
Chapitre 6 sur 56
Saadat Ali Khan and Ghazi-ud-Din Haidar
سعادت علی خان اور غازی الدین حیدر
(۵)
نواب سعادت علی خان نے سنہ ۱۲۲۷ محمدی (۱۷۹۸ء) میں تخت پر بیٹھتے ہی آدھا ملک انگریزوں کی نذر کر دیا۔ مشہور ہے کہ وہ سلطنت سے مایوس و نا امید بنارس میں پڑے ہوئے تھے کہ خبر پہنچی نواب آصف الدولہ بہادر نے سفر آخرت کیا اور مسند حکومت پر وزیر علی خان بیٹھ گئے۔ یہ سنتے ہی سلطنت کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں۔ اس قطعی یاس کے عالم میں تھے کہ بنارس کے کسی یوروپین حاکم نے آ کے پوچھا: "نواب صاحب! اگر آپ کو اودھ کی حکومت مل جائے تو انگریزی حکومت کو کیا دیجیے گا؟" جو چیز ہاتھ سے جا چکی ہو انسان کے دل میں اس کی قدر ہی کیا ہو سکتی ہے! بے اختیار زبان سے نکلا: "آدھا ملک انگریزوں کی نذر کر دوں گا۔" یہ وعدہ سن کے اس انگریز حاکم نے کہا: "تو آپ خوش ہوں، اور میں آپ کو خوشخبری سناتا ہوں کہ آپ ہی فرمانروائے لکھنؤ منتخب ہوئے ہیں۔" سعادت علی خان یہ مژدۂ غیر مترقبہ سن کے خوش تو ضرور ہوئے، مگر اپنے وعدے کا خیال آیا تو ایک سناٹے میں آ گئے، اور آخر تخت نشینی کے بعد اس وعدے کے ایفا میں انھیں اپنی آدھی قلمرو بانٹ دینا پڑی، جس کا کانٹا زندگی بھر ان کے دل میں کھٹکتا رہا۔
انگریزی تاریخوں میں ان سے وعدہ لیے جانے کا تو ذکر نہیں ہے، مگر اس کو سب تسلیم کرتے ہیں کہ نواب سعادت علی خان کو چونکہ انگریزوں نے تخت پر بٹھایا تھا اس لیے انھوں نے اپنا آدھا ملک شکریے کے طور پر انگریزوں کی نذر کر دیا۔ بہر تقدیر جو کچھ ہو، سعادت علی خان کی تخت نشینی کے وقت اودھ کی حکومت آدھی رہ گئی۔ لکھنؤ کے پرانے لوگوں میں مشہور ہے کہ اسی کوفت میں سعادت علی خان نے نہایت ہی کفایت شعاری سے کام لے کے اور تحصیل وصول میں بے انتہا مستعدی و بیدار مغزی ظاہر کر کے بائیس تئیس کروڑ روپیہ جمع کیا، اور انگلستان میں برٹش گورنمنٹ سے مراسلت کر کے یہ طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کی حکومت کا ٹھیکہ بعوض ایسٹ انڈیا کمپنی کے ان کو دے دیا جائے، اور معاہدے کی تکمیل ہونے ہی کو تھی کہ ان کے سالے نے کسی سازش میں شریک ہو کے زہر دے دیا، اور وہی مثل پوری ہوئی کہ "آن قدح بشکست و آن ساقی نماند"۔
یہ اور اسی قسم کے بیسیوں واقعات مشہور ہیں، جن کا ثبوت سوا افواہی روایتوں کے اور کچھ نہیں مل سکتا۔ لیکن اس میں شک نہیں کہ سعادت علی خان اس قدر جزرس اور منتظم واقع ہوئے تھے کہ ان کے سے حاکم نے قلمرو کا کوئی جزء اسامی سے نہ دیا ہوگا۔ دوسرے ان کے طرز عمل اور ان کی پالیسی میں ایک ایسی مضطربانہ ہوشیاری اور پراسرار بیقراری نظر آتی ہے کہ چاہے پتہ نہ چلے، مگر صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ کوئی بڑا کام کرنے والے تھے، اور ان کے تیور بہت ہی پرمعنی تھے۔
