے بھی بدگمانی کا موقع تھا۔ اگر سرکارِ انگریزی اس معنی کر مذہب سے الگ تھلگ رہی ہے کہ اس نے ہندو و مسلمانوں میں سے کسی کو اس کے فرائضِ مذہبی ادا کرنے سے نہیں روکا یا کسی کو زبردستی یا کسی طرح کا لالچ دکھا کر عیسائی نہیں کرنا چاہا تو یہ بالکل صحیح ہے اور اس سے کسی کو انکار نہیں ہو سکتا۔ لیکن مذہب کا اور خاص کر ہندوؤں کے مذہب کا بڑا ٹیڑھا معاملہ ہے۔ ان کا مذہب ہے فی نفسہ تارِ عنکبوت سے زیادہ بودا اور چھوئی موئی سے بڑھ کر نازک ہے۔ اس کا مدار نہ صرف دل کے خیالات پر ہے کہ ان پر کسی کا دسترس ہو ہی نہیں سکتا۔ بلکہ ایک ہندو بے قصد اور ارادہ کھانے سے پینے سے چھونے سے بے دین ہو سکتا ہے۔ اور ان کے مذہب کا یہی ضعف دیکھ کر مسلمان بادشاہوں کو موقع ملا کہ ہزارہا ہندوؤں کو زبردستی مسلمان کر ڈالا۔ غرض مسلمانوں کی مدارات دیکھ کر ہندو پہلے سے سہمے ہوئے تھے اب جو آئے انگریز تو انھوں نے دیکھا کہ یہ مسلمانوں سے بھی چند قدم آگے بڑھے ہوئے ہیں یعنی جن چیزوں سے مسلمانوں کو پرہیز ہے یہ ان کو بھی نہیں چھوڑتے۔ مذہب کو پھیلانے میں سرگرمی اس درجے کی ہے کہ گلی گلی میں پادری وعظ کہتے مذہبی کتابیں مفت بانٹتے پڑے پھرتے ہیں۔ چمار ہو بھنگی ہو ان کو اپنی ذات میں ملا لینے سے انکار نہیں۔ یوں ہندوؤں کے دلوں میں از خود سرکارِ انگریزی کی طرف سے مذہبی بدگمانی پیدا ہوئی۔

بدگمانی کی مثال اس درخت کی سی ہے کہ کائی کی طرح ذرا سا آسرا پا کر جم کھڑا ہوتا ہے اور کانس کی مانند جلانے سے لہلہاتا اور کاٹنے سے بڑھتا ہے۔ بدگمان آدمی کے ساتھ کتنا ہی سلوک کیسی ہی بھلائی کرو وہ ہمیشہ اس کا بُرا ہی پہلو سوچا کرتا ہے۔ سرکاری تعلیم سے شکرگزاری اور احسان مندی کے عوض اُلٹی مذہبی بدگمانی کو ترقی ہوئی۔ لوگوں نے سمجھا کہ انگریز احمق اور عقل سے خارج تو ہیں نہیں کہ کھُلّم کھُلّا زور ظلم کر کے اپنے کو بدنام اور رسوا کریں۔ یہ ہیں میٹھی چھری زہر کی بجھی۔ سر سہلائیں بھیجا کھائیں۔ دیکھو تو لوگوں کو کرسٹان بنانے کی کیا تدبیر نکالی ہے۔ ؏ گُڑ سے جو مرے تو زہر کیوں دو۔ پھر اس بدگمانی پر طرّہ ہوا یہ کہ انگریزی خوانوں کو جو دیکھا تو عقیدے کے متزلزل، مذہب سے برگشتہ، اب وہ بدگمانی بدگمانی نہ رہی بلکہ مرتبۂ یقین کو جا پہنچی۔ یہ باتیں جو میں آپ صاحبوں کے روبرو بیان کر رہا ہوں اگرچہ فرداً فرداً بعض ان میں کی آپ صاحبوں کی نظر میں بے وقعت بھی ہوں گی مگر جب آپ سب کو جمع کر کے دیکھیں گے تو آپ خود بھی تسلیم کریں گے کہ مجموعی اسبابِ غدر و بغاوت کے لیے کافی تھے۔

ہندوستانیوں کے معابد کی تعظیم میں بھی انگریز ضرور کمی کر رہے ہیں۔ دہلی کی جامع مسجد ایک مشہور عمارت ہے۔ ایسا کون مُردہ دل انگریز ہوگا کہ اس شہر میں کسی تقریب سے اس کا آنا ہو اور وہ اس مسجد کو دیکھنا نہ چاہے۔ یہاں تک تو کوئی حرج کی بات نہیں۔ مگر جب مسلمان جوتیاں پہن کر مسجد میں جانا اپنے مذہب کی توہین کا موجب خیال کرتے ہیں تو اگرچہ انگریزوں کے یہاں جوتی کا اتارنا خلافِ تہذیب ہو مگر اس میں کیا حرج ہے کہ یا تو دروازے میں سے دوربین لگا کر دیکھ لیا کریں یا جوتی اتار کر اندر چلیں پھریں۔ پھر یہ تو مسلمانوں کا حال ہے۔ ہندو تو خوشی سے کسی حالت میں دوسرے مذہب والے کا اپنے معابد میں جانا جائز نہیں رکھتے۔ مانا کہ عمدہ اور مشہور عمارتوں کا دیکھنا ایک طبعی شوق ہے مگر شوق کے لیے دوسروں کی دل آزاری کیا ضرور ہے۔ میں نے ایک مسلمان کے روبرو ایک بار یہ عذر پیش کیا تھا تو اس نے کیا معقول جواب دیا کہ کیوں صاحب آج کو تو عمارت کے دیکھنے کا شوق ہے کل کو اگر کسی کو شوق اُبھرا کہ دیکھیں ان کی عورتیں گھروں میں کیوں کر اٹھتی بیٹھتی ہیں تو کیا یہ لوگ ہمارے زنان خانوں میں گھسیں گے؟

بات یہ ہے کہ معاملہ پڑا ہے نادانوں کے ساتھ اگر اُن کی دل جوئی مدّنظر ہو تو ہزار تدبیریں ہیں اور اگر سرے سے ان کی حقیقت کچھ نہ سمجھو اور ان کی رضامندی ناراضامندی کا خیال ہی نہ کرو جیسا کہ ہوا تو پھر غدر کی کیا شکایت۔ ہندوستانیوں کو حقیر سمجھنا اور ان کی خوشی ناخوشی کی مطلق پروا نہ کرنا یہ رنگ نہ صرف عہدہ دارانِ انگریزی کی مدارات بلکہ خود گورنمنٹ کے تمام کاموں میں بھی جھلکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ گورنمنٹ کی نیت بخیر ہے اور رعایا کو ہر طرح سے آسودہ اور خوش حال رکھنا چاہتی ہے مگر وہ دیکھتی ہے اپنے عہدہ داروں کی آنکھوں سے اور سنتی ہے انھیں عہدہ داروں کے کانوں سے جن کو رعایا کے ساتھ ارتباط و اختلاط نہیں پس رعایا کا دکھ درد اور اس کی حاجتیں اور ضرورتیں یعنی رعایا کا حال گورنمنٹ پر منکشف نہیں ہونے پاتا۔ میں اس بات کو مانتا ہوں کہ سارے ہندوستان میں اُس سرے سے اِس سرے تک کوئی شخص ایسی معلومات اور لیاقت اور دیانت کا نظر نہیں آتا کہ گورنمنٹ اس کو رعیت کا وکیل سمجھ کر اس سے مشورہ لے اور اس کی بات پر اعتماد کرے۔

