Urdu in Translation
Recherche

Chapitre 5 sur 56

Shuja-ud-Daula, Asaf-ud-Daula and Wazir Ali

شجاع الدولہ، آصف الدولہ اور وزیر علی

Abdul Halim Sharar

Écriture
Taille

(۴)

صفدر جنگ منصور علی خان کے انتقال کے بعد سنہ ۱۱۸۲ محمدی (۱۷۵۳ء) میں ان کے بیٹے نواب شجاع الدولہ مسند نشین ہوئے، جن کے کچھ حالات اس مضمون کے پہلے حصے میں بیان ہو چکے ہیں۔ وہ ایک مضطرب اور بیقرار طبیعت کے اولو العزم فرمانروا تھے، لیکن بدقسمتی سے ان کا عہد بڑے بڑے فتنوں اور یادگار زمانہ انقلابوں سے بھرا ہوا تھا۔ دنیا کی دو زبردست تاریخی قوموں اور قوتوں کی قسمت کا فیصلہ انھیں کی آنکھوں کے سامنے ہوا۔ پہلے پانی پت کی محشر انگیز لڑائی ہوئی، جس میں احمد شاہ درانی، شجاع الدولہ اور نجیب الدولہ کے ساتھ خوانین روہیلکھنڈ کی تمام زبردست فوجیں ایک طرف تھیں اور مرہٹوں کا ٹیڑی دل دوسری طرف۔ اس لڑائی نے سنہ ۱۱۹۰ محمدی (۱۷۶۱ء) میں ایک ہی دن کے اندر فیصلہ کر دیا کہ ہندوستان چاہے مسلمانوں کا رہے یا نہ رہے، مگر مرہٹوں کا نہیں ہو سکتا۔ اس کے بعد بکسر کا قیامت خیز میدان گرم ہوا، جس میں انگریزوں کی باقاعدہ فوج ایک طرف تھی اور شجاع الدولہ کا لشکر کثیر ایک طرف۔ اس لڑائی نے جنگ پانی پت کے چار سال بعد سنہ ۱۱۹۳ محمدی (۱۷۶۴ء) میں چوبیس گھنٹے کے اندر اس بات کا تصفیہ کر دیا کہ ہندوستان اب مسلمانوں کا نہیں انگریزوں کا ہے۔

ان لڑائیوں سے پہلے شجاع الدولہ اگرچہ لکھنؤ ہی میں رہے، مگر بڑی بڑی پولیٹیکل مشغولیتوں اور فوجی اصلاحوں سے انھیں اتنی مہلت ہی نہ ملی کہ شہر کی ترقی و آرائش کی طرف توجہ کریں۔ انھوں نے قلعے بنوائے، گڑھیاں قائم کیں، فوجی سامان اور آلات جنگ کو فراہم کیا، اس کی فرصت نہ ملی کہ اپنے گھر کو درست اور اپنے شہر کو آراستہ کریں۔ بکسر کی لڑائی کے بعد جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں وہ فیض آباد میں جا کے اقامت گزیں ہو گئے، اس لیے لکھنؤ ان کی برکتوں سے محروم رہ گیا۔ سنہ ۱۲۰۴ محمدی (۱۷۷۵ء) میں انھوں نے سفر آخرت کیا اور نواب آصف الدولہ ان کے جانشین ہوئے۔