ملک کو بانٹ دینے کی وجہ سے انھیں سب سے بڑی مشکل یہ پیش آئی کہ سلطنت کی نصف آمدنی گھٹ گئی، اور آصف الدولہ مرحوم نے مصارف حد سے زیادہ بڑھا رکھے تھے۔ چنانچہ انھیں دربار کے مصارف گھٹانا پڑے، جو نہایت ہی مشکل چیز تھی۔ اس کوشش میں انھوں نے حسابات کی جانچ کی، ادنیٰ ادنیٰ رقموں پر نظر ڈالی، معافیوں اور جاگیروں کی نہایت سختی کے ساتھ چھان بین کی، دربار کے مصارف میں جہاں تک بنا کمی کی۔ غرض جس طرح ہو سکا بدنامیاں اٹھا کے اور لوگوں پر سخت بے رحمیاں کر کے انھوں نے سلطنت کی آمدنی بڑھائی اور خرچ گھٹایا۔
یہ کارروائیاں دیکھ کے ذی ہوش اور منصف مزاج لوگ تو سعادت علی خان کی لیاقت اور خوش تدبیری کے قائل ہو گئے، مگر عوام میں بے انتہا ناراضی پھیلی۔ ایک طرف ان معافی داروں اور جاگیرداروں کا گروہ شاکی تھا جن کی جائدادیں منضبط ہوئی تھیں؛ دوسری طرف وہ فضول اور از کار رفتہ ملازمین روتے پھرتے تھے جن کی جگہیں تخفیف میں آ گئی تھیں۔ اسی قدر نہیں، ملک میں ایک بڑا بھاری گروہ ان لوگوں کا بھی تھا جو وزیر علی خان کے طرفدار تھے، ان کو جائز اور سچا حقدار سلطنت خیال کر کے سعادت علی خان کو غاصب بتاتے تھے۔ غرض ملک میں ہزاروں دشمن تھے، جن سے خطرہ تھا کہ نواب کی جان پر حملہ نہ کر بیٹھیں۔ رعایا کے علاوہ فوج بھی نئے نواب سے نہایت ہی ناراض تھی۔ بے شمار فوج کا ٹیڑی دل جو نواب شجاع الدولہ کے عہد میں جمع تھا اس میں آصف الدولہ ہی کے زمانے سے سرکار انگریز بہادر کے مشوروں سے تخفیف شروع ہو گئی تھی، مگر آصف الدولہ کی فیاضیوں اور فضول خرچیوں نے بہلائے رکھا، اور شکایت کی آواز زیادہ نہیں بلند ہونے پائی۔ سعادت علی خان نے جب زیادہ تخفیف کی اور اس کے ساتھ جزرسی بھی اختیار کی تو ہر طرف ہائے ہائے پڑ گئی، اور جو تھا ان کی جان کو رو رہا تھا۔
نتیجہ یہ ہوا کہ ان کی جان کی حفاظت کے لیے سرکار انگریزی کو ضرورت معلوم ہوئی کہ انگریزی باضابطہ فوجی گارڈ خاص شہر کے اندر رکھا جائے، کیونکہ شہر کے مفسدوں اور سرکشوں کی سرکوبی کے لیے اور نیز امن و امان قائم رکھنے کی غرض سے ایک بیرونی زبردست قوت کا ہر وقت شہر میں موجود رہنا بہت ہی ضروری تھا، جس کی نسبت سنا جاتا ہے کہ نواب سعادت علی خان نے اس کو نہایت ہی ناگواری کے ساتھ منظور کیا۔