جن لوگوں پر وجاہت اور تموّل کے اعتبار سے نظر پڑتی ہے۔ مثلاً ہندوستانی رئیس اکثر مٹی کے تھوے ہیں جن کو اتنا بھی نہیں معلوم کہ دو اور دو کے ہوتے ہیں۔ پس ان کا عدم اور وجود دونوں برابر اگر یہ لوگ گورنمنٹ انگریزی کو صلاح دینے کی قابلیت رکھتے ہوتے تو اپنی ہی ریاستوں کو نہ درست کرتے۔ زیادہ نہیں گنتی کے چند رئیس کچھ سمجھ دار بھی سننے جاتے ہیں تو شاید کم فرصتی کا حیلہ کریں اور اصل بات یہ ہے کہ ان کو گورنمنٹ انگریزی کی مدد کا شوق کیوں ہونے لگا اور مانا کہ شوق بھی ہو تو کونسل کے خرّانٹ تجربہ کار ممبروں کے ساتھ بحث کرنے کو بڑی لیاقت چاہیے۔ پس اگر گورنمنٹ کی وہی مثل ہے کہ طفل بہ مکتب نمی رود ولے برندش۔ کسی ہندوستانی رئیس کو زبردستی لے جا کر کونسل میں بٹھا دے تو وہ بے چارا سوائے اس کے ٹکر ٹکر بیٹھا دیکھا کرے اور بے فائدہ لوگوں کی نظر میں خفیف ہو، کیا کر سکے گا؟ کونسل کے ممبر ہیں کہ باہم ردّ و قدح کر رہے ہیں اور یہ سمجھتا بوجھتا خاک نہیں۔ اسی سوچ میں ہے کہ لاٹ صاحب کس کے پلّے پر ہیں۔ آخر جب ادائے رسم کے طور پر اس سے پوچھنے کی نوبت آئی تو لاٹ صاحب کی ہاں میں ہاں ملا کر اپنا پیچھا چھڑا کر الگ ہو گیا۔

اب رہ گئے وہ لوگ جنھوں نے انگریزی کالجوں میں تعلیم پائی ہے۔ اس میں شک نہیں کہ ہندوستانیوں میں سے اگر کسی میں مشیرِ گورنمنٹ ہونے کی صلاحیت ہے تو ان میں ہے۔ انگریزی جاننے والے اپنے ملک کے حالات سے بھی واقف ہیں، خیالات بھی روشن اور وسیع ہیں، آزادی اور قومی ہمدردی کے بھی لمبے چوڑے دعوے ہیں اور سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ انگریزی گورنمنٹ کی ماہیت اور اس کے منشا کو خوب پہنچے ہوئے ہیں۔ مگر نقص سے یہ گروہ بھی خالی نہیں۔ اوّل تو یہ لوگ چھوٹا منہ بڑی بات انگریزوں کے ساتھ مساوات کا دم بھرتے ہیں اور اسی وجہ سے انگریزوں کی نظر میں کھٹکتے ہیں۔ دوسرے چونکہ خود انگریزوں کی قوم کے نہیں ان کے حقوق پر بالکل نظر نہیں کرتے اور ان سے منصفانہ صلاح کی توقع نہیں۔ لیکن بایں ہمہ غایت مافی الباب یہ کہ اس راہ میں چند مشکلات ہیں تو کیا مشکلات پر نظر کر کے وہ راستہ چھوڑ دیا جائے گا جس میں چلنا ضرور ہے۔

اگر شروع سے گورنمنٹ نے اس کا خیال کیا ہوتا تو آج کو یہی ہندوستانی رئیس جن کو میں ننگِ ہندوستان کہتا ہوں یہاں کی کونسل تو خیر ولایت کی پارلیمنٹ کے قابل ہوتے لیکن گورنمنٹ نے ہندوستانی ریاستوں کے بارے میں بڑی غلطی کی۔ ان کو شترِ بے مہار کی طرح مطلق العنان رہنے دیا کہ پیٹ بھر کر بگڑیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا ان ریاستوں کی خرابی کو گورنمنٹ انگریزی اپنے استحکام کا موجب سمجھتی ہے۔ اب فرض کیجیے کہ ہم ان رئیسوں کو کونسل میں بٹھانے لگیں تو شروع شروع میں ان کی کارروائی ضرور ویسی ہی ہوگی جیسی تھوڑی دیر ہوئی میں نے بیان کی۔ لیکن اگر ہم چندے صبر کریں تو آخر ان رئیسوں کو کبھی تو غیرت آئے گی۔ کبھی تو شرمائیں گے میں تو کہتا ہوں کہ کہاں کے کالج اور کیسے مدرسے، رئیسوں کے حق میں تو یہی کونسل کافی ہے۔ علی السبیل البدلیت سب کو کونسل میں بٹھایا جائے اور پھر ایک ایسا چکر بندھے کہ مثلاً ہر پانچویں برس کونسل میں حاضر ہونے پر مجبور کیے جائیں پھر دوسری نوبت میں دیکھیے کہ اُن کی حالت میں کس قدر ترقی ہوتی ہے۔ غرض گورنمنٹ کا یہ رنگ کہ وہ ملک کا انتظام رعایا کی رائے پر کرنا چاہتی ہے۔ ہندوستان کی گورنمنٹ میں تو ہے نہیں، ہندوستانیوں کی قسمت کی جو ڈسپاٹک گورنمنٹ سدا سے تھی اب بھی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے اپنی گورنمنٹ تھی اب اس پر اجنبی مسلط ہیں۔ ہمیشہ سے ہندوستان سارے جہان میں بدنام رہا ہے کہ اس میں سونے چاندی کی ندیاں بہتی ہیں اور اس میں ذرا بھی شک نہیں کہ یہ ملک زرخیز اور سیر حاصل ہونے میں روئے زمین پر اپنا نظیر نہیں رکھتا۔ لیکن ایک ایشیائی شاعر نے ہندوستانیوں کے حسبِ حال کیا اچھا کہا ہے۔ ؎
تہی دستانِ قسمت را چہ سود از رہبرِ کامل
کہ خضر از آبِ حیواں تشنہ می آرد سکندر را

اگر آپ صبر اور توجہ سے سننا چاہیں تو قبل اس کے کہ میں اپنی جگہ پر بیٹھوں میں آپ صاحبوں کو اس کا یقین کرا دوں گا کہ ہندوستان کی رعایا پہلے کی نسبت بہت سقیم الحال ہو گئی ہے اور یوماً فیوماً سقیم الحال ہوتی چلی جاتی ہے۔ ذرائعِ معاش کے اعتبار سے ہندوستان کے لوگ چار طرح کے ہیں۔ اوّل کسان، دوم اہلِ حرفہ، سوم نوکری پیشہ، چہارم تجارت پیشہ۔ کسان کی قسم میں تعلقہ دار سے لے کر ہلواہے تک، زمین دار، کاشت کار باقسامہم سب داخل ہیں جو زمین سے معاش پیدا کرتے ہیں۔ انگریزی عمل داری سے پہلے نہ کوئی رقبے کی پیمائش کرتا تھا اور نہ اقسامِ زمین دیکھتا تھا۔ پچھلی جمع پر نظر کر کے یا بہت سیانپت کی سرسری طور پر صورتِ حال دیکھ کر گاؤں پیچھے اٹکل پچّو ایک جمع ٹھہرا دی۔ چھٹی پائی۔ اس کے ہزاروں لاکھوں تحریری ثبوت موجود ہیں کہ ہندوستانی گورنمنٹوں میں طرح طرح کے ظلم ہوتے تھے، مگر سرکاری، مال گزاری کے بارے میں ہمیشہ اُلٹی سرکار ہی مظلوم تھی۔ زمین دار لوگ کارپردازانِ سرکاری کے ساتھ سازش کر کے جمع کم کراتے چلے جاتے تھے اور پھر جمع کے وصول کا یہ حال تھا کہ شاذ و نادر کوئی بھلا مانس زمین دار وقت پر دیتا ہوگا۔ دو دو چار چار برس کی باقی داری تو ایک بات تھی کہ جب بہت باقی بڑھ جاتی تو آخر کو آدھی تہائی پر فیصلہ ہوتا تھا۔ رہے کاشت کاران کو تو یوں سمجھو کہ گویا سرکار کی رعیت ہی نہ تھے ان کا نیک و بد، نفع و نقصان سب بااختیار زمین دار رہا، مگر چونکہ زمین دار کا اپنا مفاد تھا، ہر زمین دار کاشت کاروں کو اپنی دولت سمجھتا تھا۔ ضرورت پڑے پر تخم و تقاوی سے اس کی مدد کرتا۔ خرید مویشی اور شادی بیاہ تک کے لیے اس کو قرض دیتا۔ پھر نقدی لگان کا دستور نہ تھا۔ فصل پک کر تیار ہو گئی۔ زمین دار کاشت کار دونوں نے لیا، غلّہ بانٹ لیا۔ کم ہوا تو کم لیا اور زیادہ ہوا تو زیادہ۔ نہ حجت نہ تکرار۔ اللہ اللہ خیر صلّا۔ یہ ہے خلاصہ ہندوستانی سرکاروں کے انتظامِ مال گزاری کا۔

