Urdu in Translation
Search

Chapter 4 of 56

Saadat Khan Burhan-ul-Mulk and Safdar Jang

سعادت خان برہان الملک اور صفدر جنگ

Abdul Halim Sharar

Script
Size

(۳)

نواب سعادت خان برہان الملک کے خاندان کے متعلق اسی قدر بتا دینا کافی ہے کہ میر محمد نصیر نام نیشاپور کے ایک سید زادے، جن کا سلسلۂ نسب امام موسیٰ کاظم سے ملتا ہے، سنہ ۱۱۳۵ محمدی (۱۷۰۶ء) عہد بہادر شاہ میں وارد ہندوستان ہوئے۔ ان کے بڑے بیٹے میر محمد باقر ساتھ آئے تھے، جنھوں نے یہاں شادی کر لی، اور باپ بیٹوں نے ناظم بنگالہ کے زیر حمایت عظیم آباد پٹنہ میں سکونت اختیار کی۔ محمد باقر کو ہندوستان کی بی بی سے خدا نے ایک بیٹا دیا، جو بعد کو شیر جنگ کے معزز لقب سے مشہور ہوا۔

میر محمد نصیر کے آنے کے دو سال بعد ان کے چھوٹے بیٹے میر محمد امین بھی نیشاپور سے ہندوستان میں آ گئے۔ عظیم آباد پہنچے تو سنا کہ والد نے سفر آخرت کیا۔ اور اب دونوں بھائی میر محمد باقر اور میر محمد امین دہلی کو روانہ ہوئے، جہاں پہنچ کے میر محمد امین کو شاہزادوں کی جاگیر کا ٹھیکہ مل گیا۔ اس میں انھوں نے ایسی لیاقت، مستعدی اور کارگزاری دکھائی کہ تمام لوگوں میں شہرت ہو گئی۔ اقبال برسر یاری تھا۔ چند ہی روز بعد دربار شاہی کے معزز امیروں اور منصبداروں میں شامل ہو گئے، پھر صوبہ دار اکبر آباد کی بیٹی سے نکاح ہو گیا، اور اس اعلیٰ طبقۂ امرا میں شمار کیے جانے لگے جس پر سلطنت کی ذمہ داری کی خدمتوں کے لیے انتخاب کی نظریں پڑتی تھیں۔

ان دنوں دہلی میں سادات بارہہ کا زور تھا، جن سے رعیت تو رعیت خود بادشاہ سلامت ڈرتے تھے۔ محمد امین نے ان کو قتل کرا کے سیدوں کا زور ہمیشہ کے لیے توڑ دیا، اور لڑائی میں ایسی شجاعت دکھائی کہ دربار شاہی سے منصب ہفت ہزاری اور سات ہزار سواروں کی سرداری کے ساتھ "برہان الملک بہادر جنگ" کا خطاب عطا ہوا، اور اسی وقت اکبر آباد کے صوبہ دار مقرر ہوئے۔ اس کے بعد بادشاہی خواصوں کی داروغگی عطا ہوئی جو بڑا معزز عہدہ تھا۔ اس کے تھوڑے دنوں بعد وہ صوبۂ اودھ کے صوبہ دار، اور اس کے ساتھ ہی بادشاہی توپ خانے کے داروغہ مقرر ہوئے۔ آدمی ہوشیار اور نہایت ہی بیدار مغز، اور اس کے ساتھ بڑے بہادر اور شجاع تھے۔ شاہی توپخانے کو اپنے ہاتھ میں لے کے انھوں نے ایسی زبردست قوت پیدا کر لی جیسی ان دنوں سارے ہندوستان میں کسی کو نصیب نہ تھی۔ اس زمانے میں کوڑہ کے زمیندار بھگونت سنگھ نے سلطنت سے سرتابی کر کے بڑا زور باندھ رکھا تھا، اور کئی افسر جو اس کی سرکوبی کو گئے اس کے ہاتھ سے مارے جا چکے تھے۔ آخر برہان الملک اس مہم پر مامور ہوئے اور یلغار کرتے ہوئے پہنچے۔ بلونت سنگھ نے چالاکی سے ان کو گھیر لیا، اور لڑائی کا رنگ ایسا بگڑا نظر آیا کہ بڑے بڑے بہادروں کے ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ مگر برہان الملک نے ایسی جوانمردی سے مقابلہ کیا کہ دیر تک دشمنوں کے نرغے میں ان کی لمبی سفید نورانی ڈاڑھی چمکتی اور رعب ڈالتی رہی۔ تھوڑی دیر میں بھگونت سنگھ ان کے تیر کا نشانہ ہوا، اور دشمن بھاگ کھڑا ہوا۔