فرمانروایان اودھ نے اس سے پیشتر اپنے رہنے سہنے کے متعلق نہایت ہی سادگی ظاہر کی تھی۔ پہلے تین حکمرانوں یعنی نواب برہان الملک، نواب صفدر جنگ اور نواب شجاع الدولہ نے جن سادے مکانوں میں زندگی بسر کی وہ بھی ان کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ کرائے پر تھے۔ انھوں نے اپنا اصلی مکان یا تو میدان جنگ کو خیال کیا یا ساری مملکت کو، جس میں دورہ کرتے رہتے، اور ساری مملوکہ زمین کے ہر حصے کو اپنا مسکن و مکان تصور کرتے۔ نواب آصف الدولہ اگرچہ نہایت ہی مسرف تھے، عیاش و فضول خرچی میں بدنام تھے، مگر ان کے لیے بھی صرف ایک سادہ پرانی قطع کا یعنی پنج محلا کافی تھا، حالانکہ انھیں عمارت کا بڑا شوق تھا۔ اس سے زیادہ کیا ہوگا کہ بیس لاکھ روپے ایک امام باڑے اور مسجد کی تعمیر میں صرف کر دیے، اور اس سے زیادہ ہی رقم چوک، مختلف بازاروں، منڈیوں، پلوں اور سراؤں وغیرہ کی تعمیر میں خرچ کی۔ غرض پہلے تین فرمانرواؤں کا شوق تعمیر اگر قلعوں، گڑھیوں کی تعمیر اور فوجی سامان کے فراہم کرنے میں پورا ہوتا تھا، تو آصف الدولہ کا شوق دینداری کی عمارتوں یا نفع رسانی خلق اللہ کے کاموں میں۔ اس کے ساتھ عمارت کا قدیم مذاق بھی اب تک نبھتا چلا جاتا تھا۔ آصف الدولہ کے امام باڑے تک قدیم مذاق تعمیر کا مکمل ترین نمونہ ہیں۔ دہلی و آگرے میں شاہجہان بادشاہ کو اعلیٰ درجے کا سنگ رخام اور سنگ سرخ قریب کی کانوں میں مل گیا تھا، جس نے وہاں کی عمارتوں میں خاص قسم کی نفاست اور اعلیٰ درجے کی شان پیدا کرا دی۔ لکھنؤ میں پتھر کا ملنا غیر ممکن تھا، اور آگرے اور جے پور سے لانا اس قدر دشوار تھا کہ کسی کو منگوانے کی جرأت نہ ہو سکتی تھی۔ آصف الدولہ نے اینٹ اور چونے سے کام لیا اور ویسی ہی شانداری دکھا دی۔
نواب سعادت علی خان کو باوجود کفایت شعاری، جزرسی اور روپیہ جمع کرنے کی ہوس کے مکانوں اور عمارتوں کا شوق تھا، مگر افسوس ان کا یہ شوق کلکتے وغیرہ میں رہنے اور مختلف مقامات کی عمارتوں کے دیکھنے کی وجہ سے ایسا غارت ہو گیا تھا کہ ان کے عہد کی عمارتوں سے وہ پرانی خصوصیتیں جدا ہو گئیں، اور اس وقت سے گویا عمارت کا مذاق ہی بدل گیا۔
لکھنؤ میں اس انقلاب تعمیر کا اصلی باعث کچھ تو تخت نشینی سے پہلے نواب سعادت علی خان کی غریب الوطنی، خانہ بدوشی اور اقوام یورپ سے ملنا جلنا تھا، اور زیادہ تر یہ چیز تھی کہ جنرل مارٹن نے اپنے مذاق کی دو ایک کوٹھیاں یہاں بنوا کے ایک نئی قطع عمارت فرمانرواؤں کے سامنے پیش کر دی، جو بلحاظ مضبوطی کے ناقص اور باعتبار ضروریات زندگی کے نہایت ہی دلفریب تھی۔ جن عمارتوں کی حالت بالکل ان کھلونوں کی سی تھی جو بچوں کے ہاتھ میں دے دیے جاتے ہیں، اور روز ٹوٹتے اور روز خریدے جاتے ہیں۔ ناقدین یورپ تنقید کرتے وقت بڑے زور شور سے اعتراض کرتے ہیں کہ آصف الدولہ کے بعد والے فرمانروایان لکھنؤ کا مذاق عمارت بالکل بگڑ گیا تھا، اور ان کی تمام عمارتیں لڑکوں کے کھلونے یا لڑکیوں کے گھروندے ہیں۔ مگر ادھر توجہ نہیں کرتے کہ یہ مذاق بگاڑا کس نے؟ کہا جاتا ہے کہ یہاں کا قومی مذاق اس لیے بگڑ گیا کہ یہاں در اصل کوئی قوم ہی نہیں تھی، اور اس کا خیال نہیں کیا جاتا کہ یہاں کی قومیت کو کس نے بگاڑا، اور کس کی کرشمہ سازیوں نے لوگوں سے ان کی پرانی وضع چھڑا دی۔ سچ یہ ہے کہ "اے باد صبا این ہمہ آوردۂ تست"۔
سعادت علی خان نے پہلے کوٹھی فرحت بخش پچاس ہزار روپے پر جنرل مارٹن سے مول لی، اسی میں رہنا شروع کیا، اور اس کے متصل اور کئی مکان بنوائے۔ پھر وہاں سے قریب ہی صاحب رزیڈنٹ کی سکونت کے لیے ٹیڑھی کوٹھی تعمیر کی، جس کے کھنڈر ریزیڈنسی کے اندر پڑے ہوئے ہیں۔ اس کے بعد اپنے دربار کے لیے انھوں نے لال بارہ دری تعمیر کرائی، جس میں اب کتب خانہ ہے، اور ان دنوں قصر السلطان کے نام سے مشہور تھی۔ اس کے علاوہ دریا پار انھوں نے دل آرام نام ایک نئی کوٹھی تعمیر کی، اور اسی سلسلے میں ایک بلند ٹیکرے پر جو اب صدر یعنی لشکرگاہ لکھنؤ کے علاقے میں واقع ہوا ہے، اور جہاں سارے شہر، گرد کے میدانوں اور دریا کا دلکش منظر نظر کے سامنے ہو جاتا ہے، ایک خوبصورت کوٹھی تعمیر کی، اور دلکشا اس کا نام رکھا۔ اسی طرح ایک اور کوٹھی تعمیر کی جس کا نام حیات بخش قرار دیا، مگر وہ کوٹھی نواب سعادت علی خان کے بعد کے فرمانروایان اودھ کے استعمال میں نہیں رہی۔ اس میں غدر سے پہلے میجر بینک رہتے تھے، اور غدر کے بعد یہ معمول تھا کہ انگریزی گورنمنٹ کی طرف سے جو صاحب یوروپین اودھ کے چیف کمشنر مقرر ہو کے آتے اسی کوٹھی میں قیام کرتے۔
مذکورۂ بالا کوٹھیوں کے علاوہ نواب ممدوح نے مشہور عمارتیں منور بخش اور خورشید منزل بھی تعمیر کرائیں، اور چوپڑ کا اصطبل بھی انھیں کی یادگار رہے۔ مگر ان سب عمارتوں کی تعمیر میں پرانی وطنی عمارت کی وضع ترک کر دی گئی، اور یورپ سے آئی ہوئی نئی جدتیں اختیار کی گئیں۔ اور ظاہر ہے کہ اس بارۂ خاص میں لکھنؤ کا کوئی قدیم مکان ان نئی عالیشان عمارتوں کا مقابلہ نہ کر سکتا تھا جو خود دولت برطانیہ کے اثر اور اہتمام سے ہندوستان کے مختلف شہروں میں تعمیر ہو چکی ہیں یا ہو روز تعمیر ہوتی جاتی ہیں۔ غرض یہی زمانہ ہے جب سے لکھنؤ میں ان قدیم مذاق کی عمارتوں کا خاتمہ ہو گیا جو تاریخی وقعت رکھتی ہوں اور کسی خاص خوبی کے لحاظ سے سیاحوں کو اپنی طرف بلاتی ہوں۔