اب گورنمنٹ انگریزی کے انتظام کو دیکھنا چاہیے کہ اوّل تو مزروعہ اُفتادہ، بنجر، چپّے چپّے زمین کی پیمائش کرائی، پھر مٹی کی ذات اور کھاد اور آب پاشی کے لحاظ سے کھیت کھیت کی حیثیت دریافت کی اور پھر کاغذاتِ دیہی اور لوگوں کی گواہی اور ذاتی تجربہ سے یہاں تک تحقیق کی کہ اس کھیت میں اس قدر پیداوار کی قابلیت ہے۔ اس طرح پر جزرسی کے ساتھ گاؤں کی نکاسی نکال کر کہنے کو آدھا اور واقع میں اچھا خاصا کسا ہوا دو تہائی حقِ سرکار ٹھہرا دیا اور اتنی کاوش پر بھی ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ غایت درجہ صرف تیس برس کے لیے کہ اتنے میں زمین دار پھر کچھ پنپیں گے تو پھر نچوڑیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ سرکار اپنا حق واجب نہ لے۔ اس نے پیمائش سے اقسامِ زمین وغیرہ کی تحقیقات سے اپنے مطالبے کے ٹھہرانے میں اگر احتیاط کی تو ٹھیک کیا، درست کیا۔ مگر میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رعایا اور سرکار کا تعلق من وجہ بندے اور خدا کا تعلق ہے۔ یہاں انصاف سے کام نہیں چلتا بلکہ رحم و رعایت سے۔ سرکار کو قرار دادِ جمع میں ایک سود خوار بنیے کی طرح دمڑی دمڑی اور آدھی آدھی کا حساب نہیں کرنا چاہیے تھا خصوصاً ایسی رعایا کے ساتھ جو پچھلی سلطنتوں میں کارپردازانِ سلطنت کی نمک حرامی یا بددیانتی یا اپنی خودسری اور چالاکی سے جنگی کی طرح سرکاری مال گزاری ادا کرنے کی خوگر رہی ہے۔ پھر بندوبست کا میعادی ہونا گروہِ زمین داران کی سخت بے دلی کا موجب ہے۔ اور اگر سچ پوچھیے تو ملکی ترقی کا مانع کوئی رعایا کیسی ہی سرکار کی خیرخواہ اور اطاعت گزار کیوں نہ ہو کیوں پسند کرے گی کہ محنت کرے وہ، لاگت لگائے وہ اور جب زمین کی حیثیت درستی پر آئے تو سرکار محاصل میں سے آدھا تقسیم کرانے کو آموجود ہو۔ پچھلی سلطنتوں میں ہر گاؤں، بجائے خود ایک چھوٹی سی ریاست تھا۔ اب سرکارِ انگریزی کے انتظامِ مال گزاری نے زمین داروں کو ایسا مجبور اور بے دست و پا کر دیا کہ اکثر صورتوں میں زمین داری ایک مصیبت ہو گئی ہے۔

سرکار نے کاشت کاروں کے ایسے حقوق تسلیم کر لیے ہیں کہ زمین دار کا کاشت کاروں پر ذرا بھی دباؤ باقی نہیں رہا۔ زمین دار کسی کاشت کار کو کھیت سے بے دخل کرنا چاہے، کیا مقدور؟ کھیت کی پیداوار کو اٹکانا چاہے کیا طاقت؟ سختی اور تنگی طلبی کے ساتھ لگان وصول کرنا چاہے کیا مجال؟ سرکار اپنا لینا عین وقت پر زمین دار سے لیتی ہے اور زمین دار کاشت کار سے پاتا ہے اس کے لیے حکم ہے کہ نالش کرو، ڈگری جاری کراؤ، خلاصہ یہ ہے کہ سرکار کے انتظامِ مال گزاری نے زمین دار اور کاشت کاروں میں ہمدردی اور معاونت کی جگہ عداوت اور کشمکش پیدا کر دی ہے۔ اب وہ اگلے دیہی جتھے ٹوٹ پھوٹ کر گھر گھر چودھری اور کھیت کھیت زمین دار ہو گئے۔ میں نہیں جانتا کہ آپ لوگوں میں اس طرح کی کوئی کہاوت ہے یا نہیں۔ مگر میں یقین کرتا ہوں ضرور ہوگی۔ عربی میں تو ایک مشہور مثل ہے۔ الاتفاق قوۃ۔ پس ہر ہر گاؤں اگر اگلی سی زمین داری ہو تو اپنی اپنی بساط کے موافق ایک قوت ہے، اور ان کا مجموعہ ایک بلا کا زور ہے۔ ناممکن المقاومت یہ زور اگر گورنمنٹ کا مساعد ہو سکے تو میں نہیں خیال کر سکتا کہ گورنمنٹ کو روپے کی، سپاہ کی اور آلاتِ حرب کی، اعوان و انصار کی، کسی قسم کی دوسری قوت درکار ہو۔ لیکن گورنمنٹ نے بجائے اس کے کہ اس قدرتی خداداد زور سے فائدہ اٹھائے اس کو ضائع اور معدوم کر دینا آسان سمجھا۔ اور ضائع اور معدوم کر دیا۔ اس بارے میں گورنمنٹ کی عقل اس جوگی کی عقل سے کچھ زیادہ تعریف کی مستحق نہیں جو اپنے ہاتھ کو خشک کر ڈالتا ہے۔ اس خیال سے کہ شاید وہ اس ہاتھ سے کسی گناہ کا مرتکب ہو۔

زمین دار تو اس وجہ سے گرے کہ ان کو گورنمنٹ نے قصداً گرایا۔ رہ گئے عام کاشت کار وہ سدا سے اس بات کے خوگر تھے کہ زمین داران کو انگلی پکڑ کر لے چلے تو آگے کو پاؤں اٹھائیں۔ اب وہ زمین دار تو ہوا دست کش۔ اُن میں کھڑے رہنے کا بوتا نہیں، یہ بھی گرے اور اس بُری طرح گرے کہ سرکار نے ان کو اپنے پندار میں گڑھے میں پڑا ہوا دیکھ کر باہر نکالا، یہ جو لڑکھڑائے دھڑام سے کنوئیں میں۔ زمین دار ان کو دباتے بھی تھے ستاتے بھی تھے مگر یہ بھی نہیں دیکھ سکتے تھے کہ بگڑ جائیں، اُجڑ جائیں۔ اب ان کا پالا پڑا بنیوں سے، ساہوکاروں سے، مہاجنوں سے، جن کا دھرم یہ ہے کہ ان تلوں کو پیلے جہاں تک پیلا جائے اور پھر ان کی کھلی کو سانی والوں کے ہاتھ بیچ کر کوڑے سیدھے کیجیے، اب کاشت کاروں کا حال کیا ہے کہ ہزار میں شاید دو چار بچے ہوں تو خبر نہیں ورنہ سب کے سب گویا مہاجنوں کے مزدور ہیں۔ اتنا نہیں کہ کسی کے گھر میں وقت پر بیج نکل آئے۔ کھیت میں ہزار نعمتیں کیوں نہ پیدا ہوں ان کی اور ان کے بال بچوں کی تقدیر کا سانواں کودوں جو بنی اسرائیل کے من و سلویٰ کی طرح ستو باندھ کے پیچھے پڑا ہے۔ کیا مجال کہ کبھی ناغہ ہو لے ایک دفعہ مہاجن کو چھو جانا شرط ہے۔ غرض جتنے کسان پیشہ ہیں کیا زمین دار کیا کاشت کار سب تباہ اور خستہ حال ہیں۔