برہان الملک کی دوسری مہم اس سے بھی زبردست تھی۔ ان دنوں مرہٹوں کا ہندوستان میں بڑا زور تھا۔ انھوں نے تاجدار دہلی سے چوتھ مقرر کرا لی تھی، اور بڑے بڑے سورما ان کے نام سے کانپتے تھے۔ برہان الملک نے مرہٹوں کو زبردست فوج کے ساتھ جا کے ایسی سخت شکست دی کہ ان کے حواس جاتے رہے، نوک دم بھاگے، اور برہان الملک نے تعاقب شروع کیا۔ واقعات تاریخ دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر اس موقع پر برہان الملک زبردستی نہ روک دیے جاتے تو وہ بڑھ کے مرہٹوں کا استیصال کر دیتے، اور سلطنت مغلیہ اپنے اگلے عہد شباب کی طرح سارے ہندوستان کے سیاہ و سفید کی مالک ہو جاتی۔ مگر اس بدنصیب زوال پذیر سلطنت کو مٹنا ہی تھا۔ درباریوں کی سازش اور مقربین دربار کے حسد نے برہان الملک کی رفتار کو رکوا دیا۔

اس بات نے برہان الملک کو یقین دلا دیا کہ بادشاہ میں اپنے نیک و بد کے سوچنے کی صلاحیت نہیں، اور اہل دربار بد دیانت و خود غرض ہیں۔ فوراً مرہٹوں سے صلح کر لی، پھر ارادہ کیا کہ اپنے صوبے میں جا کے قیام کریں اور سب سے الگ ہو کے اپنے علاقے کو مضبوط اور منتظم بنا دیں۔ غرض برہان الملک نے دل میں سمجھ لیا کہ اب سلطنت مغلیہ پنپنے والی نہیں ہے، اپنا صوبہ لے کے الگ ہو جانا ہی مناسب ہے، اور دربار دہلی کو اس کی قسمت پر چھوڑ دینا چاہیے۔

لکھنؤ میں جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں شیخزادوں کا زور تھا۔ انھوں نے اپنی عادت کے موافق انھیں بھی روکا، مگر برہان الملک حکمت عملی سے داخل ہو گئے اور نکسیر بھی نہ پھوٹنے پائی۔ برہان الملک کے لکھنؤ میں داخل ہونے کے متعلق دو روایتیں مشہور ہیں۔ ایک یہ کہ وہ برابر بڑھتے چلے آئے، یہاں تک کہ اکبری دروازے پر روک دیے گئے۔ چونکہ وہ سابق کے تمام صوبہ داروں کے خلاف تجربہ کار، متین اور سنجیدہ شخص تھے، ٹھہر گئے اور محمود نگر میں پڑاؤ ڈال دیا۔ دو ایک دن کے بعد شیخزادوں کی دعوت کی، ان سے بڑی خاطر تواضع سے پیش آئے، لیکن جس وقت غافل شیخزادے الوان نعمت کا مزہ لوٹنے میں مصروف تھے، شاہی فوج خاموشی کے ساتھ چوک میں داخل ہو رہی تھی، جو برابر بڑھتی ہی چلی گئی، یہاں تک کہ مچھی بھون کے پاس جا پہنچی۔

دوسری روایت یہ ہے کہ محمد خان بنگش نے برہان الملک کو بتا دیا تھا کہ لکھنؤ کے شیخزادے بڑے شوریدہ پشت ہیں، ان سے پیش پانا آسان نہیں، مگر قرب و جوار کے دوسرے شیوخ ان کے خلاف ہیں، آپ ان لوگوں سے مدد لیجیے اور انھیں کی مدد سے لکھنؤ والوں کو زیر کیجیے۔ چنانچہ برہان الملک نے کاکوری میں قیام کر کے شیوخ کاکوری کو اپنے موافق بنا لیا۔ انھیں کی مدد اور رہبری سے آگے بڑھے، اور یہ سن کے کہ محمود نگر اور اکبری دروازے میں مقابلے کا سامان کیا گیا ہے، اصلی راستے سے کترا کے مغرب کی طرف کٹ گئے۔ گؤ گھاٹ کے پاس دریا کے پار اترے، اور پار کی طرف سے آہستہ آہستہ آ کے اچانک مچھی بھون پر آ پڑے۔ غرض جو صورت ہو، انھوں نے بغیر اس کے کہ کوئی مزاحم ہو قلعے پر قبضہ کر لیا۔

