
Capítulo 47 de 56
Wedding Ceremonies: Mehndi and the Barat
شادی کی رسمیں: مہندی اور برات
(۴۶)
ساچق کے دوسرے ہی روز شب کو دلھن کے گھر سے بڑے جلوس اور روشنی کے ساتھ مہندی جاتی ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ غالباً یہ عربی الاصل رسم ہے۔ اس میں دراصل دلھن والوں کی طرف سے دولھا کے لیے وہ جوڑا جاتا ہے جسے پہن کر وہ بیاہنے کو آئے گا۔ اس جوڑے میں علی العموم قدیم عہد مغلیہ کے درباری وضع کا خلعت، شملہ، جیغہ، سرپیچ اور مرصع کلغی ہوتی ہے۔ نصیب ہوا تو اس کے ساتھ موتیوں کا ہار بھی بھیجا جاتا ہے۔ مذکورہ چیزوں کے علاوہ ریشمی پائجامہ اور جوتا وغیرہ معمولی چیزیں بھی ہوتی ہیں۔ اکثر ایک طلائی انگوٹھی بھی جاتی ہے۔ اس جوڑے کے ساتھ دولھا کے لگانے کے لیے پسی ہوئی تیار مہندی بھی بھیجی جاتی ہے، جس کو بہت سے طباقوں میں پھیلا کے رکھتے ہیں، اور اس میں سبز و سرخ شمعوں کو نصب کر کے روشن کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے مہندی کے بہت سے طباق روشن ہوتے ہیں، جو مہندی کے جلوس میں ایک خاص شان اور آن بان پیدا کر دیتے ہیں۔ مہندی کے ان روشن طباقوں کے ساتھ سو پچاس طباقوں میں ملیدہ ہوتا ہے، جو خرموں کو کوٹ کے بنایا جاتا ہے، اور جیسی حیثیت ہوتی ہے اسی کے مناسب کثرت سے بھیجا جاتا ہے۔ اس موقع پر جوڑے کے ساتھ دولھا کے لیے سونے کا سہرا بھی بھیج دیا جاتا ہے۔
مہندی کے دوسرے دن دولھا کی طرف سے برات جاتی ہے۔ برات جانے کا اگلا ضروری وقت پہر رات رہے، یعنی تین بجے شب کا تھا، لیکن اب یہ وقت اکثر چھوٹتا جاتا ہے، اور بجائے پہر رات رہے کے پہر دن چڑھے، یعنی نو دس بجے صبح کو براتیں جانے لگی ہیں۔ اس تاخیر کی ابتدا واجد علی شاہ آخری بادشاہ اودھ کے زمانے سے ہوئی۔ ان کی برات جانے میں اتفاقاً دیر ہو گئی، اور دن نکل آیا تھا۔ لوگوں نے آسانی اور روشنی کے سامان کی تخفیف کے خیال سے اسی وقت کو اختیار کرنا شروع کر دیا۔ چنانچہ اب عموماً ابتدائے روز میں برات جاتی ہے اور دوپہر کو عقد ہو جاتا ہے۔
برات میں حتی الامکان پورا جلوس جمع کیا جاتا ہے۔ مروجہ تین باجے یعنی پرانا ڈھول تاشے اور جھانجھیں، روشن چوکی، اور ارگن باجا ضرور ہوتے ہیں۔ اس سے ترقی ہوئی تو گھوڑوں پر نوبت، نقارہ، جھنڈیاں، بریچھے بردار، ہاتھی، اونٹ، گھوڑے۔ اور اس سے بھی زیادہ حوصلہ ہوا تو انھیں باجوں کے متعدد گروہ بڑھا دیے جاتے ہیں۔ دولھا وہی جوڑا پہن کے جو مہندی کے ساتھ آیا تھا، اور سہرا باندھ کے علی العموم گھوڑے پر، اور اعلیٰ طبقے کے امرا کے یہاں ہاتھی پر سوار ہو کے سارے جلوس اور باجوں کے پیچھے آہستہ آہستہ تمکنت و وقار سے روانہ ہوتا ہے۔ دولھا کو "نوشہ" یعنی نیا بادشاہ کہتے ہیں، اور خیال بھی یہی ہے کہ دولھا ایک دن کے لیے بادشاہ بنا دیا جاتا ہے۔ مگر غور طلب یہ امر ہے کہ جب دولھا کو بادشاہ بناتے ہیں تو اس کے سر پر شملہ کیوں ہوتا ہے؟ تاج کیوں نہیں پہناتے؟ اس سے اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ ہندوستان میں مسلمان سریر آرا تاج نہیں پہنتے تھے، بلکہ سب کے سروں پر کلغی دار شملے ہوتے تھے۔ انگریزوں نے غازی الدین حیدر کے زمانے سے شاہان اودھ کو تاج پہنا دیا، مگر وطنی سوسائٹی نے اس تاج کو قبول نہیں کیا، اور اپنے بادشاہوں کی وضع وہی رکھی جو پرانی تھی، اور اسی نمونے کا بادشاہ اپنے نوشاہوں کو بناتے ہیں۔ دولھا کے پیچھے فینسوں اور ڈولیوں میں سوار دولھا کی ماں بہنیں اور عزیز و قریب عورتیں اور ڈومنیاں ہوتی ہیں۔ چلتے وقت گھر میں جو صدہا رسمیں اور ٹوٹکے ہوتے ہیں بہت ہیں، مختلف ہیں، اور لغو ہونے کی وجہ سے زیادہ قابل لحاظ بھی نہیں۔
اس شان سے جب برات دلھن کے گھر پہنچتی ہے تو عموماً اس وقت دلھن نہلائی جا چکتی ہے، اور اس کے غسل کا پانی باہر لا کے دولھا کی سواری کے گھوڑے یا ہاتھی کے پاؤں کے نیچے ڈال دیا جاتا ہے۔ دلھن کو یہ غسل سات دن کے باسی ٹھنڈے پانی سے دیا جاتا ہے، جو کلس کا پانی کہلاتا ہے۔ اور جاڑوں کے موسم میں غریب دلھن کے لیے اس پانی میں نہانا قیامت سے کم نہیں ہوتا۔ چوکی پر پان بچھا کے وہ نہلائی جاتی ہے، اور یہی پان اس پانوں والے بیڑے میں شامل ہوتے ہیں جو سب سے پہلے سسرال میں کھلایا جاتا ہے۔
اب دولھا سواری سے اتر کے زنانے میں جاتا ہے۔ وہاں رسی نگھائی جاتی ہے، اور طرح طرح کی بیسیوں اور رسمیں عمل میں آتی ہیں جو ہر گروہ اور ہر خاندان میں جدا جدا اور عجیب و غریب ہوتی ہیں۔ یہ وقت علی العموم وہ ہوتا ہے جب دلھن نہا تو چکتی ہے مگر ابھی کپڑے نہیں پہنائے گئے ہوتے ہیں۔ وہ ایک چادر میں لپٹی ہوتی ہے، اور اس کے ہاتھ پر مصری رکھ کے دولھا کو کھلائی جاتی ہے، جس میں سالیاں، زندہ دل عورتیں اور ڈومنیاں قیدیں بڑھا بڑھا کے دولھا کے لیے ہر کام مشکل کر دیتی ہیں۔
شادی کی یہ پہلی منزل طے کر کے دولھا باہر مردانے میں آتا ہے، جہاں بزم نشاط مرتب ہوتی ہے۔ اعزا و احباب پرتکلف کپڑے پہنے قرینے سے صاف ستھری دری چاندنی اور قالینوں کے فرش پر بیٹھے ہوتے ہیں، اور سامنے مردانہ یا زنانہ طائفہ کھڑا مجرا کرتا ہوتا ہے۔ عین محفل کے درمیان میں اور صدر مقام پر دولھا کے لیے زرنگار مسند تکیہ ہوتا ہے، جس پہ دولھا کو اس کے ہم عمر لڑکے لا کے بٹھا دیتے ہیں، اور اس کے دونوں طرف خود بیٹھ جاتے ہیں، تاکہ دولھا ان کے ساتھ آزادی سے باتیں کر سکے۔