آصف الدولہ نے مسند حکومت پر قدم رکھتے ہی ماں سے ناراض ہو کے لکھنؤ کی راہ لی، اور یہی وہ زمانہ ہے جب سے دربار اودھ کی قوت فرمانروائی گھٹنے اور لکھنؤ کی ظاہری رونق بڑھنے لگی۔ بکسر کا میدان جیتنے کے بعد انگریزوں نے دربار اودھ میں دخل دہی کے بہت سے حقوق حاصل کر لیے تھے، جن کی بنا پر یہاں فوجی ترقیوں کی روک ٹوک کی جاتی، اور ہمیشہ غائر نظر سے اس بات کی نگرانی کی جاتی کہ حکومت اودھ کو پھر ایسی قوت نہ حاصل ہونے پائے کہ اس کی فوجیں دوبارہ انگریزی لشکر کے سامنے صف آرا ہو سکیں۔ تاہم شجاع الدولہ جب تک فیض آباد میں زندہ رہے فوجی اصلاح ہی میں مصروف رہے، اور رات دن اسی بات کی دھن تھی کہ جس طرح بنے اپنی قوت کو بڑھائیں۔ چنانچہ منشی فیض بخش اپنی "تاریخ فرح بخش" میں اسی زمانے کا چشم دید حال بیان کرتے ہیں کہ "جلدی بھرنے اور فیر کرنے کے اعتبار سے شجاع الدولہ کی فوج کی بندوقوں کے مقابلے میں انگریزی فوج کی بندوقیں کوئی وقعت نہ رکھتی تھیں۔"

لیکن آصف الدولہ کا عہد شروع ہوتے ہی یہ سب باتیں تشریف لے گئیں۔ انگریزوں نے بڑی ہوشیاری کے ساتھ اپنے دخل دہی کے حقوق کو بڑھانا شروع کیا، اور نہایت ہی دانائی سے آصف الدولہ کو اس بات پر آمادہ کر دیا کہ فوجی اصلاح کی طرف سے بے پروا ہو کے دوسرے مشاغل میں جی بہلائیں۔ آصف الدولہ کو خود بھی فوج کا زیادہ شوق نہ تھا۔ انھیں لٹانے اور مزے اڑانے کے لیے روپے کی ضرورت تھی، جو بغیر فوج کے موقوف کیے پوری نہ ہو سکتی تھی، اس لیے انھوں نے تھوڑی سی فوج رکھ لی، باقی سب کو معزول کر دیا، اور عیش و عشرت میں مصروف ہو گئے۔ وہ اپنے مغربی دوستوں کے اطاعت کیش دوست تھے، جو ان کے اشاروں پر چلتے اور ان کے مشوروں کے آگے کسی کی نہ سنتے۔

اس خلوص عقیدت کے صلے میں انگریزوں نے روہیلکھنڈ پر ان کا قبضہ کرا دیا۔ اپنی ماں بہو بیگم صاحبہ کے ستانے اور لوٹنے کے لیے جب انھوں نے انگریزوں سے مدد مانگی تو نہایت فیاضی کے ساتھ انھیں اخلاقی مدد دی گئی اور ان کی طرفداری کی گئی۔ لیکن اس پر بھی ان کے زمانے تک انھیں یا لکھنؤ کی رعایا کو بہت ہی کم محسوس ہو سکا کہ ہمارے نظم و نسق میں کسی بیرونی قوت کو دخل ہے، جس کی زیادہ تر وجہ یہ تھی کہ آصف الدولہ کی عام فیاضی اور عیش پرستی نے ساری رعایا کو بھی عیش پسند و عشرت طلب بنا دیا تھا، اور کسی کو موجودہ راحت و آرام کے آگے انجام پر غور کرنے کی ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی تھی۔

اس عیش پرستی کا نتیجہ یہ تھا کہ ظاہری صورت میں ان دنوں لکھنؤ کے دربار میں ایسی شان و شوکت پیدا ہو گئی جو کہیں اور کسی دربار میں نہ تھی، اور ایسا سامان عیش جمع ہو گیا تھا جو کسی جگہ نہ نظر آتا۔ ان دنوں شہر لکھنؤ ایسی رونق پر تھا کہ ہندوستان ہی نہیں شاید دنیا کا کوئی شہر لکھنؤ کے اوج و عروج کا مقابلہ نہ کر سکتا ہوگا۔ شجاع الدولہ جو روپیہ فوج اور جنگی تیاریوں میں صرف کرتے تھے اسے آصف الدولہ نے اپنی عیش طلبی کے ذوق اور شہر کی آرائش و خوشحالی میں صرف کرنا شروع کر دیا، اور چند ہی روز کے اندر ساری دنیا کی دھوم دھام اپنے یہاں جمع کر لی۔ ان کا حوصلہ بس یہی تھا کہ نظام حیدر آباد ہوں یا ٹیپو سلطان، کسی دربار کا کر و فر اور کسی کی شوکت و حشمت میرے دربار سے زیادہ نہ ہو سکے۔