جب مچھی بھون پر قبضہ ہو گیا تو پھر کون دم مار سکتا تھا؟ شیخزادوں کے تمام معزز لوگوں نے حاضر ہو کے عاجزی سے سر جھکا دیا۔ برہان الملک ہاتھی پر سوار ہو کے شیخن دروازے میں داخل ہوئے، اور اس تلوار کو جو بڑے بڑے بہادروں سے سلام لے چکی تھی اپنی تلوار سے کاٹ کے گرا دیا۔ پھر شیخزادوں سے کہا: "ہمارے قیام کے لیے مچھی بھون خالی کر دو۔" اس میں انھوں نے لیت و لعل کرنا چاہی مگر نہ چلی۔ آخر ایک ہفتے کی مہلت دی گئی، اور اس مدت کے اندر شیوخ جو کچھ اسباب لے جا سکے اٹھا لے گئے، اور جو رہ گیا اس پر برہان الملک کے سپاہیوں نے قبضہ کیا۔ قلعے میں جا کے رہنے سے پہلے اس کے پاس ہی جہاں خیمے ڈال کے وہ رہے تھے، ایک نوبت خانہ تعمیر کرا دیا، جس میں دربار اودھ کے آخر عہد تک روزانہ پنج وقتہ نوبت بجتی تھی۔

اس کے بعد برہان الملک اجودھیا میں گئے اور دریا کنارے وہ بنگلہ بنوایا جس کا حال ہم بیان کر چکے ہیں۔ لیکن وقتاً فوقتاً لکھنؤ میں آتے اور قیام کرتے تھے، کیونکہ صوبے کا مستقر یہی شہر تھا۔ ان کے زمانے میں یہاں کئی نئے محلے آباد ہوئے۔ اگرچہ یہ سب محلے ان کے مغل سرداران فوج کے پڑاؤ کے مقامات تھے، جہاں مستقل سکونت کے لیے لوگوں نے مکان بنانا شروع کر دیے: سید حسین خان کا کٹرہ، ابو تراب خان کا کٹرہ، خدایار خان کا کٹرہ، بزن بیگ خان کا کٹرہ، وفا بیگ خان کا کٹرہ، محمد علی خان کا کٹرہ، باغ مہانرائن، سرائے معالی خان، اور اسمٰعیل گنج (جو مچھی بھون کے مشرق طرف تھا، اب کھد گیا)، سب اسی زمانے کے محلے یا برہان الملک کے سرداران فوج کی لشکرگاہیں ہیں۔

نواب برہان الملک چھ ہی برس اودھ اور لکھنؤ میں رہنے پائے تھے کہ سنہ ۱۱۶۷ محمدی (۱۷۳۸ء) میں نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کر دیا، اور وہ نہایت ہی تاکید کے ساتھ دہلی میں بلائے گئے۔ اس پرفتن زمانے میں جو کچھ واقعات گزرے ان کو لکھنؤ سے تعلق نہیں۔ لکھنؤ میں اپنا نائب اور قائم مقام بنا کے وہ اپنے بھانجے اور داماد صفدر جنگ کو چھوڑ گئے تھے۔ نادر دہلی کو لوٹ چکا تھا اور قتل عام کرا چکا تھا، مگر ابھی وہیں تھا کہ نواب برہان الملک نے دہلی میں وفات پائی۔ ان کے بھتیجے شیر جنگ نے نادر شاہ سے سفارش اٹھوائی کہ نواب مرحوم کے بعد اودھ کی صوبہ داری انھیں دی جائے۔ لیکن راجہ لچھمی نرائن نے، جو برہان الملک کے معتمد عہدہ داروں میں تھا، نادر کی خدمت میں اس مضمون کی ایک عرضداشت پیش کر دی کہ "نواب برہان الملک شیر جنگ سے خوش نہ تھے، اور اسی لیے انھوں نے اپنی بیٹی ان کو چھوڑ کے صفدر جنگ کو دی، جو ان کی نیابت کرتے تھے اور اس وقت بھی ان کی طرف سے وہاں موجود ہیں۔ برہان الملک کے مال و اسباب کی مالک سرکار ہے، جسے چاہے عطا کرے، اس لیے کہ کوئی ورثہ نہیں ہے۔ یہ بھی عرض ہے کہ صفدر جنگ بردبار، خدا ترس، لائق اور وعدے کے سچے ہیں، اور سپاہ ان سے خوش ہے۔ قطع نظر اس کے، حضور کے لیے برہان الملک نے دو کروڑ روپے کی رقم کا وعدہ کیا تھا، اس کے ادا کرنے کا انتظام نواب صفدر جنگ نے کر لیا ہے۔ جس وقت حکم ہو حاضر کیے جائیں۔ ان وجوہ سے امید ہے کہ حضور انھیں کی سفارش فرمائیں گے۔" یہ عرضداشت دیکھتے ہی نادر شاہ نے صفدر جنگ کے لیے محمد شاہ سے خود ہی خلعت صوبہ داری لے لیا، اور اپنے ایک مصاحب اور دو سو سواروں کے ساتھ اودھ میں صفدر جنگ کے پاس بھیجا۔ یوں خلعت صوبہ داری پہن کے صفدر جنگ نے وہ دو کروڑ کا نذرانہ نادر کے پاس بھجوا دیا، اور اپنے علاقے پر حکومت کرنے لگے۔