چونکہ سرکاری مال گزاری وقت مقررہ پر وصول ہو جاتی ہے سرکار سمجھتی ہے کہ انتظام مال گزاری اچھا ہے۔ زمین دار اور کاشت کار مقدور والے ہیں۔ رعایا کا اصلی حال سرکار پر منکشف ہو تو کیوں کر ہو۔ جو شخص ایسی فریاد کو سرکار کے کان تک پہنچا سکتا ہے ہو نہ ہو یورپین ہی حاکمِ ضلع ہو۔ ہندوستانی حاکموں میں سے نہ تو کسی کی ایسی وقعت اور نہ کسی میں ایسی جرأت۔ رہا حاکمِ ضلع وہ حتی الوسع سوتی بھڑوں کو کیوں جگانے لگا۔ اگر وہی مجوّزِ جمع بھی ہے تو پہلے اس کو اپنی غلطی کا اعتراف کرنا ضرور ہوگا اور معمولی حالتوں میں انسان سے ایسی توقع کرنا فضول ہے اور وہ مجوّزِ جمع نہ بھی ہو تاہم محصل تو چار و ناچار ضرور ہوگا۔ وہ جوشِ اظہارِ کارگزاری میں وصولِ جمع کو ملتوی یا موقوف کر نہیں سکتا اور تخفیفِ جمع کی تحریک کرنا بیٹھے بٹھائے ایک جواب دہی کا مول لینا ہے۔ گورنمنٹ ایسے مین میکھ نکالتی ہے (اور اس کا حق بھی ہے) کہ اس کا رضامند کرنا ایک مصیبت ہے۔ یہ ہے خلاصہ ہمارے انتظامِ مال گزاری کا جو کم سے کم دو ثلث رعایا پر مؤثر ہے۔

اہلِ حرفہ کی کیفیت کسانوں سے کہیں بدتر ہے۔ یہ سچ ہے کہ گورنمنٹ ان کے حال سے کم تر تعرض کرتی ہے بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ نہیں کرتی۔ مگر یورپ کی کلوں نے ان کو مار بیٹھا کر دیا۔ ہمارے دیکھتے دیکھتے بہت سے عمدہ اور یافت کے پیشے معدوم ہو گئے اور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اب کہاں ہیں وہ ڈھاکے کی ململ، بنارس کی مشروع، اورنگ آباد کے کمخواب، بیدر کے برتن، کالپی کے کاغذ، کشمیر کی شالیں، لاہور کے ریشمی ڈورے؟ اہلِ یورپ کیا اس پر کاربند ہیں کہ جس چیز کی مانگ ہندوستان سے ہوئی بنائی بھیج دی۔ نہیں وہ لوگ رات دن اس ٹوہ میں لگے ہیں کہ ہندوستان میں کیا کیا چیز پیدا ہوتی ہے اور وہ انسان کے کس مصرف کی ہے اور اس ملک کے لوگوں کو کیا درکار ہے۔ ہندوستان سے ہر طرح کی پیداوار ولایت چلی جاتی ہے۔ کچھ تو یورپ میں کھپی اور کچھ ہندوستانیوں کے مصرف کی بن کر الٹی آ گئی۔ ہندوستانی اہلِ حرفہ تھکے تو یوں تھکے کہ یہ جو کچھ کریں اپنے ہاتھ پاؤں سے اور انسان کی قوت کا اندازہ معلوم ہے۔ آٹھ پہر میں آخر وہ دم بھی لے گا۔ آسائش بھی کرے گا اور وہاں یورپ میں کلیں ہیں کہ سارے دن ساری ساری راتیں برابر بے تکان پڑی چل رہی ہیں۔ ہندوستانیوں میں کلوں کا ایجاد کرنا تو کجا ابھی تو کلوں سے کام لینے کے سلیقے کو بھی عمریں چاہئیں۔

میں تسلیم کرتا ہوں کہ ہندوستان کے اہلِ حرفہ کی تباہی خود انھی کی نادانی کی وجہ سے ہے مگر ہندوستانی اس درجے کے جاہل اور کاہل ہیں کہ ان میں اپنی حالت کے درست کرنے کی گدگدی خدا نے پیدا ہی نہیں کی۔ یہ تو گورنمنٹ سے چاہتے ہیں کہ لاد دو لدوا دو لاد دینے والا ساتھ دو۔ یورپ کی تمام تر ترقی کا اصل سبب علومِ جدید ہیں اور اس زمانے میں تعلیم وہی مفید ہو سکتی ہے جس سے یہاں کے لوگ ان علوم سے آگاہی بہم پہنچائیں اور ان کی طبیعتوں میں اس بات کا شوق پیدا ہو کہ واقعات کو سوچیں اور موجودات میں غور کریں۔ سررشتۂ تعلیم کا اتنا اثر ضرور دیکھنے میں آتا ہے کہ لکھنے پڑھنے کا چرچا پہلے سے بہت زیادہ ہو گیا ہے۔ جن لوگوں میں پڑھنے لکھنے کا دستور نہ تھا وہ بھی اپنے بچوں کو پڑھانے لگے ہیں بلکہ اس قسم کے لوگ بکثرت ہیں۔ انگریزی کا شوق بھی برسرِ ترقی ہے اور شکر ہے کہ اگلی سی وحشت اور نفرت کا کہیں پتہ نہیں۔ صرف مسلمانوں کو احمقانہ تعصب کی وجہ سے رکاوٹ ہے وہ بھی عارضی چند روزہ مگر اس تعلیم سے ملک کو فائدہ کے عوض الٹا نقصان پہنچنے والا ہے۔

لوگ صرف نوکری کی طمع سے پڑھتے ہیں، نوکری ہی ان کے نزدیک پڑھنے کی غرض و غایت ہے۔ نوکری ہی کے لیے ان کو تیار بھی کیا جاتا ہے اور ان کا مبلغِ علم بھی وہیں تک ہے۔ مجھ کو حقیقت میں سخت حیرت ہے کہ اتنی نوکریاں کہاں سے آئیں گی۔ میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ انگریزی عمل داری میں لکھنے پڑھنے کی اس قدر کثرت اس وجہ سے بھی ہے کہ سرکاری نوکری بلاامتیازِ شریف و رذیل ہر ایک کو حاصل ہو سکتی ہے۔ اور یہی سبب ہے کہ کمینوں میں علم کا رواج زیادہ ہوتا جاتا ہے۔ پس اگر سچ پوچھیے تو سررشتۂ تعلیم سے جیسا کہ اب ہے ملک کا الٹا علاج ہو رہا ہے۔ ہم کو درکار تھے وہ علوم جو صنعت و حرفت کو ترقی دیں اور اب لوگوں کو ایسی پٹی پڑھائی جاتی ہے کہ موروثی اور آبائی پیشوں اور حرفوں سے گریز اور نفرت کرتے ہیں بلکہ انھوں نے اسی عار سے بچنے کے لیے پڑھنا اختیار کیا تھا۔"