نواب سعادت علی خان نے لکھنؤ کے مغربی حصے میں ایک بڑا گنج بنوایا، اور اس کی آبادی و رونق کے لیے اس قدر اہتمام کیا کہ اس کے واسطے خاص قوانین وضع کیے گئے، اور تاجروں اور دکانداروں کو خاص قسم کے حقوق عطا کیے گئے۔ اس نے بڑی رونق پائی، اور آج تک باوجودیکہ شہر کی آبادی سے فاصلے پر اور بالکل الگ واقع ہوا ہے، مختلف چیزوں کی سب سے بڑی منڈی ہے، اور عالم نگر کا اسٹیشن صرف اسی کی وجہ سے روز بروز ترقی پاتا جاتا ہے۔
سعادت گنج کے علاوہ دوسرے بڑے بازار جو نواب ممدوح کے عہد میں قائم اور آباد ہوئے حسب ذیل ہیں: رکاب گنج (جو آج لوہے کی سب سے بڑی اور غلے وغیرہ کی ایک ممتاز منڈی ہے)، جنگلی گنج، مقبول گنج، مولوی گنج، گولا گنج اور رستوگی محلہ۔ موتی محل میں جو اصلی اور پرانی عمارت ہے وہ بھی نواب سعادت علی خان ہی کی بنوائی ہوئی ہے۔ یہ عمارت موجودہ احاطۂ موتی محل میں شمال کی طرف واقع ہے۔ اس میں نہایت ہی نفیس سفید گنبد تھا، جس میں کاریگر نے موتی کی سی آب و تاب پیدا کر دی تھی۔
سعادت علی خان اودھ کے تمام فرمانرواؤں سے زیادہ بیدار مغز و مدبر، اور اس کے ساتھ نہایت ہی کفایت شعار، جزرس، بلکہ بخیل خیال کیے جاتے ہیں۔ ملک کا انتظام انھوں نے غیر معمولی ہوشیاری اور خوبی و شائستگی سے کیا، اور اس میں ذرا شک نہیں کہ اگر ان کو آخر عہد تک پورا اطمینان نصیب ہو جاتا تو تمام گزشتہ بدنظمیاں اور خرابیاں دور ہو جاتیں، اور وہ ملک کی پوری پوری اصلاح کر لے جاتے۔ لیکن خرابی یہ ہوئی کہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ ان کے تعلقات اچھے نہیں رہے، یہاں تک کہ بعض اوقات ان کا دل تاج و تخت اور فرمانروائی و جہانبانی سے کھٹا ہو گیا تھا۔ انھیں باتوں سے عاجز آ کے انھوں نے آدھے سے زیادہ ملک سرکار عظمت مدار برطانیہ کے سپرد کر دیا، اور سمجھے کہ اب میں اپنے مقبوضہ علاقے میں بے خرخشہ و بے تردد حکومت کر سکوں گا۔ مگر افسوس کہ اب بھی ان کو اطمینان و چین نہ نصیب ہوا۔ جو ملک ان کے قبضے میں چھوڑا گیا تھا اس میں بھی جابجا انگریزی فوج کے کیمپ قائم کیے گئے، اور بڑی مقدار خاص لکھنؤ اور اس کے حوالی میں مقیم ہوئی، جس کی سنبھال دشوار تھی، اور اس کی تعداد کے زیادہ ہونے سے سلطنت پر سخت بار پڑ گیا تھا۔ اس کے مقابل انھیں اپنی بہت سی فوج گھٹا دینی پڑی۔ مگر باوجود ان افکار و ترددات کے انھوں نے جو جو اصلاحیں کیں بہت کچھ قابل تعریف ہیں۔ مگر سب سے عجیب یہ بات ہے کہ بازاروں کی ترقی اور تجارت کے فروغ کے ساتھ ان کے دربار میں باکمالوں اور قابل قدر لوگوں کا اتنا بڑا مجمع ہو گیا تھا کہ اس وقت ہندوستان کے اور کسی دربار میں ایسے صاحبان کمال نہ نظر آ سکتے تھے۔ ایسے لوگ اکثر اسی جگہ جمع ہوا کرتے ہیں جہاں کے رئیس معمول سے زیادہ فیاضی ظاہر کرتے ہوں۔ سعادت علی خان، جیسا کہ ہم بیان کر چکے ہیں، جزرس اور بخیل تھے، مگر اس بخل و کفایت شعاری کے ساتھ یہ صفت تھی کہ ان کی ذاتی قابلیت دوسرے باکمالوں کی لیاقت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جاتی تھی، اور اسی بات نے ان کے ہاتھوں سے لائق لوگوں کی بڑی بڑی قدریں کرا دیں، اور لکھنؤ پہلے سے زیادہ اہل کمال کا مرجع بن گیا۔ جو قابل آدمی جہاں ہوتا سعادت علی خان کی قدردانی کی شہرت سنتے ہی اپنے وطن کو خیرباد کہہ کے لکھنؤ کا رخ کرتا، اور یہاں آ کے ایسا آرام پاتا کہ پھر کبھی وطن کا نام نہ لیتا۔
سنہ ۱۲۴۳ محمدی (۱۸۱۴ء) میں نواب سعادت علی خان نے سفر آخرت کیا، اور ان کے بیٹے غازی الدین حیدر مسند حکومت پر رونق افروز ہوئے۔ قیصر باغ کی مربع عمارت کے اندر نواب سعادت علی خان اور ان کی بی بی مرشد زادی کے مقبرے ہیں۔ ان دونوں مقبروں کی جگہ ایک مکان تھا جس میں نواب غازی الدین حیدر ایام ولیعہدی میں رہا کرتے تھے۔ باپ کی آنکھیں بند ہوتے ہی جب وہ ایوان شہریاری میں گئے تو کہا: "میں نے والد کا گھر لیا ہے، تو ضرور ہے کہ اپنا مکان انھیں رہنے کو دے دوں۔" اس خیال کے مطابق مرحوم کو اپنے گھر میں دفن کر دیا، اور پرانا مکان منہدم کرا کے یہ مقبرے تعمیر کرا دیے۔
اب غازی الدین حیدر کے عہد میں نہ باپ کی سی بیدار مغزی اور دولت کی قدر تھی، اور نہ اگلے فرمانرواؤں کی سی فوجی سرگرمی۔ ہاں آصف الدولہ کے عہد کی سی آرام طلبی اور عیش پرستی ضرور تھی، مگر اس میں بھی یہ فرق آ گیا تھا کہ آصف الدولہ کا اسراف کبھی ملک و ملت کی نفع رسانی کے لیے ہوتا تھا، اور اب خالص نفس پروری تھی۔
غازی الدین حیدر کو باپ کا جمع کیا ہوا کروروں روپیہ کا نقد خزانہ مل گیا تھا، جو شاہی شوق کے پورا ہونے میں نہایت ہی دریا دلی سے اڑنے لگا۔ موتی محل میں، ہم کہہ آئے ہیں کہ شمالی جانب سعادت علی خان نے ایک کوٹھی تعمیر کرائی تھی۔ غازی الدین حیدر نے اس احاطے میں دو اور کوٹھیاں تعمیر کرائیں، جن کے نام مبارک منزل اور شاہ منزل قرار دیے گئے۔ شاہ منزل کے پاس ہی کشتیوں کا ایک پل تھا، اور مبارک منزل اس سے مشرق کی طرف ہٹی ہوئی تھی۔ شاہ منزل کے محاذی دریا پار رمنہ تھا جو ہزاری باغ کے نام سے موسوم تھا، اور اس میں میلوں تک نزہت بخش سبزہ زار چلا گیا تھا۔ اس میں اکثر مست ہاتھی، گینڈے اور وحشی درندے لڑائے جاتے، اور بادشاہ اس پار شاہ منزل کے کوٹھے پر جلوہ فرما ہو کے ان کی لڑائی کا تماشا ملاحظہ فرماتے۔ شیروں کی لڑائی بھی وہیں ہوتی، جس کے لیے مضبوط کٹہرے اور ایک عمدہ سرکس بنا ہوا تھا۔ مگر جو چھوٹے غیر آزار رساں جانور لڑائے جاتے ان کی لڑائی خاص شاہ منزل کے احاطے میں اسی پار ہوتی۔