اپنے بیٹے وزیر علی خان کی شادی میں انھوں نے ایسا حوصلہ دکھایا کہ برات کا تزک و احتشام تاریخ ارض کے تمام تکلفات سے بڑھ گیا۔ برات کے جلوس میں بارہ سو ہاتھی تھے۔ دولہا جو شاہی خلعت پہنے تھا اس میں بیس لاکھ کے جواہرات ٹنکے ہوئے تھے۔ محفل طرب کے لیے دو عظیم الشان اور پرتکلف خیمے بنوائے گئے، جن میں ہر ایک ۶۰ فٹ چوڑا، ۱۲۰۰ فٹ لمبا اور ۶۰ فٹ بلند تھا، اور ایسا عمدہ، نفیس اور قیمتی کپڑا لگایا گیا تھا کہ ان دونوں کی تیاری میں سلطنت کے دس لاکھ روپے صرف ہو گئے۔

انھوں نے دریا کنارے مچھی بھون کے مغرب طرف دولت خانہ، رومی دروازہ اور اپنا یکتائے روزگار امام باڑہ تعمیر کرایا۔ سنہ ۱۲۱۳ محمدی (۱۷۸۴ء) میں اودھ میں قحط پڑ گیا تھا، اور شرفائے شہر تک فاقہ کشی میں مبتلا تھے۔ اس نازک موقع پر رعایا کی دستگیری کے لیے امام باڑے کی عمارت چھیڑ دی گئی۔ چونکہ شریف لوگ دن کو مزدوری کرنے میں اپنی بے عزتی خیال کرتے تھے، اس لیے تعمیر کا کام دن کی طرح رات کو بھی جاری رہتا، اور غریب و فاقہ کش شرفائے شہر رات کے اندھیرے میں آ کے مزدوروں میں شریک ہو جاتے اور مشعلوں کی روشنی میں کام کرتے۔ اس عمارت کو نواب نے جیسے خلوص عقیدت اور جوش دینداری سے بنوایا تھا ویسے ہی خالص اور سچے ولی جوش سے لوگوں نے تعمیر بھی کیا۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ایسی نفیس اور شاندار عمارت بن کے تیار ہو گئی جو اپنی نوعیت میں بے مثل اور نادر روزگار ہے۔ اس کا نقشہ بنانے کے لیے بڑے بڑے مشہور مہندس اور معمار بلائے گئے، اور سب نے کوشش کی کہ ہمارا نقشہ دوسروں کے مجوزہ نقشے سے بڑھ جائے، مگر کفایت اللہ نام ایک بے مثل زمانہ معمار کا نقشہ پسند کیا گیا، اور اسی کے مطابق عمارت بننا شروع ہو گئی، جو ۱۶۷ فٹ لمبی، ۵۲ فٹ چوڑی ہے۔ اینٹ اور نہایت اعلیٰ درجے کے چونے سے یہ عمارت بنائی گئی، جس میں فرش سے چھت تک لکڑی کا نام نہیں ہے۔ اس عمارت کو شاہان مغلیہ کی سنگین عمارتوں سے کسی قسم کا تعلق نہیں ہے۔ لکھنؤ میں اس کثرت سے سنگ مرمر دستیاب نہیں ہو سکتا تھا، لیکن امام باڑے اور آصف الدولہ کی دوسری عمارتوں کو دیکھیے تو ایک نئی خوشنمائی اور نرالی عظمت و شان رکھتی ہیں۔ امام باڑے کے لداؤ کی چھت جو کڑے دے کے بنائی گئی ہے اتنی بڑی ہے کہ اتنی بڑی لداؤ کی چھت ساری دنیا میں کہیں نہیں ہے، اور اسی وجہ سے یہ بھی دنیا کی عجوبہ روزگار چیزوں میں میں شمار کی جاتی ہے۔