"اب مجھ کو صرف تجارت پیشہ لوگوں کی نسبت کچھ کہنا چاہیے۔ سو میں اس کو مانتا ہوں کہ انگریزی عمل داری میں اس پیشے کے لوگوں کو کسی طرح کی شکایت نہیں ہونی چاہیے۔ امن میں کسی طرح کا تزلزل نہیں۔ مال کی آمد و شد میں یوماً فیوماً سہولت زیادہ ہوتی چلی جا رہی ہے۔ عدالت کی کارروائی لائقِ اطمینان ہے۔ تاجر کو اور چاہیے کیا مگر تجارت کو چاہیے سرمایہ اور سرمائے ہی کا بڑا رونا ہے۔ بس یہ پیشہ ایک محدود پیشہ ہے جس کو ہندوستان میں صرف معدودے چند اختیار کر سکتے ہیں۔ ایک دوسرے حرفے اور صنعت کا کساد عین تجارت کا کساد ہے اور یہ میں ابھی ابھی تھوڑی دیر ہوئی ثابت کر چکا ہوں کہ ہمارے ملک کی صنعت پر اوس پڑتی جاتی ہے۔ پس اسی نسبت سے تجارت میں بھی کمی ہے۔ سچ پوچھو تو ساری تجارت اہلِ یورپ کی مٹھی میں ہے اور میں ہندوستانیوں کو تاجر نہیں بلکہ تاجروں کا دلّال سمجھتا ہوں۔ ولایت سے مال منگواتے ہیں۔ اس کے طفیل میں روپے پیچھے دھیلا دمڑی آپ بھی جھاڑ کھاتے ہیں۔

اس وقت تک میں نے رعایائے ہندوستان کو چار بڑے بڑے پیشوں میں تقسیم کر کے ہر ایک کی خستہ حالی کو اپنے پندار میں دلائلِ عقلی سے ثابت کیا۔ اب میں بہت نہیں گنتی کی چند باتیں بیان کروں گا۔ جو بلاتخصیص کسی پیشے کے عام ہندوستانیوں پر مؤثر ہیں اور ان کو کم و بیش ہندوستانیوں کے افلاس میں دخل ہے۔ ہندوستان کے لوگ عادتاً سادگی اور کفایت شعاری سے زندگی بسر کرنے والے ہیں۔ اور ان لوگوں نے اپنی ضرورتوں کو اس قدر محدود کر رکھا ہے، کہ ان کو بہت سا ساز و سامان درکار نہیں۔ ان کے پاس اگر روپیہ ہو تو کھانے پینے کے ضروری مصارف کے بعد اس کا زیور اپنی عورتوں کو گھڑوا دیتے ہیں یا یوں کہو کہ اس کو اِس پیرائے میں جمع رکھتے ہیں، تو جس قوم میں عموماً سادگی اور کفایت شعاری کا دستور متوارث ہو اس کے اکثر افراد کو علیٰ قدرِ مراتب سرمایہ دار ہونا چاہیے اور انگریزی عمل داری سے پہلے ہم میں اکثر لوگ خوش حال تھے بھی۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ ادنیٰ اور اعلیٰ سب کے خرچ بڑھتے جاتے ہیں اور اس کے چند در چند اسباب ہیں۔

اوّل یہ کہ تکلف و آرائش اور نمود و نمائش کی نئی نئی چیزیں ولایت سے آ کر رواج پاتی ہیں اور زندگی کے لیے جدید ضرورتیں پیدا ہو جاتی ہیں۔ خرچ کے لیے اس کثرت سے موجباتِ ترغیب جمع ہو گئے ہیں اور ہوتے جاتے ہیں کہ انسان کیسا ہی جزرس کیوں نہ ہو ہاتھ کو نہیں روک سکتا۔ مثلاً جہاں کہیں ریل جاری ہے آمد و شد میں ریل کی وجہ سے اس قدر سہولت ہو گئی ہے کہ جو لوگ کبھی گھر سے باہر نکلنے کا نام نہیں لیتے تھے اب ذرا ذرا سی ضرورتوں پر چل کھڑے ہوتے ہیں۔ پھر ریل میں چلنا ٹھہرا تو کپڑوں کی گٹھڑی کون سنبھالتا پھرے۔ سب سے بھلا بیگ، کپڑے اور ضرورت کی چھوٹی موٹی چیزیں بھرا اوپر سے قفل لگا مزے سے ہاتھ میں لٹکا لیا۔ پھر سفر کا نام سفر، دور جانا ہو یا نزدیک آخر روپیہ پیسہ بھی تھوڑا بہت ساتھ رکھنا ہی پڑتا ہے۔ نیفے میں رکھو تو مشکل، ازار بند میں باندھو تو بدنما، جیب کا بھروسہ نہیں، بار بار بیگ کا کھولنا بند کرنا، کوئی چیز گر پڑے کیا ضرور۔ ہر مرتبہ خریدنا نہیں۔ لاؤ بھئی گلے میں لٹکانے کا چمڑے کا بٹوہ خرید لیں۔ مدتوں کے لیے چھٹی ہوئی۔ لیکن کم بخت حقہ کی کیا تدبیر کرنی ہوگی۔ سنا ہے کہ ریل میں تو پینا نہیں ملتا۔ چلتی گاڑی میں لوگ چوری چھپے کوئلے سلگا کر اپنا کام کر لیتے ہیں۔ پر ایسے حقے میں کیا خاک مزہ ملتا ہوگا۔ سوکھا ہوا نیچہ، خالی حقہ، اس پر گھبراہٹ کہ ایسا نہ ہو اسٹیشن آ جائے، چرٹ سب سے اچھا کہ خاصی طرح دندناتے ہوئے پیتے چلے جا رہے ہیں کسی کی مجال نہیں کہ ہوں تو کہے اور ساتھ کے بیٹھنے والے بھی دیکھ کر جی میں کہتے ہوں گے کہ ہاں بھئی یہ بھی کوئی ہیں، پھر چرٹ میں کڑک جانے کا بڑا عیب ہے اور پھر کم بخت دھواں نہیں دیتا۔ سارا بکس لیں تو حفاظت سے رہے۔ بنچ کے نیچے کہیں بھی ڈال دو۔ کچھ پروا نہیں۔ چھوٹے سے چھوٹا دیسی چرٹوں کا بکس آٹھ آنے دس آنے کو آئے گا۔ کیا بڑی بات ہے راستہ تو آرام سے کٹے گا۔ ریل میں نکمے بیٹھے ہوئے اس سے بہتر کوئی دوسرا مشغلہ نہیں۔ حقے میں بڑا کھڑاگ ہے۔ نیچہ، حقہ، چلم، توا، کوئلے خدا کی پناہ ایک آدمی کا بوجھ تو یہی ہو گیا۔ آدمی اپنے تئیں سنبھالے یا اتنے بکھیڑے کو لادے لادے پھرے۔ چرٹ کے لیے صرف ایک ڈبیا سلائی کی چاہیے ہوگی۔ سو حقے کی صورت میں بھی رکھنی پڑتی۔ سڑک کے کنارے لڑکے بیٹھے ہوئے پکار رہے ہیں۔ "دمڑی ٹکے کے تین بکس"، دمڑی تو اپنے منہ سے کہتا ہے ٹکے کے تین دے گا۔ ایک پیسہ کا ڈیڑھ۔ یہ حساب تو ٹھیک نہیں بیٹھتا۔ ایک بکس لیں تو کوڑیاں باندھنی پڑیں گی۔ کام کی چیز ہے۔ سیل بھی جائے تو جہاں دھوپ دکھائی دے باروت کی طرح چھٹنے لگی۔ آؤ اکٹھے تین بکس لے لو۔ پڑے رہیں گے پھر کام آئیں گے۔ یوں ضرورتوں کا سلسلہ ہے کہ چپکے چپکے یکے بعد دیگرے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ اسی طرح ڈاک کے انتظام میں باہمی خط و کتابت کو اس قدر بڑھا دیا ہے کہ کاتب اور مکتوب الیہ چاہے دونوں میں ایک بھی پڑھا ہوا نہ ہو اور کتنے ہی غریب کیوں نہ ہوں زیادہ نہیں تو خیر مہینے کے مہینے ایک دوسرے کی خیر صلاح کی خبر لینی تو ضرور ہے۔