یہ درندوں اور وحشی جانوروں کے لڑانے کا شوق ہندوستان میں یہاں سے پہلے اور کہیں نہیں سنا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ رزیڈنٹوں اور دربار رس اہل یورپ سے رومیوں کے ایمفی تھیٹر کے حالات سن کے جہاں پناہ کے دل میں شوق پیدا ہوا۔ مگر مولانا حبیب الرحمٰن خان صاحب شروانی کے توجہ دلانے سے ہمیں معلوم ہوا کہ درندوں کی لڑائی کا رواج دولت مغلیہ کے عہد سے تھا۔
غازی الدین حیدر نے اپنی ایک یوروپین بی بی کے لیے ولایتی محل بنوایا، اور اس کا نام ولایتی باغ قرار دیا۔ وہاں سے قریب ہی قدم رسول کی عمارت تیار کرائی۔ غازی الدین حیدر کی آرزو کے موافق دربار انگریزی سے انھیں "بادشاہی" کا لقب عطا کیا گیا۔ اس سے پیشتر فرمانروایان اودھ وزیر کے رتبے کے سمجھے جاتے اور سوا نواب کے اور کسی اعزازی لقب سے نہیں یاد کیے جاتے تھے۔ اس زمانے تک ہندوستان میں شہنشاہی مغلیہ کی اتنی آن باقی تھی کہ اگرچہ ملک خود مختار و خود سر حکمرانوں میں بٹ گیا تھا اور شہنشاہ دہلی کے قبضے میں صرف دہلی کے گرد و پیش کی زمین باقی رہ گئی تھی، لیکن اس بے بضاعتی پر بھی شہنشاہ و جہاں پناہ وہی تھے۔ نہ سریر آرایان دہلی کے سوا ہندوستان میں کسی کو "بادشاہ" کہلانے کا حق تھا، اور نہ خطاب و عزت دینے کا۔ ان کے اس غرور کے توڑنے کے لیے ایسٹ انڈیا کمپنی نے غازی الدین حیدر کو، جنھوں نے باپ کے اندوختہ میں سے بہت سا روپیہ انگریزوں کو قرض دے دیا تھا، شاہی کا خطاب دیا۔ اور دربار اودھ نے اس عزت و سرفرازی کو نہایت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا۔ چنانچہ اس وقت سے حکمرانان اودھ، جو رزیڈنٹوں کے ہاتھوں کے کھلونے تھے، بادشاہ بن گئے، اور آخری فرمانروا واجد علی شاہ کے مرنے تک ان کا سرمایۂ ناز رہے۔
غازی الدین حیدر نے اسی خطاب شاہی کی یادگار میں دریا پار مچھی بھون کے سامنے ایک نیا بازار بسایا اور اس کا نام بادشاہ گنج رکھا۔ اسی زمانے میں حکیم مہدی نے مہدی گنج آباد کیا، اور نائب السلطنت آغا میر کی شاہانہ عمارت کے دور تک پھیل جانے کی وجہ سے عین وسط شہر میں محلہ آغا میر کی ڈیوڑھی قائم ہوا، اور اسی عہد میں آغا میر کی سرائے تعمیر ہوئی۔