آصف الدولہ کی عمارتوں پر یورپ کی عمارتوں کا ذرا بھی اثر نہ تھا۔ وہ اپنی نوعیت میں خالص ایشیائی ہیں، جن میں نمائشی نہیں اصلی و حقیقی شان و شوکت پائی جاتی ہے۔ نواب آصف الدولہ کے بعد یہ عمارتیں کس مپرسی میں پڑی رہیں۔ غدر کے بعد انگریزوں نے ان پر قبضہ کر کے گرد و پیش کے مکانوں کو منہدم کر دیا، اور سوا اس جانب کے جدھر دریا ہے باقی تینوں طرف میدان کر کے امام باڑے کو قلعہ اور رومی دروازے کو اس کا پھاٹک بنا لیا۔ اس زمانے میں اس امام باڑے میں گورے رہتے تھے۔ اس کے بڑے ہال میں سلح خانہ تھا، اور اس کے فرش پر بڑی بڑی توپیں دوڑتی پھرتی تھیں، مگر نہ کبھی زمین کھدی نہ در و دیوار کی کوئی چپپڑ اکھڑی۔ اب سرکار انگریزی نے امام باڑے کو چھوڑ کے پھر مسلمانوں کے حوالے کر دیا ہے۔ اس کی مسجد میں ایک مجتہد صاحب نماز پڑھاتے ہیں، اور امام باڑے میں تعزیہ داری ہوتی ہے۔

نواب آصف الدولہ کی عمارتوں کی مضبوطی کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ انھیں تعمیر ہوئے اگرچہ سوا سو برس سے زیادہ کی مدت گزر گئی، مگر آج تک اسی عظمت و شکوہ اور اسی مضبوطی و پائداری سے اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ نہ کوئی اینٹ اپنے مقام سے ہٹتی ہے اور نہ کسی جگہ چونے نے اینٹوں کو چھوڑا ہے۔ بخلاف اس کے دیگر شاہان اودھ نے کروروں روپیہ صرف کر کے جو عمارتیں بعد کو بنوائیں وہ قومی و ملکی وضعداری کے مفقود ہو جانے کے علاوہ نہایت کمزور ہیں، اور اگر وقتاً فوقتاً مرمت نہ ہوتی رہتی تو آج تک کب کی منہدم ہو چکی ہوتیں۔

آصف الدولہ امام باڑے اور مچھی بھون کے متصل اپنے محل "دولت خانے" میں رہتے تھے۔ شہر کے باہر اور دریا پار ہجوم خلائق سے دور اور دنیوی جھگڑوں سے الگ رہ کے مصروف عیش ہونے کے لیے بیباپور کا محل بنوایا۔ اکثر جب وہ سیر و شکار کے لیے جاتے تو اسی مکان میں قیام کرتے۔ اسی طرح چنہٹ میں ایک پرفضا و نزہت بخش مکان، اور چار باغ اور عیش باغ میں کوٹھیاں بنوائیں۔ اور اسی زمانے میں ٹکیت گنج میں اور اس کے متصل اصطبل، پھر محلہ وزیر گنج قائم ہوا، جو آصف الدولہ کے بیٹے وزیر علی خان کی قیام گاہ ہونے کے باعث انھیں کی طرف منسوب ہوا، اور انھیں کی یادگار ہے۔

اب لکھنؤ میں حاکم اور فرمانروا کے مستقل طور پر سکونت پذیر ہو جانے کی وجہ سے عام خلقت کا رخ لکھنؤ کی طرف پھر گیا۔ جو لوگ شجاع الدولہ کے زمانے میں فیض آباد میں بس گئے تھے انھوں نے فیض آباد کو چھوڑ چھوڑ کے لکھنؤ میں آ کے بسنا شروع کیا۔ دوسری طرف دہلی کے لوگ اپنے وطن کو خیرباد کہہ کے سیدھے لکھنؤ میں آتے تھے، اور پھر واپس جانا نہ نصیب ہوتا تھا۔ خلقت کے اس ہجوم نے نئے محلے آباد کرنا شروع کر دیے، اس لیے کہ باہر کے آنے والوں میں سے جسے جہاں جگہ مل جاتی آباد ہو جاتا، اور سیکڑوں نئے محلے آباد ہوتے چلے جاتے۔

