
Capítulo 10 de 28
Vestido a la inglesa en la cena del señor Noble
In English Dress at Mr Noble's Dinner
ابن الوقت نے انگریزی وضع اختیار کر لی، نوبل صاحب نے اس کی دعوت کی
نوبل صاحب کے پاس سے اٹھا تو جاں نثار ابن الوقت کو سیدھا اس کے بنگلے پر لے گیا۔ اور جانے کے ساتھ حجامت کروا اصطباغ دے یعنی نہلا دھلا موسم اور وقت اور موقع کے لحاظ سے فیشن کے مطابق انگریزی سوٹ پہنا نکٹہ دمچی پوزی یعنی بریسز ٹائی کالر سب کس کسا کر اس کو اچھا خاصا عین مین یورپین جنٹلمین بنا دیا۔ ابن الوقت نے آئینے میں دیکھا تو اپنے تئیں انگریزوں کے ساتھ اشبہ پایا۔ بے اختیار تن کر لگا کپڑے بدلنے کے کمرے میں پینترے بدلنے۔ کھانے کے بعد اس کے کئی گھنٹے کوٹھی کی دیکھ بھال میں گزرے۔ گرمی کے دن چاروں طرف خس کی ٹٹیاں لگی ہوئی تھرمینٹیڈوٹ سے ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا کے جھکولے آ رہے ہیں۔ کوچ پر دراز ہونا تھا کہ آنکھ لگ گئی۔ جاگا تو ہوا خوری کے کپڑے بدل کر باہر نکل گیا۔ کوئی دو گھڑی رات جاتے جاتے لوٹ کر آیا تو نوبل صاحب کے یہاں جانے کا وقت قریب تھا۔ ڈنر کے لیے تیاری شروع ہوئی۔ کچہری نہیں، دربار نہیں، کوئی پارٹی نہیں، اس پر بھی دن کے گیارہ بجے سے لے کر اب یہ تیسری دفعہ ہے کہ انگریزی تہذیب کپڑے بدلنے کی متقاضی ہے۔ سڑک کے بیچ نوبل صاحب کی کوٹھی تھی۔ جب معلوم ہوا کہ اور مہمان آنے شروع ہوئے یہ بھی اپنے بنگلے سے اٹھ جا موجود ہوا۔ کھانے سے پہلے اور کھانے میں صاحب لوگ اس کو اجنبی سمجھ کر بار بار دیکھتے تھے لیکن چوں کہ کسی نے اس کو انٹروڈیوس نہیں کیا تھا کوئی اس سے پوچھ نہیں سکتا تھا کہ تم کون ہو اور نہ یہ کسی سے بات کر سکتا تھا۔ نوبل صاحب مہمانوں کی آؤ بھگت میں لگے تھے ان سے لمحہ دو لمحہ کا چھٹکارا پاتے تو ابن الوقت سے ایک دو بات کر جاتے۔ ڈنر تھا کہ اچھا خاصا پہر ڈیڑھ پہر کا جھمیلا تھا۔ جہان کے قصے اور دنیا کی بکواس۔ خیر خدا خدا کر کے ڈنر سے چھٹی پائی۔ ابھی سب لوگ اپنی اپنی کرسیوں پر بیٹھے ہیں کہ نوبل صاحب نے کھڑے ہو کر یہ تقریر کی۔
''صاحبو! یوں تو آپ صاحبوں سے اکیلے دکیلے یا مجمع میں ملنا ہمیشہ خوشی کا موجب ہوتا ہی ہے مگر آج کی رات کی ملاقات ایک خاص وجہ سے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ آپ کو دعوت کے رقعوں سے معلوم ہوا ہو گا کہ آج کی دعوت سے ایک نئے دوست کو آپ کی سوسائٹی میں انٹروڈیوس کرانا منظور تھا (چیرز) اگرچہ میرے اکثر حالاتِ غدر بھی آپ سب صاحبوں نے بار بار میری زبان سے سنے ہیں مگر میرے حق میں وہ ایسے دل چسپ ہیں کہ ہر بار کے بیان کرنے میں مجھ کو ایک نیا مزہ ملتا ہے اور اس سے میں تیاس اور امید بھی کرتا ہوں کہ اس محل پر ان کا بالتفصیل اعادہ کرنا نہیں بلکہ مختصر طور پر ان کی طرف اشارہ کر دینا کسی صاحب کی طبیعت پر ناگوار نہیں گزرے گا۔ (ہرگز نہیں ہرگز نہیں) یہ ہرگز میرے خیال میں نہیں آتا کہ غدر میں مجھی پر سب سے زیادہ مصیبت پڑی مگر اتنا تو میں ضرور سمجھتا ہوں کہ میرے حصے کی مصیبت بھی کچھ کم نہ تھی۔ مجھ کو غدر نے اچانک آ دبایا۔ جب کہ میں بعزمِ ولایت بمبئی جاتے ہوئے علالتِ مزاج کی وجہ سے تھوڑی دیر کے لیے مسافرانہ دلی کے ڈاک بنگلے میں ٹھہرا ہوا تھا۔ میری جان پہچان یا دوست یا درد مند جو کچھ سمجھو میرا ایک ذاتی ملازم تھا جو اب بھی میرے پاس ہے اور وہ بمبئی تک میرے ساتھ جانے والا تھا۔ مجھ کو اس شدت کا دردِ سر تھا کہ تکیے پر سے سر نہیں اٹھا سکتا تھا۔ دفعتاً دین دین اور علی علی کا غل سن کر چونک پڑا اور ایک منٹ بھی نہیں گزرنے پایا تھا کہ شہر کی بازاری خلقت بنگلے میں ٹوٹ پڑی۔ میرا آدمی مجھ کو پیچھے معلوم ہوا کہ اس وقت میری دوا کے لیے شفا خانے گیا ہوا تھا۔ انہی لیٹروں میں سے چار پانچ خنگے مجھ کو کشاں کشاں کشمیری دروازے باغیوں کی گارد میں لے گئے۔ وہاں میں نے دیکھا کہ اور چند انگریز مرد اور عورتیں اور بچے قیدیوں کی طرح زمین پر بیٹھے ہیں۔ مجھ کو انہی میں بٹھا دیا۔ مگر ہم ایک دوسرے سے بات نہیں کر سکتے تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ دردِ سر جو ایک لمحہ کے لیے مفارقت نہیں کرتا تھا اور جس نے مجھ کو ولایت جانے پر مجبور کیا تھا اس وقت بالکل زائل ہو گیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے اپنے آدمی کو دیکھا کہ تماشائیوں میں ملا ہوا مجھ کو دیکھ رہا ہے۔ اس کا چہرہ اداس تھا اور اس کی صورت پریشان مگر وہ ٹکٹکی باندھ کر میری طرف کو دیکھ بھی نہیں سکتا تھا اور دیکھ بھی سکتا تو مجھ کو فائدہ کیا پہنچا سکتا تھا لیکن جب جب میں نے آنکھ اٹھا کر دیکھا کسی نہ کسی طرف اس کو کھڑا ہوا پایا۔ اس سے میں سمجھا کہ وہ میری مصیبت پر متاسف ہے۔ حوالات کی مصیبت کا بیان کرنا دیر طلب بات ہے اور میں اس کے تذکرے سے سکوت کرتا ہوں کیوں کہ مجھ کو کچھ اور بھی کہنا ہے۔ تیسرے دن ہم سب کو گھیر کر میگزین کے میدان میں لے گئے اور جب تک قلعے کے حوالاتی آئے ہم کو کھڑا رکھا۔ پھر سب کو بٹھا کر باڑ مار دی۔ اس وقت تک بھی میں نے اپنے آدمی کو کالج کے دروازے کے پاس دیکھا۔ شاید میرا دماغ مدتوں کے دردِ سر کی وجہ سے ضعیف ہو رہا تھا کہ باڑ کے صدمے سے یا زخموں کی وجہ سے مجھ کو غش آ گیا۔ اس وقت تک میں نے جو کچھ بیان کیا وہ میری ذاتی معلومات ہے۔ اس کے بعد جو میں نے آدھی رات کے بعد آنکھ کھولی اور مجھ کو ہوش آیا تو میں نے اپنے تئیں (ابن الوقت کی طرف اشارہ کر کے) ان کے مکان میں پایا۔ جن سے ملنے کو میں نے آپ صاحبوں کو بلایا ہے۔ (چیرز) میں یہ بات کچھ اس نظر سے نہیں کہتا کہ اپنے وفادار نوکر کی خیر خواہی کو میں اعلیٰ درجے پر نہیں خیال کرتا۔ مگر اس پر میرے احسانات اور نمک کے حقوق ثابت تھے۔ مگر ان صاحب کو بلکہ ان کے معزز خاندان میں سے کسی کو کبھی کسی انگریز سے کسی طرح کا تعلق نہیں رہا۔ انہوں نے چند سال تک دہلی کالج میں مشرقی علوم کی تعلیم پائی اور کالج چھوڑنے کے بعد اپنی موروثی خدمت پر شاہی ملازموں میں جا ملے۔ پس عام ہمدردی اور نیک دلی کے سوائے اور کوئی خیال ان کو میری پناہ دہی کا محرک نہیں ہو سکتا تھا۔ آپ میری شکل و صورت کو دیکھتے ہیں کہ اگر میں بھیس بدل کر ہندوستانیوں میں ملنا چاہتا تو رنگ اور بال اور آنکھیں ہر چیز میرا پردہ فاش کرنے کو موجود تھی۔ اس کے علاوہ ان کا گھر خانقاہ سے جس کو مجاہدین کا اکھاڑہ کہنا چاہیے بہت ہی قریب ہے۔ پس میرا پناہ دینا بڑی خطرناک بات تھی خصوصاً ملازمِ شاہی کے حق میں۔ پھر مدارات جو انہوں نے شروع سے کی آخر تک یکساں تھی۔ اور یہ بھی اس بات کی ایک دلیل ہے کہ میری پناہ دہی میں کسی غرضِ دنیاوی کو مدخل نہ تھا۔ میں ان باتوں کا چنداں اپنی احسان مندی ظاہر کرنے کے ارادے سے ذکر نہیں کرتا بلکہ آپ صاحبوں کے ذہن سے اس غلط اور بے اصل خیال کو نکالنا چاہتا ہوں کہ حکومتِ انگریزی کا سب سے بڑا دشمن مذہبِ اسلام ہے۔ بانیِ اسلام نے بالتخصیص عیسائیوں کی نسبت قرآن میں اپنی رضا مندی اور خوشنودی صاف طور پر ظاہر کی ہے۔ انہوں نے اپنے معتقدین کے لیے ہمارے ساتھ کھانا اور رشتہ و پیوند کرنا جائز قرار دیا ہے۔ اور میں نے قسطنطنیہ اور دوسری اسلامی سلطنتوں میں مسلمانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ انگریزوں کے ساتھ بے تامل کھاتے پیتے ہیں اور ان کا لباس بالکل ہم لوگوں کا سا ہے۔ صرف فز (ترکی ٹوپی) ان کا شعارِ قومی مابہ الامتیاز ہے جس سے وہ پہچانے جاتے ہیں۔ ساتھ کھانا اور رشتہ و پیوند کرنا دو بڑے ذریعے اتحاد پیدا کرنے کے ہیں اور ان دونوں باتوں کی اجازت سے ثابت ہے کہ مسلمانوں کے پیغمبر صاحب کو منظور تھا کہ ان کے گروہ کے آدمی ہم لوگوں کے ساتھ دوستانہ برتاؤ رکھیں اور ہندوستان کے مسلمانوں کے سوائے اور ملکوں کے مسلمان اس حکم کی پوری پوری تعمیل کرتے ہیں۔ ہندوستان کے مسلمانوں کو ہندوؤں کی صحبت نے بڑے بڑے نقصان پہنچائے ہیں اور منجملہ ان کے ایک یہ بھی ہے کہ یہاں کے مسلمان انہی کی طرح خشکی اور وہمی ہو گئے ہیں۔ پس جو نفرت ہندوستان کے مسلمانوں کو انگریزوں سے ہے ہرگز مذہبی نہیں ہے۔ بلکہ ایک رسم ہے جو انہوں نے ہندوؤں سے اخذ کی ہے اور جتنے مسلمان اپنے مذہب سے بخوبی آگاہ ہیں ہرگز اس نفرت میں شریک نہیں۔ مجھ کو معلوم ہے کہ دہلی کے مسلمانوں میں جو مستند عالم تھے باغیوں نے ہرچند ان پر سختی کی مگر انہوں نے جہاد کا فتویٰ دینے سے انکار کر دیا اور انہی انکار کرنے والوں میں یہ میرے دوست بھی تھے۔ اس سے انکار نہیں ہو سکتا کہ باغیوں میں بہت سے مسلمان بھی ہیں۔ مگر کون مسلمان؟ اکثر عوام الناس، پاجی، کمینے، رذیل جن کے پاس رسم و رواج کے سوائے مذہب کوئی چیز نہیں یا اگر کسی روادار مسلمان نے بغاوت کی ہے تو مذہب کو اس نے صرف آڑ بنا لیا ہے اور اصل میں غصہ یا لالچ یا کوئی اور سبب محرک ہوا ہے۔ جس طرح ہماری قوم ہمیشہ سے بہادری میں نامور رہی ہے، اسی طرح ہمارا سچا مذہب بردباری اور درگزر میں اور خدا کی مقدس مرضی نے ہم کو دونوں صفتوں میں آزمانا چاہا۔ ہم بہادری کی آزمائش میں خدا کے فضل سے پورے اترے۔ اب ہم کو دوسری آزمائش میں پورے اترنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ جب تک ہم مغلوب تھے ہم نے بہادری سے کام لیا۔ اب ہم کو خدا نے غلبہ دیا ہے تو چاہیے کہ بردباری اور درگزر سے کام لیں۔ قدرت پا کر معاف کر دینے سے ایشیائی قومیں ہم کو ضعیف سمجھنے کے عوض بہت زیادہ طاقت ور خیال کریں گی۔ سلطنت کی عمارت میں اگر بہادری نے گارے کا کام دیا ہے تو بردباری چونے گچ کا کام دے گی۔ (ابن الوقت کی طرف اشارہ کر کے) انہوں نے مجھ پر اپنا یہ ارادہ بھی ظاہر کیا ہے کہ آئندہ ہندوستانیوں یعنی کم سے کم اپنے ہم قوم مسلمانوں اور انگریزوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اگر انہوں نے ایسا کیا اور مجھ کو پورا بھروسا ہے کہ ضرور کریں گے تو گورنمنٹ کو چاہیے کہ میری پناہ دہی سے بڑھ کر ان کی اس کوشش کی قدر کرے۔ میری پناہ دہی کے صلے میں گورنمنٹ نے ان کو ڈھائی سو روپے ماہوار کے منافع کی زمین داری عطا فرمائی ہے اور اکسٹرا اسسٹنٹی کی خدمت جو ہندوستانی کے لیے اعلیٰ درجے کی نوکری ہے۔ تمام زمانہ غدر میں ان کے پاس رہنے سے مجھ کو ان کے تفصیلی حالات معلوم ہیں۔ علومِ مشرقی کے یہ بڑے عمدہ سکالر ہیں۔ انہوں نے دہلی کالج میں جغرافیہ اور تاریخ اور پولیٹیکل اکانمی اور ریاضی وغیرہ علوم بخوبی پڑھے ہیں۔ ان کی عام معلومات اونچے درجے کی اور قابلِ قدر ہے۔ ان کو اخبار بینی کا بڑا شوق ہے۔ ان کے خیالات وسیع اور شگفتہ ہیں۔ غرض آپ لوگ اگر ان کے ساتھ ارتباط پیدا کرنا چاہیں گے تو مجھ کو امید ہے کہ آپ ان کی ملاقات سے ہمیشہ محظوظ ہوں گے۔ اب شاید آپ صاحبوں کو زیادہ دیر تک باتوں میں لگائے رکھنا موجبِ تصدیع ہو گا۔ اس واسطے شکرِ قدوم پر تقریر کو ختم کرتا ہوں۔''
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.