یہ میرے ہوش کی بات ہے کہ ہمارے ملک میں چھتری کو لازمۂ امیری سمجھا جاتا تھا۔ اب یہاں تک نوبت پہنچی ہے کہ کسی بڑے بازار میں دھوپ کے وقت کھڑے ہو کر دیکھیے تو اِس سرے سے اس سرے تک چھتریوں کا ایک سائبان تنا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ میں کہتا ہوں کیا اب ہمارے ملک میں موم کے آدمی پیدا ہوتے ہیں کہ دھوپ لگی اور پگھلے۔ یا مثلاً ایک کپڑے پر نظر کیجیے کہ اس کے ضروری ہونے میں کچھ کلام نہیں۔ ولایت سے قسم قسم کے وضع دار کپڑے بن بن کر چلے آتے ہیں کہ خواہ مخواہ آدمی کا دل ان کے پہننے کو چاہتا ہے اور چونکہ کلوں کی وجہ سے سستا بہت ہے۔ اکثر آدمی اس کی وضع داری پر فریفتہ ہو کر بلاضرورت بھی بنا لیتے ہیں اور پھر اس کے استعمال میں بھی چنداں احتیاط نہیں کرتے۔ میں ایسا خیال کرتا ہوں کہ سولیزیشن اور اسراف لازم و ملزوم ہیں۔ پس جس قدر ہندوستانیوں میں سولیزیشن کی ترقی ہوگی ضرور ہے کہ ان کا خرچ بڑھے گا۔ اگر اسی نسبت سے ہندوستانی اپنی آمدنی بھی بڑھا سکتے تو کچھ پروا کی بات نہ تھی۔ مگر آمدنی الٹی گھٹ گئی ہے تو خرچ کی زیادتی ان کو اکھرا ہی چاہیے۔

عام لوگ جن کی معلومات کا دائرہ تنگ ہے اور جن کو سوچنے اور غور کرنے کی عقل نہیں سب کے سب بالاتفاق کہتے ہیں کہ انگریز کی عمل داری میں امن ہے، انصاف ہے، زور نہیں ظلم نہیں، مگر خدا جانے کیا بات ہے اگلے وقتوں کی سی خیر و برکت نہیں۔ روپیہ ہے کہ ٹھیکری کی طرح اٹھا چلا جاتا ہے اور اس پر پیٹ کو روٹی ہے تو تن کو کپڑا نہیں اور کپڑا ہے تو روٹی نہیں اور ہو تو کہاں سے ہو۔ وہ اگلے سے سمے ہی گئے گزرے ہوئے۔ بزرگوں کے عیش تو بزرگوں کے ساتھ گئے۔ یہ تو ہمارے ہوش کی بات ہے کہ ایک روپیہ کا غلّہ ایک آدمی کے اٹھائے نہیں اٹھتا تھا۔ بھلا سمے کا کچھ ٹھکانا ہے! روپے کے چھ دھڑی گیہوں داؤدی صاف ستھرے، ساڑھے تین سیر چار سیر کا دانے دار خالص گھی، پانچ سیر کی سفید براق کھانڈ، بیس سیر کا گُڑ تو دس من کے اُپلے اور علیٰ ہذا القیاس۔ اب جس چیز کو دیکھو آگ لگ رہی ہے۔ روپیہ اِدھر بھُنا اُدھر نِدارد۔ سبب کے ٹھہرانے میں غلطی ہو مگر سمے کی شکایت بھی بے اصل نہیں۔ یہ بالکل سچ ہے کہ اگلی سی برساتیں نہیں ہوتیں زمین ہے کہ جنگل اور باغات کٹ کٹ کر برابر مزروعہ ہوتی چلی جاتی ہے اور علمِ طبعی میں یہ مسئلہ حدِّ تیقّن کو پہنچ گیا ہے کہ درخت بالخاصہ افراطِ بارش کے سبب ہوتے ہیں اور جنگلی علاقوں میں بارش کا بہ کثرت ہونا اس کا شاہد ہے۔ پھر زمین داروں کو تشخیصِ جمع میں ایسا دھر کر کسا ہے کہ گاؤں کا سارا رقبہ ہر سال جوتا بویا نہ جائے تو سرکاری جمع گھر سے بھرنی پڑے۔ پس زمین دار بہ مجبوری زمین کو مطلق دم نہیں لینے دیتے۔ ان کا بس چلے تو یک فصلی زمین سے دو اور دو فصلی سے چار فصلیں پیدا کریں۔ یوں تو زمین بے دم اور کم زور اور اس کی قوتِ پیداوار گھٹتی چلی جاتی ہے جس کو عوام بے برکتی سے تعبیر کرتے ہیں۔

لوگ انگریزی عمل داری کی نسبت ایسا بھی خیال کرتے ہیں کہ اس عمل داری میں بے ایمانی بہت پھیلتی جاتی ہے۔ لوگوں میں اگلی سی راست معاملگی نہیں رہی۔ نیتوں میں فساد، دلوں میں دغا، باتوں میں جھوٹ، جس کا نتیجہ ضروری یہ ہے کہ بات بات میں لوگ ایک دوسرے سے لڑ پڑتے ہیں جس عدالت میں جا کر دیکھو مقدمات کی یہ کثرت ہے کہ حاکم کو سر کھجانے تک کی فرصت نہیں اور جہاں ایک دفعہ عدالت جھانکی اور جھگڑا اسربیل کی طرح چمٹا۔ اوّل تو ایک کے اوپر ایک عدالتیں ہی اتنی ساری ہیں کہ ان سیرے کے کھیتوں میں سے نکلنا مشکل، دوسرے وکیل، مختار ایسے جھانسے دیتے ہیں کہ کیسا ہی سیانا آدمی کیوں نہ ہو ان کے دھوکے میں آ ہی جاتا ہے۔ پھر عدالت کے انصاف کی نسبت لوگوں کی عام رائے ہے کہ جو جیتا وہ ہارا اور جو ہارا سو مرا۔ اور فی الواقع عدالتوں کی کارروائیاں اس قدر الجھی ہوئی ہوتی ہیں کہ اسٹامپ اور طلبانوں اور محنتانوں اور شکرانوں کے خرچوں کے مارے فریقین اُدھڑ جاتے ہیں۔ یعنی عدالت میں مقدمہ جیتنے کے یہ معنی ہیں کہ جائداد متنازعہ فیہ نذرِ خرچۂ عدالت۔ حقیقت میں کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ یہ سب قاعدے قانون انسدادِ فساد کی غرض سے جاری کیے جاتے ہیں اور نتائج کے دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا قانون باعثِ فساد ہے۔ میرے ایک دوست ایک ہندوستانی ریاست میں نوکر ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا تھا کہ کیوں صاحب آپ کے یہاں عدالتوں کا چنداں اہتمام معلوم نہیں ہوتا اور قانون بھی آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے یہاں منضبط نہیں پھر لوگ کیا کرتے ہوں گے؟ انھوں نے جواب دیا کہ اوّل تو ہماری رعایا اس قدر جھگڑالو نہیں کسی بات میں اختلاف ہوا بھی تو اکثر آپس میں رفع دفع کر لیتے ہیں اور جو شاذ و نادر ہم تک فریاد لائے تو ذرا سی کوشش میں ایک دوسرے کے حلف پر حصر کر دیتے ہیں یا پنچایت پر راضی ہو جاتے ہیں۔ وہ اس بات کی تصدیق کرتے تھے کہ وہاں کے لوگ جھوٹ کم بولتے ہیں اور بڑے شد و مد کے ساتھ کہتے تھے کہ میں پندرہ برسوں سے ایک بڑے علاقے کا عامل ہوں اور صدہا مقدمے میرے ہاتھ تلے آئے آج تک میرے کان میں یہ بھنک نہیں پڑی کہ کسی نے جھوٹا حلف اٹھایا۔