بادشاہ کو اور ان سے زیادہ بادشاہ بیگم کو مذہبی معاملات میں بہت زیادہ انہماک تھا۔ صفویہ خاندان کے زمانے سے ایران کا مذہب شیعہ اثنا عشری تھا، مگر ہندوستان کے عام مسلمان سنی تھے۔ نواب برہان الملک چونکہ ولایت سے نئے آئے تھے اس لیے ان کا اور ان کے سارے خاندان کا مذہب شیعہ تھا۔ باوجود اس کے زمانے تک لکھنؤ میں حکومت کا وہی قدیم طریقہ چلا آتا تھا جو آغاز سلطنت اسلام سے دیگر بلاد ہند اور سارے ملک کا تھا۔ مگر اس وقت سے بادشاہ اور ان کے خاص محل کے انہماک مذہبی کی وجہ سے شیعیت حکومت لکھنؤ کا ایک نمایاں عنصر بن گئی۔ فرنگی محل کے علما کی طرف سے حکمرانوں کی توجہ ہٹ گئی، اور خاندان اجتہاد عروج پا کے سلطنت کا اصلی مقنن قرار پایا۔
لیکن شیعہ مذہب اپنی اصلی حالت پر قائم رہتا تو چنداں مضائقہ نہ تھا۔ خرابی یہ ہوئی کہ بادشاہ بیگم کی جاہلانہ اور امیرانہ مذہبی سرگرمی نے مذہب شیعہ میں نئی نئی بدعتیں ایجاد کیں، جن کی وجہ سے اسی قدر نہیں ہوا کہ بادشاہوں اور امیروں میں طرح طرح کی طفلانہ مزاجیاں پیدا ہوئیں، بلکہ لکھنؤ کی شیعیت ساری دنیا کی شیعیت سے نئی، نرالی اور عجیب ہو گئی۔
سب سے پہلے بیگم صاحبہ نے امام صاحب العصر کی چھٹی کی رسم قرار دی۔ جس میں اگر یہ ہوتا کہ کسی محفل میں امام ممدوح کے حالات بیان کر کے ثواب حاصل کر لیا جاتا تو مضائقہ نہ تھا، مگر نہیں، یہاں ہندوؤں کے جنم اشٹمی کے رسوم کے موافق پورا زچہ خانہ مرتب کیا جاتا۔ اس کے بعد یہ ترقی ہوئی کہ صحیح النسب سیدوں کی خوبصورت لڑکیاں لے کے ائمۂ اثنا عشر کی بیبیاں قرار دی گئیں، جن کا نام "اچھوتیاں" رکھا گیا۔ اور جب وہ اماموں کی بیبیاں تھیں تو پھر ان کے یہاں اماموں کی ولادت بھی ہوتی، اور بارہوں اماموں کی ولادت کی تقریبیں بڑے کر و فر کے ساتھ منائی جانے لگیں۔
غازی الدین حیدر نہایت ہی غضبناک اور آشفتہ مزاج بادشاہ تھے، اور رعب و داب اس بلا کا تھا کہ ان کے زمانے میں انگریزوں سے تعلقات تو اچھے رہے، مگر آغا میر جو وزیر السلطنت تھا دربار پر اس قدر حاوی تھا کہ خود بادشاہ بیگم اور ولیعہد سلطنت تک اس کے آزار سے محفوظ نہ رہ سکے۔ غازی الدین حیدر اسے گھونسوں اور لاتوں سے مارتے، جس مار کو وہ خوشی سے کھا لیتا، مگر اس کا بدلہ دیگر معززین دربار اور اعزائے شاہی تک سے لے لیا کرتا۔
اس پہلے بادشاہ اودھ نے مذہبی ارادت و عقیدت سے دریا کنارے اور موتی محل کے متصل نجف اشرف یعنی روضۂ مطہرۂ حضرت علی کی نقل لکھنؤ میں بنوائی، اور اس کی روشنی و خدمت کے لیے بہت سا روپیہ سرکار انگریزی کے حوالے کیا، جس کی بدولت آج تک وہ بارونق اور خوب آباد ہے۔ اور سنہ ۱۲۵۶ محمدی (۱۸۲۷ء) میں جب ان کا انتقال ہوا تو اسی میں دفن ہوئے۔
Que vous laisse ce chapitre ?
Connectez-vous pour réagir
Discussion
Personne n’a encore parlé. Dites ce que ce chapitre a remué en vous.