صفدر جنگ کا پورا نام مرزا مقیم ابو المنصور خان صفدر جنگ تھا۔ گو ان میں برہان الملک کی سی سچی بہادری، سادگی، راست بازی اور جفاکشی نہ تھی، مگر نہایت فیاض، بلند حوصلہ، رحمدل، رعایا پرور اور منتظم تھے۔ شہر سے تین میل کی مسافت پر انھوں نے قلعۂ جلال آباد تعمیر کرایا، اور مچھی بھون کے اندر پنج محلے کی جو قدیم عمارت تھی اسے بھی شیخزادوں سے لے لیا، اور اس کے عوض میں دوگانواں میں ۷۰۰ ایکڑ زمین شیخزادوں کو رہنے اور بسنے کے لیے عطا کی، جس سے اگرچہ شیخزادوں پر ظلم ہوا مگر لکھنؤ کی آبادی کو وسعت اور ترقی حاصل ہوئی۔ مچھی بھون کو صفدر جنگ نے از سر نو تعمیر کرایا اور اسے بہت درست کیا۔

لیکن صفدر جنگ پانچ ہی برس اپنے صوبے میں رہنے پائے تھے کہ دہلی میں ان کی طلبی ہوئی، اور راجہ نول رائے کو اپنی نیابت پر لکھنؤ میں چھوڑ کے وہ دہلی چلے گئے۔ نول رائے علم دوست، وقت کا پابند، جفاکش، بہادر اور بہت بڑا منتظم تھا، اور اس کے ساتھ اسے خدا نے اپنے آقا کی سی اولو العزمی اور فیاضی بھی دی تھی۔ اس نے ارادہ کیا کہ مچھی بھون کے سامنے دریا پر ایک پل تعمیر کرے۔ پایوں کی بنیاد ڈالنے کے لیے گہرے کنوئیں کھدوائے، لیکن پائے بننا شروع نہیں ہوئے تھے کہ اپنے آقا کی طلب پر اسے احمد خان بنگش کے مقابلے کے لیے جانا پڑا۔ اس مہم پر وہ بڑی زبردست فوج لے کے گیا، مگر مارا گیا، اور پل کا کام جو چھڑا تھا ناتمام پڑا رہ گیا۔