اگر عدالت کو لوگوں کے اخلاق کی کسوٹی نہ سمجھا جائے تو میں دوسری دلیل پیش کرتا ہوں۔ شراب خواری کی کثرت، جو شخص اس چیز کو مذہباً ممنوع نہ سمجھے اور وہ اعتدال کے ساتھ اس کا استعمال کرے تو مجھ کو اس پر طعن کرنے کا کوئی حق نہیں اور مجھ کو اس پر طعن کرنا منظور بھی نہیں۔ میں اس موقع پر اتنا ہی ظاہر کرنا چاہتا ہوں کہ آیا تموّل کے اعتبار سے ہندوستانیوں کی ایسی حالت ہے کہ ان کو شراب خوار بننے دیا جائے۔ جس سے آخرکار جواری، فضول خرچ، کاہل، عیاش، چور، ڈاکو، اور انواع و اقسام کے امراضِ خبیث میں مبتلا ہو کر ایسی مصیبت مندانہ زندگی بسر کریں کہ عذاب ہوں اپنے حق میں اور سوسائٹی کے حق میں۔ یہ ہرگز اصول نہیں ہونا چاہیے کسی عاقل گورنمنٹ کا اور خاص کر انگریزی گورنمنٹ کا جو عقل کے علاوہ ایک پاکیزہ مذہب کا فخر بھی رکھتی ہے۔ اگر گورنمنٹ ایسی بُری چیز کی جس کو ہمارے سچے پیغمبر نے اور آپ کے نزدیک عرب کے بڑے ریفارمر نے بواجب ام الخبائث کہا ہے اور ہر ایک زمانے کے عقلا نے اس کی بُرائی اور ڈاکٹروں نے اس کے نقصانات پر اجماع کیا ہے۔ بندی نہیں بلکہ روک کر سکتی ہے۔ تو گورنمنٹ بہ تقاضائے مصلحتِ ملکی کیوں اپنا سارا زور سختی کے ساتھ اسے روکنے میں صرف نہ کرے۔

"اب مجھ کو آپ صاحبوں کی سامعہ خراشی کرتے ہوئے بہت دیر ہو گئی اور میں ڈرتا ہوں کہ کہیں میں نے نوبل صاحب کی لذیذ ضیافت کو تو بے مزہ نہیں کر دیا۔ بات جا پڑی اسبابِ غدر میں اور یہ مضمون اس قدر وسیع ہے کہ اگر ہر روز اسی طرح کہا کروں تو کہیں ہفتوں میں جا کر ختم ہو تو ہو۔ تاہم میں نے اجمالی طور پر جس قدر بیان کیا اس سے اتنی بات تو غالب ہے آپ صاحبوں پر ثابت ہو گئی ہوگی کہ انگریزی گورنمنٹ غدر سے پہلے تک ممدوحِ خلائق نہیں رہی مجھ کو میرے ایمان نے اور گورنمنٹ اور رعایا دونوں کی سچی خیر خواہی نے اس کے ظاہر کرنے پر مجبور کیا۔ غدر سے پہلے تک مجھ کو انگریزی گورنمنٹ سے کسی طرح کا تعلق نہیں رہا اور سوائے اس کے میں شہر میں رہتا تھا گورنمنٹ کا کوئی حق مجھ پر نہ تھا۔ مگر خدا کو یوں منظور تھا کہ مجھ سے اور نوبل صاحب سے ایک عجیب اور غیر متوقع طور پر معرفت ہو۔ میں نے صاحب کو اس افسوس ناک بے ہوشی کی حالت میں اگر لے جا کر اپنے گھر رکھا تو سوائے فرضِ انسانیت اور کوئی خیال باعث نہیں ہوا۔ اس وقت کوئی دور اندیش سے دور اندیش بھی نہیں سمجھ سکتا تھا کہ غدر کا انجام کیا ہوگا اور یہ اونٹ کب اور کس کروٹ بیٹھے گا۔ مجھے خوب یاد ہے کہ جس وقت میں نے صاحب کو مُردوں میں پڑا دیکھا میرا دل بے قابو ہو گیا تھا۔ میں نے اس وقت اتنا بھی تو نہیں سوچا کہ ان کو لے جا کر کہاں چھپاؤں گا اور کیا انتظام کروں گا کہ کسی پر ان کا میرے گھر میں ہونا ظاہر نہ ہو۔ مگر نوبل صاحب کے بارے میں شروع سے آخر تک خدا کی قدرتِ کاملہ کے ایسے ایسے کرشمے دیکھے کہ بالکل عقل کام نہیں کرتی۔ پس اگر آپ سچ پوچھتے ہیں تو ان کو صرف خدا نے بچایا ہے اور میری یا کسی کی تدبیر کو اس میں کچھ دخل نہیں اگر ان کا بچنا خدا کی اور خدا کی قدرت کی دلیل نہیں ہے تو میرے نزدیک پھر دنیا کی کوئی چیز کسی چیز کی دلیل نہیں ہے مجھ کو جہاں تک نوبل صاحب کے بچانے سے تعلق ہے وہ میری نظر میں اس قدر بے حقیقت ہے کہ مجھ کو اس کا تذکرہ کرتے ہوئے شرم آتی ہے۔

صرف نوبل صاحب کی کریم النفسی تھی کہ انھوں نے ایک ذرا سی بات کو اس قدر رونق دی اور اگر نوبل صاحب کی خاطر سے میں اس کا قابلِ قدر ہونا تسلیم بھی کروں تو نوبل صاحب اپنی ذات سے اس کا دو چند چار چند اور اس سے بھی زیادہ معاوضہ ادا کر چکے ہیں۔ پس گورنمنٹ نے جو مجھ کو جاگیر دی نوکری دی صرف احسان ہے بلا سابقۂ استحقاق اور اگر اتنے بڑے احسان کو خالی شکرگزاری کے ساتھ قبول کر لوں تو اس کے یہ معنی ہوں گے کہ بے استحقاق کے علاوہ نااہلی کا الزام بھی اپنے اوپر لوں۔ جوں ہی مجھ کو نوبل صاحب سے معلوم ہوا کہ گورنمنٹ میرے ساتھ سلوک کرنے والی ہے۔ مجھ کو سوچ پیدا ہوا کہ میں اس کے معاوضے میں گورنمنٹ کی کون سی خدمت کر سکوں گا نہ تو میرے پاس مال ہے کہ گورنمنٹ کی نذر کروں۔ نہ میرا پیشہ سپہ گری ہے کہ میں اپنا سر گورنمنٹ کے لیے کٹوا دوں۔ تب میں نے خیال کیا کہ میرے پاس دل ہے پس میں آپ صاحبوں کے روبرو اس بات کو ظاہر کرتا ہوں کہ میں اپنا دل گورنمنٹ کی نذر کر چکا۔ خدا نے چاہا تو میری تمام عمر اسی میں بسر ہوگی کہ جہاں تک مجھ سے ہو سکے گا گورنمنٹ کی فلاح میں، گورنمنٹ کے قیام و ثبات میں، گورنمنٹ کے عام پسند ہونے میں کوشش کرتا رہوں گا۔ اے خدا تو میرا مددگار رہ!

میں نے اپنی کارروائی کا منصوبہ ذہن میں ٹھہرا لیا ہے اور میں آپ صاحبوں کی اجازت سے مجملاً اس کو بیان کرنا چاہتا ہوں۔ مجھ کو ابتدائے شعور سے تاریخ اور اخبارات کا بہت شوق رہا ہے اگرچہ اس سے تھوڑی دیر پہلے میں نے گورنمنٹ کے انتظام پر سختی کے ساتھ نکتہ چینی کی ہے بااینہمہ میں اقرار کرتا ہوں کہ انصاف میں، انسانی ہمدردی میں، رعایا کی آزادی میں، رعایا کے مہذب بنانے میں، ملک کی فلاح و بہبود میں، ملک کی ترقی میں دنیا کی کوئی گورنمنٹ انگریزی گورنمنٹ کو نہیں پاتی۔ انگریزی گورنمنٹ میں جو نقصان ہیں عملی قسم کے ہیں ورنہ اس گورنمنٹ کے اصول ایسے عمدہ ہیں کہ ان سے بہتر نہ کبھی ہوئے اور نہ اب روئے زمین کے کسی حصے میں ہیں۔ پس میں انگریزی گورنمنٹ کو ہندوستان کے حق میں خدا کی بڑی رحمت اور برکت سمجھتا ہوں۔ پس میری تمام ہمت اس میں مصروف ہوگی کہ رعایائے ہندوستان اس رحمت اور برکت سے پورا پورا فائدہ اٹھائے۔