چنانچہ آغا میر کی ڈیوڑھی، فتح گنج، رکاب گنج، نخاس، دولت گنج، بیگم گنج، نواب گنج، خانساماں کا احاطہ (جسے نواب آصف الدولہ کے ایک خانگی داروغہ نے آباد کیا، اور افتتاح کی تقریب میں خود انھیں بلایا)، ٹکیت گنج، ٹکیت رائے کا بازار (جو وزیر اعظم مہاراجہ ٹکیت رائے کی جانب منسوب ہیں)، ترمنی گنج، ٹکری یا ٹکی حسین الدین خان کی چھاؤنی، حسن گنج، آذلی، بھوانی گنج، بالک گنج، کشمیری محلہ، صورت سنگھ کا احاطہ، نواز گنج، تحسین گنج، خدا گنج، نگریا (جس کی نواب آصف الدولہ کی ماں بہو بیگم صاحبہ نے اسی دن بنیاد ڈالی جس دن دریا پار خود انھوں نے علی گنج کی بنیاد رکھی تھی)، عنبر گنج، محبوب گنج، توپ دروازہ، خیالی گنج، جھاؤ لال کا پل (ان دونوں محلوں کے بانی راجہ جھاؤ لال سلطنت اودھ کے وزیر خزانہ تھے)، یہ سب وہ محلے ہیں جو عہد آصفی میں بسے اور تعمیر ہوئے۔ اور انھیں دنوں دریا کے پار حسن رضا خان نے حسن گنج بسایا۔

نواب آصف الدولہ کی فیاضیوں کی خاص و عام میں شہرت تھی، اور دور دور کے شہروں میں ان کی داد و دہش کا تذکرہ ہو رہا تھا۔ لوگ اٹھتے بیٹھتے عزت و محبت کے ساتھ ان کا نام لیتے، اور ان کے تمام ذاتی عیوب فیاضی کے دامن میں چھپ کے نظروں سے غائب ہو گئے تھے، اور عوام کو نواب کی صورت میں ایک عیش پرست فرمانروا نہیں بلکہ ایک بے نفس اور درویش صفت ولی نظر آتا تھا۔ ہندو دکاندار آج تک صبح کو آنکھ کھلتے ہی جوش عقیدت سے کہتے ہیں: "یا آصف الدولہ ولی!"