احمد خان بنگش اس زمانے کا بہادر ترین شخص تھا۔ اس کے مقابلے کے لیے برہان الملک کی ضرورت تھی۔ صفدر جنگ اس کے حریف مقابل نہ ہو سکتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ احمد خان کی اور اس کے ساتھ افاغنہ کی قوت ترقی کرتی گئی۔ صفدر جنگ نے لاکھ ہاتھ پاؤں مارے، خود شہنشاہ دہلی تک کو اس کے مقابلے پر لا کے کھڑا کر دیا، مگر اس کا کچھ نہ بگاڑ سکے۔ اور اس کے اشارے سے حافظ رحمت خان نے اودھ کے شہروں اور قصبوں میں لوٹ مار شروع کر دی، خیر آباد پر قبضہ کر لیا، اور خود احمد خان بنگش کا بیٹا محمود خان فوج لے کے چلا کہ لکھنؤ پر قبضہ کرے۔ سنہ ۱۱۷۹ محمدی (۱۷۵۰ء) میں پٹھانوں نے ملیح آباد میں اپنا تھانہ قائم کیا، اور سنہ ۱۱۸۰ (۱۷۵۱ء) میں محمود خان کا کوئی عزیز بیس ہزار فوج لے کے لکھنؤ کی طرف چلا، شہر کے باہر پڑاؤ ڈالا، اور اپنا ایک کوتوال مقرر کر کے شہر میں بھیجا۔ صفدر جنگ کے آدمیوں سے شہر خالی تھا۔ جو چند تھے بھی پٹھانوں کے آنے کی خبر سن کے بھاگ کھڑے ہوئے، اور پٹھانوں کے کوتوال نے شہر میں آ کے بے اعتدالیاں شروع کر دیں۔

ان دنوں شیخزادگان لکھنؤ میں سب سے زیادہ سربرآوردہ شیخ معز الدین تھے۔ وہ افاغنہ کے سردار سے شہر کے باہر جا کے ملے۔ اسی وقت کسی نے اس سے جا کے شکایت کی کہ شہر والے آپ کے کوتوال کی تحقیر و توہین کرتے ہیں اور کوئی اس کا حکم نہیں مانتا۔ شیخ معز الدین بولے: "کیا مجال ہے کہ کوئی ایسی گستاخی کرے؟ میں جاتا ہوں، مفسدوں کو سزا دوں گا۔" یہ کہہ کے واپس آئے اور تمام بھائی بندوں کو بلا کے کہا: "پٹھانوں کے قول و فعل کا اعتبار نہیں۔ بہتر یہ ہے کہ ہم نواب صفدر جنگ کا ساتھ دیں، اور مقابلہ کر کے پٹھانوں کو یہاں سے نکال دیں۔" اس کے بعد شیخ معز الدین نے گھر کا زیور بیچ کے فوج جمع کی، اور سارے شیخزادوں کو لے کے کوتوال پر حملہ کیا۔ وہ اپنی جان لے کے بھاگا، اور شیخ نے کسی مغل کو درباری لباس پہنا کے اپنے مکان میں بٹھا دیا، اور منادی کرا دی کہ صفدر جنگ نے اپنی طرف سے اس مغل کو کوتوال بنا کے بھیجا ہے۔ اس کے ساتھ علی کے نام کا ایک سبز جھنڈا کھڑا کیا، اور لوگ اس کے نیچے آ آ کے جمع ہونے لگے۔

یہ حالات سن کے پٹھانوں نے حملہ کر دیا۔ شیخزادوں نے جان توڑ کے مقابلہ کیا اور اپنی پرانی شجاعت دکھا دی۔ پٹھان مقابلے کی تاب نہ لا سکے، پندرہ ہزار فوج کے ساتھ بھاگ گئے، اور موقع پا کے شیخزادوں نے پٹھانوں کو سارے ملک اودھ سے نکال باہر کیا۔

دو سال بعد جب احمد خان بنگش سے صلح ہو گئی تو سنہ ۱۱۸۲ محمدی (۱۷۵۳ء) میں نواب صفدر جنگ پھر لکھنؤ میں آئے، اور مہدی گھاٹ پر آ کے ٹھہرے۔ ایک خاص مکان اپنے رہنے کے لیے بنوایا اور سپاہ کی درستی میں مصروف ہوئے، لیکن اس کی مہلت نہ ملی۔ اسی سال سلطان پور کے قریب پاپڑ گھاٹ میں پڑاؤ تھا کہ انتقال کیا۔ لاش پہلے فیض آباد کی گلاب باڑی میں لے جا کے زمین کے سپرد کی گئی، پھر تھوڑے دنوں کے بعد ہڈیاں دہلی میں لے جا کے دفن کی گئیں، جن پر نہایت ہی عالیشان مقبرہ موجود ہے، اور سیاحان ارض اسے آج تک عبرت و عزت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔

What did this chapter leave with you?

Sign in to react

Discussion

No one has spoken yet. Say what this chapter stirred in you.

Enjoyed this chapter? Share a line from it.