انگریزی گورنمنٹ میں جتنے نقصان ہیں آخر کو سب کا یہی ایک سبب جا کر ٹھہرتا ہے کہ حاکم و محکوم میں اختلاط نہیں اور ایک دوسرے سے اچھی طرح واقف نہیں۔ میں نے اس پیرائے میں گورنمنٹ کی خیرخواہی کا بیڑا اٹھایا ہے کہ حاکم و محکوم میں سے اجنبیت کو دور کر دوں۔ رعایائے ہندوستان میں سے صرف مسلمانوں کو میں اس قابل سمجھتا ہوں کہ گورنمنٹ کو اُن کی تالیف و استمالت کی سرِدست بہت ضرورت ہے کچھ تو اس سبب سے اور کچھ اس وجہ سے کہ میں خود مسلمان ہوں، میری کوشش مسلمانوں میں محصور رہے گی۔ میں مسلمانوں کے رگ و ریشہ سے واقف ہوں اور مجھ کو ہونا بھی چاہیے۔ کیوں کہ مجھ کو خود مسلمان ہونے کا فخر حاصل ہے۔

میں بہت وثوق کے ساتھ کہتا ہوں کہ مذہبِ اسلام میں کوئی بات ایسی نہیں جس کی وجہ سے گورنمنٹ مسلمانوں کی طرف سے نامطمئن ہو۔ ہمارے پیغمبر صاحب کی زندگی میں دونوں طرح کے نمونے موجود ہیں۔ ان کی پیغمبری کی عمر میں سے آدھی سے زیادہ مغلوبی کی حالت میں گزری جب کہ قریشِ مکہ صرف مذہبی مخالفت کی وجہ سے اُن کو اور اُن کے رفقا کو جو اُن پر ایمان لائے تھے طرح طرح کی ایذائیں دیتے تھے اور صرف اس وجہ سے کہ یہ لوگ ایک خدا کو مانتے اور بُت پرستی کی مذمت کرتے تھے ان کو کعبے کے معبدگاہِ عام میں آنے سے روکتے۔ ان کو اپنے طور پر خدا کی عبادت نہ کرنے دیتے۔ ان کے ساتھ لین دین تک موقوف کر دیا تھا۔ اور موقع پاتے تو ان پر دست درازیاں کرتے اس حالت میں جو متصل گیارہ برس رہی۔ پیغمبر صاحب کی اپنے معتقدین کو برابر یہی تاکید رہی کہ خدا کی راہ میں دنیوی تکلیفات کو بہ امیدِ فلاحِ عاقبت صبر کے ساتھ برداشت کرو۔ اور مذہبِ اسلام تھا کہ ان مزاحمتوں اور مصیبتوں میں اپنی صداقت کی وجہ سے چپکے چپکے ترقی کر رہا تھا مسلمانوں نے ان تکلیفات سے عاجز آ کر دوبارہ ترکِ وطن بھی کیا جس کو ہجرت کہتے ہیں پھر بھی لوگوں نے چین سے نہ بیٹھنے دیا۔ اس اثنا میں مسلمانوں کا گروہ اتنا بڑھ گیا تھا کہ اپنی حفاظت کر سکتے تھے۔ دوسری ہجرت کے دوسرے برس بدر کی مشہور لڑائی ہوئی جس سے اسلام کے غلبے کی ابتدا ہے۔ جزیرۂ عرب میں مسلمانوں کی بہت سی فتوحات ہوئیں جن میں سے سب سے مشہور اور حقیقت میں جس نے تمام جزیرۂ عرب کو بُت پرستی سے پاک کر دیا تھا، فتحِ مکہ تھی۔ میں نے تاریخ میں صدہا فتح مند بادشاہوں اور جنرلوں کا بلادِ مفتوح میں داخل ہونا پڑھا ہے۔ آگے آگے قتل اور پیچھے پیچھے لوٹ۔ اور ایک فتح مند پیغمبر کا مکے میں داخل ہونا تھا۔ جہاں کے لوگوں نے ان کے ساتھ ایذا دہی اور بے حرمتی کا کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا تھا کہ آپ کعبے میں تشریف رکھتے تھے اور شہرِ مکہ میں امنِ عام کی منادی ہو رہی تھی۔

غرض یہ ہے کہ اسلام فی نفسہ ایسا عمدہ مذہب ہے کہ ہارے درجے کی مغلوبیت اور اعلیٰ مرتبے کا غلبہ دونوں حالتوں میں اس کے پیرو صلح کاری کے ساتھ زندگی بسر کر سکتے ہیں۔ مانا کہ انگریزی عمل داری میں اسلام کو غلبہ نہیں مگر وہ اس قدر مغلوب بھی نہیں جیسا ہجرت سے پہلے مکے میں تھا۔ بدوں سلطنت کے جس قدر مذہبی آزادی ممکن ہے۔ مسلمانوں کو انگریزی عمل داری میں پوری پوری حاصل ہے۔ بلکہ خود مسلمانوں کی عمل داری میں بھی آزادی کا یہ رنگ نہیں۔ پس من حیث المذہب کوئی مسلمان کسی فرقے اور عقیدے کا کیوں نہ ہو انگریزی عمل داری کا شاکی ہو نہیں سکتا۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ ہندوستان کے مسلمان ہندوؤں کی دیکھا دیکھی کھانے میں پینے میں، پہننے میں، نشست و برخاست میں چھوت بہت ماننے لگے ہیں۔ دوسرے ملکوں کے مسلمانوں کے تنزل کا جو کچھ سبب ہو۔ ہندوستان کے مسلمانوں پر تو ہندوؤں کے اختلاط نے تو بہت ہی بُرا اثر کیا ہے۔ ہندوؤں میں رہ کر یہ بھی انھی کی طرح شکّی، ڈرپوک، پست حوصلہ، گھر گھسنے، آرام طلب ہو گئے۔ مسلمانوں کا یہ عیب کہ انگریزوں سے پرہیز کرتے ہیں اور اس وجہ سے انگریزی عمل داری کے بہت سے فائدے سے محروم ہیں اور یوماً فیوماً مفلس اور بے وقعت ہوتے جاتے ہیں اور گورنمنٹ کو اپنی طرف سے بدظن رکھتے ہیں۔ یعنی مسلمانوں کی اتنی ہندویت تو ان شاء اللہ میں دفع کر دوں گا۔

مسلمانوں کا مذہب جدید العہد ہے اور ابھی اس کی اصلیت دوسرے مذہبوں کی طرح معدوم نہیں ہوئی۔ پس مجھ کو اپنی کوشش میں ہر طرح کامیابی کی امید ہے۔ میں جانتا ہوں نصیحت کا بڑا مؤثر پیرایہ نمونے کا دکھا دینا ہے۔ سو میں نے یہ باتیں منہ سے نہیں نکالیں جب تک میں نے خود اس وضع کو اختیار نہیں کر لیا جس کو میں چاہتا ہوں کہ سب مسلمان اختیار کریں۔ میں نے آپ سب صاحبوں کے ساتھ ایک میز پر کھانا کھایا اور آپ کے روبرو میں انگریزی لباس پہنے کھڑا ہوں اور میں یقیناً ویسا ہی مسلمان ہوں جیسا تھا۔ میں جانتا ہوں کہ خود مسلمان جن کے مفاد کے لیے میں نے یہ وضع اختیار کی ہے چھیڑ چھیڑ کر اور ہنس ہنس کر میری زندگی تنگ کر دیں گے۔ مگر ان کی چھیڑ جیسی ناچیز ہوگی ویسی ہی بے ثبات بھی ہوگی۔ تقاضائے وقت اور تعلیم دو میرے بڑے مددگار رہیں اور ان کی تائید سے مجھ کو پورا بھروسا ہے کہ بہت جلد ایک گروہ میری وضع کی تقلید کرے گا۔ اب میں اپنی تقریر کو طوالت کی معذرت پر ختم کرتا ہوں۔"

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.