اسی زمانے میں جنرل کلاڈ مارٹن نام ایک بہت بڑا دولتمند فرانسیسی تاجر لکھنؤ میں آ کے رہ پڑا تھا۔ اس نے ایک نہایت ہی عالیشان کوٹھی کا نقشہ بنا کے نواب آصف الدولہ کے ملاحظے میں پیش کیا۔ نواب نے اسے اس قدر پسند کیا کہ اس کی قیمت میں دس لاکھ اشرفیاں دینے کو تیار ہو گئے۔ بیع کا معاہدہ تکمیل کو نہیں پہنچنے پایا تھا کہ نواب آصف الدولہ نے سفر آخرت کیا، اور عمارت ہنوز تکمیل کو نہیں پہنچی تھی کہ خود مسیو مارٹن دنیا سے رخصت ہو گئے۔ انھوں نے چونکہ دولت بے پایاں چھوڑی تھی اور وارث کوئی نہ تھا، اس لیے مرتے وقت وصیت کر دی کہ میری لاش اسی کوٹھی کے اندر دفن کی جائے، تاکہ میرے بعد اسے حکمرانان اودھ ضبط نہ کر سکیں۔ اس عمارت کا نام انھوں نے کانسٹنٹینیا (قسطنطنیہ) قرار دیا تھا، مگر عوام میں وہ آج کل "مارٹین صاحب کی کوٹھی" مشہور ہے اور دیکھنے کے قابل ہے۔ مرنے کے بعد وہ اسی کوٹھی میں دفن ہوئے۔ وہ مدرسہ آج تک جاری ہے، جس سے بہت سے طلبہ کو کھانا اور کپڑا ملتا ہے۔ مگر سنتے ہیں کہ مارٹن صاحب نے اس اسکول اور اس کے وظائف کو کسی مذہب اور قوم کے ساتھ مخصوص نہیں کیا تھا، بلکہ وصیت کی تھی کہ عیسائی، ہندو، مسلمان سب ہی یکساں طور پر اس سے فیض یاب ہو سکتے ہیں۔ لیکن اب یہ مدرسہ صرف یوروپین بچوں کے لیے مخصوص ہے۔ کسی ہندوستانی کو وظیفہ ملنا درکنار، اس کی تعلیم میں بھی شریک نہیں کیا جاتا۔ شاید یہ اس وجہ سے ہو کہ غدر کے زمانے میں جاہل و پرجوش بلوائیوں نے قبر کھود کے مسٹر مارٹن کی ہڈیاں نکال لیں اور انھیں ادھر ادھر پھینک دیا۔ انگریزوں کو بعد تسلط اتفاقاً ایک ہڈی مل گئی جو پھر اسی خاک میں دبا دی گئی۔ لیکن ان بلوائیوں کے فعل کے ذمہ دار عام ہندوستانی نہیں ہو سکتے۔

سنہ ۱۲۲۶ محمدی (۱۷۹۷ء) میں نواب آصف الدولہ نے سفر آخرت کیا، اور ان کی جگہ نواب وزیر علی خان مسند نشین ہوئے، جن کی شادی کی دھوم دھام کا حال ہم بتا چکے ہیں۔ مگر چار ہی مہینے میں ان سے ایسے بیہودہ اور قابل نفرت حرکات ظاہر ہوئے کہ اکثر لوگ ان سے ناراض تھے۔ خود بہو بیگم صاحبہ ان کے مقابل اپنے سوتیلے بیٹے یمین الدولہ نواب سعادت علی خان کو زیادہ پسند کرتی تھیں۔ ادھر اس خبر کی شہرت ہوئی کہ وزیر علی خان آصف الدولہ کے بیٹے ہی نہیں ہیں، کیونکہ آصف الدولہ کی نسبت بہتوں کا خیال تھا کہ پیدائشی عنین تھے۔

نواب سعادت علی خان آصف الدولہ کی مخالفت کے باعث ان کے زمانے میں مدتوں قلمرو سے باہر اور دور رہتے تھے۔ مدتوں کلکتے میں رہے، اور ایک زمانۂ دراز تک بنارس میں قیام رہا۔ وزیر علی خان کی نسبت یہ خیال قائم ہونے کے بعد قرعۂ انتخاب نواب سعادت علی خان پر پڑا۔ وہ بنارس سے لائے گئے، اور بیباپور کی کوٹھی میں خود گورنر جنرل بہادر نے دربار فرما کے وزیر علی خان کی معزولی اور نواب سعادت علی خان کی مسند نشینی کا فیصلہ کیا۔ وزیر علی خان فوراً گرفتار کر کے بنارس بھیج دیے گئے، جہاں انھوں نے طیش میں آ کے مسٹر چیری کو مار ڈالا، اور اس کی سزا میں گرفتار کر کے چنار گڑھ بھیجے گئے اور وہیں مرے۔ ان کی مصیبتوں اور سرگردانیوں کا ایک بڑا بھاری قصہ مشہور ہے، جس کا یہ مختصر مضمون متحمل نہیں ہو سکتا۔

Que vous laisse ce chapitre ?

Connectez-vous pour réagir

Discussion

Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.

Ce chapitre vous a plu ? Partagez-en une ligne.