دولھا کے لیے لازم ہے کہ اپنی ہر وضع، ہر حرکت سے شرمیلا پن ظاہر کرے۔ وہ نہ تو بےتکلف باتیں کر سکتا ہے، نہ کوئی اس کی آواز سن سکتا ہے، نہ کسی سے وہ بےتکلفی سے رل جل سکتا ہے۔ منہ پر سہرا ہوتا ہے، اور پھر سونے کے سہرے پر پھولوں کا سہرا باندھ کے اس قابل نہیں رکھا جاتا کہ کوئی بغیر کوشش اور دیر تک کی محنت کے اس کی صورت دیکھ سکے۔ محفل نشاط میں بیٹھتے، بلکہ اکثر عقد ہو جانے کے بعد سہرا اٹھا کے شملے میں لپیٹ دیا جاتا ہے تاکہ چہرہ کھل جائے۔ مگر اب بھی اس کے لیے لازم ہے کہ ایک ہاتھ سے منہ پر رومال رکھے رہے، جو اظہار شرم کی ایک علامت ہے۔ اور اب چہرہ کھلنے کے بعد بھی اس رومال کی وجہ سے اس کی صورت دیکھنے کے شائقین کو بغیر دیر تک اس فکر میں لگے رہنے کے کامیابی نہیں ہو سکتی۔
دولھا کے باہر آ کر تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد عقد نکاح کا انتظام ہوتا ہے۔ جس کے لیے یہ سب بکھیڑا کیا گیا ہے۔ اگر شیعہ خاندانوں کی شادی ہے تو دو مجتہد صاحب تشریف لاتے ہیں، ایک لڑکے کے نائب و وکیل بن کے، اور دوسرے لڑکی کے نائب و وکیل بن کے۔ لڑکی والے خود پردے کے پاس جا کے یا عادل شاہدوں سے تصدیق فرما کے لڑکی کی شرعی مختاری حاصل کرتے ہیں، اور اس کے بعد دونوں دولھا کے سامنے بیٹھ کے دولھا دلھن کی جانب سے قرأت و صحت مخارج سے ایجاب و قبول کے صیغے ادا کرتے ہیں۔ اور اگر خاندان سنی ہے تو کوئی محترم مولوی صاحب، اور اگر کوئی گاؤں ہوا تو وہاں کے مقررہ خاندانی قاضی صاحب آ کے نکاح پڑھاتے ہیں، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ لڑکی کے عزیزوں میں سے کوئی صاحب اس کے وکیل و مختار بن کے آتے ہیں، اور وہ شاہدوں کو پیش کرتے ہیں کہ فلاں لڑکی نے مجھے اپنا وکیل ان دونوں شاہدوں کے سامنے مقرر کیا اور مجھے اپنے عقد کا اختیار دیا۔ قاضی صاحب ان شاہدوں پر اطمینان کر کے اور مقدار مہر کو ان وکیل صاحب سے دریافت کر کے دولھا کو کلمۂ شہادت پڑھاتے، مسلمان کے لیے جن جن چیزوں پر ایمان لانا ضروری ہے ان کا عربی میں اقرار کراتے، اور اس کے بعد تین بار اس سے یہ کہہ کے کہ "فلاں لڑکی کے ساتھ اتنے مہر پر ہم نے تمھارا عقد نکاح کر دیا"، دولھا سے اقرار کراتے ہیں کہ "میں نے قبول کیا"۔ اس کے بعد ایک دعائیہ خطبہ پڑھ کے لوگوں سے کہتے ہیں "مبارک"، ساتھ ہی مبارک سلامت کا غل ہوتا ہے۔ نقل اور چھوہارے جو سینیوں میں بھرے سامنے رکھے ہوتے ہیں انھیں حاضرین میں لٹا دیتے ہیں۔
مجتہد یا مولوی صاحب کے آنے کے وقت گانا بجانا موقوف ہو جاتا ہے، اور بعد عقد مولوی صاحب چلے جاتے ہیں تو پھر رقص و سرود کی محفل گرم ہو جاتی ہے۔ اور اس کے بعد دولھا پھر اندر زنانے میں بلایا جاتا ہے۔ عورتوں کی دنیا میں رسوم اور شرائط عقد کے اصلی لوازم کے بجا لانے کا خاص یہی وقت ہے۔ زنانے میں اس موقع پر رسوم نکاح کے ضمن میں دولھا کے ساتھ ہر قسم کا تمسخر کیا جاتا ہے، اور اس کے پریشان کرنے میں کوئی دقیقہ [illegible] نہیں رکھا جاتا۔ ان تمام رسوم کی بجا لانے والی سالیاں اور ڈومنیاں ہوتی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کتخدا نوجوانوں کے لیے شادی ایک پر اسرار لاج (فراموش خانہ) ہے، جس میں بیسیوں ایسے مراحل پیش آتے ہیں جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوتے۔ دلھن اوڑھا لپیٹا کے ایک غیر متحرک گٹھڑی کی طرح اس کے سامنے لا کے رکھ دی جاتی ہے۔ ابھی تک اسے رخصتی کا جوڑا نہیں پہنایا گیا ہوتا۔ لاتے وقت کوشش کی جاتی ہے کہ پہلی [illegible] دلھن کی ایک لات دولھا کے پڑ جائے۔ پھر ٹونے گائے جاتے ہیں۔ دولھا سے بیوی کی غلامی، ذلیل ترین غلامی، اور خدا جانے کیسی کیسی خدمتیں بجا لانے کا اقرار کرایا اور وعدہ لیا جاتا ہے۔ اس کے بعد آرسی مصحف کی رسم ادا ہوتی ہے، جس کے لیے دولھا دلھن کے درمیان رحل پر قرآن شریف اور اس پر آئینہ رکھا جاتا ہے، اور اس آئینے میں دولھا کو دلھن کا پہلا جلوہ دکھایا جاتا ہے۔ مگر لازم ہے کہ چہرہ دیکھنے سے پہلے دولھا سورۂ اخلاص پڑھ لے۔ اس جلوے میں دلھن آنکھیں بند کیے رہتی ہے۔ عورتیں دولھا سے آنکھیں کھلوانے کے لیے طرح طرح کی التجائیں کراتی ہیں، اور اسی سلسلے میں ہر قسم کی اطاعت و غلامی کا اس سے اقرار کرا لیتی ہیں۔ بڑی مشکلوں اور خوشامدوں کے بعد دلھن آنکھیں کھول کے ایک نظر دیکھتی اور پھر آنکھیں بند کر لیتی ہے، اور اسی پر رسوم کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔
اب دولھا باہر رخصت کر دیا جاتا ہے کہ دلھن کو کپڑے پہنائے جائیں، زیور پہنایا جائے، بنائی سنواری اور سسرال جانے کے لیے تیار کی جائے۔ اس وقت ڈومنیاں بابل یعنی رخصتی کا نغمۂ جان گداز گاتی ہیں، اور خوشی کا گھر ماتم کدہ بن جاتا ہے۔ جب دلھن بنا چنا کے تیار کر دی جاتی ہے اس وقت میکے کے تمام عزیز و دوست اور سب ملنے والے آتے، رو رو کے دلھن کو رخصت کرتے، اور جو کچھ توفیق ہو روپیہ یا زیور اسے دیتے ہیں۔
¿Qué te deja este capítulo?
Inicia sesión para reaccionar
Conversación
Nadie ha hablado todavía. Cuenta qué removió en ti este capítulo.